Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 07

” ازمائر بیٹا ۔ “
وہ جو کب سے سر ہاتھوں پہ گرائے باہر لان میں بیٹھا ہوا تھا، جب دشاب وہاں آئے تھے۔ ان سے اپنے بیٹے کی یہ حالت نہیں دیکھی جا رہی تھی، دل پھٹنے کو تھا جیسے۔ گہرا سانس لیتا ازمائر ایک شکایت بھری نظر ان پہ ڈال کے اب دوسری طرف دیکھنے لگا جبکہ دشاب اس کے قریب ہی بیٹھ گئے تھے ۔
” ازمائر ۔۔ “
انہوں نے پھر سے پکارا تھا۔
” ڈیڈ پلیز ۔۔ مجھے اپ سے کوئی شکایت نہیں ہے “
ازمائر نے تیزی سے ان کی بات کاٹی تھی۔
” تو پھر ایسے کیوں بیٹھے ہو ؟”
دشاب نے اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھنا چاہا لیکن ازمائر ان سے فاصلے پہ ہو گیا تھا کہ ان کا ہاتھ ازمائر کے کندھے سے نیچے پھسلا تھا۔
” ازمائر ۔۔۔ “
” ڈیڈ پلیز ۔۔ میں کہہ رہا ہوں کہ مجھے آپ سے کوئی شکایت نہیں ہے ۔ پلیز “
ازمائر اپنے بالوں میں نوچنے والے انداز میں ہاتھ پھیرتا بولا تھا، دشاب لب بھینچ گئے تھے ۔
” سب ملا ، جو چاہا سب ملا، بن مانگے بھی بہت کچھ ملا لیکن نہیں ملا تو ۔۔۔۔ کاش سب نہ ملتا بس وہی مل جاتی، جس کی بہت بچپن سے خواہش رہی تھی۔ “
وہ بھرائی آواز میں کہہ رہا تھا، دشاب کا دل اس کے لئے ٹکڑے ہو رہا تھا لیکن یہ بھی سچ تھا کہ انہوں نے دونوں نام اپنے بھائی کے سامنے رکھے تھے اور سماہر نے میران کے لئے ہی رضامندی کا اظہار کیا تھا۔
” بیٹا میں کچھ نہ کر پایا، سماہر نے خود میران کو چنا ہے اپنے لئے، میں کچھ نہ کر پایا “
دشاب کا لہجہ دکھ سے بھرا ہوا تھا، ازمائر مڑ کے انہیں دیکھنے لگا۔ اس کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھی اور دشاب کا دل کٹ رہا تھا ۔
” میں نے آپ سے کب شکایت کی ڈیڈ؟؟”
دشاب لب کاٹنے لگے۔
” میں تو اپنا دکھ منا رہا ہوں، یکطرفہ محبت کا دکھ ۔ بس اور کچھ نہیں “
وہ رو رہا تھا اور دشاب نے آگے بڑھ کے اسے سمیٹنا چاہا تھا لیکن وہ رک گئے تھے،کہیں ازمائر انہیں دھتکار نہ دے، لیکن بلکل اچانک ازمائر نے ان کی گود میں اپنا سر رکھا تھا۔
” میری خواہش ادھوری رہ گئی، میری محبت ادھوری رہ گئی، میں ادھورا رہ گیا ڈیڈ، میں ادھورا رہ گیا “
وہ باپ کی گود میں سر رکھے رو رہا تھا اور دشاب نے اسے بازوؤں میں بھر کے سمیٹ لیا تھا، ان کی آنکھیں بھیگی ہوئی تھی جبکہ اپنے بالکونی میں کھڑا میران ارتضی ملک ان دونوں باپ بیٹے کو دیکھ رہا تھا۔ زندگی میں کھبی ایسا لمحہ نہیں آیا تھا کہ ایسے ہی، اسی انداز میں دشاب نے باپ بن کے، اپنے بیٹے کو ایسے سمیٹا ہو۔ اس نے لب بھینچ لیے تھے۔
” ازمائر ارتضی ملک تم سے ہر خوشی چھین لوں گا۔ ہر خواہش پہ ماتم کرو گیں آج سے تم “
