Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 20

سب لان میں آ چکے تھے جبکہ ان سب کے بیچ ازمائر کھڑا تھا، مائزہ کا ہاتھ اب بھی اس کے ہاتھ میں تھا جسے سب نے اچھنبے سے دیکھا تھا۔
” کیا دیکھ رہے ہیں سب ؟؟ اتنا عجیب ری ایکشن کیوں؟ اگر میں نے مائزہ کا ہاتھ تھاما ہوا ہے ؟؟”
ازمائر نہایت بےلحاظی کے ساتھ سب کو دیکھتا کہہ رہا تھا۔
” مائزہ وہاں کیوں کھڑی ہو تم ؟ ادھر آؤ “
تابعہ نے تیز نظروں سے مائزہ کو دیکھتے کہا تھا، مائزہ جو اپنی ہاتھ چھڑانے لگی تھی ازمائر کی گرفت سے،جب ازمائر نے مزید گرفت سخت کر دی اور ساتھ اسے تنبیہی نظروں سے دیکھا تھا۔
” ازمائر ہاتھ چھوڑو اس کا “
دشاب کی بات پہ ازمائر انہیں گھور کے دیکھنے لگا۔
” نہیں چھوڑ رہا، کیا کر لو گے تم سب ؟؟ کیا بگاڑ لو گیں تم سب میرا ؟؟ “
ڈھیٹ بنا وہ سب کو دیکھتا کہنے لگا۔ سب پریشان نظروں سے اسے دیکھ رہے تھے اور اس کے ساتھ کھڑی مائزہ کو۔ جبکہ عظمی کے چہرے پہ مسکراہٹ رینگ گئی تھی، خود تو گڑبڑ کیا تھا اس کے بیٹے نے، جو سب کو چونکا دینے والا تھا۔ جبکہ بالکونی میں کھڑا میران لب بھینچے مڑا تھا۔
” اس کو تو ۔۔۔ “
” میران۔۔ “
سماہر بھی اس کے پیچھے ہی آئی تھی اور جب وہ دونوں لان میں آئے، تب ازمائر کی نظر ان دونوں پہ پڑی
” ارے لو آ گئی، مجھے بس ان کا ہی انتظار تھا۔ “
سب کی نظریں سماہر کی طرف اٹھی تھی اور سماہر چونک کے ان سب کو دیکھتی مائزہ کو دیکھنے لگی جو حیران آنکھوں سے ازمائر کو دیکھ رہی تھی۔
” میں اور مائزہ کورٹ میرج کر چکے ہیں۔ یہ رہے پیپرز “
اتنے پرسکون انداز میں کہا گیا کہ آگے بڑھتی سماہر وہیں رک گئی تھی، دل جو بار بار اس بات کی نفی کر رہا تھا اور وہی ہوا تھا۔ سب حیران آنکھوں سے ازمائر کو دیکھنے لگیں ۔
” کیا ہوا ؟ کچھ غلط کہا میں نے ؟؟ میں اور مائزہ ایکدوسرے سے محبت کرتے ہیں تو سوچا نکاح بھی کر لیتے ہیں۔ انفیکٹ کورٹ میرج “
” یہ کیا کیا مائزہ تم نے ؟”
تابعہ غم و غصے سے چلائی تھی جبکہ دشاب حیرت سے اپنے بیٹے کو، جس سے انہیں اس بات کی بلکل بھی امید نہ تھی۔
” ازمائر اپنے خاندان کی عزت کو یوں سڑکوں اور کورٹ کچہریوں میں کب سے اچھالنے لگے تم “
دشاب چلائے تھے جبکہ ازمائر زہرخند مسکراہٹ کے ساتھ انہیں دیکھنے لگا۔
” آپ سے سیکھا ہے میں نے ڈیڈ “
” ازمائر ۔۔۔ “
وقاص کی آواز بھی تیز ہوئی تھی اور اس کی طنزیہ نظریں اب اپنے چچا پہ تھی۔
” جی چچا جان ۔۔۔ مبارکباد نہیں دیں گے آپ؟؟ میں آپ کا داماد ہوں “
