Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 10

میران اسے ہی دیکھ رہا تھا جو کمرے میں آ کے لب کاٹتا ادھر ادھر دیکھ رہا تھا۔ وہ کچھ کہہ نہیں پا رہا تھا نہ اس کے پاس الفاظ تھے کچھ کہنے کے لئے شاید، میران کی نظروں سے وہ بس نظریں چرا رہا تھا۔
” کیسے آنا ہوا ؟”
میران کی بھاری اواز کمرے کی خاموش فضا میں گونجی تھی جبکہ ازمائر اسے دیکھنے لگا ۔
” کیسی طبیعت ہے اب ؟؟”
میران کے چہرے پہ طنزیہ مسکراہٹ ابھری تھی ۔
” تمہاری بدقسمتی ہے جو میں زندہ ہوں ورنہ پلان تو اچھا تھا “
ازمائر لب بھینچ گیا تھا۔
” میرا مقصد تمہیں قتل کرنا نہیں تھا میران “
اب جب سامنے ہی تھا تو ازمائر کے لئے بھی کچھ چھپانا دشوار ہی تھا، میران نے آبرو اچکا کے اسے دیکھا تھا اور وہ نظریں چرا گیا تھا ۔
” بس گولیاں چلوانی تھی؟؟ یہ دیکھنے کے لئے کہ مجھے لگتی ہے کہ نہیں “
میران کی آنکھوں میں اب سرد تاثر ابھرا تھا۔
” میران میں۔۔ “
میران نے ہاتھ اٹھا کے اسے کچھ بھی کہنے سے روکا تھا۔
” سماہر تک پہنچنے کا ہر راستہ بلاک ہو چکا ہے تمہارا ازمائر ارتضی ملک، تم جس راستے کا انتخاب کرو گے، وہیں سے تمہیں خود نظریں چرا کے گزرنا پڑے گا کیونکہ سماہر وقاص ملک اب سماہر میران ملک بن چکی ہے، میری منکوحہ، میری بیوی “
ازمائر جو کچھ دیر پہلے دل میں میران کے لئے نرمی رکھے ہوئے تھا، وہ سب جیسے اب ہوا میں اڑتا محسوس ہو رہا تھا اسے، تبھی اس نے لب بھینچ لیے تھے اور آنکھوں میں غصہ لیے وہ اب میران کو دیکھ رہا تھا ۔
” تمہارا یہ راز میرے سینے میں دفن رہے گا کہ مجھ پہ فائرنگ کروانے کے لئے، تم نے کون سا پلان بنایا تھا، میڈیا بھی پوچھے تو میں no comment بول دوں گا، کیونکہ میں انتقام نہیں لیتا، یہ تم جیسے بچوں کا کھیل ہے “
” تمہارے بتا دینے اور نہ بتانے سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑے گا، میری نظر میں تم آج بھی قابل نفرت ہی ہو “
ازمائر نفرت سے کہنے لگا جبکہ میران نے آبرو اچکا کے اسے داد دینے والے انداز میں دیکھا تھا اور ازمائر سر جھٹک کے لمبے ڈگ بھرتا کمرے سے باہر نکلا تھا جبکہ میران نے ایک گہری سانس خارج کر کے بند دروازے کو دیکھا تھا جہاں سے کچھ دیر پہلے ازمائر باہر گیا تھا، شاید وہ یہاں آتے یہ بھول گیا تھا کہ وہ میران ارتضی ملک ہے، جو شیر کی طرح دھاڑنا اور آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے چیلنج کرنا ہی جانتا ہے اور اس جنگ میں وہ ابھی پیچھے نہیں ہٹا تھا۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
” تم وہ سانپ ہو جو ایسے گلے سے لپٹ گئی ہے میرے، کہ الگ کرنے پہ بھی کھبی الگ نہیں ہو سکتی تم “