اس نے دانت پیستے سوچا تھا ۔ دل میں بدلے اور جنگ کی آگ بھڑک رہی تھی جو شاید کھبی نہ بجھنے کے لئے تھی۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
” عجیب قسمت پائی ہے تم نے بھی “
مائزہ کے عجیب انداز پہ، سماہر نے چونک کے اسے دیکھا تھا جو عجیب طنزیہ نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔
” دو مرد تمہارے لئے ایکدوسرے کو مار دینے پہ تلے ہوئے ہیں۔ “
” یہ کیسے بدتمیزی سے بات کر رہی ہو تم مائزہ مجھ سے “
سماہر کو اس کا انداز غصہ دلا گیا تھا جبکہ مائزہ اس کے قریب گرنے والے انداز میں بیٹھی تھی ۔ آنکھیں سرخ ہو رہی تھی ۔
” نہیں، میں جاننا چاہتی ہوں کہ میری بہن نے ایسا کون سا منتر پڑھ کے پھونکا ہے جو دو بھائی آپس میں لڑ رہے ہیں “
” یہ کیا بکواس کر رہی ہو تم مائزہ “
سماہر اس کے قریب سے اٹھتی تیز لہجے میں بولی تھی جبکہ مائزہ نے اسے بازو سے پکڑ کے پھر سے کھینچ کے بٹھایا تھا اور اس کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی۔
” تم زیادہ خوبصورت ہو مجھ سے ؟؟ یا میں کم خوبصورت ہوں؟؟ ایک کے نام کی انگوٹھی تمہارے ہاتھ کی تیسری انگلی میں اترنے والی ہے، اس کے نام سے منسوب ہونے والی ہو، شاپنگ ہو رہی ہے ، تیاریاں ہو رہی ہے اور دوسرا شخص ماتم منا رہا ہے اپنی یکطرفہ محبت کا ۔ میں کہاں ہوں ان سب میں؟؟”
ساتھ ہی آنسو اس کی گال پہ پھسلا تھا۔ سماہر دھڑکتے دل کے ساتھ، حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی۔ دل گھبرا رہا تھا کہ کہیں مائزہ بھی تو نہیں چاہتی کہ ۔۔۔۔ اس سے آگے اس سے سوچا نہ گیا۔
” ک ۔۔۔ کیا کہہ رہی ہو ؟”
کانپتی آواز میں اس نے سوال کیا تھا۔
” ت ۔۔۔ تم تو نفرت کرتی تھی نا م ۔۔۔ میران ۔۔۔۔ “
مائزہ آنسو روکتے سر نفی میں ہلا رہی تھی اور پھر سماہر کو دیکھنے لگی ۔
” ازمائر ہی کیوں؟؟ میں کیوں نہیں؟؟ میں کیوں نظر نہیں آتی؟؟ کیا میں ماند پڑ جاتی ہوں تمہارے آگے؟؟ جو میں نظر نہیں آتی ؟؟”
سماہر گہرا سانس خارج کرتی مائزہ کو گلے لگا چکی تھی۔
” مائزہ ۔۔ “
جبکہ مائزہ خاموش آنسو بہانے لگی ۔
” کیا کہہ رہی ہو میری جان۔ تم کیوں ماند پڑو گی ؟؟ تم تو میری خوبصورت سی بہن ہو “
وہ کہہ رہی تھی،مائزہ خاموش ہی رہی ۔
” میں کسی کو دکھ نہیں دینا چاہتی مائزہ ۔ اس گھر کے ہر فرد کو خوش دیکھنا چاہتی ہوں، یہ سب میرے اپنے ہیں، میرے ہیں اور تم تو میری بہن ہو، میری پیاری بہن “
مائزہ کو خود سے الگ کر کے، سماہر نے اس کے دونوں ہاتھ تھام لیے تھے۔
” تم سے بےحد محبت کرتی ہوں میں، میرے لئے اولیت تم ہو مائزہ ۔ “
ہاتھ بڑھا کے اس نے مائزہ کے خاموش آنسو صاف کیے تھے، قریب ہو کے اس کے چہرے پہ پیار کیا تھا۔