اس کی مسکراہٹ میں اس قدر طنز پنہاں تھا کہ وقاص اسے دیکھ کے رہ گئے ۔
” میرا مطلب تھا کہ جب ایکدوسرے سے اتنی محبت تھی تو ہم بزرگوں سے صلاح مشورہ۔۔۔۔ “
وقاص تھوڑا نرم پڑ گئے تھے اور سماہر نے لب بھینچے تاسف سے اپنے باپ کو دیکھا تھا، ازمائر کے ہاتھ بھی ان کی کمزوری آ گئی تھی جو وہ یوں دبک گئے تھے جبکہ ازمائر نے بیچ میں ہی ان کی بات کاٹ دی تھی۔
” صلاح مشورے کا انجام میرے سامنے ہیں چچا جان “
وہ اب زخمی مسکراہٹ کے ساتھ سماہر کو دیکھنے لگا جبکہ سماہر لب بھینچے اسے دیکھ رہی تھی۔ مائزہ کا ہاتھ چھوڑ کے وہ قدم قدم چلتا سماہر کے سامنے آ رکا تھا۔
” اب بہنوئی بن گیا ہوں “
لہجہ عجیب کاٹ دار تھا اور نظریں سماہر کے چہرے پہ تھی جو غصے اور خفت سے سرخ پڑ رہی تھی، ساتھ کھڑا میران آگے بڑھا تھا اور ازمائر کو دھکا دے کے پیچھے کر چکا تھا۔
” میری بیوی سے دور رہو “
دانت پیستے وہ غرایا تھا جبکہ ازمائر کندھے اچکا کے ہنسنے لگا ۔
” ارے یار ۔۔ میں بھی بیوی والا ہوگیا ہوں، تمہاری ہی بیوی کی بہن سے ۔۔۔۔ کورٹ میرج کر چکا ہوں “
پیچھے کھڑی مائزہ خفت سے سر جھکا گئی تھی، کچھ تو غلط قدم اٹھا ہی چکی تھی وہ، اب محسوس ہونے لگا تھا اسے، دھندلائی آنکھوں سے وہ اپنے ہاتھوں کی انگلیاں دیکھنے لگی۔
” چلو مائزہ یہاں سے، بہت تماشا ہو گیا “
تابعہ نے آگے بڑھ کے اس کا ہاتھ پکڑنا چاہا جب بروقت ازمائر نے آگے بڑھ کے انہیں روک دیا تھا۔
” میری بیوی میرے ساتھ میرے کمرے میں جائے گی اور میرے ساتھ رہے گی اب سے “
وہ پھر سے مائزہ کی کلائی پکڑ چکا تھا۔
” یہ کیا بکواس کر رہا ہے؟؟ میں نہیں مانتی اس کورٹ میرج کو اور نہ میری بیٹی تمہارے ساتھ جائے گی “
تابعہ چلائی تھی جبکہ ازمائر ، مائزہ کو دیکھنے لگا۔
” کیوں مائزہ ؟؟ میرے ساتھ جاؤ گی ناں؟؟”
مائزہ بھیگی آنکھوں میں خفت لیے اسے دیکھنے لگی۔
” بولو ناں، ان سب کو بتا دو کہ تم میرے ساتھ، میرے کمرے میں جاؤ گی کیونکہ تم میری بیوی ہو اور میں تمہارا شوہر، اور میاں بیوی تو ایک ساتھ رہتے ہیں ایک کمرے میں “
اس کی بےباکی پہ مائزہ کا دل چاہا کہ یہیں کہیں زمین میں دھنس جائے وہ، ان سب کی نظروں سے گھبرا کے اس نے سر جھکا دیا تھا۔
” ہم فنکشن ارینج کر دیتے ہیں بیٹا، تم دونوں کی شادی کا فنکشن، ایسے تو “
وقاص کی بات پہ ازمائر نے انہیں دیکھا تھا۔
” ارینج کر دیں، ہم آ جائیں گے “
ساتھ ہی مائزہ کو کندھے سے تھام کے خود سے لگاتے، اس نے سب کو اجازت طلب نظروں سے دیکھا تھا۔
” فی الحال گڈ نائٹ “
مائزہ کو لیے وہ جا رہا تھا جبکہ تابعہ غصے سے چلائی تھی۔
