Barish by Jameela Nawab Readelle 50375 Barish Episode 18 (Last Episode)
Rate this Novel
Barish Episode 18 (Last Episode)
Barish by Jameela Nawab
مدھو اور مناہل بیٹھی باتیں کررہی تھیں رات کے آٹھ بج چکے تھے کھانا وہ کھا چکی تھیں دروازے پر دستک ہوئی تھی مناہل تیز بارش میں سر پر ہاتھ رکھے جلدی سے دروازہ کھولنے آئی تھی
سعد چھتری تھامے جلدی سے اندر آیا تھا اب وہ کمرے میں بیٹھ گئے تھے
“مدھو آپی ۔۔۔میں اپ کا بہت بہت شکر گزار ہوں آج میری مناہل ،میری زندگی صرف آپ كی وجہ سے مجھے واپس ملی ہے ۔۔۔”
سعد نے سادگی سے کہا تھا
“اپنے ہاتھ سے تمہیں قبر میں اتار کر بھی میرا دل یہی کہتا رہا کہ مناہل زندہ ہے میرے دل کا دھڑکنا اسی بات کا ثبوت ہے ۔۔۔”
سعد اب رو پڑا تھا ۔۔
مناہل اس کے پاس آ کر بیٹھ گئی تھی ۔۔
“آخر آپ کو ایسا کیوں لگتا تھا سعد ؟؟؟میں زندہ ہوتی بھی تو مٹی میں دفن ہونے کے بعد ختم ہو ہی جاتی پھر آپ مجھے کیوں ڈھونڈتے رہے ؟؟؟کبھی میری قبر پر آپ مجھے دیکھنے آۓ تھے ؟؟؟”
“یہ میں خود نہیں جانتا مناہل ۔۔۔۔مگر میں جس طرح تمہیں چھوڑ کر گیا تھا اور جس حالت میں تمہیں آ کر مرا ہوا پایا تھا یہ بات مجھے نارمل نہیں لگ رہی تھی ۔۔اور پھر ایک دن میں۔۔۔۔۔۔۔”
سعد واپس اسی رات میں چلا گیا تھا ۔۔
(یہ مناہل کو دفناکر آنے کا تیسرا دن تھا)
بارش زوروں پر تھی بادل گرج گرج کر بارش کے شور میں اضافہ کر رہے تھے سعد کسی ایسے جواری کی طرح جو آج اپنی زندگی ہار آیا ہو اس طرح لڑکھڑاتا ہوا سنسان سڑک پراس خراب موسم میں قبرستان کی طرف جا رہا تھا
وہ قبرستان کا گیٹ پر کھول کر اندر جانے کو تھا جب ایک سفيد چولے میں ملبوس نورانی چہرہ لیے ایک شخص اسے اپنے ساتھ کھڑا نظر آیا تھا بجلی کی تیز چمک میں سعد اس کے چہرے کے سکون کو باآسانی دیکھ چکا تھا
“اندر مت جاؤ بیٹا ۔۔۔سب آرام کر رہے ہیں”
اس سفيد پوش شخص نے داخلی دروازے پر ہاتھ رکھ کر روکا تھا
“میری ۔۔۔۔میری ۔۔۔میری زندگی ادھر دفن ہے میں ۔۔۔اس ۔۔۔سے ۔۔”
“تم اپنی بات پر غور کرو بیٹا تمہاری بات کا جواب اسی میں ہے”
سعد اس بات پر ہوش میں آیا تھا رات کا منظر،تیز بارش ۔۔۔قبرستان ۔۔ اور یہ آدمی ۔۔ خوف کی ایک لہر اس کی ریڑھ کی ہڈی میں سرائیت کرتی محسوس ہوئی تھی ۔۔۔
“کیا مطلب ہے ؟؟؟؟کون ہیں آپ ؟؟؟”
سعد کی آواز میں گھبراہٹ نمایاں تھی
“یہ قبرستان ہے یہاں مردہ لوگ دفن ہیں،زندگی تو حرارت کا نام ہے وہ ادھر کیسے ہو سکتی ہے ؟؟؟”
“آپ جس كی تلاش میں ادھر آئے ہیں وہ آپ کی بیوی مناہل ہیں میں جانتا ہوں ۔۔۔وہ فلحال ادھر ضرور ہیں مگر ابھی آپ اگر ان کو یہاں سے نکال کر لے جاتے ہیں تو وہ سچ میں مر سکتی ہیں ۔۔۔چالیس دن کا وقت پورا ہونے دیں ۔۔۔ان پر بہت شدید قسم کا جادو کروایا گیا ہے جس سے وہ بچ ضرور گئی ہیں مگر ہم خود سے ان کو نہیں نکال سکتے ۔۔ جب تک وہ خود نكلنا نا چاہیں ۔۔۔ان کی روح فلحال قيد ہے جو اسی جگہ وہ خاص وقت گزرنے کے بعد ان میں واپس مقید ہوگی اور یہ باہر آجائے گی ۔۔۔مگر آپ ان کی تلاش میں دوبارہ قبرستان مت آئیے گا ۔۔۔چالیس دن کے بعد اپ ان کو دنیا میں ضرور ڈھونڈنا شروع کر دیں ۔۔۔قسمت میں ہوا تو وہ آپ کو مل جائے گی ۔۔ “
سعد کا دماغ سائیں سائیں کرنے لگا تھا
“کالا جادو ؟؟؟مگر اس کا تو کوئی دوست کوئی دشمن تھا ہی نہیں وہ ایک بے ضرر سی لڑکی تھی پھر اس کو کوئی کیوں مارنا چاہتا تھا؟؟؟”
سعد سر پکڑ کر نیچے بیٹھ گیا تھا
“اس بات کا جواب اپ کو میں نہیں دوں گا،وقت آپ کو دےگا ۔۔۔”
ایک بار پھر بجلی چمکی تھی جس میں وہ شخص غائب ہوا تھا سعد اس خوفناک رات کا مطلب سمجھ کر سر کے بل گھر كی طرف بھاگ گیا تھا ۔۔۔
(حال)
بس تب سے میں روز تمہیں سوچتا سوچتا ہوا سو جایا کرتا اور تم روز میرے خواب میں آتی ۔۔۔آخر چالیس دن پورے ہو جانے کے بعد بھی تم مجھے نہیں ملی تو میں اس آدمی کی باتوں کو سراب سمجھ کر تمہیں مرا ہوا مان کر خود کشی کرنے بیٹھ گیا ۔۔ مگر موقعے پر ہی میرے ایک دوست کو میری حالت سے اندازہ ہوا اور وہ مجھے سركاری ہسپتال چھوڑ کر بھاگ گیا کیوں کہ عمومأ ایسی صورت حال میں پولیس سب سے پہلے لانے والے پر ہی شک کرتی ہے ۔۔
“بیشک اللّه ہماری امید ٹوٹنے نہیں دیتا،جب میں برداشت کی آخری حد پر تھا اللّه نے میری آزمائش ختم کردی اور تم مجھے مل گئی ۔۔ “
سعد نے مناہل کی طرف محبت سے تشکر بھری نظروں سے دیکھا تھا
“وہ بھلا آدمی کون ہوگا ؟؟”