” امی سے ذکر مت کرنا اس بات کا پلیز سماہر “
سماہر مسکرائی تھی۔
” بلکل بھی نہیں۔ تم بھی اب نہیں رونا پلیز ۔ تمہارے نصیب میں جو لکھا ہے ناں، وہی ہوگا انشا اللہ اور مجھے معلوم ہے تمہارا نصیب بہترین ہی ہے ۔ “
مائزہ بھی سر اثبات میں ہلاتی مسکرا دی تھی جبکہ سماہر گہرا سانس لیتی، کچھ سوچنے لگی۔ آئندہ آنے والے دنوں میں کیا ہونے والا ہے، یہ وہ خود بھی نہیں جانتی تھی۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
وہ دولہن بنی چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی، مائزہ کا ہاتھ تھامے لان میں چلتی اسٹیج کی طرف بڑھ رہی تھی۔ لان کو بےحد خوبصورت امتزاج کے ساتھ سجایا گیا تھا۔ وہاں موجود مہمانوں کا ہجوم رک کے اسے ہی دیکھ رہے تھے، آنکھوں میں حسرت تھی، محبت تھی، نفرت تھی، حسد تھی، جلن تھی۔ لیکن وہ سب سے بےنیاز اپنے میران ارتضی ملک کے لئے سجی، مائزہ کا ہاتھ تھامے سہج سہج قدم رکھتی، اسٹیج پہ موجود میران ارتضی ملک کی اور بڑھتی جا رہی تھی۔ آبگینے بھی مسکراتی اس کے قریب آئی تھی۔
” بہت خوبصورت لگ رہی ہو “
سرگوشی کرتی اس کا بازو تھام چکی تھی۔ میران ارتضی ملک مبہوت سا اس کے حسین سراپے کو دیکھتا صوفے سے اٹھ کھڑا ہوا تھا۔ وہ آج میران ارتضی ملک کے لئے سج سنور کے آ رہی تھی اور میران ارتضی ملک کا دل جیسے پل بھر کے لئے رک کے، پھر سے دھڑکنے لگا تھا۔ سماہر کے لئے جو دل ایک کونے میں خاموش سی محبت نہ جانے کب سے جنم لے رہی تھی، جس سے نظریں چرا کے وہ بس اسے جنگ کا نام دیے جا رہا تھا، آج اس محبت کو نام مل رہا تھا اور وہ سب بھلائے اس پل سماہر کی ان آنکھوں میں ڈوبنے کے لئے مکمل تیار تھا۔ اس ایک لمحے میں وہ خود کو مکمل سماہر کا سونپ چکا تھا۔

پل بھر میں تیرے
ہو جائیں گے
کوئی اشارہ تو کرو
تیرے بن کہاں
اور کدھر جائیں گے
ذرا سمجھا تو کرو ۔۔
سائے سے تیرے لپٹ جائیں گے
کوئی اشارہ تو کرو ۔۔

سماہر اسٹیج پہ پہنچ چکی تھی، میران نے ہاتھ آگے بڑھایا تھا اور سماہر مسکراتی آنکھوں میں حیا کے رنگ لیے، اسے دیکھتی اپنا نازک سا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دے چکی تھی۔ پل بھر کے لیے دونوں کی نظریں ملی تھی اور شرمگین مسکراہٹ کے ساتھ سماہر اسے ہی دیکھنے میں محو تھی جبکہ میران نے اس نئے روپ کو اپنی آنکھوں میں مکمل حفظ کر لیا تھا۔

چپکے سے نیندوں میں
آ جائیں گے
کوئی اشارہ تو کرو
راتوں سے تیری
گزر جائیں گے
کوئی اشارہ تو کرو

سماہر کو لیے وہ صوفے تک آیا تھا اور وہاں موجود مہمانوں نے تالیاں بجائی تھی۔ سماہر چونکی تھی جیسے کسی ٹرانس سے باہر نکلی ہو، تبھی لرزتی پلکیں گالوں پہ سایہ فگن ہوئی تھی اور میران نے بےحد دلچسپی سے اس دلکش منظر کو دیکھا تھا۔
