Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 02

وہ لان کے گوشے میں بیٹھے ہوئے اپنی سوچوں میں گم تھے جب ٹرے ہاتھ میں لیے عارفین اسی طرف آئی تھی، جس میں چائے اور سموسے رکھے ہوئے تھے ، دشاب کی نظر ان کی طرف اٹھی اور وہیں ٹھہر گئی جبکہ عارفین ان کی طرف دیکھے بنا ٹرے ٹیبل پہ رکھ کے سیدھی ہو کے مڑ کے جانے لگی تھی جب دشاب نے ان کا ہاتھ تھام کے انہیں جانے سے روکا تھا ، عارفین ان کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دیکھنے لگی ۔
” میں سموسے بنا رہی تھی۔ “
“بیٹھو۔ “
ان کا ہاتھ نرمی سے کھینچ کے انہیں کرسی پہ بٹھایا تھا اور وہ بھی بیٹھ چکی تھی۔
” دونوں شام کی چائے مل کے پیتے ہیں ایک ہی کپ میں اور یہ سموسے تمہارے ہاتھ کے بنے ہوئے میرے تو فیورٹ ہے “
وہ سموسے کا بائٹ لیتے کہنے لگے جبکہ عارفین نے صرف مسکرانے پہ اکتفا کیا ۔ وہ چائے کا سپ لیتے کپ ان کی طرف بڑھا رہے تھے جبکہ وہ ہچکچا رہی تھی۔
” آپ کے لئے لائی ہوں چائے ، آپ پی لیں، میں بعد میں پی لوں گی “
” کہا ناں، مل کے پیے گیں شام کی چائے ایک ہی کپ میں “
وہ مسکرا کے عارفین کی آنکھوں میں دیکھتے کہہ رہے تھے جبکہ عارفین نظریں چرا کے ہچکچاتی ہوئی چائے کا کپ ان کے ہاتھ سے لے کے لبوں سے لگا چکی تھی ۔ دشاب نے ہاتھ بڑھا کے ان کے چہرے پہ آئے بال ان کے کان کے پیچھے کرنے لگے ، عارفین نے ہچکچا کے چائے کا کپ ٹیبل پہ رکھ دیا تھا جبکہ وہ گہری نظروں سے انہیں دیکھ رہے تھے ، ان کا ہاتھ دشاب اپنے ہاتھوں میں لے کے زیر لب مسکرا رہے تھے ۔
” مجھ سے بےحد دور رہنے کی وجہ ؟؟”
عارفین نے چونک کے انہیں دیکھا تھا اور پھر سر جھٹکا تھا ۔
” دوریاں تو بہت پہلے کی ہم میں آن ٹھہری ہے ۔ “
” اور تم نے کھبی کوشش بھی نہیں کی ان دوریوں کو ختم کرنے کی؟ “
عارفین کے چہرے پہ زخمی مسکراہٹ آ ٹھہری تھی ۔
” سموسے کیسے بنے ہیں؟”
” میران مکمل میرا پرتو بن چکا ہے ، ضدی اور غصے کا تیز، لیکن اس کی آنکھیں تم پہ گئی ہے ۔ ہمیشہ بولتی ہوئی آنکھیں۔ “
دشاب بتا رہے تھے جبکہ عارفین مسکرانے لگی ۔
” آپ کب سے آنکھیں پڑھنے لگیں؟؟”
” طنز کر رہی ہو مجھ پہ “
دشاب نے شاکی نظروں سے انہیں دیکھا تھا۔
” نہیں، آپ جانتے ہیں مجھے کہ میں ایسی باتیں نہیں کرتی ۔ “
