442.5K
18

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Barish Episode 5

Barish by Jameela Nawab

سعد مناہل کو گھر واپس لے آیا تھا ڈاکٹر نے بخار کی وجہ ٹھنڈ لگنا بتائی تھی جس کے لئے بخار کی عام سی دوائی پیناڈول دے دی تھی ایک ڈرپ لگا کر گھر بھیج دیا تھا

وہ لوگ گھر آۓ تو سفورا گھر پر موجود نہیں تھی وہ اتنی عجلت میں نکلی تھی گھر کو تالا تو دور کنڈی بھی لگانا بھول گئی تھی

بارش ہلکی ہو چکی تھی اب ٹھنڈی ہوا نے چارج سنبهالا تھا سعد مناہل کو گرم رضائی اوڑھا کر سونے کا کہہ کر خود کچن میں آیا تھا اب وہ دیسی مرغی جو وہ ابھی آتے ہوۓ کسی دوست سے خرید لایا تھا اس کی یخنی بننی رکھ کر واپس مناہل کے پاس آیا تھا وہ سعد کو دیکھ کر آنکھیں کھول کر مسکرائی تھی ۔۔۔

“سر دباؤں ؟؟؟”یار رات نا ہی تمہاری مانتا تو اب تم یوں بیمار نا پڑی ہوتی ۔۔۔بیمار تم لیٹی ہو اور زندگی میری رک گئی ہے ۔۔۔۔۔ایسا لگتا ہے میں بیمار ہوا ہوں “

سعد پر خلوص محبت سے مناہل کی طرف دیکھتا ہوا بول رہا تھا جس پر مناہل نہال ہو رہی تھی

“سعد میں بہت ہی عام سی شکل کی لڑکی ہوں اوپر سے آپ کی بیوی بھی ہوں آپ پھر بھی مجھ سے اتنی محبت ۔۔۔۔۔اتنی محبت کیسے کر لیتے ہیں ؟؟؟کیا واقعی آپ باقی مردوں سے مختلف ہیں ؟؟؟”

اس سوال پر سعد کا موڈ بگڑا تھا

“کیا مطلب یار اب یہ بات بھی ثابت کرنے کی ضرورت ہے ؟؟؟”

مناہل نے معصومیت سے سعد کی طرف دیکھا تھا جہاں طنز یا شک کا شائبہ تک نہیں تھا وہ اسے ایسا دیکھ فورا نرم پڑا تھا

“جی میری جان ۔۔۔میں واقعی اپنی بیوی سے بے پناہ محبت کرتا ہوں ۔۔۔۔۔۔جو محبت ہوتی ہے نہ وہ کسی کی اچھی شکل سے نہیں ہوتی ۔۔یہ تو ایک احساس ہے جو دل کی عادت بن جاتا ہے ۔۔۔اس انسان کا خیال ہی ہمیں پر سکون کرنے لگتا ہے وہ کالا ہے گورا ہے لمبا ہے یا چھوٹا ۔۔۔ ان سب باتوں سے بالا تر ۔۔۔۔بس دل میں خوشی بھر جاتی ہے اس خاص انسان کے ساتھ کا سوچ کر ہی ۔۔۔۔”

“مرد کو اپنی بیوی سے خاص محبت خاص اہمیت دركار ہوتی ہے ۔۔گو کہ ہر مرد پھر بھی اپنا نہیں ہوتا مگر اگر عورت ثابت قدم رہے تو وہ ہمارے دل کے کسی کونے میں اہم ضرور ہوتی ہے ۔۔۔۔وہ الگ بات ہے کہ بعض اوقات یہ آگاہی محض پچھتاوہ بن جاتی ہے کیوں کہ پوری زندگی گزر چکی ہوتی ہے ۔۔۔۔وہ عورت تهک کر یا تو ہمیں چھوڑ چکی ہوتی ہے یا پھر وہ دلی طور پر ہم سے بہت دور جا چکی ہوتی ہے ۔۔۔۔مگر میں کسی پچھتاوے کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا ۔۔۔۔اسی لئے تمہیں دل و جان سے اپنی زندگی کا ہر پل فقط چاہنا چاہتا ہوں ۔۔۔۔اگر کوئی ہم کو الگ کر سکتا ہے تو وہ صرف موت ہے ۔۔۔”

اس بات پر مناہل نے سعد کو شکریہ کہا تھا وہ شرم اور خوشی سے لال ہوئی تھی جبکہ دروازے میں کھڑی سفورا کے چہرے پر موت کا سن کر چمک آئی تھی وہ دبے قدم چلتی اب کچن میں آئی تھی کھولتی یخنی کو دیکھ کر اس کا خون کھولا تھا

“سمجھ دار ہے میرا بیٹا ۔۔۔موت ہی واحد حل ہے اس مناہل نام کی بلا کا ۔۔۔”

