Rate this Novel
Episode 13
گھر میں ہوتی مسلسل بحث اور چیخ و پکار سے وہ تنگ آ گئی تھی اب، مسلسل دو دن سے یہی ہنگامہ ہو رہا تھا کھبی اس پورشن میں تو کھبی دوسرے پورشن میں، اور میران ارتضی ملک نہ جانے اس دن کے بعد سے کہاں غائب تھا جو کل رات ہی آیا تھا اور کل رات بھی لمبی بحث چھڑی تھی جسے میران نظرانداز کرتا پھر سے باہر نکل چکا تھا اور آج اس ہنگامے کا تیسرا دن تھا اور میران پھر سے غائب تھا جبکہ بکھری بکھری سی سماہر اب بھی مضبوط بننے کی کوشش کرتی خاموش تھی۔ اس کے ماں باپ لڑ رہے تھے، اس کی آنکھیں آبدیدہ ہو گئی تھی، سماہر کے لئے وہ آپس میں ایکدوسرے کے دشمن بن چکے تھے، دل جیسے پھٹنے لگا تھا غم کی شدت سے، تبھی اپنی جگہ سے کھڑی ہو کے وہ دروازہ کھول کے کمرے سے باہر نکلی تھی اور سیڑھیاں اترتی وہ لاؤنج میں آئی تھی جہاں وقاص ملک اور تابعہ اسے دیکھ رہے تھے۔
” قتل کرنے کا ارادہ ہے ایکدوسرے کو؟ کرنا کیا چاہ رہے ہیں آپ دونوں مل کے اس گھر میں؟؟ پچھلے تین دن سے اس گھر میں کوئی سکون نہیں ہے، صبح شام ہنگامہ برپا ہے جیسے قیامت آ ٹھہری ہو، آخر کیوں؟؟ کیوں؟؟”
وہ آخر میں روتے ہوئے چیخی تھی، تابعہ تڑپ کے اس کے قریب آئی تھی۔
” سماہر میری بچی، میں تمہیں نجات دلاؤں گی اس قماش سے “
سماہر نے رک کے اپنی ماں کو دیکھا تھا ۔
” وہ میرا شوہر ہے مما، منکوحہ ہوں میں اس کی، کیسے قماش کہہ سکتی ہے آپ اسے ؟؟ اور مجھے میران سے کوئی مسئلہ نہیں ہے، میں یہ رشتہ برقرار رکھنا چاہتی ہوں، میں اس سے الگ بھی نہیں ہونا چاہتی، اس لئے پلیز مما بند کر دیں یہ ہنگامہ ۔۔ پلیز بابا آپ دونوں کے ہاتھ جوڑتی ہوں، مجھے سکون چاہئے، مائزہ کو سکون چاہئے ، اس گھر کو ہمارے لئے جہنم مت بنائیے پلیز “
وہ پاتھ جوڑتی کہہ رہی تھی جبکہ وہ دونوں خاموش کھڑے اسے دیکھ رہے تھے، سماہر اپنی بات کہہ کے مڑ کے تیزی سے سیڑھیاں چڑھنے لگی اور کمرے میں آ کے زور سے دروازہ بند کر کے وہ بیڈ پہ بیٹھی تھی، دونوں ہاتھوں پہ سر گرائے وہ رو رہی تھی۔
” میں اپنے وعدے پہ آج بھی قائم ہوں میران، تمہارا ساتھ آج بھی نہیں چھوڑوں گی، بس ایک شکایت سی ہے کہ کاش وہ پہلی عورت میں ہوتی تمہاری زندگی میں، جس کی پناہوں میں تم سکون محسوس کرتے۔۔ بس یہی شکایت ہے “
وہ زیر لب کہتی مسلسل اپنے بہتے آنسو صاف کرنے کی کوشش کرتی رہی لیکن آنسوؤں کو سنبھالنا اپنے بس میں نہیں ہوتا اور یہی حال سماہر کا بھی تھا۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
