Rate this Novel
Episode 08
” میں کئی دنوں سے تم سے بات کرنے کا سوچ رہا تھا ارتسام، اب جب سب یہاں اکھٹا ہو تو بات سب کے سامنے ہوگی”
شاہ نواز خان ڈنر کرتے ہوئے ارتسام کے ساتھ ساتھ، سب پہ ایک نظر ڈال کے بولے تھے۔ امامہ نے ایک نظر ان پہ ڈال کے اپنے بیٹے کو دیکھنے لگی ۔
” ہم سوچ رہے تھے کہ اب تم ماشاءاللہ سے ڈاکٹر بن چکے ہو، ہاسپٹل میں اچھی پوسٹ پہ ہو تو کیوں نا ان ہمیں تمہاری شادی کی فکر کر لینی چاہئے “
ارتسام ہلکا سا مسکرا سر نفی میں ہلا گیا تھا۔
” بابا آپ قید کر لینا چاہتے ہیں مجھے اتنی جلدی سے ؟”
شاہ نواز بھی مسکرائے تھے۔
” آزاد گھومتے اچھے نہیں لگ رہے ہو لالا “
آبگینے چہکی تھی جس پہ ارتسام کی گھوری عروج پہ تھی جبکہ پریشے بھی مسکرانے لگی ۔
” میں زریاب خان کی بیٹی پلوشے کو تمہارے لئے مانگنا چاہتا ہوں اور کل ہی جائیں گے ہم وہاں ۔”
ارتسام پہ جیسے بم پھوڑا گیا تھا وہ لب بھینچے پھٹی نگاہوں سے انہیں دیکھ رہا تھا جبکہ آبگینے اور پریشے بھی مایوس ہو گئی تھی۔
” کیوں؟؟”
ارتسام کے سوال پہ وہ چونکے تھے۔
” کیا مطلب کیوں؟؟”
” پھر سے وہی کہانی دہرانی ہے آپ نے ؟؟ “
ارتسام سنجیدگی سے انہیں دیکھ رہا تھا۔
” کیا کہنا چاہ رہے ہو تم ارتسام ؟”
شاہ نواز کے ماتھے پہ بل پڑ گئے تھے ۔
” یہی کہ مجھ سے پوچھے بنا آپ پلوشے کو میرے لئے منتخب نہیں کر سکتے اور اگر آپ چاہتے ہیں کہ میں اپنی مرضی سے شادی کروں تو ہمارے گھر کے گیٹ سے نکل کے، دو قدم چل کے دشاب انکل سے میرب کا ہاتھ مانگیے میرے لئے “
” کیس بکواس ہے یہ ؟؟ وہ ہمارا خاندان نہیں ہے “
شاہ نواز گرجے تھے جس کا ارتسام پہ کوئی خاص اثر بھی نہیں ہوا تھا۔
” آپ کا خاندان نہیں ہے لیکن ایک معزز خاندان تو ہے “
” جو بھی ہے، ہم مجبور نہیں ہے کہ خاندان سے باہر لڑکی تلاش کریں جب ہمارے اپنے خاندان میں لڑکیاں موجود ہیں “
شاہ نواز بات ختم کرتے کہنے لگے ۔
” ہم مجبور نہیں ہے کہ اپنے ہی خاندان میں کسی ان چاہے انسان سے خود کو باندھ کے، اپنی خواہشات کا گلا گھونٹ دیں،اس سے تو بہتر ہے کہ اوپر پنکھے سے لٹک کے اپنا گلا گھونٹ دے”
ارتسام کو جو غصہ پریشے کے وقت پہ تھا، وہ غصہ اب ابھر کے باہر آ رہا تھا جبکہ شاہ نواز خان کے غصے کی بھی آخری حد ہوئی تھی۔
” ارتسام تم حد سے مت بڑھو، کیا بکواس کر رہے ہو تم سمجھ بھی رہے ہو کہ نہیں “
” جی اچھی طرح سے سمجھ رہا ہوں میں آپ کی بات، جس طرح سے پریشے کی زندگی برباد کرنے میں آپ کا اور آپ کے اس خاندان کا پورا ہاتھ ہے، ویسے ہی آپ چاہتے ہیں کہ میں اور آبگینے کیوں پیچھے رہے اس ریس میں، لیکن نہ مجھے آپ کے خاندان کی کوئی لڑکی چاہئے اور نہ اپ کے خاندان کا کوئی لڑکا اپنی بہنوں کے لئے۔ “
