Barish by Jameela Nawab Readelle 50375 Barish Episode 17
Rate this Novel
Barish Episode 17
Barish by Jameela Nawab
آج ماسٹر جی كے انتقال کو تیسرا دن تھا ماسٹر جی کے بڑے ویڑے میں ٹینٹ لگائے گئے تھے پورا گھر لوگوں سے بھرا ہوا تھا لوگ سپارے لئے پڑھ رہے تھے ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی سب کی قرآن پاک پڑھنے کی دل کو سکون دینے والی اجتماعی آواز سماں باندھے ہوۓ تھی ۔۔۔
ماسٹر جی نے ہمیشہ کسی میت والے گھر جا کر اس کے لواحقين کو یہی تلقين کی تھی کہ جو ذی روح اس دنیا میں آیا ہے اس کو موت کا ذائقہ ہر حال میں چکھنا ہے ۔۔۔یہ کوئی ظلم یا زیادتی نہیں ہے ۔۔۔یہ جسم یہ روح اللّه کی امانت ہے ۔۔۔اللّه یہ حق رکھتا ہے کہ جب چاہے اپنی امانت واپس لے لے ۔۔،پرائی چیز پر پھر یہ واویلا ڈالنا کیسا ۔۔۔۔
یہ دنیا ایک حسین خواب ہے حقیقت تو آخرت ہے ۔۔۔کوئی اگر ہمیشہ کے لئے خواب میں رہنا چاہتا ہے تو کسی صورت ممکن نہیں ہو سکتا ۔۔۔ اس کو اس خواب سے جاگ کر حقیقت کی تیاری کرنی چاہیے ۔۔۔
كتاب وسنت ميں بہت سی نصوص ملتی ہيں جو صبر كرنےوالوں كی فضيلت اوران كےلئےاجرعظيم پر دلالت كرتى ہيں، اوراللہ تعالى انہيں بغير حساب كے اجروثواب عطا كرےگا، يہ اجروثواب ہر اس شخص كےلئےہے جو كسی بھی مصيبت پر صبر كرے ۔۔۔
اللہ سبحانہ وتعالی كا فرمان ہے:
“اور ہم كسی نہ كسی طرح تمہاری آزمائش ضرور كرينگے، دشمن كےڈر سے، بھوک وپياس سے، مال وجان اورپھلوں كی كمی سے، اور ان صبر كرنےوالوں كو خوشخبری دے ديجئے، جنہيں جب كبھی كوئی مصيبت آتی ہے تو وہ كہہ ديا كرتےہيں كہ ہم تو خود اللہ تعالى كی ملكيت ہيں اور ہم اسی كی طرف لوٹنے والےہيں، ان پر ان كےرب كی نوازشيں اور رحمتيں ہيں اور يہي لوگ ہدايت يافتہ ہيں “
البقرۃ ( 155- 157 )
.
اور ايک مقام پر اللہ تعالى نےارشاد فرمايا:
“اور اللہ تعالى صبر كرنےوالوں سےمحبت كرتا ہے”
آل عمران ( 146 )
اورايک مقام پر اللہ جل شانہ نےفرمايا:
“اللہ تعالی يقينا صبر كرنےوالوں كوبغير حساب كےاجروثواب دےگا”
الزمر ( 10 ).
امام مسلم رحمہ اللہ تعالي نےصہيب رضي اللہ تعالي عنہ سےبيان كيا ہے كہ رسول كريم صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم نےفرمايا:
” مومن كا معاملہ عجيب ہے كہ اس كےہر معاملہ ميں خيرہی خير ہے، يہ مومن كےعلاوہ كسی اور كو حاصل نہيں، اگر مومن كو كوئی آسانی اور خوشی حاصل ہوتی ہے اور وہ اس پر اللہ كا شكر كرتا ہے تويہ اس كےلئےبہتر اور خير ہے، اور اگر اسے كوئی تكليف اور مصيبت پہنچتي ہے تووہ اس پر صبر كرتا ہے يہ اس كےلئےبہتر اور خير ہے”
صحيح مسلم ( 5318 ) .
امام ترمذی رحمہ اللہ تعالی نے ابوسنان رحمہ اللہ تعالي سےبيان كيا ہے وہ كہتےہيں ميں نےاپنےبيٹے سنان كو دفنايا اور قبر كےكنارے ابو طلحہ خولانی رحمہ اللہ تعالی بيٹھےہوئےتھے جب ميں نےنكلنا چاہا تو انہوں نےميرا ہاتھ پكڑا اور كہنےلگے ابوسنان كيا ميں تمہيں خوشخبری نہ دوں؟ ميں نےجواب ديا كيوں نہيں، توانہوں نےكہا:
“مجھےضحاك بن عبدالرحمن بن عرزب رحمہ اللہ نے ابو موسى اشعرى رضی اللہ تعالى عنہ سےحديث بيان كی كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
” جب كسي بندے كا بيٹا فوت ہوجاتا ہے تو اللہ تعالى اپنے فرشتوں سے كہتا ہے تم نے ميرے بندے كےبيٹے كی روح قبض كرلی تو وہ كہتےہيں جی ہاں تو اللہ تعالى كہتا ہے تم نے اس كےدل كا پھل اور ٹكڑا قبض كرليا تو وہ كہتے ہيں جی ہاں، تواللہ تعالى كہتا ہے ميرے بندے نے كيا كہا؟ توفرشتےجواب ديتے ہيں اس نےتيری حمد و تعريف اور اِنّا لِلّٰهِ وَاِنّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْن پڑھا، تو اللہ عزوجل فرماتا ہے:
“ميرے بندے كےلئے جنت ميں ايك گھر تيار كردو اور اس كانام بيت الحمد ركھو “
جامع الترمذي حديث نمبر ( 942 ). علامہ الباني رحمہ اللہ تعالي نےاس حديث كو السلسلۃ الصحيحۃ ( 1408 ) ميں حسن قرار ديا ہے.
