442.5K
18

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Barish Episode 16

Barish by Jameela Nawab

تیز بارش ہو رہی تھی منی برآمدے میں بیٹھی ماسٹر جی کے کپڑے استری کر رہی تھی ۔۔۔

ماسٹر جی اندر لیٹے کوئی کتاب پڑھ رہے تھے منی استری شدہ کپڑے کمرے میں دروازے کے پیچھے لگی کیلوں میں ہینگر میں لگا کر ٹانگ رہی تھی

“بس کردو جھلی کیوں خود کو ہلکان کیا ہوا ہے اب اس بوڑھے بابے نے کدھر جانا ہے جو ڈھیر کا ڈھیر استری کر لیا ہے “

ماسٹر جی نے کتاب سے نظريں ہٹا کر منی کو سرسری سا دیکھ کر کہا تھا منی استری سنبھال کر اب باپ کے پاس آ کر بیٹھ گئی تھی

“ابا جی۔ ۔۔۔پتہ ہے میرا دل کیا کرتا ہے ۔۔۔”

ماسٹر جی نے کتاب رکھ کر دلچسپی سے منی کی طرف دیکھا تھا

“یا اللّه خیر ۔۔۔ہاہاہاہا ۔۔ “

ماسٹر جی نے قہقہ لگا کر کہا تھا

“مذاق بنا رہے ہیں میرا ؟؟؟میں نے اب بتانا ہی نہیں”

منی منہ پھُولا کر دروازے میں جا کھڑی ہوئی تھی ۔۔ماسٹر جی جانتے تھے منی کے پیٹ کا مروڑ اسے بنا بتاۓ رکنے ہی نہیں دے سکتا ۔۔ وہ مسکرا کر خاموشی سے اپنی جند اپنی پیاری بیٹی کو دیکھ رہے تھے جس كی لمبی اور موٹی چوٹی اس کی کمر کو چھو کر نیچے تک جھول رہی تھی ۔۔

منی نے کن آنکھیوں سے ماسٹر جی کو دیکھا تھا جو اب آنکھیں بند کر کے لیٹ گئے تھے ۔۔

“ابا ۔۔۔۔چليں ایک بار تو پوچھ لیتا ہے بندہ ۔۔۔”

منی ناراض ہوتی بولی تھی ۔۔۔

“نہیں میں نہیں پوچھوں گا،یہ میرا آخری فیصلہ ہے”

ماسٹر جی شرارت کے موڈ میں تھے وہ سنجیدگی سے بولے تھے ۔۔

“اچھا ۔۔۔۔تو یہ بات ہے ۔۔۔آج تو میں پھر بتا کر ہی رہوں گی ۔۔۔۔”

منی دوبارہ ماسٹر جی کے پاس آ کر بیٹھ گئی تھی

“ابا ۔۔۔۔میرا دل کرتا ہے میں میں آپکے ۔۔۔۔۔ہاتھ پيلے کردوں ۔۔۔۔گھر بسا دوں آپ کا بس بہت ہوگی ماسٹری اب شاگردی چلے گی”

منی کہہ کر تیزی سے دروازے میں کھڑی ہو گئی تھی ۔۔۔

“هاهاهاهاهاها ۔۔۔۔”

ماسٹر جی پیٹ پکڑ کر اپنی ہنسی روکنے کی کوشش کر رہے تھے ۔۔۔اسی دوران ان کو کھانسی کا شدید دورہ پڑا تھا منی پہلے تو ساتھ ہنستی رہی مگر جب دیکھا باپ كی آنکھیں کھانس کھانس کر لال اور نم ہو رہی ہیں وہ بھاگ کر پانی لائی تھی ۔۔۔مگر ماسٹر جی کا رنگ پیلا پڑنے لگا تھا وہ خود کو دائیں طرف سینے سے تھوڑا نیچے سختی سے پکڑ کر بیٹھ گئے تھے وہ کچھ بھی بول نہیں پا رہے تھے ۔۔۔منی کو کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی وہ بری طرح رونے لگی تھی وہ بار بار پوچھتی ابا بتائیں نا آپ کو کیا ہو رہا ہے ؟؟؟بولیں نا ؟؟؟ابا ؟؟؟؟” مگر ماسٹر جی کے درد کی شدت اتنی تھی کہ ان کی آنکھوں سے لگاتار آنسو بہہ رہے تھے وہ کچھ بھی بول نہیں پا رہے تھے ۔۔۔

اسی دوران دروازے پر دستک ہوئی تھی منی ننگے پير دوپٹہ گلے میں جھول رہا تھا بھاگ کر تیز بارش میں گیٹ پر آئی تھی سامنے احد چھتری لئے کھڑا تھا

وہ کچھ بھی احد کو بتاۓ بغیر اس کا ہاتھ پکڑے کھینچ کر اپنے ساتھ اندر لے کر بھاگی تھی چھتری احد کے ہاتھ سے چھوٹ کر دور جاگری تھی وہ حیران پریشان منی کی اس حرکت پر اس كی طرف دیکھ رہا تھا

جب تک وہ اندر پہنچے ماسٹر جی بیہوش ہو چکے تھے منی ان کو مردہ ہوا سمجھ کر کانپنے لگی تھی

“ابا ؟؟؟؟؟منی کا کوئی نہیں ہے ابا ؟؟؟؟؟اٹھ جا ابا ؟؟؟؟؟”

منی نڈھال سی مسٹر جی کو جھنجھوڑ کر اٹھا رہی تھی

“آپ پلیز ہمت کریں ان کو ہارٹ اٹیک ہوا ہے ان کی حالت سے یہی اندیشہ ہے ان کو فوری ہسپتال لے کرنا جانا پڑے گا”

“میں ۔۔۔میں ۔۔۔کسی کو بلا کر لاتی ہوں”

منی کی جان میں جان آئی تھی وہ دوپٹہ سر پر ڈال کر بھاگ کر گلی میں گئی تھی تیز بارش ہو رہی تهی گلی خالی تھی اس نے ان کے گھر سے تھورے فاصلے پر موجود گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا جو پہلے ہی کھلا تھا وہ بھاگ کر اندر گئی تھی جہاں گھر کے مقيم بیٹھے باتیں کر رہے تھے منی کو اس طرح پریشان دیکھ کر وہ بنا وجہ پوچھے منی سے پہلے بھاگ کر ماسٹر جی کے پاس پہنچے تھے جلدی سے ماسٹر جی کو احد کی گاڑی میں ڈال کر شہر والے ہسپتال لے کر جایا گیا تھا

ماسٹر جی نہایت نگہداشت کے یونٹ میں تھے ڈاکٹرز کے مطابق ان کو شدید قسم کا دل کا دورہ پڑا تھا جس سے فلحال جان بچ گئی تھی مگر وہ بولنے سے معذور ہو چکے تھے کیوں کہ ساتھ ہی ان بائیں طرف پر فالج ہوگیا تھا ۔۔۔۔ڈاکٹروں کا کہناتھا فالج نے ان کی جان بچا لی ہے ورنہ جتنا شدید یہ دل کا دورہ تھا ان کا بچنا نا ممکن تھا ۔۔۔وہ اس کو ایک معجزہ کہہ رہے تھے کیوں کہ ان کے دل کے دو وال ایک ساتھ بند ہو چکے تھے ۔۔ ۔۔ڈاکٹر احد کو کارڈیالوجسٹ نے زیادہ امید نہیں دلائی تھی . . . وہ اب چند دن کے مہمان تھے ۔۔۔۔وہ سٹیتھوسکوپ گلے میں ڈالے سفيد اپر پہنے باہر آے تھے جہاں تقریباً پورا گاؤں مرد عورتیں بوڑھے جوان سب نیچے بیٹھے تھے کوئی درود پڑھ پڑھ کر ماسٹر جی کی طرف پھونک رہا تھا تو کوئی سپارے پکڑے بہتے آنسو لئے اللّه کا کلام پاک پڑھ کر رب سے مدد طلب کررہا تھا ۔۔۔منی ایک طرف جائے نماز بچھاۓ حاجت کے نوافل

