Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 15

” دیکھو لٹل گرل، مجھے بہت ضروری میٹنگ پہ جانا ہے
So stop disturbing me “
اپنی گاڑی کی طرف جاتا میران جھنجھلایا تھا جبکہ عیشل اب بھی معصوم اداس آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔
” آپ گندے والا پاپا ہے، مجھے آپ بہت گندے لگتے ہیں “
میران لب بھینچے اس چھوٹی لڑکی کو دیکھا تھا اور پھر گہرا سانس لیتا اس کی نظر سامنے گئی جہاں سماہر کھڑی ان دونوں کو سنجیدگی سے دیکھ رہی تھی اور وہیں عیشل نے بھی مڑ کے دیکھا تھا اور سماہر کو دیکھتی وہ تیزی سے اس کی طرف بھاگی تھی۔ اسے روکتا میران لب بھینچ گیا تھا جبکہ عیشل سماہر سے جا لگی تھی۔
” آپی مجھے یہ والے پاپا بلکل نہیں پسند، I hate him “
سماہر بنا جواب دیے اب بھی میران کو دیکھ رہی تھی جو آنکھوں میں بےبسی لیے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
” آپی۔۔۔ آپی “
عیشل اس کا ہاتھ کھینچ رہی تھی اور تبھی وہ عیشل کی طرف متوجہ ہوئی تھی۔
” مجھے مما کے پاس کے جائیے پلیز ، مجھے یاد آ رہی ہے مما کی، پلیز “
اس کی معصوم آنکھیں بھیگ رہی تھی، سماہر کا دل پسیج گیا تھا اس کے لئے، تبھی اس کے پاس نیچے گھٹنوں کے بل بیٹھ گئی تھی ۔
” کہاں ہے آپ کی مما ؟؟ پاپا سے کہیے وہ آپ کو لے جائیے گیں “
آفس کے لئے نکلتا وقاص ملک وہیں دیوار سے لگ کے کھڑا ہو گیا تھا کہ ان تینوں کو وقاص ملک نظر نہیں آ رہے تھے۔
” وہ برے پاپا ہے، مجھے نہیں جانا، مجھے آپ کے ساتھ جانا ہے “
سماہر نے ایک نظر میران کو دیکھا تھا جو اب بھی وہیں کھڑا سماہر کو ہی دیکھ رہا تھا اور پھر عیشل کو دیکھنے لگی۔
” کہاں ہے آپ کی مما ؟؟”
” اللہ کے پاس چلی گئی ہے “
عیشل کے اچانک کہنے پہ سماہر نے بےحد چونک کے اسے دیکھا تھا جو معصومیت بھری آنکھوں سے سماہر کو دیکھ رہی تھی۔ اس کی مما نہیں تھی، وہ تنہا تھی، اتنی چھوٹی معصوم سی بچی ۔۔۔
” آپ لے کے جائیے گی مجھے آپی ؟؟”
وہ پھر سے پوچھ رہی تھی جبکہ سماہر کا سر اثبات میں ہلا تھا، وہ کھڑی ہوئی تھی اور عیشل کا ہاتھ تھام کے وہ اندر خی طرف قدم بڑھانے لگی جبکہ وقاص ملک دوسرے دروازے سے ہوتے باہر نکلے تھے اور ان کا رخ میران ارتضی ملک تھا جو اپنی گاڑی کی طرف بڑھ رہا تھا جب وقاص ملک نے اس کا بازو پکڑ کے اسے اپنے ساتھ لان کے قدرے خاموش گوشے میں لایا تھا ۔ میران نے وقاص ملک کی اس حرکت کو خشمگین نگاہوں سے دیکھا اور اپنا بازو اس کی گرفت سے چھڑایا تھا۔
” یہ کیا حرکت کر رہے ہیں آپ؟؟”
لہجہ بےحد سرد تھا ۔