یہ وہ باتیں تھیں آج گاؤں والے ماسٹر جی کے جانے کے بعد جس پر عمل کرتے ہوۓ صبر سے قرآن پاک پڑھنے میں مصروف تھے ۔۔۔یہ صرف اسی جگہ نہیں کیا جا رہا تھا بلکہ گاؤں میں ہونے والی ہر فوتگی پر ماسٹر جی یا ان کا کوئی نا کوئی شاگرد ان آیات اور باتوں کی تبلیغ کرتے ۔۔۔آہستہ آہستہ ہی سہی مگر فرق پڑچکا تھا ۔۔۔اب بہت کم کسی گھر سے بین ڈالتی عورتوں کی آوازیں آیا کرتی تھیں ۔۔۔
منی دو دن سے بیہوش تھی احد باہر بیٹھا سپارہ پڑھ رہا تھا جب ایک عورت نے اسے اندر آنے کا کہا تھا احد سپارہ رکھ کر اندر آیا تھا جہاں منی بے بس سی اپنے ابالے لئیے استری کيئے کپڑوں کو دروازے کے پیچھے لٹکا دیکھ کر گھٹ گھٹ کر رو رہی تھی اس کی آنکھ کھلتے ہی اس کی نظر ان کپڑوں پر پڑی تھی جو ماسٹر جی کوپہننا نصیب نہیں ہوۓ تھے ۔۔۔یہ ہماری اوقات ہے ۔۔۔۔وقت ختم ہو جائے تو اکثر روٹی کا منہ میں ڈالا ہوا نوالا بھی منہ میں ہی رہ جایا کرتا ہے پیٹ تک نہیں جا پاتا اور اللّه روح قبض کر لیتا ہے ۔۔۔
سعد نے جلدی سے منی کے پاس بیٹھ کر اسے سینے سے لگایا تھا ۔۔۔
“ڈاکٹر بیٹا منی نے دو دن سے کچھ نہیں کھایا،آپ ہی ان کو سمجھائیں..”
ایک عورت اداس سی منی کے سر پر ہاتھ پھیر کر بولی تھی
“خالا آپ کھانا لایئے میں کھلادیتا ہوں”
احد نے منی کو تھپتھپاتے ہوۓ کہا تھا
“منی ایسے مت کریں پلیز ۔۔ ماسٹر جی کی روح کو تکلیف ہو رہی ہوگی ۔۔۔میں ہوں نا آپ کے ساتھ ۔۔۔میں وعدہ کرتا ہوں آپکا خیال ماسٹر جی سے بھی زیادہ رکھوں گا ۔۔۔۔شادی جلدی میں ضرور ہوئی ہے مگر میرے محسن کی بیٹی ہونے کی حیثیت سے میری آپ سے دلی عقیدت بھی ہے ۔۔۔”
“آپ کھانا کھالیں پھر ہم قبرستان چلیں گے ماسٹر جی کو یہ دکھانے کے آپ نے اللّه کی رضا میں سر جھکا دیا ہے”
منی نے آنسو صاف کر کے اثبات میں سر ہلایا تھا کھانا آ چکا تھا احد خود نوالے بنا بنا کر منی کو کھانا کھلا رہا تھا ۔۔۔
“خالا میں منی کو لے کر قبرستان جا رہا ہوں”
احد منی کے ہمرا گیٹ کی طرف جاتا جاتا کسی عورت کو بتا رہا تھا
بارش کی ننھی بوندیں اب بھی موجود تھیں ۔۔۔ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی ۔۔
منی احد کے ساتھ آگے بیٹھ گئی تھی ۔۔
۔****************”
مناہل سعدکے ساتھ کچھ دیر وارڈ کے باہر موجود نشست پر بیٹھی رہی پھر سعد کو وارڈ میں اندر چھوڑ کر وہ باہر آئی تھی چونکہ وہ مردانہ وارڈ تھا اس کا وہاں رکنا مناسب نہیں تھا دوسرا سعد کو ڈرپ بھی لگنی تھی اور وہ نیند آور دوائی کے زیر اثر تھا لہذا مناہل نے اسے اندر بھیج دیا تھا ۔۔۔اور مدھو والے وارڈ کا بھی بتا دیا تھا
مناہل باہر آئی تو مدھو کو زمین پر بیٹھا زور قطار روتا دیکھا وہ پریشان سی اس کے پاس نیچے آ کر بیٹھی تھی
“کیا ہوا ہے مدھو آپی ؟؟؟”
وہ مدھو کے سر کو ڈھانپ کر اس کے بال ٹھیک کرتے ہوۓ اس کا چہرہ خشک کرتے پوچھ رہی تھی
“منو؟؟؟ایک بات تو بتا ؟؟؟”
“جی پوچھیں آپی ؟؟”اور پلیز رونا تو بند کردیں آپ کو روتا دیکھ میرا دل گھبرا رہا ہے ۔۔ “
“میں نہیں جانتی میرا باپ کون تھا مگر کوئی تو ہوگا یہ لازمی بات ہے ۔۔۔مگر اگر آج جیسے مرا دیکھ میرا دل درد سے پھٹا ہے اگر میں اسے باپ سمجھ لو تو مجھے گناہ تو نہیں ہوگا ؟؟؟”
“مجھے نہیں پتہ آپی چلیں اٹھیں آپ کی طبیعت بگڑ جائے گی”