سفورا اپنے خاص کمرے میں جو باقی تمام کمروں سے نسبتا کافی چھوٹا تھا، آئی تھی جہاں کی چابی سفورا کے علاوہ آج تک کسی کے پاس نہیں گئی تھی نا ہی کوئی اس کمرے کا راز جان پایا تھا

یہ کمرہ چھت پر تھا جو ہمیشہ بند رہتا تھا ایک بڑا سا تالا ۔۔۔۔۔۔اور وجہ یہی بتائی گئی تھی کہ اس میں گھر کا پرانہ فالتو سامان ہے جو بہت غیر ضروری ہے ۔۔۔۔لہذا اس کو بند ہی رکھا جائے ۔۔۔

بارش آہستہ آہستہ تیز ہو رہی تھی سفورا کمرہ کھول کر اندر آئی تھی جہاں تین تابوت پڑے تھے کمرے میں سخت بد بو بھری تھی وہ کھانستی ہوئی منہ پر اپنا دوپٹہ باندھ چکی تھی جس سے اس بد بو کا احساس کچھ کم ہوا تھا

اس نے درمیان والے تابوت کو کھولا تھا جو کالا لباس پہنے کپڑے کی گڑیوں سے بھرا ہوا تھا گڑیوں کے باقاعده تمام اعضاء بناۓ گئے تھے تمام گڑیاں خون آلود تھیں شاید بو بھی انہی کی تھی سفورا نے ان میں سے ایک کو نکال کر اپنے پاس چھپا لیا تھا اس پر بھی خون لگا ہوا تھا

“باجی کیا سمجھتی ہے ساری عمر میں فقط اس کی چیلی بن کر اس کے علوم کی محتاج رہوں گی ۔۔۔۔نہیں ۔۔۔۔میں اپنا اور ان کا دونوں کے علم کے استعمال سے مناہل کی موت لکھوں گی ۔۔۔۔ایسی موت جس سے میں امر ہوجاؤں ۔۔۔۔باجی سمجھتی ہے میں اس کے مقصد سے نا واقف ہوں ۔۔۔۔میں خود اس علم کا استعمال کروں گی اور اس خاص عمل سے باجی کے تمام علوم کی جانشین بنوں گی ۔۔۔هاهاهاهاها ۔۔۔”

اس نے ان باقی کے دونوں تابوتوں کے ڈھکن اٹھا کر دیکھا تھا اس نے ان میں ایک چھوٹی سی شیشی سے خاص پانی ڈالا تھا اور سر کو نفی میں دھنتے ہوۓ ان کو بند کیا تھا

اب وہ اس گڑیا کو سامنے رکھ کر کوئی خاص منتر پڑھ رہی تھی جس سے تھوڑی ہی دیر میں وہ گڑیا بولنے لگی تھی

“روز کفن پہن کر سویا کرو ۔۔جب تک وہ قبر تمہیں مل نہیں جاتی جس میں باجی نے دفن ہونا ہے ۔۔۔۔”

وہ اتنا بتا کر بے جان ہو گئی تھی

سفورا نے اٹھ کر اس گڑیا کو اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا تھا

اب وہ دوسرے ہاتھ سے ایک شاپر ڈھونڈ رہی تھی جو مل نہیں رہا تھا سفورا کی نظر ایک دم گڑیا پر پڑی تھی جو اپنی نظریں سفورا پر گاڑے ہوۓ تھی

“کہیں تم وہ راکھ والا شاپر تو نہیں ڈھونڈ رہی جس میں کالے علم کے بادشاہ ہندو پنڈت کے چیتا کی راکھ ہے ؟؟؟”

اس گڑیا میں جان صرف اس خاص منتر سے ہی کسی خاص بابت کے لئے ڈالی جاتی تھی مگر اس کا خود سے بولنا سفورا کو خوف زدہ کر گیا تھا اس کے ہاتھ سے وہ چھوٹ گئی تھی وہ ڈر کے دیوار سے جا لگی تھی

“هاهاهاهاها ۔۔۔۔ باجی کے ساتھ غداری مت کر سفورا بعض آجا اپنے بد نیتی سے ورنہ اچھا نہیں ہوگا تیرے ساتھ ۔۔۔۔جو ہے یہ سب چھین جائے گا”

“تممممم کون ہو ؟؟؟”

“میں ؟؟؟میں وہ ہی موکل ہوں تمہارا جو تم سے عشق کرنے لگا تھا مگر تم نے مجھے آزاد کر دیا ۔۔۔تمہارا خیر خوا ہوں ۔۔۔۔۔میں جب چاہے کوئی بھی روپ دهار سکتا ہوں ۔۔۔”

“اچھا ۔۔۔۔شاکا میری مدد کروگے اس مناہل کو ختم کرنے میں ؟؟؟”

“نہیں ۔۔۔۔مجھے کسی كی جان لینے کی اجازت نہیں ہے ۔۔۔ہاں مگر میں تمہیں اس برائی کو چھوڑ کر میرے ساتھ امر ہو جانے کا ضرور کہوں گا ۔۔۔

