Rate this Novel
Episode 09
” یار کتنی بار یہ نیوز دیکھو گی تم اب “
مائزہ اس کے قریب صوفے پہ گرتی کہنے لگی جو کب سے بیٹھی ٹی وی پہ نظریں جمائے ہوئی تھی، جہاں نیوز میں بار بار آج کے پریس کانفرنس کی بات کر رہے تھے، جس میں میران ارتضی ملک بھی مدعو تھا اور سماہر ہر بار اسے دیکھنے پہ خود میں اسے جذب ہوتا محسوس کرتی، چہرے پہ ہلکی سی مسکراہٹ تھی ۔
” سماہر یار ۔ “
مائزہ نے اس کا کندھا ہلایا تھا جب سماہر اسے دیکھنے لگی ۔
” میں اس شخص کے عشق میں پاگل ہو چکی ہوں مائزہ ۔۔ can you feel me “
سماہر دھڑکتے دل کے ساتھ اپنی بہن کو دیکھتی کہنے لگی جبکہ مائزہ کی آنکھوں میں حیرت در آئی تھی، یہ تو جانتی تھی وہ کہ سماہر اس شخص سے محبت کرتی ہے اور پسند کرتی ہے لیکن اتنی شدت، یہ وہ آج اپنی بہن کے چہرے پہ دیکھ رہی تھی، وہ روم روم میران کے عشق میں تھی ۔
” اتنا پاگل پن بھی ٹھیک نہیں ہے سماہر۔ ہوش کرو یار “
وہ نفی میں سر ہلانے لگی ۔
” ہر بار ایسے لگتا جیسے میں پہلی بار سے بھی زیادہ میران سے عشق کرنے لگی ہوں، ہوش میں نہیں آنا چاہتی میں کھبی “
مائزہ اپنی بہن کو دیکھے گئی ۔
” ابھی ابھی ہماری ٹیم تک یہ نیوز پہنچی ہے کہ میران ارتضی ملک پہ فائرنگ ہوئی ہے اور ان کی حالت بہت کریٹیکل ہے “
اچانک ٹی وی پہ چلنے والی اس نیوز نے دونوں کو اپنی طرف متوجہ کیا تھا، سماہر ڈوبتے دل کے ساتھ، بےیقینی سے ٹی وی کو دیکھے گئی جہاں اینکر بار بار یہ نیوز بتا رہی تھی۔
” مما ۔۔۔ “
مائزہ نے اواز لگائی تھی لیکن سماہر خود میں تھی ہی کب، میران ارتضی ملک، جس کا نام موتیوں کے جیسے پرو پرو کے وہ اپنے نام کے ساتھ جوڑتی ہے، جس کا احساس اس کے سانس لینے کی وجہ ہے، وہ؟؟؟ بےاختیار اپنی جگہ سے کھڑی ہو کے وہ باہر کی طرف بھاگی تھی۔ مائزہ نے چونک کے اسے دیکھا تھا ۔
” سماہر رکو ۔ “
مائزہ نے اسے آواز دی تھی لیکن وہ ڈوبتے دل کے ساتھ، بےیقین خوفزدہ آنکھوں میں آنسو لیے، پورچ کی طرف جا رہی تھی جہاں میران اور وقاص کے گارڈز الرٹ کھڑے تھے ۔
” م ۔۔۔ میران کہاں ہے ؟”
وہ قریب آ کے ان میں سے کسی سے پوچھ رہی تھی۔
” میم وہ ۔۔۔ “
” میران کہاں ہے ؟؟”
وہ اس بار چیخی تھی، آواز میں کرب اور خوف پنہاں تھا، گارڈ نے آگے بڑھ کے اس کے لئے گاڑی کا دروازہ کھولا تھا اور کانپتے ہاتھوں اور لڑکھڑاتی ٹانگوں کے ساتھ گاڑی میں بیٹھی تھی۔ مائزہ بھی پہنچ گئی تھی۔
” سماہر رکو پلیز ۔۔ “
” م ۔۔۔ میران ، مائزہ میران “