” یہی تو میں تم سے پوچھ رہا ہوں کہ یہ کیا حرکت کر رہے ہو تم میری بیٹی کے ساتھ ؟”
وقاص ملک دانت پیستے اس کی سپاٹ آنکھوں میں دیکھتے پوچھ رہے تھے جبکہ میران کے خوبرو چہرے پہ تمسخر ابھرا تھا۔
” کون سی بیٹی؟؟ پہلی، دوسری یا تیسری ؟؟”
وقاص ملک کے چہرے کا رنگ بدلا تھا۔
” میں نے تم سے کیا کہا تھا یاد ہے ؟؟”
” سب یاد ہے مجھے وقاص چچا جان، اور آپ کو بھی یاد ہوگا کہ میں نے آپ کے دھمکی کے جواب میں کیا کہا تھا کہ یہ سب میں صرف سماہر کے لئے قبول کر رہا ہوں کہ کہیں اس کا مان نہ ٹوٹے اپنے بابا جان پہ۔ “
وہ میران ارتضی ملک تھا، کسی بھی دباؤ میں نہ آنے والا، تبھی طنزیہ انداز میں وقاص ملک کو دیکھتا وہ کہہ رہا تھا۔
” میں تو باپ نہ ہوتے ہوئے بھی، اس کا ہاتھ تھام کے انہیں بیٹی کا مقام دے رہا ہوں اسے، آپ کا کیا ؟؟ باپ ہوتے ہوئے بھی منہ چھپاتے پھر رہے ہیں اپنی ہی بیٹی سے، کہیں آپ کی عیاشی کا بھید نہ کھول دے وہ چھوٹی سی بچی “
” میران ۔۔۔ “
وقاص ملک نے دانت پیسے تھے جبکہ میران دو قدم پیچھے ہوا تھا، سرد بےتاثر آنکھوں میں، طنز کا عنصر نمایاں تھا۔
” آج جو یہ حرکت کی ہے چچا جان، معاف کر دیتا آپ کی پہلی اور آخری غلطی جان کے، آئندہ کھبی ایسا ہوا تو مجھ سے کوئی امید مت رکھئیے گا “
اپنے بازو کی طرف اشارہ کرتا وہ اپنی بات کہتا اب لمبے ڈگ بھرتا اپنی گاڑی کی طرف جا رہا تھا جبکہ وقاص ملک مٹھیاں بھینچے میران ارتضی ملک کو جاتا دیکھ رہے تھے۔ اس کی چال میں آج بھی غرور تھا جبکہ وقاص ملک اپنی بچھائی جال میں خود پھنس چکے تھے شاید۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
” آپ کے وائف کی جان کو خطرہ ہے مسٹر عاھل، پلیز انہیں کسی سیف جگہ پہ منتقل کیجئیے “
ڈاکٹر مہ جبین نہایت سنجیدگی سے عاھل خان کو دیکھتی کہہ رہی تھی جبکہ وہ سوالیہ نظروں سے مہ جبین کو دیکھ رہا تھا۔
” کیسا خطرہ؟ ڈاکٹر یہ ہاسپٹل تو شہر کے بہترین ہاسپٹلز میں شمار ہوتا ہے “
مہ جبین نے گہرا سانس لیتے اسے دیکھا تھا۔
” یہ بات صحیح ہے مسٹر عاھل، اب میں آپ کو کیسے سمجھاؤں آپ کی مسز مار دینے کے آرڈرز ملے ہیں مجھے “
عاھل خان کی آنکھوں میں حیرت در آئی تھی۔
” کہنا کیا چاہتی ہے آپ؟؟”
اس نے لب بھینچے پوچھا تھا۔
” کس نے آرڈرز دیے ہیں آپ کو؟ میری ہی بیوی کو قتل کرنے کے ؟؟”
ماتھے پہ بل ڈالے وہ پوچھنے لگا ۔ ۔
” آپ کے والد صاحب زریاب خان “
مہ جبین کی بات پہ وہ جھٹکے سے اٹھ کھڑا ہوا تھا۔
” کیا بکواس کر رہی ہے آپ ڈاکٹر؟”
وہ چلایا تھا جبکہ مہ جبین بھی اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔
” بدقسمتی سے یہی سچ ہے مسٹر عاھل، کل رات ہی مجھے یہ آرڈرز ملے ہیں، لیکن آپ کو محسوس کرائے بنا میں نے سیکیورٹی بڑھائی ہے آپ کی مسز کے روم کے، لیکن مسٹر عاھل مجھے لگتا ہے کہ میں زیادہ دیر تک آپ سے نہیں چھپا کے رکھ سکتی، تبھی آپ کو بتا رہی ہوں کہ اپنی مسز کی حفاظت کریں، ان کی جان کو آپ ہی کے والد صاحب سے خطرہ ہے”
عاھل غم و حیرت کے صدمے میں تھا جبکہ مہ جبین پھر سے اپنی سیٹ پہ بیٹھ کے اسے دیکھنے لگی جو لب بھینچے کچھ سوچ رہا تھا۔
” میرے آغا جان ایسا کیوں کرے گیں؟؟ اروشے ان کی بہو ہے “
” یہ آپ جا کے اپنے آغا جان سے پوچھ لیجیے مسٹر عاھل “
مہ جبین نے مسکرا کے اسے جواب دیا تھا اور پھر نظریں جھکا کے کوئی فائل دیکھنے لگی۔
” اور اگر یہ بات جھوٹ ہوئی تو میں یہیں آ کے آپ کے خلاف کیس بھی کر سکتا ہوں “
عاھل خان کی بات پہ اس نے ایک نظر اسے دیکھا تھا ۔
” میں اپ کو آگاہ کر چکی ہوں باقی آپ خود بہتر سمجھتے ہیں کہ آپ اپنی بیوی کے تحفظ کے لئے کیا کر سکتے ہیں۔ ” ۔
سنجیدگی سے اپنی بات کہہ کے، مہ جبین پھر سے فائل دیکھنے لگی جبکہ عاھل خان اپنی جگہ سے اٹھ کے کمرے سے باہر نکلا تھا۔ زریاب خان یعنی اس کے اپنے آغا جان، اسی کے بیوی کی زندگی کو ختم کرنا چاہتے ہیں؟؟ کیوں؟؟ یہ ایسا سوال تھا جس کا جواب اسے جاننا تھا، اس کے قدم اروشے کے کمرے کی طرف بڑھ رہے تھے۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
” congratulations “
پیچھے سے بلکل اچانک اسے اپنے بازوؤں کے لپیٹ میں لیا گیا تھا اور کانوں سے ہشاش بشاش آواز ٹکرائی تھی اور اتنے عرصے میں پہلی بار میران ارتضی ملک کے لبوں کو مسکراہٹ نے چھوا تھا، وہ بھی اپنے ہی چھوٹے بھائی کے لئے، جو سوتیلا ہونے کے باوجود اسے بےحد عزیز تھا ۔
” بھائی “
” شازم “
مسکرا کے کہنے کی دیر تھی کہ شازم اس کے سامنے آتا، اس پہ تقریبا گرتا اس کے گلے لگ گیا تھا۔
” ایم سوری ہیپی فار یو، فائنلی آپ نے کچھ تو اچھا فیصلہ لیا اور میری حسین کزن سے نکاح کر لیا “
میران اب بھی مسکرا رہا تھا، اتنے تلخ رشتوں کے بیچ شازم بےحد محبت کرنے والا اور صاف دل کا مالک انسان تھا، میرب کی طرح بچپن سے ہی، وہ میران کے پیچھے پیچھے ہی بھاگتا رہا بھائی بھائی کہہ کے اور میران لب بھینچے ان دونوں سے خود کو دور رکھنے کی ہی کوشش کرتا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ، شازم کی محبت نے اس کے دل میں جگہ بنا ہی لی تھی۔
” تمہارا کیسے آنا ہوا ؟؟ آنے کیسے دیا ان لوگوں نے تمہیں “
