Barish by Jameela Nawab Readelle 50375 Barish Episode 10
Rate this Novel
Barish Episode 10
Barish by Jameela Nawab
پورا دن گزر چکا تھا مدھو اورمناہل نے وہ ہی سعد کا دیا ہوا ناشتہ ہی کیا تھا
عصر ہونے کو تھی مدھو صبح ناشتہ کر کے گولی لے کے دوبارہ سو چکی تھی
باہر بارش ہلکی ہو چکی تھی مناہل کے کانوں میں بار بار سعد کی آواز گونجتی اور اس کا دل اس کے پاس جانے کو تڑپنے لگ جاتا ۔۔۔
“اس کا مطلب ہے سعد کا دل جانتا ہے کہ میں زندہ ہوں ورنہ میت کو دفنا نے کی دیر ہوتی ہے مرنے والا آپ کا کتنا ہی عزیز ہو اللّه عجیب سی ایک صبر کی سِل دل پر رکھ دیتا ہے ۔۔۔یہ اور بات ہے کہ جانے والے کی یادیں تا حیات دل میں ناسور بن کر پھوٹتی ہیں مگر ہم اسے واپس اپنی زندگی میں پانے کی دعا کبھی نہیں کرتے ۔۔۔۔کتنی عجیب سی بات ہے یہ ۔۔
سبحان اللّه ۔۔۔۔۔۔بیشک میرا رب زندگی کے ہر لمحے میں اپنے ہونے کا احساس دلاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔
اس کی ہر لین ۔۔۔۔اور اس کی ہر دین کے پیچھے حكمت اور انسان کی فلاح پوشیده ہے ۔۔۔۔بیشک ۔۔۔”
مناہل نے دل کی گہرائی سے اپنے رب کا شکر ادا کیا تھا ۔۔۔
بارش كی ننھی بوندیں مناہل کے ساتھ باتیں کرنے لگیں تھیں ۔۔
“وہ تمہیں زندگی کہتا تھا نا اپنی؟؟؟”
بارش نے پوچھا تھا
جس پر مناہل خوشی سے بارش میں نکل گئی تھی وہ خوشی سے جھومنے لگی تھی
“ہاں ۔۔۔۔وہ مجھے اپنی زندگی کہتا تھا ۔۔۔اس کا مطلب یہ ہوا اس کا دل مجھے اپنے ہاتھ سے قبر میں اتار کر بھی مجھے ہی ڈھونڈتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔هاهاهاهاها ۔۔۔۔۔آپ ہار گئی امی ۔۔۔۔۔زندگی لینے اور دینے کا اختیار فقط میرے رب کے پاس ہے ۔۔ پھر آپ مجھ سے زندگی کیسے چھین سکتی تھیں ؟؟؟؟”میں بہت جلد سعد تک پہنچ جاؤں گی ۔۔۔۔بہت جلد ۔۔۔۔۔ان شاء اللہ ۔۔۔۔۔اس بار میں آپ کی کسی سازش میں نہیں آؤں گی ۔۔۔۔۔۔اب کی بار آپ مجھے میرے رب سے دور نہیں کر سکتیں ۔۔۔۔ کیوں میرے رب نے مجھے اپنے گناہوں کو سدھارنے کا موقع دیا ہے جو وہ ہر کسی کو دیتا ہے ۔۔۔۔مگر کچھ بد نصیب وہ دوسرا اور آخری موقع بھی گوا دیتے ہیں ۔۔۔۔مگر میں کسی صورت نہیں گنواؤں گی ۔۔۔۔”
“آپ میری زندگی ہو سعد ۔۔۔۔۔۔اللّه اپ کو سلامت رکھے ۔۔۔”
وہ بارش میں سجدہ ریز ہو کر اب اللّه سے دعا کر رہی تھی مدھو جاگ چکی تھی وہ چار پائی میں بیٹھی اس کی ہر دعا پر امین بولی تھی ۔۔۔
“آپی آپ اٹھ گئیں ؟؟”
مناہل مدھو کو دیکھ کر کمرے میں آئی تھی وہ خشک کپڑے لے کر بدلنے جاتے جاتے بولی تھی مدھو نے اپنے زخمی کندھے دباتے ہوۓ محض سر ہلایا تھا
مناہل واپس آ کر نماز پڑھ کر مدھو کے پاس آ کر بیٹھ گئی تھی
“بہت محبت کرتی ہو تم اپنے گھر والے سے منو؟؟”
“ہوں ۔۔۔”
مناہل اپنا رونا روک کر بمشکل بول پائی تھی
“میرا دل کہتا ہے وہ بہت جلد تم تک پہنچ جائے گا”
مدھو کی بات میں یقین تھا ۔۔۔
“مدھو آپی رات کو کیا کھائیں گے ۔۔۔۔۔”
مناہل نے اداسی سے پوچھا تھا
“میں ۔۔۔۔کرتی ہوں کچھ ۔۔۔مدھو جیسے ہی اٹھنے کے لئے کھڑی ہوئی مناہل کی نظر اس کی ٹانگ پر پڑی وہ کافی سوجی ہوئی تھی اور نيلی بھی ۔۔۔
مدھو کے لئیے چلنا محال تھا
