442.5K
18

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Barish Episode 7

Barish by Jameela Nawab

شام سے رات اور رات سے صبح اور اب دوپہر ہونے کو تھی مدھو ابھی تک گھر واپس نہیں آئی تھی مناہل کو اب بھوک ستانے لگی تھی اور مدھو کی فکر الگ سے پریشان کیئے ہوۓ تھی

وہ اپنا پیٹ دونوں ہاتھوں سے دبا کر بھوک کو بہلا رہی تھی مگر مدھو کی فکر دل اور دماغ دونوں کو تنگ کیئے ہوۓ تھی جس کا کوئی حل نہیں نکل رہا تھا

موسم ابھی بھی خراب تھا بارش تیز تھی بھوک اتنی زیادہ لگ رہی تھی کہ نہانے کا بھی دل نہیں کر رہا تھا

مناہل کمرے کے دروازے میں آکر کھڑی ہوئی تھی وہ تیز بارش کی بوندوں کو مخاطب کر کے بولی تھی ۔۔۔

“سعد کیسا ہے ؟؟؟تم تو مل کر آرہی ہو گی نا میرے سعد سے ؟؟؟”

“مجھے یاد کرتا ہے ؟؟؟”

اس بات پر اس کی آنکھیں نم ہوئی تھیں

“کبھی میرا ذکر ۔۔۔۔۔کبھی اس طرح مجھے یاد کر کے رویا ہے وہ ؟؟؟”

“بارش میں تو اب بھی نہاتا ہوگا ۔۔۔۔۔وہ کہتا تھا بارش اور تم ایک جیسی ہو ۔۔۔۔دونوں ہی شفاف اور پاک ہو ۔۔۔۔۔دونوں ہی مجھے اپنی محبت میں بھگو دیتی ہو ۔۔۔۔”

پھر وہ چپ کر کے اب بارش کا جواب سن رہی تھی جیسے وہ بول رہی ہو ۔۔۔۔وہ خوشی سے جھوم کر باہر صحن میں آگئی تھی وہ گول گول گھومنے لگی تھی بھوک بھول گئی تھی

“کیا کہا تم نے ؟؟؟وہ آج بھی صرف مجھ سے محبت کرتا ہے ؟؟؟هاهاهاهاها ۔۔۔۔۔۔میں جانتی تھی اللّه نے میرے ہر صبر کا پھل مجھے سعد کے ذریعے ہی دیا ہے تو بھلا وہ اللّه اسے مجھ سے کیوں چھینے گا ۔۔۔۔۔هاهاهاهاها ۔۔۔۔۔اللّه میں انتظار کروں گی ۔۔۔۔۔اپنی آزمائش پورا ہونے کا ۔۔۔ آپ کی رحمت کا ۔۔۔۔۔سعد صرف میرا ہے ۔۔۔۔ “

وہ اپنی دھن میں مگن جھوم رہی تھی وہ بارش میں مکمل بھیگ گئی تھی جب ایک دم باہر کا دروازہ کھلا تھا جیسے مدھو نے اندر آتے ہی دوبارہ بند کر دیا تھا

مدھو کے پاس چھتری نہیں تھی نا ہی شال تھی وہ سخت تکلیف میں لگ رہی تھی اس کے ایک ہاتھ میں ایک شاپر تھا جبکہ اس کا دوسرا ہاتھ اپنے پیٹ پر تھا وہ جھک جھک کر چل رہی تھی

مناہل بھاگ کر اس کی طرف بڑھی تھی اور اسے سہارا دے کر اندر لائی تھی

مدھو کے کپڑے جگہ جگہ سے پھٹے ہوۓ تھے اور خون بھی پھیلا ہوا تھا اس کا جسم کا ہر حصہ بری طرح زخمی تھا

“آپی یہ یہ کیا ہوا ہے آپ کو ؟؟؟؟کس نے کیا یہ سب ؟؟؟”

مناہل نے جلدی سے ایک خشک جوڑا نکال کر مدھو کو تهمایا تھا جسے اس نے لینے سے انکار کر دیا تھا وہ تکلیف سے اپنا سر نفی میں مسلسل ہلا رہی تھی

مناہل منہ پر ہاتھ رکھ کر رونے لگی تھی

“آپی ۔۔۔۔۔۔ بتائیں نا کیا ہوا ہے آپ کو ؟؟؟”

“پانی ۔۔۔۔۔پانی دو مجھے ۔۔۔ادھر اوپر پيناڈول کا پتا پڑا ہوگا وہ بھی دو بہت تکلیف ہو رہی ہے مجھے۔۔۔ برداشت نہیں کر پا رہی میں”

مدھو پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی اس کا ہونٹ بھی پھٹا ہوا تھا مگر بارش نے خون صاف کر دیا تھا

مناہل نے آنکھیں گيلے دوپٹے سے صاف کرتے ہوۓ اس کی بات پر عمل کیا تھا

وہ ایسے پانی پی رہی تھی جیسے صدیوں کی پیاسی ہو وہ بڑٹے بڑٹے گھونٹ پی کر مزيد نڈھال ہوگئی تھی

وہ ساتھ ہی لیٹ گئی تھی آنکھیں بند کئے وہ ایک دم خاموش ہوگئی تھی

مناہل اس کی ٹانگوں کی طرف بیٹھ گئی تھی

“آپی کپڑے تبدیل کر لیں پھر آرام سے سو جائیے ۔۔۔۔”

“ایسے گيلے کپڑوں میں بخار ہو جائے گا”

مناہل نے مدھو کے سر پر ہاتھ رکھا تھا جو بری طرح تپ رہا تھا وہ چونک کر اٹھی تھی

“آپی آپ کو تو بہت سخت بخار بھی ہے چلیں ہمت کریں کپڑے بدلیں”