عاھل خان اس پہ چیخا تھا جو حیرت سے منہ کھولے اسے دیکھ رہی تھی، شاید وہ شہباز کا سارا غصہ اروشے پہ نکال دینا چاہتا تھا۔
” کیا کہہ رہے ہو تم عاھل “
وہ حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی جبکہ وہ مزید چلایا تھا۔
” ٹھیک کہہ رہا ہوں میں، سانپ ہو تم سانپ “
” اور جب پریشے کو چھوڑ کے تم نے مجھ سے شادی کرنی چاہی تھی تب کیا تھی میں ؟”
اروشے بھی چلائی تھی غصے سے۔
” تب بھی تم وہی تھی جو اب ہو، بس تب میری آنکھوں پہ پٹی بندھ چکی تھی کہ تمہاری حقیقت دیکھنے اے قاصر تھا میں، پریشے کو چھوڑنے کا جتنا افسوس ہے مجھے، اس سے کئی گنا زیادہ تمہارے میری زندگی میں ہونے کا ہے مجھے “
وہ ہاتھ کے جھٹکے سے ٹیبل پر سے ڈیکوریشن پیس گراتے چلایا تھا جبکہ اروشے ڈر کے دو قدم پیچھے ہوئی تھی۔
” بہت غم ہے ناں، اسے دوسرے مرد کے ساتھ دیکھ کے تم سے اب رہا نہیں جا رہا، غیرت جاگ رہی ہے یوں کہو ناں “
عاھل نے اس کا بازو جکڑ کے اپنا دباؤ بڑھایا تھا اور اس کی آنکھوں میں اپنی سرخ ہوتی آنکھوں سے دیکھنے لگا۔
” اہنی زبان کو لگام دو، ورنہ مجھے لگام لگانا اچھے سے آتا ہے “
” میں پریگننٹ ہوں عاھل، تمہاری بیوی ہوں “
وہ منمنائی تھی اس کی گرفت سے خود کو چھڑانے کی کوشش کرتی۔
” بس یہی وجہ ہے جو تم ابھی تک میری بیوی ہو اروشے، ورنہ کب کا نکال باہر پھینک چکا ہوتا تمہیں “
وہ غرا کے جھٹکے سے اسے چھوڑ چکا تھا جبکہ اروشے آنکھوں میں نمی لیے اپنا بازو سہلاتی اسے دیکھ رہی تھی جو اپنے سامنے آئی ہر چیز کو ٹھوکر مارتا کمرے سے باہر نکل چکا تھا اور دروازہ اتنی زور سے بند کیا تھا کہ اروشے اپنی جگہ ہل کے رہ گئی تھی۔ کیا یہ مکافات عمل تھا؟؟ یا پھر سزا تھی اس کی ؟؟
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
نرم نگاہوں سے وہ سماہر کی پشت کو دیکھ رہا تھا جو اپنی کتابیں ٹیبل پہ رکھ رہی تھی، اسے ڈھونڈتے وہ کمرے تک آیا تھا کیونکہ سماہر کی بےرخی برداشت کرنا اس کے لئے مشکل امر تھا۔ اب یہاں تک آ گیا تھا لیکن الفاط گڈ مڈ ہو رہے تھے تبھی خاموشی سے وہ سماہر کو دیکھ رہا تھا جب اپنا بیگ اٹھانے کے لئے وہ مڑی تھی اور نظریں دروازے پہ کھڑے ازمائر پہ پڑی۔ پہلے چونکی تھی اسے یہاں دیکھ کے اور پھر سنبھل کے وہ سیدھی ہو کے ازمائر کو سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی جو اس کے مڑتے ہی لب بھینچ گیا تھا۔
” ایم سوری سماہر، میں بس یہاں، بات کرنے آیا تھا۔ پورے گھر میں نہیں تھی تو یہاں آ گیا، سوری “
