Barish by Jameela Nawab Readelle 50375 Barish Episode 13
Rate this Novel
Barish Episode 13
Barish by Jameela Nawab
بارش تھم چکی تھی اب ٹھنڈی تیز ہوا نے چارج سنبھال لیا تھا ۔۔۔۔۔آسمان کالے بادلوں سے بھرا ہوا تھا جس کا مطلب تھا بارش کسی بھی وقت دوبارہ آ سکتی ہے ۔۔
بابا جی کے پاس عورتوں کا رش لگا ہوا تھا وہ ان کی جاہلیت سے اپنی جيب گرم کرنے میں مصروف تھے سلطانہ کب سے بیٹھی ان کے فارغ ہونے کا انتظار کر رہی تھی
“بابا جی ۔۔۔
میں بہت پریشان ہوں ۔۔۔ہر وقت میرے سر میں درد رہتا ہے ۔۔۔بھوک نہیں لگتی ۔۔۔ غصہ آتا ہے ۔۔۔جسم میں بھی درد رہتا ہے ۔۔۔ “
ایک عورت بابا جی کے پیروں میں بیٹھی اپنا دکھ بتارہی تھی جسے سن کر بابا جی کچھ پڑھنے لگے تھے ان کی آنکھیں لال تھیں
“تیری ساس ہے ؟؟”
“نہیں ۔۔۔بابا جی ۔۔۔۔بس ایک نند،اور ایک جیٹھانی ہے ۔۔۔وہ بہت ریج کرتی ہیں مجھ سے ۔۔ “
وہ محبت سے بولی تھی ۔۔۔
“همممم ۔۔۔۔۔”
اب بابا جی خلاء میں ایسے دیکھنے لگے جیسے کچھ نظر آ رہا ہو ۔۔
“سب تیری بھاوج کا کیا دھرا ہے لڑکی ۔۔۔ وہ تجھے ختم کر دینا چاہتی ہے ۔۔ “
بابا جی نے دوسرا تیر ہوا میں چلایا تھا
“مگر بابا جی ۔۔۔۔میرا تو کوئی بھائی ہی نہیں ہے ۔۔ “
وہ لڑکی کچھ سوچ کر بولی تھی جس پر بابا جی کو یہ بكرا ہاتھ سے نكلتا محسوس ہوا تھا ۔۔۔
“بابا کو مت بتا ۔۔۔بابا سب دیکھ رہا ہے ۔۔۔ تیری جیٹھانی کی بات کر رہا ہوں وہ تجھے مار کر سب ہڑپنا چاھتی ہے ۔۔۔توں ۔۔۔دور رہ اس سے ۔۔۔وہ تجھ پر کالا جادو ۔۔۔ کالا جادو کروا رہی ہے ۔۔۔۔”
بابا جی نے جلالی کیفیت میں غضبناک ہو کر کہا تھا
وہ عورت جو شدید جسمانی کمزوری کا شکار تھی جس کا علاج محض ملٹی وائٹمنز کے استعمال میں تھا وہ ڈر کر اٹھ گئی تھی ۔۔ وہ چندہ ڈال کر یہ سوچتی ہوئی نکل گئی تھی کہ میری جیٹھانی تو میری بڑی بہن ہے جس نے مجھے امی کے بعد بیٹی کی طرح پالا اور اپنے دیور کی بیوی بنایا ۔۔ صرف اس لئے کہ میں اس کی نظر کے سامنے رہوں ۔۔۔پھر اب وہ ۔۔۔۔ماں جیسی بہن مجھے مارنا کیوں چاہتی ہے ۔۔۔۔
بابا جی نے فقط اپنی تجوری بھرنے کی خاطر کسی کی زندگی میں بدگمانی،نفرت اور فساد کا بیج بو دیا تھا ۔۔۔۔
اب بابا جی کے پاس دوسری عورت بیٹھ گئی تھی
“باباجی ۔۔۔۔میں بہت زیادہ پریشان ہوں اس پوری دنیا میں آپ کے علاوہ میرا کوئی نہیں ہے ۔۔۔”
وہ عورت بابا جی کا ہاتھ پکڑ کر باقاعدہ رونے لگی تھی جس پر بابا جی آنکھیں بند کر کے اس لمس کا سرور لے رہے تھے ۔۔۔
وہ کافی دیر اپنی تسکین کرتے رہے آخر عورت نے خود ہے بات کو آگے بڑھایا ۔۔۔۔وہ عورت کسی اچھے گھر کی لگ رہی تھی اس کے لمبے ناخنوں پر نيل پالش اور کلائی میں سونے کے كنگن بھی پہنے ہوۓ تھے عمر میں بھی بمشکل 35 کی ہوگی ۔۔۔
“بابا جی میرا شوہر مجھ سے پیار نہیں کرتا”
وہ ساتھ ہی ایک بار پھر رو دی تھی
“بابا جی اگر وجہ پوچھ لیتے تو یہ تو ان کے علم ناقص پر دھبہ لگ جاتا ۔۔۔وہ جانتے تھے عورت نے جب کوئی بات بتانی ہو تو وہ قبر سے مردہ نکال کر اس کو بھی بتا دے ۔۔۔پوچھنا ضروری ہی نہیں ۔۔۔وہ خاموشی سے اس کی طرف اپنی غلیظ نظر ڈال کر محض مسکرائے تھے
“خرچے کے پیسے نہیں دیتا ہوگا تمہیں بھی میری طرح ؟؟؟
ساتھ والی بیٹھی عورت کا اپنا دکھ تازہ ہوا تھا وہ راز داری سے پاس ہو کر بولی تھی جس پر اس نے نفی میں روتے ہوۓ سر ہلایا تھا
“پھر ؟؟؟”
“وہ اپنی ساری تنخوا میرے ہاتھ پر رکھ دیتا ہے ۔۔۔۔میں جہاں کہوں گھمانے لے جاتا ہے ۔۔۔میری ہر بات فورا مانتا ہے ۔۔۔مگر ۔۔۔مجھے لگتا ہے اس کو مجھ میں کوئی دلچسپی ہی نہیں ہے تبھی وہ میری ہر ضد فورا پوری کر کے سکون سے سو جاتا ہے ۔۔۔”