“مدھو آپی ۔۔۔۔یہ تو اندرونی چوٹ لگ رہی ہے ۔۔۔ڈاکٹر ۔۔۔ہسپتال جانا پڑے گا ۔۔۔چلیں ابھی چلتے ہیں ۔۔۔کسی سرکاری ہسپتال ۔۔۔جہاں مجھے سعد لے کر جایا کرتے تھے ۔۔۔وہ ڈاکٹر بہت اچھا تھا ۔۔۔ابھی بارش بھی کم ہے ۔۔۔میں گلی میں رکشہ دیکھ کر لاتی ہوں ۔۔۔آپ ۔۔۔آپ ۔۔۔واش روم ہو ائیں تب تک ۔۔۔”
مناہل تیزی سے جانے کے لئے مڑی تھی مدھو نے اسے جگ میں سے سارے پیسے اٹھانے کا کہا تھا اس میں دس دس کے نوٹ تھے جو مدھو نے مختلف موقعوں پر اكهٹے کیے تھے ۔۔۔
مناہل نے تکلیف سے نڈھال مدھو کو دیکھا تھا جس بیچاری سے ان ظالموں نے دو وقت کی روٹی کا آسرا بھی چھین لیا تھا ۔۔۔
مناہل خود کو چادر میں لپیٹتی آنسو صاف کرتی بھاگ کر گلی سے ایک رکشہ لائی تھی اور مدھو کو سہارا دے کر اس میں بیٹھا کر وہ اسی سركاری ہسپتال آ چکی تھی ۔۔
وہ جب تک ادھر پہنچے بارش نے زور پکڑ لیا تھا اور شام کی اذان بھی ہونے لگی تھی۔۔۔
مناہل اس مہربان ڈاکٹر کو جانتی تھی وہ اذان ہوتے ہی نماز پڑھنے اٹھ جاتا وہ جانتی تھی وہ نماز پڑھ رہا ہوگا مناہل مدھو کو بینچ پر بیٹھا کر خود نرس سے جائے نماز لے کر ایک طرف نماز پڑھنے لگی تھی ۔۔
وہ نماز پڑھ کر مدھو کے پاس آ کر بیٹھ گئی تھی جو سر نیچے کیئے آنکھیں موندے اپنی تکلیف کو پی رہی تھی ۔۔۔
اسی وقت ہسپتال میں گہما گہمی کا ماحول بن گیا تھا
لگ بھگ آٹھ سٹریچرز پر بارش میں گیلے مریض اسی جگہ لائے گئے تھے جو جوان لڑکے تھے جو درد سے چیختے ہوۓ فلک شگاف آوازیں نکال رہے تھے ان کے ساتھ آئے ان کے اثر رسوخ والے والدین بے بسی سے ڈاکٹر کے انتظار میں چکر کاٹ رہے تھے
“مجھے بے ہوش کردو ۔۔۔۔بیہوش کردو ۔۔۔یہ درد ۔۔۔ یہ درد ۔۔۔۔نہیں برداشت ہو رہا ۔۔۔۔۔۔۔”
ان لڑکوں میں سے ایک چلایا تھا مناہل اس کو دیکھنے اٹھی تھی
وہ دیکھنے میں بلکل ٹھیک تھا مناہل کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اس کو درد کدھر ہو رہی ہے وہ اس کے پاس روتی ہوئی عورت کے پاس آئی تھی
“ان کو درد کہاں ہو رہا ہے ۔۔۔۔میرا مطلب ہے ۔۔۔یہ سب ایک جیسی تکلیف میں لگ رہے ہیں مگر ۔۔ وجہ سمجھ نہیں آ رہی ۔۔۔ “
“رات زہریلی شراب پی لی تھی انہوں نے ۔۔۔۔ کوئی اچھا پرائیویٹ ہسپتال ۔۔ ان کو نہیں لے رہا ۔۔ وہ کہتے ہیں پولیس کیس ہے پہلے رپورٹ درج ہوگی کسی سركاری ہسپتال لے جایئں میڈیا میں نام آیا تو ہماری ریپوٹیشن خراب ہوگی ۔۔۔ ۔۔۔۔ان بچوں کے والدین ۔۔۔۔یہ بد نامی افورڈ نہیں کر سکتے ۔۔ بس اسی لئے ادھر لے آئے ہیں ۔۔۔ “
وہ اب پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی
“اپس میں کزنز ہیں سب ۔۔ “
وہ مزيد بولی تھی ۔۔۔
“ہائے ہماری تو آٹھ نسلیں ۔۔۔برسوں کی عزت داؤ پر لگ گئی ۔۔ “
“مام ۔۔۔۔۔۔نہیں ہو رہا برداشت یہ درد ۔۔ . مام میں مرنے والا ہوں ۔۔۔ میں نہیں بچوں گا . . ۔۔ “
ایک اور آواز گونجی تھی ۔۔
وہ سب مریض بن پانی کی مچھلی کی طرح تڑپ رہے تھے ۔۔۔۔۔۔ان کی چیخیں پورا ہسپتال سن رہا تھا
ان کے امیر والدین اربوں کے مالک ہو کر بھی ان کا درد ختم نہیں کر سکتے تھے وہ بے چین سے چکر کاٹ رہے تھے
مدھو کے جسم کا ایک ایک عضوء بری طرح درد کر رہا تھا اسے بہت رونا آ رہا تھا