وہ بکھرتے ہوئے بولی تھی اور مائزہ نم آنکھوں کے ساتھ اپنی بہن کو دیکھے گئی، ڈرائیور گاڑی آگے بڑھا لے گیا تھا جبکہ ایک گارڈ بھی اس کی حفاظت کے لئے گاڑی میں بیٹھا تھا کہ اس حادثے کے بعد سب الرٹ ہو گئے تھے اور وہ کوئی اور رسک نہیں لے سکتے تھے۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
” کتنی عجیب بات ہے، ہم نے کہا کہ ازمائر کو گولیاں لگی ہے اور وہ بےوقوف بنا کچھ سوچے بھاگا بھاگا چلا آیا اپنے موت کی طرف “
اس کے کانوں میں آفتاب کے الفاظ گونجے تھے، ہاسپٹل کوریڈور میں، دیوار سے ٹیک لگائے کھڑا وہ یہی سوچ رہا تھا کہ بدلے بدلے کی جنگ میں، وہ یہ تک بھول گیا کہ وہ اپنے ہی گھر کے فرد کو موت کے منہ میں دھکیل رہا ہے اور وہ جس بھائی کو موت کی کنویں تک پہنچا آیا تھا وہی بھائی اسے بچانے کا سوچ کے وہاں پہنچا تھا، کتنی عجیب بات ہے، اس نے اپنا سینہ مسلا تھا جب نظر دشاب پہ رکی تھی جو لب بھینچے، چہرے پہ پریشانی لیے، کوریڈور میں ٹہل رہے تھے ۔
‘ پوری زندگی وہ چھوٹا سا بچہ، وہ ننھا معصوم سا بچہ، جو دشاب ارتضی ملک کا بیٹا کہلاتا تھا، اپنے بابا کے پیچھے بھاگتا رہا اور وہ اس ننھے بچے سے دور بھاگتے رہے اور آج۔۔۔۔ آج ‘
انہوں نے گہرا سانس لیا تھا۔
” آج وہ بچہ سمجھداری کی دہلیز پہ قدم رکھتے ہی خود دور ہو گیا، اتنا دور کہ وہ جتنا آگے جانے کی کوشش کرتے ہیں، فاصلے اتنے ہی بڑھتے جاتے ہیں’
” دشاب چچا “
سماہر کی آواز پہ وہ چونکے تھے جو بھیگی آنکھوں کے ساتھ روتے ہوئے میران کا پوچھ رہی تھی۔
” میران کو کیا ہوا ہے ؟؟ کہاں ہے وہ ؟؟ کیا ہوا ہے ؟؟” دشاب نے اس کے سر پہ ہاتھ رکھ کے اسے اپنے سینے سے لگایا تھا۔ سماہر تو ان کی بھتیجی ہونے کے ساتھ ساتھ، اب تو ان کے بیٹے میران کی منکوحہ بھی تو تھی، اس کی امانت۔ جبکہ ازمائر نم آنکھوں سے اس بکھری بکھری سی لڑکی کو دیکھ رہا تھا جو پھوٹ پھوٹ کے رو رہی تھی، وہ میران کے لئے رو رہی تھی اور ان سب کی وجہ وہ خود تھا۔ ازمائر ارتضی ملک، جسے میران کو اپنے راستے سے ہٹانا تھا اور اب جب وہ موت اور زندگی کی جنگ لڑ رہا تھا تو وہ جشن بھی تو نہیں منا پا رہا تھا۔ وہ اس ایک لمحے کے پچھتاوے کے گہرے کنویں میں گر رہا تھا اس لمحے۔
” مجھے دیکھنا ہے میران کو، اسے بس ایک نظر دیکھنا ہے، پلیز دشاب چچا “
وہ روتے ہوئے کہہ رہی تھی جبکہ دشاب نفی میں سر ہلا رہے تھے۔
” انتظار کر لیتے ہیں بیٹا، ابھی آپ نہیں مل سکتی “
” کیوں نہیں، پلیز ایک بار پلیز “
دشاب کی نظر ازمائر کی طرف گئی تھی اور وہ لب بھینچے سیدھا ہو کے ان کے قریب آیا تھا۔
” سماہر پلیز ابھی نہیں مل سکتی ۔۔۔۔۔۔ “
اس نے سماہر کے کندھے پہ ہاتھ رکھا ہی تھا جب وہ بدک کے پیچھے ہو کے، اسے دھکا دے گئی تھی، آنکھوں میں غصہ اور سردمہری تھی اس لمحے اپنے مقابل کھڑے اس شخص کے لئے۔
