Barish by Jameela Nawab Readelle 50375

Barish by Jameela Nawab Readelle 50375 Last updated: 17 November 2025

442.5K
18

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Barish by Jameela Nawab

"تم ہو یہاں کے گورکن ؟؟؟؟"
بہادر شاہ نے اپنا سر اثبات میں ہلایا تھا وہ ایک ہاتھ سے اپنے پیلے دانتوں میں سے تيلی مار کر پهنسا ہوا گوشت نکال رہا تھا
"میت کس کی ہے ؟؟؟؟"
"میرے بھائی کی ۔۔۔۔۔اس کو جلدی دفنانا ہے سرد خانے سے لا رہے ہیں میت ایک مہینہ پہلے کی ہے ۔۔۔۔"
"لا وارث پڑی تھی کیا ؟؟؟"
بہادر شاہ کے اس سوال پر وہ شخص شرمنده سا ہوا تھا
"نہیں ۔۔۔۔وہ در اصل اس کو اغوا کر کے مار دیا گیا تھا ۔۔۔۔۔شکل شناخت کے قابل نہیں تھی تو ۔۔۔۔پولیس نے سرد خانے میں لاش بهجوا دی ۔۔۔۔"
"اب میری ماں نے پہچانا ہے میرے بھائی کو ۔۔۔۔تو فورا دفنانے آئے ہیں ۔۔۔قبر کھود دو ۔۔۔"
وہ شخص کسی طرح سے بھی غم زدہ نہیں لگ رہا تھا ایسا لگ رہا تھا بس اپنا فرض پورا کرنا چاہتا ہے ۔۔۔وہ مزيد کسی سوال سے بچنے کی خاطر فورا واپس ایمبولینس میں بیٹھ گیا تھا
بہادر شاہ نے اندر سے قبر کھودنے کا سامان لیا تھا اور ایمبو لینس میں جا کر تابوت میں پڑی لاش کے قد کا اندازہ لگایا تھا ۔۔۔ڈرائیور اور اس شخص کے علاوہ اس میت کے ساتھ کوئی بھی نہیں تھا میت نيلی ہو رہی تھی
بارش زوروں پر تھی قبرستان میں اس وقت عجیب سا خوف پھیلا ہوا تھا ۔۔۔۔
بہادر شاہ لنگڑاتا ہوا چلتا ہوا بنا کسی چھتری کے قبرستان کے وسط میں گیا تھا اب وہ قبر کھود رہا تھا ۔۔۔
وہ جو گھڑا بنا رہا تھا وہ تیز بارش سے فورا بھر گیا تھا وہ اس بات پر تنگ ہونے کی بجاۓ قہقہ لگا رہا تھا ۔۔۔
وہ قبر کھود چکا تھا وہ پر اسرار مسكراہٹ لئے اب اس طوفانی رات میں ایمبولینس کے فرنٹ لائٹ کے سامنے کھڑا ہو کر میت لانے کا اشارہ کر رہا تھا
"گورکن تم بھی آجاؤ میت بہت بھاری ہے اور قبر بہت دور یہ ہم دو لوگوں کے بس
کا کام نہیں ہے ۔۔۔"
اس بات پر بہادر شاہ لنگڑاتا ہوا ادھر آیا تھا ان تین لوگوں نے مل کر اس میت کو اس پانی سے بھری ہوئی قبر میں ڈالا تھا اب وہ تیزی سے مٹی ڈال رہے تھے ۔۔۔
ایک دم بجلی زور سے کڑکی تھی جس پر وہ ڈرائیور اور وہ آدمی خوفزدہ ہوۓ تھے ۔۔۔
قبرستان میں آنا آسان تھا مگر اب قدم مَن مَن کے محسوس ہو رہے تھے ۔۔۔
وہ دونوں بڑی مشکل قدم اٹھا رہے تھے ایسے جیسے زمین پر کوئی ایسی مقناطیسیت تھی جو قدم پکڑ رہی تھی