“اللّه کے بندوں کیوں مارا مجھے ایسے ۔۔۔۔ہیجڑا ہوں مگر درد تو مجھے بھی تم لوگوں جیسا ہی ہوتا ہے ۔۔ ارے میں اب کھاؤں گی کہاں سے ۔۔۔۔۔اس بھری پوری دنیا سے ایک دو وقت كی روٹی ہی تو لیتی تھی ۔۔۔اللّه تم لوگوں کو ہدایت دے ۔۔۔۔”
وہ بند آنکھیں کیے تکلیف سے رونے لگی تھی
مناہل بھاگ کر مدھو کے پاس آئی تھی ڈاکٹر صاحب بھی آ چکے تھے وہ اب کھڑے ان لڑکوں کو دیکھ رہے تھے ڈاکٹر نے صورت حال سمجھنے کے بعد فورا ان کے معدے کی دھلائی کا حکم دیا تھا وہ خود بھی وارڈ میں ان کے ہمراہ اندر گئے تھے
اب وہاں ان سب کے سٹمک واش ہو رہے تھے وہ سب درد سے بے حال تھے
مناہل مدھو کو لے کر اندر آ گئی تھی ڈاکٹر صاحب جس لڑکے کے پاس کھڑے تھے وہ آخری سانسیں لے رہا تھا باقیوں کے بچنے کی امید بھی سو فیصد نہیں تهی کیوں کہ زہر پورے جسم میں پھیل کر اپنا اثر دکھا چکا تھا کچھ وقت بھی زیادہ گزر چکا تھا
وہ مریض اکھڑتی سانسوں ہاتھ جوڑ کر سامنے دیکھ رہا تھا ڈاکٹر نے اس کی سمت کا تعاقب کیا تو سامنے ایک خواجہ سرا تکلیف سے نڈھال چہرے پر کرب لئے آنکھیں بند کیے کھڑا تھا
“یہ آپ کے کیا لگتے ہیں ؟؟؟”
ڈاکٹر نے مدھو کے پاس آ کر مناہل سے پوچھا تھا جس پر مدھو نے آنکھیں کھول کر ڈاکٹر کی طرف دیکھا تھا جو اپنا ہاتھ سامنے بيڈ پر پڑے لڑکے کی طرف کیے کھڑے تھے
مدھو حیران پریشان پتھرائی ہوئی آنکھوں سے اس کو اور وہاں موجود باقی تڑپتے لڑکوں کو دیکھ رہی تھی جو گزشتہ رات اس پر ہر طرح سے حاوی تھے ۔۔۔جو فرعونیت کا روپ دھارے خدا کی بے آواز لاٹھی کو بھلائے ہوۓ تھے ۔۔۔
اللّه نے ایک رات میں ہی اسے انصاف دے دیا تھا اس کا ادھورا وجود اللّه کے لئے مکمل انسانوں جتنا ہی معتبر تھا ۔۔۔
مدھو مناہل کا ہاتھ چھوڑ کر سجدے میں چلی گئی تھی وہ پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی اسے خوف آیا تھا ۔۔۔۔اللّه کا خوف ۔۔۔۔۔۔اس ذات کا خوف جو ناپ تول میں برابر تولتی ہے ۔۔۔ انسان بھول بھی جائے تو وہ ذات آپ کے ساتھ کی گئی زیادتی نہیں بھولتا ۔۔۔۔وہ وقت آنے پر سارے حساب برابر کر دیا کرتا ہے اس کے لئے وکٹم کا بد دعا دینا ضروری نہیں ہوتا ۔۔۔بیشک مظلوم کی آہ عرش ہلا دیتی ہے ۔۔۔۔خاص کر وہ مظلوم پھر کوئی ادھورا ۔۔۔۔۔کوئی خواجہ سرا ہو ۔۔۔۔پھر اس ظالم کو اللّه کی پکڑ سے کوئی بھی نا بچا سکتا ہے ۔۔۔نا ہی آزاد کروا سکتا ہے ۔۔۔۔
“یا اللّه مجھے معاف کر دے ۔۔۔میں بہت گناہ گار ہوں ۔۔۔۔میں نے کبھی تجھ سے اپنے ساتھ ہونے والے ظلموں کا بدلہ نہیں مانگا تھا ۔۔۔یا اللّه میں ان سب کو معاف کرتی ہوں ۔۔۔۔۔توں ان کی تکلیف ختم کر دے ۔۔ “
مدھو بری طرح کانپ رہی تھی ۔۔۔اس پر اللّه کا خوف مکمل طور حاوی ہوا تھا ۔۔۔۔
مدھو والدین کی چیخوں كی آواز سے اٹھ گئی تھی ایک ایک کر کے وہ سارے دم توڑ چکے تھے ۔۔۔
وہاں قیامت برپا ہو چکی تھی ۔۔۔۔
چند ۔۔۔۔فقط چند لمحے ہی تو لگا کرتے ہیں ۔۔۔۔میت کہلاوانے میں ۔۔۔۔پھر اے انسان تجھے آخر غرور کس بات کا ہے ۔؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
“کیوں تیری نفرت،لالچ ختم نہیں ہوتی ؟؟؟؟؟کفن میں جيب نہیں ہوتی آخر یہ تو کیسے بھول سکتا ہے ؟؟؟؟؟؟؟
وہ امیر والدین روتے بے دم سے اپنے فخر ۔۔۔۔اپنی نسل کی آخری فصل کو لاشوں کی صورت لے جا چکے تھے ۔۔۔۔۔
