Rate this Novel
Episode 18
نہ جاگا، نہ سویا
کہاں میں ہوں کھویا
سمجھ میں نہ آتا ہے کچھ لیکن
تمہارے بنا ایک سانس بھی لینا
ہے میرے لئے ناممکن ۔۔۔۔
وقت اس کے لئے جیسے ٹھہر گیا تھا، ایک آگ سی تھی جو اسے اپنی لپیٹ میں لے رہی تھی جب سماہر کو منان کے ساتھ اس نے جاتے دیکھا تھا اور پوچھنے پہ پتہ چلا کہ سماہر میران کے بنگلے پہ جا رہی ہے اور تب سے لمحہ لمحہ بےچینی اس کے وجود کو اپنا اسیر کر رہی تھی، اس رات کا لمحہ لمحہ کرب کی مانند اس کے جسم میں اتر رہا تھا اور اب صبح کی اذان ہو رہی تھی اور وہ ابھی تک سرخ آنکھیں لیے، لب بھینچے بالکونی میں بیٹھا کسی غیر مرئی نقطے کو گھور رہا تھا۔ وہ یہ سمجھنا ہی نہیں چاہتا تھا شاید کہ سماہر اب میران کی منکوحہ ہے بلکہ وہ تو اس فیز سے ہی باہر نہیں نکل پا رہا تھا کہ سماہر اس کی محبت ہے اور اس پہ کسی دوسرے کا حق وہ برداشت نہیں کر سکتا تھا۔ وہ چیخنا چاہتا تھا، چلانا چاہتا تھا لیکن اس وقت وہ کچھ نہیں کر پا رہا تھا، سرخ آنکھوں میں نمی لیے وہ بس لب بھینچے ہوئے تھا ۔ شازم اس کے کمرے میں آیا تھا اور گہرا سانس لیتا بالکونی میں آتا اس کے قریب بیٹھ کے، وہ غور سے اپنے بھائی کے چہرے کو دیکھنے لگا۔
” ہمممم سنا میں نے بھی ہے کہ طلوع آفتاب کا منظر زیادہ دلکش ہوتا ہے “
ازمائر چونک کے اسے دیکھنے لگا جو ہلکا سا مسکراتا اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ شازم نے اس کی سرخ ہوتی آنکھیں دیکھ لی تھی لیکن خاموش رہا۔
” کیا ہوا ہے میرے بھائی کو ؟؟ “
شازم کے پوچھنے پہ اس نے سر جھٹکا تھا ۔
” تم یہاں کیا کر رہے ہو ؟؟ سحری کر لی ؟؟ کھانا کھایا تم نے ؟ “
ازمائر کے سوال پہ وہ مسکرانے لگا ۔
” آپ کی محبت پہ مجھے کوئی شک نہیں میرے بھائی ۔۔ میں سحری کر چکا ہوں لیکن آپ نے کیوں نہیں کی “
وہ کندھے اچکا گیا ۔
” رات کو زیادہ کھا لیا تھا تبھی بھوک نہیں تھی۔ “
نظریں چراتا وہ پھر سے سامنے دیکھنے لگا جبکہ شازم اس کے چہرے کو غور سے دیکھ رہا تھا۔
” جو نصیب میں نہیں ہوتا اس کے لئے خود کو کرب دینا غلط ہے “
ازمائر چونک کے شازم کو دیکھنے لگا جو بےحد محبت سے اپنے بھائی کو دیکھ رہا تھا۔
” مجھے یاد ہے بھائی، تب میں چھوٹا تھا لیکن میں آپ کو دیکھتا تھا جس طرح سے آپ خیال رکھتے سماہر کا، جس طرح سے آپ دیکھتے تھے سماہر کو، سب دیکھتا رہتا میں، لیکن بھائی یہ ضروری تو نہیں کہ سب ہماری مرضی سے ہو، اپنی قسمت پہ ہمارا اختیار ہوتا ہی کب ہے، اور محبت یا کسی کو چاہنا ایسا ہی ہے ناں کہ آپ اس سے متعلق ہر بات اور اس کی ہر خوشی کا خیال رکھیں۔ سماہر میران بھائی کے نصیب میں لکھ دی جا چکی تھی اور تبھی ان کا نکاح ہوا۔ “