” مجھے تو پہلے ہی معلوم تھا کہ یہ لڑکا کوئی گل ضرور کھلائے گا، آخر کو سیاست دان ہے، وہ بھی بے بےباک سیاستدان، شرابی قماش۔۔۔ “
اس کی چلتی زبان کو بریک لگ گئے تھے جب دشاب نے لب بھینچے ایک بھرپور گھوری سے نوازا تھا اسے لیکن اس پہ کہاں اثر پڑنا تھا، کندھے اچکا کے وہ رخ موڑ گئی۔
” اپنی زبان کو کنٹرول میں رکھنا سیکھو عظمی، نمک چھڑکنے سے باز آ جاؤ پلیز “
” ہونہہ میں نے ایسا کیا بول دیا ؟ میرے بچے کی خوشیاں چھین لی تھی اس نے، اور اب خود اپنے گناہوں کی سزا میں جل رہا ہے، وقاص بھائی کو اب تو ہوش آ ہی گیا ہوگا یا آ بھی سماہر کی سنے گیں، آہ سماہر ، اس لڑکی کی وجہ سے میرا بچہ خون کے آنسو رویا تھا۔ اللہ نے ایسی لاٹھی ماری ہے کہ منہ کے بل گر پڑی ہے “
” بس “
دشاب کی گرج سے اس کی چلتی زبان پھر سے بند ہو گئی تھی۔
” خوف خدا ہی کر لو کچھ “
کہہ کے دشاب اٹھنے لگے جبکہ عظمی نے پھر سے ہنکارا بھرا تھا۔
” خوف خدا تم اور تمہارا وہ بیٹا کریں، جس کے لئے تم نے میرے بیٹے کی قربانی کر دی، اہ لگی ہے میرے بیٹے کی تم سب کو، اب کھبی خوشی کا منہ نہ دیکھو گیں تم سب “
دشاب نے گہرا سانس بھرا تھا اور سیڑھیوں کی طرف بڑھے تھے۔
” ہاں ہاں اب تم بھی جا کے سو جاؤ اس جادوگرنی کی گود میں جا کے “
عظمی کی بات پہ وہ لب بھینچے گھومے تھے ۔
” بکواس بند کرو “
ان کی آنکھوں میں سرخی دوڑیں نمایاں ہو رہی تھی جبکہ خود پہ ضبط کرنے کی کوشش کرتے ہوئے بھی وہ چلائے تھے جبکہ عظمی آنکھیں گھماتی اپنی جگہ سے اٹھ کے، اپنے کمرے کی طرف بڑھی تھی۔ دشاب نے سر جھٹکا تھا اور گہرا سانس لیتے پھر سے سیڑھیوں کی طرف رخ کر چکے تھے، اج اوپر تک جانے کے کئے قدم لڑکھڑا رہے تھے جبکہ کندھوں پہ جیسے بھاری بوجھ سا آن پڑا تھا۔ وہ اوپر پہنچ چکے تھے اور اب ان کا رخ اس کمرے کی طرف تھا جہاں انہیں معلوم تھا کہ اس وقت عارفین بیڈ کے کنارے بیٹھی، اپنی سوچوں کے سمندر میں غرق ہوگی، جس میں بہت سی شکایتیں ہوگی، بہت سے شکوے گلے، ناراضگی، غصہ لیکن خود دشاب کے پاس اس وقت کیا تھا سوائے پچھتاوے کے ۔ وہ کمرے کا دروازہ کھول کے اندر آ چکے تھے، عارفین خاموش نم نگاہوں سے انہیں دیکھ رہی تھی، کتنی سپاٹ تھی وہ آنکھیں، وہ سمجھے تھے کہ شکایتوں کا جال ہوگا ۔ وہ چلتے چلتے ان کے قریب بیڈ پہ ہی بیٹھ گئے تھے اور اب خاموشی سے عارفین کا چہرہ دیکھ رہے تھے جو انہیں دیکھ ہی نہیں رہی تھی بلکہ سامنے دیوار کو دیکھ رہی تھی۔
” عارفین ۔۔۔ “
انہوں نے پکارا تھا۔