سفورا اس سے بات کرتے کرتے اس خاص پانی كی شیشی کی طرف گئی تھی جس کا پانی اس نے ایک جھٹکے سے اس گڑیا پر ڈالا تھا جس سے وہ کالا سایا بن کر اس گڑیا سے باہر نکلا تھا

“اففففف ۔۔۔ مت کرو ۔۔۔۔۔تم نے اچھا نہیں کیا میرے ساتھ سفورا ۔۔ ۔مجھ پر یہ طلسماتی پانی ڈال کر تم میری طاقت حذف کر سکتی ہو مگر مجھے مار نہیں سکتی ۔۔۔۔ابھی جا رہا ہوں میں مگر یاد رکھنا اس بار میری واپسی کا مقصد تمہاری تباہی ہوگا ۔۔۔۔اور وہ ہوگا تمہارے بیٹے کی موت ۔۔۔۔زندہ لاش ۔۔۔۔بن کر رہ جائے گا سعد ۔۔۔”

عصر كی اذان ہونے لگی تھی سفورا نے راکھ کا شاپراور وہ گڑیا بغل میں دبا کے نیچے گئی تھی بارش اپنے زوروں پر تھی مناہل سو رہی تھی شاید دوائی کا اثر تھا اور سعد کچن میں اس کے لئے کھانا بنا رہا تھا

سفورا نے خود کو باہر سے ابھی آتا ظاہر کیا اور سعد سے مناہل کی رسمی خیریت پوچھ کر وہ اپنے کمرے میں آئی تھی

۔***************

دن کا وقت تھا منی قبرستان میں کھیلنے گئی ہوئی تھی بہادر شاہ رات کی تیز بارش اور آندھی کی وجہ سے جھونپڑی میں سوراخ ہو گئے تھے وہ ان کی مرمت میں مصروف تھا جب منی ایک آدمی کے ساتھ اندر آئی تھی

“ابا ان صاحب کو قبر کھدوانی ہے میت بس آتی ہوگی یہ بہت جلدی میں ہیں”

منی دونوں ہاتھ تیز تیز جھولتی ہوئی بولی تھی

بہادر شاہ کے چہرے پر مسکراہٹ گہری ہوئی تھی

“ہم تو بیٹھیں ہی یہاں قبریں کھودنے کے لئے ہیں جو آپ کا حکم صاحب چلیں بارش ابھی ہلکی ہے پہلے آپ کا کام کر دیتا ہوں”

تیز یخ بستہ ہوا ہڈیوں میں گھس رہی تھی دن میں بھی شام کا منظر تھا بارش ابھی بھی ٹپ ٹپ برس رہی تھی بس رفتار آہستہ تھی بہادر شاہ لنگڑاتا ہوا اس آدمی کے ساتھ ہو لیا تھا جو نہایت مہنگے کپڑے اور اصلی چمڑے کا کوٹ جو ایک اوور کوٹ تھا وہ گھٹنوں تک اس کوٹ میں چھپا ہوا تھا اس کی دولت اس کے پہناوے میں چیخ رہی تھی اس کے ہاتھ میں چھتری تھی اور لینڈ کروزر بہادر شاہ کے غریب خانے کے باہر کھڑی تھی جس پر جھنڈا بھی لگا ہوا تھا جو اس کے سركاری ہونے کا پتہ دے رہی تھی

بہادر شاہ نے ایک نظر اس کی سواری پر ڈال کر قبرستان کے اندر جانا شروع کیا تھا

“یار تم اس طرح لنگڑاتے رہو گے تو آج کی تاریخ میں کھد گئی قبر ۔۔ “

وہ آدمی بیزار سا بولا تھا جس پر بہادر شاہ نے اس کی طرف مڑ کر دیکھا تھا

“صاحب ایک میری بات سن لو ۔۔۔تم امیر ہوگے اپنے گھر میں ۔۔۔مگر یہ میرا کام ہے جس کے لئے تم جیسے لوگ ہمارے محتاج ہیں ۔۔۔۔ابھی بھی تم لوگ ہمیں کیڑے مکوڑے سمجھتے ہو ؟؟؟؟آخری سفر کی سواری ہم فراہم کرتے ہیں ۔۔۔۔جب انسان اتنا بے بس ہے کہ مرنے کے بعد وہ خود سے اپنی قبر نہیں کھود سکتا یہاں آ کر اس میں دفن نہیں ہو سکتا پھر یہ غرور کیسا ؟؟؟اپنی اوقات کیوں بھول گیا ہے ؟؟؟”

“واہ ۔۔۔۔بہت باتیں آتی ہیں تمہیں ۔۔۔هاهاهاهاها ۔۔۔گورکن ہو ۔۔۔۔فلسفہ مت جھاڑو ۔۔۔جاہل آدمی اپنی اوقات تم بھول رہے ہو”