وہ سنبھلتے ہوئے کہنے لگا سماہر نے سر جھٹکا تھا وہ اس دن ازمائر کو کچھ زیادہ بول گئی تھی ہاسپٹل میں اور اس کے لئے اتنا کافی تھا، ازمائر اس کا کزن تھا اور یہ احترام کرتا ریا ہے سماہر کا۔
” اٹس اوکے ازمائر، بیٹھئیے پلیز “
سماہر صوفے کی طرف اشارہ کرتی کہنے لگی جبکہ وہ سر نفی میں ہلا گیا ۔
” نہیں سماہر میں بس جا ہی رہا تھا۔ مجھے بات کرنی تھی ۔ “
دل پہ اداسی کا موسم جیسے چھانے لگا تھا۔
” مجھے آپ سے اس دن اس انداز میں بات نہیں کرنی چاہئے تھی، میں غلط تھا اس کے لئے میں شرمندہ ہوں اور سوری کرنا چاہتا ہوں “
وہ کہہ رہا تھا لیکن آنکھیں بےحد اداسیاں لیے ہوئی تھی۔ سماہر کچھ دیر اسے دیکھتی رہی، وہ اداس تھا اور سماہر کا نرم دل اس کے لئے نرم پڑ گیا تھا۔
” کوئی بات نہیں ازمائر، میں وہ بات بھول چکی ہوں اب، آپ میرے کزن ہو اور مجھ سے بڑے ہیں، میں آج بھی آپ کا احترام کرتی ہوں ہمیشہ کی طرح “
ازمائر کو اپنا پورا وجود اس لمحے کسی گہری کھائی میں ڈوبتا محسوس ہوا تھا لیکن وہ خاموشی سے سماہر کو دیکھے گیا اور وہ نظریں چرا گئی تھی۔
” میں چلتا ہوں پھر۔ “
وہ ادھر ادھر دیکھتا کہنے لگا، سماہر نے سر اثبات میں ہلانے پہ اکتفا کیا تھا جبکہ ازمائر ہلکا سا مسکرا کے اسے دیکھتا اچانک سے مڑا تھا اور لمبے ڈگ بھرتا وہاں سے باہر جا رہا تھا، دل میں جو کرب کا طوفان سا برپا تھا، اس کے گھٹن کا باعث بن رہی تھی، اور وہ جلد سے جلد یہاں سے باہر جانا چاہتا تھا، باہر آتے ہی کھلی فضا میں اس نے گہرا سانس لیا تھا، اندر کی گھٹن کو کم کرنا بےحد مشکل تھا اس کے لئے، آنکھوں میں نمی کو پینا اس کے لئے ناممکن ہی تھا اور پھر نظر لان کی طرف گئی جہاں میران ہاسپٹل سے آیا تھا اور گھر والے اس کی خدمت میں کھڑے تھے۔ وہ لب بھینچے سامنے کا منظر دیکھے گیا، یہ وہی شخص تھا جو اس کی خواہشات کا گلا گھونٹ کے، اس کی خوشیاں چھین گیا اس سے اور وہ کرب کے گہرے سمندر میں غوطہ زن ہے۔ میران کی نظر اس کی طرف اٹھی اور ازمائر سختی سے جبڑے بھینچ کے سر جھٹک کے وہاں سے جانے لگا تھا جبکہ میران کے چہرے پہ زخمی مسکراہٹ بکھری تھی، یہ وہی انسان تھا اس کی زندگی کا، جو بہت بچپن میں اس کے لئے night mare ہی رہا تھا جس نے زندگی کے ہر موڑ پہ اس سے، ایک باپ چھیننے کی کوشش میں رہا اور ہر اس چیز کو میران سے چھیننا چاہا جس پہ صرف میران کا حق ہونا تھا، وہ اپنی ہر خواہش سے، ہر امید سے دور ہوتا گیا تھا اور آج بھی اس کا جسم اسی کے کروائے فائرنگ سے چھلنی تھا، چہرے پہ سایہ سا گزرا تھا اور نظریں بےاختیار اوپر بالکونی کی طرف گئی تھی جہاں سماہر کھڑی مسکراتی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی، میران کو آنکھوں میں سکون سا اترتا محسوس ہوا تھا، آنکھیں کب سے اس کے لئے متلاشی تھی۔