وہ بات کرتا اپنے جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا، پریشے لب کاٹتی اپنے بھائی کو دیکھ رہی تھی، جس سے شکایت رہی تھی اسے کہ وہ بھائی بن کے ساتھ نہ دے سکا اور آج وہ پریشے کے لئے بول رہا تھا جبکہ آبگینے اپنے لالا کا یہ روپ دیکھ رہی تھی اور اسے یقین تھا کہ اس کا لالا کھبی بھی اسے اکیلا نہیں چھوڑے گا ۔
” تو یہ بھی سن لو کہ اس خاندان کی لڑکی یہاں بیاہ کے نہیں آئے گی “
شاہ نواز کی بات پہ ارتسام جاتے جاتے رک کے مڑا تھا ۔
” تو میں کھبی شادی نہیں کروں گا “
امامہ پریشان نظروں سے دونوں باپ بیٹے کو دیکھ رہی تھی، ارتسام رکا نہیں تھا وہ چلا گیا تھا جبکہ پریشے بھی آہستگی سے اٹھ کے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی تھی، آبگینے سر جھکائے اپنے پلیٹ کو دیکھ رہی تھی جبکہ امامہ اپنے شوہر کو، جو غصے میں لب بھینچے میز پہ بچھے کھانے کو گھور رہے تھے اور پھر وہ اٹھ کھڑے ہوئے تھے اور باہر کی طرف جا رہے تھے۔
” آپ چپ ہی رہیے گا ہمیشہ مور جان “
آبگینے کی بات پہ وہ سر اٹھا کے اسے دیکھنے لگی ۔
” نہ اپنی بیٹی کے معاملے میں ایک لفظ کہا اور نہ اپنے بیٹے کا سا تھ دیں گی آپ۔ میں جانتی ہوں کہ یہاں سب اپنی اپنی جنگ خود لڑیں گے اور ایسے ہی ختم ہو جائیں گے “
آبگینے اٹھ کے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی تھی اور امامہ اپنی سوچوں میں گم وہاں اکیلی بیٹھی رہی تھی۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
” میران “
وہ جو عجلت میں اپنی گاڑی کی طرف بڑھ رہا تھا جب وقاص ملک کی آواز پہ رک کے انہیں دیکھنے لگا ۔
” جی ؟؟”
وقاص ملک اس کے قریب آئے تھے، ان کے چہرے پہ مسکراہٹ تھی اور آنکھوں میں مہربانی کا تاثر۔ جبکہ میران کا چہرہ سپاٹ ہی تھا۔
” کہاں جا رہے ہو بیٹا اتنی جلدی میں ؟”
” افس ۔ “
مختصر جواب دے کے وہ اب بھی سپاٹ نگاہوں سے انہیں دیکھ رہا تھا ۔
” اچھا ۔۔۔ اچھا ، میں سوچ رہا تھا کہ آج۔۔۔۔۔ “
لیکن ان کی بات ادھوری رہ گئی جب ان کی نظر دشاب پہ پڑی جو اسی طرف آ رہے تھے اور لب بھینچ گئے تھے ۔
” میران بیٹا “
دشاب نے قریب آ کے میران کو مخاطب کیا تھا جبکہ میران نے آبرو اچکا کے ان کی طرف دیکھا تھا ۔
” افس جا رہے ہو تو میں بھی چلتی ہوں تمہارے ساتھ “
دشاب ہلکا سا مسکرا کے کہہ رہے تھے، جس طرح سے میران نے کل رات فنکشن پہ بھی انہیں نظرانداز کیا تھا تب سے دل میں ایک چھبن سی تھی اور وہ میران سے بات کرنے کا بہانہ ڈھونڈ رہے تھے تاکہ ان کے درمیان جو خلش اور دوری ہے وہ صاف ہو ۔