” مائزہ مر چکی ہو تم آج سے میرے لئے، میرے منہ پہ کالک مل کے، اپنے خاندان کو رسوا کر کے، تم جو گندگی کر چکی ہو، تمہارا جنازہ اٹھتا اس گھر سے، کاش جنازہ آتا تمہارا یہاں اس گھر کی دہلیز پہ، تم مر گئی ہو میرے لئے “
سماہر نے آگے بڑھ کے تابعہ کو تھاما تھا اور انہیں خود سے لگایا تھا، عارفین بھی آگے بڑھ کے ان کے کندھے پہ ہاتھ رکھ چکی تھی جبکہ سماہر کی ملامت بھری نظریں وقاص ملک پہ تھی اور وہ نظریں چرا گئے تھے اپنی بیٹی سے۔
” ازمائر یہ تم نے بہت اچھا کیا، یہ بہت اچھا بدلہ ۔۔۔۔ “
عظمی بتیسی کی نمائش کرتی ازمائر کے قریب آئی تھی اور وہ اپنے کمرے کی طرف جاتے جاتے رکا تھا، سرد نظر اپنی ماں پہ ڈالی تھی اس نے۔
” دور رہیئے اب سے ، میری طرف آنے کی نہ اجازت ہے آپ کو اور نہ مجھ سے بات کرنے کی “
اسقدر سرد لہجہ، مائزہ اندر تک کانپ گئی تھی۔ عظمی حیرت سے اپنے بیٹے کو دیکھنے لگی جبکہ ازمائر مائزہ کو لیے کمرے میں جا چکا تھا، عظمی شازم کو دیکھنے لگی جو تاسف بھری نظروں سے اپنی ماں کو دیکھ رہا تھا۔
” یہ کیا کہہ گیا ہے مجھے ابھی “
شازم سر جھٹک کے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا جبکہ عظمی ڈوبتے دل کو سنبھالتی خالی نظروں سے ازمائر کے کمرے کے بند دروازے کو دیکھنے لگی۔
کمرے میں آ کے ازمائر اسے دیکھنے لگا۔
” جلدی سے فریش ہو کے آؤ، میں ویٹ کر رہا ہوں تمہارا “
مائزہ اندر تک کانپ گئی تھی اس کی بات سے، آنکھوں میں حیرت اور خوف لیے وہ ازمائر کو دیکھنے لگی جبکہ ازمائر رک کے اسے دیکھنے لگا۔
” کیا ہوا ہے ؟؟ کچھ غلط کہہ دیا کیا میں نے ؟؟”
” وہاں باہر اتنا تماشا لگ چکا ہے، پوری فیملی حیران ہیں، م ۔۔۔ میری ماں مجھے بددعا دے گئی ہے اور۔۔۔۔ اور تم “
مائزہ رونے لگی تھی جب ازمائر نے آگے بڑھ کے اس کے لبوں پہ اپنی شہادت کی انگلی رکھ کے اسے چپ کرایا اور اس کی بھیگی آنکھوں میں دیکھنے لگا۔
” ہشششششش۔۔۔ تم نہیں آپ ۔۔۔ اب سے تم مجھے آپ کہو گی، تم کہنے کی اجازت نہیں ہے ، شوہر کی عزت کرنا سیکھو، اور رہی بات ہنگامے کی، تو یہ سب تو ہونا ہی تھا، یہ ہنگامہ، یہ ڈرامہ، یہ چیخنا چلانا، آخر کو شاک لگا ہے سب کو، اب اس سب ہنگامے کے لئے میں اپنے اسپیشل مومنٹس تو برباد نہیں کر سکتا ناں “
کتنا سنگدل لگا تھا اس وقت وہ مائزہ کو، حیرت سے وہ اہنے سامنے کھڑے اس دوغلے انسان کو دیکھ رہی تھی۔
” میں بدلہ ہوں نا ازمائر؟؟ میں انتقام ہوں نا؟؟ مجھے استعمال کیا ہے تم نے سماہر سے بدلہ لینے کے لئے ؟؟ ہے ناں “