مناہل نے مدھو کو ہاتھ سے اوپر اٹھایا تھا
“ایک منٹ منو”
مدھو آہستہ آہستہ چلتی آنسو صاف کرتی نرسنگ کاونٹر پر آئی تھی
“سسٹر باجی یہ جو ابھی ابھی ایک مریض دل کے آپریشن کے دوران وفات پا گئے ہیں ان کا نام دیکھ کر بتا دیں،رب آپ کا بھلا کرے”
بنا کوئی جواب دیے رجسٹر کھول کر دیکھنے لگی تھی
مدھو دل پر ہاتھ رکھے فقط اس کے ہونٹوں کو دیکھ رہی تھی
“بہادر شاہ”
اس کے لب پھڑپھڑاے تھے ۔۔۔
مدھو کے دل پر بوجھ بڑھ گیا تھا آنسوؤں کا ریلا امڈ آیا تھا
سسٹر باجی ایک آخری احسان کریں گی ؟”
مدھو نے ہچکی لے کر کہا تھا مناہل پریشان سی مدھو کو سمجھنے كی کوشش کر رہی تھی
“جی بولیں ؟؟”
“یہ نام ا یک کاغذ پر لکھ دیں”
مدھو نے دونوں ہاتھوں میں اپنا چہرہ چھپا کر بلند آواز سے رو کر کہا تھا
نرس نے اسے کاغذ تهما دیا تھا
وہ اس پر لکھے نام کو چومتی چومتی مناہل کے ساتھ وارڈ میں آئی تھی وہ لیٹی کافی دیر اس نام کو دیکھتی رہی پھر جانے کب اس کی آنکھ لگی تھی
صبح آنکھ کھلی تو ڈاکٹرز راؤنڈ پر تھے مدھو کو ڈسچارج کردیا گیا تھا ڈاکٹر علی تھوڑی دیر بعد راؤنڈ مکمل کر کے مدھو اور مناہل کے پاس آۓ تھے
“ان کو ہمارا ارادہ کچھ دن مزید رکھنے کا تھا مگر اب یہ کافی بہتر ہیں اور یہ سچ ہے گھر والا ماحول اچھے سے اچھے ہسپتال کی جگہ نہیں لے سکتا ۔۔۔لہذا ان کی دوائیں میں بھیجوا دیتا ہوں ان میں سے کچھ جو درد اور انفیکشن کی ہیں وہ دس دن تک اور باقی طاقت کی گولیاں کچھ سپلیمنٹس ہیں جو ان کو تین ماہ تک استعمال کروانے ہیں ۔۔۔سب کی سب دوا ابھی ایک لڑکا آپکو دے جائے گا ۔۔ اس کے علاوہ کبھی بھی کسی بھی قسم کی میری مدد کی ضرورت ہو تو بندہ ناچیز حاضر ہے”
ڈاکٹر علی نے خلوص سے کہا تھا
“اللّه اپ کا بھلا کرے ڈاکٹر صاحب اپ جگ جگ جیو۔۔۔۔اللّه اپ کو مکمل کرے آپ کی شادی ہوئی ہے ؟؟”
مدھو نے دونوں ہاتھ جوڑ کر دعا دے کر پوچھا تھا
“جی ہوئی ہے ۔۔ مگر ۔۔ . اولاد “
اس سے پہلے کے ڈاکٹر علی بات مکمل کرتے ان کی بيگم کا فون آیا تھا جنہوں نے سٹرپ ٹیسٹ میں حمل مثبت آنے کی نوید دی تھی ڈاکٹر علی ہکے بکے اس ادھورے انسان کے ساتھ محض اچھی نیت سے اپنا فرض ۔۔ وہ فرض جس کی ان کو تنخوا دی جاتی ہے پورا کرنے پر ۔۔۔۔۔۔ اور اللّه نے آج اس اچھی نیت پر دس سال بعد ۔۔۔ ہر طرح کے علاج میں ناکامی کے بعد باپ بننے کی خوشخبری دی تھی ۔،
وہ فون رکھ کر مدھو کے بہت زیادہ شکر گزار ہو کر بولے تھے
“آپ اس ہسپتال میں میرے لئے رحمت بن کر آئی ہیں مدھو ۔۔۔۔بیشک بعض اوقات آپ کی کوئی خواہش کسی کی دعا کی محتاج ہوتی ہے وہ ہستی وہ انسان کوئی بھی ہو سکتا ہے ۔۔۔۔یہی معاملا کسی غیر کو بھی تکلیف دینے پر اس کی آہ یا بد دعا کی صورت آپ کی زندگی کا تختہ پلٹ سکتا ہے ۔۔۔لہذا کبھی بھی کسی کو انجان سمجھ کر اس کی دعا یا بد دعا کو نظر انداز مت کرو ۔۔۔
مدھو نے مسکرا کر ان کو دیکھا تھا ڈاکٹر علی جا چکے تھے جن کے جانے کے کچھ دیر بعد لڑکا دوائیاں پکڑا گیا تھا ۔۔
مناہل نے ابھی تک مدھو کو سعد کا نہیں بتایا تھا وہ سارا سامان سميٹ کر مدھو کو انتظار کرنے کا کہہ کر سعد کے وارڈ میں آئی تھی جہاں سعد بیٹھا اپنی ڈسچارج فائل کو دیکھ رہا تھا مناہل کو اندر آتا دیکھ وہ باہر آیا تھا
“سعد مدھو آپی کو گھر جانے کی اجازت مل گئی ہے آپ کو کیا کہا ڈاکٹرز نے ؟؟”