” تمہیں کس نے یہ حق دیا سماہر وقاص ملک، کہ تم یوں سج سنور کے میران ارتضی ملک کے دل کی دنیا میں ہنگامہ برپا کر دو ؟”
وہ مبہم سرگوشی کر رہا تھا اور پلکیں جھکائے کھڑی سماہر کی دھڑکنیں پل بھر میں بےترتیب ہوئی تھی۔
” کتنے کیوٹ لگ رہے ہیں دونوں یار “
آبگینے مائزہ کا کندھا تھامے کہہ رہی تھی جبکہ مائزہ اس کے انداز پہ ہنس دی تھی۔
” دونوں ہمیشہ یونہی خوش رہیں۔۔ “
” اور ساتھ رہیں۔ “
آبگینے نے لقمہ دیا تھا اور مائزہ اثبات میں سر ہلاتی مسکرانے لگی۔ میران اس کے ہاتھ کی تیسری انگلی میں اپنے نام کی انگوٹھی پہنانے لگا تھا جب وقاص ملک نے قریب آ کے اسے روکا تھا اور اس کے کان میں سرگوشی کی تھی۔ سب ان دونوں کو ہی دیکھ رہے تھے، عارفین اور تابعہ پریشان نظروں سے انہیں دیکھ رہے تھے، عظمی کے چہرے پہ طنزیہ مسکراہٹ رینگ گئی تھی ۔
” عین وقت پہ بھائی صاحب کو ہوش آیا ہے کہ لڑکے کے اطوار ٹھیک نہیں ہے “
دشاب نے لب بھینچے اسے گھورا تھا اور خود اسٹیج کی طرف بڑھے تھے جہاں سے وقاص ملک اور میران نیچے اتر رہے تھے۔
” کیا بات ہے ؟؟”
وہ وقاص سے پوچھ رہے تھے ۔
” آتے ہیں ہم ابھی ۔ “
وقاص ملک کہہ کے میران کو لیے وہاں سے آگے بڑھے تھے جبکہ سماہر کی پریشان نظروں نے دور تک ان کا پیچھا کیا تھا اور وہ دونوں اندر جا چکے تھے۔
” کیا ہوا ہے ؟؟ ایسی کون سی بات ہو سکتی ہے ؟؟”
عارفین پریشانی سے پوچھ رہی تھی جبکہ تابعہ کندھے اچکا گئی ۔
” مجھے بھی نہیں معلوم “
” پچھتا رہے ہوگیں وقاص بھائی کہ شرابی سے ۔۔”
عظمی کہنے والی تھی لیکن دشاب کی گھوری نے اسے چپ کرایا اور وہ منہ بنا کے آنکھیں گھما گئی۔
” ایک بیٹے کی خوشی کے لئے دوسرے بیٹے کی قربانی دے کے باپ بن رہے ہیں “
فاصلہ کم ہونے کی وجہ سے، سماہر بھی اس کی بات سن چکی تھی اور دل کی بےچینی بڑھتی جا رہی تھی۔ جب وقاص ملک اور میران دونوں پھر سے آتے نظر آئے تھے اسے اور وہ سکون کا سانس لیتی ان کی اپنے قریب آتا دیکھ رہی تھی۔ وقاص تو اسٹیج سے نیچے ہی کھڑے رہے جبکہ میران اسٹیج پہ چڑھ کے، سماہر کے قریب آ کھڑا ہوا تھا۔ اس کا چہرہ مضطرب لگ رہا تھا جبکہ لب بھینچے ہوئے وہ کسی کو بھی دیکھنے سے گریز کر رہا تھا۔ سماہر دھڑکتے دل کے ساتھ اسے دیکھ رہی تھی جس کے چہرے پہ بےحد سنجیدگی تھی اور آنکھیں بےتاثر اور سرد تھی۔ مولوی اسٹیج کی طرف آ رہا تھا ۔ دشاب نے سوالیہ نظروں سے اپنے بھائی کو دیکھا تھا ۔
” نکاح ہونا چاہئے بچوں کا ۔ مجھے یہی بہتر فیصلہ لگا اور میران کا بھی یہی خیال ہے “
وقاص مسکرا کے کہہ رہے تھے جبکہ دشاب کے ماتھے پہ بل پڑے تھے۔
” مجھے بھی بتا سکتے تھے آپ یہ بات وقاص “