“هاهاهاهاهاها ۔۔۔۔”

بہادر شاہ کا قہقہ بلند ہوا تھا

“جلدی کرو پاگل آدمی بارش تیز ہو رہی ہے وقت کم ہے ڈیڈ کو لاتے ہی ہوں گے،فلائٹ ہے میری”

وہ وقت دیکھ کر بے چین سا بولا تھا

بہادر شاہ خاموشی سے تیز تیز چلنے لگا تھا اب کی بار وہ لڑکا اس کی رفتار سے حیران ہوا تھا

ایک جگہ خالی دیکھ کر بہادر شاہ نے اسے کھودنا شروع کیا تھا

وہ لڑکا بیزار سا یہ ساری کاروائی دیکھ رہا تھا

قبر کا گڑھا تھوڑا گہرا ہونے کی دیر تھی اس میں سے کالا بڑا سا سانپ نکل کر غائب ہوا تھا بہادر شاہ نے اس لڑکے کے تاثرات دیکھنے کے لئے اس کی طرف دیکھا تھا جو تھوڑا پریشان ہوا تھا سانپ کو دیکھ کر مگر وہ خاموش تھا

بہادر شاہ جیسے جیسے قبر کھودرہا تھا اس میں سے سانپ نكلنے کا سلسلہ ایسے ہی چلتا رہا ۔۔۔

“لو بھئ کھد گئی قبر آپ کے ڈیڈ کی ایک نظر دیکھ لو ان کے قد کے حساب سے چھوٹی تو نہیں ہے،هاهاهاهاهاها ۔۔۔۔”

بہادر شاہ کی بات میں طنز نمایاں تھا

اس نے جیسے ہی قبر کے اندر جھانکا وہ ڈر کر فورا پیچھے ہٹا تھا

وہ چھتری نیچے رکھ کر لمبے لمبے سانس لینے لگا تھا اس نے اپنی مہنگی شرٹ کے کچھ بٹن کھول کر دئیے ۔۔۔بارش کی نهنی مگر متواتر بوندیں اسے بگھونے لگی تھیں

“یہ ۔۔۔۔۔یہ سب کیا ہے گورکن ؟؟؟یہ سب ۔۔۔۔ اس سب میں ڈیڈ ؟؟؟ڈیڈ کو کیسے دفنائیں گے ؟؟؟”

وہ گھبرایا سا بولا تھا

بہادر شاہ بیلچہ ایک ہاتھ میں پکڑے گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا تھا

“کیا کرتا تیرا یہ ڈیڈ ؟؟؟ مہلت ختم ہونے سے پہلے تک ؟؟؟”

“کیسی مہلت ؟؟؟”

وہ سوال سمجھ نہیں پایا تھا

“هاهاهاهاها ۔۔۔۔۔۔توبہ کی مہلت ختم ہونے سے پہلے تک بھولے لڑکے ۔۔۔”

بہادر شاہ ایک دم سنجیدہ ہوا تھا

“میرے ڈیڈ سیاست دان تھے ۔۔۔۔۔”

“بہت ۔۔۔۔بہت بڑا نام ہے ان کا تم ٹی۔وی نہیں دیکھتے ۔۔۔ورنہ مجھ سے یہ سوال نا کرتے ۔۔۔”

وہ اس بارش میں بھی پسینے میں شرابور ہو رہا تھا وہ اپنا چہرہ دونوں ہاتھوں سے خشک کرتا ہوا بولا تھا

“هاهاهاهاها ۔۔۔۔۔”

بہادر شاہ کا خوفناک قہقہ بلند ہوا تھا

“ارے صاحب یہاں بڑا نام کام نہیں آتا ،یہاں کے لئے بڑے اعمال کی ضرورت ہوتی ہے”

وہ اس قبر کی طرف اشارہ کر کے بولا تھا جو لال باریک کیڑیوں اور بڑے بڑے لال بچھوؤں سے بھری ہوئی تھی

“کیوں کہ اللّه کی یہ مخلوق ٹی۔وی نہیں دیکھتی”

“هاهاهاهاها ۔۔۔۔بیچارہ انسان”

“تمہاری گاڑی بہت مہنگی لگتی ہے گھر بھی بڑا اور عالیشان ہی چھوڑ کر جا رہا ہوگا تیرا ڈیڈ،هاهاهاهاهاها ۔۔۔اور بھی بہت سی جائیداد ہوگی جس کا مالک تمہاری ماں اور بہن بھائی ہو گے ہیں نا ؟؟؟؟”

“جی ۔۔۔۔وہ کافی کچھ کما چکے ہیں اپنی فیملی کے لئے”

وہ اٹھ کر کھڑا ہوا تھا

“اس کا مطلب ہے بہت محبت کرتا تھا وہ تم لوگوں سے،تم بھی کرتے ہو ؟؟؟”