مناہل نے دو ٹوک سختی سے مگر حق سے کہا تھا جس پر مدھو نے مناہل كی طرف دیکھا تھا اس کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے

“مناہل ۔۔۔۔۔۔۔ایسا لگتا ہے تم سے خون کا رشتہ ہو،بہت اپنائیت محسوس ہوتی ہے تم سے،گرو کے بعد ایسا حق کسی نے نہیں جتایا”

وہ کسی معصوم بچے کی طرح نچلے ہونٹ کو حرکت دیتی ہوئی بنا آواز کی رو دی تھی

“خون کا رشتہ کب ضروری ہوا کرتا ہے مدهو آپی؟؟؟احساس کا رشتہ کمزور ہو تو خون بھی رنگ بدل لیتا ہے،آج سمجھ آتی ہے کہ اللّه نے کیوں کہا تھا کہ سب مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں،بیشک وہ جانتا تھا کہ ایک دن ایسا ضرور آۓ گا جب خون کا رشتہ اپنا اثر کھو دے گا”

مناہل اپنے لئے بھی ایک جوڑا نکال کر غسل خانے کی طرف گئی تھی اسی دوران مدهو نے بھی کپڑے تبديل کر لئے تھے وہ آنکھیں موندیں لیٹی ہوئی تھی

“منو تم احساس کی بات کر رہی ہو آج تو انسانیت کا رشتہ بھی دم توڑ گیا ہے”

مدھو رضائی اوڑھ کر مناہل کی طرف کروٹ لے کر اداس سی بولی تھی اس کا چہرہ اب سوجنے لگا تھا

“آپی آپ مناسب سمجھیں تو میں جاننا چاہتی ہوں آج کیا ہوا ہے ؟؟؟”

“آپ کی یہ حالت ؟؟؟آپ تو مرزا صاحب کے ہاں تقریب پر گئی تھیں نا اور آپ رات کو ہی آنے والی تھیں ؟؟؟”

مناہل انگھیٹی سلگاتے ہوۓ پوچھ رہی تھی

اس بات پر مدھو چھت کو دیکھتے ہوۓ بولی تھی

“مرزا صاحب کے ہاں ۔۔۔۔۔بہت سے لوگ تھے ۔۔۔ہر عمر کے لوگ ۔۔۔۔۔

وہ اس رات کے منظر میں واپس چلی گئی تھی ۔۔۔

مدھو اپنی ساتھی خواجہ سرا کے ساتھ کھانا کھا کر اب جانے کی تیاری میں تھی جب ایک 14سال کا لڑکا اس کے پاس آکر کھڑا ہوا تھا

“تم خسرا ہو نا ؟؟؟”

“ہاں بیٹا”

مدھو نے پیار سے اس کے سر پر ہاتھ پھیر کر کہا تھا

“ادھر آؤ میرے ساتھ”

وہ اشارہ کر کے آگے بڑھا تھا مدھو بھی اس کے پیچھے چل پڑی تھی

وہ مدھو کو گیٹ کے پاس سٹارٹ حالت میں کھڑی بڑی سی لینڈ کروزر کے پاس لے آیا تھا جس کا دروازہ فورا کھول کر مدھو کو اندر دکھیل کر بٹھا دیا گیا تھا گاڑی میں 8لڑکے تھے جن سب کی عمریں 12 سے 17 سال کے درمیان تھیں موسیقی کی آواز اتنی تیز تھی کہ ایسا لگ رہا تھا ابھی ابھی گاڑی کے شیشے ٹوٹ کر کرچی ہو جائے گے مدھو پریشان سی صورتحال سمجھنے كی کوشش کر رہی تھی

وہ سب مدھو کے ساتھ غیر اخلاقی حرکات کرنے لگے تھے جب کہ گاڑی کو ایک ویران سڑک پر ڈال دیا گیا تھا افسوس تو یہ کہ اتنی بڑی گاڑی کا ڈرائیور بھی ان میں سے ایک تھا

“تم سب میرے بیٹوں کی طرح ہو خدا کا خوف کرو”

مدھو ان کے ہاتھ پیچھے جھٹک کر چیخی تھی بارش بہت تیز تھی گاڑی کو ایک جگہ روک دیا گیا تھا

“اپنی ماں کے علاوہ کوئی کسی کا بیٹا نہیں ہوتا اور تم کہاں سے ماں ہو گئی ہماری ہیجڑے”

ان سب کا اجتمائی قہقہ بلند ہوا تھا

“اپنی عمریں دیکھو لعنت ہے تم لوگوں کی سوچ پر”

مدھو نے ان میں سے ایک کو منہ پر رکھ کر دی تھی جو زیادہ بد تمیزی کر رہا تھا

“واہ ایک ہیجڑا ہو کر اتنی اکڑ؟؟؟”

ان میں سے ایک برہم ہوا تھا جبکہ تھپڑ کھانے والا پیچھے ہو کر بیٹھ گیا تھا

“تو اگر تم لوگ اتنی گھٹیا سوچ رکھ کر بھی اکڑ رہے ہو تو میں کیوں نہیں اکڑ سکتی ؟؟؟ہیجڑا میں ہوں مگر ثابت تم لوگ کر رہے خود کو،مرد کے بچے ہوتے مرد ہوتے تو یوں ایک ہیجڑے پر گندی نظر نا ڈالتے،تھو ۔۔۔۔۔۔”

مدھو نے اس کے منہ پر تھوکا تھا

“اچھا ہم ہیجڑے ہیں ابھی بتاتے ہیں”