عارفین نفی میں سر ہلاتی آسمان کو دیکھنے لگی ۔ بارش تو رک چکی تھی لیکن ابھی بھی ہلکے ہلکے بادل چھائے ہوئے تھے ۔ ہلکی ہلکی چلتی ہوائیں موڈ کو خوشگوار کر رہی تھی، عارفین کے چہرے پہ ہلکی مسکراہٹ بکھری تھی جسے دشاب نے نظر بھر کے دیکھا تھا ۔ کتنا بدل گیا تھا سب ، کتنے بدل گئے تھے وہ دونوں۔ ان کی آنکھوں میں وہ لمحہ آن ٹھہرا جب ایسے ننھی برستی بوندوں میں بھیگتی عارفین مسکرا رہی تھی اور دشاب انہیں بانہوں میں بھرے بےحد محویت سے دیکھ رہے تھے ۔ ان لبوں پہ وہ بارش کی ننھی بوندیں جیسے انہیں بہکا رہی تھی ، تبھی آنکھیں موند کے وہ ان بھیگے لبوں سے وہ ننھی بوندیں چننے لگے تھے ۔
” ارے واہ ۔ واؤ “
اچانک بھاری اواز پہ ان کی سوچوں کا تسلسل ٹوٹا تھا ، عارفین بھی اپنا ہاتھ ان کے ہاتھ سے چھڑا چکی تھی جبکہ تنبیہی نظروں سے اپنے بیٹے کو دیکھنے لگی لیکن وہ میران ہی کیا جس پہ کسی بات کا اثر ہو ۔
” مما یہ صحیح ہے کہ یہاں بیٹھ کے آپ اپنے شوہر نامدار سے باتیں کر لیں۔ “
عارفین اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی تھی ۔
” میران بیٹا۔ ۔۔ “
” وہیں رک جائیے پلیز ۔ “
میران نے چھبتے لہجے میں کہا تھا اور عارفین وہیں رک گئی تھی لیکن اپنے بیٹے کی آنکھوں میں شکایتوں کی رقم تحریر دیکھ رہی تھی ۔
” میران تمہاری مما ہے ۔۔ “
دشاب کے کہنے پہ میران نے لب بھینچے انہیں دیکھا تھا۔
” آپ سے پوچھا میں نے ۔ “
” میران بابا ہے تمہارے۔۔۔ “
اب کے عارفین نے کہا جبکہ میران کچھ دیر شاکی نظروں سے انہیں دیکھتا رہا اور پھر سر جھٹک کے وہ وہاں سے گیٹ کی طرف جانے لگا ۔ عارفین کی آنکھیں نم ہوئی تھی اپنے بیٹے کو یوں جاتا دیکھ کے ، جب دشاب نے ان کے کندھے پہ ہاتھ رکھا تھا۔
” عارفین ۔ “
آنسو ان کی گال پہ پھسلا تھا لیکن دشاب کی طرف وہ نہیں پلٹی تھی جبکہ اپنے آنسو ہاتھ کی ہتھیلی سے صاف کرتی تیزی گھر کی طرف بڑھی تھی اور دشاب ارتضی ملک دونوں ہاتھ پیچھے باندھ کے انہیں جاتا دیکھتے رہے ۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

” اے پاگل پٹھان “
میرب کی آواز پہ ٹیرس میں بیٹھے ارتسام نے گھور کے اسے دیکھا تھا جو اپنے ٹیرس پہ کھڑی اسے مسکراتے ہوئے دیکھ رہی تھی۔
” ارے او خانہ خراب ۔ “
اپنی بات کہہ وہ ہنسنے لگی۔
” جی فرمائیے ملکہ عالیہ “
دانت پیستے بظاہر مسکراتے ہوئے کہہ رہا تھا ۔
” اتنی عزت ؟”
میرب بتیسی کی نمائش کرتی کہنے لگی ۔
” کیوں راس نہیں آ رہی عزت تمہیں پاگلے “
ارتسام ٹانگ پہ ٹانگ رکھ کے کرسی سمیت اس کی طرف گھوما تھا ۔
” نہیں، تم عزت دیتے ہی اتنے ظالم انداز میں ہو کہ شک ہونے لگتا ہے۔”
میرب منہ بنا کے کہتی ادھر ادھر جھانکنے لگی ۔ ۔
” میں سامنے بیٹھا ہوا ہوں تو کوئی ضرورت نہیں ادھر ادھر جھانکنے کی ۔ “
ارتسام نے برا مناتے ہوئے کہا تھا ۔
” اپنے کل کی شرٹ میں گھوم رہے ہو ، کچھ نیا ہے نہیں تم میں، جو تمہیں دیکھوں پاگل پٹھان “