ازمائر نے کب بھینچ لیے تھے اور رخ موڑ لیا تھا۔
” جاؤ، سو جاؤ شازم “
وہ یونہی بیٹھا رہا اور ازمائر کے چہرے پہ پھیلے کرب کو دیکھنے لگا ۔
” اندر چلئیے بھائی۔۔ اٹھئیے “
” شازم جاؤ یہاں سے پلیز “
ازمائر نے اسے ٹوکنا چاہا لیکن شازم اس کا ہاتھ تھام چکا تھا ۔
” چلئیے “
ازمائر کو ناچار اٹھنا پڑا اور شازم کے ساتھ اندر کی طرف بڑھ گیا جب اچانک کمرے کا دروازہ کھلا اور دشاب لب بھینچے، سخت تیور لیے اندر آئے تھے اور قریب آتے ہی ازمائر کا کالر دبوچ کے، اس کے چہرے پہ تھپڑ مارا تھا، یہ سب اتنا اچانک ہوا تھا کہ ایک لمحے کے لئے دونوں بھائی حیرت زدہ رہ گئے تھے۔
” تم سے یہ امید نہ تھی مجھے ازمائر، میرا بیٹا ہو کے، اپنے ہی بھائی کی جان کے دشمن بن گئے ۔ یہ امید نہ تھی “
وہ چلائے تھے۔
” ڈیڈ۔۔۔ “
ازمائر کچھ بول بھی نہ پایا جبکہ شازم نہ سمجھنے والے انداز میں دونوں کو دیکھ رہا تھا۔
” ہمارے ہی دشمن کے ساتھ مل گئے اور اپنے ہی بھائی پہ گولیاں چلوائی، شرم آنی چاہیے تمہیں ازمائر”
وہ پھر سے چلائے تھے جبکہ ازمائر کے بازو پہ موجود شازم کا ہاتھ پھسل گیا تھا، وہ حیرت سے اپنے بھائی کو دیکھ رہا تھا جبکہ وہ لب بھینچے دشاب کو دیکھ رہا تھا۔
” بیٹا ہے وہ میرا، بھائی ہے تمہارا، خون ایک ہی ڈور رہا ہے تم دونوں کی رگوں میں، پھر اتنی گھٹیا حرکت کیوں کی ؟؟”
دشاب تاسف اور غصے سے ازمائر کو دیکھ رہے تھے۔
” کیونکہ میں گھٹیا ہوں، گھٹیا بیٹا اور گھٹیا بھائی اور گھٹیا انسان ۔ “
ازمائر ایکدم سے چلایا تھا۔
” میرا سب چھین گیا وہ، آپ کا سو کالڈ بیٹا، جو آپ کی طرف دیکھتا تک نہیں، جس نے آج تک آپ کو کوئی شناخت نہیں دی، باپ تک نہیں کہتا وہ آپ کو، اس کی ڈکشنری میں نہ آپ ڈیڈ ہے، نہ بابا، نہ پاپا، نہ ابو ۔۔۔ کچھ بھی نہیں ہے آپ اس کی ڈکشنری میں، پھر بھی اپ نے میری محبت اسے سونپ دی، میری زندگی اور مجھے برباد کر دیا آپ نے، اپنے اس سو کالڈ بیٹے کے لئے، اور ہاں نہیں ہے وہ میرا بھائی، نفرت کرتا ہوں میں اس سے، بےحد نفرت، مر ہی جائے وہ، ایکسیڈنٹ میں مرتا ہے یا کسی کی گولیوں کا نشانہ بنتا ہے، بس مجھے اس کے موت کی خبر ملے “
وہ چیخ رہا تھا جبکہ دشاب حیرت سے اپنے بیٹے کو دیکھ رہے تھے، شور کی آواز پہ عظمی بھی کمرے میں آئی تھی، باپ بیٹے کو یوں آمنے سامنے دیکھ کے وہ تیزی سے قریب آئی تھی اور ازمائر کے بازو پہ اپنا ہاتھ رکھا تھا نرمی سے ۔ ۔
” کیا ہوا ہے “
ازمائر نے جھٹکے سے اپنا بازو چھڑایا تھا اور سرخ ہوتی آنکھوں سے دشاب کو دیکھنے لگا۔
” میری پوری زندگی ماتم کناں ہی رہنے والی ہے اب، دشاب ارتضی ملک، اپ بس جشن منائیں اپنے بیٹے کی خوشیوں کا ۔ “
یہ کہہ کے وہ لمبے ڈگ بھرتا کمرے سے باہر نکلا تھا۔