” کتنی عجیب بات ہے ناں دشاب، مجھے سماہر اس مقام پہ اچانک سے نظر آئی جہاں پہ کئی سال پہلے میں ٹھہرائی گئی تھی، مجرم بنا دی گئی تھی، کیونکہ میں خاندان کا سپوت نہیں دے پائے تھی اور خاندانی روایات کے مطابق مجھے صاحب اولاد ہونا چاہئے تھا لیکن وہ بس کم عرصے کی دیر تھی، شاید چہرے دکھانا چاہ رہا تھا میرا رب مجھے، عجیب تو یہ ہے کہ جس سپوت کے لئے مجھے مجرم ٹھہرا کے، سزا سنا دی گئی تھی سوتن کے روپ میں، آج وہی سپوت اپنے ہی باپ کی راہ پہ چل نکلا، میں ماں نہ بن پائی، اچھی ماں، باپ سے تو وہ محروم تھا لیکن باپ کے نقش قدم پہ چلا نکلا وہ ۔ “
دشاب چہرے پہ شرمندگی لیے انہیں دیکھ رہے تھے جو انہیں دیکھ ہی نہیں رہی تھی۔
” مرد کا روپ ایک جیسا ہی ہے پھر چاہے وہ میری اولاد ہو یا میرا شوہر۔”
” عارفین الفاظ کی مار مت مارو پلیز ۔ “
دشاب کا لہجہ ٹوٹا ہوا تھا جبکہ عارفین ہنس پڑی تھی۔
” افسوسناک بات تو یہ ہے کہ اگلے کئی سال بعد انہی الفاظ کی مار سماہر بھی مارے گی میرے بیٹے کو اور تب وہ لمحہ میرے لئے موت ہے لیکن میرے بیٹے کے لئے پشیمانیوں اور پچھتاؤں کا نیا باب ۔ “
عارفین ہنستے ہنستے کہتی اب چپ ہو چکی تھی ۔
” میں غلط تھا عارفین ، میں غلط کر گیا، جانتا ہوں معافی کے قابل بھی نہیں میں، لیکن کیا معاف نہیں کرو گی میرے خطا ۔ “
دشاب کی بات پہ عارفین چہرہ موڑ کے انہیں دیکھنے لگی جیسے ان کے چہرے پہ کچھ ڈھونڈ رہی ہو، کھوجتی متلاشی آنکھیں۔
” آپ پچھتا رہے ہیں دشاب ؟؟”
” ہاں “
دشاب نے جواب دیا تھا۔
” پشیمان ہے ؟؟”
وہ پھر پوچھ رہی تھی۔
” ہاں “
دشاب نے آہستگی سے جواب دیا تھا ۔
” میرے لئے یہی کافی ہے “
عارفین کے انداز پہ دشاب کو اپنا دل اتھاہ گہرائیوں میں ڈوبتا محسوس ہوا تھا ۔
” میرا بیٹا بھی اس حالت تک پہنچے، یہی دعا کرتی ہوں میں، ہر وہ مرد جو محبت کا نام پہ عورت کا استعمال کر کے، پھر اسے خاندان سے باہر کی لڑکی کہہ کے اپنے خاندان کی بیوی لاتا ہے یا جو مرد محبت میں دھوکا دیتا ہے عورت کو، پچھتاؤں کے سانپ انہیں ڈستے رہے تا ابد، پھر چاہے وہ بیٹا ہو یا شوہر “
اپنی بات کہہ کے وہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی تھی اور چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی وہ کمرے سے باہر گئی تھی جبکہ دشاب کو لگا کہ جیسے کندھوں پہ موجود بوجھ مزید بڑھتا جا رہا ہے اور وہ جیسے اس بوجھ تلے دھنستے جا رہے ہیں۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
عاھل پریشان حالت میں ہاسپٹل آیا تھا، کوریڈور میں ہی اسے زریاب خان نظر آئے تھے اور وہ ان کے قریب جا کے آئی سی یو کی طرف دیکھنے لگا ۔