ادا کر کے اب زاروقطار روتے ہوۓ اپنی چھت ،اپنے آسمان، اپنے سائبان کے لئے دعا کر رہی تھی ڈاکٹر احد کو اس معصوم لڑکی پر بہت ترس آیا تھا وہ اس کے دیکھنے پر بمشکل مسکرایا تھا وہ بھاگ کر اس کے پاس آئی تھی ۔۔

“بھائی ابا کیسے ہیں اب؟ ؟؟کیا کہا آپ کے ڈاکٹر دوست نے ؟؟؟آپ کو تو سب ٹھیک ٹھیک بتایا ہوگا نا ؟؟میرے ابا کو کیا ہوا ہے ؟؟؟”

منی سوالوں کا انبار لئے بنا جواب کا وقت دیے بولی جا رہی تھی

“چپ ۔۔۔ایک دم چپ ۔۔”

احد نے اپنے لبوں پر انگلی رکھ کر اسے نرمی سے کہا تھا منی فوراً خاموش ہوئی تھی ۔۔۔وہ دیوار پکڑ کر اب پھر رونے لگی تھی ۔۔

“کیسے چپ کروں ۔،۔۔۔وہ میرا باپ نہیں ہے میری ماں، میرا بھائی ،میری بہن، میرا دوست ۔۔۔میرا ۔۔۔میرا سب کچھ ہے ۔۔۔۔آپ نہیں سمجھ سکتے یہ ۔۔۔۔”

منی بے بس سی بولی تھی

“منی آپ شاید بھول رہی ہیں ۔۔۔۔ماسٹر جی کے علاوہ میرا بھی کوئی نہیں ۔۔۔ہے ۔۔۔۔”

احد کا چہرہ آنسوؤں سے تر ہو چکا تھا ۔۔۔

“وہ ۔۔۔۔ان کو دل کا دورہ پڑا ہے ۔۔۔۔اور ۔۔۔۔اور ۔۔فالج ۔۔۔۔بھی ۔۔۔”

یہ بات سننے کی دیر تھی گاؤں کے لوگ دھاڑے مار مار کر رونے لگے تھے وہ ہسپتال احد کا تھا یہی وجہ تھی ان کے جذبات کو اہمیت دے کر ان کو اس طرح اندر آنے دیا گیا تھا ۔۔۔

منی یہ سن کے بیہوش ہو گئی تھی احد نے اسے سہارا دے کر نرس کو آواز دی تھی

منی جب ہوش میں آئی رات کا کوئی پہر تھا بارش زوروں پر تھی وہ ایک پرائیویٹ روم تھا اس کی ڈرپ ختم ہونے کو تھی اس نے خود ہی وہ نکال کر رکھ دی تھی سر بھاری ہو رہا تھا ماسٹر جی کا خیال دل میں آتے ہی وہ کمرے سے باہر آئی تھی جہاں ایک نرس اسی کی طرف آتی نظر آئی تھی ۔۔

“آپ اٹھ گئیں میں آپ کو ہی جگانے آ رہی تھی ڈاکٹر احد نے مجھے بھیجا ہے آپ کے والد کو ہوش آگیا ہے وہ آپ کو دیکھنا چاھتے ہیں”

منی نرس کی بات مکمل ہوتے ہی آئی۔سی۔یو کی طرف بھاگی تھی ڈاکٹر احد ماسٹر جی کے پاس بیٹھے ہوۓ تھے وہ اشاروں سے اور کچھ نا سمجھ آنے والے الفاظ استعمال کر کے احد سے کوئی بات کر رہے تھے احد ان کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں پکڑے ہر بات پر اثبات میں سر ہلا رہا تھا اس کا چہرہ بلکل سپاٹ تھا تھوڑی تھوڑی دیر بعد آنسو گال تک رسائی حاصل کرتے جیسے وہ ٹشو سے صاف کر لیتا ۔۔

منی باپ کے پاس آئی تھی جس کا جسم مختلف مشینی آلات کی تاروں سے جھکڑا ہوا تھا وہ چیخ کر رونا چاہتی تھی مگر ضبط کر گئی ۔۔

ماسٹر جی نے اپنا ایک ہاتھ اٹھا کر اسے اپنے پاس بلایا تھا وہ باپ کے سینے سے جا لگی تھی

“ابا ۔۔۔میرے پیارے ابا ۔۔۔آپ ۔۔۔۔آپ ۔۔۔بلکل ٹھیک ہو جایئں گے ۔۔ آپ ۔۔۔آپ ۔۔۔آپ کو میں کچھ نہیں ۔۔۔۔کچھ نہیں ہونے دوں گی ۔۔۔۔میں ۔۔ میں نے اللّه سے کی ہے بات ۔۔ آپ ہی تو کہتے ہیں ۔۔۔اللّه ہماری ہر بات اسی وقت سنتا ہے اور دعا بھی قبول کر دیتا ہے ۔۔۔میں نے بتایا ہے اللّه کو ۔۔۔۔۔۔۔کہ میرا کوئی نہیں ہے ۔۔ ابا کے علاوہ ۔۔۔۔اللّه ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

وہ ماسٹر جی کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں پکڑ کر زورقطار رو رہی تھی ۔۔۔

“ابا .۔۔۔میں ۔۔میں آپ کی شادی کروں گی ۔۔پھر سارا کام میں کروں گی آپ بس آرام سے پنی دوسری بیوی کے ساتھ مزے کرنا ۔۔۔۔گھومنا پھرنا ۔۔۔۔ٹھیک ہے ابا ؟؟؟؟آپ ٹھیک ہو رہے ہو نا میرے لئے ؟؟؟؟”

ماسٹر جی کی انسو بہہ کر تکیے میں جذب ہوۓ تھے ۔۔۔ وہ بمشکل مسکرائے تھے ۔۔۔

انہوں نے احد کی طرف دیکھا تھا جو ایک طرف ہو کر کسی کو میسج کر رہا تھا جس کے ساتھ ہی فون آیا تھا

“ہاں ابھی اسی وقت”

وہ کہہ کر فون کاٹ چکا تھا ماسٹر جی نے احد کو اپنے پاس آنے کا اشارہ کیا تھا جس پر وہ فورا آیا تھا

ماسٹر جی نے منی کا ہاتھ احد کے ہاتھ میں تهما دیا تھا جسے احد نے دونوں ہاتھوں سے عقیدت سے تھام کر اثبات میں سر ہلایا تھا منی حیران پریشان صورت حال سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی

“دُدددددددددددددل ۔۔۔۔۔۔۔۔للللللل ۔۔۔۔۔۔ههههههههههههن ۔۔۔۔۔۔نننن ۔۔۔۔”