” کیا کہا ہے تم نے ازمائر سے ؟؟ جان لینا چاہتے ہو کیا اس کی ؟؟”
عظمی اب کے دشاب پہ چلائی تھی ۔
” جان تو وہ اپنے بھائی کا لے رہا تھا۔ “
دشاب نے سرد آواز میں اسے دیکھتے کہا تھا جبکہ عظمی شازم کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی۔
” اسے کیا دیکھ رہی ہو، میران پہ گولیاں چلوائی تھی ازمائر نے، اتنا ظالم اور سنگدل ہو گیا ہے تمہارا بیٹا “
وہ چلائے تھے جبکہ عظمی ہنسنے لگی ۔
” مر کیوں نہیں گیا وہ۔ میرے بیٹے کی خوشیوں پہ سانپ بن کے منڈلا رہا ہے۔ “
” عظمی۔۔۔ “
دشاب کا ہاتھ اٹھا تھا لیکن بہت مشکل سے خود کو روکا تھا عظمی کے چہرے پہ مارنے سے، جبکہ عظمی اگ برساتی آنکھوں سے انہیں دیکھ رہی تھی۔
” رک کیوں گئے ؟؟ مارو مجھے ، دکھاؤ اپنی حیوانیت اپنے بیٹے کے سامنے بھی، اسے بھی تو پتہ چلے کی اس کی ماں کن حالات سے گزر رہی ہے “
دشاب نے تاسف سے سر ہلایا تھا۔
” مکار عورت ۔۔ “
وہ بھی کمرے سے چلے گئے تھے جبکہ عظمی شازم کو دیکھنے لگی۔
” دیکھ لیا اپنی آنکھوں سے، کیسا جادو کر رکھا ہے اس عورت نے ان سب پہ “
شازم لب بھینچے ایک تاسف بھری نظر اس پہ ڈالی تھی اور کمرے سے باہر نکل گیا۔ جب سے وہ آیا تھا روز حالات کو بگڑتے ہی دیکھا تھا اس نے۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
” پریشے ۔۔۔ پریشے ۔۔۔ پریشے “
گھر میں داخل ہوتے ہی وہ چاروں طرف دیکھتی چلا رہی تھی، بار بار پریشے کا نام لیتی اس کی نظریں اسے ہی ڈھونڈ رہی تھی اور پھر وہ سیڑھیوں پہ نظر آئی تھی جو حیرت سے اروشے بکھرے حلیے کو دیکھ رہی تھی۔
” پریشے آ جاؤ، دیکھو ، میری بربادی دیکھو ۔۔ مجھے چھوڑ گیا ہے وہ ، آزاد کر گیا ہے ، کل میں نے اسے تم سے چھینا تھا اور آج قدرت نے اسے مجھ سے چھین لیا، کل اسے مجبور کیا تھا کہ تمہیں چھوڑ دے اور آج ۔۔۔ پریشے آج وہ مجھے چھوڑ گیا ہے “
وہ کہتے کہتے رو پڑی تھی جبکہ پریشے اب بھی ناسمجھی سے اسے دیکھ رہی تھی جبکہ وہ قدم قدم سیڑھیوں کی طرف بڑھنے لگی جب امامہ کی آواز پہ اسے رکنا پڑا ۔
” تم یہاں کیوں آئی ہو اروشے ؟”
اروشے رک کے انہیں دیکھنے لگی جو کچن سے باہر آئی تھی اور اب سوالیہ نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔
” اپنی ۔۔۔ اپنی آزادی کا پروانہ دکھانے آئی ہوں میں “
وہ ہاتھ میں موجود پیپر ان کو دکھاتی کہنے لگی جبکہ امامہ نے لب بھینچے اوپر کھڑی پریشے کو دیکھا تھا اور پھر اروشے کو دیکھنے لگی۔
” جاؤ یہاں سے اروشے ؟”
” جاؤں گی لیکن پہلے مجھے میری بربادی تو دکھانے دیں، آپ سب کی بددعا کا اثر تو دکھانے دیں، میرا بیٹا دنیا میں آنے سے پہلے ہی مر گیا، میرا شوہر مجھے طلاق دے کے ہمیشہ کے لیے کہیں دور چلا گیا اور میں پریشے سے سب چھین کے بھی تہی داماں ہوں، بہت بڑی بددعا ملی تھی شاید مجھے پریشے کی طرف سے ۔۔ ہے ناں پریشے ؟؟”
