Ada e Ishq Hon Season 01by Malayeka Rafi readelle50007 Episode 22 LAST (SZN 01)
Rate this Novel
Episode 22 LAST (SZN 01)
” شادی کا فنکشن ہونا چاہیے وقاص اور پہلی عید کو ہی ہم یہ فنکشن رکھ لیتے ہیں، جتنی جلدی یہ سب ہو ہمارے لئے بہتر ہیں “
دشاب بےحد پریشان لہجے میں کہہ رہے تھے جبکہ وقاص جو اپنی سوچوں میں گم تھے بس ہنکارا ہی بھرا تھا۔
” بچوں نے جذبات میں آ کے یہ قدم اٹھا ہی لیا یے تو اب ہم بڑوں کا یہ فرض بنتا ہے کہ ان کے غلط اقدام کو جائز بنائیں “
دشاب پھر سے بولے تھے جبکہ وقاص اب بھی خاموش ہی رہے تھے، آخر دشاب کو ہی ٹھٹھکنا پڑا اپنے بھائی کے اس عمل پہ۔
” کیا مسئلہ ہے وقاص ؟؟ کچھ کہہ نہیں رہے ؟؟ کچھ سوچ رہے ہو کیا ؟”
وقاص نے سر جھٹک کے گہرا سانس لیا تھا۔
” ہممم ٹھیک ہے دشاب، جو کہہ رہے ہو ٹھیک ہے، رکھ لیتے ہیں فنکشن بھی، خاندان کی عزت اب ہمارے ہاتھوں میں ہیں “
” تمہاری طبیعت ٹھیک ہے ؟؟”
دشاب تشویش بھرے انداز میں وقاص کو دیکھتے پوچھنے لگے جبکہ وقاص اثبات میں سر ہلانے لگے۔
” میں ٹھیک ہوں ۔۔۔۔ “
” سب ٹھیک ہو جائے گا وقاص، تم یقین رکھو “
دشاب نے انہیں تسلی دیتے کہا جب اچانک تابعہ کمرے کا دروازہ کھول کے اندر آئی تھی ۔
” وہ لڑکی مر چکی ہے اس خاندان کے لئے، میری کوئی بیٹی نہیں ہے مائزہ نام کی۔ “
وہ تقریبا چلائی تھی جبکہ وقاص نے لب بھینچے انہیں دیکھا تھا اور دشاب اپنی جگہ سے کھڑے ہوئے تھے۔
” بھابی یہ ضروری ہے ہمارے خاندان کی عزت بچانے کے لئے یہ بےحد ضروری ہے، کل کو میڈیا یا پریس میں یہ بات چلی گئی تو رہی سہی عزت بھی ختم ہو جائے گی “
وہ نرمی سے کہنے لگے۔
” رہی سہی عزت ؟؟ “
تابعہ کا انداز طنزیہ تھا۔
” اب بھی عزت بچی ہے ؟؟ رئیلی ؟؟ اس جیسا مرد اگر ہو تو اس فیملی کی عزت کہاں بچتی ہے “
انہوں نے وقاص کی طرف اشارہ کیا تھا جبکہ وہ غصے سے اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔
” تابعہ ۔۔۔ “
” چلاؤ مت ۔۔۔ چلانے سے تمہاری مردانگی واپس آ نہیں جائے گی اور نہ تم مرد لگو گے ۔ “
اپنے بھائی کے سامنے وقاص کو اپنے عزت دو کوڑی کی محسوس ہوئی تھی اس وقت، تبھی جھٹکے سے آگے بڑھ کے انہوں نے تابعہ کا ہاتھ جکڑ کے جھٹکا تھا۔
” کیا بکواس کر رہی ہو تم تابعہ۔ “
آنکھیں دکھاتے وہ چلائے تھے جبکہ تابعہ پہ کوئی اثر نہیں ہوا تھا، دشاب تاسف سے ان دونوں کو دیکھ رہے تھے۔ جب خاندان کے بڑے ہی غلط ہو تو خاندان کے چھوٹوں سے کیا گلہ۔
” وہی جو سن رہے ہو “
وہ بھی چیخی تھی، دشاب نے آگے بڑھ کے وقاص کو کندھے سے تھاما تھا ۔
” وقاص ریلیکس، ہاتھ چھوڑو بھابی کا، چلو باہر پلیز “