” کیا ہوا ہے اروشے کو ؟”
زریاب چونکے تھے۔
” تمہاری دوسری شادی کی خبر سن کے وہ بیہوش ہو گئی “
عاھل نے لب بھینچ لیے تھے۔
” کیا کہہ رہے ہیں ڈاکٹرز ؟؟”
وہ سوال کرتا ادھر ادھر دیکھنے لگا۔
” بلڈ پریشر اچانک سے بڑھ گیا ہے اور ۔۔۔۔ “
وہ کہتے کہتے چپ ہو گئے تھے جبکہ عاھل خان سوالیہ نظروں سے انہیں دیکھنے لگا۔
” اور ؟؟”
زریاب خان نے نظریں چرائی تھی۔
” ماں اور بچہ دونوں کے بچ جانے کی امید بہت کم ہے “
عاھل خان نے حیرت سے اپنے باپ کو دیکھا تھا جو اب رخ موڑ کے بنچ پہ جا کے بیٹھ گئے تھے جبکہ عاھل حیرت سے آئی سی یو کی طرف دیکھ رہا تھا۔ کچھ دنوں سے اس کا رویہ اروشے کے ساتھ بہت غلط رہا تھا، جب سے اس نے پریشے کو شہباز کے ساتھ دیکھا تھا تب سے دل میں ایک آگ سی لگی تھی، جس کی چنگاریاں بار بار اروشے کو جلا رہی تھی اور وہ ہر بار اروشے کو نفرت دکھا کے، اس کی اوقات یاد دلانے کی کوشش کرتا رہتا، یہ سوچے بنا کہ وہ ماں بن رہی ہے اور وہ بھی اس کے اپنے بچے کی ماں، وہ اپنے الفاظ سے دونوں کی زندگی کو خطرے میں ڈال چکا تھا، آنکھیں نم ہوئی تھی جب ڈاکٹر باہر آئی تھی، ماسک اتارتی وہ انہی کی طرف آ رہی تھی۔
” پیشنٹ کے ہزبینڈ کون ہے ؟؟”
اس کے سوال پہ عاھل خان آگے آیا تھا۔
” میری وائف کیسی ہے ڈاکٹر اور میرا بیٹا؟؟”
ڈاکٹر نے تاسف بھری نظر اس پہ ڈالی تھی۔
” ایم سوری مسٹر عاھل خان، بی پی بہت زیادہ ہائی ہونے کی وجہ سے، ہم آپ کے بےبی کو نہیں بچا سکے، ہاسپٹل پہنچنے سے پہلے ہی بےبی کی ڈیتھ ہو چکی تھی اور آپ کی مسز کی حالت بہت کریٹیکل ہے۔ ان کا بی پی لو کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ہم ۔ “
ڈاکٹر آگے بڑھ چکی تھی جبکہ عاھل خان خالی نظروں سے سامنے دیوار کو دیکھتا رہا، اس خبر نے زریاب خان کو بھی نڈھال کر دیا تھا، ان کا پوتا، ان کے خاندان کا نام آگے لے جانے والا وارث اس دنیا میں آنے سے پہلے ہی مر چکا تھا، نیست و نابود ہو چکا تھا اور اس سب میں قصوروار کوئی اور نہیں، خود زریاب خان تھا۔ اگر عاھل خان کو بھنک بھی پڑ جاتی کہ انہوں نے کس طرح سے اروشے کو باتیں سنائی تھی تو شاید وہ پھر کھبی اپنے باپ کی طرف دیکھنا بھی گوارا نہ کریں۔ آگے بڑھ کے انہوں نے اہنے کانپتے ہاتھ عاھل خان کے کندھے پہ رکھے تھے جبکہ وہ تڑپ کے اپنے باپ کو دیکھنے لگا جو اپنے بیٹے کی حالت سے نظریں چرا گئے ۔
” کیا کہا تھا آپ نے اروشے سے ؟؟”
” کیا مطلب عاھل خان ؟؟”
وہ چونکے تھے جیسے چوری پکڑی گئی ہو۔
” اروشے کا بی پی کیسے اتنا ہائی ہو گیا کہ وہ ہاسپٹل پہنچ گئی ، اس کے ساتھ کیا کیا ہے آپ نے ؟؟ بتائیے مجھے ؟؟ “