امامہ سے نظر ہٹا کے وہ اب پریشے کو دیکھنے لگی جو خاموشی سے اسے دیکھ رہی تھی۔
” سب کو اپنے جیسا سمجھ رکھا ہے اروشے “
امامہ کے سرد لہجے پہ اروشے پھر سے انہیں دیکھنے لگی۔
” میری بیٹی صاف دل کی انسان ہے، پریشے کسی کے لئے بغض نہیں رکھتی اور نہ وہ نفرت کرتی ہے کہ وہ کسی کو بھی بددعا دے۔ وہ تو تم ہو جو میری بیٹی کا گھر، اس کی زندگی اور اس سے منسلک رشتے کو اجاڑ دیا، اب خود اجڑ گئی ہو تو اس کا بھی الزام میری بیٹی پہ ڈالنے آ گئی، تم جیسی بہن اللہ کسی بھی خاندان کو نہ دے اروشے جو اپنی ہی بہنوں کا گھر اجاڑ کے رکھ دیتی ہیں۔ “
امامہ کو آج اپنے دل کی بھڑاس نکالنے کا جیسے موقع مل گیا تھا۔
” اروشے جاؤ یہاں سے، ورنہ تمہارے چچا نے ابھی آ کے تمہیں یہاں دیکھ لیا تو بہت غلط ہو جائے گا سو بہتر ہے کہ جاؤ یہاں سے ۔ “
اروشے لب کاٹتی انہیں دیکھ رہی تھی جبکہ امامہ آبرو اچکا کے رخ موڑ گئی کہ اس لڑکی میں انہیں کوئی دلچسپی نہ تھی اور نہ ہی ان کے دل میں اس کے لئے کوئی ہمدردی تھی، لب کاٹتی بھیگی آنکھوں سے وہ اوپر کھڑی پریشے کو دیکھنے لگی، اس کی آنکھوں میں کس قدر بےبسی اور لاچاری تھی، پریشے کا دل کٹ کے رہ گیا لیکن ان کے بیچ بولنے کو تھا بھی نہیں کچھ ۔ اروشے سر جھٹک کے وہاں سے جانے لگی۔ اسے گلے لگانے کے لئے یا ہمدردی کے دو بول بولنے والا کوئی تھا بھی نہیں یہاں۔ وہ اس وہی اپنے تھے جن کے دل توڑ چکی ہے وہ، زریاب خان کے ساتھ مل کے نہ صرف عاھل خان کو دھوکے سے اپنا بنا چکی تھی بلکہ اپنی ہی چچازاد بہن پریشے کو بھی اجاڑ دیا تھا اور ساتھ ساتھ یہاں سے منسلک ہر رشتہ بھی وہ کھو چکی تھی۔ امامہ گہرا سانس لیتی، غصے سے اسے جاتا دیکھ رہی تھی جبکہ پریشے لب کاٹتی اروشے کو یہاں سے جاتے ہوئے دیکھ رہی تھی کہ اس کی بربادی کی ذمہ دار وہ خود تھی نا کہ اس گھر کے مکین۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
آبگینے نے جیسے ہی گیٹ سے اندر قدم رکھا تو سامنے لان میں ہی اسے شازم نظر آیا تھا جو لان میں رکھی گئی کرسیوں میں سے ایک کرسی پر براجمان تھا، دونوں کی نظریں پل بھر کو ملی تھی اور ویسے ہی آبگینے نے آبرو اچکا کے نظریں بھی پھیری تھی، اس کے قدم سماہر کی پورشن کے طرف تھے جب زیر لب مسکراتا شازم اٹھ کے گنگناتا اس کے قریب آیا تھا ۔۔
بیا دی پہ زلفانو کہ
آشنا گلونہ وینمہ
تور تور اشپو کہ
زہ رنگین خوبونہ وینمہ
آبگینے رک کے اسے گھورنے لگی ۔
” یہ ان لڑکیوں کے لئے وائس میسج میں سینڈ کر کے گنگناو، جو تمہارے فیسبک آئی ڈی میں ایڈ ہیں “