وہ سب مدھو کو کھینچ کر گاڑی سے نیچے کھینچ لاۓ تھے اور بنا کسی سمت کا تعین اور احساس کئے اس پر لاتوں اور گھونسوں کی بارش کردی مدھو جان چکی تھی مزاحمت کا اب کوئی فائدہ نہیں ہے وہ آٹھ تھے،جوانی کے جوش میں مسرور اور امیری کے نشے میں مست ۔۔۔۔ اور مدھو ناتواں اور کمزور۔۔۔۔۔۔۔۔ جسے کبھی دو وقت کا کھانا بھی نصیب نا ہوتا ۔۔۔۔ تیز بارش میں آسمان کی طرف دیکھتی بس ان کی مار کھاتی رہی،عزت بچ گئی تھی اس وقت یہی غنیمت تھا مدھو کے لئے ۔۔۔

وہ اسے کسی جانور کی طرح مارنے کے بعد اپنا غصہ ٹھنڈا ہونے تک اسے تڑپتا دیکھتے رہے۔۔۔۔پھر جب مدھو کی تکلیف بھری آہیں پھيكی پڑ گئی تو وہ اس پر اپنی اپنی غلاظت(پیشاب) برسا کر اپنی خراب اور بیمار ذہنی حالت کی تسکین کر کے قہقہ لگا کر ایک ایک کر کے گاڑی میں بیٹھے اور چلے گئے

۔۔۔

رات بہت گہری ہو چکی تھی اور مدھو بے ہوش ہو چکی تھی۔۔۔۔

جب اس کی آنکھ کھلی تو صبح ہو چکی تھی بارش تھم چکی تھی مگر ٹھنڈی تیز ہوا اب بھی چل رہی تھی بارش کسی بھی وقت دوبارہ آنے کو تیار تھی

مدھو ہمت جمع کرتی اٹھی اور آہستہ آہستہ چلتی ہوئی روڈ پر آئی تھی ایک رکشہ کسی فرشتے کی طرح آتا نظر آیا تھا وہ اپنی بری حالت دوپٹے میں چھپاۓ ابھی بھی ہچکیوں سے رو رہی تھی رکشے والے کو اس کے ساتھ ہوۓ حادثے کا اندازہ لگا چکا تھا وہ سر افسوس میں ہلاتا بس خاموش رہ گیا تھا ۔۔۔

افسوس آج کل ہم سب ایمان کے آخری درجے پر آچکے ہیں ۔۔۔۔بس دل میں برا مان کر ہی اپنے حصے کا فرض ادا سمجھ کر ہاتھ جھاڑ کر آگے بڑھ جاتے ہیں ۔۔۔۔

بہت جلد یہ وقت آنے والا ہے جب ایمان کا یہ درجہ بھی چھن جائے گا، بے حسی اتنی زیادہ ہو جائے گی ۔۔۔۔۔

بارش تیز ہو چکی تھی مدھو کو مناہل کی بھوک کا احساس ہوا تھا

“بھائی ایک کام کر دے گے؟؟”

مدھو التجائیہ انداز میں بولی تھی

“ہاں کہو۔۔۔۔کاش میں تمہاری تکلیف کم کر سکوں”

رکشہ ڈرائیور نے شیشے میں سے جھانکتے ہوۓ مدھو کو دیکھتے ہوۓ کہا تھا

“میں بھوکی ہوں کسی ہوٹل سے ایک وقت کا کھانا ۔۔۔۔۔۔۔۔لے دو”

مدھو آنسو حلق میں دبا کر کرب سے بولی تھی

“لے دیتا ہوں”

اس نے ایک جگہ سے چار نان اور ایک شاپر سالن کا مدھو کو لا کر تهما دیا تھا جس پر مدھو نے اپنے دونوں ہاتھ آسمان كی طرف اٹھا کے اسے صدق دل سے دعا دی تھی

وہ مدھو کی بتائی جگہ پر مدھو کو اتار کر بنا کسی کراۓ کا مطالبہ کئے چلا گیا تھا

مدھو حال میں واپس آئی تھی

مناہل اپنا سر پکڑ کر رونے بیٹھ گئی تھی اس سے مدھو کی آپ بیتی سہی نہیں جا رہی تھی

“منو ۔۔۔۔ہم عادی ہیں ان نفرتوں کے، تم دل مت چھوٹا کرو ،چلو اٹھو جو کھانا لائی ہوں وہ کھا لو”

مدھو نے اپنے آنسو صاف کر کے کہا تھا

“ہمیں تو پیدا کرنے والے نفرت سے دھتکار کر خود سے الگ کر دیتے ہیں پھر غیروں سے کیا گلا کرنا”

مدھو دوپٹے سے پھونک مار کر اپنے چہرے پر ٹکور کرتی ہوئی بولی تھی

“بس دکھ اس بات کا ہے مرزا

صاحب نے جو ہزار کا نوٹ دیا تھا وہ اس سب کے دوران کہیں کھو گیا مجھ سے سوچا تھا اپنی منو کی ہر خواہش پوری کروں گی مزے سے کچھ بنا کر عیاشی کریں گے کچھ دن ہاۓےےےے………”

درد سے بے اختیار اس کی آہ بلند ہوئی تھی

“آپی جو 12،15،16،17 اس عمر کے بچے ۔۔۔۔۔۔۔یہ کیسے؟؟؟؟کیسے ہو سکتا ہے وہ اتنا غلیظ کیسے ؟؟؟سوچ بھی کیسے سکتے ہیں وہ بھی ایک ایسے انسان کے لئے جو پہلے ہی زندگی کسی سزا کی طرح کاٹ رہا ہے ؟؟؟”

مناہل انگھیٹی مدھو کے پاس کر کے اس سے دوپٹہ سیک کر مدھو کے چہرے پر ٹکور کرتے ہوۓ بولی تھی ہر بار مدھو کی، سی کی آواز اس کا دل دکھا رہی تھی آنسو اس کا چہرہ بگھو رہے تھے