ماسٹر جی نے یہ لفظ بڑی مشکل سے ادا کیا تھا اس دوران نظروں کا تعاقب احد تھا انہوں نے ان کی بات کو فورا سمجھ لیا تھا وجہ آۓ دن ایسے مریضوں سے واسطہ پڑنا تھا ۔۔۔

وہ سر ہلا کر منی کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ باہر لے آیا تھا گاڑی کا دروازہ کھول کر اسے اندر بیٹھنے کا اشارہ کر کے وہ خود ڈرائیونگ سیٹ پر آیا تھا منی شش و پنج میں فقط اتنا سمجھ پائی تھی کہ جو بھی ہو رہا ہے اس کے باپ کی حکم پر ہو رہا ہے

“احد بھائی ۔۔۔۔؟”

منی نے بهرائی ہوئی آواز میں کہا تھا

“منی ۔۔۔ہمارا نکاح ہے تھوڑی دیر میں ۔۔۔ماسٹر جی تمہیں دلہن بنا دیکھنا چاھتے ہیں”

احد کی آواز میں بھی آنسوؤں کا وزن تھا

منی ایک بار پھر تکلیف سے رونے لگی تھی اسے ماسٹر جی کی حالت کا اندازہ اس خواہش سے بخوبی ہو گیا تھا

ایک جگہ احد نے گاڑی روک کر بڑی سی شاپ سے دلہن کا جوڑا خرید کر منی کو پیچھے پکڑایا تھا تھوڑی آگے جا کر ایک پالر جس کے ساتھ گھر بھی تھا اس کا دروازہ کھٹکھٹایا

نیند سے بوجھل آنکھیں لئے ایک لڑکا دروازے پر آیا تھا

“دو منٹ میں پالر کا دروازہ کھولتا ہوں، باجی منہ پر چھینٹے مار کر آتی ہیں”

وہ کمر کھجاتا ہوا بیزار سا بولا تھا

وہ دونوں پالر کے اندر آ کر بیٹھ گئے تھے منی کی نظر سامنے لگی گھڑی پر پڑی تھی جو ٹک ٹک کرتی اپنا فرض ادا کر رہی تھی ۔۔۔

وہ ایک طرف موجود واش بيسن پر آ کر وضو کرنے لگئ تھی شیلف پر جہاں دنیا جہان کا ميک اپ اور باقی کے پالر کے لوازمات پڑے تھے وہاں جائے نماز بھی نچلی لائن میں موجود تھی وہ ایک طرف جائے نماز بچھا کر تہجد پڑھنے بیٹھ گئی تھی ۔۔۔

اتنے میں وہ بیوٹیشن آ چکی تھی جو کھوجتی نگاہوں سے اس تیز بارش اور رات کے اس پہر دلہن کا ميک اپ کروانے ایک خوبرو لڑکے کے ہمراہ آئی تھی اس نےمنی کو دلہن کا جوڑا پہنوا کر اس کو تیار کرنا شروع کیا تھا وہ بیس بناتی منی کے آنسو اس کو بہا لے جاتے آخر وہ تنگ آ کر بول اٹھی ۔۔۔

“اگر اتنے ہی والدین عزیز ہیں اور احساس گناہ بھی ہے تو کیوں اس وقت ان کے بغیر دلہن بن رہی ہو ؟؟؟”

یہ بات سن کر منی نے اپنا سر گھٹنوں میں دے لیا تھا وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تھی احد پریشان سا اس کے پاس آیا تھا

بیوٹیشن بھی اپنی بات پر شرمندہ ہوئی تھی

“میرے ابا ادھر مر رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔وہ ۔۔۔۔وہ ۔۔۔۔۔میرے بوجھ کے ساتھ سکون سے مر بھی نہیں سکتے ۔۔۔۔بس ۔۔۔۔اسی لئے ۔۔۔۔ان کا بوجھ ہٹانا چاہتی ہوں”

“یا اللّه ۔۔۔۔۔۔میرے ابو ۔۔۔۔”

منی کو سنبهالنا مشکل ہو رہا تھا احد کی اپنی حالت خراب ہو رہی تھی

بیوٹیشن نے منی کا سر اپنے ساتھ لگا کر اس کو رونے دیا تھا وہ اس کو مسلسل تھپتھپا رہی تھی اسی دوران احد کو ہسپتال سے فون آیا تھا وہ جلدی سے بولا تھا

“آپ ایسا کریں ان کو بس ریڈ لپ سٹک لگا دیں”

بیوٹیشن نے فورا اس پر عمل کیا تھا منی نے بھاری دوپٹہ ایسے ہی سر پر لے لیا تھا جسے بیوٹیشن نے کچھ پنز کی مدد سے فكس کر دیا تھا

آنسوؤں سے دھلی ہوئی خوبصورت بھری آنکھیں صاف دودھیا رنگ اناری لال شادی کا جوڑا ۔۔۔اور ہم رنگ لب ۔۔۔منی اتنی سی تیاری میں بھی کمال لگ رہی تھی ۔۔۔

احد نے پیسے دینے چاہے مگر لڑکی نے منی کو گلے لگاتے ہوۓ انکار کر دیا تھا ۔۔

بارش زوروں پر تھی منی اور احد جلدی سے گاڑی میں سوار ہوۓ تھے

اب وہ ہسپتال میں ماسٹر جی کے پاس موجود تھے جہاں ایک مولوی کچھ احد کے ڈاکٹر دوست اور چند گاؤں کے آدمی گواہ کو حیثیت سے موجود تھے

ماسٹر جی کو اکسیجن ماسک لگا ہوا تھا ان کے دل کی حالت سامنے لگے مونیٹر پر بار بار بدل رہی تھی منی بڑی چادر میں چہرہ چھپائے ماسٹر جی کا ہاتھ پکڑ کر بیٹھی ہچکیوں سے رو تھی۔۔

“آپکا نکاح احد میر ولد امیر عبدالله سے کیا جاتا ہے کیا اپ کو یہ نکاح قبول ہے ؟؟؟

آخر منی سے یہ سوال کیا گیا تھا جس پر منی نے باپ کی طرف دیکھا تھا جو اب کوئی جواب دینے کے قابل نہیں لگ رہا تھا ان کی آنکھیں بند ہو رہی تھیں منی نے جلدی سے قبول ہے کہا تھا نکاح ختم ہوتے ہی ایمرجنسی کا ماحول بن گیا تھا بہت سے ڈاکٹر ماسٹر جی کے ارد گرد جمع ہو چکے تھے

ان کے فوری آپریشن کا حتمی فیصلہ کیا گیا مگر یہ سہولت اس شہر میں موجود فلحال صرف ایک سركاری ہسپتال میں تھی ادھر رابطہ کیا گیا اور فوری طور پر ماسٹر جی کو ايمبولنس میں ادھر لے جایا گیا ۔۔۔

جہاں ان کی سرجری كی فوری تیاری کی گئی تھی ان کو اندر لے جایا جا چکا تھا احد بھی ساتھ ہی اندر گیا تھا

منی آپریشن ٹھیٹر کے باہر بیٹھی بری طرح رو رہی تھی مگر دل تھا کہ کسی صورت مطمئن نہیں ہو رہا تھا ۔۔۔

(اب جو سین لکھنے جا رہی ہوں یہ اس سین کے بعد کے ہیں جب مناہل پانی لینے جاتی ہے اور اسے سعد مل جاتا ہے اور وہ اس کے ساتھ وارڈ میں آجاتی ہے)