” بچوں کی خوشی ہے بس ۔ “
وقاص کندھے اچکا کے اپنے بھائی کے کندھے پہ ہاتھ رکھ کے مسکرا دیے تھے جبکہ دشاب اپنے بیٹے کو دیکھنے لگے جس کے چہرے پہ عجیب اضطراب تھا۔ کچھ تو ہوا تھا لیکن کیا ؟؟ وہ سوچتے رہ گئے ۔
نکاح کے بعد بھی وہ منتظر ہی رہی کہ کوئی انوکھی بات کہے گا، کوئی خوبصورت الفاظ کہے گا لیکن میران ارتضی ملک مکمل خاموش ہو چکا تھا۔ اس کے اندر جتنا شور اور طوفان مچا تھا، باہر سے اتنی ہی خاموشی تھی۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

میں شروع سے جانتا تھا کہ
میں نے تمہیں صرف کھونے
کے لیے پایا تھا، اور
میں نے تم سے محبت صرف
تمہیں یاد کرنے کے لیے کی تھی،
ہم اتفاق سے ملے تھے،
دو تیر مخالف سمتوں میں،
ملاقات کی طرح الوداعی بھی ناگزیر تھی…

وہ چلتا جا رہا تھا، اس خاموش سڑک پہ، رات کی تاریکی میں، ڈھول اڑاتے قدم اٹھ رہے تھے۔ اپنی ہی سوچوں میں گم وہ نہ جانے کہاں نکل آیا تھا، اسے تو احساس بھی نہیں تھا اس لمحے شاید، کہ وہ کہاں جا رہا ہے، اسے بس چلتے جانا تھا، اپنے وجود میں پھیلتی اس آگ کی تپش کو کم کرنے کی کوشش میں سرگرداں سا، لیکن تپش تھی کہ بڑھتی جا رہی تھی، چنگاریاں تھی کہ سلگتی جا رہی تھی اور جلن تھی کہ آنکھیں دھندلائے دے رہی تھی۔ سب ملا ، جو چاہا، سب پایا لیکن بس یہاں آ کے وہ ہار گیا۔ وہ اپنی محبت ہار گیا، اپنی دنیا ہار گیا، اپنا آپ ہار گیا۔ چلتے چلتے وہ اتنا تھک گیا تھا کہ گھٹنوں کے بل وہ سڑک کنارے گرا تھا۔ وہ رو رہا تھا، نہ چاہتے ہوئے بھی وہ کمزور انسان بنا رو رہا تھا ۔
” بات یہ نہیں ہے کہ ؛ زِندگی گُزارنے کے لِیے کوئی نہیں مِلتا ، مِل جاتا ہے ۔۔۔ مسئلہ صرف یہ ہے کہ ؛ جو دِل مانگتا ہے بس وہ ہی نہیں مِلتا”
وہ اپنے دل پہ ہاتھ رکھ کے، لب بھینچ گیا تھا اور پھر اپنا سینہ مسلنے لگا۔ بار بار یہ خیال کہ اس لمحے سماہر، اس کی پہلی یکطرفہ محبت، کسی اور کے نام سے منسوب ہو کے، اس کے لئے سج سنور کے، اس کے پہلو میں کھڑی مسکرا رہی ہے۔ یہ خیال اسے پاگل کر رہا تھا، اس کا چین و سکون برباد کر رہا تھا۔
” کیسے دیکھ پاؤں گا اسے؟؟ کیسے سامنا کر پاؤں گا؟؟ بےرنگ ہیں سب، کیوں نہیں سمجھتی تم ، تم بن سب بےنور ہیں ۔۔ زندگی زندگی نہیں بس ایک لاش بن کے رہ جائے گی جب تم ہی نہیں ہوگی ۔ کیوں نہیں سمجھتی تم مجھے؟؟ کیوں؟؟ سماہر کیوں؟؟ سماہر “
وہ چیخا تھا۔ آسمان کی طرف سر اٹھائے وہ فریاد بھری نظروں سے، آگے پیچھے چلتے بادلوں کو دیکھ رہا تھا اور اس ادھورے چاند پہ نظر رک گئی جو بادلوں کے ساتھ آنکھ مچولی میں مصروف تھی۔ ایسے لگ رہا تھا جیسے ابھی بارش ہوگی، ابھی بارش ہوگی اور اپنے ساتھ سب بہا لے جائے گی، سب کچھ، اسے بھی ۔