“منو ۔۔۔۔۔۔اولاد غریب کو بھی پیاری ہوتی ہے مگر وہ بیچارہ اپنی غربت کی وجہ سے اچھی تربیت کی کوشش کے علاوہ اپنی اولاد کو کچھ چاہ کر بھی نہیں دے پاتا ۔۔۔۔مگر امیر اور اثررسوخ والے والدین ۔،۔۔۔افسوس کے ساتھ ۔۔۔۔۔ اچھی تربیت کے علاوہ اس کی ہر خواہش پوری کرنا اپنا فرض سمجھ کر باقی ہر فرض سے آنکھیں بند کر لیتے ہیں ۔۔۔”

“بچے کو، موبائل کی دنیا وقت سے پہلے وہ سب دکھا دیتی ہے جس کے صحیح غلط کے فرق کو سمجھنے کے لئے اس کا دماغ تیار نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔وقت سے پہلے بچے کو الگ کمرہ،الگ موبائل جس میں پوری دنیا تک اس کی رسائی رہتی ہے ۔۔۔۔وہ کب سوتا ہے کب جاگتا ہے ڈیجیٹل آلات پر کیا دیکھتا ہے اس سے والدین کا دور دور تک کوئی واسطہ نہیں ۔۔۔۔بچے کی ابھی سے پرائیوسی ہے کوئی چاہ کر بھی اس کا موبائل نہیں دیکھ سکتا کیوں کہ پاس ورڈ لگا ہے ۔۔۔۔”

مدھو کو گرم ٹکور سے سکون محسوس ہو رہا تھا کچھ پيناڈول بھی اثر کرنے لگی تھی وہ مزيد بولی تھی

“رہی سہی کسر ہماری فلمیں ڈرامے پورے کر دیتے ہیں جس میں دکھایا جاتا ہے ایک انسان سینکڑوں لوگوں کو مار کر بھی ہیرو ہے اور اس کا کوئی بال بھی بیکا نہیں کر سکا”

“ان معصوم بچوں کے لئے بہت دکھ ہے مجھے آخری نسلیں تباہی کے دیانے پر ہیں”

“آپی آپ ابھی بھی ان کے لئے دکھی ہیں جنہوں نے آپ کو کسی بے جان چیز کی طرح مارا ہے،آپ پر ذرا برابر بھی رحم نہیں آیا ان کے ساتھ یہ همدردی ؟؟؟”

“موبائل نے ذہنی معذور بنا دیا ہے آج کل کی نسل کو پھر ایک معذور بندے سے کیا شکوہ منو،کاش کے والدین کو اس بات کا ذرا سا احساس ہو جائے کہ موبائل ان کے بچے کی زندگی میں والدین کی محبت اور توجہ کا خلاء نہیں پُر کر سکتا،ان کا بچہ جس راستے پر چل پڑا ہے اس کی آخری منزل ۔۔۔۔۔۔صرف بربادی،تباہی،تنہائی اور ۔۔۔۔۔۔۔۔آخر میں خود کشی ہے ۔۔۔۔۔۔”

“میں روز دیکھتی ہوں ۔۔۔۔کوئی بھی تہوار ہو بچہ وہاں صرف جسمانی طور پر ہوتا ہے ذہنی طور پر وہ وہاں سے غائب ہوتا ہے ۔۔۔۔پہلے میں دیکھتی تھی کسی خوشی میں بچوں کو اپنے رشتہ داروں سے متعارف کروایا جاتا تھا مگر آج بچے کو اس چیز میں کوئی دلچسپی نہیں ہے کہ کون اس کا کیا لگتا ہے اس کی دنیا اس کے ہاتھ میں ہے ۔۔۔۔۔اور منو ۔۔۔ سچ پوچھو تو والدین بھی اب یہ ضروری نہیں سمجھتے ۔۔۔۔”

مناہل نے حیرانگی سے مدھو کی طرف دیکھا تھا قابل نفرت سمجھی جانے والی ذات اتنی گہرائی سے ہر بات کو نوٹس کرتی رہی ہے۔۔۔۔

“منو۔۔۔۔۔۔۔غصہ ہے مجھے بہت غصہ ہے ۔۔۔۔مگر ان کے والدین پر ۔۔۔۔ جو اتنی لا پرواہ ہیں کہ ان کی اولاد اس حرکت کے لئے آماده ہوئی،ان کو کوئی دیکھنے والا ہوتا کسی کا ڈر ہوتا تو وہ اتنی سی عمر میں اتنی بڑی حرکت کا خطرہ مول نا لیتے ۔۔۔۔مطلب ان کو کچھ سمجھایا ہی نہیں گیا ۔۔۔۔جب والدین اولاد جیسی قيمتی نعمت کی قدر نہیں کریں گے تو وہ ایسے ہی رُلے گی ۔۔۔۔ اس سے تو اچھے پھر میرے والدین تھے جب سمجھ گئے کہ میری ذمہ داری نہیں اٹھا سکتے تو مجھے سیدھا سیدھا گھر سے نکال دیا کم از کم میرے سر پر رہ کر مجھ سے اس طرح لاپروائی نہیں برتی ۔۔۔۔۔”

“چلو تم اٹھو کھانا کھاؤ”

مدهو نے کھانے والے شاپر كی طرف اشارہ کیا تھا جو لاتے ہوۓ بارش سے گيلا ہو چکا تھا

مناہل کو وہ کھانا دیکھ کر مدھو پر بے پناہ پیار آیا تھا وہ بھيگی آنکھوں سے آنکھیں موندیں لیٹی مدھو کو دیکھ رہی تھی جو کتنی مکمل تھی اپنے خلوص اپنی محبت میں ۔۔۔۔۔