مدھو کی آنکھ کھلی اور مناہل کو نا پا کر وہ اس دیکھنے باہر آئی تھی بارش زور پکڑے جانے کس کے جانے کا غم منانے میں برس رہی تھی بجلی چمکتی تو باہر کا پورا منظر دن کی طرح روشن ہو جاتا ۔۔۔

ہسپتال کے اندر مکمل سکوت تھا سب لوگ سو رہے تھے ۔۔۔فجر کا وقت ہونے کو تھا کوئی جاگتا بھی کیوں ۔۔۔۔اس وقت تو ویسے ہی نیند بہت میٹھی اور سکون دینے لگتی ہے ۔۔۔لاکھ کوئی شب بیداری کا عادی ہو یا مریض ہو اس وقت نیند کا کوئی مسئلہ نہیں ہوتا ۔۔۔فورا نیند آتی ہے ۔۔۔

مدھو مناہل کی تلاش میں آئی۔سی۔یو کے ساتھ لگے فلٹر کی طرف آئی تھی کیوں کہ وہ جگ کو ٹیبل پر موجود نا پا کر یہ سمجھ گئی تھی کہ وہ ادھر ہی آئی ہوگی ۔۔

آئی۔سی۔یو کے پاس ہی دوسری طرف آپریشن تھیٹر تھا جہاں سے کسی کی درد میں رونے كی آواز نے مدھو کے قدم روک لئے تھے اس کا دل زور سے دھڑکا تھا وہ دل پر ہاتھ رکھے اپنے خاص انداز سے چلتی ہوئی اس طرف آئی تھی جہاں منی بیٹھی کرب سے رو ری تھی ۔۔

اس کو دیکھ کر ایک عجیب سی اپنائیت دل میں محسوس ہوئی تھی اسے روتا دیکھ کر مدھو کی آنکھیں بنا وجہ جانے بھیگی تھیں

وہ اپنے قدم روک نہیں پائی تھی

وہ تقریبأ بھاگتی ہوئی منی کے پاس آ کر بیٹھ گئی تھی

“تمہیں کیا ہوا ہے رانی ایسے کیوں رو رہی ہے ؟؟؟تم اتنی پیاری لگ رہی ہو دلہن بنی ۔۔۔اللّه ۔۔۔۔۔۔”

وہ بلائیں لے کر بولی تھی ۔

“کون بیمار ہے تیرا ؟؟؟”

مدھو اپنے آنسو روک نہیں پارہی تھی وہ بهرائی ہوئی آواز میں پوچھ رہی تھی

منی نے جیسے ہی خواجہ سرا کو دیکھا اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے دعا کا کہنے لگی ۔۔۔

“میرا ابا بہت زیادہ بیمار ہو گیا ہے ۔۔۔آپ ۔۔ آپ كی دعا تو اللّه فورا سنتا ہے نہ آپ ۔۔ آپ پلیز میرے ابا کے لئے دعا ۔۔۔ دعا کر دیں ۔۔۔”

مدھو کو اس کے ہاتھ پکڑنے پر جو اپنائیت اور ابا کی بیماری کا سن کر جو تکلیف اور بے چینی نے آ گھیرا تھا وہ خود بھی حیران تھی

“یا اللّه اس باجی کے ابا جی کو صحت والی لمبی زندگی دینا ۔۔۔آمین ۔۔”

مدھو نے اسی وقت کینولا لگا ہاتھ اٹھا کے دعا کی تھی

منی زور قطار رو رہی تھی مدھو اس کو چپ کروانے کی بجاۓ اس کا رونے میں ساتھ دے رہی تھی جانے کیا بات تھی مدھو کے پاس حوصلہ دینے کے لئے الفاظ ہی نہیں تھے

منی دلہن بنی روتے ہوۓ اور بھی خوبصورت لگ رہی تھی مدھو کا اس کو دیکھ دیکھ کر خون جوش مار رہا تھا

کچھ لمحے گزرے ہوں گے آپریشن تھیٹر کی لال بتی بجھ چکی تھی اور احد اور اس کے دوست ڈاکٹر سٹریچر لئے باہر آے تھے

منی اور مدھو بھاگ کر ان کے پاس آئے تھے احد ایک طرف دیوار پر ہاتھ رکھ داڑھے مار مار کر رونے لگا تھا

منی نے ماسٹر جی کے چہرے سے سفيد كپڑا اٹھایا تھا ان کی تھوڈی سفيد پٹی سے باندھی گئی تھی اور ناک میں روئی ڈالی گئی تھی ۔۔۔

ایسا لگ رہا تھا وہ سکون سے سو رہے ہیں ۔۔۔

“ابا ؟؟؟؟ابا ؟؟؟؟”

منی نے چیخ ماری تھی مدھو ماسٹر جی کو دیکھ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی اس کا دل دھڑکنا بھول گیا تھا وہ اپنے انداز سے نیچے بیٹھ کر اپنے دونوں ہاتھ سر پر مارتی رونے لگی تھی وجہ وہ خود نہیں جانتی تھی مگر دل اس انجان شخص کی موت پر تڑپ اٹھا تھا ۔۔

“خون پانی سے گاڑہ ہوتا ہے”

یہ آج ثابت ہو چکا تھا

احد کو دوست ڈاکٹرز نے حوصلہ دیا تھا اب میت کو وہاں سے لے جایا جانے لگا تھا احد نے منی کو ہاتھ کے گھیرے میں کرکے سہارا دے رکھا تھا وہ نڈھال سی شکستہ قدم چل رہی تھی

مدھو پر کسی کا دیہان نہیں گیا تھا مدھو نے نیچے بیٹھے سٹریچر کے ویلز کو دیکھا تھا جو اس سے دور جا رہے تھے مدھو ایک دم ہوش میں آئی تھی اس نے بھاگ کر ان کا تعاقب کیا تھا

وہ ماسٹر جی کے پاس جا کھڑی ہوئی تھی اس نے ان کے چہرے سے کپڑا ہٹا کر ماتھا چوما تھا پھر وہ قدموں کی طرف جا کر ان کے آپس میں بندھے پیروں کو سینے سے لگا کر بری طرح رو رہی تھی

منی مدھو کے پاس آئی تھی اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اس کی طرف دیکھا تھا

“ابا ۔۔۔۔۔۔۔۔اب ۔۔۔۔۔ابا ۔۔۔۔”

مدھو نے منی کا ہاتھ پکڑ کر کہا تھا ۔۔۔

“میری دعا قبول نہیں ہوئی ۔۔۔۔۔۔”

منی کے رونے میں بھی تیزی آئی تھی وہ یہی سمجھی تھی ماسٹر جی ہزاروں لوگوں کی طرح مدھو کے بھی محسن تھے ۔۔۔تبھی وہ اس طرح رو رہی ہے مگر یہ بات تو بس اللّه جانتا تھا کہ منی آج اکیلی یتیم نہیں تھی ہوئی ۔۔۔۔آج مدھو کا باپ بھی مرا تھا ۔۔۔۔۔وہ باپ جس کی کبھی اس نے آواز نہیں سنی ۔۔۔وہ باپ جو کبھی اس کو گود میں کھیلا نہیں پایا تھا ۔۔۔وہ باپ جس نے اپنی انگلی پکڑا کر مدھو کو چلنا نہیں سکھایا تھا ۔۔۔۔

مگر اس کا دل شاید اپنے خون کو پہچان چکا تھا یہی وجہ تھی مدهو اور منی کے رونے میں کوئی فرق نہیں لگ رہا تھا دونون ہی کسی تپتی سڑک پر ننگے پير کھڑے مسافر کی طرح بے سروساماں نظر آ رہی تھیں ۔۔۔۔