“پھر تو بڑی خوش نصیب ہو تم ۔۔۔ویسے کیا کرتے ہیں بھائی ؟؟؟”
ساتھ والی نے آنکھیں پھیلائی تھیں
“وہ ۔۔۔۔پراپرٹی ڈیلر ہیں ۔۔سارا دن فيلڈ پر ہوتے ہیں”
وہ روتے روتے بتا رہی تھی
ساتھ بیٹھی عورت سمجھ گئی تھی کہ کم از کم اس عورت کا یہاں آنا نہیں بنتا تھا ۔۔۔۔کیوں کہ بات صاف تھی ۔۔۔اس کا میاں پیسے والا تھا ۔۔۔اس لئے اس کی ہر خواہش فورا پوری کرتا تھا ۔۔ اور سارا دن کھلے آسمان میں کام کی وجہ سے وہ تھکن کی وجہ سے جلدی سونا چاہتا تھا ۔۔۔۔اس کے خیال میں مسئلہ تو اس کا بڑا تھا جو میاں اگلے سیزن کے کپڑے ایڈوانس میں لینے نہیں دے رہا تھا کیوں کہ اس کی ماں نے روکا تھا اس کو لہذا اس کا بابا جی سے تعویز لینا نہایت اور اشد ضروری تھا ۔۔۔
ایسے ہی یہ تماشہ چلتا رہا ۔۔۔۔جو بہو تھی اس کی ساس اور نند کو رام کرنے اور کسی کو ان کے جادو کا توڑ کا تعویز دیا گیا ۔۔۔
جو ساس تھی اس کی بد ترین دشمن بہو اور جو صرف نند تھی اس کی بد ترین دشمن اس کی بھابھی تھی ۔۔۔۔
بہت عجیب رواج چل رہا تھا ۔۔۔۔۔۔ گھما پھرا کر عورت ہی عورت کی دشمن تھی ۔۔۔۔
عورت اپنے وہم اور شیطانی وسوسوں کا حل لینے وہاں اپنے گھر کے مردوں سے چھپ کر آیا کرتیں ۔۔۔۔۔جبکہ اس بیماری کا علاج تو حکيم لقمان کے پاس بھی نہیں تھا
کافی دیر عورت اپنا لباس(شوہر) خود تار تار(شوہر کی غیبت) کرتی رہی ۔۔۔۔۔اپنے ہاتھ سے برہنہ ہونے والی عورت کو کوئی عزت کی نگاہ سے کیسے دیکھ سکتا ہے ۔۔۔۔پھر وہ بھی ایک مرد ۔۔
زیادہ تر عورتوں کو اچھی گائناکالوجسٹ کی ضرورت تھی کیوں کہ وہ ہارمونل بے ترتیبی کا شکار تھیں ۔۔۔۔جس سے وہ ان کو ذهنی دباؤ(ڈیپریشن)ہو رہا تھا ۔۔۔ جو ان کو طرح طرح کے شک اور وسوسوں میں ڈال رہا تھا ۔۔۔۔
ایک بات ان سب میں مشترک تھی ۔۔۔وہ تھی
“نا شکری”
اللّه کی عطاء کردہ نعمتوں کا محسوس نہ ہونا ۔۔۔ ان کو شمار نا کرنا ۔۔۔نا شکری کہلاتا ہے ۔۔۔۔
ان میں سے کچھ ایسی بھی تھیں جو اپنی نا شکری والی زبان کی وجہ سے گھر سے نکال دی گئی تھیں اب جب ان کو احساس ہوا تھا تو سب دروازے بند مل رہے تھے ۔۔۔لیکن وہ سدھری ابھی بھی نہیں تھیں ۔۔۔۔زندگی سے کوئی سبق لے لیا ہوتا تو اللّه کے حضور سجدہ کر کے اپنا گھر واپس مانگتیں نا کہ اس مكرو بابا جی کے پاس آتیں ۔۔۔
کتنی عجیب بات ہے ہم ہر لمحہ ہر سانس کے ساتھ اللّه کی نعمت کو استعمال کر رہے ہوتے ہیں پھر بھی اپنی بد قسمتی کا رونا روتے ہوۓ ہمیں شرم حیا نہیں آتی ۔۔۔۔
کسی انسان کے ایک احسان کے تلے دب کر ہم پوری عمر اس کے گن گاتے نہیں تھکتے مگر وہ اللّه جو ایک زكام لگا دے تو ہم منہ پھاڑ کر خود کو صدیوں کا بیمار بتاتے ہیں ۔۔۔۔
بیشک وہ اللّه کے علاوہ کوئی نہیں ہو سکتا جو ہماری نا شکرے پن کے باوجود بھوکے پیٹ نہیں سلاتا ورنہ آپ کسی انسان کی شکری کر کے دیکھیں ۔۔۔وہ پوری عمر کے لئے لا تعلق ہو جائے گا ۔۔ مرتے وقت منہ میں پانی تک نہیں ڈالے گا باقی سب تو بھول جاؤ ۔۔۔ ہم پھر بھی ذرا ذرا سی پریشانی پر خود کو سب سے مظلوم اور بے چارہ مان کر اللّه سے شکوے کرنے لگتے ہیں کبھی سوچا ہے اللّه کو تب کیسا لگتا ہوگا ؟؟؟؟؟
یاد رکھیں وہ نا کسی سے ڈرتا ہے نا کوئی اس سے کوئی سوال جواب کر سکتا ہے ۔۔۔اس سب کے باوجود بھی اگر وہ پل پل گناہوں کی نذر ہوتی زندگی میں ہم پر زمین نہیں الٹا رہا تو اس کی رحمت اور احسان کو مہلت سمجھیں ۔۔۔۔