” موت ہی مجھے آپ سے ملا سکتی ہے، میران کی موت ۔ یہی کہا تھا ناں، یہی الفاظ بولے تھے ناں، میران کو مار کے کیسا محسوس ہو رہا ہے اب ؟؟ گولیاں لگی ہے اسے، فائرنگ ہوئی ہے اس پہ اور مجھے اسے دیکھنے کی بھی اجازت نہیں ہے، میں بیوی ہوں اس کی اور پھر بھی مجھے روکا جا رہا ہے، آپ جیت گئے ازمائر، آپ جیت ہی گئے “
وہ چلا رہی تھی جبکہ ازمائر لب بھینچے خاموشی سے اسے سن رہا تھا، منان اور وقاص بھی وہیں آئے تھے۔ منان نے ایک شکایت بھری نظر ازمائر پہ ڈالی تھی اور پھر تاسف سے سر ہلاتے وہ نظریں پھیر گیا تھا، اسی کے سامنے ہی کال آئی تھی میران کو، کہ ازمائر کو گولیاں لگی ہے اور وہ اپنے ہی بھائی کو بچانے کی خاطر، خود کو موت کے منہ دھکیل گیا، لیکن میران کے ہوش میں آنے تک اسے خاموش رہنا تھا کیونکہ میران ہی یہ فیصلہ کرنے والا تھا کہ اسے ازمائر کو سزا دلوانی ہے یا خاموش رہنا ہے ۔ ارتسام پہ نظر پڑتے ہی وہ تیزی سے اس طرف بڑھی تھی۔
” ارتسام، پلیز میران کو بچا لو پلیز “
” میران آؤٹ آف ڈینجر ہے سو پلیز اب رونا نہیں ہے “
ارتسام نرمی سے کہنے لگا ۔
” تم سچ کہہ رہے ہو ؟؟ میران ٹھیک ہے ناں؟؟”
آنکھوں میں آنسو لیے وہ پوچھ رہی تھی جبکہ ارتسام اثبات میں سر ہلاتا اب دشاب کو دیکھنے لگا جو وقاص کے ساتھ اس کے قریب آئے تھے ۔
” میران اب خطرے سے باہر ہے، کچھ دیر میں انہیں روم میں شفٹ کر دیا جائے گا “
دشاب نے اس کا کندھا تھپتھپایا تھا ۔
” تھینک یو بیٹا “
” مجھے میران کو دیکھنا ہے “
وہ کتنی بےچین تھی، کس قدر بےچینی کا اظہار کر رہی تھی اور کچھ فاصلے پہ کھڑا ازمائر اس کے چہرے پہ رقم بےچینی کو زخمی نگاہوں سے دیکھ رہا تھا، وہ ازمائر کے لئے کوئی احساس نہیں رکھتی اور یہی بات ازمائر کو بےسکون کر رہی تھی، وہ جیسے جیتے جی مر رہا تھا۔ آنکھوں میں آئی نمی کو آنکھوں میں ہی دفن کرتا، وہ دھندلائی آنکھوں سے سماہر کو دیکھ رہا تھا۔
جبکہ ارتسام بچپن کی اس دوست کو دیکھتا مسکرا دیا تھا ۔
” میران کو کچھ نہیں ہو سکتا سماہر، کیونکہ اس کے ساتھ تم ہو اور وہ نیم بیہوشی میں بھی تمہارا ہی نام لے رہا تھا بار بار، تو اب خود سوچو تم کس قدر قریب ہو اس کے، کہ اسے کچھ ہونے نہیں دو گی “
ارتسام کے الفاظ پہ اس کی آنکھوں میں حیرت ابھری تھی جبکہ ارتسام سب پہ اجازت طلب نظر ڈال کے آگے بڑھا تھا۔ اور سماہر ان الفاظ کی بازگشت میں گم رہی تھی کئی لمحے۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
” تم دونوں دیورانیاں یہاں بیٹھ کے میری غیبت کرنے کی بجائے ہاسپٹل جاؤ، جہاں تمہارا بیٹا مر رہا ہے ایڑیاں رگڑ رگڑ کے”