“مجھے بھی مل گئی ہے بس اب باقی دوا گھر پر کھاؤں گا ۔۔میں یہ فائل کاؤنٹر پر جمع کروا کر آپ کی مدھو آپی کے پاس آتا ہوں ‘
سعد نے مناہل کو پیار سے دیکھتے ہوۓ کہا تھا
مناہل سعد کے ساتھ ہی فائل جمع کروا کر مدھو کے پاس آئی تھی جوگم سم سی اس کاغذ کو دیکھ رہی تھی جس پر بہادر شاہ لکھا تھا
“مدھو ۔۔۔۔آپی ۔۔ یہ ۔۔۔۔۔”
مناہل نے شرما کر شرم سے لال ہوتے ہوۓ مدھو کا ہاتھ پکڑ کر سعد کی طرف اشارہ کر کے
بس اتنا ہی کہا تھا جس سے مدھو پوری بات سمجھ گئی تھی ۔۔
وہ بيڈ سے اتر کر سعد کے سر پر ہاتھ رکھ کر دعا دینے لگی تھی ۔۔۔
“اللّه خوش رکھے اپ دونوں کو ۔۔ اللّه لمبی صحت والی زندگی دے”
اب مناہل رات کا پورا قصہ مزے مزے سے مدھو کو سنا رہی تھی ۔۔
“کتنی عجیب بات ہے وقت ایک ہی ہوتا ہے مگر اس کے معنی ہر کسی کے لئے الگ الگ ہوتے ہیں،کسی نے کچھ پایا ہوتا ہے اور کوئی خالی ہاتھ ۔۔۔۔۔کل کی رات میرا دل ویران کر گئی اور مناہل کی زندگی آباد ۔۔۔۔۔۔نصیب ۔۔۔۔ہااااۓۓۓۓے….کسی نے کیا سچ کہا ہے اپنے نصیب سے اکیلے ہی لڑنا پڑتا ہے ۔۔ “
مدھو نے مناہل اور سعد کو ایک دوسرے کو محبت سے دیکھتا دیکھ کر سوچ تھا ۔۔
وہ تینوں فلحال مدھو کے گھر گئے تھے سعد ان کو وہاں چھوڑ کر اپنے گھر گیا تھا بارش زوروں پر تھی اور لائٹ بھی گئی ہوئی تھی ۔۔
وہ آج چار دن بعد گھر آیا تھا گھر میں اندھیرا تھا وہ امی امی کرتا ان کو ڈھونڈ رہا تھا ہر جگہ دیکھنے کے بعد کمرے سے نکلتے نکلتے اس كی نظر کمرے کی چھت پر پڑی تھی سفورا کسی چھپکلی کی طرح اس سے چپکی ہوئی تھی مسلسل شب بيداری سے اس کی آنکھیں ارد گرد سے کالی ہو چکی تھیں رنگ بھی سیاہ اور پانی اور خوراک نا لینے کی وجہ سے چہرہ جھریوں سے بھر گیا تھا وہ کچھ ہی دنوں میں عمر رسیدہ ضعیف بڑھیا لگنے لگی تھی ۔۔۔ناخن بڑھ کر اس کو اور بھی وحشت زدہ دیکھا رہے تھے ۔۔۔
وہ عجیب سی آواز نکال کر کرب سے خوفزده سی بولی تھی
“ساااااااااا ۔۔۔۔دددد ۔۔۔۔۔مجھے ۔۔۔۔۔بببببببب۔۔چا اااا ۔۔ لو ۔۔۔ یہ ۔۔۔سب لوگ مجھے مل ۔۔۔کر ۔۔۔مار دیں گے ۔۔۔ “
سفورا کو کمرہ بدصورت انسانوں سے بھرا ہوا نظر آ رہا تھا وہ سیاہ کپڑے کالے دانتوں والے بد صورت لوگ ۔۔ . جن كی آنکھوں میں سفیدی جیسا کچھ نہیں تھا اس کو گھور رہے تھے ۔۔۔۔
“امی کوئی نہیں ہے یہاں چلے نیچے آجایئں ۔۔ “
سعد حیرانگی سے بولا تھا وہ کوئی ٹیبل لینے کمرے سے نکلنے کو تھا جب
“تڑخ”
کی آواز سے اس نے پیچھے دیکھا تھا جہاں سفورا فرش پر آہیں نکالتی نیچے پڑی تھی اسے شیطان نے منہ کے بل گرایا تھا جس سے اس کا ماتھا اور ناک فرش پر لگ کر خون و خون ہوا تھا ۔۔۔
سعد جلدی سے بینڈیج کا ڈبہ لینے دوسرے کمرے میں بھاگا تھا مگر جب وہ آیا سفور ا غائب تھی فرش پر خون موجود تھا اس نے چھت پر دیکھا جہاں ایک بار پھر اس کے موکلوں نے اسے چپکا دیا تھا ۔۔
وہ ان کے پورے کمرے میں گونجتے قہقوں کی آواز سن سکتی تھی ۔۔۔۔وہ اتنی لاغر ہو چکی تھی کہ تکلیف پر بھی اس کے آنسو نہیں بہہ رہے تھے ۔۔ اور ویسے بھی آنسو اور رونا تو خدا کے آگے خود کو بے بس مان لینے کی دلیل ہوا کرتی ہے ۔۔۔۔آنسو کا ایک قطرہ بھی مرحم ہوا کرتا ہے جو اللّه کچھ دلوں سے چھین لیتا ہے ۔۔۔رونا دل کی نرمی کی علامت ہے جو کم از کم سفورا جیسی بے رحم عورت نہیں تھی ۔۔