وقاص ابھی تک لب بھینچے تابعہ کو دیکھ رہے تھے اور جھٹکے سے ان کا ہاتھ چھوڑ کے، وہ لمبے ڈگ بھرتے باہر کی طرف بڑھ گئے جبکہ دشاب نے پہلے تابعہ کو دیکھا اور پھر وقاص کے پیچھے ہی وہ بھی آگے بڑھ گئے کہ یہاں ٹھہرنے کا کوئی فائدہ بھی تو نہیں تھا۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
” میران یہاں کیوں کھڑے ہو بیٹا؟؟”
وہ جو اپنی سوچوں میں الجھا ہوا تھا چونک کے عارفین کو دیکھنے لگا اور پھر سر جھٹک کے اس نے گہرا سانس لیا تھا۔
” میں رخصتی چاہتا ہوں “
بوجھل لہجے میں کہتا وہ پھر سے چاند کو دیکھ رہا تھا جو کل عید ہونے کا اعلان کر رہی تھی جبکہ عارفین کا چہرہ کھل اٹھا تھا۔
” یہ تو بہت اچھی بات ہے میری جان، ازمائر اور مائزہ کی تقریب بھی ہو رہی ہے، ساتھ میں تمہاری اور سماہر کی شادی کی تقریب ہو جائے گی تو اس خاندان کی خوشیوں کو چار چاند لگ جائے گیں “
عارفین کا لہجہ اور آواز خوشیوں سے بھر گیا تھا جیسے ۔ تبھی دو قدم آگے بڑھ کے، میران کے کندھے پہ ہاتھ رکھا تھا۔
” آج تو چاند رات ہے بیٹا اور اس رات کہ رسم ہوتی ہے کہ شوہر اپنی بیوی کو مہندی لگوانے لے جاتے ہیں اور چوڑیاں پہناتے ہیں۔ تم بھی سماہر کو لے کے جاؤ، یہاں کیوں کھڑے ہو؟ “
وہ چونکا تھا۔
” لے جا رہا ہوں ماں، اس کا ہی انتظار کر رہا ہوں “
لہجہ بےحد بجھا ہوا محسوس ہوا تھا عارفین کو اس کا۔ تبھی اس کے سامنے آ کھڑی ہوئی تھئ۔
” کیا بات ہے میران ؟؟ کیوں پریشان ہو؟ “
وہ ماں تھی کیسے نہ پڑھ پاتی اپنے بیٹے کے چہرے کو۔ میران نے نفی میں سر ہلایا تھا۔
” نہیں ہوں پریشان، آپ کو بس ایسا لگ رہا ہے “
” میں ماں ہوں میران، میں آنکھیں پڑھ لیتی ہوں تمہاری، بتاؤ میرا بیٹا کیا پریشانی ہے ؟”
عارفین نے نرمی سے اس کے دونوں ہاتھ تھام لیے تھے جبکہ وہ اپنی ماں کے چہرے کو دیر تک دیکھتا رہا، آنکھوں میں بےبسی تھی، دل پہ یاسیت طاری تھی ، وہ کچھ نہیں بتا سکتا تھا، کیا بتاتا اور کیسے بتاتا۔
” ماں میں سماہر اور اپنے بیچ اب کوئی دوری نہیں رکھنا چاہتا، آپ بس رخصتی کی بات کریں وقاص چچا سے “
میران کہہ کے ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا ہو گیا تھا تا کہ مزید اس کا چہرہ نہ پڑھ پائے عارفین، جبکہ عارفین مسکراتی آنکھوں سے اپنے بیٹے کی پشت دیکھنے لگی۔
” میں کل ہی بات کرتی ہوں “
” تھینک یو ماں”
اس نے ہلکا سا مسکرا کے عارفین کو دیکھا تھا ۔
” میں چلتا ہوں ابھی “
عارفین کا جواب سنے بنا ہی وہ تیزی سے کمرے سے باہر نکلا تھا جبکہ عارفین پریشان نظروں سے بند دروازے کو دیکھتی رہی،کچھ تو تھا جو میران کو اندر سے کھائے جا رہا تھا لیکن کیا ؟؟ انہی سوچوں میں گم وہ کمرے سے باہر نکلی تھی جب دشاب سے ٹکراؤ ہوا تھا جو مسکراتی آنکھوں سے عارفین کو دیکھ رہے تھے جبکہ عارفین سنبھل کے ان سے الگ ہوئی تھی۔