میرب اپنی ہنسی روکتی کہنے لگی جس پہ ارتسام کی گھوریاں عروج پہ تھی ۔ ۔
” فنی مس پگلی ، جاؤ نیچے سردی لگ جائے گی ۔ “
” مجھے کیوں سردی لگے گی ۔ “
وہ کندھے اچکا کے کہنے لگی ۔
” کیونکہ سردیوں میں سردی لگتی ہے ۔ تم میڈیکل تھوڑی پڑھتی جو تمہیں پتہ ہو “
اسی کے انداز میں جواب دیتا وہ اب چائے کا مگ لبوں سے لگا چکا تھا۔
” according to maths
نہایت ہی خشک مزاج انسان ہو تم مسٹر پٹھان “
میرب نے بھی دو بدو جواب دیا تھا ۔
” وہ کیسے ؟”
ارتسام اچھنبے سے دیکھنے لگا ۔
” تم نے کھبی میتھس کی کتاب کھولی ہوتی تو تمہیں سمجھ بھی آ جاتی۔ “
اپنی بات کہہ کے میرب ہنسنے لگی جبکہ ارتسام کی گھوریاں عروج پہ تھی ۔
” لگتا یے ابھی ابھی ٹوتھ برش کر کے آئی ہو “
” میں تو صبح شام اپنے دانت چمکاتی رہتی ہوں برش سے “
میرب اترائی تھی۔
” ہاں جرمز کو مرنے میں وقت لگتا ہوگا ۔ “
ارتسام مسکراہٹ دباتے کہہ رہا تھا جبکہ میرب نے آنکھیں گھمائی تھی۔
” ہو ہی پاگل پٹھان۔ “
” اور تم پاگلے ۔ “
ارتسام مسکراتے ہوئے کہنے لگا۔
” میرب کھانا تیار ہے جلدی آؤ “
عارفین کی اواز پہ وہ منہ بنا کے ارتسام کو دیکھنے لگی ۔
” میں جا رہی ہوں پاگل پٹھان، رات کو یاد سے میسج کر دینا “
” کیوں؟”
ارتسام نے بھنویں اچکائی ۔
” گڈ نائٹ بولنے کے لئے “
میرب کہہ کے ہنسنے لگی ۔
” میرب ۔۔ “
پھر سے آواز آئی تھی اور میرب اس کی طرف ہاتھ لہرا کے دروازے کی طرف بڑھی تھی ۔
” آ رہی ہوں مما ۔۔ “
جبکہ ارتسام مسکراتے ہوئے دیر تک اس کے ٹیرس کو دیکھتا رہا ۔ یہ سچ تھا کہ میرب سے اس کی بہت بنتی تھی اور وہ ہمیشہ میرب کا خیال رکھتا ، اس کی عزت کرتا اور دل میں نرم گوشہ بھی رکھتا تھا اس کے لئے، لیکن یہ بھی سچ تھا کہ شاہ نواز خان اور دشاب ارتضی ملک کی آپس میں لگتی نہیں تھی۔ ان کی آپس میں ایک خاموش جنگ چل رہی تھی ، ایسے میں ارتسام اور میرب کے بیچ کچھ ہونے سے ان دونوں کا جھگڑا کھبی ختم نہ ہوتا بلکہ مزید بڑھتا، تبھی ارتسام تھوڑی احتیاط برتتا تھا میرب کے معاملے میں لیکن یہ جانے بنا کہ یہ دل کے معاملے ہیں جو انسان کے بس میں کہا ۔ وہ سر جھٹک کے نظریں پھیر چکا تھا ، ہوا میں تاریکی گھل مل چکی تھی ، تبھی پورا اسلام آباد شہر روشنیوں میں نہا گیا تھا ۔ گہرا سانس لیتا وہ کچھ دیر روشنیوں سے جگمگاتے شہر کو دیکھتا رہا اور پھر سر جھٹک کے وہ بھی اپنا مگ ہاتھ میں لیے نیچے کی طرف بڑھا تھا کہ اسے ہاسپٹل بھی جانا تھا ، آج رات کی ڈیوٹی تھی اس کی ۔ وہ ایک قابل ڈاکٹر تھا ، ڈاکٹر ارتسام نواز خان ۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