اللّه کہتا ہے ۔۔
“جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا”
ایک اور جگہ فرماتا ہے
(مفہوم)
“اہل زمین پر رحم والا معاملہ رکھو تا کہ تم پر رحم کیا جائے”
سفورا جیسی سفاک عورت پر اللّه کا عذاب تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا تھا اللّه نے اس کی رسی دراز کر رکھی تھی فلحال تو وہ اپنے شیطان کے ہاتھ کا کھلونا بنی ہوئی تھی ۔۔۔
شیطان کبھی بھی کسی انسان کا دوست نہیں ہو سکتا ۔۔۔وہ تو اللّه سے کئيے اس جملے پر ڈٹا ہوا ہے جو اس نے سجدے سے انکار کرکے بولا تھا ۔۔
اس کا کہنا تھا میں آگ سے بنا ہوں اور انسان مٹی سے میں ہر طرح سے اس سے افضل ہوں ۔۔۔
اللّه نے اس پر کہا تھا ۔۔
“جو مجھے دل سے ماننے والا ہوگا وہ کبھی تمہارے اس فریب میں نہیں آ ئے گا اور جو تیری بات پر عمل کرے گا وہ میری رحمت سے خارج ہوگا ۔۔۔
وہ دن ہے اور آج کا شیطان دن رات انسان کو بہکا کر اللّه کے ساتھ دشمنی نبها رہا ہے ۔۔۔
جب بھی آپ کسی شیطانی کام کی طرف مائل ہونے لگیںایک بار یہ ضرور سوچ لیں جو جس کا پیروکار بنے گا اس کا انجام اس سے الگ نہیں بلکہ ہوبہو وہی ہوگا ۔۔۔
سعد کا دماغ بند ہو گیا تھا وہ بت بنا اپنی ماں کو دیکھ رہا تھا جس کی ناک اور ماتھے سے خون ٹپ ٹپ فرش پر گر رہا تھا ۔۔۔
اس کے دیکھتے ہی دیکھتے سفورا ایک بار پھر منہ کے بل گری تھی جس سے اس کا ماتھا اب اندر تک گھڑا بن کر دکھ رہا تھا ناک پھول کر سفورا کو بھیانک بنا رہی تھی کالا خون اس کے پورے جسم پر پھیل چکا تھا وہ ہوش و حواس میں یہ سب محسوس کر رہی تھی مگر درد کی ایک آہ نکالنا بھی جو کہ اکثر درد میں کمی کا باعث ہوا کرتی ہے وہ تک اس کو نصیب نہیں تھی ۔۔
سعد نے اسے اٹھا کر اس کے زخم صاف کيے تھے اب وہ باہر سے لا کر اسے کھانا کھلا رہا تھا وہ اس کا ذائقہ محسوس کرنے سے قاصر تھی ۔۔۔
سفورا کے کان میں اپنی ساس کی آواز گونجی تھی
“بیٹا ۔۔ جو بھی ہو چپ کر کے کھا لیا کر ۔۔۔میری دھی ایسے اللّه کے رزق میں نقص نہیں نکالتے ۔۔۔
اللّه ناراض ہو گیا نا تو ہر کھانا ایک جیسا ہی لگے گا ۔۔۔بعض اوقات اللّه ذائقہ چھین کر بھی ناشکری کی سزا دیا کرتا ہے(کرونا میں مریض کی چھکنے کی حس ختم ہو جاتی ہے)
سفورا رونا چاہتی تھی مگر آنسو ۔۔۔تو سرے سے تھے ہی نہیں ۔۔۔بیشک رونا آنا بھی اللّه کی نعمتوں میں سے ہے ۔۔۔
سفورا پتھرائی آنکھوں سے باہر دیکھ رہی تھی بارش زوروں پر تھی ۔۔۔
اسے صحن میں اپنے ساس سسر اور میا ں صاف اُجلے کفن پہنے مسکراتے ہوۓ نظر آرہے تھے ۔۔۔وہ بارش ان بھگو نہیں رہی تھی ۔۔۔
اب وقت گزر چکا تھا ۔۔۔۔لفظ “کاش” کی توفيق بھی اللّه نے اس سے لے لی تھی ۔۔۔۔
سعد مناہل کو اس ماحول میں واپس نہیں لاۓ گا وہ یہ فیصلہ کر چکا تھا ۔۔۔
۔**********
بہادر شاہ اور منی آج پورے قبرستان کا چکر کاٹ رہے تھے بارش ہلکی تھی وہ مردہ گوشت کھانا چھوڑ چکے تھے اور همزاد کو زندہ رہنے کے لئے کسی دنیاوی خوراک کی ضرورت نہیں ہوتی مردہ گوشت کھانا محض باجی کے جادو کا اثر تھا جو خاص پانی تابوت پر نا ڈالنے کی وجہ سے ختم ہو چکا تھا اب بس کسی خدا کے بندے کا اپنے ہاتھوں سے اس تابوت کو کھولنے کی دیر تھی پھر وہ دونوں آزاد ہو جاتے وہ اپنی مرضی سے کہیں بھی جا سکتے تھے قبرستان کی حدبندی بھی ختم ہو جاتی ۔۔۔۔اور وہ چاھتے تو بہادر شاہ کا همزاد ماسٹر جی کی قبر میں اور منی کا احد کی بیوی منی کے جسم کا حصہ بھی بن کر وہ ہی زندگی گزار سکتے تھے جو ہر انسان گزار رہا ہے مگر ہاں اتنا ضرور ہوتا منی کی لوگوں کو جانچنے کی حس ضرور اس کی صفت بن جاتی ۔۔۔