شام کی اذان ہونے کو تھی تمام انجانے میں کفر کی حد تک کمزور ایمان والی عورتیں جا چکی تھیں ۔۔۔ایک کاغذ کا ٹکڑا ان کی تمام خود پیدا کردہ ،بے بنیاد پریشانیوں کا حل تھا (اَسْتَغْفِرُاللّٰه)
سلطانہ صحن میں بیٹھی کوئی غلیظ عمل کر رہی تھی کالے بادلوں کی وجہ سے شام بھی رات کا منظر پیش کر رہی تھی تیز ہوا چلنے لگی تھی ۔۔۔۔سلطانہ کا دوپٹہ اُڑ کر دور جا گرا تھا مگر وہ اس سب سے بے خبر آنکھیں موندے اپنے عمل میں مصروف تھی
جب وہ عمل کر چکی تو اس کے ہاتھ میں ایک چھوٹی سی مٹی کی دیکچی تھی جو بد بو دار خون سے بھر چکی تھی ۔۔۔
پوری فضا میں اس بد بو کا احساس فورا جاگا تھا جس سے اس کا چہرہ مکرو مسکراہٹ سے کھل اٹھا تھا ۔۔۔ یہ بد بو اس کے شیطانی عمل کی کامیابی کی ضمانت تھی ۔۔۔
بارش کے موٹے موٹے وزن دار قطرے اس کو بھگونے کو تھے وہ اپنا سامان لیئے بنا دوپٹے کے اندر آئی تھی جہاں بابا جی اپنی رقم گننے میں مشغول تھے ۔۔ ان کے مدد گار مرد اور عورتیں آنے والی عورتوں کے جاتے ہی ساتھ نکل گئے تھے ۔۔۔
پرویز جیسا تم نے کہا میں وہ عمل مکمل کر چکی ہوں آج دس دن ہو گئے ۔۔۔اب آگے کیا کرنا ہے مجھے ؟؟؟
وہ پیسوں کا ڈھیر دیکھ کر بولی تھی سلطانہ کے منہ میں اتنا پیسہ ایک ساتھ دیکھ کر پانی آیا تھا ۔۔
وہ ان محنتی شوہروں کا حلال پیسہ تھا جن کے حصول کے لئے وہ دن رات خون پسینہ ایک کیئے رکھتے اور ان کی گھر کی عزتیں اس بابے کو دے کر اسی کی ماں بہن اور کچھ تو سیدھا سیدھا شوہر کو مار دینے کا تعویز لینے آتی ۔۔۔۔
اپنے شوہر کی غیر موجودگی میں ایک بیوی خود اور اس گھر کی ہر چیز اس کے پاس اپنے شوہر کی امانت ہوتی ہے جس کے لئے وہ دنیا میں اپنے شوہر اور آخرت میں اللّه کے آ گے جواب ده ہوگی ۔۔ مگر آج کی عورت یہ گناہ خوشی خوشی کرتی ہے ۔۔
شوہر کا وقت جیسے ہی ہوتا ہے سب کو میسج کر کے بتا دیا جاتا ہے کہ اب کوئی رابطہ نہ کرے ۔۔۔۔اللّه کی بندیوں ۔۔۔خدا نے سب دیکھا اور سنا ہے ۔۔۔قدرتی بات ہے جب ہم کسی کے لئے اچھا نہیں سوچ رہے ہوتے تو وہ انسان اللّه کی طرف سے ہم سے دور ہونے لگتا ہے ۔۔۔
“دل کو دل سے راہ ہوتی ہے”
یہ محبت نفرت،پسند نا پسند دونوں صورتوں میں اثر رکھتا ہے ۔۔۔
“بتاتا ہوں بتاتا ہوں دو منٹ چپ کرو میری جان”
بابا جی جن کا نام پرویز تھا بد مزہ ہو کر بولے تھے
کچھ وقت بس تیز بارش اور بادلوں کی گرج برس کی آواز کمرے میں تھی ۔۔۔
“یہ ہو گئے پورے دو لاکھ ۔۔۔”
پرویز پیسوں کو اپنے بیگ میں ڈال کر بولا تھا
“واہ ۔۔۔ اتنے زیادہ بس یک دن میں ۔۔ واہ بھئ…لگتا ہے آج بہت اچھے گهروں کی عورتیں تھیں ساری”
سلطانہ پاس بیٹھ کر اب اس بیگ کو ہاتھ میں اٹھا کر نوٹ دیکھتے بولی تھی
“هاهاهاهاها ۔۔۔۔اچھے گھر کی عورت ۔۔
اچھے گھر اور اچھے گھر كی عورت ۔۔۔کیا ہوتا ہے یہ ؟؟؟؟؟”
پرویز کے سوال میں طنز تھا
“گھر اچھا یا برا نہیں ہوتا ۔۔ . اس کے مقيم اسے اچھا یا برا بناتے ہیں ۔۔۔۔جو عورت اپنے شوہر ۔۔ اپنے مجازی خدا کے ساتھ دغا کرے وہ اچھی عورت تو کیا عورت ہی نہیں ہوتی ۔۔۔ جب کوئی کام شوہر سے چھپ کر کیا جانے لگے سمجھ جاؤ اب آپ میں کوئی تيسرا آ چکا ہے ۔۔ اب آپ کا رشتہ آخری سانسیں لے رہا ہے ۔۔ اتنا زیادہ کماتا ہوں ۔۔۔ مگر عورت ذات سے اتنی نفرت ہو گئی ہے کہ شادی کے لئے میرا دل نہیں مانتا ۔۔۔آج تک کوئی بھی عورت اپنے شوہر کو بتا کر میرے پاس نہیں آتی ۔۔۔۔کیا عورت ایسی ہوتی ہے ؟؟؟کیوں کہ جو میرے پاس آ جائے ۔۔۔میں اس کو کبھی عزت نہیں دے سکتا ۔۔ جو اپنے شوہر کی غیر موجودگی میں اس کی امانت کی حفاظت نہیں کر سکی وہ قابل عزت نہیں ۔۔۔اب اس کا حق ہے کہ اسے سبق دیا جائے ۔۔۔”