شازم نے پہلے آبرو اچکائے تھے اور پھر شرارتی نظروں سے اسے دیکھا تھا ۔
” تم مجھے اسٹاک کرتی ہو ۔۔ اب پتہ چلا مجھے کل سے ہچکی کیوں آ رہی ہے “
” مجھے کوئی شوق نہیں تمہیں اسٹاک کرنا، وہ تو ویسے ہی نظر پڑی تو دیکھا کہ دس بارہ لڑکیاں تو ایڈ ہیں، بات شات بھی کرتے ہوگے ان سے ، مجھے کیا جو بھی کرو، “
آخرین کندھے اچکا کے، دونوں پاتھ جھاڑتی بات ختم کی تھی شاید اس نے۔ شازم نے مسکرا کے ہاتھ میں موجود موبائل اس کی طرف بڑھایا تھا۔
” دیکھ لو میں کس سے چیٹ کرتا ہوں، اور میری فیسبک آئی ڈی اوپن کر کے سب لڑکیوں کو بلاک بھی کر دو ۔ “
آبگینے نے پہلے موبائل کو اور پھر اسے دیکھا تھا۔
” آفر ہے “
شازم انکھ ونک کرتا مسکرایا تھا، آبگینے کا دل چاہا جلدی سے موبائل تھام لیں، لیکن ہائے یہ انا !! تبھی ناک چڑھا کے نظریں پھیر گئی۔
” میں کیوں کروں بلاک، میرا کیا کام ان سے، جو کرنا ہے جا کے کرو، اتنے ٹائم اپنی آئی ڈی میں ایڈ کر کے رکھا ہے تو خاص ہی ہونگی، رکھو انہیں، مجھے کیا “
منہ بنا کے کہتی وہ جانے کے لئے مڑی تھی۔
“سوچ لو، پھر نہ کہنا شازم نے مجھے منایا ہی نہیں “
شازم کی بات پہ وہ رک کے اسے دیکھنے لگی ۔
” احسان نہیں چاہیئے مجھے ۔ “
” ارے اس میں احسان کیسا، یہ تو میری محبت ہے تمہارے لئے “
شازم پھر سے چہکا تھا۔
” انسان بھی بننا ہے تم نے کھبی کہ نہیں؟؟’
وہ پھر سے شازم کو گھورنے لگی۔
” میں بندر تھوڑی ہوں، جب دنیا میں آیا تھا تو بھی انسان ہی تھا “
شازم اپنی مسکراہٹ دباتا مصنوعی حیرت سے اسے دیکھتا کہنے لگا جبکہ اس نے غصے سے لب بھینچ لیے تھے ۔
” بہت ہی برے، بہت ہی بدتمیز، دھوکےباز، نہ قابل اعتماد انسان ہو تم “
شازم اب بھی حیرت سے منہ کھولے اسے دیکھنے لگا۔
” ایسے تو نہ کہو یار، دل ٹوٹ جاتا ہے یار، گھر میں سب سے چھوٹا ہوں میں، “
” میرب تم سے چھوٹی ہے “
آبگینے نے شاید اسے یاد دلایا تھا اور تبھی وہ بھی بتیسی کی نمائش کرنے لگا ۔
” دیکھو شازم میرا ٹائم ویسٹ نہیں کرو، میرا خود کا روزہ یے اور مجھے نیند بھی آ رہی ہے ۔۔ تم ناں یوں کرو اپنی فیسبک آئی ڈی لگا کے بیٹھ جاؤ، بیسٹ آف لک “
چبھتے لہجے میں کہتی وہ ساتھ ساتھ شازم کو گھور بھی رہی تھی ۔
” ارے آبگینے تم کب آئی “
میرب کی انٹری پہ شازم بدمزہ ہو کے پیچھے ہوا تھا۔
” آؤ مل لو تم بھی اپنی چہیتی سے “
” تم کیوں تندور پہ بیٹھ کے چپاتیاں بنا رہے ہو “
میرب اسے سر سے پاؤں تک دیکھتی آبگینے سے ملنے لگی۔ جبکہ آبگینے کی ہنسی بےساختہ تھی۔
” ہنس لو تم دونوں، ایک دن بیٹھ کے یاد کرو گی دونوں مجھے، جب میں واپس چلا جاؤں گا “
شازم ناراض ہوا تھا۔
” جانے سے پہلے دروازہ بند کر لینا “