وہ شاید سو چکی تھی وہ اب خاموش تھی ۔۔۔۔مناہل نے باہر دیکھا تھا جہاں بارش اپنا راگ آلاپ رہی تھی وہ بے دلی سے اٹھ کر کھانا کھانے لگی تھی ۔۔

۔************

سعد گھر آیا تو مناہل کو عجیب حالت میں پایا وہ پوری طرح خود کو سکیڑ کر لیٹی ہوئی تھی وہ سخت خوف زدہ تھی وہ بارش جو اسے خوش اور پر سکون کر دیا کرتی تھی آج وہ اسی کو دیکھ دیکھ کر اپنی انگلیاں دانتوں میں دبا کر کاٹ رہی تھی

دو دن سے وہ کوئی نماز نہیں پڑھ پائی تھی وہ اپنی ذات سے بیگانی ہو چکی تھی

سعد آیا تو وہ اس سے بھی خوفزدہ ہو رہی تھی سفورا کچن میں کھڑی کچھ پکانے میں مصروف تھی بارش اب بھی ہو رہی تھی

“مناہل ۔۔۔۔میں ہوں تمہارا سعد ۔۔۔۔۔میں۔۔۔۔مجھ سے مت ڈرو ۔۔۔۔میں سعد ۔۔۔۔”

سعد آرام آرام سے اس کے پاس بیٹھا اسے پر سکون کرنے كی کوشش کر رہا تھا

“سعد ۔۔۔۔۔وہ ۔۔۔۔وہ سامنے دیکھیں بہت سے لوگ کھڑے ہیں ۔۔۔۔سب مرے ہوۓ ہیں ۔۔۔۔۔وہ کفن پہنے ۔۔۔۔مجھے اپنے پاس بلا رہے ہیں ۔۔۔”

وہ سرگوشی میں باہر صحن میں تیز بارش کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ سہمی سی بول رہی تھی جہاں سچ میں وہ سب دیکھ رہی تھی

“سعد،سعد”

وہ سعد کا گریبان سختی سے بھینچ کر بول رہی تھی

“وہ کہہ رہے ہیں وہ مجھے لے کر جائے گے،وہ ۔۔۔۔وہ ۔۔۔۔وہ ایسے واپس نہیں جائیں گے ۔۔۔۔۔مجھے ۔۔۔۔مجھے نہیں جانا سعد ۔۔۔۔۔پلیز مجھے بچا لیں ۔۔۔۔سعد”

وہ اپنا سر سعد کی گود میں چھپا کر روتے ہوۓ مسلسل بول رہی تھی

اپنی محبوب بیوی کو اس طرح دیکھ کر سعد کا کلیجہ منہ کو آیا تھا وہ بنا آواز کے رونے لگا تھا

سفورا کھانے کی ٹرے لیئے ادھر آئی تھی

“چلو کھانا کھاؤ سعد،خود بھی کھاؤ اور میری بہو کو بھی کھلاؤ”

وہ دو پلیٹوں میں سالن لائی تھی دونوں کے لئے الگ الگ سعد نے ایک نوالا مناہل کو کھلا کر خود بھی اسی سے کھانے لگا تو سفورا نے فورا اسے ٹوک دیا تھا

“اس میں دیسی گھی ڈالا ہے یہ تم مت کھاؤ سعد یہ میری مناہل کا ہے تم یہ کھاؤ”

وہ دوسری پلیٹ آگے کرتی ہوئی بولی تھی سعد کو اپنی ماں کی محبت پر خوشی ہوئی تھی وہ ماں کا ہاتھ چوم کر شکریہ بولا تھا

مناہل سہمی سہمی سفورا کو چھپ کر دیکھ رہی تھی وہ ایک دم بارش کو دیکھتی اور سہم کر مزيد سعد میں گھس جاتی”

کھانا ختم کرنے کے بعد سفورا برتن اٹھا کر کچن میں چلی گئی تھی جب اس کے کان میں سعد کی آواز ٹکڑائی تھی وہ تلاوت کرتے ہوۓ بلند آواز میں سورہ الناس پڑھ رہا تھا وہ بار بار ایسا کرتا کبھی آیت الکرسی پڑھتا اور مناہل پر پھونک کر پورے کمرے میں پھونک مارتا ۔۔۔۔

مناہل ایک دم پر سکون ہوگئی تھی اس کے چہرے کے تاثرات بھی نارمل ہو چکے تھے وہ سعد سے الگ ہو کر پر سکون سی لیٹ گئی تھی

“سعد وہ لوگ چلے گئے ہیں”

وہ باہر صحن میں دیکھ کر بولی تھی

“مناہل ۔۔۔۔اللّه نے ہر مسئلے کا حل بنا کر بھیجا ہے ۔۔۔مسئلہ ایک ہوتا ہے اس کے حل کے دس طریقے میرے رب نے بھیج رکھے ہیں ۔۔۔۔جن،بھوت،آسیب اور کسی بھی قسم کے خوف کو بھگانے کا حل ۔۔۔۔قران پاک کی آخری سورہ ۔۔۔۔۔سورہ الناس میں رکھا ہے ۔۔۔۔ہم کرایا لگا لگا کر میلوں کی مسافت طے کر کے عالموں کے پاس تو چلے جاتے ہیں مگر ہر گھر میں سامنے طاق میں رکھے قران مجید کو نہیں کھولتے ۔۔۔۔۔ یقین ۔۔۔۔پختہ یقین کے ساتھ اللّه کا ایک اسم بھی پڑھا جائے تو اس کی براکات سے ہم حیران ہو جایئں ۔۔۔۔مگر ایمان دار ہو کر بھی ایمان کا فقدان ہے ۔۔۔۔چلو اٹھو ۔۔۔۔نماز پڑھو اب ۔۔۔”