اولاد ۔۔۔۔اور گھر میں موجود جانور میں فرق کرنا سیکھیں ۔۔۔۔اولاد کو تربیت اور توجہ کی ضرورت روٹی سے کئی زیادہ ہوتی ہے ۔۔۔
اولاد ایک وقت کی روٹی کھا کر بھی پل جایا کرتی ہے ۔۔۔۔۔مگر جہاں تربیت کا فقدان ہو ۔۔۔اس کی کمی آپ کی نسل بدل دیتی ہے ۔۔۔۔آپ کی نسل ختم کر دیتی ہے ۔۔۔۔
اخلاقی موت جسمانی موت سے زیادہ بڑا خلاء پیدا كرتی ہے ۔۔۔
“کیا۔۔۔۔۔۔۔ کیا تھا انہوں نے آپ کے ساتھ ؟؟؟
ڈاکٹر نے مدھو سے ان لڑکوں کے ظلم کے متعلق پوچھا تھا
“بس جانے دیں یہ بات اب ڈاکٹر بابو ۔۔۔جو اس دنیا سے ہی چلا گیا ۔۔۔۔اس سے شکوہ کیسا ۔۔۔۔بہت بے رحم ہوتا ہے انسان وہ اپنے پیاروں کو مٹی میں تو دفنا دیتا ہے مگر اس کے گناہ تا عمر اپنی زبان میں زندہ رکھتا ہے ۔۔۔۔جب اللّه نے ایک انسانی وجود کو جو ساری عمر مٹی سے خود کو صاف رکھنے میں گزار دیتا ہے اس کو مٹی کے حوالے کرنے کا حکم دیا ہے پھر ہم اس جڑی بری باتیں کیوں نہیں دفنا سکتے ؟؟!ایک مرا ہوا انسان ان باتوں کا کوئی ازالہ کوئی جواب نہیں دے سکتا ۔۔۔۔۔بس اللّه ان بچوں پر رحم کرے ۔۔۔ان کے ماں باپ کو صبر ۔۔۔۔ہاأااااےےےےےے۔۔۔۔۔۔مدهو کے جسم میں ٹیس اٹھی تھی
ڈاکٹر صاحب مدھو کے لئے ویل چیئر منگوا کر وارڈ میں شفٹ کروا چکے تھے مدھو کو فوری طور پر ڈرپس میں سکون آور انجکشن ڈال کر سلا دیا گیا تھا جبکہ خون کے سیمپل ليب بھیجوا کر ایکس۔رے کے لئے صبح کی ڈیٹ دے دی گئی تھی۔۔
ڈاکٹر علی بہت خدا ترس ڈاکٹر تھے انہوں نے مدھو کی ساری ذمہ داری اپنے سر لے کر اس کی خاص کیئر کا پورے سٹاف کو حکم دیا تھا اور ویسے بھی یہ ایک سركاری ہسپتال تھا جہاں علاج سستا تھا ۔۔
ڈاکٹر علی نے مناہل کے لئے کھانے کا بھی سٹاف کا کہہ دیا تھا اب مدھو سو چکی تھی جبکہ مناہل اس کے پاس کھلی کھڑ کی سے باہر تیز بارش کو دیکھ رہی تھی یہ وارڈ دوسری منزل پر تھا ۔۔۔
“یا اللّه تیرا شکر ۔۔۔۔آپ نے وسیلہ بنا دیا ۔۔۔۔بیشک اللّه مسئلے سے پہلے اس کا حل بھیج دیا کرتا ہے ۔۔۔”
مناہل نے ہاتھ باہر نکال کر بارش کے قطروں کو اپنے ہاتھوں میں بھرا تھا ۔۔۔
مدھو پر سکون سی سو رہی تھی ۔۔۔۔
۔******************
ماسٹر جی ۔۔۔اسکول سے واپس گھر آ رہے تھے وہ اپنی پرانی مگر مظبوط سائیکل پر گلی سے گزر رہے تھے جب ایک گھر سے لڑنے کی آوازیں ان کے کانوں سے ٹکڑائی تھی
کوئی لڑکی بری طرح رو رہی تھی چیختے ہوۓ ۔۔۔
ماسٹر جی اس آواز پر بے چین ہو گئے تھے وہ خود کو دروازہ کھٹکھٹانے سے روک نہیں پائے تھے
دیکھنے والے نے ان کو دیکھتے ہی بہت خوشی کا اظہار کیا تھا
“بس ماسٹر جی ۔۔۔۔آپ ہی ہمارا مسئلہ حل کر سکتے ہیں،سمجھو اللّه نے آپ کو اس وقت فرشتہ بنا کر بھیج دیا ہے”
ماسٹر جی اندر آ چکے تھے جہاں ایک لڑکی سر پر دوپٹہ سنبهالتی ماسٹر جی کی طرف دیکھ رہی تھی اس کا چہرہ زیادہ رونے کی وجہ سے لال پڑ چکا تھا بال بکھرے ہوۓ تھے وہ بری طرح گھبرائی ہوئی لگ رہی تھی
اس کے پاس اس کی ماں،چھوٹی بہن اور ایک بھائی بیٹھے ہوۓ تھے ۔۔
ماسٹر جی بھی ایک کرسی پر بیٹھ گئے تھے باپ نے چھوٹی بیٹی کو چاۓ پانی کے لئے کچن میں بھیج دیا تھا وہ ماسٹر جی کا گھٹنا پکڑ کر پاس والی کرسی پر بیٹھ کر بولنا شروع ہوا تھا