آبگینے کے لقمہ دینے پہ وہ جل کے اسے گھورنے لگا۔
” شوخیاں مار لو تم ، میں جا رہا ہوں اپنی فیسبک آئی ڈی پہ، بائے “
اس کے پرسکون انداز میں کہنے پہ، آبگینے نے گھور کے اسے دیکھا تھا جبکہ وہ کندھے اچکاتا آگے بڑھ گیا تھا کہ اب سکون سے بیٹھ کے وہ آبگینے کے جلنے کا تماشا دیکھنے والا تھا۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
سیڑھیاں چڑھتی وہ گرنے لگی تھی جب بروقت ازمائر نے آگے بڑھ کے اسے بازوؤں میں تھاما تھا، اسے جلدی تھی اور تبھی بےدھیانی میں اس کا پاؤں پھسلا تھا، کچھ تو سحری نہ کرنے کہ وجہ سے بھوک کا بھی اثر تھا۔
” سماہر “
سماہر جو ٹھیک سے سنبھلی بھی نہیں تھی، اپنے قریب اس کی نرم سرگوشی پہ بدک کے ازمائر سے پیچھے ہوئی تھی اور نتیجتا اس کا پیر دوبارہ سے لڑکھڑا گیا تھا، وہ زمین بوس ہونے والی تھی جب ازمائر نے اس کا بازو دبوچ کے اسے اپنے قریب کیا تھا، اس سے الگ ہونے کی کوشش میں سماہر نے ریلنگ پہ ہاتھ رکھ کے، سہارا لینا چاہا تھا۔ ازمائر کو غصے سے گھورتی وہ پھر سے پیچھے ہوئی تھی۔
” تم ٹھیک ہو سماہر ؟”
ازمائر پریشان نظروں سے سماہر کے سرخ پڑتے چہرے کو دیکھ رہا تھا جو خود کو کچھ بھی سخت کہنے سے روک رہی تھی پھر بھی جب بولی تو لہجہ بےحد سخت تھا۔
” میں نے آپ سے مدد نہیں مانگی ازمائر “
وہ ہلکا سا مسکرا دیا تھا اور نظر بھر کے اسے دیکھنے لگا۔
” تمہیں ہر خسارے سے بچانا، میں اپنا فرض سمجھتا ہوں یہ “
اس کے چہرے پر سے نظریں نہ ہٹنے کی جیسے ضد کر چکی ہو۔
” مجھے سنبھلنا آتا ہے “
سماہر کا لہجہ سرد تھا، ازمائر کو یوں دیکھنے سے وہ لب بھینچ گئی تھی۔
” وہ تو نظر آ رہا ہے کہ کس کی خوشبو اوڑھ کے آ رہی ہو “
ازمائر کا لہجہ عجیب تھا، رات بھر کی وہ بےچینی جیسے اسے پھر سے اپنی لپیٹ میں لے رہی تھی اور اسے خود پتہ نہیں چلا کہ وہ کیا کہہ گیا ہے، سماہر اسے ناسمجھی سے دیکھنے لگی۔
” ایک بیٹی کا باپ بن کے تمہارے سامنے آیا، اپنی پہلی بیوی سے متعلق تمہیں دھوکے میں رکھا، پھر بھی کل پوری رات تم اس کے ساتھ رہی “
سماہر نے بمشکل خود پہ ضبط کیا تھا ورنہ دل چاہ رہا تھا زور سے اسے دھکا دے، کہ وہ نیچے گر جائے اور زبان ہی زخمی ہو جائے اس کی۔
” آپ حد سے بڑھ گیا ازمائر تو مجھے اپنی تمیز بھولنی پڑے گی “
” اور میری بےچینیاں ؟ سماہر میری تکلیف ؟؟ وہ کرب جو کل ساری رات مجھے اپنے وجود پہ محسوس ہوتی رہی کہ تم اس شخص کے پاس ہو، تمہیں میرے پاس ہونا چاہئے، تمہیں میرا ہونا چاہئے تھا اور تم ۔۔۔ “
وہ اس لمحے سماہر کو کوئی دماغی مریض لگ رہا تھا، خوف سا محسوس ہوا تھا ۔
” انف ۔۔۔ “
تیز اواز میں کہتی، اسے سر سے پاؤں تک دیکھتی وہ مڑی تھی۔