مناہل نے سعد کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا تھا

“جانتا ہوں،جانتا ہوں اس وقت کسی نماز کا وقت نہیں ہے مگر تم ۔۔۔قضا تو پڑھ سکتی ہو نا ۔۔۔جو دو دن سے چھوٹ گئی ہیں وہ پڑھو چلو اٹھو ۔۔۔”

اس سے پہلے کے مناہل اٹھتی سفورا تلملاتی وہاں بھاگ کر آئی تھی

“بھئی بیماری میں کونسی نماز ؟؟؟بچی کو آرام کرنے دو،پڑھ لے گی نماز بھی ۔۔۔۔”

“امی مگر ۔۔۔نماز سے کونسا اس کو تکلیف ہوگی یہ چل پھر سکتی ہے ۔۔۔۔بخار ہی تو ہے ۔۔۔۔”

“چلو اٹھو میں خود وضو کرواتا ہوں”

سعد نے ماں کی بات کو ان سنا کرتے مناہل کو وضو کے لئے اٹھایا تھا جس پر سعد سیخ پا ہوئی تھی ۔۔۔

۔************

بہادر شاہ آج مختلف قبروں سے درخت کاٹ رہا تھا جن کے لواحقين انہے دفنا کر بھول گئے تھے اور ان پر اگنے والے پودے اچھے خاصے درخت کی شکل کی اختیار کر چکے تھے وہ ان لکڑیوں سے اپنے گھر کا چولہا جلاتا کیوں کہ منی کو بھونا گوشت پسند تھا

“ابا؟؟”

منی لکڑیاں ایک طرف جمع کرتی ہوئی بولی تھی

“جی میرا پتر؟؟”

بہادر شاہ نے ہانپتے ہوۓ پوچھا تھا

“ابا کیا ان کا کوئی نہیں ہے دنیا میں جو ان کی قبر کا خیال رکھ سکے ؟؟؟”

“کیا یہ بھی تیری اور میری طرح اکیلے تھے ؟؟؟”

منی اداس سی بولی تھی

“نہیں پتر ایسی بات نہیں ہے،انسان جب تک دنیا میں رہتا ہے وہ کبھی بھی اکیلا نہیں ہوتا”

“پھر ابا ان کی قبر کا یہ حال کیوں ہے؟؟؟”کوئی ہے تو آ کر ان کو دیکھتا کیوں نہیں ہے ؟؟؟”

“جهلی ۔۔۔۔۔جو دنیا میں اس قبر کو یاد نہیں کرتا ۔۔۔پھر یہاں آ کے اسے دنیا بھلا دیتی ہے،بس اتنی سی گل ہے”

“اچھا ابا موسم خراب ہے آج پھر جلدی کر جھونپڑی میں لے کر جاتے ہیں ان لكڑیوں کو”

منی ایک گڈھا اپنے سر پر لاد کر جاتے ہوۓ بولی تھی

منی جا چکی تھی بہادر شاہ باقی ماندہ لکڑیاں جمع کر کے اس کے پیچھے جا رہا تھا وہ ابھی جھونپڑی کے دروازے کے پاس ہی پہنچا تھا جب تین درمیانی عمر کے لڑکے اس کی طرف آتے نظر آئے تھے

وہ لكڑیاں اندر رکھ کر دروازے میں ان کا منتظر کھڑا ہوگیا تھا

“تم ہو نا یہاں کے گورکن؟؟؟”

“ہاں جی”

“میں نے کہا نا کوئی قبر نہیں کھدے گی جب تک میرا مسئلہ نہیں حل ہوگا”

ان میں سے منجھلا لڑکا غصے سے بولا تھا

“کیوں نہیں کھدے گی؟؟؟”

“میں دیکھتا ہوں کون مجھے روکتا ہے”

ان میں سے سب سے بڑا لڑکا برہم ہوتا ہوا بولا تھا

“میں تو غسل اور کفن ڈالنے کے حق میں بھی ابھی نہیں تھا جب تک سارے قانونی مسائل حل نہیں ہو جاتے مگر تم لوگوں کو بڑی جلدی تھی ابے کو کفن ڈالنے کی”

سب سے چھوٹا لڑکا بدمزہ ہو کر بولا تھا

“تم دونوں کا دماغ تو نہیں چل گیا؟؟؟یہ مسئلہ تو وقت لے گا تب تک ابا کو دفنائے بغیر گھر پر رکھیں گے ؟؟؟؟”

سب سے بڑا لڑکا غصے سے چیخ کر بولا تھا

“ہاں ۔۔۔۔بھئی …اپنے گھر میں ابا کا آخری وقت کا بھرپور فائدہ اٹھایا تم نے ساری اگلی پچھلی جائیداد اپنے نام لکھوا لی ۔۔۔ہمارا سوچا تک نہیں ۔۔۔۔تبھی تو بہت جلدی ہے تمہیں ان کو دفنا کر سب اپنے پیٹ میں ڈالنے کی،سب سمجھتے ہیں ہم”

سب سے چھوٹا ترکی با تركی چیخا تھا

“میں بتا رہا ہوں شہر کا گھر میرے نام کرو ورنہ میں جنازہ نہیں ہونے دوں گا”