“تم پھر شروع ہو گئے پاگل آدمی،ظاہر سی بات ہے ہم بھی کرتے ہیں”

“ثابت کرو”

بہادر شاہ بھی اٹھ کر کھڑا ہوا تھا

“کیا مطلب ؟؟؟؟”

“تمہارے باپ نے حلال حرام کی تفریق کیے بغیر تمہارے بنک بھرے اور تم سب سے اپنی محبت ثابت کی ۔۔۔۔جس سے آج ان کی آمد کی منتظر یہ زیریلے کیڑیں مکوڑے ہیں اگر اس نے اپنی آخرت کا سوچا ہوتا تو آج اس کا مستقل ٹھکانا اتنا بھیانک نا ہوتا اب تمہاری باری ہے اپنی محبت ثابت کرو”

“کیسے ؟؟؟”

وہ سانس کھینچ کر بولا تھا

“اس قبر میں کود جاؤ اپنے باپ کی جگہ خود دفن ہو کر ۔۔۔”

بہادر شاہ پر سکون سا بولا تھا جیسے یہ ایک معمولی بات ہو

“تمہارا دماغ تو واقعی اور بہت زیادہ خراب ہے تم ؟؟؟تم اپنی اوقات سے باہر آرہے ہو اب”

وہ انگلی دیکھا کر بول تھا

“مجھے میری اوقات مت دکھاؤ”

دیکھو صرف ایک انگلی میری طرف ہے باقی چار کا رخ تمہاری طرف ہے ۔۔۔هاهاهاهاهاها ۔۔۔”

بہادر شاہ اس کے پاس آ کر کھڑا ہوا تھا

“کیا بکواس ہے یہ ؟؟؟تم سے قبر کیا کھدوا لی تم تو میرے باپ بن گئے ہو ہہنہ”

“تمہارا وہ باپ جو اتنی دولت چھوڑ کر جا رہا ہے جو تمہاری کم از کم تمہاری نسل تو بیٹھ کر کھا سکتی ہے وہ تمہاری محبت میں دن رات ایک کیئے حرام کا ڈھیر لگانے میں لگا رہا اور آج تم ان کو ایسی قبر میں دفنانا چاھتے ہو جو بہت خوفناک ہے تمہارا دل اپنے باپ کی دولت لینے کے لئے راضی ہے کیوں کہ یہ تمہارا حق ہے فرض اور محبت کا کوئی مطلب نہیں تمہاری کتابوں میں ؟؟؟”

“تو ۔۔۔۔اس میں میرا کیا قصور ہے ؟؟؟میں نے تو نہیں کہا تھا ان کو وہ حرام کماکر بنک بھریں ۔۔۔وہ ہمیں آسائشوں والی زندگی دیں ۔۔۔یہ خالص ان کی اپنی منشاء تھی اپنی قبر اس سب سے انہوں نے خود بھری ہے میں کیا کر سکتا ہوں”

وہ کندھے اچکا کر بولا تھا

اتنے میں بارش تیز ہوئی تھی بجلی بھی چمکنے لگی تھی بہت سی بڑی بڑی سركاریاں گاڑیاں ایک لائن میں منظم انداز سے وہاں آئی تھیں ان میں ایک ایمبولنس بھی تھی جیسے سارا سفيد اور لال گلاب سے سجایا گیا تھا

سب لوگ مہنگے اور قیمتی کالے پينٹ کوٹ میں ملبوس ہاتھ میں چھتری پکڑے میت کے ساتھ قبرستان میں داخل ہوۓ تھے جن میں نہایت قیمتی لباس پہنے ایک خاتون بھی تھی جو آج بھی اچھے سے ميک اپ میں مناسب حلیے میں بلیک چشمہ پہنے ہوۓ تھی اس کے اوپر ایک کارکن چھتری پکڑے ہوۓ تھا وہ بار بار آنکھوں کے پاس ٹشو لے کر جاتی اور سوں کی آواز نکال کر اپنا چشمہ ٹھیک کرتی وہاں موجود سب مرد اس کو بار بار تسلی دیتے اور وہ اثبات میں محض سر ہلا دیتی ۔۔۔اس کی آنکھیں آنسو تو درکنار نم تک نہیں تھیں وہ گرم قیمتی شال ایک کندھے پر لٹکاے ہوۓ تھی

آخر اس میت کو قبر کے پاس لے جایا گیا تھا اب کچھ مرد اور اس کا بیٹا قبر کے اوپر چھتریاں کر کے اس کو قبر میں اتار رہے تھے ۔۔