” تم نہیں آپ کہو مجھے”
اس نے دانت پیسے تھے۔
” نہ کہوں تو ؟؟”
مائزہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑی تھی۔ ازمائر کچھ دیر پرسکون انداز میں کھڑا اسے دیکھنے لگا۔
” فریش ہو کے آؤ، میں ویٹ کر رہا ہوں “
” میں کہیں نہیں جا رہی “
مائزہ اس کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی۔ ازمائر نے جھٹکے سے اس کے گالوں کو اپنے ہاتھ سے دبوچا تھا۔
” تم بدلہ نہیں ہو، نہ سماہر سے انتقام ہو تم، تم میرا فیصلہ ہو، جو مجھے کرنا تھا اور جو میں کر چکا اور تم نے میرا ساتھ دیا اور کیوں دیا ؟؟”
وہ بےباک نظروں سے اب مائزہ کے وجود کو دیکھنے لگا جبکہ مائزہ گنگ کھڑی اس کے الفاظ سن رہی تھی، بلکل اچانک اس کی کمر پہ ہاتھ رکھ کے، ازمائر نے اسے اپنے قریب کیا تھا اور اس کے لبوں پہ جھکا تھا۔
” کیونکہ جسموں کی آگ ایسے ہی بجھتی ہے “
مائزہ کو اس کے الفاظ سے گھن محسوس ہوئی تھی۔
” میں۔۔۔ تم سے محبت کرتی ۔۔۔۔ “
لیکن اس کے الفاظ ازمائر نے اپنے لبوں سے چن لیے تھے اور مائزہ کے لبوں کو اپنے لبوں سے قید کرتا وہ مائزہ کی سانسیں الجھانے لگا، اس کے عمل میں اتنی شدت تھی کہ مائزہ کے لئے سانس لینا مشکل تھا اور تبھی وہ خود کو اس کی گرفت سے آزاد کرانے کے لئے ہاتھ پاؤں چلانے لگی، ازمائر اس کے لب آزاد کر کے، اسے جھٹکے سے دیوار سے پن کر چکا تھا۔
” شادی کا مطلب ہی یہی ہوتا ہے کہ ہمارے بیچ کوئی پردہ نہ رہے “
اس کی آنکھوں سرد تاثر کے ساتھ ساتھ معنی خیز بھی تھی جسے مائزہ دیکھ کے رہ گئی، دل الگ تیزی سے کانپ رہا تھا، ازمائر کیا کرنے والا ہے اس کے ساتھ، ایک جھلک تو وہ دیکھ ہی چکی تھی اب مزید اس میں تاب نہ تھی خود کو ازمائر کے ہاتھوں ارزاں ہوتے دیکھتی لیکن لمحہ لگا تھا اور ازمائر اسے چھوڑتا پیچھے ہوا تھا جبکہ مائزہ بھیگی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی جو لب بھینچے بیڈ پہ جا کے لیٹ چکا تھا، آنکھوں پہ بازو رکھ کے وہ جیسے سونے کی کوشش کرنے لگا، دل میں لگی انتقام کی آگ کو وہ ایسے نہیں بجھا سکتا تھا کہ مائزہ کے وجود کو ارزاں کر دے کہ کل کو وہ اس لڑکی سے نظریں ملانے کے قابل بھی نہ رہے اور وہ لڑکی اس کی بیوی ہونے سے پہلے، اس خاندان کی عزت اور اس کی کزن بھی رہ چکی ہے۔ مائزہ کچھ دیر یونہی کھڑی اسے دیکھتی رہی اور پھر چھوٹے قدم اٹھاتی وہ کمرے کے بیچ آ رکی تھی، ادھر ادھر نظریں دوڑاتی وہ اپنے سونے کے لئے جگہ کا تعین کرنے لگی، چور نظروں سے ازمائر کو دیکھا، دل کو یکبارگی خیال آیا کہ اس کی بانہوں میں جا کے لیٹ جائے اور اسے اپنی محبت کا یقین دلائے، اسے ہمیشہ کے لئے اپنا کر دیں لیکن ۔۔۔۔