مناہل نے مدھو کی طرف دیکھ کر کہا تھا جو رضائی میں آنکھیں بند کر کے لیٹ گئی تھی ۔۔۔
“کاش وہ جو کوئی بھی تھا مجھے بھی مل جائے ۔۔۔مجھے میرے ماں باپ کا بتا دے”
ایک آنسو بہہ کر مدھو کے تکیے میں جذب ہوا تھا
سعد اور مناہل نے دکھ سے ایک دوسرے کو دیکھا تھا
“سعد آپ مجھے اور مدھو آپی کو اپنے ساتھ کب لے کر جائیں گے ؟؟”
“میں کہی نہیں جاؤں گی منو اپنے گرو کا گھر چھوڑ کر”
مدهو نے بهرائی آواز میں کہا تھا
سعد نے مناہل کو چپ رہنے کا اشارہ کیا تھا ۔۔
“منو کافی دن ہو گئے میں گرو جی کے پاس نہیں گئی صبح قبرستان جاؤں گی ۔۔ “
مدھو اٹھ کر بیٹھ گئی تھی
“نہیں ہرگز نہیں آپ اکیلی نہیں جا سکتیں ابھی آپ کے زخم تازہ ہیں میں آپ کے ساتھ چلوں گی”
مناہل پاس آ کر محبت سے بولی تھی
“میں خود آپ دونوں کو لے کر جاؤں گا مگر پہلے آپ دونوں میرے ساتھ میرے گھر چلے گی”
“میں اپنی رانی کے گھر ضرور جاؤں گی مگر کل میں پہلے اپنےگرو جی کے پاس جانا چاہتی ہوں ۔۔۔۔وہ شخص میرا باپ تھا یا نہیں گرو جی میری ماں اور باپ دونوں ضرور تھے ۔۔۔۔اتنے دن ہو گے مجھے گئے ہوۓ ۔۔۔والدین کی قبر پر اگر ممکن ہو تو ایک چکر ضرور لگا لینا چاہیے ۔۔۔۔۔وہاں جا کر قرآن پاک پڑھ کر ان کی قبر میں ٹھنڈک بھرنی چاہیے ۔۔۔۔یہ کام بیٹے کریں بیٹیاں گھر بیٹھ کر قرآن پاک ایصال ثواب کریں ۔۔۔”
“چلیں سعد یہ طے ہو گیا میں آپ کے سونے کا بندوبست کرتی ہوں”
رات سعد ادھر ہی رکا تھا صبح ہوئی تو بارش تھم چکی تھی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی ۔۔۔
سعد ناشتے کا سامان رات ہی لے آیا تھا مدھو کی آنکھ گرم گرم بل والے پراٹھوں کی خوشبو سے کھلی تھی آملیٹ کی اشتعال انگیزخوشبو نے مدھو کے پیٹ میں بھوک سے مروڑ ڈال دیے تھے
وہ اٹھی تو مناہل مزے دار چاۓ بنا رہی تھی ۔۔۔
مدھو جلدی سے منہ ہاتھ دھونے گئی تھی تب تک سعد بھی اٹھ چکا تھا مدھو کے بعد وہ فریش ہو کر چارپائی پر بیٹھ گیا تھا
مناہل نے زمین پر دسترخوان لگایا تھا مدھو اور سعد بیٹھ گئے تھے اب مناہل ناشتہ لگا رہی تھی
“مناہل اچار بھی لایا تھا وہ بھی رکھو لا کر”
سعد نے ناشتے کے لوازمات کا جائزہ لے کر کہا تھا
“لاتی ہوں”
مدھو بہت خوش تھی وہ سعد اور مناہل کو اپنے ساتھ بیٹھا دیکھتی اور خوشی سے اللّه کا شکر ادا کرتی ۔۔۔یہ اس پر اللّه کا خاص کرم تھا ورنہ خواجہ سرا سے لوگ نفرت کرتے ہیں ان کو اچھوت سمجھا جاتا ہے ان کے ساتھ بیٹھ کر کھانا اپنی توہين سمجھا جاتا ہے ۔۔
بہت اچھے ماحول میں ناشتہ کیا گیا سعد کو آج کافی مہینوں بعد گھر کا ناشتہ نصیب ہوا تھا
مناہل برتن دھو کر بڑی سی چادر اوڑھ چکی تھی اب وہ سب قبرستان کی طرف نکل گئے تھے ہلکی ہلکی بوندا باندی ہو رہی تھی رکشہ آسانی سے مل گیا تھا
جب تک وہ قبرستان پہنچے تھے بارش کافی تیز ہو چکی تھی ایک کار پہلے سے بھی وہاں موجود تھی جس میں سے ایک جوڑا اتر کر قبرستان کے اندر جا رہا تھا
“مدھو آپی ابھی بارش بہت تیز ہے وہ لوگ جس جھونپڑی میں گئے ہیں ہم بھی ادھر بارش رکنے کا انتظار کر لیتے ہیں”
سعد نے مدھو سے گویا اجازت لی تھی
مدھو نے کوئی جواب دیئے بغیر اس جھونپڑی كی طرف جانے کا ہاتھ سے اشارہ کیا تھا بارش کافی تیز تھی بجلی بھی چمک رہی تھی
اب وہ سب جھونپڑی کے باہر کھڑے تھے
“انکل جی کیا ہم اندر آ سکتے ہیں؟؟”
سعد نے بہادر شاہ کو کہا تھا جو منی اور احد کو اندر بیٹھارہا تھا
منی(مسز احد) اور احد کو تو بہادر شاہ جان چکا تھا جبکہ منی(مسز احد) ابھی ماسٹر جی کے صدمے میں اتنی غرق تھی کہ اس نے یہ سوچا ہی نہیں کہ درمیانے عمر کا آدمی اس کے باپ اور چھ سال کی بچی اس کا اپنا همزاد ہیں کیوں کہ ان کی شکلیں اب وہ نہیں تھیں جو حقیقت میں ان دونوں کی اس عمر میں تھیں وہ حرام کھانے اور مسلسل گندگی میں رہنے کی وجہ سے بگڑ چکی تھیں
وہ سر جھکا کر احد کے پہلو میں بیٹھ گئی تھی جس طرح احد اس کی فکر کر رہا تھا بہادر شاہ کے دل میں اطمینان بھرا تھا منی (همزاد)بھی مسکرا کر خود کو اور احد کو دیکھ رہی تھی
“جی بیٹا آجایئں”
بہادر شاہ نے سعد کو اجازت دی تھی مدھو اور مناہل سعد کے پیچھے اندر آئی تھیں اب منی(همزاد) اور بہادر شاہ حیرانگی سے مدھو کی طرف دیکھ رہے تھے
بہادر شاہ کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو آۓ تھے
مدھو ،سعد اور مناہل ایک ساتھ اوراحد اور منی(مسز احد) کے ساتھ بیٹھ گئے تھے
“گورکن چاچا اس نام کی قبر کدھر ہے؟؟”