وہ چیخا تھا جب نرس ان کی طرف آئی تھی ۔
” کیا کر رہے ہیں آپ لوگ ؟؟ یہ ہاسپٹل ہے “
عاھل خان نے ایک سرسری نظر نرس پہ ڈالی اور پھر زریاب خان کو دیکھنے لگا ۔
” میرے بیٹے کی موت میں اگر آپ کا ہاتھ ہوا آغا جان ، تو میں آپ کے مقابل ہونگا “
وہ سرد لہجے میں کہتا وہاں سے لمبے ڈگ بھرتا جانے لگا جبکہ زریاب خان ادھر ادھر نظریں دوڑاتا اپنے ماتھے پہ آیا پسینہ ٹشو پیپر سے صاف کرنے لگا۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
ہم اس دنیا میں دل لگائے کیسے ؟
دل پہ پہلے سے تیری مہر لگ کر آئی ہے !!
وہ غائب تھا، میران ارتضی ملک اس دن کے بعد سے مکمل کھو گیا تھا جیسے کہیں، اس عالیشان محل کے درودیوار پر سے بھی جیسے اس کی پرچھائیاں کھو سی گئی تھی، وہ یوں غائب ہو چکا تھا کہ ڈھونڈنے پہ بھی نظروں کو اس کا وجود کہیں نظر ہی نہیں آ رہا تھا۔ لب کاٹتی، رات کے بارہ بجے وہ ننگے پاؤں لان میں ٹہل رہی تھی وہ، گیلی گھاس پہ پڑے اوس کے قطرے جیسے اس کے نرم و نازک پاؤں کو طمانیت بخش رہے تھے اور دل کی دھڑکنیں لمحہ لمحہ بڑھتی جا رہی تھی۔ آج وہ شخص سماہر کو نیوز میں نظر آیا تھا، وہ کوئی پریس کانفرنس دے رہا تھا، چہرے پہ نہایت سنجیدگی ہونے کے ساتھ ساتھ، سرد تاثر بھی موجود تھا، سماہر کی آنکھیں بھیگ گئی تھی اس لمحے اور اب بےقرار سی وہ لان کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک ٹہلتی نہ جانے کیوں انتظار کر رہی تھی، اس کے دوبارہ آنے کا انتظار، وہ تو سماہر کو شکایت کرنے کا موقع بھی نہ دے گیا، نہ سوال جواب ہوا، کچھ بھی تو نہیں، بس طویل خاموشی، وہ ہوتا بھی تو سماہر پھر بھی اس سے شاید کچھ نہ پوچھتی، یہ اس کی فطرت میں تھی ہی نہیں، کہ وہ اپنے مقابل اس شخص سے سوال کرے۔ مڑنے پہ نظر دائیں طرف گئی جہاں ازمائر کھڑا لبوں پہ دھیمی مسکان لیے اسے ہی دیکھ رہا تھا، پہلے تو وہ چونکی تھی اور پھر گہرا سانس لیتی وہ نظریں پھیر گئی ۔
” ایک طویل انتظار اور پھر بھی خالی ہاتھ اور تہی داماں، وہ بھی اس شخص کے لئے جو محبت کے سفر پہ تمہارا ہاتھ تھامنے سے پہلے ہی، دوسری عورت کی زلف کا اسیر رہ چکا ہو “
اس کے طنزیہ لہجے پہ سماہر نے پرسکون انداز میں اسے دیکھا تھا ۔
” گھاٹ گھاٹ کا پانی پینے والا مرد، یہ بھی تو بھول جاتا ہے کہ کہاں اور کس کی چوکھٹ پہ ۔۔۔۔۔ تم سمجھ گئی ؟؟”
وہ رک کے اب بےحد فرصت سے سماہر کے سرخ پڑتے چہرے کو دیکھ رہا تھا۔