تابعہ اور عارفین کے پاس آ کے، عظمی نے نخوت سے ناک چڑھاتے کہا تھا جبکہ عارفین کا ہاتھ ان کے دل پہ گیا تھا جو صبح سے ہی گھبرا رہا تھا جبکہ تابعہ لب بھینچے اسے دیکھنے لگی ۔
” عظمی یہ کون سا طریقہ ہے بات کرنے کا “
عظمی نے منہ بناتے آنکھیں گھمائی تھی ۔
” ٹھیک ہی تو کہہ رہی ہوں، شرابی اور عیاش انسان تو ویسے بھی دوسروں کی گولیوں کا نشانہ بن کے ہی مرتا ہے اور یہی اس شرابی کے ساتھ بھی ہوا ہے، فائرنگ ہوئی ہے اس پہ، گولیاں لگی ہے اسے “
عارفین نے دہل کے تابعہ کو دیکھا تھا۔
” یہ کیا کہہ رہی ہے، تابعہ پلیز دشاب کو کال کرو پلیز “
” ہاں ہاں، اب اسی بہانے بات کر لو تم بھی میرے شوہر سے”
عظمی پھر سے بولی تھی جبکہ کال ملاتی تابعہ نے گھور کے اسے دیکھا تھا۔
” عظمی چپ رہو تم پلیز “
عظمی منہ بنا کے رخ موڑ گئی ۔
” ہیلو دشاب بھائی، میران کہاں ہے ؟”
کال لگتے ہی تابعہ نے پوچھا تھا۔
” میران کے ساتھ ہم ہاسپٹل میں ہیں۔ “
دشاب کی آواز میں پریشانی کی جھلک تھی ۔
” ہاسپٹل۔۔۔ ؟؟”
تابعہ نے اتنا ہی کہا تھا اور عارفین نے ان کے ہاتھ سے موبائل لے کے اپنے کان سے لگایا تھا۔
” ک ۔۔۔ کہاں ہے میران ؟؟ کیا ہوا ہے میرے بچے کو ؟؟”
وہ روتے ہوئے کانپتی آواز میں پوچھنے لگی۔
” عارفین ۔۔۔ “
” کیا ہوا ہے میرے بیٹے کو ؟؟ کیا ہوا ہے ؟؟ کیسے لگی ہے گ ۔۔۔ گولیاں؟؟”
عارفین سے بات بھی نہیں ہو پا رہی تھی، وہ رو رہی تھی جب تابعہ نے موبائل اس کے ہاتھ سے لے کے کان سے لگایا تھا۔ عارفین تیزی سے اٹھ کے سیڑھیوں کی طرف بھاگی تھی۔
” آرام سے، وہ خود تو مر ہی جائے گا ساتھ میں تین چار مزید لوگوں کی جان بھی لے لے گا “
تابعہ نے گھور کے عظمی کو دیکھا تھا، کتنے آرام سے وہ ایک ماں کے دل کے ٹکڑے کر رہی تھی، اپنے الفاظ سے ۔
” عظمی شرم کر لینے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن بہتر ہے کہ شرم ہی کر لو “
اسے کہتی تابعہ اٹھ کے عارفین کے قریب آئی تھی اور اسے بازو سے تھاما تھا ۔
” عارفین آرام سے، ہم ہاسپٹل ہی جا رہے ہیں۔ کچھ نہیں ہوگا، دشاب بھائی کہہ رہے تھے کہ ڈاکٹرز اپنا کام کر رہے ہیں اور میران کی کنڈیشن بہتر ہو رہی ہے ۔ “
عارفین رونے لگی ۔
” میرا کوئی نہیں ہے تابعہ، میرے بچوں کے علاوہ میرا کوئی نہیں ہے “
” ہشششششش، بس ابھی چلتے ہیں ہم “
تابعہ انہیں لیے سیڑھیاں اترنے لگی جبکہ عظمی نے نخوت سے سر جھٹکا تھا کہ اسے میران کے زندہ ہونے یا مرنے میں کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
اس اوپن ریسٹورنٹ میں آتے ہی عاھل خان کو دور سے ہی شہباز خان نظر آیا تھا، جو اپنے موبائل پہ کچھ ٹائپ کرنے میں مصروف تھا، گہرا سانس لیتا لب بھینچے وہ آگے بڑھا تھا اور اس کی ٹیبل پہ پہنچ کے اپنی شہادت کی انگلی سے ناک ناک کیا تھا، شہباز نے نظر اٹھا کے اسے دیکھا ۔