مدھو نے نرس کا دیا ہوا وہ بہادر شاہ کے نام والا کاغذ بہادر شاہ کو دو ڈبل شاپروں سے نکال کر تهما دیا تھا
جیسے بہادر شاہ نے دیکھ کر بمشکل اپنا رونا روکا تھا منی بھی گم سم سی مدھو کو دیکھ رہی تھی
“یہ تمہارا کیا لگتا ہے بیٹی؟؟”
“میں نہیں جانتی مگر میرا دل ان کو اپنا باپ مان چکا ہے”
مدھو کسی ٹرانس میں بولی تھی
مدھو کے اس جواب پر بہادر شاہ نے منی(همزاد)کو دیکھا تھا جس کی آنکھوں میں چمک تھی
“اگر میں کہوں اپنے دل کی بات مان لو بیٹا”
بہادر شاہ نے بهرائی ہوئی آواز میں کہا تھا
مسز احد منی نے نظریں اٹھا کر بہادر شاہ اور منی کی طرف دیکھا تھا وہ جیسے ہوش میں آئی تھی
سعد اور مناہل نے بھی حیرانگی سے ایک دوسرے کو دیکھا تھا
“آپ ۔۔۔۔۔آپ ۔۔یہ کیسے؟”
مدھو کی آواز بھیگی تھی وہ اتنا ہی بول پائی تھی
میرے ساتھ آؤ ۔۔۔بہادر شاہ نے کہا
سب جھونپڑی سے نکل کر کھلے آسمان تلے تیز بارش میں آچکے تھے ۔۔
بہادر شاہ نے ایک دائرے میں سب کو ایک دوسرے کے ہاتھ پکڑا دیے تھے
اب وہ آنکھیں بند کیے تیز بارش میں دائرہ بنا کر کھڑے تھے بجلی زور سے کڑکی تھی ۔۔۔سب نے بہادر شاہ كی آواز پر آنکھیں کھول دی تھیں اب اس دائرے میں شروع سے آخر تک کی سب کی کہانی کسی فلم کی طرح سب دیکھ رہے تھے جب تک وہ سب ختم ہوا دن سے رات ہو چکی تھی ۔۔۔اب سب آنکھیں کھول چکے تھے
(یہاں یہ بات یاد رہے همزاد کی سب دیکھ لینے كی خوبی کو استعمال میں لاتے ہوۓ ان سب کا ہاتھ پکڑ کر ہی وہ سب دیکھایا جا سکتا تھا جو مسز احد منی،احد،مناہل،سعد اور مدھو کو دیکھ کر بہادر شاہ اور منی جان پاۓ تھے
منظر بدل گیا تھا
اب بہادر شاہ اپنی اصلی شکل میں سب کو نظر آ رہا تھا
مدھو ماسٹر جی کے سینے سے لگی زور قطار رو رہی تھی مسز احد منی اور مناہل بھی ماسٹر جی کا ہاتھ پکڑے غم زدہ کھڑی تھیں
“بیٹا میری سب سے خاص بیٹی تم ہو مدھو جانتی ہو کیوں ؟؟”
ماسٹر جی نے مدھو کا سر اپنے دونوں ہاتھوں میں لے کر محبت سے کہا تھا
“کیوں کہ تم میری بیٹا اور بیٹی دونوں ہو ۔۔۔۔ میں تمہارے ساتھ کبھی وہ نا کرتا جو لوگ ادھوری اولاد کے ساتھ کیا کرتے ہیں بیٹا”
“میں تمہیں پڑھاتا لکھاتا ۔ ۔ ۔ ایک مکمل زندگی گزارنے کے قابل بناتا ۔۔۔”
میں تمہیں کبھی گانا بجا کر،ناچ گانا کر کے یا بھیگ مانگ کر زندگی نا گزارنے دیتا،،، مدھو بیٹا ۔۔
اسلام کہتا ہے ۔۔۔
“سخت احتیاج ومجبوری کے بغیر بھیک مانگنا جائز نہیں، اور گانے بجانے کا مشغلہ بھی حرام ہے، خواہ یہ عمل کوئی کرے۔ ہجڑے کے اندر اگر مرد کی علامات و اوصاف غالب ہیں تو اس کو مرد شمار کیا جائے گا اور اگر نسوانی علامات کا غلبہ ہے تو عورت کے احکام جاری ہو ہوں گے”
(فإن بال من مبال الرجال فہو رجل وإن بال من مبال النساء فہو امرأة (تاتار خانیة)
“مخنث کو خنثی بھی کہا جاتا ہے،یہ بھی مکلف انسان ہیں،خنثی وہ فرد ہے جس میں خلقۃ مردانہ وزنانہ دونوں علامات پائی جائیں، اس کی دو قسمیں ہیں: مشکل اور غیر مشکل، غیر مشکل وہ خنثی ہے جس کے بارے میں طے ہوجائے کہ یہ مرد ہے یا کہ عورت، لہذا جب اشتباہ ختم ہوگیا تو اس کے ساتھ اسی جنس مرد یا عورت والا معاملہ کیا جائے گا اور اگر مشکل ہے تو اس حکم یہ ہے کہ وہ کسی کے ساتھ نکاح نہیں کرسکتا۔۔۔”
(فتاوی دار العلوم دیوبند :۷،ص۱۲۳)البتہ خواتین کے لیے ان سے پردہ کا حکم ہوگا۔
اس طرح کے بچوں میں علامات کو دیکھا جاتا ہے اگر عورتوں کی علامات زیادہ ہوں تو عورت کے سارے احکام ان پر لاگو ہوتے ہیں اور اگر مرد کی علامات زیادہ ہوں تو مردوں والے احکامات جاری ہوتے ہیں اور ان کے ماں باپ پر فرض ہے کہ جس طرح اپنے نارمل بچوں کی پرورش کرتے ہیں ان کی بھی کریں کیونکہ ان کی اس معذوری میں ان کا کوئی قصور نہیں یہ اللہ کی طرف سے ہے اور اس کی آزمائش ہے ماں باپ پر ان کے بھی وہی حقوق ہیں جو دوسرے بچوں کے ہیں ان کو اس طرح کسی دوسرے کے حوالے کر کے اپنی جان چھڑانے کی شریعت قطعا اجازت نہیں دیتی۔۔۔۔
ماسٹر جی اب مدھو کے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھ کر خاموش ہوۓ تھے ۔۔
یہ محض شریعت نہیں تھی جو ماسٹر جی نے مدھو کو بتائی تھی بلکہ یہ ایک خواجہ سرا کا مان تھا جو اسے لوٹا دیا گیا تھا ۔۔
اسے یہ بتا دیا گیا تھا کہ وہ بھی اللّه کی نظر میں اتنی ہی اہم ہے جتنی کوئی بھی مکمل انسان ہے ۔۔۔۔والدین کی محبت پر اس کا بھی اتنا ہی حق ہے جتنا اس کے مکمل بہن بھائیوں کا ۔۔۔وہ مکمل تھی ۔۔۔۔