پرویز نے بیگ واپس لے کر سلطانہ کو اس کے غلط ہونے کا احساس دلایا تھا
“ارے واہ ۔۔۔ کرتے کالا جادو ہو ۔۔ اور باتیں عزت بے عزتی کی ۔۔۔۔میں بری ہوں تو کیوں رکھا ہوا مجھے اپنے ساتھ ؟؟؟کیوں اپنی اولاد کے مجھ سے منتظر ہو ؟؟؟
سلطانہ چیخی تھی ۔۔۔
“اپنی آواز نیچی رکھ کر بات کرو ۔۔۔میں بہادر شاہ جیسا شریف انسان نہیں ہوں ۔۔۔۔ رہی بات اس کالے عمل کی تو ۔۔۔۔میں اس سب سے جان چھڑوا کر ایک سکون کی زندگی گزارنا چاہتا ہوں ۔۔۔۔مگر ایک روکاوٹ ہے ۔۔ “
“وہ کیا؟؟؟”
“میں جب تک اس علم کو کسی کو سونپ نہیں دیتا میں مر بھی نہیں سکتا ۔۔ سکون سے جینا تو ایک طرف ۔۔۔۔”
“ہمارے کالے علم کو چھوڑنے اور اللّه کی رسی کو تھامنے کی کچھ شرائط ہیں”
شرط نمبر1:
ایک مرد اپنا علم ایک عورت کو نہیں دے سکتا جب تک وہ اس کی اولاد کو جنم نا دے دے ۔۔ تبھی میں نے تم سے یہ رشتہ بنایا ۔۔ کیوں کہ میں یہ تمہیں دے کر ایک ايمان والی زندگی گزارنا چاہتا ہوں اپنی اولاد کے ساتھ ۔۔۔۔
میں اپنی اولاد کی بہترین پرورش کر کے ہی اپنے گناہوں کی تلافی کر سکتا ہوں
شرط نمبر 2:
میں یہ سب چھوڑ کر بھی کسی نيک عورت سے شادی نہیں کروں گا یا تو مجھے زنا کرنا پڑے گا یا پھر اپنی خواہش پر صبر ۔۔۔۔اگر میں زنا کرتا ہوں تو میں کبھی بھی اس شیطانی بھنور سے نکل نہیں سکتا ۔۔ صبر ہی مجھے معافی دلا سکتا ہے ۔۔۔نفس کا کڑا امتحان ۔۔۔
تیسری اور آخری شرط ۔۔۔
اگر کوئی مجھ سے زیادہ گناہ گار انسان مجھے مار دے تو میری ساری شکتیاں اس میں منتقل ہو جائے گیں ۔۔۔۔اور میں سکون سے مر سکوں گا ۔۔۔۔اس کا فائدہ میری اولاد کو ہوگا ۔۔۔وہ پھر صاحب ایمان زندگی گزارے گی۔۔۔وہ بہت نيک ھوگی۔۔۔ اس کی نيكی قبر میں مجھ تک پہنچ کر مجھے آسوده کرے گی ۔۔ بیشک نيک اولاد والدین کے لئے صدقہ جاریہ ہوا کرتی ہے ۔۔۔”
“تو زنا سے پیدا ہوئی اولاد بھی نيک ہو سکتی ہے؟؟؟”
سلطانہ نے جوابی حملہ کیا تھا ۔۔
“اگر نکاح کر کے پیدا کی گئی اولاد بد کار ہو سکتی ہے تو زنا سے پیدا اولاد نیک کیوں نہیں ہو سکتی ؟؟؟”
“معصوم بچہ والدین کے اعمال کا جواب ده بلکل نہیں ہوتا ۔۔۔ وہ نیکی اور بدی کا انتخاب اپنی فطرت کے حساب سے کرتا ہے ۔۔۔ساری عمر گناہوں میں گزار دی ہے میں نے ۔۔۔اللّه سے مزيد دور نہیں رہنا چاہتا ۔۔ . روح بے چین ہے میری ۔۔ میں ۔۔۔ میں قاری اور مولوی کا بیٹا ہوں ۔۔۔ مگر ۔۔۔۔میں نے نام ڈبو دیا ان کا ۔۔۔ کسی نے ان سے بدلہ نکالا مجھے اس راستے ڈال کر ۔۔۔۔احمد۔۔۔احمد سے بدل کر میرا نام پرویز رکھ دیا ۔۔۔ میرے باپ کے الفاظ آج تک میرے کانوں میں گونجتے ہیں جب میں گھر چھوڑ کر جا رہا تھا انہوں نے کہا تھا ۔۔
“یاد رکھنا احمدتم جب پیدا ہوۓ تھے اسی وقت تمہارے کان میں اذان دے کر میں نے تمہیں بتا دیا تھا کہ تم ایک خدا کو مانو گے ۔۔۔۔تمہارا رب وہ ہی ہے جو سب سے بڑا ہے ۔۔۔۔۔ایک دن ایسا ضرور آے گا وہ اذان ضرور اپنا اثر دکھائے گی ۔۔۔تمہیں اس رب کی طرف کھینچے گی بلائے گی ۔۔۔۔ایک كلمہ گو کبھی بھی اپنے اللّه سے دور رہ کر خوش نہیں رہ سکتا ۔۔۔۔تب تم لوٹنے میں سوچنا مت ۔۔۔دیر مت کرنا ۔۔۔ لوٹ آنا ۔۔۔میری تربیت ۔۔۔میرے خون کا مان رکھ لینا ۔۔ مجھے کل خدا رسول کے آ گے رسوا مت کرنا ۔۔ یہ مت سوچنا وہ اللّه تمہیں معاف نہیں کرے گا ۔۔ بیشک میرا رب توبہ کرنے والے کی طرف لپک کر متوجہ ہوتا ہے ۔۔۔کوئی انسان تب تک توبہ نہیں کر سکتا ۔۔۔۔وہ سوچ تک نہیں سکتا جب تک اللّه نا چاہے ۔۔۔اور توبہ کرنے کا مطلب ہے وہ ہمیں معاف کرنا چاہتا ہے ۔۔۔بار بار گناہ کرتے ہو بار بار توبہ کرو ۔۔۔ایک وقت ایسا ضرور آئے گا جب تم اپنی توبہ پر ڈٹ جاؤ گے ۔۔۔۔لوٹ آنا احمد ۔۔۔۔۔لوٹ آنا ۔۔۔”