منجھلے کو بھی بولنا اور چیخ کر اپنا حصہ ڈالنا ضروری لگا تھا

“میں نے نہیں تھا کہا ابا کو اپنے نام سب کرنے کو بکواس مت کرو تم لوگ،تب اپنی بیوی بچوں کو لے کر الگ ہو گئے تم دونوں ابا روکتا رہاپھر ابا بیماری میں روز پیغام بھیجواتا تھا کہ شکل دکھا جاؤ اپنی اور اپنے بچوں كی مگر تم دونوں اس ڈر سے نہیں آےث کہ کہیں بیماری کے علاج کے پیسے نا دینے پڑ جایئں ۔۔۔۔میں نے دن رات ایک کئے رکھا ابا کی خدمت میں ۔۔۔۔ابا نے خوش ہو کر میرے نام سب کیا ہے ۔۔۔۔تو اب اس پر بھی تم دونوں کو تکلیف ہے”

سب سے بڑا کندھے اچکا کر بولا تھا

“ناں ناں یہ ڈرامہ نہیں چلے گا ۔۔۔۔تم اور تمہاری بیوی ابا کی کتنی خدمت کرتے تھے سب خبر تھی ہمیں، رضیہ آپا نے سب اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے ۔۔۔جب بڑی بھابھی سارا دن بھوکا رکھتی تھی ابا کو شام میں جا کر ایک روٹی ایسے دیتی تھی جیسے ابا ۔۔۔۔توبہ میری توبہ ۔۔۔ کوئی جانور ہو”

منجھلے نے کانوں کو ہاتھ لگا کر کہا تھا

“رضیہ آپا بھی اپنا حصہ مانگ رہی ہے اس نے الگ تماشہ لگایا ہوا ہے گھر میں”

سب سے بڑے نے تنگ ہوتے ہوۓ کہا تھا

“ہاہاہاہاہاہاہا”

بہادر شاہ ان سب کی باتیں سن کر فلک شگاف قہقہ لگایا تھا جس پر وہ اسے دیکھ کر حیران ہوۓ تھے

“آج تم لوگوں کا ابا یہ سب دیکھ رہا ہوتا تو وہ خود کفن میں چل کر خود دفن ہو جاتا اگر وہ ایسا کر پاتا مگر تم لوگوں کا احسان نا لیتا”

بہادر شاہ پیٹ پکڑ کر لوٹ پوٹ ہوتا ہوا بولا تھا پھر وہ اندر جا کر قبر کی کھودائی کا سامان اٹھا لایا اور قبرستان كی طرف چل پڑا ۔۔۔

وہ تینوں ایک دوسرے پر زبانی کلامی وار کرتے ہوۓ پیچھے آرہے تھے

“یہاں قبر کھوددو”

سب سے بڑے نے قبرستان کے وسط میں ایک قبر كی جگہ خالی دیکھ کر کہا تھا جس کے جواب میں بہادر شاہ نے ایک بار پیچھے ان تینوں کی طرف دیکھ کر قہقہ لگایا تھا

وہ قہقے لگاتے قبرستان سے باہر نکل کر ایک جگہ پر کھدائی کرنے لگا تھا اب وہ خاموشی سے اپنا کام تیزی سے کرنے لگا تھا

“دیکھو میری بات سنوابھی ابے کو دفنا لینے دو پھر میں تم دونوں کو بھی کچھ نا کچھ دے دوں گا”

بڑے نے معاملہ ختم کرتے ہوۓ نرمی سے کہا تھا جس پر دونوں چھوٹے بھائیوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر نفی میں سر ہلایا تھا

“یہ کچھ نا کچھ کیا ہوتا ہے ہم تین بھائی ہیں سب تین پر تقسيم ہوگا پورا پورا”

سب سے چھوٹے نے کھڑے ہوتے ہوۓ بولا تھا جس پر منجھلے نے ہاں میں ہاں ملائی تھی

اسی دوران کچھ لوگ میت لے کر قبرستان میں داخل ہوۓ تھے جن میں ایک بوڑھی عورت جیسے ایک متوسط عمر كی عورت سہارا دے کر لا رہی تھی وہ بھی شامل تھے

اب میت کا جنازہ پڑھا جا رہا تھا جس سے وہ تینوں لڑکے بے خبر دور بیٹھے اسی بٹوارے کی بحث میں توں توں میں میں کرنے میں مشتعل ہو رہے تھے اب ہلکی ہلکی بارش شروع ہو چکی تھی

میت کو اس قبر کی کھدائی والی جگہ پر لا کر رکھ دیا گیا تھا اس بوڑھی عورت کو بھی پاس بیٹھا دیا گیا تھا جو مرنے والے کی ماں تھی وہ ان کو لڑتا دیکھ کر زور قطار رو رہی تھی

“ارے میرے بیٹے کو جیتے جی تم سب نے سکون نہیں کرنے دیا اب مر کر تو اسے رسوا نا کرو ظالموں”

وہ دبی دبی بوڑھی شکستہ آواز میں بولی تھی

“موسم خراب ہے تم سب یہ بعد میں کر لینا اب میت کو دفنانے دو،میرے بھائی کا کفن تو میلا ہو لینے دو تم لوگ”

مرنے والے کا بھائی جو ان لڑکوں کا چچا تھا وہ آنکھوں پر ہاتھ رکھ کر روتے ہوۓ بولا تھا

بہادر شاہ ان سب پر ایک نظر ڈالتا اور اپنا کام مزید مستعدی سے کرنے لگتا ۔۔۔

بارش میں تیزی آنے کو تھی میت گیلی ہو رہی تھی سب رشتہ دار باری باری آ کر ان کو سمجھاتے مگر وہ اپنی بات پر بضد تھے موسم کے تیور اپنی جگہ الگ خراب تھے ۔۔۔

ایک ایک کر تمام رشتہ دار لعن تعن کرتے وہاں سے جانے لگے تھے بارش میں جیسے ہی تیزی آئی ۔

اب وہاں تیز طوفانی بارش،وہ بوڑھی عورت،بیٹی،اس کے تین بیٹے اور بہادر شاہ موجود تھے ۔۔۔