بارش نے زور پکڑا تھا بجلی آج زیادہ اور بار بار چمک رہی تھی

اس کا بیٹا سب دیکھتے ہوۓ بھی اپنے باپ کو اس قبر میں لیٹا

چکا تھا اس کو قبر میں لیٹانے کی دیر تھی وہ تمام سانپ بجلی کی سی تیزی سے اس کے کفن میں گھسے تھے جو قبر کی کھدائی میں نکل کر باہر آگئے تھے وہ لڑکا سب چپ چاپ دیکھ رہا تھا بہادر شاہ سب فراموش کئے اپنی نظر اس کے بیٹے کے چہرے پر گاڑے ہوۓ تھا

“بھابھی جی آخری دیدار کر لیں پھر مٹی ڈالنی ہے”

کوئی مصنوئی سی همدردی میں بولا تھا جس پر وہ معزز بیوہ تھوڑا آگے ہو کر قبر میں جھانکی تھی اس نے بھی وہ سب دیکھا تھا جو اس کا اكلوتا بیٹا دیکھ رہا تھا وہ تھوڑی سی حیرانی کے بعد منہ پر ہاتھ رکھ کر تھوڑا سا آواز کے ساتھ قصدا روئی تھی اب وہ آنسو صاف کر کے پیچھے ہو کر پر سکون سی کھڑی ہو گئی تھی اس نے قبر کو بند کرنے کی اجازت دی تھی

قبر کا پورا منظر اس کے بیٹے اور بیوہ کے علاوہ صرف بہادر شاہ کو نظر آ رہا تھا آخری سفر کی تکمیل ہوئی تھی

اور وہ مرحوم مشہور سیاست دان کے لواحقین اس بچھو اور سانپوں سے بھری ہوئی قبر کے سودے میں سركاری جھنڈا لگا گاڑی میں بیٹھ کر شان سے وہاں سے روانہ ہونے کو تھے ۔۔۔۔بہت سے نجی اور سركاری میڈیا کے لوگ اور گاڑیاں ان کو شروع سے اب تک کوور کر رہے تھے ۔۔۔

تھوڑی ہی دیر میں قبرستان خالی ہو چکا تھا اب کچھ باقی تھا تو وہ تھا تیز طوفانی بارش،کڑکتی بجلی،لال کیڑے،لال بچھوں،کالے ناگ اور وہ قبر کا اندھیرا ۔۔۔۔

بہادر شاہ اس قبر پر کھڑا اس کی طرف دیکھ رہا تھا بارش اسے بری طرح بگھو چکی تھی وہ قبر کھودنے کا سامان پکڑے قبر کو یک ٹک دیکھ رہا تھا ایک آنسو بہادر شاہ کی گال پر سے ہوتا ہوا گردن پر بہہ گیا تھا

۔*****************

مناہل تیز بارش میں نہا رہی تھی دوپٹہ گلے میں جھول رہا تھا وہ دونوں ہاتھ پھیلا کر گھوم رہی تھی

آج سعد کی یاد بار بار اس کی آنکھیں بگھو رہی تھی ۔۔۔

“صرف آپ سے محبت ہی تو کرتی تھی میں سعد ۔۔۔

اور تو کبھی کچھ نہیں چاہا تھا ۔۔۔۔پھر ۔۔۔۔پھر کیوں امی ۔۔۔۔امی نے مجھ سے آپ کو دور کر دیا ؟؟؟؟”

“کوئی رشتہ نہیں تھا زندگی میں ۔۔۔۔میں نے ماں اور باپ کا پیار نہیں دیکھا ۔۔۔۔۔بن ماں باپ کا بچہ تو ویسے ہی بوجھ ہوا کرتا ہے ۔۔۔۔

میں نہیں جانتی میرا باپ ۔۔۔۔۔ میں تو یہ بھی نہیں جانتی میری ماں ۔۔۔۔۔۔۔وہ زور قطار رونے لگی تھی ۔۔۔۔میں تو گناہ تھی ۔۔۔۔۔کسی ناجائز تعلق کا گناہ ۔۔۔۔جیسے محبت کا نام پر کیا گیا ۔۔۔۔اور ۔۔۔۔مجھے پھینک دیا گیا کسی بے جان چیز کی طرح ۔۔۔۔

مجھے ہمیشہ لگتا تھا شاید اللّه مجھے بنا کر بھول گیا ہے(بے شک ایسا نہیں ہے وہ کسی کو نہیں بھولتا) ۔۔۔جو ہر کوئی مجھے دھتکارتا ہے اور توں اوپر خاموش بیٹھا دیکھ رہا ہے ۔۔۔ پھر سعد کا ساتھ دیا ۔۔۔۔تو مجھے لگا میں بھی انسان ہوں۔ ۔۔میری بھی اس دنیا کے لوگوں کو ضرورت ہے ۔۔۔۔کوئی تو ہے جو مجھے بھی چاہتا ہے ۔۔۔ مگر امی آپ نے مجھ سے میرا زندگی کا مطلب چھین کر اچھا نہیں کیا ۔۔۔نہیں کیا اچھا ۔۔۔۔اللّه ۔۔۔ . اللّه آپ کو پوچھے ۔۔۔”