اب پرویز رو دیا تھا ۔۔۔۔
اچھا ۔۔۔مجھے بتاو ۔۔۔مجھے آگے اب کیا کرنا ہوگا تم نے کہا تھا تیس دن کا عمل ہے ۔۔۔دس دن کا کر لیا میں نے اس خون کا اب کیا کرنا ہے ؟؟؟”
سلطانہ نے اپنے مدعے کی بات فورا رکھی تھی ایسا رونا نیا نہیں تھا اس کے لئیے، ماسٹر جی ۔۔ اکثر اس کو رو کر سمجھاتے تھے ۔۔۔
پرویز نے اسے اگلے عمل کے لئے پوری بات سمجھا دی تھی جس پر عمل آج کی رات ہی کرنا تھا ۔۔۔
جس کے لئے بہت ہمت کی ضرورت تھی ۔۔۔مگر سلطانہ نے فورا حامی بھرلی تھی ۔۔۔
رات کے گیارہ بج رہے تھے ۔۔۔سلطانہ گھر سے نکلی تھی ۔۔۔
گهُپ اندھیرا ۔۔۔۔ہلکی ہلکی بوندا باندی ۔۔۔۔یخ بستہ ہوا ۔۔۔سلطانہ تیز تیز قدم اٹھاتی قبرستان کی طرف نکلی تھی ۔۔۔اس کے دونوں ہاتھوں میں کچھ سامان پکڑا ہوا تھا ۔۔۔اس میں وہ کچی ہانڈی بھی تھی جو خون سے بھری ہوئی تھی،وہ کالی چادر اوڑھے ہوۓ تھی ۔۔۔
وہ قبرستان کے گیٹ پر پہنچ کر اندر جانے کو تھی جب کوئی اس کے پاس آیا تھا بارش بھی تیز ہونے کو تھی ۔۔۔
وہ ایک کم سن بچہ تھا جو کالا چولا پہنے کھڑا تھا
آنٹی آنٹی آپ کے پاس جو بےبی ہے میں نے اس کے ساتھ کھیلنا ہے ۔۔۔سلطانہ رات کے اس پہر اس خراب موسم میں ایک بچے کی موجودگی پر حیران ہوئی تھی ۔۔۔
اس سے پہلے کے وہ کوئی جواب دیتی وہ بچہ قبرستان کے اندر بھاگا تھا وہ دیکھتے دیکھتے ہر عمر کا روپ بدلتا گیا اور بوڑھا ہو کر ایک قبر میں غائب ہو گیا ۔۔
سلطانہ کا دل منہ کو آیا تھا مگر وہ آج واپس چلی جاتی تو سب ختم ہو جاتا .۔۔۔وہ ڈرتی کانپتی قبرستان کے اندر گئی تھی ۔۔۔
اس کو دس دن تک ہر عمر کی ایک قبر کھود کر اس میں موجود لاش کو صبح تک کھانا تھا ۔۔۔بہادر شاہ کو اس کام پر لانے کے لئے پہلے اسے خود اس بات پر عمل کر کے خاص طاقت لینی تھی ۔۔۔جس کے زور پر بہادر شاہ کو قابو کیا جانا تھا ۔۔۔
بارش زوروں پر تھی کیچڑ سے اس کے جوتے بھر چکے تھے اس کا ایک ایک قدم من من وزنی ہو رہا تھا ۔۔۔
وہ بڑی مشکل قبرستان کے وسط میں پہنچی تھی ۔۔۔اس کا دل منہ کو آ رہا تھا ایسا لگ رہا تھا کسی بھی لمحے وہ سانس لینا بند کر دے گی ۔۔۔
اسی کشمکش میں اس کے کندھے پر کسی نے ہاتھ رکھا تھا خوف سے اس کی آنکھیں پتھرا رہی تھیں ۔۔۔
“سلطانہ ؟؟؟”
وہ آواز کسی عورت كی تھی ۔۔۔
اس نے جیسے ہی مڑ کر دیکھا اس کا دل پل بھر کے لئے دھڑکھنا بھول گیا تھا
وہ ایک عورت تھی جس کی زبان منہ سے باہر تھی وہ کفن میں کھڑی تھی اس کا کفن مٹی میں اٹا ہوا تھا ۔۔
“مجھے کھا لو ۔۔۔۔هاهاهاهاهاها ۔۔۔۔”
وہ جیسے ہی ہنسی اس کے منہ سے بچھوں تیز تیز نکل کر یہاں وہاں پھیل گئے تھے ۔۔۔اس کے دانت تیز سیاہ موٹی کیڑیوں سے بھرے ہوۓ تھے ۔۔۔
سلطانہ کچھ لمحے اس میں کھو گئی تھی
“شیطان تمہیں الجھا کر تمہارا وقت ضائع کر کے تمہارے ارادے کو جانچے گا مگر تم اس کے دھوکے میں مت آنا ۔۔۔”
پرویز کی آواز سلطانہ کے کانوں میں گونجی تھی وہ بھاگ کر دیوانہ وار ایک بہت ہی چھوٹی اور تازہ قبر کے پاس آئی تھی اس نے اس کو جلدی جلدی کھودا تھا ۔۔۔اس میں چند دن کا ایک نومولود ابدی نیند سو رہا تھا ۔۔۔
سلطانہ نے اسے گود میں اٹھا کر اس کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ ساتھ ساتھ قے کرتی جاتی مگر وہ صبح ہونے تک اپنے شیطان کو پہلے مرحلے میں کامیابی کی نوید دے چکی تھی ۔۔۔
اس مکرو اور غلیظ عمل کی شروعات کی دیر تھی اب کوئی بھی چیز اس کی روکاوٹ نہیں تھی ۔۔