” اسلام علیکم عاھل خان بیٹھئیے پلیز “
” ہممم “
سلام۔کا جواب دینا بھی ضروری نہیں سمجھا تھا اس نے شاید، تبھی ہنکارا بھرتے اکڑ کے اس کے سامنے والی سیٹ پہ بیٹھا تھا ۔
” کیوں ملنا تھا تمہیں مجھ سے ؟”
بیٹھتے ہی یہی سوال ہوا تھا جبکہ شہباز اس کے انداز پہ پرسوچ نظروں سے اسے دیکھتا مسکرایا تھا ۔
” میرا نام شہباز خان ہے اور میں ایک پولیس آفیسر ہوں “
” تو ؟؟”
عاھل خان کو اس کا خود کو تعارف کروانا شاید ایک آنکھ بھی نہیں بھایا تھا تبھی اکھڑے انداز میں جواب دیا تھا ۔
” تو یہ کہ، پریشے تمہاری ماموں زاد بہن، میری فیانسی ہے اور میں ان سے بےحد محبت بھی کرتا ہوں “
عاھل خان کے چہرے کا رنگ بدلا تھا اور اس نے لب بھینچ لیے تھے جسے شہباز نے کافی دلچسپی سے دیکھا تھا۔
” یہاں تم سے ملنے کا مقصد بھی یہی ہے کہ تمہیں یاد دلاؤں کہ آئندہ تمہیں ان کے کلینک تک جانے کی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی انہیں تنگ کرنے کی کوئی تک بنتی ہے۔ تم میرڈ ہو اور ویری سون ایک باپ بھی بننے والے ہو تو بہتر ہے اپنی نجی زندگی پہ توجہ دو اور پریشے کے تحفظ کے لئے میں کافی ہوں “
شہباز نے کافی کھلے الفاظ میں اسے اپنا ہدف بتایا تھا ۔
” تم یہ سب کہنے کے لئے یہاں تک آئے تھے اور میرا قیمتی وقت ضائع کیا ؟”-
عاھل خان بھڑکا تھا جبکہ شہباز زیر لب مسکراتا اپنا موبائل اٹھا کے کھڑا ہوا تھا، جانے سے پہلے اس کی آنکھوں میں جھانکا ضرور تھا۔
” میں خان ہوں، خان یعنی پٹھان اور خان ہو یا پٹھان، اس کی ایک ہی زبان ہوتی ہے اور دل بھی ایک ہی بار دیتا ہے، پریشے میری محبت اور میری عزت ہے اور شہباز خان کھبی نہ اپنے ہدف سے پیچھے ہٹتا ہے نہ اپنی عزت کا ہاتھ بیچ راستے چھوڑتا ہے، کیونکہ یہی ایک پٹھان کی شناخت ہے، آئندہ مجھے نظر بھر آیا کہ تم پریشے کو تنگ کر رہے ہو یا اس کے لئے مشکلیں پیدا کر رہے ہو تو تمہیں جیل کی ہوا کھانے ذرا لے جاؤں گا “
اپنی بات مکمل کر کے اسی کے انداز میں شہباز نے اہمی شہادت کی انگلی سے ٹیبل پہ ناک ناک کیا تھا اور عاھل خان نے لب بھینچے، سرخ پڑتے چہرے کے ساتھ اسے گھورا تھا جبکہ وہ سر جھٹک کے اس ریسٹورنٹ سے جا رہا تھا، وہ اچھا خاصا آئینہ دکھانے چکا تھا عاھل خان کو ۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
سانسوں کا تسلسل تو
ٹوٹ ہی جائے گا ایک دن
دھڑکنوں کی رفتار
تھم جائے گی ایک دن
تم سے ایک خواہش سی ہے
ساتھ نہ چھوڑنا میرا
آخری سانس کے ختم ہونے تک!!