کوئی فیصلہ نہیں ہو پا رہا تھا

وہ بوڑھی عورت ان سب میں بیٹھی کسی سہمے ہوۓ بچے کی طرح رو رہی تھی جس کی اس میں سے کسی کو کوئی پرواہ نہیں تھی ۔۔۔

“میں تجھے کہتی تھی اسلم پتر ۔۔۔ مت اپنی اولاد کی فکر میں گھلا کر اپنی صحت پر توجہ دے ۔۔۔تم نے میری ایک نا سنی ایک ڈیوٹی سے آتا تو دوسری پر نکل جاتا ۔۔۔۔۔آج دو دو پینشن کما کر بھی دوائی کی کمی سے قبرستان پہنچ گیا ہے توں ۔۔۔۔اپنا خیال رکھا ہوتا تو ۔۔۔ آج ۔۔۔۔ کوئی کم نہیں آتا ایک واری اپنا جسم کم کرنا چھڈ دے تے ۔۔۔۔۔اپنے ہی پیسے ورتنے جوگا نہیں رہتا بندہ ۔۔۔۔۔محتاجی بہت بری شے ہے ۔۔۔۔اسلم پتر ۔۔ دیکھ اپنی اس اولاد کا حال جنكی ایک آواز پر توں دل پکڑ لیتا تھا ۔۔۔۔. “

وہ شدت سے رونے لگی تھی

بہادر شاہ نے جب دیکھا کہ ان کی بحث کا کوئی حل نہیں نکل رہا تو وہ ان کے پاس آکر بولا تھا

“تم لوگ اس وقت کوئی قانونی کاغذ بنواکر اپنا حصہ نہیں لے سکتے تو اس لڑائی کا کیا فائدہ؟؟؟”

“کاغذ ہیں میرے پاس،لایا ہوں میں،نئی وصیت بنے گی اس پر اباں کا انگھوٹھا لگےگا،جس کے مطابق ہر چیز کے تین تین حصے ہوں گے”

منجھلا اپنی جيب پر ہاتھ رکھ کر بولا تھا

“کیوں صرف تم تینوں ہی اولاد ہو میں سوتیلی ہوں؟؟؟”

میرا حصہ میرے ہتھ پر رکھو ۔۔۔۔آخر میں سب سے بڑی دھی تھی ابا بہت چاہتا تھا مجھے ۔۔۔

رضیہ آپاں سینہ تان کر بولی تھی

“عورت کا کیا کم حصہ مانگنے کا ،تم آپا اپنے گھر کی ہو گئی ہو تیرا کوئی کم نہیں ہمارے ابے کے ترکے سے چل کم کر اپنا”

سب سے بڑا اسے تقریبا دھکا دے کر بولا تھا

“میں ابھی انگھوٹھا لگاتا ہوں اباں کا بس پھر دفنا دیتے ہیں”

منجھلا میت کے پاس بیٹھ کر بولا تھا

“یہ جھوٹی وصیت میں تم لوگوں کو نہیں بنانے دوں گا”

سب سے بڑا چیخ کر بولا تھا

“یہ تو ہر صورت بن کر رہے گی روک سکتے ہو تو روک لو”

سب سے چھوٹا منجھلے کے پاس بیٹھ کر بولا تھا بادل زور سے گرجے تھے اور بارش نے زور پکڑا تھا

اب وہ باپ کا ہاتھ کفن سے نکال کے اس کا انگھوٹھا لگا رہے تھے ابھی ایک جگہ ہے لگایا ہوگا کہ وہ دونوں میت کے پاس نیچے لیٹ گئے تھے ان کے جسم سے خون کے فوارے چھوٹ رہے تھے بڑے نے ان پر گولیوں کی بارش کر دی تھی

“میں پہلے ہی جانتا تھا”

سب سے چھوٹے نے اپنی جيب سے پستول نکال کر بڑے بھائی پر دے پر دے گولیوں کے فائر کھول دے تھے خود اس کی آنکھیں بند ہو رہی تھیں ۔۔۔

رضیہ آپا نے گھبرا کر باپ کی چارپائی کے نیچے پناہ لی تھی مگر سب سے چھوٹے نے بند ہوتی ہوئی آنکھوں سے ایک گولی اس کے سر میں بھی دے ماری تھی

اب وہاں تیز بارش تھی،ان تینوں بھائیوں اور رضیہ آپا كی خون میں لت پت لاش ۔۔۔۔وہ بوڑھی عورت اب بھی رو رہی تھی ۔۔۔۔

“هاهاهاهاهاها۔۔۔۔”

بہادر شاہ نے ایک بلند قہقہ لگایا تھا اور دوسری طرف دیکھا تھا جہاں وہ پانچ قبروں كی کھودائی ایک ساتھ پہلے ہی کر چکا تھا ۔۔۔۔

دور کہیں وہ وصیت والا کاغذ پانی میں بھیگا پڑا تھا ۔۔۔۔

ان سب کو دفنا کر بہادر شاہ نے اس بوڑھی عورت کو قبرستان میں موجود مسجد میں بیٹھا دیا تھا تا کہ بارش تھم جانے پر وہ اسے اس کے گھر پہنچا سکے ۔۔۔۔

“بادشاہ بننے کی کوشش کروگے تو ۔۔۔۔۔سانس بھی چھین جائے گی ۔۔۔۔۔۔۔وہ اپنی بادشاہت کسی کو نہیں دیتا ۔۔۔۔۔۔وہ اکیلا ہی بادشاہ ہے ۔۔۔۔”

بہادر شاہ سنسان قبرستان میں طوفانی بارش میں لنگڑا کر چلتا ہوا اوپر کی طرف انگلی اٹھا کے بولا تھا ۔۔۔۔