” کیوں ؟؟ اس گھر میں گاڑیوں کی کمی ہے ؟؟”
میران بنا لحاظ کے سپاٹ لہجے میں بولا تھا جبکہ دشاب شرمندہ سے ہو گئے تھے۔
” مجھے اپنے بیٹے کے ساتھ جانا تھا “
وہ پھر بھی مسکرا رہے تھے جبکہ میران کی آنکھوں میں طنز کا عنصر ابھرا تھا ۔
” آپ اپنے دوسرے بیٹے کے ساتھ بھی جا سکتے ہیں۔ میں بزی ہوں “
یہ کہہ کے وہ دونوں کو سرد نگاہوں سے دیکھتا اپنی گاڑی کی طرف بڑھا تھا اور گاڑی میں بیٹھتا وہ گاڑی کا دروازہ زور سے بند کر گیا تھا۔ ان آنکھوں میں ایک ننھے سے بچے کا عکس ابھرا تھا جس نے اہنے ننھے ہاتھ دشاب کے مضبوط ہاتھ کی پشت پہ رکھا تھا۔
” پاپا ۔۔ “
دشاب جو ازمائر کی طرف متوجہ تھے، ایک نظر کرم اس ننھے بچے پہ بھی ڈال چکے تھے ۔
” جی بیٹا “
” پاپا چلیں نا، مجھے ائسکریم کھانی ہے “
وہ ننھی آنکھوں میں خواہش لیے اپنے باپ سے فرمائش کر رہا تھا اور اسی تیزی سے ازمائر نے ان کا دوسرا ہاتھ تھاما تھا ۔
” پاپا مجھے کروائیے ناں یہ ہوم ورک “
اور پھر ۔۔۔۔ اس مضبوط میران نے آنکھیں میچ لی تھی کرب سے، جب وہ الفاظ اس کے کانوں میں گونجے تھے ۔
” میران میں بزی ہوں ابھی “
وہ ننھا سا بچہ مایوس ہوا تھا اس لمحے اور یہ مضبوط شخص لب بھینچ کے اب سامنے گیٹ کو گھور رہا تھا، جھٹکے سے گاڑی آگے بڑھاتا وہ گاڑی کو گیٹ سے باہر لے گیا تھا۔ دشاب کی اداس آنکھوں نے اس گاڑی کا پیچھا کیا اور پھر پلٹ کے وقاص کو دیکھنے لگے جو اپنے ہی بھائی کو دیکھ رہے تھے ۔
” وقت وقت کی بات ہوتی ہے دشاب۔ وہ اب معصوم بچہ نہیں رہا، ایک مضبوط مرد بن چکا ہے “
اور دشاب نے اپنے بھائی سے نظریں چرائی تھی کہ دل پہ بھاری بوجھ سا آن پڑا تھا۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
سیڑھیوں سے اتر کے ارتسام ہاسپٹل جانے کے لئے تیار تھا، لب بھینچے کسی طرف بھی دیکھے بنا وہ باہر کی طرف جا رہا تھا جب پریشے اس کے پیچھے ائی تھی۔
” ارتسام ۔ “
وہ رک کے پریشے کو دیکھنے لگا جبکہ وہ مسکرانے کی کوشش کرنے لگا۔
” ناشتہ تیار ہے “
ارتسام نے ایک نظر ڈائننگ ٹیبل کی طرف دیکھا تھا اور پھر ہمیشہ کو۔
” مجھے دیر ہو رہی ہے “
” لیکن ناشتے کے بنا نہیں جا سکتے تم “
پریشے نے ضدی لہجے میں کہا تھا اور ارتسام نے گہرا سانس لیتے اپنی بہن کو دیکھا تھا ۔
” میں ٹھیک ہوں پریشے، سو پلیز میرے لئے کسی کو بھی پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے “
” میں کسی نہیں، بہن ہوں تمہاری ۔ جانتی ہوں کہ میں کافی ٹائم سے تمہارے ساتھ ٹھیک سے بات نہیں کر رہی تھی، ناراض تھی شاید، تم سے، خود سے لیکن ۔۔۔ “
ارتسام اسے ہی سنجیدگی سے دیکھ رہا تھا ۔
” میں منتظر تھا کہ تم خود اپنے لئے آواز اٹھاؤ، یہ نہیں ہے کہ مجھے اپنی بہنوں کی پرواہ نہیں ہے لیکن میں یہ بھی چاہتا ہوں کہ میری بہنیں خود اپنے لئے آواز اٹھائے، خود بات کریں، مجھے اس بات کی زیادہ خوشی ہوگی پریشے “
وہ نرمی سے کہہ رہا تھا، پریشے ہلکا سا مسکرائی تھی۔
” ابھی تو چلو ناشتہ کرو پلیز “
” ہممم “
وہ ہنکارا بھرتا پریشے کے ساتھ ڈائننگ ٹیبل کی طرف بڑھا تھا جہاں آبگینے کھڑی ان دونوں کی منتظر تھی اور ارتسام کے آتے ہی وہ جلدی سے ناشتہ رکھنے لگی ۔
” میں گرم گرم چائے بناتی ہوں اپنے لالا کے لئے “
ارتسام اسے دیکھتا مسکرا پڑا تھا، پریشے بھی مسکرا رہی تھی۔ ارتسام ان کا لاڈلا بھائی تھا اور ان کے لئے ارتسام عزیز بھی تھا۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
” وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا
اب اس کا روگ کیا منائے ہم”
سماہر پہ نظر پڑتے ہی ازمائر نے شعر جوڑنے کی کوشش کی تھی جبکہ سماہر نے بےحد چونک کے اسے دیکھا تھا جو آنکھوں میں بےبسی لیے اسے دیکھ رہا تھا۔ سماہر نے لب بھینچ لیے تھے ۔
” بدل سی گئی ہو بےحد۔ “
وہ پھر سے کہنے لگا ۔
” قسمت بھی کھبی کس حد تک دھوکہ دے جاتی ہے، کل تک منگنی کا کہہ رہے تھے اور اچانک سے نکاح، وہ جو خواہش سی تھی، ایک آس سی تھی کہ کھبی نہ کھبی تو مل ہی جاؤ گی لیکن وہ امید بھی دم توڑ گئی ۔ “
” ازمائر پلیز “
وہ سنجیدگی سے کہتی آگے بڑھی تھی۔
” اب تو موت ہی ملوا سکے شاید مجھے آپ سے یا آپ کو مجھ سے “
اس نے پھر سے کہا تھا اور سماہر رک کے اسے دیکھنے لگی جبکی وہ عجیب ہنسی ہنسنے لگا۔
” اگر کھبی میران مر گیا تو ۔۔ “
” آپ کی زبان سے یہ باتیں سن کے افسوس ہو رہا ہے ازمائر۔ ایک بھائی دوسرے بھائی کے موت کی دعا کر رہا ہے “
سماہر غصے سے اسے دیکھتی کہہ رہی تھی جبکہ وہ رکا تھا، سرخ ہوتی آنکھوں سے سماہر کو دیکھنے لگا ۔
” وہ میرا بھائی نہیں ہے “
” ازمائر اب آپ حد سے بڑھ رہے ہیں، میران سے میرا نکاح میری مرضی اور خوشی سے ہوا ہے، بہتر ہے آپ بھی یہ قبول کر لیں کہ اس گھر میں میران ارتضی ملک کی بیوی بن کے آ رہی ہوں “
سماہر لب بھینچے اسے سرد نگاہوں سے دیکھتی کہہ رہی تھی۔ ازمائر خاموش ہی رہا جبکہ سماہر رخ موڑ کے پورچ کی طرف بڑھی تھی جہاں گاڑی اس کی منتظر تھی۔
” میں چل سکتا ہوں اپ کے ساتھ یونیورسٹی تک ؟؟”