خدا کی نظر میں ۔۔۔۔۔اپنے باپ کی نظر میں ۔۔۔۔
مدھو کی روح مکمل سرشار ہوئی تھی وہ باپ کی شفقت کے لئے ساری عمر ترسی تھی آج اس کے تن من میں اللّه نے آسودگی ڈال دی تھی ۔۔۔
مدھو اور مسز احد منی سگی جبکہ مناہل ان کی سوتیلی بہن تھی کیوں کہ اس کا باپ پرویز تھا منی نے بھی مدھو اور مناہل کو گلے لگ کر پیار کیا تھا۔۔۔
مدھو اور مناہل کے خونی رشتے نے منی کا غم بانٹ دیا تھا وہ ان کو گلے لگ کر پر سکون ہوئی تھی ۔۔
بارش تھم چکی تھی
اب وہ سب بہادر شاہ کی قبر پر کھڑے تھے وہ تینوں اب خاموشی سے سورہ فاتحہ پڑھ رہی تھیں
۔۔ اس کے بعد سب گرو کی قبر پر گئے تھے
“اب گھر چلتے ہیں بارش پھر سے آنے کو تھی”
وہ سب بہادر شاہ کے ساتھ مل کر اب جانے کو تھے ۔۔۔
“جاؤ میری بیٹیوں جاؤ اور واپس ادھر کا رخ مت کرنا ۔۔ “
“کیوں اباجی؟؟”
سوال مدھو نے کيا تھا
عورتوں کے قبرستان میں جانے سے اگر غم تازہ ہو اور وہ بلند آواز سے روئیں تو ان کے لیے قبرستان جانا گناہ ہے؛ کیوں کہ حدیث میں ایسی عورتوں پر لعنت آئی ہے جو قبرستان جائیں تاکہ غم تازہ ہو ۔نیز چوں کہ ان میں صبر کم ہوتا ہے، اس لیے گھر ہی سے ایصال ثواب کرنا چاہیے۔
اگر کوئی بوڑھی عورت عبرت اور تذکرہ آخرت کے لیے قبرستان جائے تو اس شرط کے ساتھ اجازت ہے کہ وہ جزع فزع نہ کرے، اور جوان عورت کے لیے تذکرہ موت و آخرت کی نیت سے جانے میں بھی کراہت ہے۔
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (2/ 210):
“(قوله: وقيل: تحرم على النساء إلخ) قال الرملي: أما النساء إذا أردن زيارة القبور إن كان ذلك لتجديد الحزن والبكاء والندب على ما جرت به عادتهن فلا تجوز لهن الزيارة، وعليه حمل الحديث: «لعن الله زائرات القبور»، وإن كان للاعتبار والترحم والتبرك بزيارة قبور الصالحين فلا بأس إذا كن عجائز، ويكره إذا كن شواب، كحضور الجماعة في المساجد”۔ فقط واللہ اعلم
ہم نہیں آۓ گے ۔۔۔۔گھر بیٹھ کر آپ کے لئے پڑھائی کریں گے ابا جی”
تینوں نے یک مشت کہا تھا سب آگے مناہل اور سعد پیچھے تھے نیچے پڑے پتھر سے مناہل کو ٹھوکر لگی تھی وہ گر کر ایک بے نام قبر پر جا پڑی تھی سب اس کے لئے رک گئے تھے سعد نے مناہل کو اٹھنے میں مدد دی تھی
“رکو سعد پتہ نہیں کس بیچارے کی قبر ہے جو تختہ تک نہیں لگایا کسی نےتو فاتحہ پڑھنے کون آتا ہوگا ۔۔چلو کچھ پڑھ لیتے ہیں”
وہ سب اس کے پاس آ کر اب فاتحہ خوانی کر رہے تھے
“یہ احمد (پرویز)کی قبر ہے مناہل ۔۔۔تمہارے باپ کی قبر
مناہل
بہادر شاہ کی آواز نے مناہل کو خوش کردیا تھا وہ خوشی سے نم آنکھوں لیے اس قبر پر بیٹھ کر اب مغفرت،قبر میں آسودگی اور بلند درجات کی دعا کرنے لگی تھی اس کی آنکھیں بھیگی ضرور تھیں مگر یہ آنسو خوشی اور رب کے شکر کے تھے جس نے آج اسے یہ احساس دیا تھا کہ وہ اپنے باپ کی من چاہی اولاد تھی ۔۔۔۔جیسے وہ اپنی مغفرت کا سامان سمجھتا تھا ۔۔۔۔ناجائز کے نام پر وہ گالی نہیں تھی ۔۔۔کم از کم اپنے باپ اور اپنے رب کے لئے ۔۔۔۔
آج یہ شاید پہلی بار ہوا تھا جب ہر کوئی قبرستان سے اپنی اپنی روح کا بوجھ اتار کر پرسکون ہلکا پھلکا ہو کر جارہے تھا ۔۔۔آج بھی وہاں دفنایا گیا تھا
انسان کی بنائی گئی غلط سوچوں ۔۔۔۔غلط روايات ۔۔۔۔وہموں ۔۔۔بدگمانیوں ۔۔۔۔اور نفرت سی بنائی گئی غیر انسانی نظریات کو ۔۔۔۔
بہادر شاہ اور منی ان کو جاتا دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔وہ ہاتھ ہلاتے ہوۓ جا چکے تھے ۔۔۔
اب کچھ باقی تھا تو ۔۔۔۔
تیز بارش ۔۔۔۔۔منی ۔۔۔۔اور بہادر شاہ ۔۔۔۔
۔*************
مدھو اور مناہل سعد کے ساتھ اپنے گھر آگئے تھے جہاں گهپ اندھیرا ان کا منتظر تھا سعد نے لائٹ لگا کر جلدی سے سب کے سونے کا بندوبست کیا تھا رات چونکہ پہلے ہی بہت ہو چکی تھی سب دبک کر رضائی میں سو چکے تھے
مناہل اور سعد فجر پڑھنے اٹھے تھے مناہل نے سعد کی امامت میں نماز پڑھی تھی مدھو بھی آنکھیں ملتی وضو کر کے ان کے ساتھ ملی تھی ۔۔۔
سکون ہی سکون تھا ۔۔۔آج ایسی کوئی بات نہیں تھی جس پر رویا جاتا آج شکر ادا کیا گیا تھا ۔۔ اس رب کا اس ذات کا جو کبھی ہمارے ساتھ نا انصافی نہیں کرتا ۔۔
سعد لیٹ چکا تھا مناہل اور مدھو کچن میں آئی تھیں جس کا برا حال تھا مناہل اور مدھو نے مل کر اس کی ایک ایک چیز دھو کر چمکا دی تھی سعد کو ناشتہ باہر سے لینے بھیج دیا تھا
“مناہل کی نظریں بار بار سفورا کو ڈھونڈ رہی تھیں مگر اس کا دل ذکر پر آماده نہیں ہوا تھا ۔۔