احد نے اپنے ہسپتال فون کر کے ادھر گاؤں کے بیٹھے لوگوں کو اطلاع دی تھی ۔۔

میت کو ايمبولنس میں ڈال کر گاؤں کے راستے پر ڈال دیا گیا تھا ۔۔۔

مدھو روتی پیٹتی ادھر اکیلی رہ گئی تھی ۔۔۔

تیز بارش ۔۔۔۔۔ایک اکیلا ادھورا وجود ۔۔۔۔اور بے بسی

۔***********

(یہ سین تب کے ہیں جب سفورا ہوش آنے کے بعد گھر آئی تھی ۔۔۔شروع کی چند اقساط میں یہ دکھایا گیا تھا کہ سفورا کو ہر وقت ڈر لگتا ہے وہ کوئی چیلا کاٹ رہی ہے جس پر سعد اس کو مخاطب کر کے اس کا تسلسل توڑ دیتا ہے ۔ ۔۔۔پھر اسے رات کو ڈرتا اور خوفزدہ ہوتا اور ایک خواب میں کسی قبر کو ڈھونڈتے ہوۓ دکھایا گیا جس میں موجود عورتوں کو وہ حقیقت میں بھی صحن میں دیکھ رہی ہوتی ہے اب اس کی بیچ کی کہانی ابھی جو اسی پیراگراف میں بتائی گئی کہانی نکال کر باقی کے سین لکھ رہی ہوں)

کالا علم جتنا سیکھنا مشکل ہے اس کو سیکھ لینے کے بعد اس کو سنبھالنا اس سے کہیں زیادہ کھٹن کام ہے وہ انسان کسی صورت ایک نارمل انسان کی زندگی نہیں گزار سکتا کیوں کہ اس کے پاس کافی مقدار میں جو شیطانی موکل غلام کی صورت جمع ہو جاتے ہیں ان کی خوراک مختلف قسم کے شیطانی چیلے ہوتے ہیں جس میں حیوانی گوشت ثور،الو،کتا،بلی اور چوہے وغیرہ کے ساتھ ساتھ مردہ انسانوں کا گوشت بھی شامل ہے

یہ سب سفورا جیسی ڈرپوک اور سست عورت کے بس کی بات کسی طرح نہیں تھی کالے علم کا ایک اصول یہ بھی ہے کہ اس کو حاصل کرتے ہی ایک طویل چِلا کاٹا جاتا ہے(یہ میں نے فرض کیا ہے حقیقت میں کیا ہوتا ہے میں یہ نہیں جانتی) باجی اسے یہ بات بتانے سے پہلے ہی مر چکی تھی اور اگر ایسا نا کیا جائے تو وہ مخلوق اپنے عالم کے خلاف ہو کر اسی کو نقصان پہنچاتی ہے ۔۔۔

۔۔سفورا ہوش میں آئی تو دن چڑھ چکا تھا کیڑیاں باجی کو مکمل طور پر کھا چکی تھیں اور اب وہ غائب تھیں کچھ سفورا کو کاٹ کر اس کے جسم میں تیز خارش اور آبلے بنا چکی تھیں باہر اب بھی بارش ہو رہی تھی خود کو اس طرح دیکھ کر وہ بہت زیادہ خوفزده ہوئی تھی وہ سرپٹ گھر کی طرف دوڑی تھی جہاں سعد ساری رات رونے اور جاگنے کے بعد اب شاید سو رہا تھا دروازہ کھلا تھا وہ جلدی سے اندر آئی تھی ۔۔۔

وہ بری طرح گيلی تھی وہ کپڑے بدل کر اپنے خاص کمرے میں اوپر گئی تھی جہاں اسے منی اور بہادر شاہ کے تابوت پر وہ خاص پانی ڈالنا تھا وہ جیسے ہی کمرہ کھول کر اندر گئی کمرہ بد صورت انسانوں سے بھرا پڑا تھا جو کالے چولے پہنے جھک کر سفورا کو خوش آمدید بول رہے تھے سفور کا اوپر کا سانس اوپر نیچے کا نیچے رک گیا تھا وہ خوفزده سی محض ان کو دیکھ رہی تھی جبکہ اسے بدلے میں ایک خاص منتر جو باجی نے باہیں کھول کر پڑھا تھا وہ پڑھنا تھا مگر وہ ڈر کے مارے یہ بھول گئی تھی یا شاید وہ خاص منتر جانتی ہی نہیں تھی کیوں کہ باجی پرویز سے کالے جادو کے سارے اصول سیکھ چکی تھی مگر سفورا کو ایسا کوئی علم نہیں تھا

سفورا کی خاموشی پر وہ مخلوق غصے سے بین کرتی دل دہلا دینے والی ایک خاص آواز نکالنے لگی تھی سفورا ڈر کے باہر بھاگی تھی اور وہ دروازہ بند کر کے نیچے آگئی تھی ۔۔۔

آج دوسرا دن تھا جب وہ خاص پانی تابوتوں پر نہیں ڈالا گیا تھا

سفورا کو ایک دم بھوک کا شدید احساس ہوا تھا وہ کچن میں آ گئی تھی کل کا کھانا جو اس نے مناہل کے لئے آخری بار تعویز ملا کر بنایا تھا پڑا ہوا تھا وہ جلدی سے نکال کر دو دو ہاتھوں سے وہ اپنے منہ میں ٹھوسنے لگی تھی ۔۔۔

وہ کھاتے ہی اس کو نیند سی آئی تھی مگر کمرے میں سر گھٹنوں میں دیے سعد کو دیکھ کر اس کے کانوں میں باجی کی بات گونجی تھی

“تیرا بیٹا قطرہ قطرہ موت مرے گا”

اس بات سے اس کی نیند ہوا ہو گئی تھی ۔۔۔

“کیسے پتہ چلاؤں اس پرویز کی قبر کا ؟؟”

وہ سعد کی نظر میں آئے بغیر اپنے کمرے میں آگئی تھی

جہاں وہ ہی بد صورت چہرے اس کے منتظر تھے

“کیا تو نہیں جانتی اب تم ہماری ملكہ ہے ؟؟؟ہمیں قبول کر ہمیں خوش آمدید کہنے والا وہ مکرو منتر پڑھ ۔۔۔پھر دیکھ ہم تیرا ہر حکم کیسے مانتے ۔۔ “

وہ یک آواز بولے تھے ۔۔۔

سفورا اس تیز بارش میں بھی پسینے میں شرابور ہوئی تھی وہ چہرے میں آتی پسینے کی بوندوں کو دوپٹے سے خشک کرتی گھبرائی گھبرائی ان کی طرف دیکھ رہی تھی

“تم ہماری حاکم بننے کے قابل ہی نہیں ہو ۔۔۔جو ہم پر وہ منتر پڑھنے میں دو گھنٹے سے زیادہ لیتا ہے ہم اس بات کو اپنی توہین سمجھتے ہیں ۔۔۔ جلدی پڑھو”

وہ اجتمائی آواز میں غصے میں بولے تھے

“وہ ۔۔۔۔وہ ۔۔۔۔میں نہیں جانتی ۔۔۔۔مجھے آپ میں سے کوئی بتا دے ۔۔ ؟

اس کا یہ کہنا تھا ان بد صورت چہروں میں سے بہت سے چہرے غائب ہوۓ تھے جس کا مطلب اس کے محکوم(غلام)بننے سے انکار ۔۔ مطلب بغاوت تھی