” سماہر پلیز ۔۔ “
اس نے پھر سے پکارا تھا لیکن وہ سر جھٹک کے جانے لگی جب ازمائر نے اس کی کلائی تھامنی چاہی، ابھی اس نے ہاتھ آگے بڑھایا ہی تھا جب اسے رکنا پڑا۔
” ازمائر ۔۔ “
دشاب کی اواز پہ وہ چونکا تھا اور گہرا سانس لیتا وہ مڑ کے اپنے باپ کو دیکھنے لگا ۔
” میرے روم میں آؤ، مجھے بات کرنی ہے تم سے “
دشاب کی بات کو نظرانداز کر کے اس نے نظریں پھیری تھی، سماہر اوپر جا چکی تھی اور تبھی لب بھینچے وہ پھر سے دشاب کو دیکھتا سیڑھیاں اترنے لگا، نگاہوں کا مرکز دشاب ہی تھا جبکہ وہ خود بےحد سنجیدہ اور سرد تاثرات کے ساتھ دشاب کے قریب آیا تھا۔
” مجھے اپنے روم جانا ہے “
کہہ کے وہ سر جھٹک کے لمبے ڈگ بھرتا اپنے کمرے کی طرف جانے لگا جبکہ سانس روکے دشاب حیرت سے اپنے بیٹے کے تیور دیکھتے رہے تھے۔ یہ وہی بیٹا ہے جس کی تعریف کرتے نہیں تھکتے تھے اور آج وہی بیٹا ازمائر ارتضی ملک چیلنجنگ نگاہوں سے اپنے باپ کو دیکھ رہا تھا، جس میں نہ محبت تھی مقابل کے لئے، نہ اپنائیت اور نہ کوئی احساس۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤
” کہاں تھی تم ؟؟”
عیشل کو لیے وہ گھر میں داخل ہوئی تھی جب اچانک تابعہ کی تیز اواز پہ اسے رکنا پڑا۔
” اور اسے کیوں لائی ہو یہاں اپنے ساتھ ؟؟”
اب بھی آواز اور لہجہ تیز تھا جبکہ عیشل ڈر کے سماہر سے لگی تھی۔
” مما عیشل بچی ہے ابھی، کیا کر رہی ہے آپ “
تابعہ اپنی بیٹی کو گھورنے لگی۔
” تم کہاں تھی کل رات سے ؟؟”
سماہر نے اس سوال پہ نظریں چرائی تھی۔
” میران سے ملنے گئی تھی ، دے دیا اس نے دھوکہ پھر سے تمہیں، بنا دی ہوگی اپنی طرف سے کوئی کہانی، اور تم نے یقین بھی کر لیا ہوگا تبھی اس کی بیٹی کو اٹھا کے میرے سر پہ بٹھانے لے آئی تم ،”
” مما پلیز، کیا ہو گیا ہے آپ کو “
سماہر کا لہجہ بےحد نرم تھا لیکن تابعہ کو غصے میں کہاں کچھ سنائی دینا تھا۔
” کیوں گئی تھی تم میران کے پاس ؟؟ کیوں؟”
تابعہ اب کے غرائی تھی
” وہ شخص مجھے ایک آنکھ نہیں بھاتا، صرف تمہارے لیے چپ رہی میں، لیکن اب نہیں، میران سے ملنے کیوں گئی تھی ۔ “
” مما اب آپ زیادتی کر رہی یے “
سماہر تاسف سے انہیں دیکھتی کہنے لگی جبکہ تابعہ نے کچھ کہنا چاہا ہی تھا جب وقاص ملک وہاں آئے تھے۔
” کیا مسئلہ ہے، کیوں لڑ رہی ہو اپنی بیٹی سے ؟”
تابعہ نے گھور کے وقاص ملک کو دیکھا تھا اور اسی لمحے عیشل، سماہر سے الگ ہو کے تیزی سے دوڑتی ہوئی وقاص ملک سے جا لگی تھی اور ان کی پشت پہ چھپنے لگی جبکہ تابعہ نے وہیں رک کے بےحد حیرت سے عیشل کو دیکھا تھا جو وقاص ملک کے ساتھ لگ کے، اس کے پیچھے ہی چھپ گئی تھی۔ کیوں؟؟؟
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