وہ چیخ چیخ کر رونے لگی تھی ۔۔۔بارش اور تیز ہوئی تھی ۔۔۔۔۔

آسمان نے اس کا غم بانٹا تھا وہ بھی رونے لگا تھا ۔۔۔

وہ گھٹنوں کے بل بیٹھ کر آ سمان کی طرف دیکھ کر اونچی آواز میں رونے لگی تھی ۔۔۔

اندر مدھو دروازے میں کھڑی اس کے ساتھ رو رہی تھی

“تم تو میرے جیسے نکلی رانی ۔۔۔۔بد نصیب ۔۔۔۔ادھوری ۔۔۔ اور ۔۔۔۔اور ۔۔۔فالتو ۔۔۔۔”

وہ آنسو پونچھ کر اندر گئی اور مادھوری کا وہ گانا لگا کر ناچنے لگی جو وہ اکثر رو کر دل کا بوجھ اتارنے کے لئے لگایا کرتی تھی

او رے پیا ہاے ۔۔۔۔

او رے پیا ۔۔۔۔

اڑنے لگا کیوں

من باولا رے

آیا کہاں سے،یہ حوصلہ رے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اورے پیا ۔۔۔۔۔۔۔۔او رے پیا ۔۔۔۔۔

تانا بانا، تانا بانا

بنتی ہوا ہائے ۔۔۔۔۔بنتی ہوا ۔۔۔۔

بوندیں بھی تو آئیں نہیں باز یہاں ۔۔۔۔ہائے ۔۔۔۔

سازش میں شامل سارا جہاں ہے ۔۔۔۔

ہر ذرے ذرے کی یہ التجاء ہے ۔۔۔۔۔

او رے پیا ۔۔۔۔۔۔۔او رے پیا ہاے ۔۔۔۔۔۔

او رے پیا ۔۔۔۔۔

اندر مدھو دیوانہ وار روتی ہوئی ناچ رہی تھی باہر مناہل سعد کی یاد میں ۔۔۔۔۔

کچھ انسان مکمل ہو کر بھی ادھورے رہ جایا کرتے ہیں ۔۔۔۔اور ان کو ادھورا ۔۔۔ان جیسے انسان کیا کرتے ہیں ۔۔۔۔

کمی تو پھر کمی ہوا کرتی ہے ۔۔۔وہ جسم کی ہو یا روح کی ۔۔۔۔۔

مدھو کو لگتا تھا وہ مکمل جنس نہیں ہے تبھی اس حالت میں ہے ۔۔۔مگر آج اسے ہر سوال،ہر شکایت کا جواب ملا تھا ۔۔۔

قسمت میں دکھ لکھے ہو تو مکمل ہونے سے بھی کمی نہیں پوری ہوتی ۔۔۔۔

جو بچہ دنیا میں آتا ہے وہ اس بات سے انجان ہوتا ہے کہ وہ لڑکا ہے لڑکی، ۔۔۔۔یا پھر وہ کچھ بھی نہیں ہے ۔۔وہ خواجہ سرا ہے ۔۔۔مطلب انسان جیسا لگنے والا کوئی وجود جو انسان نہیں …

وہ تو یہ بھی نہیں جانتا کہ وہ جائز یا ناجائز …

ناجائز ہو کر بھی اس کے بس میں نا پیدا ہونا نہیں تھا پھر ۔۔۔ سزا اس کو ہی کیوں ملتی ہے ؟؟؟گالی وہ معصوم بچہ کیوں بنا کرتا ہے ؟؟؟”

مناہل بھی گالی تھی ۔۔

اسے ایک عورت نے کوڑے کے ڈھیر سے اٹھایا تھا وہ بیوہ تھی اور اکیلی بھی اولاد کی کمی بھی اس کے دل میں مناہل کے لئے کوئی محبت نہیں پیدا کر پائی تھی وہ بات بات پر اس معصوم بچی کو ناجائز اور ان چاہا ہونے کا تانا دیتی ۔۔۔

بس کب وہ ان نفرت اور حقارت کے ماحول میں جوان ہوئی پتہ ہی نہیں چلا پھر کسی نے سفورا کو اس لڑکی کا بتایا جس پر ایک روپیہ بھی نہیں لگانا پڑا تھا وہ ساس اور بہو کی فطری کلیش میں ایک جوڑے میں اپنی کل کائنات اکلوتے بیٹے کے لئے اسے نکاح کر کے لے آئی تھی ۔۔۔

وہ ایک جہنم سے دوسرے جہنم میں منتقل ہوئی تھی ۔۔۔

۔************

“رات کا کوئی پہر تھا مناہل کی آنکھ کھلی تھی سعد پاس لیٹا سو رہا تھا

بخار اتر چکا تھا گلا خشک ہو رہا تھا وہ کمرے سے نکل کا برآمدے میں آئی تھی جس کے ساتھ ہی ایک طرف کچن بنا ہوا تھا