ان میں سے ایک نے سفورا کو وہ منتر بتایا تھا جو اب وہ غلط سلط پڑھنے لگی تھی اسنے جیسے ہی آنکھیں کھولی اب ادھر کوئی بھی نہیں تھا سوائے اسی موکل کے جو با آواز بلند قہقے لگا رہا تھا

“اب تمہارا انجام بہت درد ناک ۔۔۔ اور خوفناک ہونے والا ہے تم لوگوں کے لئے عبرت بنوگی ۔۔۔۔تم عبرت بنوگی ان تمام کالے جادو کرنے اور کروانے کے لئے جو سب جانتے بوجھتے اللّه کے حکم کی سرکشی کرتے رہے ۔۔۔

ابھی بھی وقت ہے كلمہ پڑھ لو سفورا ۔۔۔”

سفورا ہانپتی کانپتی بنا کوئی جواب دیے بیٹھ گئی تھی وہ موکل غائب ہو چکا تھا ۔۔۔

جب سے مناہل کا انتقال ہوا تھا سعد زیادہ تر گھر سے باہر رہتا ۔۔۔وہ قبرستان اس دن کے بعد نہیں گیا تھا

وہ اپنے ہاتھ سے اسے دفنا کر بھی اسے جگہ جگہ کھوجتا رہتا ۔۔ قبرستان اس ڈر سے نہ جاتا کہ اس کی قبر دیکھ کر اس کی تلاش نا ختم ہو جائے ۔۔۔

سفورا سارا دن گھر میں اجنبی اجنبی گھومتی رہتی اس کے کالے جادو کے موکل اسے خوفزده کئیے رکھتے ۔۔۔

وہ کچن میں کھانا کھانے یا بنانے جاتی تو وہ اس کی چیزیں اٹھا کر یہاں وہاں چھپا دیتے ۔۔وہ پورا دن روٹی کا ایک نوالا تک کھانے کو ترس جاتی ۔۔ سعد دو دو دن بعدگھر آتا تو اس سے کھانا منگوا کر کھالیتی ۔۔۔

وہ رات سو رہی ہوتی تو وہ اس کی چارپائی اوپر چھت پر تیز بارش میں رکھ دیتے اور آنکھیں کھولنے پر اس کے گرد گھیر بنا کر خوفناک قہقے لگا رہے ہوتے ۔۔۔

باجی اس کی ڈر پوک فطرت سے اچھی طرح واقف تھی اس نے اپنی تباہی کا بدلہ برابری پر آ کر لیا تھا ۔۔۔

وہ اپنے ہی گھر میں دو دو دن تک ایک جگہ سمٹ کر بنا کچھ کھاۓ پیےخوفزده بیٹھی رہتی ۔۔۔۔حد تو یہ ہے کہ نا وہ بیہوش ہوتی نا ہی دماغ اپنا کام چھوڑ رہا تھا وہ ہوش و حواس میں سب دیکھ اور محسوس کر رہی تھی ۔۔۔

سعد کی دو دو دن بعد آتا اس کی صحت بھی تیزی سے گر رہی تھی ۔۔۔خود پر آنے کی دیر تھی وہ تابوتوں پر خاص پانی ڈالنے والی بات سرے سے فراموش کر چکی تھی ۔۔۔جس کا فائدہ منی اور بہادر شاہ کو ہوا تھا ۔۔۔وہ آدم خوری چھوڑ چکے تھے ۔۔۔همزاد کسی بھوک پیاس سے عاری ہوتا ہے وہ پر سکون فلحال قبرستان میں رہ رہے تھے ۔۔۔

سفورا کو نا نیند آتی نا ہی سکون اس کی آنکھیں مستقل کھلی رہنے کی وجہ سے دیکھنے میں عجیب و غریب ہو گئی تھیں اور ان میں ہونے والا تیز درد الگ سے جان ليوا تھا ۔۔۔

مگر وہ یہ نہیں جانتی تھی ابھی تو حساب شروع ہوا تھا ۔۔۔وہ شیطانی کھیل جس کا آغاز سفورا نے کیا تھا اس کا انجام شیطان نے اپنی مرضی سے کرنا تھا

تیز بارش ۔۔۔۔کالا جادو ۔۔۔اور کالے جادو کےخوفناک انتقام کی ابتداء

۔****************

بہادر شاہ منی کی تلاش میں جھونپڑی سے باہر آیا تھا ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی

وہ اسے یہاں وہاں دیکھتا ماسٹر جی کی قبر پر گیا تھا وہ قبر پر ہاتھ رکھے ساتھ لیٹ کر باتیں کر رہی تھی بہادر شاہ چہرے پر مسکراہٹ لئے اس کی طرف دیکھ رہا تھا

“ابا ۔۔۔۔میں آپ کو بہت یاد کرتی ہوں ۔۔۔۔آپ بہت اچھے ابا ہیں ۔۔ میرے ساتھ تو آپ کا همزاد ابا ہے آپ جو منی دنیا میں چھوڑ کر یہاں آ کر آرام سے لیٹ گئے ہیں اس کا خیال نہیں آیا ایک بار بھی ابا ؟؟؟”

“جهلی اپنی اولاد کو بے آسرا چھوڑ کر آنے کا دل کسی باپ کا نہیں کرتا مگر کیا کریں ۔۔۔یہی قدرت کا قانون ہے ۔۔۔اپنی مرضی تھوڑی چلتی ہے اس رب کے آگے ۔۔ “

بہادر شاہ نے منی کو اوپر اٹھانے کے لئے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا تھا جس کا اس پر کوئی اثر نہیں ہوا تھا

“ابا ۔۔۔۔۔۔منی تو بہت روتی ہوگی آپ کے بغیر ۔۔ “

منی کی آواز میں اداسی واضح تھی

اس سے پہلے کے بہادر شاہ کچھ کہتا اس كی نظر قبرستان کے گیٹ پر پڑی تھی جہاں ایک بڑی لینڈ کروز ر آ کر رکا تھا

جس میں سے ایک عورت اتری تھی جو کرتہ پہنے ہوۓ تھی جس کے ساتھ سرے سے کوئی دوپٹہ یا سکارف نہیں تھا جبکہ ٹائٹس کے نام پر اس کی گهٹنوں سے اوپر قميض میں اس کی ٹانگوں کا گوشت برہنہ ہونے کی حد تک صاف دکھ رہا تھا، اس کے بال ضرورت سے زیادہ چھوٹے تھے اور دو پٹہ نا ہونے کی وجہ سے وہ ان بالوں کے ساتھ دور سے چھوٹے قد کا آدمی لگ رہی تھی

اس کےساتھ ایک لمبے قد کا لڑکا جو ضرورت سے زیادہ چست بنیان نمہ شرٹ اور شارٹس (نيكر جو اکثر گھٹنوں سے بھی تھوڑی اوپر ہوتی ہے)پہنے ہوۓ تھا اس کا رنگ حد سے زیادہ گورا تھا اس کے لمبے بھورے بالوں اور ملائی رنگت کی وجہ سے اس کے لڑکی ہونے کا گمان ہورہا تھا

وہ دونوں تیزی سے اتر کر بہادر شاہ کی طرف آۓ تھے جبکہ منی اب بھی قبر کے ساتھ لیٹی ماسٹر جی کے ساتھ میٹھی میٹھی باتیں کر رہی تھی