“ماسٹر جی یہ میری بیٹی ايمن ہے،16 کر کے شہر سے ابھی کچھ دن پہلے ہی آئی ہے،ہمارے ہاں رواج ہے ہم برادری سے باہر نہ رشتہ دیتے ہیں نا ہی لیتے ہیں ۔۔۔اب برادری میں ایک ہی منڈہ ہے جس کے ساتھ ہم اس کی شادی کے خواہش مند ہیں جب تک یہ ادھر تھی اس کا ایک ہی مطالبہ تھا بس ابو سولہ کر لینے دیں پھر آپ جیسا کہیں گے کروں گی ابھی یہ صاف انکاری ہے ۔۔۔”
باپ نے ماسٹر جی کی طرف انصاف طلب نظروں سے دیکھا تھا
“بیٹا آپ کچھ کہیں گی ؟؟؟”
ماسٹر جی نے اس حراساں لڑکی کی طرف دیکھا تھا جس کو دیکھ کر ایسا گمان ہوتا تھا اسے سانس لینے کے لئے اکسیجن کم پڑ رہی ہے
“سر ۔۔۔۔۔”
وہ بهرائی ہوئی آواز میں بیٹھے ہوۓ گلے سے بھاری آواز میں بمشکل بولی تھی
“سر ۔۔۔وہ لڑکا ۔۔۔۔میٹرک پاس ہے ۔،۔۔۔۔سارا دن گلی محلے میں لڑکیاں تاڑنے اور جوا کھیلنے کے علاوہ اسے دوسرا کوئی کام نہیں ہے ۔۔۔۔وہ نہایت ہی گندی خصلتوں کا مالک ہے ۔۔۔بہت بار ہاسٹل آ کر بھی مجھے اکیلے ملنے اور فون پر نا زیبا گفتگو کے لئے پریشان اور مجبور کر چکا ہے ۔۔۔
میں نے امی ابو کی خاطر بہت بار خود کو اس رشتے کے لئے راضی کرنے كی کوشش کی ہے مگر ۔۔۔۔۔میں ۔۔۔یہ شادی نہیں نبها سکتی ۔۔۔۔میں مجبور ہو کر بھی خود کو رضامند نہیں کر پا رہی ۔۔۔اور ابو نے مجھ سے بنا پوچھے یہ رشتہ طے کیا تھا ۔۔میں تب یہاں تھی ہی نہیں ۔۔۔”
وہ بے بس سے بول رہی تھی
“مجھے لگا ۔۔۔۔ابو نے آج تک میری ہر خواہش پوری کی ہے تو مجھے شعور دیا ۔۔ پڑھایا لکھایا تو اتنا بڑا فیصلہ وہ ۔۔۔۔۔ایک جاہل لڑکے کے ساتھ ۔۔۔۔۔مجھے ابھی بھی یقین نہیں آتا “
وہ اپنے چہرے پر آئے بال پیچھے کرتی ایک بار پھر رو دی تھی
“یہ بیٹا ہے آپ کا ؟؟”
ماسٹر جی نے پاس بیٹھے پندرہ سالہ لڑکے کی طرف دیکھ کر پوچھا تھا
“اس کی شادی بھی بنا پوچھے طے کی ہوگی؟؟”
“ارے نہیں یہ تو میرا شیر ہے شیر یہ جس پر ہتھ رکھے گا ادھر کروں گا اپنے پتر کی شادی”
وہ بیٹے کی طرف فخر سے دیکھ کر بولے تھے ۔۔۔
“ماسٹر جی ۔
اس كملی کو آپ ہی سمجھائیں ہمارا دل توڑ کر یہ کبھی بھی خوش نہیں رہ سکتی ہاں ۔۔ پڑھ لکھ کے یہ ماں باپ کی نافرمانی کرے گی ہم میاں بیوی نے تو کبھی خواب میں بھی سوچا نہیں تھا
ماں نے اپنا دوپٹہ کانوں کے پیچھے کرتے ہوۓ بیٹی کو اداسی سے دیکھ تھا
“آپ کو کس نے کہا ہے اگر اولاد اپنی پسند سے شادی کرنا چاہے یا کسی نسبت سے انکار کر دے تو وہ اولاد نافرمانی میں آتی ہے ؟؟؟؟”
ماسٹر جی کے منہ سے اپنی امید کی برعکس بات سن کر وہ میاں بیوی منہ کھول کر رہ گئے تھے
“اولاد بیٹا ہو یا بیٹی ہو ۔۔۔۔ان کی پسند نا پسند ،ہاں اور ناں دونوں کا احترام والدین پر فرض ہے ۔۔۔جب نکاح ہوتا ہے تب بیٹا اور بیٹی قبول ہے کہتے ہیں نا ان کی جگہ کبھی کوئی باپ یا ماں يا کوئی اور رشتہ قبول ہے بولا ہے کبھی ؟؟؟جب ایک رشتہ ان کی قبولیت کے بغیر بن ہے نہیں سکتا نکاح ہی نہیں ہو سکتا پھر والدین اس معاملے میں اپنی مرضی مسلط کر بھی کیسے سکتے ہیں ؟؟؟؟”
“ایک بار ایک صحابہ حضرت محمد صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضر ہوۓ اور خوش ہو کر آپ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم کو اپنے نکاح کا پیغام بھیجوانے کا بتایا ۔۔۔۔
آپ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم نے ان سے پوچھا کیا تم اس لڑکی کو دیکھ چکے ہو ؟؟؟