میران کا انداز شرارتی تھا جبکہ شازم ہنسنے لگا ۔
” بور ہو گئے تھے وہ لوگ مجھ سے “
” بور ہو گئے تھے یا ساتھ والی کی یاد ستا رہی تھی “
میران نے آنکھوں کے اشارے سے آبگینے کے گھر کی طرف اشارہ کیا تھا اور شازم دل کھول کے ہنس پڑا تھا جبکہ اوپر آتی عظمی کے ماتھے پہ بل پڑ گئے تھے
” ماں تو میں ہوں تمہاری اور ہنسی مذاق دوسروں سے ہو رہا “
میران ایک ابرو اچکا کے اسے دیکھتا نظریں پھیر چکا تھا جبکہ شازم نے لب بھینچ لیے تھے اور تاسف سے اپنی ماں کو دیکھنے لگا۔ ایک نظر میران پہ ڈال کے وہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا تھا اور سیڑھیوں کی طرف بڑھتا وہ اپنی ماں کے قریب آیا تھا، عظمی کے چہرے پہ مسکراہٹ تھی جبکہ شازم کا چہرہ سنجیدہ تھا۔
” میرے اپنے بھائی کے پاس بیٹھنے میں کیا قباحت ہے آپ کو مما ؟”
” کیونکہ تم میرے بیٹے ہو، میں نے جنم دیا ہے تمہیں، تو تم اپنی ماں کی سنو، ایک شرابی، قماش اور عیاش انسان کسی کا بھائی نہیں ہو سکتا “
اس کے لہجے میں غرور اور نخوت تھا، شازم نے اسے بازو سے تھام کے ان کے کمرے کی طرف بڑھ گیا ۔
” مما پلیز، بہت غلط ہے یہ، اتنا ٹائم گزر گیا اور پھر بھی اپ وہی سوچتی ہے، کب چینج ہونگی آپ “
شازم نرمی سے ان سے بات کرنے کی کوشش کر رہا تھا جبکہ وہ بپھری تھی۔
” جادوگرنی ہے وہ عورت، سب پہ جادو ٹونہ کرتی ہے، تبھی ہر کوئی اس کی اولاد سے پیار کرتا ہے، چھین کے لے گیا ہے تمہارا وہ پیارا بھائی، تمہارے ہی بھائی سے اس کی محبت۔ برباد کر دیا ہے میرے بچے کو تمہارے اس پیارے بھائی نے اور اب اپنی ماں سے بھی تم زبان درازی کر رہے ہو “
شازم نے پہلے حیرت اور پھر بیزاری سے اپنی ماں کو دیکھا تھا۔
” مما پلیز ۔۔ مجھے انا ہی نہیں چاہئے تھا گھر “
جھنجھلاتے انداز میں کہتا وہ کمرے سے باہر نکلا تھا جبکہ عظمی لب بھینچ گئی۔ شازم ناراض ہو گیا تھا اس سے اور یہ سب اس عورت اور اس کے دو بچوں کی وجہ سے ہی ہو رہا تھا، یہی عظمی سوچ رہی تھی اس وقت۔ دشاب بھی آج کل ان کے آگے پیچھے گھوم رہے تھے جس سے وہ مزید تپ گئی تھی اور تبھی غصہ، نفرت اور حسد اس کے وجود کو اپنی لپیٹ میں لے رہے تھے۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
” ماشاءاللہ وقاص آپ کی بچی ہمیں بہت پسند آئی ہے “
افطاری کے بعد چائے کا دور چلا تو امان اخونزادہ مسکراتے ہوئے کہنے لگے جبکہ وقاص ملک مغرور مسکراہٹ چہرے پہ سجائے ایک نظر تابعہ پہ ڈالی تھی جو جزبز ہوتی رخ موڑ گئی تھی۔
” تھینک یو امان ۔ “
” لیکن میرا بیٹا تابش اخونزادہ بھی کسی سے کم نہیں ہے۔ یہ جان لو”