سعد کام سے باہر چلا گیا تھا اب وہ دونوں بہنیں ایک کمرے سے شروع ہوئی اور آہستہ آہستہ پورا گھر صاف کر ڈالا ۔۔۔اب مناہل فرنیچر پر سرف والی ٹاکی لگا رہی تھی جبکہ مدھو پورے صحن میں جھاڑو لگا کر کوڑا پھینک رہی تھی موسم آج قدرے بہتر تھا مگر گھنے بادل آسمان پر ابھی بھی موجود تھے ۔۔
“چلیں مدھو آپی اب اوپر والا کمرہ اور چھت صاف کر لیتے ہیں پھر تب تک سعد سے کھانے کا پوچھوں گی کہ کیا کرنا ہے کیوں کہ کچن کا سارا سامان لگ بھگ لانے والا ہے ۔۔۔”(قوله: وقيل: تحرم على النساء إلخ) قال الرملي: أما النساء إذا أردن زيارة القبور إن كان ذلك لتجديد الحزن والبكاء والندب على ما جرت به عادتهن فلا تجوز لهن الزيارة، وعليه حمل الحديث: «لعن الله زائرات القبور»، وإن كان للاعتبار والترحم والتبرك بزيارة قبور الصالحين فلا بأس إذا كن عجائز، ويكره إذا كن شواب، كحضور الجماعة في المساجد”۔ فقط واللہ اعلم
ہم نہیں آۓ گے ۔۔۔۔گھر بیٹھ کر آپ کے لئے پڑھائی کریں گے ابا جی”
تینوں نے یک مشت کہا تھا سب آگے مناہل اور سعد پیچھے تھے نیچے پڑے پتھر سے مناہل کو ٹھوکر لگی تھی وہ گر کر ایک بے نام قبر پر جا پڑی تھی سب اس کے لئے رک گئے تھے سعد نے مناہل کو اٹھنے میں مدد دی تھی
“رکو سعد پتہ نہیں کس بیچارے کی قبر ہے جو تختہ تک نہیں لگایا کسی نےتو فاتحہ پڑھنے کون آتا ہوگا ۔۔چلو کچھ پڑھ لیتے ہیں”
وہ سب اس کے پاس آ کر اب فاتحہ خوانی کر رہے تھے
“یہ احمد (پرویز)کی قبر ہے مناہل ۔۔۔تمہارے باپ کی قبر
مناہل
بہادر شاہ کی آواز نے مناہل کو خوش کردیا تھا وہ خوشی سے نم آنکھوں لیے اس قبر پر بیٹھ کر اب مغفرت،قبر میں آسودگی اور بلند درجات کی دعا کرنے لگی تھی اس کی آنکھیں بھیگی ضرور تھیں مگر یہ آنسو خوشی اور رب کے شکر کے تھے جس نے آج اسے یہ احساس دیا تھا کہ وہ اپنے باپ کی من چاہی اولاد تھی ۔۔۔۔جیسے وہ اپنی مغفرت کا سامان سمجھتا تھا ۔۔۔۔ناجائز کے نام پر وہ گالی نہیں تھی ۔۔۔کم از کم اپنے باپ اور اپنے رب کے لئے ۔۔۔۔
آج یہ شاید پہلی بار ہوا تھا جب ہر کوئی قبرستان سے اپنی اپنی روح کا بوجھ اتار کر پرسکون ہلکا پھلکا ہو کر جارہے تھا ۔۔۔آج بھی وہاں دفنایا گیا تھا
انسان کی بنائی گئی غلط سوچوں ۔۔۔۔غلط روايات ۔۔۔۔وہموں ۔۔۔بدگمانیوں ۔۔۔۔اور نفرت سی بنائی گئی غیر انسانی نظریات کو ۔۔۔۔
بہادر شاہ اور منی ان کو جاتا دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔وہ ہاتھ ہلاتے ہوۓ جا چکے تھے ۔۔۔
اب کچھ باقی تھا تو ۔۔۔۔
تیز بارش ۔۔۔۔۔منی ۔۔۔۔اور بہادر شاہ ۔۔۔۔
۔*************
مدھو اور مناہل سعد کے ساتھ اپنے گھر آگئے تھے جہاں گهپ اندھیرا ان کا منتظر تھا سعد نے لائٹ لگا کر جلدی سے سب کے سونے کا بندوبست کیا تھا رات چونکہ پہلے ہی بہت ہو چکی تھی سب دبک کر رضائی میں سو چکے تھے
مناہل اور سعد فجر پڑھنے اٹھے تھے مناہل نے سعد کی امامت میں نماز پڑھی تھی مدھو بھی آنکھیں ملتی وضو کر کے ان کے ساتھ ملی تھی ۔۔۔
سکون ہی سکون تھا ۔۔۔آج ایسی کوئی بات نہیں تھی جس پر رویا جاتا آج شکر ادا کیا گیا تھا ۔۔ اس رب کا اس ذات کا جو کبھی ہمارے ساتھ نا انصافی نہیں کرتا ۔۔
سعد لیٹ چکا تھا مناہل اور مدھو کچن میں آئی تھیں جس کا برا حال تھا مناہل اور مدھو نے مل کر اس کی ایک ایک چیز دھو کر چمکا دی تھی سعد کو ناشتہ باہر سے لینے بھیج دیا تھا
“مناہل کی نظریں بار بار سفورا کو ڈھونڈ رہی تھیں مگر اس کا دل ذکر پر آماده نہیں ہوا تھا ۔۔
سعد کام سے باہر چلا گیا تھا اب وہ دونوں بہنیں ایک کمرے سے شروع ہوئی اور آہستہ آہستہ پورا گھر صاف کر ڈالا ۔۔۔اب مناہل فرنیچر پر سرف والی ٹاکی لگا رہی تھی جبکہ مدھو پورے صحن میں جھاڑو لگا کر کوڑا پھینک رہی تھی موسم آج قدرے بہتر تھا مگر گھنے بادل آسمان پر ابھی بھی موجود تھے ۔۔
“چلیں مدھو آپی اب اوپر والا کمرہ اور چھت صاف کر لیتے ہیں پھر تب تک سعد سے کھانے کا پوچھوں گی کہ کیا کرنا ہے کیوں کہ کچن کا سارا سامان لگ بھگ لانے
والا ہے ۔۔۔
مدھو جو اب سے خود کو لڑکی مان چکی تھی اچھے سے دوپٹہ اپنے گرد گھوما کر ادا سے آرام آرام سے چلتے ہوۓ اس کے ساتھ اوپر آئی تھی ابھی کچھ دن اور ۔۔۔پھر وہ اپنی عادت پر مکمل ضبط پانے والی تھی ۔۔۔
“ہمت مرداں،مدد خدا”
ایک جھٹکے سے وہ پورا دروازہ کھلا تھا جس کے ساتھ ہی تعفن کے بھبھوکے ان کی ناک میں گھسے تھے دونوں نے دوپٹہ منہ پر اچھی طرح باندھ لیا تھا