“او مسٹر ۔۔۔قبر کھود دو ہمیں جلدی ہے “

وہ لڑکے کے نام پر سیاہ دھبہ غرور سے بولا تھا

“هاهاهاهاها ۔۔۔”

بہادر شاہ نے قہقہ لگایا تھا جس پر ان دونوں نے ایک دوسرے کو حیرانگی سے دیکھا تھا

“ارے تمہاری آواز تو مردوں جیسی ہے”

“هاهاهاهاها”

بہادر شاہ ایک بار پھر دل کھول کر هنسا تھا منی نے باپ کو دیکھا تھا وہ بھی ہنسنے لگی تھی

“وقت برباد مت کرو ہمارا ہمیں جلدی ہے میڈیا آتا ہی ہوگا اور بےبی کی حالت ایسی نہیں کہ ان کی لائیو کوریج ہو ۔۔۔”

وہ عورت اپنے مردانہ بالوں میں ہاتھ پھیر کر ادا سے بولی تھی

“وقت تو تم لوگوں کو برباد کر رہا ہے میں کون ہوتا ہوں تمہارے وقت کو برباد کرنے والا”

بہادر شاہ ایک دم خوفناک حد تک سنجیده ہوا تھا

“جانتے ہو لباس کا بھی سوال ہوگا،لباس کے تین تقاضے ہیں

پہلا اور بنیادی تقاضہ پردہ

دوسرا موسم کے گرمی سردی کے اثرات سے خود کو بچانا

اور تیسرا اور آخری زینت مطلب خوبصورت نظر آنا ہے ۔۔۔

جو عورت ایسا لباس پہنے جو لباس کے باوجود بھی برہنہ لگے مطلب اس کا لباس اتنا مختصر، تنگ یا باریک ہو تو ایسی عورت کو قیامت کے دن اس طرح اٹھایا جائے گا کہ وہ برہنہ ہوگی(اَسْتَغْفِرُاللّٰه)

اور مرد کا ستر ناف سے لے کر گھٹنوں تک ہے جس کی آج کا مرد شارٹ کے نام پر دھجھیاں اڑا رہا ہے ۔۔۔

جیسا لباس ہو گا ویسے ہی مزاج میں تبدیلی آتی جائے گی ۔۔۔عورت مردانہ روش اپنا کر سخت اور بے پردہ جبکہ مرد زنانہ چست کپڑے پہن کر نرم مذاج اور شرمیلا اور نسوانی ہو جائے گا ۔۔۔۔وہ بہادری اور ہمت و جرات جو مرد کی پہچان ہوا کرتی ہے وہ مليامیٹ ہو جاتی ہے

عورت کو مرد کی اور مرد کو عورت کی مشابہت اختیار کرنا حرام ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے لوگوں پر لعنت فرمائی ہے۔

حدیث شریف میں آتا ہے:

عن ابن عباس رضی اللہ عنہما قال: لعن رسول اللّٰہ ﷺ المتشبھین من الرجال بالنساء والمتشبھات من النساء بالرجال۔ (رواہ البخاری)

ترجمہ:

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے مشابہت اختیار کرنے والے مردوں پر لعنت فرمائی اور مردوں سے مشابہت کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے۔

حضرت عبد اللہ بن عباس ﷟فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺنے عورت بننے والے مَردوں اور مرد بننے والی عورتوں پر لعنت فرمائی۔فرمایا: اُنہیں اپنے گھروں سے نکال دو ۔لَعَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُخَنَّثِينَ مِنَ الرِّجَالِ، والْمُذَكَّرَاتِ مِنَ النِّسَاءِ، قَالَ: أَخْرِجُوهُمْ مِنَ الْبُيُوتِ۔(شعب الایمان :7420)(بخاری :5886)

تمہارے جوانوں میں بہترین جوان وہ ہیں جو تمہارے بوڑھے لوگوں کی مشابہت اختیارکرتے ہیں اور تمہارے بوڑھے لوگوں میں سے بدترین لوگ وہ ہیں جو تمہارے جوانوں کی مشابہت اختیار کرتے ہیں ، تمہاری بدترین عورتیں وہ ہیں جو تمہارے مَردوں کی مشابہت اختیار کرتی ہیں اور تمہارے بدترین مرد وہ ہیں جو تمہاری عورتوں کی مشابہت اختیار کرتےہیں ۔إِنَّ خَيْرَ شَبَابِكُمْ مَنْ تَشَبَّهَ بِشُيُوخِكُمْ، وَشَرَّ شُيُوخِكُمْ مَنْ تَشَبَّهَ بِشَبَابِكُمْ، وَشَرَّ نِسَائِكُمْ مَنْ تَشَبَّهَ بِرِجَالِكُمْ، وَشَرَّ رِجَالِكُمْ مَنْ تَشَبَّهَ بِنِسَائِكُمْ۔(شعب الایمان : 7420)

نبی کریمﷺکا ارشاد ہے :جو عورت مَردوں کی اور جو مَرد عورتوں کی مشابہت اختیار کرے اُس کا ہم سے کوئی تعلّق نہیں ۔ لَيْسَ مِنَّا مَنْ تَشَبَّهَ بِالرِّجَالِ مِنَ النِّسَاءِ، وَلَا مَنْ تَشَبَّهَ بِالنِّسَاءِ مِنَ الرِّجَالِ۔(مسند احمد :462)

حضرت سُوید بن غفلہ فرماتے ہیں کہ مَردوں کے ساتھ مشابہت اختیار کرنے والی عورتوں کا ہم سے اور ہمارا اُن سے کوئی تعلّق نہیں ۔الْمُتَشَبِّهَةُ بِالرِّجَالِ مِنَ النِّسَاءِ لَيْسَتْ مِنَّا، وَلَسْنَا مِنْهَا۔(ابن ابی شیبہ :26495)

تشبّہ اختیار کرنے کی وعیدیں :

تشبّہ اختیار کرنے والوں کی عاقبت کی خرابی :نبی کریمﷺکا ارشاد ہے:جس نے جس قوم کے ساتھ مشابہت اختیار کی وہ (کل قیامت کے دن )اُسی کے ساتھ ہوگا۔مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ۔(ابوداؤد:4031)

تشبّہ بالکفار کے مُرتکب سے حضور کا لاتعلّقی کا اِظہار:نبی کریمﷺکا ارشاد ہے:اُس کا ہم سے کوئی تعلّق نہیں جو ہمارے علاوہ کسی اور(کافروں) کی مشابہت اختیار کرے۔لَيْسَ مِنَّا مَنْ تَشَبَّهَ بِغَيْرِنَا۔(ترمذی:2695)

جنسِ مُخالف کی مشابہت اختیار کرنے والے ملعون ہیں :آپﷺنے ایسے مرد و عورت پر لعنت فرمائی ہے جو مخالف جنس کی مشابہت اختیار کرتے ہیں ، چنانچہ حدیث میں ہے :نبی کریمﷺنے اُن مَردوں پر لعنت فرمائی ہے جوجنسِ مُخالف کی مشابہت اختیار کرنے والے بدترین لوگ ہیں :آپﷺ نے مخالف جنس کی مشابہت اختیار کرنے والے مرد و عورت کوبدترین مرد و عورت قرار دیا ، چنانچہ ارشادِ نبوی ﷺ ہے :تمہاری بدترین عورتیں وہ ہیں جو تمہارے مَردوں کی مشابہت اختیار کرتی ہیں اور تمہارے بدترین مرد وہ ہیں جو تمہاری عورتوں کی مشابہت اختیار کرتےہیں۔وَشَرَّ نِسَائِكُمْ مَنْ تَشَبَّهَ بِرِجَالِكُمْ، وَشَرَّ رِجَالِكُمْ مَنْ تَشَبَّهَ بِنِسَائِكُمْ۔(شعب الایمان : 7420)