بھیگی آنکھوں سے وہ ہاسپٹل بیڈ پہ لیٹے میران کو دیکھ رہی تھی، جس کی آنکھیں بند تھی اور چہرہ زرد پڑ چکا تھا۔ وہ بیڈ کے قریب ہی رکھی کرسی پہ بیٹھ کے اپنی آنکھوں کو اس کے دید سے پرسکون کر رہی تھی۔ ہاتھ بڑھا کے اس نے میران کے ماتھے پہ بکھرے بال سنوارے تھے، چہرہ اس کے چہرے کے قریب کر کے اس نے گہرا سانس لیا تھا ۔
” آپ نے پرامس کیا تھا میران، قسم دی تھی کہ اب آپ اپنا خیال رکھے گیں، پھر یہ کیا؟ اتنی جلدی بھول گئے ؟ وہ پرامس، وہ وعدہ، جانتے ہیں ناں میری ہر آتی جاتی سانس کی دوڑ آپ کی سانسوں سے بندھی ہے، آپ کو کچھ ہوا تو، یہ سانسیں بھی رک جائے گی، یہ وجود بھی مٹی کا ڈھیر بن جائے گا، “
وہ رک کے اس کے ہاتھ کی پشت پہ نرمی سے اپنا ہاتھ پھیرنے لگی اور آنکھیں اس کے چہرے پہ تھی۔
” آنکھیں کھولو نا پلیز میران، کب سے آنکھیں منتظر ہے، پلیز کھولو نا “
کچھ لمحوں بعد اپنی جگہ سے اٹھ کے وہ میران کے قریب بیڈ پہ بیٹھ کے، اس کے چہرے پہ جھکی تھی اور اس کے ماتھے پہ اپنے لب رکھے تھے۔ میران کو لگا جیسے سکون اس کی رگوں میں اتر رہا ہو، جیسے اس کا وجود کسی مہرباں آغوش میں بھر دیا جا چکا ہو ۔ وہ جو نہ جانے کب سے جاگ رہا تھا اور اسے سن رہا تھا اب اس لمس کے بعد مزید آنکھیں بند رکھنا اس کے لئے ناممکن ہی تھا، تبھی جب سماہر نرمی سے پیچھے ہو کے اس کی بند پلکوں کو دیکھ رہی تھی اور وہی لمحہ تھا جب میران کی آنکھیں کھلی تھی، سماہر کا دل دھک سے رہ گیا تھا، اب وہ نہ پیچھے ہٹ سکتی تھی اور نہ آگے جھک سکتی تھی، سانس روکے وہ میران کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی جبکہ میران نے نظر بھر کے اس کے چہرے اور پھر اس کے لبوں کو دیکھا تھا۔
” آپ جاگ رہے تھے ؟”
وہ حیران سی پوچھنے لگی۔
” اتنی قربت کے لئے تو میں بہت پہلے ہی خود کو گولیوں کا نشانہ بنا دیتا “
وہ بھاری بوجھل سرگوشی کر گیا تھا، سماہر کے لب نیم وا ہوئے تھے اور پھر ناراض نظروں سے میران کو دیکھنے لگی ۔
” ایسی باتیں کر کے سکون مل رہا ہے بہت ؟؟”
وہ ناراض ناراض سی پوچھ رہی تھی۔
” پاس آؤ سماہر “
اسے گہری نگاہوں سے دیکھتا وہ کہہ رہا تھا جبکہ سماہر کی پلکیں جھکی تھی ۔
” پاس ہی تو ہوں “
” اور پاس آؤ “
اس نے پھر سے سرگوشی کی تھی۔
” میران اپ کا زخم ۔۔۔ “
اس نے کہنا چاہا تھا جبکہ میران نے ہاتھ اٹھا کے شہادت کی انگلی اس کے لبوں پہ پھیری تھی۔
” ہشششششش، بےحد پاس آؤ “
سماہر اپنا چہرہ اس کے چہرے کے بےحد قریب لائی تھی کہ اسے اپنے دونوں ہاتھ میران کے سینے پہ رکھنے پڑے جبکہ اس کی نظروں سے چھپنے کے لئے شاید کوئی جائے پناہ اسے نہیں مل رہی تھی۔
” اتنے پاس کہ ان سانسوں کو محسوس کرتا رہوں میں “
” م ۔۔۔ میران اپ کو درد ۔۔۔ “
ہاتھ سے اس کی گردن کو سہلاتے وہ مدہوش سا سماہر کو اپنے بےحد قریب دیکھ رہا تھا۔
” ہشششششش، اعتراف محبت کر کے میرا اعتراف محبت نہیں سنو گی ؟”
اس کی زبان سے ادا ہوئے لفظوں کی مہک سماہر کو بھی مدہوش سا کر رہی تھی جیسے وہ ان الفاظ میں گم سی ہو رہی تھی۔
” تمہیں محبت سکھاتا ہوں ، یہاں بیٹھو ،
کچھ غزلیں سُناتا ہوں ، یہاں بیٹھو،
اچھا کیا کہا وہ چاند پسند ہے تم کو ؟
اچھا اُتار کے لاتا ہوں ، یہاں بیٹھو ،
اچھا تو ڈر کیوں رہی ہو ، میں ہوں نا
اچھا سینے سے لگاتا ہوں یہاں بیٹھو !”