اب ان دونوں نے مل کے وہ تینوں تابوت کھولے تھے ۔۔۔
پہلا تابوت جس میں خون آلود کپڑے کی گڑیا تھیں اس کو کھینچ کر نکال کر باہر چھت پر رکھا تھا باقی کے دونوں تابوت بظاہر خالی تھے وہ ان کو کھول کر باہر لے آئی تھیں ۔۔۔
نيک ہاتھوں سے منی اور بہادر شاہ کے همزاد والے تابوت کھلنے کی شرط پوری ہوئی تھی وہ آزاد ہو چکے تھے ۔۔۔
اب وہ قبرستان کے علاوہ بھی ہر جگہ بنا کچھ کھاۓ رہ سکتے تھے ۔۔۔اور چاھتے تو منی کا همزاد اپنے وجود مسز احد کے ساتھ اور بہادر شاہ قبر میں ماسٹر جی کے ساتھ ہمیشہ ہمیشہ کے کے مدفن ہو سکتا تھا ۔۔۔مگر اب یہ ان کی مرضی تھی ۔۔۔۔وہ اب اپنی چاہت میں بلکل آزاد تھے ۔۔۔
اب مناہل ان تینوں تابوتوں اور کمرے میں موجود اور بہت سی عجیب و غریب چیزوں کو ان تابوتوں کے ساتھ رکھ کر ان پر مٹی کا تيل ڈال رہی تھی ۔۔
مناہل نے ماچس مدھو کو پکڑائی تھی ۔۔۔
اب آگ کے شعلے آسمان تک بلند ہوچکے تھے وہ کمرہ خالی ہو چکا تھا
مدھو اور مناہل نے مل کر اسے دھو لیا تھا اس میں موجود شیلف پر قرآن پاک اور تسبیح جبکہ پورے کمرے میں چٹائی بچھا کر اسے فقط عبادت کے لئے مختص کردیا گیا تھا
کمرے کی کھڑکی کھول کر پردہ بھی دھونے کے لئے اتار دیا گیا تھا ۔۔۔
دروازہ کھول کر اسے تازہ ہوا کے لئے مستقل کھلا چھوڑ دیا گیا تھا ۔۔۔
اب بارش شروع ہو چکی تھی مدھو نے لگی بارش میں چھت دھو لی تھی اب وہ دونوں نیچے آ چکی تھیں مدھو کی نظر ایک دم برگد سے لٹکی سفورا پر گئی تھی جو ٹانگیں ہلا رہی تھی اس کی جان ابھی باقی تھی جب شیطانی موکلوں نے اسے رسی سے آزاد کر دیا تھا وہ
“تڑاخ”
کی آواز سے تیز بارش میں صحن میں گری تھی نیچے گرتے ہی اس کے ہاتھ میں شیطان موکلوں نے عام شیو کے لئے گهروں میں استعمال ہونے والے بلیڈ دیے تھے جنہیں وہ کبھی منہ میں ڈال کر چباتی کبھی ایک دم سے خود کو جگہ جگہ کٹ لگاتی ۔۔۔اس کا پورا جسم کالے خون سے بھر چکا تھا ۔۔۔
اس کا منہ اندر تک کٹ لگنے کی وجہ سے چھوٹے چھوٹے گوشت سے بھر گیا تھا
مدھو اور مناہل اسے حیران پریشان کھڑی دیکھ رہی تھیں ۔۔۔
کچھ دیر یہ سب چلتا رہا اب شیطان نے پھر اسے منظر سے غائب کیا تھا ۔۔۔۔
ایسا کافی عرصہ تک چلتا رہا ۔۔۔سفورا کی سزا میں اختتام لفظ سرے سے لکھا ہی نہیں گیا تھا ۔۔۔وہ ہمیشہ كی زندگی چاہتی تھی ۔۔۔۔مناہل کو مار کر ایک تیر سے دو فائدے لینا چاہتی تھی ۔۔۔۔۔اس کی یہ خواہش پوری ہوئی تھی ۔۔۔۔
اب وہ امر ہو چکی تھی ۔۔۔اب اسے یہی درد کا عذاب سہنا تھا ۔۔۔۔۔مناہل نے پورے گھر میں سورہ بقراء کی تلاوت لگا دی تھی ۔۔۔
شیطان ویسے بھی اس نمازی اور دینی ماحول میں نہیں رہ سکتا تھا وہ سفورا کو ایک جنگل میں لے گیا تھا جہاں وہ اسے بھوکے جانوروں کے آگے ڈال دیتا وہ جیسے ہی اسے شدید زخمی کر دیتے اور کھانے کے قریب ہوتے شیطان اسے وہاں سے غائب کرکے کسی دوسری جگہ تڑپتا چھوڑ دیتا ۔۔۔اب یہی اس کا مقدر تھا ۔۔۔
کالا جادو ۔۔۔اس کی زندگی کالی کر چکا تھا ۔۔۔۔وہ ایک ایسے سرنگ میں تھی جس میں گهپ اندھیرا تھا ۔۔۔۔جہاں سے وہ کبھی نہیں نکل سکتی تھی ۔۔۔
سعد ماں کا گناہ جان کر اس کو اس کے حال پر چھوڑ چکا تھا ۔۔۔۔۔
سعد کچھ دیر میں گھر کا سارا سامان لے کر آ چکا تھا اب ان کو کل ہی منی اور احد کو انکی شادی کی دعوت دینی تھی ۔۔۔
کیوں کہ ماسٹر جی کے انتقال کو تین دن گزر چکے تھے ۔۔۔
اور اسلام میں تین دن سے زیادہ سوگ کو ناپسندیده قرار دیا گیا ہے ۔۔۔
آج منی اور احد کی دعوت تھی مدھو کی رات سے ہی طبیعت خراب تھی مگر وہ خاموشی سے سہہ رہی تھی اس کی کمر اور پیٹ میں سخت درد تھا
وہ فجر کے بعد سے ہی گھر کی صفائی میں مناہل کی مدد کروا کر اب دعوت کی تیاری میں مناہل کی مدد کر رہی تھی ۔۔۔۔
جیسے ہی منی احد کے ساتھ گھر پہنچی تھی بارش نے زور پکڑ لیا تھا ۔۔۔دن کے بارہ بجے بھی شام کا منظر لگ رہا تھا ۔۔۔
بڑے اچھے ماحول میں کھانا کھایا گیا تھا ۔۔۔
مدھو کا درد بڑھتا جا رہا تھا سب خوش گپیوں میں مصروف تھے جب ایک دم مدھو درد سے بیہوش ہوئی تھی اسے فوری طور پر ہسپتال لایا گیا تھا
بنیادی ٹیسٹس اور الٹراساؤنڈ کے علاوہ بھی احد نے اپنی شک کی بنیاد پر مدھو کے کچھ خاص ٹیسٹ کروا لیئے تھے ۔۔۔
جن کی رپورٹس کچھ دنوں بعد آنی تھی ۔۔۔