” میں سماہر سے مل کے آتا ہوں “
اور پھر قدم خودبخود اسی طرف بڑھنے لگے جبکہ سماہر کو اپنی دھڑکنیں بےتابانہ رقص کرتی محسوس ہوئی تھی، گال دہک سے اٹھے تھے اور عارفین مسکراتی نظروں سے اپنے بیٹے کو دیکھنے لگی، شاید سماہر کی محبت اسے یکسر بدل دیں، یہی خیال عارفین کو پرسکون کر رہی تھی جبکہ میرب اپنی ماں سے لگی تھی۔
” مما میرے کھڑوس سے بھائی کو محبت ہو ہی گئی ۔ “
عارفین مسکرا دی تھی۔
” میرا بیٹا خوش رہے، سلامت رہے سماہر کے ساتھ۔ اور کیا چاہئے مجھے “
ان کی آنکھیں بھیگی تھی جبکہ میرب نے ان کے گال پہ پیار کیا تھا۔
” رویا مت کریں اپ پلیز مما، دیکھئیے بھائی بلکل ٹھیک ہے “
دشاب بھی مسکراتے ان کے قریب آئے تھے اور میرب کے سر پہ ہاتھ رکھنا چاہا تھا جبکہ میرب ہچکچاتی پیچھے ہوئی تھی اور ایک نظر دشاب کو دیکھ کے وہ عارفین کو دیکھنے لگی۔ دشاب کو ایک لمحے میں میرب کا پیچھے ہونا محسوس ہوا تھا اور پھر میرب گھر کی طرف چلی گئی تھی جبکہ دشاب اداس آنکھیں لیے اسے جاتا دیکھتے رہے، عارفین ان کے چہرے پہ پھیلی اداسی کو دیکھ رہی تھی ۔
” میرب تھکی ہوئی ہے تبھی ۔۔۔ “
دشاب نے ہلکا سا مسکرا کے انہیں دیکھا تھا جیسے کہہ رہے ہو کہ میں جانتا ہوں اس کا گریز اور عارفین خاموش ہو گئی تھی، سر جھکا کے وہ آہستگی سے ان کے قریب سے ہوتی گھر کی طرف بڑھی تھی۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
کمرے کے بیچ و بیچ کھڑی اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا کرے، آگے قدم بڑھائے یا وہیں رکی رہے، میران کی نزدیکی کا سوچ کے ہی وہ بوکھلائے جا رہی تھی اور کمرے کے کھلے دروازے پہ آتے میران کو دیکھ کے، وہ سانس روک گئی جو زیر لب مسکراتا بوجھل آنکھوں میں محبت کا خمار لیے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔

تجھ کو بنا دوں
میں اپنا نصیب
مانگوں دعا ساتھ ہونے کی تیرے
کندھے پہ سر رکھ سکوں
دھاگہ ایک باندھوں
تجھ کو منت بنا دلوں
کاغذ پہ دل کے
تیری صورت بنا دوں
چھوٹے کھبی نہ وہ عادت بنا لوں
ہاں شدت بنا لوں تجھے ۔۔

اس نے قدم آگے بڑھائے تھے اور سماہر اسے دھڑکتے دل کے ساتھ دیکھتی بےاختیار قدم پیچھے رکھ گئی تھی، میران کو اس کی یہ ادا اچھی لگی تھی، تبھی زیر لب مسکراتا ایک ابرو اچکا کے اسے دیکھا تھا، وہ جتنے قدم پیچھے رکھتی جا رہی تھی، میران کے دل میں اسے بانہوں میں بھرنے کی خواہش بڑھنے لگتی اور قدم قدم وہ سماہر کی طرف بڑھ رہا تھا، یہاں تک کہ وہ دیوار سے جا لگی تھی اور میران اس کے قریب آ کھڑا ہوا تھا ۔