وہ تکیہ اٹھا کے آہستگی سے چلتی صوفے پہ جا کے لیٹ گئی تھی ۔ نم آنکھوں سے وہ پھر سے ازمائر کو دیکھنے لگی جو اس کے وجود سے لاپرواہ بنا سکون سے سو رہا تھا ۔ اسے تابعہ کے کہے الفاظ یاد آئے تھے، ان کی ملامت کرتی نظریں اور ان کے الفاظ کی بازگشت بار بار یاد آنے پہ وہ بےاواز آنسو بہاتی جاتی۔ دل تو یہی چاہ رہا تھا کہ وہ چیخ چیخ کے روئے لیکن اسے اپنی آواز کا گلا دبانا تھا، اسے ازمائر سے نفرت نہیں ہو رہی تھی لیکن اسے خود سے گھن آ رہی تھی، ازمائر نے نہ بھی کہا ہو لیکن پھر بھی وہ جانتی تھی کہ ازمائر اس کا استعمال کر چکا ہے سماہر کے مقابل۔ وہ ان آنکھوں کو دیکھ چکی تھی جب وہ آنکھیں سماہر کی طرف اٹھی تھی چیلنجنگ انداز میں۔ لیکن !!
” میں نے محبت کی ہے تم سے ازمائر۔۔ پھر بھی ؟؟ پھر بھی ازمائر کیوں؟؟”
آنسو خاموشی سے بہتے اس کے بالوں میں جذب ہو رہے تھے اور ازمائر اس سب سے بےخبر سو رہا تھا جیسے نہ جانے کن صدیوں کی نیندیں آج وہ پوری کر رہا ہے۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
” اب ازمائر کے ہاتھ کون سی کمزوری آ گئی ہے آپ کی ؟؟”
سماہر کی اچانک اواز پہ وقاص ملک چونک کے مڑے تھے اور اپنی بیٹی کا سپاٹ چہرہ دیکھنے لگے ۔
” کیا ہوا بابا ؟؟ میران کی طرح ازمائر کو بلیک میل نہیں کر پائے آپ؟؟ حیرت ہے مجھے تو “
چہرے پہ طنزیہ مسکراہٹ تھی جبکہ آنکھوں میں کرب تھا اپنے ہی بابا کو یوں اپنے سامنے دیکھ کے، کتنے کمزور تھا یہ انسان ۔
” سماہر بیٹا۔۔۔”
” کیوں بابا ؟؟ کیوں ہیں آپ ایسے ؟؟ کیوں کیا آپ نے ایسا ؟؟ کہ ازمائر کے ہاتھوں کٹھ پتلی بن رہے ہیں، اپنی بیٹیوں کی قیمتیں لگاتے پھرتے ہیں آپ۔ کیوں بابا ؟؟”
آنکھوں میں کرب کے ساتھ ساتھ آنسو بھی چھلکنے لگے تھے اب، جبکہ وقاص بےچین سے اس کے قریب آئے تھے جبکہ سماہر دو قدم پیچھے ہوئی تھی۔
” سب سے چھپ کے دوسری شادی کر لی، سالوں تک چھپاتے رہے، آپ کی ایک اور بیٹی بھی ہے کسی کو سالوں تک خبر نہ ہوئی اور پھر ایک دن اسی بیٹی کو میران کے سر تھوپ دیا، اس کہ بیٹی بنا کے اس گھر میں لے آئے، کیوں؟؟ صرف اس لئے کہ میران ارتضی ملک ایک عیاش پولیٹیشن ہے، شرابی ہے، بداخلاق ہے تو اپنا کیا اس کے سر تھوپ دیں گے اپ، کیونکہ اسے تو پوچھنے والا کوئی ہے نہیں، وہ تو ہے ہی قماش”
سماہر کو اپنے دل کی بھڑاس نکالنے کا موقع مل گیا تھا جبکہ وقاص ملک اپنی بیٹی کے الفاظ سے جیسے تڑپ گئے تھے۔