(مطلب وہ همزاد منی ایکٹو ہونے کی وجہ سے اس کی خاص خوبی انسان منی میں منتقل ہو جاتی،یہ میں نے فرض کیا ہے)
دو جنازے قبرستان کی طرف آتے دکھائی دیئے تھے منی اور بہادر شاہ ان کی طرف متوجہ ہوۓ تھے
ایک آدمی جو غم سے بری طرح نڈھال تھا دو مردوں کے ہمراہ جو اسے سہارہ دیے ہوۓ تھے بہادر شاہ کے پاس آیا تھا
“قبریں ۔۔۔۔۔قبریں ۔۔۔۔کھود ۔۔۔۔مجھے ۔۔۔مجھے اپنی دنیا دفنانی ہے اپنے ان ہاتھوں سے”
وہ گھٹنوں کے بل بیٹھا دونوں ہاتھ پھیلا کر پھوٹ پھوت کر رو دیا تھا جس پر اس کے ساتھ موجود آدمی اس کو حوصلہ دے رہے تھے
بہادر شاہ نے اسے ہاتھ سے پکڑ کر اوپر اٹھایا اور اس کے ساتھ میتوں کی طرف چل پڑا
جنازہ بہت زیادہ بڑا نہیں تھا شاید بس قریب کے رشتہ دار ہی آئے تھے جن میں عورتیں بھی شامل تھیں
دو چارپائیاں زمین پر رکھ دی گئی تھیں ایک عورت جو شاید ماں تھی وہ پيلی زرد خوفزده سی ان چارپائیوں کو پکڑ کر سکتے میں چپ چاپ بیٹھی ہوئی تھی
بہادر شاہ نے ایک ایک کر کے میتوں سے چادر ہٹائی تھی دونوں بچے تھے ایک لڑکا اور ایک لڑکی کی میت تھی جن کی عمر ایک جیسی ہی لگ رہی تھی شکل بھی کافی مل رہی تھی دونوں کے جسم کالے اور نیلے ہو رہے تھے بہادر شاہ نے افسوس کرتے ہوۓ ان کے چہرے دوبارہ ڈھک دیے تھے وہ آلتی پالتی مار کر بیٹھ گیا تھا
“کون ہیں یہ بچے ؟؟؟ کیا ہوا تھا ان کو؟؟”
بہادر شاہ نے دکھی سے شکستہ آواز میں پوچھا تھا
“میرا بیٹا اور بیٹی ہیں ۔۔۔اللّه نے جوڑا دیا تھا اور جوڑے میں ہی واپس لے لیا”
باپ چیخ کر کرب سے بولا تھا اب وہ سرپیٹتا ہوا زمین پر بیٹھ کر دیوانہ وار رو رہا تھا ماں سہمی سی اس کی طرف خشک آنکھیں لیئے دیکھ رہی تھی وہ شکل سے پاگل لگ رہی تھی وہ سب کو دیکھتی پھر بچوں کے چہروں سے کپڑا ہٹاتی اور سہم کر بیٹھ جاتی ۔۔۔
بہادر شاہ اٹھ کر اس کے پاس بیٹھ گیا تھا
یار اس طرح بین ڈال کر رونا اللّه کی نظر میں ناپسندیدہ فعل ہے ۔۔۔
اسلام کہتا ہے ۔۔۔
آدمی سے تعلق کی بنا پر اگر اس کی وفات پر آدمی رنجیدہ ہو یا رونا آجائے تو یہ مذموم نہیں ہے؛ بلکہ طبعی چیز ہے، خود حضرت ابراہیم علیہ اسلام کی وفات پر آپ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم کی آنکھیں نم تھیں؛ البتہ نوحہ کرکے رونا یہ زمانہٴ جاہلیت کی رسم ہے جو شرعاً ممنوع ہے، نوحہ یہ ہے کہ آدمی واویلا مچاکر خود بھی روئے اور دوسروں کو رلانے کے لیے مردہ کے اوصاف وحالات بڑھا چڑھاکر بیان کرے۔
عَنْ أَنَسٍ قَالَ: دَخَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَی أَبِی سَیْفٍ الْقَیْنِ وَکَانَ ظِئْرًا لإِبْرَاہِیمَ فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِبْرَاہِیمَ فَقَبَّلَہُ وَشَمَّہُ ثُمَّ دَخَلْنَا عَلَیْہِ بَعْدَ ذَلِکَ وَإِبْرَاہِیمُ یَجُودُ بِنَفْسِہِ فَجَعَلَتْ عَیْنَا رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ تَذْرِفَانِ. فَقَالَ لَہُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ: وَأَنْتَ یَا رَسُولَ اللَّہِ؟ فَقَالَ: ”یَا ابْنَ عَوْفٍ إِنَّہَا رَحْمَةٌ ثُمَّ أَتْبَعَہَا بِأُخْرَی فَقَالَ: إِنَّ الْعَیْنَ تَدْمَعُ وَالْقَلْبَ یَحْزَنُ وَلَا نَقُولُ إِلَّا مَا یُرْضِی رَبَّنَا وَإِنَّا بِفِرَاقِک یَا إِبْرَاہِیم لَمَحْزُونُونَ․(مشکاة: ۱۴۹، ۱۵۰)
عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ: لَعَنَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ النَّائِحَةَ وَالْمُسْتَمِعَةَ. رَوَاہُ أَبُو دَاوُد (مشکاة: ۱۵۰)
اوربخاری ومسلم ميں كسی شخص كےايک سےزيادہ بچے فوت ہونےاور اس پر صبر كرنےاوراللہ تعالی سےاجروثواب كي نيت كرنے كی فضيلت پر خاص حديث مذكور ہے:
ابو سعيد رضی اللہ تعالى عنہ بيان كرتےہيں كہ عورتوں نےنبی كريم صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم سےعرض كی ؛
” اے اللہ تعالى كےرسول صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ہميں نصيحت اور تبليغ كرنےكےلئے كوئی دین خاص كرديں”
تورسول كريم صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم نےانہيں وعظ ونصيحت كی اور فرمايا:
” جس عورت كےبھی تين بچے فوت ہوتو وہ آگ سےپردہ میں ہونگے”
ايک عورت كہنےلگی اوراگر دو ہوں تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نےفرمايا؛
” اور دو بھی”
صحيح بخاري ( 99 ) صحيح مسلم ( 4786 ) .
بخاری كی ايک روايت ميں ہے كہ:
انس بن مالك رضي اللہ تعالى عنہ بيان كرتےہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نےفرمايا:
” جس مسلمان شخص كےبھی بلوغت سےقبل تين بچےفوت ہوجائيں اللہ تعالی ان كی وجہ سےاسےاپنی رحمت اورفضل سےجنت ميں داخل كرےگا”
صحيح بخاري حديث نمبر ( 1292 ).
ان احاديث ميں يہ بيان ہوا ہے كہ جس كےبھي دو يا اس سےزيادہ بچے فوت ہوجائيں اور وہ اس پر صبر كرے تواس كےساتھ جنت ميں داخل اور جہنم سے نجات كا وعدہ كيا گيا ہے.(بیشک وہ رب اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا)
“اگر بات میرے بچوں کی طبعی موت کی ہوتی تو میں صبر کر بھی لیتا ۔۔۔میرے بچوں کا تو قتل کیا ہے اس عورت نے”
وہ آدمی غصے سے اپنی بیوی کی طرف اشارہ کر کے بولا تھا
“اس کی ناشکری اور اللّه سے جنگ نے آج مجھے اپنے ان معصوم بچوں کو دفنانے پر مجبور کیا ہے”
“نہیں ۔۔ نہیں ۔۔۔میں ۔۔۔میں نے نہیں مارا ان کو ۔۔۔میں ۔۔۔میں بے قصور ہوں”
وہ عورت خوفزده سی بولی تھی
“میرے اور اس کے سارے رشتہ دار یہاں موجود ہیں تم ان سے پوچھ لو میں کتنا امیر اور صاحب حیثیت ہوں ۔۔۔۔۔مگر یہ میری ڈگڑی کی حد تک پڑھی لکھی مگر اپنی سوچ میں یہ آج بھی چودہ سو سال پہلے والی جاہلیت لیئے ہوۓ بیوی جدید دکھنے کی دوڑ میں ایسی پستی میں گرا چکی ہے مجھے کہ اب یہاں ساری عمر میں اندھیرے میں گزاروں گا”
بہادر شاہ نے اس کو بنا کوئی سوال پوچھے بولنے دیا تھا ۔۔
“پہلی اولاد اللّه نے یہ جوڑوا بچے دیے ۔۔۔بیٹا اور بیٹی ۔۔۔یہ تین سال کے ہو چکے تھے اب میں اور اولاد چاہتا تھا ۔۔۔۔میں بیٹے کے لئے بھائی اور بیٹی کے لئے بہن ۔۔۔۔۔چاہتا تھا ۔۔ مگر میری بیوی کا کہنا تھا ۔۔۔وہ کوئی جاہل گوار عورت تھوڑی ہے جو چار چار بچے پیدا کرے گی ۔۔۔۔۔یہ بات جاہلیت کی ہوتی تو ہمارے نبی صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم نے اس لئے کم عمر لڑکی سے شادی کا نا کہا ہوتا تا کہ وہ اولاد زیادہ دے سکے ۔۔۔