” اچھا ہوا آپ آ گئے دشاب “
دشاب کی آنکھوں میں خوشگوار حیرت ابھری تھی۔
” آج چاند رات ہے اور میری مسز کو میری یاد ستا رہی ہے،”
عارفین نے چونک کے انہیں دیکھا تھا اور پھر سنبھل کے لاؤنج کی طرف بڑھی تھی۔
” مجھے آپ سے میران کے متعلق بات کرنی تھی “
سنجیدگی سے کہتی وہ صوفے پہ بیٹھ چکی تھی جبکہ دشاب بھی وہیں آ کے ان کے قریب ہی بیٹھے تھے۔
” اب کیا کر دیا ہے میران نے ؟؟”
عارفین نے عجیب نظروں سے انہیں دیکھا تھا اور وہ سنبھل گئے تھے۔
” میرا مطلب ہے کہ اتنی مشکلات میں پھنسایا ہے ازمائر نے،کہ اب مزید سکت نہیں ہے کچھ غلط سننے کی “
عارفین سر جھٹک کے نظریں پھیر گئی اور خاموش رہی ، دل میں طوفان اٹھا تھا کہ ان سے کہہ دیں کہ آپ کب باپ بن کے میران کو گلے سے لگا چکے ہیں جو اب ایسے الفاظ استعمال کریں میران کے لئے، لیکن گہرا سانس لے کے انہوں خود کو روکا تھا کچھ بھی سخت کہنے سے۔
” عارفین ؟؟ کیا کہنا تھا آپ کو ؟؟”
دشاب کے پوچھنے پہ وہ انہیں دیکھنے لگی۔
” میران رخصتی چاہتا ہے اور جلد چاہتا ہے، تو کل ہمیں وقاص بھائی اور تابعہ سے بات کرنی چاہئے میران اور سماہر کی رخصتی کے لئے تقریب رکھنی چاہیے ہمیں، ویسے بھی تیاری تو مکمل ہی ہماری “
دشاب کے چہرے پہ ہلکی سی مسکراہٹ ابھری تھی۔
” یہ تو بہت اچھی بات ہے، ہم کل ہی بات کرتے ہیں ۔ “
عارفین سر اثبات میں ہلاتی اٹھنے لگی جب دشاب نے ان کی کلائی تھام کے انہیں روکا تھا۔
“کہاں؟؟”
عارفین نے چونک کے اپنی کلائی پہ موجود ان کے ہاتھ کو دیکھا اور پھر ان کے چہرے ہو، جس پہ انہیں روک لینا کی التجا رقم تھی۔
” میرب کے پاس جا رہی ہوں، اپ کو مجھ سے کام ہے ؟؟”
” کچھ دیر باتیں کر لیتے ہیں چاند کو دیکھتے دیکھتے “
ایک آس سی تھی ان کے الفاظ میں، عارفین ہنس پڑی اور پھر ایکدم خاموش ہو گئی، آنکھوں میں جوت بجھ سے گئے تھے۔
” اب ان چونچلوں کی عمر نہیں رہی “
دشاب کے چہرے پہ سایہ سا گزرا تھا۔
” میرے لئے پلیز “
عارفین انہیں دیکھے گئی اور پھر سر جھٹک کے بالکونی کی طرف دیکھنے لگی جبکہ دشاب کھڑے ہوئے تھے اور ان کا ہاتھ تھامے دشاب بالکونی کی طرف بڑھے تھے اور ریلنگ کے قریب رک کے وہ اوپر دیکھنے لگے جہاں پہلی تاریخ کی چاند جگمگا رہی تھی جبکہ فاصلے فاصلے سے پٹاخوں کی آوازیں آ رہی تھی کہیں کہیں سے اور آسمان روشنیوں سے بھر جاتا، دشاب ان کے چہرے کو دیکھنے لگے جبکہ عارفین ان کی نظریں نظرانداز کر کے آسمان کو دیکھتی رہی۔
لو مان لیا ہم نے
ہے پیار نہیں تم کو
تم یاد نہیں ہم کو