جنسِ مُخالف کی مشابہت اختیار کرنے والے جنّت سے محروم ہیں :نبی کریمﷺ نے مخالف جنس کی مشابہت اختیار کرنے والے مرد وں اور عورتوں کو جنت سے محروم قرار دیا ، چنانچہ حدیث میں ہے ،نبی کریمﷺ ارشاد فرماتے ہیں :تین افراد ایسے ہیں جو جنّت میں داخل نہیں ہوں گے :ایک وہ مَرد جو عورتوں جیسا لِباس پہنے اور دوسری وہ عورت جو مَرد جیسا لِباس پہنے ، اور دَیُّوث۔ثَلَاثَةٌ لَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ: الرَّجُلُ يَلْبَسُ لِبْسَةَ الْمَرْأَةِ، وَالْمَرْأَةُ تَلْبَسُ لِبْسَةَ الرَّجُلِ، وَالدَّيُّوثُ۔(شعب الایمان : 7417)

جنسِ مُخالف کی مشابہت اختیار کرنے والوں سے حضورﷺ کا لا تعلّق ہونا :نبی کریمﷺ نے مخالف جنس کی مشابہت اختیار کرنے والے مردوں اور عورتوں سے اپنی لاتعلّقی ظاہر فرمائی ، چنانچہ ارشاد فرمایا:جو عورت مَردوں کی اور جو مَرد عورتوں کی مشابہت اختیار کرے اُس کا ہم سے کوئی تعلّق نہیں ۔ لَيْسَ مِنَّا مَنْ تَشَبَّهَ بِالرِّجَالِ مِنَ النِّسَاءِ، وَلَا مَنْ تَشَبَّهَ بِالنِّسَاءِ مِنَ الرِّجَالِ۔(مسند احمد :462)

قومِ لوط کا ایک گناہ جنسِ مُخالف کی مشابہت اختیار کرنا بھی تھا : علّامہ قرطبی ﷫ نے قومِ لوط کی ہلاکت کے جو اسباب اور گناہ ذکر کیے ہیں اُن میں سے ایک یہ بھی تھا کہ لِباس پہننے میں اُن کے مرد عورتوں کی اور عورتیں مردوں کی مُشابہت اختیار کرتے تھے۔وَتَتَشَبَّهُ الرِّجَالُ بِلِبَاسِ النِّسَاءِ وَالنِّسَاءُ بِلِبَاسِ الرِّجَالِ۔(تفسیر القرطبی :342)

“ارے بھئی موم اب یہ دو ٹکے کا گورکن ہمیں بتائے گا کہ ہم نے کیا پہننا ہے ۔،۔۔۔یو ار جسٹ اون مائی فٹ”

وہ نفرت اور بد تہذیبی سے اپنے ہلکے بھورے سلكی بالوں میں ہاتھ پھیر کر بولا تھا بہادر شاہ نے خاموشی سے جھونپڑی سے چیزیں لا کر قبر کھود دی تھی اب وہ ان دونوں کے ہمراہ لینڈ کروزر کے پاس آیا تھا جس کی ڈیگی میں اس عورت کی بیٹی اور اس لڑکے کے بہن کی چادروں میں لپٹی میت تھی بہادر شاہ نے اس کی مدد کی تھی وہ باہر نکال کر ركهنے میں بارش بھی تیز ہو چکی تھی وہ عورت اس کی میت سے چادر ہٹا کر سر پکڑ کر بولئ تھی

“کیا یار ٹونی اس کا یہ کفن بھی ریزہ ریزہ ہو گیا ہے “

“یہ چھوٹا کفن ہے جو اس طرح پھٹ کر ختم ہوا ہے”

ٹونی نے بھی بے زاری کا اظہار کیا تھا

“کیا کرتی تھی اپ کی بیٹی ؟؟”

بہادر شاہ نے اداس سے لہجے میں پوچھا تھا جس کا جواب بہت فخر سے اس کے بھائی نے دیا تھا

“She was just an international brand”

ٹاپ کی ماڈل تھی ۔۔۔۔پوری دنیا میں نام تھا اس کا ۔۔۔۔”

“پھر ابھی ایسے بے نام کیوں دفنا رہے ہیں آپ اس کو ؟؟؟”

بہادر شاہ نے اس پر چادر ڈال کر کہا تھا

“تم دیکھ تو رہے ہو اس کا ہر کفن پھٹ جاتا ہے اس کو کوئی کپڑا ڈھانپ ہی نہیں رہا یہ خود تو مر گئی ہے پیچھے رہ گئے ہم ۔۔۔بھئی ہمیں تو سوسائٹی میں موو کرنا ہے نا ۔۔۔لوگ کیا کہیں گے ۔۔۔ اور وہ تم غریب مولوی لوگ کیا کہتے ہو ۔۔۔۔؟؟؟”

وہ ادا سے سوچتے ہوۓ بولا تھا

“ہاں یاد آیا ۔۔ عبرت ناک موت “

“ہم نہیں چاھتے لوگ یہ سب کہیں ہماری بےبی کو دیکھ کر”

“حیرت کی بات ہے جب اس کو خود کو ڈھانپنے کا اختیار دے رکھا تھا اللّه نے اس نے تب خود کو نمائش بنا کر پیش کیا پھر اب کیسی شرمندگی ؟؟؟؟”

“یاد رکھنا ۔۔۔۔۔لباس یہ طے کرتا ہے آپ اللّه کے کتنے قریب ہو ۔۔۔جیسے جیسے اللّه سے دور ہوتے جاؤ گے لباس سکڑتا چلا جائے گا ۔۔۔”

“مغرب کی طرف جاؤ گے تو ڈوب جاؤ گے کبھی سورج کو اس طرف ڈوبتے نہیں دیکھا ؟؟؟”

وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر بہادر شاہ کو پاگل ہونے کا اشارہ دے رہے تھے

لڑکے نے فون نکالا تھا جس میں میڈیا کی اس طرف آنے کی خبر تھی وہ ماں کو آگاہ کرتے ہوۓ اس ماڈل کی میت کو گھسیٹ کر لے جاتا ہوا اس قبر میں ڈال کر اوپر مٹی ڈالنے لگا تھا

وہ دونوں اپنا کام ختم کر میڈیا کے ڈر سے چلتے بنے تھے ۔۔

اس کی قبر بھی بے پردہ تھی کیوں کہ اسے ٹھیک سے ڈھانپا ہی نہیں گیا تھا ۔۔۔اس پر تو کسی مردہ جانور کی طرح بس مٹی ڈال کر چھپایا گیا تھا جب وہ جانور کی طرح بے لباس زندگی گزار رہی تھی پھر اس کا انسان کی طرح دفن ہونا کیسے ممکن تھا ۔۔۔۔

بہادر شاہ کا دل اس کو ٹھیک کرنے کا نہیں کیا تھا وہ چپ چاپ چل پڑا تھا

تیز بارش ۔۔۔۔۔ٹاپ کی ماڈل ۔۔۔۔۔اور وہ بے پردہ قبر ۔۔۔۔۔