دس دن تک وہ تیز بارش میں قبرستان آتی اور ہر عمر کی میت کو کھا جاتی ۔۔۔
دوسرا مرحلا بھی آرام سے طے ہوا تھا ۔۔۔
تیسرے مرحلے کے لئے اسے اپنی زچگی کی تکلیف ده دن کا انتظار کرنا تھا ۔۔۔
سلطانہ کا نواں مہینہ شروع ہو چکا تھا ہر وقت اس کی طبیعت خراب رہنے لگی تھی ۔۔۔
اب پرویز نے جادو اور تعویز دھاگے کا کام چھوڑ دیا تھا وہ ہر وقت اللّه سے اپنے گناہوں کی معافی مانگتا وہ دن بہ دن کمزور ہو رہا تھا کیوں کہ اب جادو اس کو نہیں چھوڑ رہا تھا کیوں کہ ابھی اس کو چھوڑنے کی ایک بھی شرط پوری نہیں ہوئی تھی ۔۔۔چیزیں اسے ہر وقت پریشان رکھتیں ۔۔۔وہ بہت تنگ آ چکا تھا ۔۔
“پرویز ماسٹرکب آدم خور بنے گا ؟؟”
وہ درد سے کراہتی پرویز سے پوچھ رہی تھی
“سلطانہ ایک کام کروگی ؟؟؟”
“تم نے کہا تھا اب بس مجھے قبرستان جا کر اس بچے کو اکیلے پیدا کرنا ہے اور اس دوران خون والی ہانڈی کا خون پینا ہے پھر ماسٹر کھانے میں صرف مردہ گوشت کھاے گا اب کونسا کام مزيد رہتا ہے ؟؟؟؟”
وہ تنک مزاجی سے بولی تھی
“تمہارے دو دو کام ایک ساتھ ہو سکتے ہیں اگر تم میری بات مان لو ۔۔۔
میں نے آج تک لوگوں کو نقلی تعویزوں اور جھوٹ کے بل پر بہت پیسہ کمایا ہے ۔۔۔تمہیں بھی بیٹے کی خواہش پر الو بناتا رہا ۔۔۔تمہیں خالی کاغذ دے دے کر برگد کی جڑ میں دفنانے کےلئے دیتا ۔۔۔ تمہارے ايمان کی کمزوری تھی جو میں جیسے زبان ہلا دیتا تم یقین کر لیتی ۔۔۔یہ عمل جو تم خود کر رہی ہو
آج تک میں نے خود ایسا کوئی بھی بڑا عمل نہیں کیا ۔۔۔ میرے استاد نے مجھ سے اپنا قتل کروا کر اس کو مجھے اپنی جان بخشی کے لئے سونپا تھا،وہ ہاتھ جوڑ جوڑ کر مجھ سے اپنا قتل کرنے کو کہتے ۔۔ وہ تنگ آچکے تھے ۔۔۔۔آخر تب مجھے بنا محنت کے سب مل رہا تھا میں نے ان کی بات مان لی اور میں اس سب کا مالک بن بیٹھا۔۔۔
اب بس لوگوں میں نفرت فساد میاں بیوی میں طلاق کروا کروا کر مجھے شیطان کو خوش کرنا تھا ۔۔۔
مگر جو گناہ تم کر چکی ہو ماسٹر جی کو آدم خور بنانے کے چکر میں یہ شیطانی دنیا میں بھی بہت زیادہ بھاری اور بڑا ہے ۔۔۔
اگر تم مجھے مار دو تو میرے سب تمہیں منتقل ہو جائے گا ۔۔۔ تم شنکا(کالی شکتیوں کا سب سے بڑا عہدہ) بن جاؤگی ۔۔۔۔۔
اور تمہیں زچکی کے دوران قبرستان جا کر وہ خون بھی نہیں پینا پڑے گا کیوں کہ کسی کالے جادو کے عالم کو مار کر تم اپنا تیسرا پڑاؤ ابھی ہی پار کرلوگی ۔۔۔تم بس اتنا کرنا میری بیٹی ہوئی تو اسے کسی اچھی عورت کے حوالے کر دینا ۔۔۔۔”
“هاهاهاهاهاها ۔۔۔ میرا بیٹا ہوگا ۔۔ بیٹا ۔۔۔ میرا خواب ۔۔۔میں اسے باشاہ بناؤں گی ۔۔۔۔اس کالی شکتی کا بے تاج بادشاہ ۔۔۔”
سلطانہ خوشی سے بولی تھی ۔۔۔
“اور اگر بیٹی ہوئی تو میں اس کا گلا دبا کر اسی وقت موت کے گھاٹ اتار دوں گی ۔۔ “
وہ اب نفرت سے بولی تھی ۔۔۔
“وہ میری بیٹی ہوگی ۔۔۔۔میں نے جادو کو چھوڑنے كی شرط نمبر ایک کو پورا کرنے کے لئے ایک خاص عمل کر کے تم سے زنا کیا تھا ۔۔۔کم از کم اب تم جیسا کوئی جادو گر غلیظ انسان اس کو نہیں مار سکتا ۔۔۔اس پر جادو ایک خاص حد تک اثر انداز ہو سکتا ہے مگر کوئی اس سے زندگی چھیننے کی کوشش کرے گا تو خود نیست ونابود ہو گا ۔۔۔یاد رکھنا ۔۔۔تم ختم ہوجاؤ گی ۔۔۔مگر اس کا بال بھی بھاگا نہیں کر سکوں گی ۔۔ “
پرویز چلایا تھا
“اور میرا بیٹا بھی تمہارے اس غلیظ کام میں حصہ دار نہیں بنے گا ۔۔۔کیوں کہ شرط تین کے مطابق میری اولاد میرے لئے صدقہ جاریہ بنے گی ۔۔ خدا نے اس حرام کام کو چھوڑنے اور توبہ کے لئے میرے لئے یہ انعامات رکھے ہیں ایسا ہمارے علم کی کتاب میں لکھا ہے ۔۔۔مجھے میرے استاد نے یہی بتایا تھا ۔۔۔”