ہم یاد نہیں تم کو
بس ایک دفعہ مڑ کے دیکھ لو
اے یار میرے ہم کو ۔۔۔
عارفین نے نظریں پھیر کے انہیں دیکھا تھا، دشاب ہلکا سا مسکرائے تھے جبکہ عارفین نظریں چرا کے اپنا ہاتھ بھی ان کے ہاتھ سے چھڑا گئی تھی۔
” میں میرب کو دیکھ کے آتی ہوں “
تیزی سے کہہ کے عارفین اندر کی طرف بڑھ گئی تھی جبکہ دشاب لب کاٹتے انہیں جاتا دیکھتے رہے، وقت ریت کی طرح ان کے ہاتھ سے پھسل چکا تھا، اب اس چہرے پہ بشاشت نہیں تھی بلکہ جھریاں سی پر گئی تھی، ان بالوں پہ چاندی اتر چکی تھی، دل کے تمام خالہ کمرے سرد پڑ چکے تھے، اب انہیں ان التفات کی چاہ نہیں رہی تھی، اب انہیں دشاب ارتضی ملک کی چاہ نہیں رہی تھی، آنکھوں میں آئی نمی کو ہاتھ کی انگلی سے صاف کرتی، وہ اپنے کمرے میں آ گئی تھی، کہ اس نازک وجود پہ بھاری بوجھ سا آن پڑا تھا، انہیں دشاب کی قربت سے اب وحشت ہونے لگی تھی، یہاں اس کمرے میں سکون تھا اور وہ دیر تک اپنی سوچوں میں مگن، کمرے کے ایک کونے میں دیوار سے لگ کے بیٹھ گئی تھی کہ ایسا کرنے سے انہیں سکون مل رہا تھا۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
مسکراتی نظروں سے وہ اپنے ہاتھوں پہ لگی مہندی کو دیکھ رہی تھی،ہاتھ کی ہتھیلی کے ایک کونے میں میران کا نام جگمگا رہا تھا اور اس کے لب دھیرے سے مسکرا اٹھے تھے جب میران کے بازوؤں کے مضبوط گھیرے نے اسے اپنے وجود میں سمویا تھا اور سماہر مسکرا کے پشت اس کے سینے پہ ٹکا گئی تھی جبکہ اس کے کندھے پہ اپنا چہرہ ٹکا کے وہ آنکھیں موند گیا جیسے سماہر کی قربت میں وہ پرسکون ہو رہا ہو۔
تیری بانہوں میں ملی
ایسی راحت سی مجھے
ہوگئی جان جہاں
تیری عادت سی مجھے
دیکھوں میں جب تجھ کو تو
تب میرا دن یہ ڈھلے ۔۔
دیوانہ کر رہا ہے
تیرا روپ سنہرا
” تم میں سکون ہے سماہر “
وہ مبہم سرگوشی کرنے لگا کہ بولتے ہوئے اس کی گرم سانسیں سماہر کی گردن کو چھو رہی تھی جبکہ سماہر سانسوں کے ان لمس پہ لب کاٹنے لگی۔
” تم سکون ہو سماہر، “
بانہوں کا گھیرا اس کی کمر کے گرد تنگ کرتا وہ سماہر کو خود میں بھینچ گیا۔
” میں بہت جلد تمہیں اپنے گھر میں چاہتا ہوں، رخصت ہو کے تم جلد سے جلد ہمارے گھر آ جاؤ، کیا تم بھی ایسا چاہتی ہو ؟؟”
بوجھل سرگوشی سماہر کو اپنے سحر میں جکڑ رہا تھا ۔
” میں بھی یہی چاہتی ہوں میران “
نرمی سے سرگوشی کرتی وہ بھی مسکرانے لگی۔
” بہت بےسکونی ہے، اس کمرے میں، اس بیڈ شیٹ پہ، وہاں رکھے اس تکیے پہ، میری بےسکونی رقم ہیں سماہر، میں چاہتا ہوں کہ تمہارے آ جانے سے وہ سب بےسکونی مجھ سے دور چلے جائیں، مجھے تمہاری مدد چاہئے، مجھے تمہاری ضرورت ہے، مجھے تم سے محبت ہے، تمہاری قربت میں مجھے اپنے سکون کے لمحے چاہئے “