اور دونوں ہنس پڑے تھے، تابش بھی ہلکا سا مسکرا دیا تھا جبکہ یہاں مائزہ پورے کمرے کا چکر لگا رہی تھی ٹہلتے ہوئے اور سماہر بیڈ پہ بیٹھی اسے دیکھ رہی تھی۔ جس کے چہرے پہ اضطراب تھا، مائزہ اکثر اس سے سخت الفاظ میں بات کرتی لیکن وہ درگزر کر دیتی اور اب بھی وہ مائزہ کے لکھ دن پہلے کے سخت الفاظ بھول کے اسے نرم نگاہوں سے دیکھ رہی تھی۔
” مائزہ بیٹھ جاؤ، تھک جاؤ گی “
سماہر کی آواز پہ وہ رک کے اسے دیکھنے لگی۔
” کیا کہہ رہے ہوگیں وہ سب ؟؟”
” تم غلط کر رہی ہو خود کے ساتھ مائزہ، جب محبت ہی تم ازمائر سے کرتی ہو تو تابش کے لئے ہاں کیوں؟؟”
سماہر نرم لہجے میں اس سے سوال کرنے لگی جبکہ وہ شاید اپنے دھن میں تھی۔
” سماہر میں انہیں پسند آ تو گئی ہونگی ؟؟ ہے ناں؟؟ پیاری لگ رہی تھی میں ؟؟ “
سماہر اس کی آنکھوں میں نمی دیکھ چکی تھی، تبھی اپنی جگہ سے اٹھ کے اسکے قریب آ کے، اس کے کندھے پہ اپنا ہاتھ رکھا تھا۔
” مائزہ تم ٹھیک تو ہو ؟؟ دیکھو اگر تم نہیں چاہتی تو انکار کر دو، ازمائر بہت ۔۔۔”
” ہشششششش “
مائزہ نے اس کے لبوں پہ اپنا ہاتھ رکھ کے اسے چپ کرایا تھا۔
” میں یہی چاہتی ہوں کہ میری منگنی تابش سے ہو”
” مائزہ کیوں؟؟ جب تم چاہتی ہی ازمائر کو ہو تو ۔۔۔۔ “
سماہر نے کہنا چاہا لیکن مائزہ اپنا سر نفی میں ہلانے لگی اور اپنی آنکھوں کو دونوں ہاتھوں کی پشت سے صاف کرتی وہ سماہر کو دیکھنے لگی۔
” میں ناں، ازمائر کے پاس گئی تھی، اسے بتانے کہ میں کس قدر اسے چاہتی ہوں لیکن ۔۔۔ سماہر لیکن “
وہ اچانک سے پھوٹ پھوٹ کے رو دی، لفظ جیسے ٹوٹنے لگے، سماہر نے اسے بانہوں میں بھر لیا تھا۔
” مائزہ ؟؟ کیا ہوا ہے میری جان “
” س ۔۔۔ سماہر ، ازمائر بہت برا ہے، مجھے بہت ہرٹ کیا ہے اس نے، بہت بڑی طرح سے دھتکارا ہے اس نے مجھے، میری عزت نفس کو روندا ہے، وہ تو نفرت کے قابل بھی نہیں ہے اب، محبت تو اب بہت دور کی بات “
سماہر نے لب بھینچ لیے تھے، ازمائر نے جو بھی اس کی بہن کے ساتھ کیا ہے، سماہر کو اس کی امید نہیں تھی اس سے کھبی، سر جھٹک کے وہ مائزہ کو خود سے لگائے کھڑی رہی کہ یہ آنسو مائزہ کی زندگی کے آخری آنسو ہو، اس رات کے بعد سماہر کی یہی دعا تھی کہ مائزہ کو اپنی زندگی میں اتنی خوشیاں ملے کہ اس کے چہرے کی کھلکھلاہٹ کھبی ختم نہ ہو ۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
بےحد خاموش سے ہو گئے ہیں ہم
ایک چپ سی لگی ہے ۔۔
ایک سکوت سا آن ٹھہرا ہے۔۔
تمہاری دھیمی سرگوشیوں میں گم سے ہیں ہم