” یااللہ ۔ “
وہ پھر سے چیخا تھا ۔
” یا اللہ۔۔ کیوں؟؟ میرے اللہ کیوں؟؟ میں ہی کیوں؟؟ مجھے ہی کیوں چنا میرے اللہ؟؟ بےسکون ہوں میں، میرے اللہ بےسکون ہوں، سکون چاہئے مجھے ، یااللہ سکون دیں اپنے بندے ۔۔ سکون “
وہ وہیں گھٹنوں کے گرد بازو حائل کر کے رو رہا تھا اور اپنے رب سے فریاد کر رہا تھا۔۔ سکون مانگ رہا تھا ۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
بارشوں نے پھر سے راستہ ڈھونڈ لیا تھا، تبھی برس رہی تھی، وہ لان جہاں کچھ دیر پہلے مہمانوں کا ہجوم تھا اب وہ لان خالی پڑا تھا، وہ سجاوٹ بھی اب بارش میں بھیگ رہی تھی اور ہر طرف برستی بارش کا شور تھا لیکن شاید یہ شور اس کے اندر بھی برپا تھا تبھی تو میران کی دی ہوئی شال، جو ابھی تک اس کے پاس تھی، وہی شال اوڑھے وہ ستون سے ٹیک لگائے کھڑی بارش کو دیکھ رہی تھی۔ وہ مکمل میران ارتضی ملک کے نام سے منسوب ہو چکی تھی،منگنی کا فنکشن ان کے نکاح پہ ہی ختم ہوا تھا، اسے خوش ہونا چاہیے تھا، جس سے محبت کرتی رہی، جس کی چاہ رہی اسے ہمیشہ، وہ اب مکمل اس شخص کی ہو چکی تھی ۔اپنے من پسند مرد کی منکوحہ بن چکی تھی وہ ، لیکن پھر بھی وہ خوش کیوں نہیں ہے ؟؟ وہ خوش ہے تو مسکرا کیوں نہیں رہی؟؟ ہنس کیوں نہیں رہی؟؟ خوشی کیوں نہیں منا رہی ؟؟ آخر کیوں؟؟
کیا صرف اس لئے کہ عورت مرد کی محبت سے مکمل ہوتی ہے لیکن وہ تو محبت کرتا ہے مجھ سے ، تو ؟؟ شاید محبت کے اظہار سے، ہاں محبت کے اظہار سے۔ اور وہ خاموش تھا آج، بےحد خاموش!! آنکھیں بند کر کے اس نے گہرا سانس لے کے، خود کو اس اذیت سے آزاد کرنے کی کوشش کی تھی اور جب آنکھیں کھلی تو اپنے سامنے کھڑے میران ارتضی ملک کو دیکھنے لگی جو بارش میں بھیگتا اسے دیکھ رہا تھا، سماہر سانس روکے اسے دیکھ رہی تھی۔ وہ یہاں کیوں آیا تھا؟؟ کچھ کہنے ؟؟ کیا کہنے ؟؟ وہ سوچ رہی تھی لیکن میران کے چہرے پہ گہری سنجیدگی دیکھتی وہ لب کاٹنے لگی اور خود کو آنے والے لمحے کے لئے آمادہ کرنے لگی ۔

آنکھوں میں دیکھو ہماری
نئے خواب کچھ جی رہے ہیں
شاید خدا کی ہے مرضی
ہم اور تم مل رہے ہیں۔
چاہو گیں جب تم
قریب آئیں گے
کوئی اشارہ تو کرو
نہ چاہو گیں
تو چلے جائیں گے
کوئی اشارہ تو کرو !!

وہ بھاری قدم اٹھاتا اس کے بےحد قریب آ رکا تھا، سماہر اب بھی خاموش نگاہوں سے اسے اپنے بےحد قریب دیکھ رہی تھی، اس کے چہرے پہ بارش کی بوندیں موجود تھی اور آنکھوں میں نمی تھی اور ہلکی ہلکی سرخی مائل تھی اس کی آنکھیں۔

کھبی نہ کھبی تو
ختم ہی ہوجائے گی
اپنی سانسیں۔۔
تب تک میرا ساتھ دینا
جتنی بھی لمبی ہو راتیں
بدلو گے کروٹ
نظر آئیں گے
کوئی اشارہ تو کرو!!