” یہ مجھ سے دور جانے کی ادا ہے تمہاری یا مجھے اپنے قریب لانے کی کوئی سازش؟؟”
بوجھل سرگوشی کرتا وہ سماہر کو اپنی دھڑکنوں میں اترتا محسوس ہوا تھا۔
” میری متلاشی آنکھوں کو تمہاری صورت دیکھ کے ہی سکون ملا ہے اور تم ہی دور جا رہی ہو مجھ سے “
وہ پھر سے کہہ رہا تھا جبکہ سماہر کی پلکیں جھکی تھی اور پھر اٹھی تھی۔
” ان آنکھوں کے تیور پہ میران ارتضی ملک مکمل پگھل چکا ہے مسز سماہر میران ملک “
ایک ہاتھ دیوار پہ رکھ کے، وہ سماہر کے چہرے پہ جھکتا شہادت کی انگلی سے، اس کی بکھری لٹیں سنوارنے لگا، سانسوں کی تپش سماہر کے چہرے پہ پڑنے لگی تو اس کی سانسوں نے بےترتیب ہونا شروع کر دیا تھا اور اوپر سے میران کی گہری آنکھوں کے وہ گھمبیر ان کہے الفاظ۔
” آپ اوپر کیوں آئے؟ آپ کو ڈاکٹر نے منع کیا ہے ناں “
وہ بمشکل بولتی میران کی آنکھوں میں دیکھنے لگی ۔
” ہشششششش میں ٹھیک ہوں “
اس کی سرگوشی پہ وہ نظریں چرا کے اس کے حصار سے باہر نکلنے کے لئے آگے بڑھنا چاہا تھا جب میران نے دوسرا ہاتھ بھی دیوار پہ رکھ دیا اور وہ میران کے حصار میں قید ہو گئی تھی۔
” تمہیں پتہ ہے کہ ہاسپٹل میں تمہیں مس کیا تھا میں نے بہت زیادہ ؟؟”
سماہر سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی ۔
” تمہاری خوشبو کے لئے میں پاگل سا ہو گیا تھا۔ “
اس کے مبہم انداز پہ سماہر کی رہی سہی ہمت بھی جواب دے گئی ۔
” ان لبوں کے لمس کے لئے میں پاگل سا ہو گیا تھا، تمہاری آہٹوں کا خمار مجھے ہوش میں رہنے ہی کہاں دے رہا تھا اور ان پلکوں کا اٹھنا جھکنا مجھے مدہوش سا کیے رہا”
سماہر کی دھڑکنیں بےترتیب ہونے لگی، ایسے لگ رہا تھا جیسے اس حصار کے خمار سے باہر نکلنا اس کے لئے اب ناممکن ہی ہے ۔
” کیوں نہیں آئی تھی تم پھر سے ؟؟ بتاؤ کون سی سزا دوں اب تمہیں؟؟”
اس کے مزید قریب ہوتا، اس کے چہرے پہ اپنی سانسیں چھوڑتا میران استفسار کر رہا تھا جبکہ وہ لب کاٹتی اسے معصوم نگاہوں سے دیکھنے لگی ۔
” پسند، پیار، محبت اور عشق اور چاہ اور پھر ۔۔۔۔ “
وہ الفاظ ادھورے چھوڑ کے سماہر کو دلچسپی سے دیکھنے لگا۔ اس کے کان کی لو پہ اپنے دہکتے لب رکھ کے ، اپنی سانسیں اس کی گردن پہ چھوڑتا وہ پیچھے ہوا تھا اور سماہر اس لمس پہ آنکھیں موند گئی تھی ۔
” تم حفظ ہو چکی ہے مجھے سماہر میران ملک، تمہارا ہر روپ، ہر روز، ہر لمحہ، میں حفظ کرتا جاتا ہوں اور مجھے پھر سے، دوبارہ سے، نئے سرے سے تم سے محبت کا جنون ہونے لگتا ہے، کیا مجھے اجازت ہے کہ ۔۔ “
لفظ ادھورے چھوڑ کے وہ سماہر کے لبوں پہ جھکا تھا ۔
” تمہارے لبوں سے تمہاری سانسیں چرا لوں؟”