بوجھل آواز مزید سرگوشی میں ڈھل گئی تھی۔ سماہر سانس روکے اسے سن رہی تھی، رخ موڑ کے وہ میران کے چہرے کو دیکھنے لگی، جہاں عجیب بےسکونی رقم تھی، بےچینی سی رقم تھی، اس نے اپنی دونوں بانہیں میران کے کندھے پہ رکھے تھے اور اس کے گلے لگی تھی، جیسے اسے اہنے وجود کا سکون بخش رہی ہو،میران نے اسے بانہوں میں بھر لیا تھا اور اسے خود سے لگائے اس نے سماہر کے کندھے پہ اپنے لب رکھے تھے، جلتے لبوں کا وہ لمس سماہر کو سمٹنے پہ مجبور کر گیا، اور تبھی میران نے اسے مزید خود میں بھینچ لیا تھا، اس کے کندھے سے اس کی شرٹ ہلکا سا ہٹا کے، وہ اپنے جلتے لبوں کے لمس چھوڑتا گیا اور سماہر ہر لمس پہ، اسی کے وجود میں پناہ ڈھونڈتی، اس کے سینے سے لگی، اس میں سمٹتی جاتی۔
‘ میران ۔۔۔۔ ‘
آواز سی ابھری تھی، ایک عکس سا ابھرا تھا۔
‘ میران تم۔۔۔ ‘
وہ آگ کا منظر تھا، عجیب دہشتناک اور پھر ۔۔۔ وہ لمس، وہ ان چاہا لمس، وہ رک گیا تھا، سماہر کی کمر پہ رکھے اس کے دونوں ہاتھ، جیسے سماہر کے وجود میں دھنسنے لگے، سماہر درد سے کڑاہی تھی اور پریشان نظروں سے میران کو دیکھنے لگی، لب بھینچے میران نے اسے دیکھا اور اس کے وجود پہ اپنی گرفت ہلکا کرتا، وہ سماہر کے ماتھے پہ اپنے لب رکھ گیا، آنکھوں میں نمی اتری تھی۔ دل پہ پھر سے یاسیت کا موسم اترا تھا اور وہ دیر تک یونہی سماہر کے ماتھے اپنے لب رکھے کھڑا رہا۔ جیسے خود کو اس کربناک لمحے کی گرفت سے آزاد کر رہا ہو جبکہ سماہر پریشان سی ہو گئی تھی اس لمحے میران کے لئے،
” میران “
اس نے نرمی سے پکارا تھا۔
” ہممم “
ہلکی سی آواز میں کہتا، وہ الگ ہو کے نظریں پھیر گیا، سماہر اب بھی اس کی پشت دیکھ رہی تھی اور وہ گہرا سانس لیتا اسے دیکھنے لگا، چہرے پہ اب ہلکی سی مسکان تھی۔
” کچھ چاہئے تو نہیں؟؟”
” چاہئے “
سماہر اسے دیکھتی کہہ گئی جبکہ وہ ہلکا سا قریب ہوا تھا۔
” کیا ؟؟”
سماہر اس کی سوالیہ آنکھوں میں دیکھتی رہی، کیا ہے اس شخص کے دل میں؟ وہ کیوں ایسا کر رہا ہے ؟؟ کیوں چھپا رہا ہے خود کو ؟؟ کیا خوف ہے اس شخص کو؟؟
” تم ۔۔ “
لب ہلکا سا وا ہوئے تھے اور الفاظ ادا ہوئے تھے جبکہ میران کی آنکھوں میں حیرت ابھری تھی اور پھر گھمبیر بوجھل پن، جس سے ہمیشہ سماہر کو محبت رہی ہے اور ابھی بھی وہ ان بوجھل آنکھوں کی گھمبیر کو دیکھ رہی تھی۔
” میں؟؟”
” ہاں تم۔۔ “
میران کچھ دیر اسے دیکھتا رہا اور پھر سر تھام کے صوفے پہ بیٹھ گیا، سماہر بھی اس کے قریب بیٹھ چکی تھی، اتنے قریب کہ ان کے بیچ کوئی فاصلہ نہ رہے ۔
” میران “
” اتنی محبت مت کرو مجھ سے سماہر “
وہ بےبس سا اسے دیکھنے لگا۔