“هاهاهاهاهاها ۔۔۔”
سلطانہ کی ہار پر پرویز نے فلک شگاف قہقہ لگایا تھا
“میں بیٹے کی ماں بنوں یا نا بنوں تمہاری بیٹی اور بیٹے کو کبھی نہیں پالوں گی ۔۔۔میں تمہیں مار کر ماسٹر کو آدم خور بنا دوں گی ۔۔۔اور تمہاری ساری شکتیوں کی مالکن ۔۔۔۔رہی بات بیٹے کی تو وہ میں کسی اور سے پیدا کرلوں گی ۔۔۔”
سلطانہ ناراض ہو کر تیز بارش میں باہر نکل گئی تھی ۔۔۔
پرویز کروٹ لے کر سونے لیٹ گیا تھا
اس کی کمر میں کوئی چیز بہت زور سے چبی تھی اس کا ہاتھ جو کہ پیٹ پر تھا خون کے فوارے سے بھر گیا تھا اس نوک دار لوہے کی سلاخ کی نوک اس کے ہاتھ پر بھی محسوس ہوئی تھی ۔۔
“کوئی گناہ نہیں کیا تم نے ؟؟؟بھول گئے کیا جب تم نے میری دوسری اولاد کو مجھے دکھاے بغیر شیطان کی بلی چڑ ھادیا تھا وہ کیا تھا وہ گناہ نہیں تھا ایک نهنی سی میری جائز اولاد ماسٹر جی کی بیٹی کو تم نے مار دیا تھا وہ ؟؟؟
وہ دے پر دے وار کرتی ہوئی ایک ہاتھ پیٹ پر رکھے پھولی سانسوں پرویز عرف بابا جی کو کسی غصیلی ناگن کی طرح پھنکارتی ہوئی مارتی جا رہی تھی ۔۔
“میں ۔۔۔۔میں نے اسے صرف اس ۔۔۔۔۔لئے تم سے لیا تھا کہ تم اسے مار دوگی ۔۔۔۔میں نے وہ ۔۔۔۔۔ایک خواجہ سرا کے حوالے کر دی تھی ۔۔۔۔کیوں کہ وہ ۔۔۔۔مکمل نہیں تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔وہ خواجہ ۔۔۔۔سرا ۔۔۔۔۔تھی ۔۔۔۔۔وہ اب بھی زندہ ہے ۔۔۔ہو ۔۔۔۔۔گی ۔۔۔ “
“تمہارا یہ احسان میں ۔۔۔۔کبھی نہیں بھولوں گا ۔۔۔تم نے مجھے اس گناہ كی زندگی سے آزادی دے دی ۔۔۔۔”
“لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللّٰهِ”
لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللّٰهِ
لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللّٰهِ
صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم
اَللّٰهُُ اَكْبَر
اَللّٰهُُ اَكْبَر
یا اللّه تیرا شکر ۔۔۔۔۔
“اَلْحَمْدُلِلّٰه۔۔۔۔۔
پرویز کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے وہ دونوں ہاتھ جوڑ کر یہ كلمات بار بار دھرا رہا تھا کچھ وقت ایسے ہی گزرا تھا ۔۔۔پھر وہ خاموش ہو گیا ۔۔
ایک کالا سایا ۔۔۔۔جس کے ہمراہ سانپ،بچھوں ۔۔۔رنگ رنگ کے کیڑے مکوڑے ۔۔ پرویز سے نکل کر سلطانہ میں جا گھسے تھے ۔۔۔
باہر تیزآندهی آ چکی تھی ۔۔۔۔۔تیز بارش بھی ہمراہ تھی ۔۔۔۔ایسا لگ رہا تھا آج سب درخت ہوا اکھاڑ کر اپنے ساتھ اڑھا لے جائے گی ۔۔۔
“ہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔”
سلطانہ کا بلند قہقہ ۔۔۔۔
اب وہ دونوں ہاتھ ہوا میں اوپر کر کے کوئی منتر باآواز بلند پڑھنے لگی تھی ۔۔۔
جس سے تھوڑی ہی دیر میں وہ کمرہ بد صورت عورتوں اور مردوں سے بھر گیا تھا وہ تمام کالے کھلے چو لے پہنے سر جھکا کر سلطانہ کو اپنا نیا حاکم مان رہے تھے ۔۔۔
تیز بارش ۔۔۔۔شیطان ۔۔۔اور ۔۔۔شیطانی کھیل ۔۔۔۔
۔****************
ماسٹر جی اور منی دونوں کی طبیعت بہت خراب رہنے لگی تھی ۔۔۔
پہلے عجیب عجیب خواب انہیں ہر وقت پریشان کیے ركهتے اب ہر وقت ان کو متلی رہتی ۔۔۔
پورے گاؤں کے لوگ ہر وقت ان کے گھر پر موجود رهتے ان کے لئے طرح طرح کے کھانے لاۓ جاتے مگر وہ کچھ نا کھاتے ۔۔۔
ماسٹر جی کا ایک پاؤں ٹیڑا ہو کر ان کی چال میں لكنت ڈال چکا تھا ۔۔۔اس کی وجہ بھی سمجھ سے باہر تھی ۔۔۔
آخر پانچ دن ہو چکے تھے وہ بھوکے پیاسے چپ چاپ لیٹے رهتے ۔۔۔۔اب کوئی بات بھی کرتا تو وہ نا سمجھنے والے انداز سے بس ان کو گھنٹوں دیکھتے رهتے ۔۔۔