آخر احد کا شک یقین میں بدلا تھا وہ واقعی ہی مکمل طور پر خواجہ سرا نہیں تھی بلکہ ایسے اکثر بچے پیدائشی طور پر کچھ نقاص کے ساتھ اس دنیا میں آتے ہیں جن کا تب ہی ایک چھوٹا سا آپریشن کر کے ان کو ایک جنس بنا دیا جاتا ہے مگر چونکہ مدھو کو ایسے والدین کا سایہ نہیں ملا تھا لہذا وہ آج تک ایک خواجہ سرا کی زندگی گزارتی رہی ۔۔۔
اب قدرتی طور اس کے جسم نے ردعمل دیا تھا یہ خبر سب کے لئے ہی بہت خوشی کا باعث تھی ۔۔۔
خیر مدھو کو آپریشن کے لئے اندر لے کر جایا گیا باہر سب اس کے لئے خلوص سے اللّه سے دعائیں مانگ رہا تھا ۔۔۔
کچھ گھنٹوں کے انتظار کے بعد ڈاکٹر احد خوشی سے باہر آے تھے ۔۔۔
انہوں نے ایک حجام کو بلا کر اندر بھیجا تھا جس نے مدھو کے بال کاٹے تھے ۔۔۔۔
“احد آپ آخر یہ کیا کر رہے ہیں آپ کیوں مجھے ہماری بہن سے ملنے نہیں دے رہے ۔۔؟؟؟”
منی نے تنگ آ کر پوچھا تھا ۔۔
“سوری منی ۔۔۔تم اب کبھی اپنی بہن سے نہیں مل سکتی ۔۔۔میں ۔۔۔۔میں تمہاری بہن کو نہیں بچا پایا ۔۔ “
اس سے پہلے کے منی اور مناہل رو رو کر پورا ہسپتال سر پر اٹھا لیتیں ۔۔احد نے سعد کو ان کے ساتھ اندر آنے کا کہا تھا ۔۔
“احد مدھو کدھر ہے اور یہ لڑکا کون ہے ؟؟”
منی نے احد کی شرٹ پکڑ کر بھینچی تھی
“ارے یہی آپ کی مدهو ہیں جو سرجری کے بعد آپ کا بھائی بن گئی ہیں ۔۔۔مطلب یہ بائے برتھ لڑکا ہی تھیں بس کچھ تھوڑی ڈاکٹری چھیڑ چھاڑ کی ضرور تھی ۔۔۔”
“یہ ابھی بول نہیں سکتےتھوڑی سی چھیڑ چھاڑ ان کے گلے میں بھی کی گئی ہے”
مناہل اور منی نے ایک دوسرے کو گلے لگا کے ایک دوسرے
کو مبارک باد دی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دو سال بعد ۔۔۔۔
“سعد شاہ میر کو ذرا پکڑیں میں کپڑے چینج کر کے آ رہی ہوں بس باقی یہ گفٹس ہے جو احمد بھائی اور بھابھی کو دینے ہیں ۔۔۔۔”
اس سے پہلے کہ سعد جواب دیتا احمد(مدھو جس کا نام مناہل نے اپنے باپ کے نام پر احمد رکھا تھا)
کا فون آیا تھا
“ہیلو ۔۔۔ہاں یار بس آ رہے ہیں تقریب شروع ہونے سے پہلے ہی آجئیں گے تم فکر نا کر یار تیری بہن بس چینج کر لے پھر نکل رہے ہیں”
اتنے میں مناہل تیار ہو کر آ چکی تھی اور عبایا پہن چکی تھی کیوں کہ تقریب کے بعد سب نے منی کے گھر جانا تھا اس نے گول مٹول شاہ میر کو سعد کو تهما کر خود گفٹس پکڑ لیے تھے ۔۔
ویسے سعد آپ چاہیں تو یہ گفٹس بھی ایک ہاتھ میں اٹھا سکتے ہیں”
مناہل نے شرارت سے کہا تھا جس پر سعد نے فورا وہ بھی اٹھا کر محبت سے دیکھ کر اور کچھ؟؟ کہا تھا مناہل نے جواب میں بہت آہستہ سے اَلْحَمْدُلِلّٰه کہا تھا ۔۔۔
“ایک عورت پوری نسل کی تربیت کرتی ہے عورت جتنی قابل عزت ہستی اللّه نے انبیا کرام کے بعد کوئی دوسری نہیں بنائی ۔۔۔
جب تک عورت خود اپنی اہمیت نہیں سمجھے گی،خود کو عزت نہیں دے گی کوئی دوسرا اس کو سر پر بیٹھا لے ۔۔۔۔یہ ممکن نہیں ۔۔۔
بچوں کو تعلیم دینے کے لئے بہت سے اسکول موجود ہیں ۔۔۔ مگر ایک ماں کو ۔۔۔۔ایک اس ناخواندہ عورت کو جو آدھی زندگی اندھیرے میں گزار چکی ہے ۔۔۔میں اس کو تعلیم کا زیور پہناناچاہتی ہوں ۔۔۔میں اسے تعلیم کا وہ ھتیار دینا چاہتی ہوں جس سے وہ اپنی سروائیول کی جنگ جیت سکے ۔۔۔۔عورت کمزور نہیں ہے ۔۔۔۔ اللّه نے سب کو ایک جیسا مکمل پیدا کیا ہے ۔۔۔۔۔
میں آپ سب کو کہوں گی ۔۔۔آپ میرے اسکول میں آیے۔۔۔۔
اس بات کی پرواہ مت کریں کہ آپ اب پڑھ نہیں سکتیں ۔ ۔۔۔لوگ کیا کہیں گے ۔۔ یہ سراسر جاہلیت ہے ارے جب اللّه نے تعلیم پر عمر کی کوئی حد نہیں لگائی پھر لوگ کون ہوتے ہیں ؟؟؟؟”
“علم مومن کی گمشده میراث ہے اسے جب ملے پالے ۔۔ “
یہ ہے اصل بات ۔۔۔۔میرا یہ اسکول صرف آپ سب کا ہے ۔۔ بدلاؤ کو آنا ہی پڑے گا جب ایک ماں ۔۔۔پڑھی لکھی اور باشعور ہوگی ۔۔۔جب ایک عورت کو اپنے حقوق اپنے اہمیت اور اپنی ذمہ داریوں کا علم ہوگا ۔۔۔”
کلاس میں موجود گاؤں کے عورتوں نے منی کی باتوں پر دل کھول کر تالیاں بجائی تھیں ۔۔۔
“یہ اسکول ہمارے بچوں اور آپ سب کا ہے ۔۔ جہاں ہمارا مستقل اہم ہے جہاں ہمارے بچے ہمارا مستقبل ہیں وہاں ہی آپ یعنی کے ہم مائیں اس مستقبل نامی درخت کی جڑیں ہیں ہماری مضبوطی کے بنا یہ درخت کبھی بھی مضبوط نہیں ہو سکتے ۔۔ “
“باجی احد بھائی آپ کو بلا رہے ہیں”
“باقی کی کلاس کل ہوگی ۔۔اپنی اپنی سب دوستوں، رشتہ دار خواتین، سب عورتوں کو لانے کی کوشش کرنی ہے”
منی اپنے بڑے ابھرتے پیٹ پر ہاتھ رکھے آہستہ آہستہ باہر آئی تھی
“بيگم صاحب احد بھائی کب سے فون کر رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔”آپ کو نا میرا خیال ہے اور نا ہی ھمارے بچے کا۔۔۔”