” کہہ کے کب ہوئی مجھے یہ محبت “
سماہر کا انداز کھویا ہوا سا تھا۔
” مجھے ڈر لگتا ہے “
وہ بےبس سا کہہ رہا تھا۔
” مجھ سے؟؟”
” ہاں تم سے سماہر “
وہ اعتراف کر گیا جبکہ سماہر سوالیہ نظروں سے اسے دیکھے گئی۔
” اب دیکھو ناں، اگر کھبی میری وجہ سے ٹوٹ گئی، اگر کھبی میں وجہ بنا تمہاری آنکھوں میں آنسو آنے کا یا کھبی ۔۔۔۔ “
وہ کہتے کہتے لب بھینچ گیا، سماہر اس کے قریب ہوئی تھی کہ وہ بےحد قریب سے ان آنکھوں کا خوف دیکھ پا رہی تھی، کہ وہ میران کی سانسیں محسوس کر رہی تھی۔
” تو پھر بھی تمہاری بانہوں میں پناہ ڈھونڈوں گی، تمہارے وجود اپنی راحتیں ڈھونڈوں گی، پھر بھی تمہارے اتنے ہی قریب رہوں گی کہ تمہاری سانسیں خود میں جذب کر کے میں اپنے وجود کی کرچیاں سمیٹوں گی”
میران خاموش سا اسے دیکھ رہا تھا، کتنا یقین تھا اسے میران پہ، اس کی بےبس آنکھیں سماہر کی لبوں پہ رکی تھی اور وہ پھر سے سماہر کی آنکھوں میں دیکھنے لگا۔
” تمہیں حق ہے میران، تم اپنی تھکاوٹیں مجھ میں اتارو، اپنی بےسکونیاں میرے وجود میں اتار کے پرسکون ہو جاؤ، عشق کا مکمل لباس ہوں میں، جہاں تمہارا سکون ہے، تمہاری راحتیں ہیں، جہاں تم ہو مجسم عشق، جہاں میں ہوں، میں سمیٹنا جانتی ہوں تمہیں، تم جتنا تھکو گے، تم جس قدر ٹوٹ کے بکھرے جاؤ گیں، میں تمہیں خود میں سمیٹ کے، تمہیں سلیقے سے جوڑ دوں گی “
وہ آنکھیں موند گئی تھی۔
” میں سماہر میران ملک ہوں اور تا ابد رہوں گی، اپنی آخری سانس کے رک جانے تک میں سماہر میران ملک ہوں “
وہ سرگوشی کر گئی تھی اور میران نے ان لبوں پہ اپنے لب رکھ کے سرگوشیاں کرنے لگا ۔
” ہم ایکدوسرے کا لباس ہیں سماہر، میں ٹوٹا ہوا اور بکھرا ہوا میران ارتضی ملک ہوں جسے تم نے سمیٹا ہے اور اپنی آخری سانس تک، اس عشق کے مقدس لباس میں، تمہارے سنگ اپنی راحتیں، اپنی چاہتیں، محبتیں اور تمہارے سنگ گزرے ہر لمحے کو سمیٹ کے رکھنا چاہتا ہوں کہ جب بھی نظر پڑے تو وہاں عشق کے سوا تمہیں دیکھنے کو اور کچھ نہ ملے “
سماہر ان سرگوشیوں کو جذب کر رہی تھی خود میں، اور بےساختہ میران ان لبوں پہ اپنی محبت بھری داستان رقم کرنے لگا، اور سماہر اس داستان کو اپنی سانسوں میں جذب کرنے لگی کہ اس کے لئے میران کے سکون سے بڑھ کے کچھ نہ تھا، میران اسے بانہوں میں بھر چکا تھا کہ تشنگی بڑھتی جا رہی تھی لمحہ لمحہ اور سماہر جسے ابھی تک اپنی مہندی کی فکر تھی، اب اسے مہندی کی بھی فکر نہ رہی تھی، وہ لمحہ لمحہ ایکدوسرے میں پگھل رہے تھے، اچانک گولی چلنے کی آواز آئی تھی اور میران اسے بانہوں میں بھینچے صوفے کی پیچھے جا گرا تھا۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