بکھرے بکھرے حلیے میں بھی وہ سماہر کو اپنی دھڑکنوں میں اترتا محسوس ہو رہا تھا، تبھی اس کی طرف بڑھتے قدم لمحہ بھر کے لئے لڑکھڑائے بھی تھے۔
” آپ مجھے کیسے جانتی ہے عیشل؟؟’
آج اس نے عیشل سے پوچھا تھا اور وہ مسکرائی تھی ۔
” آپ میری آپی ہے تبھی میں آپ کو جانتی ہوں “
” کس نے کہا یہ ؟؟ کہ میں آپ کی آپی ہوں؟؟ آپ کے پاپا نے ؟؟”
وہ جھجھکتے ہوئے سوال کر رہی تھی جبکہ وہ کندھے اچکا کے سماہر کو دیکھنے لگی ۔
” مما نے “
سماہر کی آنکھوں میں حیرت ابھری تھی۔
” مما کے پاس آپ کی بہت سے تصویریں تھی، اور مما نے کہا تھا کہ کوئی بھی پرابلم ہو، تم اپنی سماہر آپی کے پاس جانا، وہ تم سے پیار کرے گی اور تمہارا خیال رکھے گی ۔ “
عیشل کہہ رہی تھی جبکہ سماہر حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی تو کیا میران سب اسے بتا چکا تھا ؟؟ سماہر سے متعلق ؟؟
لب کاٹتی وہ میران کے قریب آ رکی تھی جو کسی احساس کے تحت بےحد چونک کے پیچھے دیکھنے لگا اور اس کی آنکھوں میں خوشگوار حیرت ابھری تھی لیکن سماہر سنجیدگی سے ہی اسے دیکھنے لگی بنا کوئی تاثر دیے۔ میران اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا تھا اور اسے دیکھنے لگا ۔
” ع ۔۔۔ عیشل کا دھیان رکھنا آپ کی ریسپانسیبلٹی ہے، وہ چھوٹی بچی ہے اور میں دیکھ رہی تھی کہ آپ اس سے غلط رویہ رکھے ہوئے تھے سو پلیز اس سے محبت سے بات کریں، ماں کے بعد بچوں کو اپنے ب ۔۔۔ بابا کے محبت کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے “
نظریں جھکائے وہ اپنے بات کہہ کے، جانے کے لئے مڑی تھی اور میران کو لگا جیسے خواب کی کیفیت ٹوٹ رہی ہے، جیسے تاریکی میں ڈوب رہا ہو اس کا پورا وجود۔ تبھی بلکل اچانک اسے آواز دی تھی۔
” سماہر”
دھڑکنیں منتشر ہوئی تھی اس ایک پکار پہ ہی، سانسیں بکھرنے لگی، تلاطم سا برپا ہوا تھا جیسے۔ آنکھیں موند کے اس آواز کو خود میں جذب کیا تھا اس نے۔
” رک سکتی ہو پلیز ؟؟”
پھر سے کہا گیا تھا اور سماہر گہرا سانس لیتی اس کی طرف مڑنے سے گریزاں تھی۔
” میں یہی بات کہنے آئی تھی، مجھے مزید کچھ نہیں کہنا “
” مجھے کہنا ہے “
اس کی پشت کو نظر بھر کے دیکھتا وہ بیتاب سا بولا تھا، سماہر نہ چاہتے ہوئے بھی مڑی تھی اور اسے دیکھنے لگی، ان آنکھوں میں خواہشات کی ایک دنیا آباد تھی، بےبسی تھی، محبت تھی، آس تھی، تڑپ تھی، انگڑائی کہتی بیتابیاں تھی، نہ جانے کیا کچھ تھا ان آنکھوں میں، ان لمحوں میں وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے، معنی خیز خاموشی میں، وہ لمحے جیسے بول رہے تھے، آگے بڑھ کے ایکدوسرے کو تھامنے کی خواہش، ایکدوسرے کو بانہوں میں بھر کے پرسکون ہونے کی تمنا، ایکدوسرے کی دھڑکنوں کو قریب سے سننے کی حسرت،