سماہر کچھ بولنے لائق ہوتی تو کچھ کہہ پاتی، وہ سانس روکے ہوئے تھی، وہ زیر لب مسکراتا پیچھے ہوئے تھا، اسے سماہر کو تنگ کرنے کا ارادہ ترک کرنے کا تھا لیکن اچانک سے کیا ہوا تھا وہ بےخودی میں سماہر کو بانہوں میں بھر کے، اس کے لبوں پہ جھکا تھا۔
” میران ارتضی ملک کو زندگی میں پہلی بار تم سے محبت ہوئی ہے اور اس محبت میں لمحہ لمحہ شدت بڑھتی جا رہی ہے “
بوجھل سرگوشی کرتا وہ اب ان لبوں کو اپنے لبوں سے قید کرتا، سماہر کے سانسوں کی مہک اپنی سانسوں میں اتارتا مدہوش سا ہو رہا تھا، کچھ لمحوں میں ہی سماہر کو لگنے لگا تھا کہ جیسے اس کی سانسیں بند ہو جائے گی، میران اسے دیوار سے پن کرتا، خود اس کی پیشانی پہ پیشانی ٹکائی تھی، دونوں کی آنکھیں بند تھی اور دونوں ہی گہرے سانس لے رہے تھے۔ جب میران نرمی سے اس سے الگ ہوا تھا اور پیچھے قدم رکھتا وہ سماہر کو نظروں کے حصار میں لیے، زیر لب مسکرا رہا تھا۔ دل سینے میں سر پٹخ رہا تھا، سماہر سے الگ نہ ہونے کی دہائی دے رہا تھا لیکن وہ ابھی اپنی حدیں جانتا تھا، سماہر اس کی منکوحہ تھی اور رخصت ہو کے بیوی بننے کا وہ منتظر تھا۔ سماہر دیوار سے لگی اسے دیکھ رہی تھی، آنکھوں میں میران کے عشق کا خمار سر چڑھ کے بول رہا تھا اور پھر میران دروازے سے جا لگا تھا، آنکھیں اس نازک سراپے سے ہٹنے کو انکاری تھی اور پھر بالوں میں ہاتھ پھیرتا وہ کمرے سے باہر نکلا تھا۔ سماہر کا بکھرا بکھرا وجود، اس لمحوں بھر کے لمس سے ہی مسکرا اٹھا تھا۔ میران ارتضی ملک کی محبت، اس کا عشق، اس کا جنون دن بہ دن سماہر کو اپنے لپیٹ میں لے رہا تھا اور وہ مکمل میران ارتضی ملک کی خوشبو اوڑھ چکی تھی، وہ ہوش میں اب آنا نہیں چاہتی تھی کھبی۔ جبکہ میران ارتضی ملک کے لئے سماہر اس کی محبت، بیوی اور عزت تھی۔ وہ نہ کھبی جنگ کے کسی مرحلے میں شامل تھی اور نہ کھبی ہو سکتی تھی کیونکہ وہ سماہر تھی، وہ سماہر، جو میران ارتضی ملک کے دل کے ایک خاموش گوشے میں، خاموش محبت کی طرح پنہاں تھی، جسے سنوار کے اور نکھار کے سماہر نے ہی اجاگر کیا تھا۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
شاہ نواز خان اس دن کے بعد سے خاموش ہی ہو گئے تھے اور یہ بات پریشے کو دکھ دے رہی تھی، تبھی وہ شام کی چائے بنا کے، کپ لیے ان کے کمرے میں گئی تھی جہاں وہ آرام دہ کرسی میں بیٹھے اپنی سوچوں میں گم تھے۔ پریشے کچھ دیر اداس نظروں سے ان کی پشت دیکھتی رہی، نہ جانے وہ کیا سوچ رہے تھے؟ ان کی سوچوں کا محور کہیں پچھتاوے تو نہیں تھے؟ وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی ان کے قریب آئی تھی۔
” بابا جان چائے “