احد منی کے پیٹ پر ہاتھ رکھ کر بولا تھا اور ساتھ بچے نے كک ماری تھی ۔۔
واہ ۔۔۔۔بھئی ۔۔۔پاپا کو كک مار دی یہ ضرور آپ کی مما نے کہا ہوگا ۔۔
دونوں ہنستے ہوۓ گاڑی میں جا بیٹھے۔۔۔۔۔ منی کی چادر احد ہاتھ میں لئیے اسے پہلے ہی اوڑھا چکا تھا
ماسٹر جی کے گیٹ کے اوپر
“بہادر شاہ ہائیر سیکنڈری اسکول اینڈ تعلیم بالغاں سینٹر”
كی عبارت تحریر تھی ۔۔۔بہت جلد ہی اب احد ایک چھوٹا سا ہسپتال بھی وہاں شروع کرنے والا تھا تعمیری کام مکمل تھا بس مشینری کے لئے فنڈنگ ہو رہی تھی ۔۔۔
گاڑی احمد کے گھر (جو کہ مناہل کی ماں سعدیہ نے مناہل کے نام کیا تھا وہ اس نے اپنے بھائی احمد مطلب جو پہلے مدهو تھی اس کو دے دیا تھا وہ اب مکمل زندگی اپنی بیوی سدرہ جو کہ اسی طرح آپریشن سے لڑکی بنی تھی ڈاکٹر احد کی وساطت سے یہ رشتہ ہوا تھا اس کے ہمراہ گزار رہا تھا جو بہت جلد ماں باپ بننے والے تھے ۔۔۔)
دونوں نے اپنے پیاروں کی مدد سے ایک چھوٹی سی اين۔جی ۔یو بنائی تھی جس کا کام خواجہ سراؤں کو عزت کو دلوانا اور ان کے حقوق کی ادائیگی تھی ۔۔۔
جب تک منی اور احد پہنچتے تقریب شروع ہو چکی تھی شہر کے تقریبا تمام خواجہ سر بن ٹھن کر وہاں آئے تھے وہ بہت خوش تھے اپنی اہمیت پر ۔۔
وہ ہاتھ اٹھا اٹھا کر احمد اور سدرہ کے لئے دعا کررہے تھے ۔۔۔
“ہم مکمل ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ادھورا انسان وہ ہوتا ہے جس كی سوچ ادھوری ہوتی ہے ۔۔۔ہم خواجہ سرا ذہنی لحاظ سے مکمل ہوتے ہیں جسمانی کمی پر احساس كمتری اور جسمانی خوبصورتی پر احساس برتری دونوں ذہنی معذوری ہے ۔۔۔جسم تو اللّه نے بنایا ہے اس میں کسی انسان کا کوئی کمال یا غلطی نہیں ۔۔ پھر کوئی ہمیں عزت کیوں نہیں دیتا ؟؟؟؟
“اصل ہجڑا میرے نزدیک وہ مرد اور وہ عورت ہے جو مکمل ہو کر بھی اپنے اللّه کی بنائی حدود کو توڑتا ہے جبکہ اسے ایک چھت کے نیچے دونوں ماں اور باپ کا ساتھ بھی ملتا ہے اور دینی اور دنیاوی تعلیم بھی دی جاتی ہے ۔۔۔۔جبکہ ایک ہیجڑہ ان سب چیزوں سے محروم ہوتا ہے ۔۔۔۔آج سے
کوئی بھی
نا ناچ گانا کرے گا نا ہی بھیک مانگے گا ۔۔۔۔میں یہاں موجود سب لوگوں سے درخواست کرتا ہوں ۔۔ وہ اپنے اپنے تمام جاننے والوں میں یہ بات پھیلا دیں ۔۔۔اب سے اگر اللّه آپ کو ایسی اولاد سے نوازتا ہے تو اسے قبول کیجیے بیشک ایک ہیجڑا بھی جب بچہ ہوتا ہے تو اسے بھی ماں کے سینے کی گرمی کی اتنی ہی ضرورت ہوتی ہے جتنی ہر نارمل بچے کو ہوتی ہے ۔۔
دوسرا اگر آپ کم ظرف ہیں تو پھر اپنا بچہ کسی گرو کے حوالے نا کریں بلکہ ھماری این۔جی ۔او کو دے دیں ۔۔۔ہم یہاں ان کو ان کی بنیادی تعلیم دینے کے بعد ،ان کو ان کے رجحان کے مطابق کسی ہنر میں ماہر بنائیں گے تا کہ کوئی بھی مدھو اب دو وقت کی روٹی کے لئے بخار میں بھی ناچنے نا جائے ۔۔۔”
اس بات پر احمد کی آواز بھرائی تھی اور حال تالیوں سے گونج اٹھا تھا ۔۔
منی اور مناہل کی بھی آنکھیں بھیگی تھیں ۔۔۔
تقریب کے بعد سب اب کھانا کھا رہے تھے سدرا ابھرا پیٹ لئیے بار بار اٹھ رہی تھی جس پر احمد نے اسے ڈانٹ کر بیٹھا دیا تھا ۔۔۔
کچھ عرصہ بعد ۔۔۔
منی کے ہاں بیٹا ۔۔ اور احمد کے ہاں بیٹی کی پیدائش ہوئی تھی ۔۔۔
نيک موکل نے اپنا سفورا سے کیا، اس کی ہر چال کو ناکام بنا نے کا وعدہ پورا کیا تھا اس رات ایک نورانی آدمی کی شکل اختیار کر کے وہ سعد کی رہنمائی نا کرتا تو صورت حال آج شاید یہ نہ ہوتی ۔۔۔
مزے کی بات اب روز بارش نہیں ہوتی تھی ۔۔۔دھوپ بھی نكلتی تھی ۔۔۔
بہادر شاہ اور منی اب بھی قبرستان میں موجود تھے ۔۔۔کسی کو بہادر شاہ ماسٹر جی کی شکل میں ملتا تو کسی کو بے رحم بہادر شا ہ بن کر ۔۔۔ بہادر شاہ اور منی تو شاید ہر قبرستان میں ہوا کرتے ہیں ۔۔۔
آپ کبھی قبرستان جایئں تو ایک بار اپنے گريبان میں جھانک کر سوچیئے گا ضرور کے آپ کو بہادر شاہ کس روپ میں ملے گا ۔۔۔۔
ویسے تو بارش اب کم ہونے لگی تھی مگر جب بھی کوئی قبرستان میں میت کی بجائے اپنا کوئی گناہ یا پچھتاوا دفنانے آتا تو بارش زور پکڑ لیتی ۔۔۔
ایک بڑی سی گاڑی قبرستان کے دروازے پر آ کر رکی تھی ۔۔۔
ایک لڑکا جو اپنے دوست کو حسد کی آگ میں موت کے گھاٹ اتار چکا تھا بھاگتا ہوا جھونپڑی کی طرف آ رہا تھا ۔۔۔
ہاہاہاہاہاہاہا ۔۔۔۔۔
اسے دیکھ کر بہادر شاہ اور منی کا بے رحم قہقہ بلند ہوا تھا ۔۔۔
تیز بارش ۔۔۔۔حسد ۔۔۔اور اس بے رحم کا انجام ۔۔۔۔