(مطلب اس کی عمر کم ہو عموما 37،38 کے بعد بعض اوقات عورت اس صلاحیت سے محروم ہو جایا کرتی ہے باقی اللّه چاہے تو بڑھاپے میں بھی دے دے)
میں اس کی ضدی فطرت کو اچھی طرح جانتا تھا میں خاموش ہو گیا ۔۔۔مگر حد تو تب ہوئی جب ہر قسم کا جديد سے جدید طریقہ استعمال کرنے کے باوجود بھی یہ بہت بار پیٹ سے ہوجاتی تھی ۔۔۔یہ مجھے بتاۓ بغیر میری اجازت لیئے بنا اسے گرا دیتی ۔۔۔۔پورے دو سال یہ سلسلا چلا جس میں اس نے میرے چار بچے کسی جانور کے بچے کی طرح اللّه جانے ضائع کروا فلش میں بہا دیے ۔۔۔۔۔”
وہ دل پر ہاتھ رکھے بمشکل بول پا رہا تھا ۔۔
خدا کا کرنا یہ بات مجھے کچھ عرصہ پہلے معلوم پڑی ۔۔۔ جب ڈاکٹر نے مسلسل جان بوجھ کر دوائی کے زور پر حمل گرانے پر بچہ دانی میں زخم بتاۓ اور اسے ریموو کرنے کا کہا ۔۔۔۔جو اس نے خوشی خوشی کروا بھی دی ۔۔۔۔”
میں نے وجہ پوچھی تو فخر سے کہتی میری فیملی مکمل ہے میں انسان ہوں جانور نہیں جو پورا جھنڈ بنا کر دوں ۔۔۔۔”
“میں نے بہت سمجھایا ۔۔۔کہ اللّه کی بندی ۔۔۔یہ اللّه کی امانت اللّه نے واپس لے لئیے تو ہم کیا کریں گے ؟؟؟؟ مگر اس کا غرور ۔۔۔۔۔میرا گھر تباہ کردیا اس نے ۔۔۔۔اولاد بھی تو رزق ہوا کرتے ہیں ۔۔۔۔رزق کو ضائع کریں گے تو اللّه اسے اٹھا لیا کرتا ہے بس یہی ہوا میرے ساتھ ۔۔۔۔اس کی سرجری کو ابھی مہینہ ہوا تھا میرے ہنستے کھیلتے بچے ۔۔۔۔کرنٹ لگنے سے چھت پر ۔۔۔ننگی تار ۔۔۔۔۔۔ایک ساتھ ۔۔۔۔۔۔۔۔ہاااااےےےے میرے اللّه ۔۔۔۔۔مجھے معاف کر دے ۔۔۔۔”
وہ آدمی اپنے بال نوچنے لگا تھا
بہادر شاہ کے پاس بولنے کے لئے کچھ نہیں تھا وہ اس عورت کو دیکھ کر فقط اتنا بولا تھا
“حمل جب چار مہینے کا ہوجائے، تو اس میں جان پڑجاتی ہے، اس کے بعد حمل کا اساقط کرنا حرام ہے، جس کی وجہ سے انسانی جان کے قتل کا گناہ ہوتا ہے۔ اس سے پہلے اگر واقعۃً کسی مجبوری وعذر کے تحت حمل ساقط کیا جائے تو جائز ہے، لیکن بغیر عذر کے مکروہ ہے، اوراگر معاشی خوف سے کیا جائے تو ناجائز ہے”
میں ۔۔۔۔میں ۔۔ نے دو بچوں کو ۔۔۔چار چار ماہ کا ہو جانے کے بعد ۔۔۔۔۔وہ ۔۔ دوائی سے ۔۔۔بھی ختم نہیں ہورہے تھے ۔۔۔۔میں تو پہلے ماہ سے ہی دوائی ۔۔۔دوائی کھارہی تهی ۔۔۔۔”
وہ عورت اپنی لبرل سوچ کی وجہ سے واقعی پاگل ہو چکی تھی ۔۔۔
بہادر شاہ نے دو قبریں کھود کر بچوں کو سب کی مدد سے دفنا دیا تھا اس کی ماں چیخ رہی تھی ۔۔۔وہ نیچے سے کیچڑ اٹھا اٹھا کر خود پر مل رہی تھی ۔۔۔
“مت دفناو ۔۔۔مت دفناؤ ۔۔۔میری ۔۔۔۔میری فیملی مکمل ہے ۔۔۔۔مت دفناؤ ۔۔ “
وہ فلک شگاف آوازیں ۔۔۔۔بارش تیز ہو چکی تھی سب روتے دھوتے وہاں سے جا چکے تھے مگر وہ ماں باپ اب بھی ان دونوں قبروں پر بیٹھے رو رہے تھے بہادر شاہ نے دور کھڑی منی کی طرف دیکھا تھا جس نے قبرستان کے گیٹ پر کھڑی گاڑی کی طرف اشارہ کیا تھا بہادر شاہ نے ادھر دیکھا تھا احد چھتری پکڑے منی کا ہاتھ تھامے قبرستان كی طرف آرہا تھا ۔۔۔
بہادر شاہ نے پھر سے ان پڑھے لکھے والدین کو دیکھا تھا جو دنیاوی تعلیم کے غرور میں اپنی دینی تعلیم کو فراموش کر چکے تھے ۔۔۔
تیز بارش ۔۔۔۔لبرل سوچ ۔۔۔۔۔خام خیالی ۔۔۔۔اور معصوم بچے ۔۔۔