وہ چونکے تھے اور ایک نظر چائے کے کپ کو اور پھر اپنی بیٹی کو دیکھا تھا جو مسکرا رہی تھی۔
” شکریہ بیٹا “
چائے اس کے ہاتھ سے لے کے انہوں نے پریشے کو اپنے قریب بیٹھنے کا اشارہ کیا تھا اور وہ بیٹھ کے شاہ نواز کو دیکھنے لگی ۔ وہ بھی مسکرا کے اپنی بیٹی کو دیکھ رہے تھے۔
” تم خوش تو ہو پریشے ؟؟”
وہ چونکی تھی اس سوال پہ اور پھر ہلکا سا مسکرائی تھی۔
” جی بابا جان، آپ سب کی خوشی میں، میں خوش ہوں “
انہوں نے نفی میں سر ہلایا تھا ۔
” میں تمہاری خوشی کے بارے میں پوچھ رہا ہوں، اپنی بیٹی کی خوشی کا پوچھ رہا ہوں “
پریشے نے نظریں جھکائی تھی اور پھر نظریں اٹھا کے انہیں دیکھنے لگی۔
” اگر آپ شہباز کے بارے میں پوچھ رہے ہیں تو میں خوش ہوں بابا جان، آپ کا فیصلہ سر آنکھوں پہ بابا جان، آپ کی خوشی میرے لئے محترم ہے “
پریشے کی باتیں سن کے وہ آبدیدہ ہو گئے تھے۔
” میرا فیصلہ غلط تھا پریشے، بچپن میں بنائے گئے رشتے کھبی پائیدار نہیں ہوتے، بس خاندان والوں کا دباؤ تھا اور میں اس دباؤ میں آ کے تمہیں عاھل خان کے نام کر دیا، یہ جانے بنا کہ آگے کی زندگی میں کیا ہونے والا ہے “
وہ کہہ رہے تھے اور پریشے کو اپنے دل پہ بھاری بوجھ سا گرتا محسوس ہو رہا تھا۔
” شہباز بہت نیک لڑکا ہے، اس نے خود مجھ سے اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ تمہیں خود سے منسوب کرنا چاہتا ہے ۔ تم خوش تو ہو ناں بیٹا شہباز کے ساتھ ؟؟ اگر تم نہیں چاہتی تو میں ابھی یہ رشتہ ختم کر دیتا ہوں “
پریشے نے ان کے ہاتھ کی پشت پہ اپنا ہاتھ رکھا تھا اور مسکرا کے شاہ نواز کو دیکھنے لگی ۔
” بابا جان، میں خوش ہوں “
اور واقع وہ خوش تھی، شہباز خان وجیہہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک مکمل مرد بھی تھا جو واقع میں پریشے سے محبت کرتا تھا اور اس کا احترام کرتا تھا۔ شاہ نواز خان نے پریشے کے سر پہ اپنا ہاتھ رکھا تھا۔
” بیٹا ماں باپ ہمیشہ اہنے بچوں کی خوشیاں ہی چاہتے ہیں، وہ جو فیصلہ بھی کرتے ہیں اس فیصلے میں اپنے بچوں کی خوشی چاہتے ہیں لیکن کھبی کھبی غلطیاں بھی ہو جاتی ہے، جو جان بوجھ کے نہیں ہوتی بس کھبی کھبی ناسمجھی میں۔۔۔ “
پریشے نے ان کے ہاتھ کی پشت چومی تھی اور پھر ان کی آنکھوں میں دیکھنے لگی ۔
” میں جانتی ہوں بابا جان ، میرے لئے آپ کا ہر فیصلہ محترم ہے “
” عاھل خان ملا تھا مجھ سے، وہ پھر سے تمہارا ہاتھ مانگ رہا تھا اپنے لئے “
یہ الفاظ نہیں تھے بلکہ ایک بم تھا جو پریشے کے سر پہ پھوڑا گیا تھا، وہ اپنی حیران آنکھوں سے شاہ نواز خان کو دیکھنے لگی ۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