چاہو گیں تو قریب آئے گیں
کوئی اشارہ تو کرو

سماہر نے نظریں چرائی تھی اور پھر نظریں جھکی تھی، چہرے پہ سایہ فگن پلکوں کے جھالر لرزے تھے، نظریں اٹھی تھی اور پھر جھکی تھی۔ میران اس عمل کو بےحد دلچسپی سے دیکھ رہا تھا اور پھر سماہر مڑی تھی اور تیز تیز قدم اٹھاتی وہ لمحہ لمحہ میران ارتضی ملک سے دور جا رہی تھی جبکہ میران کے چہرے پہ ہلکی سی مسکراہٹ تھی، وہ آنکھوں میں تشنگی لیے اس کے سراپے کو دیکھ رہا تھا، یہاں تک کہ وہ آنکھوں سے اوجھل ہو گئی اور میران ارتضی ملک بےچین سا کرسی پہ ڈھے سا گیا، چاند بھی اکیلا تھا، اداس تھا، اس کی مانند ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” سماہر سے نکاح ایک ہی صورت میں ہو سکتی ہے تمہاری میران، اگر تم میری بیٹی کو اپنی بیٹی بنا لو”
وقاص ملک کی بات پہ میران نے ماتھے پہ بل ڈالے انہیں دیکھا تھا، باہر سماہر اس کی منتظر تھی، اور سب کئ بیچ سے میران کو لے کے وقاص ملک یہاں لایا تھا اور اب یہ کیا کہہ رہا تھا۔
” منگنی کی بجائے نکاح ہی ہوگا ابھی، بس تمہیں میرا ساتھ دینا ہوگا اور میری بات ماننی ہوگی ۔۔ “
” اور اگر نہ مانوں تو ؟؟”
میران نے آبرو اچکا کے سرد لہجے میں پوچھا تھا تو وقاص ملک کے چہرے پہ زہر خند مسکراہٹ پھیلی تھی۔
” تو میں باہر جا کے ہنگامہ کر دوں گا اور اس خوشیوں بھری محفل کو ماتم کناں بنا دوں گا”
میران کی آنکھوں میں حیرت ابھری تھی جبکہ وقاص ملک نے کندھے اچکائے تھے۔
” مجھے فرق نہیں پڑتا کہ سماہر کس قدر ٹوٹتی ہے، اس کی عزت سب کے سامنے کیسے دو کوڑی کی ہوتی ہے یا پھر میری عزت کی کتنی دھجیاں اڑتی ہے، عین وقت پہ ازمائر آگے بڑھے گا اور سماہر کا ہاتھ تھام لے گا اور تم ۔۔۔۔ “
میران نے سختی سے لب بھینچ لیے تھے جبکہ وقاص ملک مسکراتی آنکھوں سے اسے دیکھ رہے تھے ۔ میران ارتضی ملک کو سماہر اس دنیا کی ہر چیز سے عزیز تر تھی تو کیسے وہ سماہر کو خود سے دور کر سکتا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گہرا سانس لیتے ماضی کے ان کربناک لمحوں سے میران نے خود کو باہر نکالا تھا کہ جن لمحوں میں اسے سماہر کے نام پہ بلیک میل کرنے کی کوشش کی، وہ بھی خود سماہر کے بابا، اس نے پھر ایک نظر اس راستے پہ ڈالی تھی جہاں سے سماہر گزر کے گئی تھی اور پھر گہرا سانس لیتا، کرسی کی پشت پہ اپنا سر رکھتا وہ گہرا سانس لے چکا تھا۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