ازمائر کی اواز پہ اسنے گہرا سانس لیا تھا ۔
” نہیں۔ “
اور آگے بڑھی تھی، میرب بھی پہنچ چکی تھی اور عجیب نظروں سے اس نے ازمائر کو دیکھا تھا جبکہ اس نے لب بھینچے رخ موڑ لیا تھا۔ میرب کے چہرے پہ سایہ سا آ گزرا تھا لیکن سر جھٹک کے وہ بھی گاڑی کی طرف بڑھی تھی کہ ازمائر سے جو کھبی کھبی بھائی کا احساس سا محسوس ہوتا تھا وہ اب نہ رہا تھا شاید۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
” اوہ یار سماہر وہ اسمارٹ سا کزن تمہارا ، اس کے پولیٹیکس میں آنے کے بعد تو ہم دن رات نیوز دیکھتی رہتی تھی اور وہ ہم سے ہماری ہی فرینڈ چرا لے گیا، ہماری آنکھوں کے سامنے ہی “
یہ ثوبیہ تھی کینٹین میں بیٹھی آہ بھرتی کہہ رہی تھی جبکہ میرب ہنس پڑی تھی۔
” اور ہم بس دیکھتے رہ گئے “
علینا نے لقمہ دیا تھا ۔
” یار فنکشن میں کتنا ہینڈسم لگ رہا تھا مجھے تو ساری رات نیند نہیں ائی”
یہ طوبی تھی اور سماہر نے ایک دھپ رسید کی تھی ۔
” کچھ زیادہ ہو گیا۔ “
جبکہ باقی سب کھلکھلانے لگی اور میرب اترا کے انہیں دیکھ رہی تھی۔
” میری بھابی کو تنگ مت کرو “
” ہاں جب یہی بھابی ، اپنے بھابی ہونے کا فرض ادا کرتی اپنی ہی نند کو گھر سے باہر نکال دے گی، تب ہم پوچھے گیں۔ “
طوبی کی بات پہ سب کھلکھلائی تھی جبکہ سماہر نے میرب کو اپنے ساتھ لگایا تھا ۔
” ارے نہیں۔۔ ہم دونوں مل کے تم تینوں کو ہی نکال باہر کرے گیں اگر زیادہ بولی تو میرے میران کے بارے میں “
اور پھر ان سب کی ہوٹنگ شروع ہوئی تھی۔
” میرے میران ۔ “
” ارے واہ ۔۔۔ میران جی “
” نہ نہ ۔۔ میرے میران “
وہ تینوں کچھ بھی کہے جا رہی تھی جبکہ سماہر ہنس رہی تھی، گال گلابی ہو رہے تھے اور دل دھڑکنیں بڑھ رہی تھی کہ میران ارتضی ملک کا نام اپنے نام کے ساتھ سننا ہی بےحد دلفریب اور دلکش تھا، لبوں سے مسکراہٹ ہی ختم نہیں ہو رہی تھی۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
” میرا نام لو گیں وہ آجائے گا “
ازمائر کہہ رہا تھا جبکہ دوسری طرف یزدان کہنے لگا ۔
” سوچ لو، وہ تم سے نفرت کرتا ہے “
” نفرت کرتا ہے لیکن مجھے مشکل میں نہیں دیکھ سکتا “
ازمائر کے لب مسکرا رہے تھے اور وہی ہوا تھا، ابھی ابھی پریس کانفرنس کر کے وہ باہر نکلا تھا اور اپنی گاڑی میں بیٹھا تھا۔ جب اس کے موبائل پہ کال آنے لگی ۔
” ہیلو ۔ “
” پلیز جلدی آ جائیے، آپ کے بھائی ازمائر کو گولیاں لگی ہے “