انہوں نے عرض نہیں رسول اللّه صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم
اس پر آپ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم نے فرمایا ۔۔۔مل لو ۔۔۔۔ایک بار دیکھ لو ۔۔۔
اس کا مطلب ہوا اسلام میں پسند یا نا پسند کرنا غلط نہیں ہے ۔۔۔
حضرت جبرائیل وحی لے کر آ چکے تھے کہ یا رسول اللّه اپنی بیٹی فاطمہ کا نکاح حضرت علی سے کر دے ۔۔۔حضرت علی نکاح کا پیغام لئے سامنے بیٹھے تھے ۔۔۔
اوپر سے خدا کا حکم آ چکا تھا لیکن کیا تم جانتے ہو ہمارے نبی صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم نے کیا کیا ؟؟؟!”
دونو ں میاں بیوی مزيد پاس ہو کر ماسٹر جی کے پاس بیٹھ گئے تھے
“وہ حضرت علی کو ان شاء الله کہتے ہوۓ اپنی بیٹی فاطمہ کے پاس گئے اور ان کی رضامندی طلب کی۔۔۔۔۔سبحان اللّه ۔۔۔۔۔۔کیا وہ نہیں جانتے تھے جب وحی آ گئی ہے اب اس بات سے انکار ممکن نہیں ۔۔۔مگر انہوں صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم نے پھر بھی اپنی بیٹی کی منشاء جاننا ضروری سمجھی ۔۔۔۔”
“تم لوگ کس دین کے نام پر اولاد کو انکار کرنے پر نافرمان کا لقب دے رہے ہو ؟؟؟؟”
“شادی کے معاملے میں بیٹا ہو یا بیٹی دونوں کی رضا ایک جیسی ہی ضروری ہے ۔۔۔”
“یہ حق ہے کہ ایک پڑھا لکھا بندہ ہی ایک پڑھی لکھی لڑکی کے ساتھ شادی کرے ۔۔۔۔تا کہ ان میں اعتراض کی گنجائش کم سے کم ہو ۔۔۔۔ذہنی ہم آہنگی ہو ۔۔۔۔”
“جس طرح کسی کی زمین دبانا ظلم اور گناہ کا کام ہے نا ویسے ہی کسی اولاد کی خوشی کو دبا دینا بھی ظلم اور گناہ ہے ۔۔۔
ماسٹر جی کی بات پر دونوں میاں بیوی جو بیٹی کو عنقریب دوزخی کا لقب دینے والے تھے اٹھ کر بیٹی کو گلے لگا کر رونے لگے تھے ۔۔۔
جب بچہ چھوٹا ہوتا ہے والدین اسے اپنی مرضی کا لباس پہناتے ہیں مگر وہ جیسے جیسے بڑا ہوتا ہے وہ اپنی مرضی کا لباس پہنتا ہے ۔۔۔اسلام تو میاں اور بیوی کو ایک دوسرے کا لباس کہتا ہے نا ؟؟؟
“خدارا اپنے بچوں کو ان کی پسند سے شادی کرنے دیں”
“بیٹا آپ کسی کو پسند کرتی ہو ؟؟؟”
“نہیں ۔۔۔میں آرمی میں جانا چاہتی ہوں ۔۔۔۔بس اتنی سی خواہش ہے ۔۔۔”
وہ منہ پر ہاتھ رکھ کر بری طرح رو دی تھی ۔۔۔
“اپنی بیٹی کو انسان سمجھیں ۔۔۔۔۔اس کو جانور سمجھ کر کھونٹی کے ساتھ مت باندھیں ۔۔۔۔۔جس رشتے کے لئے دل نا راضی ہو ۔۔۔۔وہ شاذونادر ہی نبها کرتا ہے ۔۔۔”
ماسٹر جی اٹھ کر جاتے جاتے اس لڑکی کے پاس رک گئے تھے
“بیٹا امی ابو کسی صورت نا مانے ۔۔۔۔زبردستی پر ڈھتے رہے تو تم مان جانا ۔۔۔۔بغاوت مت کرنا ۔۔۔۔اسی میں اللّه آپ کے لئے بھلائی ڈال دے گا ۔۔۔۔جس زندگی میں والدین کی دعا نا ہو وہ کبھی آپ کو دلی خوشی،سکون اور راحت نہیں دے سکتی ۔۔۔”۔
ماسٹر جی موسم کے تیور دیکھ کر گھر کی طرف چل دیے تھے ۔۔۔بارش بس آنے والی تھی ۔۔۔
رات کا کوئی پہر تھا ماسٹر جی کی آنکھ سلطانہ کی الٹیاں کرنے کی آواز سے کھل گئی تھی وہ منی کو سوتا دیکھ کر اس کا فیڈر سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر باہر آ گئے تھے تیز بارش ہو رہی تھی سلطانہ منہ صاف کرتی نڈھال سی غسل خانے سے نکلی تھی
“کیا بات ہے بيگم طبیعت کیوں خراب ہے ؟؟!”