میران نے قریب ہو کے، اس کے ماتھے پہ اپنے جلتے لب رکھے تھے اور سماہر نے آنکھیں موند کے، اس خوبصورت احساس کو خود میں جذب کیا تھا۔ میران کی ہلکی گنگناتی انگلیاں اس نے اپنی پشت پہ محسوس کیا تھا تبھی وہ خود میں سمٹتی میران کے سینے سے لگی تھی اور وہ جیسے اس نازک لمس سے سکون محسوس کر رہا تھا ۔
” نکاح مبارک ہو مسز سماہر میران ملک “
سماہر نے بوجھل پلکیں اٹھا کے اس کی آنکھوں میں دیکھا تھا جن میں اس لمحے وہ تمام احساس پنہاں تھے جو وہ ہمیشہ سے ان آنکھوں میں دیکھنے کی تمنا کرتی آ رہی تھی۔
” میری ویران سی، بےرنگ سی، عجیب سی زندگی میں تمہیں خوش آمدید کہتا ہوں۔ “
وہ کہہ رہا تھا جبکہ سماہر اب بھی مسکرا نہیں رہی تھی نہ پلکیں جھپک رہی تھی، وہ بس ان آنکھوں میں دیکھ رہی تھی کہ پلکیں جھپکنے پہ یہ خواب نہ ٹوٹ جائے، یہ آنکھیں پھر سے بےتاثر نہ ہو جائے۔ میران کے لب ہلکا سا مسکرائے تھے ۔
” میری شال تم پہ زیادہ جچ رہی ہے ویسے “
” میں ان آنکھوں میں دیکھتی رہنا چاہتی ہوں “
وہ بےبس سی، کھوئے کھوئے انداز میں کہہ رہی تھی جبکہ میران نے آبرو اچکائے تھے ۔
” کیوں؟؟”
” یہ آنکھیں آج بول رہی ہے، بات کر رہی ہے، مجھ سے بات کر رہی ہے، وہ احساس آج دیکھ پا رہی ہوں میں، جنہیں دیکھنے کی خواہش تھی، محبت، احساس، عشق، میں”
اسے دلچسپی سے دیکھتا میران ارتضی ملک زیر لب مسکرا رہا تھا، وہ ان لبوں کو دیکھ رہا تھا جو بار بار اس کی آنکھوں پہ بول رہے تھے۔ اس کا ہاتھ نرمی سے تھام کے وہ اپنے لبوں سے لگا چکا تھا اور سماہر پلکیں جھکا کے مسکرا دی تھی جبکہ میران اسے لیے بارش میں آیا تھا، سماہر کی مسکراہٹ لمحہ بھر میں کھلکھلاہٹ میں بدل گئی تھی۔ میران کی سنگت میں، وہ نکھر رہی تھی اور میران اسے محبت بھری نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ کیا وہ جنگ تھی ؟؟ کیا وہ بدلہ تھی؟؟ کیا وہ بس ضد تھی یا انتقام ؟؟ نہیں، وہ محبت تھی، محبت؟؟ محبت؟؟ وہ بار بار خود سے پوچھ رہا تھا۔ ہاں محبت!! تبھی تو ، تبھی تو وہ اتنا بڑا فیصلہ لے چکا ہے، سماہر کو کھونے کا خوف تھا، تبھی تو وہ۔۔۔ سماہر محبت ہے، ادائے عشق ہی تو ہے سماہر ۔ وہ پرسکون سا ہوا تھا اس لمحے اور اسے کمر سے تھام کے میران اسے اپنے قریب کر چکا تھا، سماہر اس کی شال میں موجود بھیگ رہی تھی، اس کے بھیگے چہرے پہ عجب کشش تھی، ان آنکھوں میں سرمستی سی تھی، میران کے محبت کی سرمستی اور وہ گلابی لب مسکرا رہے تھے جن سے کچھ دیر پہلے اعتراف محبت ادا ہو رہے تھے، وہ ایک ایک کر کے اس کے چہرے کے خدوخال کو اپنی آنکھوں میں حفظ کرتا گیا اور سماہر اسے دیکھے گئی، لمحے جیسے بیت رہے تھے لیکن یہاں پرواہ کسے تھی اور تب میران نے جھک کے اس کے لبوں پہ اپنے لب رکھ، گہرا سانس لیتے اس کے سانسوں کی خوشبو کو خود میں اتارا تھا۔ سماہر کی آنکھوں میں حیرانی آئی تھی، تبھی بوکھلا کے پیچھے ہوئی تھی اور نظریں چراتی، وہ دھڑکتے دل کے ساتھ ادھر ادھر دیکھنے لگی، میران زیر لب مسکراتا اسے دیکھ رہا تھا اور اس کی کلائی تھام کے اسے اپنی طرف کھینچا تھا کہ اس کی پشت میران کے سینے سے لگی تھی اور وہ نرمی سے اس کی گردن سے گیلے بال سائیڈ پہ کرتا اس کے کان میں سرگوشی کرنے لگا ۔
” تم اس لمحے میران ارتضی ملک کی سانسوں میں اتر چکی ہو، ہمیشہ کے لئے “
اس کے کان کی لو پہ اپنے لب رکھ گیا تھا اور سماہر بےترتیب ہوتی دھڑکنوں کے ساتھ اس سے الگ ہوئی تھی اور تیزی سے برآمدے کی طرف آئی تھی، وہاں رک کے اس نے بوجھل ہوتی آنکھوں سے میران کو دیکھا تھا جو بارش میں کھڑا بھیگ رہا تھا اور زیر لب مسکراتا وہ سماہر کی سانسیں منتشر کر گیا تھا ۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
” کیسے بچ نکلتا ہے وہ شخص تمہارے وار سے ؟ کیسے ؟”
یزدان شریفی چلایا تھا جبکہ اس کا خاص آدمی آفتاب لب بھینچے اسے دیکھ رہا تھا، یہ سچ ہی تھا کہ میران ارتضی ملک ہر بار بچ جاتا تھا ۔
” مجھے خود نہیں معلوم کہ وہ کیسے بچ نکلتا ہے، لاکھ کوشش کے بعد بھی وہ ہمارے وار سے بچ نکل جاتا ہے “
“کیونکہ تمہیں سب پاگل ہو اور مجھے بھی پاگل بنانے پہ تلے ہوئے ہو “
یزدان شریفی چلایا تھا
“جاؤ اور گولی چلاو اس پہ، ختم کرو اسے، مجھے سیاست میں اپنی ساکھ پھر سے چاہئے اور دشاب ارتضی ملک کا یہ بیٹا مجھے ہرانے پہ تلا ہوا ہے ۔ مجھے ہار تسلیم نہیں کرنی “
” ایک شخص ہے جو اپ کے دشمن کو ختم کرنے میں ہماری مدد کر سکتا ہے، جو میران سے اتنی ہی نفرت کرتا ہے جتنا آپ کرتے ہیں “
آفتاب کی بات پہ یزدان چونک کے اسے دیکھنے لگا ۔
” کون ہے وہ شخص؟؟”
” اس کا اپنا سوتیلا بھائی ازمائر ارتضی ملک “
آفتاب نے مسکراتے ہوئے نام لیا تھا جبکہ یزدان نے بھنویں اچکائی تھی۔
” وہ اپنے بھائی کے خلاف کیسے ہماری مدد کرے گا ۔ “
آفتاب مسکرانے لگا ۔
” سر جی، ازمائر اپنے بھائی میران کا بہت بڑا دشمن ہے اور خار کھاتا ہے اس سے۔ وہ اسے اپنے راستے اور ہمارے راستے سے ہٹانے میں ہماری مدد کرے گا “
یزدان کی آنکھوں میں چمک در آئی تھی ۔
” تو بات کرو اس سے ۔ تیر اب نشانے پہ لگنے والا ہے “
وہ شیطانی مسکراہٹ چہرے پہ سجائے اب کچھ سوچ رہا تھا جبکہ آفتاب نے اثبات میں سر ہلایا تھا ۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