” بس کردو بیٹا پلیز “
سماہر تاسف سے اپنے باپ کو دیکھ رہی تھی۔
” ہمت کیسے ہوئی آپ کی بابا، کہ آپ میری قیمت لگائے ؟ آپ میرے نام پہ اس شخص کو بلیک میل کریں؟ کیسے کر سکتے ہیں آپ اپنی بیٹی کے ساتھ ایسا ؟؟ اس خاندان کے بیٹے کے ساتھ ایسا ؟؟ کیسے کر سکتے ہیں آپ؟؟ ایک شخص کو سب کے بیچ اتنا گرا دیں کہ وہ اس گھر سے اور اپنے لوگوں سے ہی بھاگنے لگ جائے۔۔ کیسے ؟؟ “
وہ روتے ہوئے کہہ رہی تھی، صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا۔
” کیسے خاموش رہے سب کے بیچ ؟؟ کیسے چپ رہے آپ ازمائر کے سامنے؟؟ اپنی بیٹیوں کے لئے کھبی تو بولنا سیکھ لیں، کھبی تو کچھ بولیں، آخر کب تک بولی لگائے گیں آپ اپنی بیٹیوں کی “
” سماہر ۔۔۔”
وقاص ملک کی آواز تیز ہوئی تھی جبکہ سماہر روتے ہوئے انہیں افسوس سے دیکھ رہی تھی۔
” اپنے بابا سے کس انداز میں بات کر رہی ہو تم ؟؟ تمہیں اندازہ بھی ہے کہ میں کس کرب سے گزر رہا ہوں؟؟ مجھے تابعہ سے محبت نہیں تھی کھبی، نہ ہو سکی ، تبھی مجھے زرمینہ سے محبت ہوئی اور شادی کر لی میں نے “
سماہر روتے روتے ہنس پڑی تھی۔
” دلائل ۔۔۔ “
وہ رکی تھی، کچھ دیر وقاص ملک کے چہرے کو دیکھتی رہی جہاں شرمندگی کا کوئی عنصر ہی نہ تھا۔
” تابعہ سے شادی کے پندرہ سال بعد آپ کو یہ خیال آیا کہ آپ کو مما سے محبت ہی نہیں ہے اور بلکل اچانک آپ کو ایک غریب، لاچار، مجبور لڑکی سے اتنی محبت ہوگئی کہ اس کی لاچاری کا بھرپور فائدہ اٹھا کے آپ نے اس سے چھپ کے نکاح کیا اور پھر اسے ذلیل کرتے رہے ، یہاں تک کہ آپ کے ظلم سہتی سہتی مر گئی، جانتے ہیں اس نے اپنی بیٹی سے کیا کہا تھا ؟؟”
وہ پل بھر کو رکی تھی ۔
” اس نے اپنی بیٹی سے کہا تھا کہ اگر بابا دھتکار دیں تو سماہر کے پاس جانا، وہ تمہیں بچا لے گی ۔ “
وقاص ملک کے چہرے کا رنگ پل بھر کو بدلا تھا۔
” مائزہ جو آج یہ قدم اٹھا چکی ہے، یہ آپ کے آٹھ سال پہلے کیے گئے اس عمل کا ردعمل ہے، مکافات عمل ہے “
سماہر کچھ دیر انہیں دیکھتی رہی اور پھر سر جھٹک کے وہ کمرے سے باہر نکلی تھی جبکہ وقاص ملک وہیں کھڑے بند دروازے کو دیکھتے رہے۔ آج سے آٹھ سال پہلے انہوں نے زرمینہ کا فائدہ اٹھایا تھا اور آج ان کی بیٹی کا فائدہ اٹھا گیا، ان کا اپنا بھتیجا، اپنا خون ازمائر ارتضی ملک۔ یہی تو مکافات عمل ہوتا ہے ۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
” یہاں کیوں بیٹھے ہیں آپ دشاب ؟؟”