کوئی کال پہ بےحد پریشانی سے کہہ رہا تھا اور ساتھ میں ایڈریس بھی بتایا تھا، میران نے لب بھینچ لیے تھے تبھی ڈرائیور کو اسی ایڈریس پر جانے کا کہا۔ شہر سے دور، سرک کنارے یہ کوئی ویران سی جگہ تھی، جہاں پہ ان کی گاڑی آ رکی تھی اور میران تیزی سے گاڑی سے باہر نکلا تھا، نظریں ازمائر کو ڈھونڈ رہی تھی، اس کا خاص آدمی منان بھی اس کے ساتھ ہی اترا تھا، ہاتھ میں ریوالور لیے وہ ادھر ادھر دیکھ رہا تھا۔
” سر یہاں تو کوئی بھی نہیں ہے “
وہ چاروں طرف نظریں دوڑاتا کہہ رہا تھا ۔
” کسی دشمن کی چال تو ۔۔۔۔ “
اس سے پہلے کہ منان کی بات پوری ہوتی، جب اچانک گولی چلی تھی اور میران کے کندھے پہ لگی تھی، اس سے پہلے وہ سنبھلتا، دوسری گولی بھی چلی تھی جو اس کی پیٹھ پہ لگی تھی،
” سائیں۔ “
منان چلایا تھا اور میران کو ہاتھ سے نیچے دھکا دیتے وہ گاڑی کی اوٹ میں ہو کے اسی طرف گولی چلانے لگا جہاں سے گولی چلی تھی۔ میران بےیقینی آنکھوں میں لیے زمین پہ گر پڑا تھا، درد برداشت کرتا اس کا چہرہ سرخ پڑ چکا تھا
کھبی نہ کھبی تو ختم ہو جائے گی
سانسیں یہ اپنی ۔۔
تب تک میرا ساتھ دینا
جتنی بھی لمبی ہو راتیں۔۔
آنکھوں میں دھندلا سا چہرہ آن ٹھہرا تھا، وہ جو کل رات ہی اس کے نام سے منسوب ہوئی تھی مکمل۔ دھندلائی آنکھوں سے وہ دیکھ رہا تھا کوئی اسے اٹھا رہا تھا، گاڑی میں لے جا رہا تھا، پھر سے پلکوں پہ وہی حسین چہرہ آن ٹھہرا تھا اور پھر اندھیرا سا چھا گیا تھا۔ اب وہاں کوئی نہیں تھا بس گھپ اندھیرا تھا ۔
” ہمارا آدمی زخمی ہوا ہے “
آفتاب پریشانی سے کہنے لگا ۔
” اور میران ؟؟”
یزدان کی گاڑی میں موجود ازمائر پوچھ رہا تھا ۔
” اسے گولیاں لگی ہے پیٹھ پہ “
آفتاب نے بتایا اور اسی لمحے ایک گاڑی ان کے قریب آ رکی تھی، ٹریفک جام کی وجہ سے گاڑی منتظر کھڑی رہ گئی تھی اور تب ازمائر نے دیکھا تھا۔ گاڑی کی پچھلی سیٹ پہ موجود وہ شخص میران ارتضی ملک تھا، جس کا سر منان کی گود میں تھا، اس کی شرٹ خون آلود تھی اور اس کہ آنکھیں بند تھی، چہرہ مٹی سے اٹا ہوا تھا۔
” کتنی عجیب بات ہے، ہم نے کہا کہ ازمائر کو گولیاں لگی ہے اور وہ بےوقوف بنا کچھ سوچے بھاگا بھاگا چلا آیا اپنے موت کی طرف “
آفتاب کہہ رہا تھا اور یزدان ہنس رہا تھا جبکہ ازمائر دھڑکتے دل کے ساتھ شیشے کے پار دیکھ رہا تھا جہاں ڈرائیور گاڑی سے باہر نکل کے ٹریفک پولیس سے راستہ کھلنے کو کہہ رہے تھا اور شاید میران ارتضی ملک کا نام لیا گیا تھا تبھی بنا کسی تاخیر کے راستہ صاف کر دیا گیا تھا اور ان کی گاڑی آگے بڑھی تھی۔
‘ اب تو موت ہی آپ کو مجھ سے ملا سکتی ہے سماہر ۔۔۔ میران کی موت ‘
اسے کہے الفاظ یاد آئے تھے جو اس نے صبح کہے تھے سماہر سے۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