” آپ شاید یہ بھول رہے ہیں ازمائر، کہ ہم کزنز ہیں آپس میں اور ایک ہی خاندان سے ہمارا تعلق ہونے کی وجہ سے، میں اپ کے لئے قابل احترام بھی ہوں “
ازمائر قدم قدم چلتا اس کے مقابل آ رکا تھا۔
” عزت، احترام اور محبت میرے دل پہ، میرے وجود پہ آپ کے لئے ثبت ہو چکی ہے سماہر، آپ میرے لئے قابل احترام ہے لیکن مجھے نفرت ہے اس شخص سے، بےحد نفرت، پہلے وہ آپ کو مجھ سے چھین گیا اور پھر آپ کا دل توڑ گیا، آپ کو توڑ گیا، اور مجھ سے نہیں دیکھا جا رہا یہ سب “
” کیا سب ؟؟ کیا نہیں دیکھا جا رہا آپ سے ازمائر ؟؟ وہ شخص آج بھی میری محبت ہے، نہ میرا دل توڑ گیا ہے وہ اور نہ ہی مجھے ، میرا شوہر ہے وہ اور میں میران ارتضی ملک کی منکوحہ ہوں، محبت کرتی ہوں اس سے اور بےحساب کرتی ہوں، وہ اگر بیٹی ہے اس کی تو مجھے کوئی اعتراض نہیں، اس شخص سے متعلق اور منسلک ہر رشتہ اور ہر چیز مجھے عزیز ہے ۔ پھر چاہے وہ اس کی بیٹی ہی کیوں نہ ہو، میران ارتضی ملک کے لئے میری محبت اور میرا احترام، دنیا کی کوئی طاقت بھی ختم نہیں کر سکتی ۔ “
ازمائر کے چہرے کا رنگ بدلا تھا، تبھی اس نے لب بھینچ لیے اور آنکھوں میں نفرت جیسے مزید بڑھ گئی تھی اس شخص کے لئے، جبکہ سماہر سر جھٹک گھر کی طرف جانے کے لئے مڑی تھی۔
” آپ غلط راستے پہ جا رہی ہے سماہر “
سماہر رک کے اسے دیکھنے لگی۔
” میرا راستہ ہمیشہ سے درست ہی رہا ہے، بس شرط یہ ہے کہ میرے راستے کا کانٹا بننے کی بجائے، آپ ایک اچھے کزن اور فیملی ممبر ہونے کی حیثیت سے اپنا احترام میری نظروں میں مت گرائیں “
اپنی بات کہہ کے وہ تیزی سے گھر کی طرف بڑھ گئی تھی جبکہ مٹھیاں بھینچے ازمائر سرخ ہوتی آنکھوں سے اسے جاتا دیکھ رہا تھا اور یہ منظر اپنے عالیشان گھر کے اس تنہا کمرے میں بیٹھا، مسکراتی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا۔ سماہر کی محبت اور احترام اس کے دل میں مزید بڑھ گئی تھی اس سب کے بعد۔ وہ جو خود کو سماہر کا مجرم۔سمجھ کے اس کا سامنا کرنے سے کترا رہا تھا اب جیسے مان سا بڑھ گیا تھا، غرور سا اس کے وجود میں اتر رہا تھا، ان کے اس رشتے کو رکاوٹوں کا ہار بھی بار بار پہنا دیا جائے، تو پھر بھی سماہر اس سے الگ نہیں ہوگی اور نہ وہ سماہر سے دستبردار ہوگا کھبی، کیونکہ محبت ان کے مابین ایسے ٹھہر سی گئی تھی کہ روح سے روح کا تعلق بندھ گیا تھا۔ وہ اعتراف کر رہا تھا خود سے، ہر گزرتے دن کے ساتھ، کہ وہ سماہر کی محبت میں مکمل پاگل ہو چکا ہے اور سماہر اس کے لئے ضروری سی بن گئی ہے، محبت اور چاہ بن چکی ہے،
کیا خوب تیری خدائی ہے
محبت آپ سکھا کے بجھوائی ہے !!