وہ بےحد دلکش انداز میں سرگوشی کرتا کہہ رہا تھا، سماہر حیران سی اس کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی۔
” میں تمہیں قاتل نہیں بنانا چاہتا “
وہ زیر لب مسکراتے کہہ رہا تھا جبکہ سماہر کی آنکھوں میں حیرانی کے ساتھ ساتھ اب پریشانی کا بھی عنصر تھا۔
” کیا مطلب؟؟”
” ایسی قاتل اداؤں سے مجھے دیکھو گی تو میں قتل ہی ہو جاؤں گا “
میران اب ان آنکھوں میں ناراضگی کا عنصر دیکھ رہا تھا اور وہ ناراض سی میران سے الگ ہونا چاہتی تھی جب میران نے آگے بڑھ کے اس کے لبوں کو اپنے لبوں سے قید کر لیا تھا، سماہر تو جیسے سانس ہی روک گئی تھی، میران کا مبہم مدہوش سا لمس اس کی سانسیں مہکا رہا تھا۔ وہ آنکھیں موند گئی تھی جبکہ میران کے لمس اب اس کی شدتیں بھی محسوس ہو رہی تھی، اسے اپنی سانسیں مدھم ہوتی محسوس ہو رہی تھی اور جب میران نے نرمی سے اس کے لب آزاد کیے تو وہ گہرا سانس لیتی اپنی سانسیں بحال کرنے لگی، میران کی طرف نظر اٹھی اور پھر جھک گئی، گھبرا کے وہ بیڈ سے ہی اٹھنے لگی تھی جب میران نے اس کی کلائی تھام کے اسے روکا تھا ۔
” رک جاؤ ناں “
وہ کہہ رہا تھا، جب دروازے پہ دستک ہوئی تھی اور ساتھ ہی دشاب، میرب اور عارفین اندر آئے تھے، سماہر گھبرا کے اپنے بکھرے حلیے کو درست کرنے لگی، دل بھی تیزی سے دھڑک رہا تھا۔
” میران کیسی طبعیت ہے اب میرے بچے “
عارفین نے اس کے سر پہ ہاتھ پھیرا تھا، میرب بھی اپنے بھائی سے جا لگی تھی اور میران نے اس کے سر پہ ہاتھ رکھا تھا۔
” سماہر ٹھیک ہو بیٹا؟؟”
عارفین اسے دیکھنے لگی جبکہ وہ سرخ پڑتے چہرے کو جھکائے سر اثبات میں ہلا گئی تھی۔
” جی چچی جان “
دل الگ سے تیز رفتاری سے دھڑک رہا تھا، جیسے چوری پکڑی گئی ہو اور پھر اس نے کن انکھیوں سے میران کو دیکھا تھا جو زیر لب مسکراتا، دلچسپی سے اسے ہی دیکھ رہا تھا اور سماہر تیزی سے نظریں چرا کے صوفے پہ جا کے بیٹھ چکی تھی کہ یہ شخص جو جان سے عزیز تھا سماہر کو، اس کی بےباک نظروں سے چھپنے کے لئے کوئی جگہ بھی نہیں مل رہی تھی اسے۔
کھبی نہ کھبی تو
ختم ہی ہو جائے گی
اپنی سانسیں
تب تک میرا ساتھ دینا
جتنی بھی لمبی ہو راتیں
بدلو گیں کروٹ نظر آئیں گے
کوئی اشارہ تو کرو۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