رات کا وقت تھا بہادر شاہ اور منی سو رہے تھے ایک دم سے دونوں کی آنکھیں ایک ساتھ کھلی تھیں ۔۔۔
باہر تیز بارش ہو رہی تھی وہ اس کی پرواہ کیے بنا تیز قدم چلتے قبرستان گئے تھے ۔۔۔
وہ کسی بھوکے کتے کی طرح شدید بھوک کے وقت غرانے کی آواز نکالتے ہوۓ ایک تازہ قبر پر رکے تھے دونوں دیوانہ وار اس قبر کو کھود کر اس میں موجود میت کو نوچ نوچ کر کھارہے تھے ۔۔ پانچ دن كی بھوک اس ایک میت کے بس كی بات نہیں تھی وہ صبح تک مختلف قبریں کھود کر یہ کام کرتے رہے ۔۔۔
پیٹ بھر کر کھانے کے بعد دونوں باپ بیٹی نے ایک دوسرے کی وحشت زدہ چہروں کو دیکھا تھا ۔۔۔ان کی شکل یکسر بدل چکی تھی ۔۔۔کپڑے بوسیده،جسم گندگی سے بھر ا ہوا ۔۔ بال مٹی سے اٹکے ہوۓ اور دانت پیلے ہو چکے تھے ۔۔۔حرام کھانے نے پیٹ میں جاتے ہی اپنا اثر ان کے چہروں پر دیکھایا تھا ۔۔۔
“منی ۔۔۔۔۔اب ۔۔ ہمیں ایسا ہی رہنا پڑے گا ۔۔۔۔جب تک ہمارے ہمزاد اس عورت کے پاس قيد رہے گے ۔۔۔۔ہم نا تو اس قبرستان سے باہر جا سکتے ہیں نا ہی اس گوشت کے علاوہ کچھ کھاسکتے ہیں ۔۔۔”
بہادر شاہ اپنا سر پکڑ کر بے بسی سے بولا تھا ۔۔۔
“ابا ۔۔۔۔تو کیا اب تم نيكی نہیں کر سکتے ؟؟؟”
“کر سکتا ہوں ۔۔ اور میں کروں گا ۔۔۔ . میں یہاں بھی ماسٹری کروں گا ۔۔۔۔سزا بھی دوں گا ۔۔۔ مدد بھی ۔۔ان لوگوں کی جن کا کوئی نہیں ہوتا ۔۔۔۔یہ قبرستان اب ہمارا ہے ۔۔۔سلطانہ کیا سمجھتی ہے وہ مجھے اچھائی سے روک دے گی ۔۔۔نہیں ۔۔۔ہر گز نہیں ۔۔۔میں یہ مردہ گوشت کھانے پر اس کی وجہ سے مجبور ہوا ہوں ۔۔۔بیشک میرا رب ۔۔ یہ جانتا ہے ۔۔ “
بہادر شاہ ۔۔۔نم آنکھوں سے منی کا ہاتھ پکڑ کر خود کو دلاسہ دے رہا تھا
“ابا جب ہم دنیا میں مر جائے گے تو کیا ہماری یہ آزمائش ختم ہو جائے گی ؟؟؟”
“نہیں ۔۔۔۔روح الگ چیز ہے ۔۔۔۔ہماری روح اب بھی دنیا میں ہے ۔۔۔ہماری روح کا ساتھ ہمارے جسم کے ساتھ ساتھ ہے ۔۔۔اس کا استعمال ہمارے جسم کے علاوہ کوئی نہیں کر سکتا مگر کسی کے همزاد کو قابو کر کے اس کو اپنی مرضی کے غلط کام پر آماده کیا جا سکتا ہے ۔۔۔جیسے تمہاری نام نہاد ماں نے کیا ۔۔۔ہمارے همزاد ایک خاص جگہ قيد ہیں جب تک کوئی خدا کا خاص بندہ ہمیں آزاد نہیں کرتا ہم یہی قيد رہے گے ۔۔۔ہاں اتنا ہے کہ آزاد ہونے کے بعد بھی ہم ادھر رہ سکتے ہیں ۔۔۔۔انسانی گوشت ۔۔ بلکہ کچھ بھی کھاے بغیر کیوں کہ همزاد بھوک کے احساس سے عاری ہوتا ہے ۔۔۔”
“ابا ۔۔۔۔۔۔مجھے یہاں کچھ بھی اچھا نہیں لگ رہا ۔۔۔”
منی نے معصومیت سے کہا تھا
“آہستہ آہستہ سب ٹھیک ہو جائے گا ۔۔ بارش آنے والی ہے چلو رہنے کا بندوبست کرتے ہیں ۔۔ “
ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی ۔۔۔بہادر شاہ لنگڑا کر چلتا ہوا سرکنڈے اکھٹے کرنے لگا تھا ۔۔۔
دوسری طرف گھر میں موجود بہادر شاہ اور منی کا جسم صحن میں بیٹھا قے کر رہا تھا ۔۔۔۔
بارش ۔۔۔۔دو آدم خور ۔۔۔۔اور بے بسی ۔۔۔۔
۔*****************
“مناہل ؟؟؟؟”
سعد بمشکل اٹھ کر بیٹھا تھا ڈاکٹر صاحب یہی میری مناہل ہے ۔۔۔
مناہل تیزی سے ٹوٹے ہوۓ جگ کی کرچیوں کی پرواہ کے بغیر ان پر چل کر سعد کی طرف بھاگی تھی ۔۔۔
وہ کیسا لمحہ ہو سکتا ہے جب اپنے ہاتھوں سے دفنایا ہوا انسان دوبارہ زندگی بن کر آپ کے روبرو آجائے ۔۔۔۔
سعد مناہل کو گلے لگا کر زور قطار رو رہا تھا آئی – سی -، یو میں اس سب کی اجازت نہیں ہوتی مگر سب اللّه کے اس معجزے پر ان دونوں کے ساتھ آبدیدہ ہورہے تھے ۔۔۔
مناہل سعد کا ہاتھ پکڑ کر اسے باہر لے آئی تھی ۔۔۔ڈاکٹر نے پہلے ہی اسے نارمل وارڈ میں شفٹ کرنے کا سٹاف کو کہہ دیا تھا ۔۔۔