ماسٹر جی نے فکر مندی سے پوچھا تھا
“میرا بیٹا پیدا ہونے والا ہے ماسٹر صاحب”
وہ خوشی سے بولی تھی میں امید سے ہوں ۔۔۔
“یا اللّه تیرا شکر بہت اچھی خبر دی تم نے”
ماسٹر جی بیوی کو پیار سے اندر لے آئے تھے
ایسے ہی وقت گزرتا رہا چھوٹی بیٹی جس کا نام سلطانہ نے بابا جی کے حکم سے وہ رکھا تھا جو کسی مسلمان لڑکی کا ہو ہی نہیں سکتا ۔۔۔سیتا ۔۔۔۔
ماسٹر جی لاکھ ناں ناں کرتے بھی پنی بیوی کی بات ٹال نا سکے ۔۔۔
مگر انہوں نے کبھی بھی اپنی بیٹی کو اس نام سے پکارہ نہیں تھا وہ اسے منی ہی کہتے ۔۔۔
منی دو سال کی ہونے کو تھی اور دوسرے بچے کا ساتواں مہینہ چل رہا تھا
سلطانہ کو اس بچے کی جنس کے بیٹے ہونے کا پورا یقین تھا وہ دن رات تکلیف میں بھی مختلف شیطانی کاموں میں مصروف رہتی رات کے دوسرے پہر میں وہ تیز بارش میں برگد کے پيڑوں کے نیچے کھدائی کرتی اور کبھی کچھ دفناتی کبھی نکالتی ۔۔۔۔
اسی دوران وہ پهسلی اور ایمرجنسی میں اس کو ہسپتال لے کر جایا گیا بچاؤں ہو گیا تھا الٹرا ساونڈ کیا گیا جس میں نرس سے پوچھنے پر اس نے بیٹی کی خبر دی تھی ۔۔۔
یہ خبر سننے کی دیر تھی وہ اسی تکلیف میں گھر کی بجاے بابا جی کے پاس گئی تھی
جنہوں نے اسے شیطان کی ناراضگی وجہ بتا کر بیٹی ہونے کی سزا بتائی تھی
سلطانہ جنونی کیفيت میں سر دھننے لگی تھی وہ اسی وقت اپنے پیٹ میں وجود سے جان چھوڑواکر شیطان کو خوش کرنا چاہتی تھی ۔۔۔
ماسٹر جی سخت پریشانی کے شکار تھے آخر کار وہ کچھ دن بعد اپنی زبردستی ڈیلیوری کروا کر بیٹی کو اس بابے کے حوالے کر آئی تھی جنہوں نے اسے شیطان دیوتا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے بلی چڑھا دیا تھا
ماسٹر جی یہ جانتے تھے کہ ان كی بیوی توہم پرستی کا شکار ہے مگر وہ اس حد تک ذہنی مفلوج ہو چکی ہے اس بات کا ان کو ذرا برابر بھی اندازہ نہیں ہوا تھا
حد تو تب ہوئی جب وہ دو دن تک گھر سے غائب رہی اور دو دن بعد خالی وجود کے ساتھ گھر آئی ۔۔۔۔
وہ جسمانی لحاظ سے لاغراور پيلی زرد لگ رہی تھی مگر اعصابی طور پر وہ بہت مظبوط اور مطمئن لگ رہی تھی ۔۔۔
ماسٹر جی نے اس سے بات کرنا ترک کردی تھی ۔۔
وہ بس اپن منی تک محدود ہو کر رہ گئے تھے ۔۔۔مگر اسے اس بات کی کوئی پروا نہیں تھی وہ دن رات چلے کاٹتی اور دیوانہ وار ہنستی رہتی ۔۔۔
ماسٹر جی کی برداشت کی حد تو اس دن ختم ہو گئی جب منی چھ سال کی ہو چکی تھی اور سلطانہ دوبارہ امید سے تھی ۔۔۔۔اور وہ بچہ ماسٹر جی کا نہیں تھا ۔۔۔۔
۔************
دن کے بارہ بج رہے تھے بہادر شاہ جھونپڑی کے دروازے میں موسم کو دیکھ رہے تھے آسمان آلوده تھا مگر بارش نہیں ہو رہی تهی ۔۔۔
“ابا”
“همممم ۔۔۔”
“ابا یہ بارش کیوں تھم گئی ہے؟؟؟”
بہادر شاہ نے منی کو کوئی بھی جواب دیے بغیر اس سمت اشارہ کیا تھا