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
وہ ننھی سی بچی اس گھر میں بوکھلائی بوکھلائی سی پھر رہی تھی، وہ شخص جو اسے یہاں چھوڑ کے کئی دنوں سے نہیں آیا تھا، اسے تو اس کی بھی پرواہ نہیں تھی، یہاں اس گھر کے دو مکین تھے، جو اپنی دنیا میں گم تھے، اس کے کھانے پینے، سونے جاگنے اور پہننے اوڑھنے کی ضرورتیں میسر کر رہی تھیں لیکن وہ اب بھی حیران تھے شاید، تبھی نہیں جانتے تھے کہ کیا بات کریں اس سے، وہ ابھی لب کاٹتی کھڑی میرب کو دیکھ رہی تھی جو کتابیں پھیلائے بیٹھی ہوئی تھی۔ کیسے بات کریں؟ کیسے آگے بڑھے، جب میرب کی نظر اس پہ پڑی تو ہلکا سا مسکرا دی تھی ۔
” آؤ عیشل، وہاں کیوں کھڑی ہو؟ کوئی کام تھا ؟؟”
میرب کے سوال پہ وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی میرب کے قریب آئی تھی۔
” مجھے آپی کے پاس جانا تھا ۔ “
” کون آپی؟؟”
میرب کی سوالیہ نظریں اس پہ تھی ۔
” میری آپی، وہ پیاری سی آپی، جو یہاں آئی تھی، میری آپی ہے ناں “
وہ بتانے کی کوشش کرنے لگی تب میرب حیران ہوئی تھی۔ یہ تو اس نے اس دن بھی نوٹ کیا تھا کہ عیشل سماہر کو دیکھتے ہی تیزی سے اس سے جا لگی تھی۔ ۔
” سماہر، تمہاری آپی کیسے ہوئی ؟؟ “
” میں انہیں بہت پہلے سے جانتی ہوں،”
عیشل پہلی بار دل سے مسکرائی تھی کہ آنکھیں بھی مسکرا رہی تھی اس کی ۔
” کیسے ؟؟”
میرب نے پھر سوال کیا تھا ۔
” مما نے کہا تھا کہ یہ میری آپی ہے، اور بہت اچھی آپی ہے، مما نے موبائل میں ان کی تصویر دکھائی تھی مجھے ۔ “
وہ مزے سے بتانے لگی جبکہ میرب حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی۔
” آپ کی مما کون ہے ؟؟”
عیشل کے چہرے پہ اداسی پھیلی تھی۔ ۔
” وہ اللہ کے پاس چلی گئی ہے مجھے چھوڑ کے “
نم آنکھوں کو جھکاتی وہ بولی تھی جنہیں میرب حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی۔ سماہر کا ذکر میران اس کی مما سے کر چکا تھا؟؟ تو کیا میران اپنی پہلی بیوی کو بتا چکا تھا کہ وہ دوسری شادی کر رہا ہے ؟؟ کیا واقع یہ میران ارتضی ملک کی بیٹی ہے؟؟ سماہر سے پہلے بھی وہ کسی دوسری عورت سے شادی کر چکا ہے کہ اس کی سات سال کی بیٹی بھی ہے ؟؟
اففففف
میرب نے سر جھٹکا تھا۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