عارفین جو جانے کب سے دشاب کو لان کے تاریک کونے میں بیٹھے دیکھ رہی تھی اور جب دل بےچین ہوا تو قریب آ کے پوچھنے لگی ۔ دشاب نے چونک کے انہیں دیکھا تھا، ان کی آنکھیں سرخی مائل ہو رہی تھی، آنسوؤں نے جیسے ڈیرہ جما لیا تھا ان کی آنکھوں میں، عارفین تو تڑپ ہی گئی ۔
” دشاب آپ؟؟ ایسے نہ کریں پلیز “
دشاب نے ہاتھ ان کی طرف بڑھایا تھا جسے جلدی سے عارفین تھام گئی تھی اور دشاب نے انہیں اپنے قریب بنچ پہ بٹھایا اور ان کے کندھے پہ سر رکھ کے انہوں نے گہرا سانس لیا تھا۔
” میں بہت تھک گیا ہوں آج عارفین، ازمائر نے مجھے آج مکمل تھکا دیا ہے، اتنا بڑا قدم، میں نے کھبی نہیں سوچا تھا کہ ازمائر یہ سب کر گزرے گا، ایک معصوم لڑکی کو اپنے انتقام کا نشانہ بنائے گا “
ان کی آواز بھرائی ہوئی تھی۔
” ایسا بھی تو ممکن ہے کہ ازمائر کا مقصد انتقام نہ ہو، وہ خود بھی تو کہہ رہا تھا کہ وہ مائزہ کو چاہتا ہے “
عارفین نے نرمی سے جواب دیا جبکہ وہ نم آنکھوں سے عارفین کو دیکھنے لگے۔
” بھول گئی ہو کہ کیا ہنگامہ کیا تھا ازمائر نے؟؟ وہ انتقام لے رہا ہے ہم سے اور اس نے ایک معصوم لڑکی کا انتخاب کیا ہے اس انتقام کے لئے، یہ سوچے بنا کہ وہ لڑکی کوئی اور نہیں بلکہ اس کی کزن ہے ، اس خاندان کی عزت۔ کیا ہو گیا ہے ہم سب کو ؟؟ کیا ہو گیا ہے ہمارے بچوں کو ؟؟ “
عارفین نے ان کا ہاتھ تھام لیا تھا۔
” سب ٹھیک ہو جائے گا، ازمائر اچھا لڑکا ہے دشاب، وہ کھبی مائزہ کو ہرٹ نہیں کرے گا۔ “
دشاب نے نرمی سے اپنے لب ان کے ہاتھوں کی پشت پہ رکھے تھے۔ عارفین نے جھینپ کے اپنے ہاتھ ان کے ہاتھ سے الگ کرنے چاہے لیکن دشاب نے انہیں روک دیا تھا۔
” بہت تھک گیا ہوں عارفین ۔ پلیز تمہارا وجود، تمہارا یہاں میرے نزدیک ہونا مجھے سکون بخش رہا ہے، یہی رہو پلیز “
عارفین خاموش رہی جبکہ دشاب نے سر ان کے کندھے پہ رکھا تھا اور آنکھیں موند لی تھی۔
” بہت بےسکون ہوں میں عارفین، میرے دونوں بیٹے مجھ سے نفرت کرتے ہیں، مجھ سے دور بھاگتے ہیں، ان کے فیصلوں میں،میں نہیں ہوں جیسے میں۔۔۔ “
وہ خاموش ہو گئے تھے۔ ۔
” نفرت نہیں کرتے آپ کے بچے آپ سے، بس کھبی کھبی غلط فہمیاں جنم لے لیتی ہے رشتوں کے بیچ، سب ٹھیک ہو جائے گا، بہت جلد سب ٹھیک ہو جائے گا “
عارفین تسلی دینے والے انداز میں کہہ رہی تھی جبکہ دشاب اہنے اندر پھیلتے کرب کو دبانے کی کوشش کرتے آنکھیں موند گئے تھے۔ اس سب بربادی کے ذمہ دار وہ خود ہی تو تھے۔ شاہ نواز کی بد دعا ہے شاید یا پھر ان کی اپنی کم عقلی۔ وہ خاموش آنسو بہانے لگے۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