بارش بہت تیز تھی جھل تھل کا سماں تھا بجلی زور سے چمکتی اور پورا صحن روشن ہو جاتا ۔۔۔

برگد کا درخت تیز ہوا کی وجہ سے بارش کے تیز قطرے یہاں وہاں بکھیر رہا تھا

مناہل پیاس کو بھول گئی تھی بارش میں اس کی جان تھی شادی سے پہلے اس کی منہ بولی ماں جس نے اسے پالا تھا وہ جب بھی اسے امی بلانے پر ناجائز اور پلیدگی کا طعنہ دے کر امی پکارنے پر مارتی اور اسے سزا کے طور پر طوفانی بارش میں نکال دیتی تو وہ اکثر بارش میں پر سکون ہو جاتی اسے لگتا کوئی اس کے غم اور دکھ میں ساتھ رو رہا ہے ۔۔۔شروع شروع میں وہ بیمار ہوجاتی ڈر اور ٹھنڈ سے پھر آہستہ آہستہ بارش اسے اپنی دوست اور خیر خواہ لگنے لگی وہ جب بھی خوش یا اداس ہوتی فورا کام نپٹا کر بارش میں نہانے نکل جاتی ۔۔۔۔

دکھی ہوتی تو آنسو بارش کا حصہ بن کر ختم ہو جاتے اور خوش ہوتی تو اس کا قہقہ بارش کے شور میں جذب ہو کر خاموش ہو جاتا ۔۔۔

سعد سے پہلے تک اوپر اللّه اور نیچے بارش ہی تھی جو اس کو اپنی اپنی لگتی تھی ۔۔۔۔

وہ بارش کی بوندوں سے باتیں کرتی اسے لگتا تھا یہ قطرے اللّه سے مل کر نیچے آ رہے ہیں ۔۔۔وہ ان کو چومتی ۔۔۔ان سے کھیلتی ۔۔۔۔

آج بھی وہ خود کو بارش میں جانے سے روک نہیں پارہی تھی ۔۔۔مگر سعد کی ناراضگی کا ڈر ابھی بھی تھا وہ کچن میں پانی پینے جا چکی تھی ۔۔۔

وہ کچن سے نکل کر دوبارہ بارش کو دیکھنے لگی تھی

“چلو ہاتھ ہی گيلا کر لیتی ہوں ۔۔۔”

وہ زیرلب بولی تھی

وہ برآمدے سے نکل کر ہاتھ آگے کر کے کھڑی ہوئی تھی ایک دم بجلی کڑکی تھی جس کے ساتھ ہی پورے علاقے کی بجلی غائب ہو گئی تھی ۔۔

ہاتھ چند سیکنڈ میں ہی پانی سے بھر گیا تھا وہ آنکھیں موندیں پر سکون ہوئی تھی

“مناہل؟؟؟”

“باہر آجاؤ”

سعد کی آواز پر اس نے آنکھیں کھولی تھیں بجلی زور سے ایک بار پھر کڑکی تھی اور بارش نے زور پکڑا تھا

برگد کے درخت کے نیچے سعد بارش میں مکمل طور بھیگا ہوا اس کی طرف پینٹ کئے آگے ہاتھ باندھے کھڑا تھا

“سعد ؟؟؟آپ کب آۓ…”

وہ خوش ہوتی فورا اس کی طرف بھاگی تھی مگر سعد نے کوئی جواب نہیں دیا تھا بارش اتنی تیز تھی کہ وہ بھی جلد ہی پوری بھیگ گئی تھی وہ چہرے سے پانی دوپٹے سے کم کرتی اس کی طرف بڑھی تھی

“سعد ؟؟؟”

اس نے سعد کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اپنی طرف کیا تھا مگر وہ سعد نہیں تھا اس کی آنکھیں مکمل کالی تھیں سفيدی کے نام پر کچھ نہیں تھا وہ پیچھے سے سعد جیسے کپڑے پہنے ہوۓ تھا مگر آگے سے مکمل کالا تھا سب وہ ایک کالا لمبا گاؤن(چولا) تھا

بجلی کڑکی تھی

اس نے قہقہ لگایا تھا اس کے کالے دانت صاف نظر آرہے تھے

“تتتتت۔۔۔تممم ؟؟؟؟

مناہل بھاگنے کے لئے مڑی تھی مگر اس نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کھینچا تھا بہت تیز بد بو مناہل کی ناک سے ٹکڑائی تھی ۔۔۔

“سعد ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

“سعد ؟؟؟؟؟؟؟؟مجھے بچا لیں سعد ؟؟؟؟؟”

وہ چیخ رہی تھی مگر آواز اس کے حلق میں گھٹ رہی تھی

اس آدمی کا فلک شگاف قہقہ بلند ہوا تھا اور مناہل ہوش کی دنیا سے بیگانی ہو کر اس کی باہوں میں جھول گئی تھی