سامنے ایک بہت بڑا جنازہ آتا ہوا نظر آ رہا تھا جس میں ہر عمر کے لوگ شامل تھے سب ایسے رو رہے تھے جیسے مرنے والا ان کا بہت قريبی ہو ۔۔
آج تک ایسا جنازہ نظر سے نہیں گزرا تھا پورے قبرستان میں ٹھنڈی ہوا چلنے لگی تھی بارش مکمل تھم چکی تھی ۔۔۔ایک دل کو چھو لینے والی خوشبو ہر طرف پھیل گئی تھی
بہادر شاہ سمجھ گیا تھا اللّه کو کوئی نيك بندہ آج یہاں لایا گیا ہے ۔۔۔
وہ منی کو ادھر رکنے کا کہہ کر خود ایک جگہ قبر کھودنے نکل گئے تھے
جب تک وہ جنازہ پڑھا گیا بہادر شاہ قبر تیار کے چکا تھا
قبر کی مٹی نہایت نرم اور خوشبودار تھی ۔۔۔۔
قبر کسی نرم بستر کی طرح لگ رہی تھی میت کو وہاں رکھ دیا گیا ان کا آخری دیدار کیا جانے لگا وہ سب ایک قطار میں منظم انداز سے میت کا چہرہ دیکھتے اور کرب سے روتے ہوۓ گزر جاتے ۔۔۔
بہادر شاہ ہر گزرنے والے کی تکلیف کا اندازہ لگا کر میت سے اس کا رشتہ سمجھنے کی کوشش کرتا مگر ہر عمر کا انسان پہلے سے زیادہ تکلیف میں نظر آتا جو اس کا اندازہ خراب کر دیتا ۔۔۔
“آپ نے اس دن مجھے نا سمجھایا ہوتا تو آج میں کامیاب زندگی نا گزار رہا ہوتا ۔۔۔۔۔میں اپ کے حق میں تاحیات دعا گو رہوں گا ۔۔۔۔۔۔۔ماسٹر جی ۔۔۔”
بہادر شاہ جو میت کا چہرہ دیکھنے آگے بڑھ رہا تھا اس آواز پراس لڑکے کی طرف بے اختیار دیکھنے لگا تھا
وہ وہ ہی تھا جو منگ کے نام پر رات جاگ کر خود پر ظلم کرتا تھا ۔۔۔
بہادر شاہ نے لائن توڑ کر بھاگ کر میت کا چہرہ دیکھا تھا ۔۔۔
کچھ وقت ایسے ہی گزر گیا تھا ۔۔۔۔بہادر شاہ کسی بدکے ہوۓ جانور کی طرح بے لگام دوڑنے لگا تھا وہ کافی دیر ایسے ہی بے مقصد بھاگتا رہا پھر وہ تهک کر گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا تھا
“اللّه؟ ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟”
وہ زور قطار رونے لگا تھا ۔۔۔۔
“ماسٹر جی مر گئے ۔۔۔۔تم سب سن رہے ہو نا ؟؟؟؟؟؟”
وہ قبروں کی طرف دیکھ کر بول رہے تھے منی بھاگ کر بہادر شاہ کے پاس آئی تھی
میت دفنا دی گئی تھی ۔۔۔کافی دیر تک ماسٹر جی کے شاگرد بیٹھے روتے ہوۓ فاتح خوانی کرتے رہے ان میں وہ سب لوگ شامل تھے جن کی زندگی ماسٹر جی نے سنوارنے کی کوشش اپنے الفاظ سے کی تھی ۔۔۔۔۔بیشک نيكی ہی قبر میں بھی آپ کے کام آتی ہے ۔۔۔ اب وہ بھی جا چکے تھے ۔۔۔
منی حیران پریشان بہادر شاہ کو دیکھ رہی تھی
“ابا کیا ہوا ہے کون مر گیا ہے تیرا ؟؟؟؟”
بہادر شاہ دھاڑے مار مار کر روتا ہوا منی کا ہاتھ پکڑ کر اس نئی قبر جو لال پھولوں سے بھری ہوئی تھی جس كی مہک پورے قبرستان کو مہکا رہی تھی اس پر لے کر آیا تھا
جہاں پر
“بہادر شاہ ولد بہرام شاہ”
لکھا ہوا تھا ۔۔۔
بجلی زور سے چمکی تھی بارش بھی شروع ہو گئی تھی بہادر شاہ اس قبر پر سر رکھ کر لگاتار رو رہا تھا اب منی بھی آنکھیں ملتی رونے لگی تھی ۔۔۔