” سر جب سے آپ نے پولیٹیکس کی دنیا میں قدم رکھا ہے ، آپ کے خلاف جتنی پارٹیز پروان چڑھ رہی ہے ، اس سے تو کئی زیادہ آپ کی فینز بن رہی ہے گرلز “
وہ اینکر شاید کچھ زیادہ ہی شرارتی تھی، میران ارتضی ملک ہلکا سا مسکرایا تھا، وہی مسکراہٹ جو اس کی شخصیت کا خاصا تھی۔
” you mean to say
کہ گرلز نیوز زیادہ دیکھنے لگی ہے “
وہ اینکر ہنس دی تھی جبکہ بیڈ پہ بیٹھی سماہر مسکراتی آنکھوں سے ، اس شخص کو موبائل اسکرین پہ دیکھ رہی تھی۔ کس قدر چارم تھا اس شخص میں، اس کی سرد بےتاثر آنکھیں کتنی گھمبیر تھی کہ وہ اکثر بمشکل خود کو روک پاتی ان آنکھوں میں دیکھتے رہنے سے اور اب وہ بنا کسی ڈر کے ان آنکھوں کو دیکھ رہی تھی۔
” اوئے ہوئے “
مائزہ اچانک اس کے قریب بیڈ پہ گری تھی کہ سماہر کے ہاتھ سے موبائل گرتے گرتے بچا تھا اور وہ گھور رہی تھی اب مائزہ کو ۔
” چین نہیں تجھے ۔ “
” مجھے تو ہے ، بس کسی کسی کا چین سکون برباد ہو چکا ہے “
مائزہ کے شرارتی انداز پہ ، وہ موبائل سائیڈ پہ رکھ کے اسے دیکھنے لگی ۔
” تجھے پتہ مائزہ ، کل پہلی بار وہ اتنا فری ہو کے بات کر رہا تھا مجھ سے ، میں تو حیران رہ گئی تھی اس شخص پہ ۔ “
” اس میں حیران ہونے والی کیا بات ہے، کھبی کھبی ایسی غلطی کر بیٹھتا ہے وہ ۔ “
مائزہ کی بات کو نظر انداز کر کے وہ بیڈ کراؤن سے سر ٹکا گئی تھی جب اچانک باہر سے گاڑی کے ٹائر چڑچڑانے کی آواز آئی تھی۔
” لو آ گیا پولیٹیکس کی دنیا کا بےتاج بادشاہ “
مائزہ نے منہ بنایا تھا جبکہ سماہر دھڑکتے دل کے ساتھ بالکونی میں جا کھڑی ہوئی تھی اور اداس نظریں اس شخص پہ ٹھہری ہوئی تھی، جو لڑکھڑاتے قدموں اور چکراتے سر کو سنبھالتے گاڑی سے نکل کے گھر کی طرف جا رہا تھا، سماہر ڈوبتے دل کے ساتھ لب کاٹنے لگی ۔ وہ ایسا کیوں تھا ؟ اتنی پرکشش شخصیت اور اتنی نازیبا عادت ، شراب کے عادی انسان سے اسے محبت کیونکر ہوئی تھی، خاموش محبت بےحد اذیتناک ہوتی ہے ، اس کی نظریں اوپر اٹھی تھی اور سماہر پہ ٹھہر گئی تھی جبکہ سماہر لب بھینچے ، بنا کسی حرکت کے اسے دیکھ رہی تھی، اس نے نہ اندر جانے کی کوشش کی تھی اور نہ ہی کوئی حرکت کی تھی ۔ ان سرخی مائل ہوتی آنکھوں میں وہ اترتی نمی کو دیکھ رہی تھی۔ وہ بارش میں بھیگ رہا تھا اور یہاں سماہر بارش کی بوندوں سے بےنیاز کھڑی اسے دیکھ رہی تھی ۔

قسمت بنا لوں
میری چاہت بنا لوں
چھوٹے کھبی نہ
وہ عادت بنا لوں۔۔
ہاں شدت بنا لوں تمہیں۔۔۔
تجھ کو سزا
اور عدالت بنا لوں
ہاں شدت بنا لوں تمہیں۔۔
میں!!!

” آپ کو محبت ہوئی کھبی کسی سے ؟؟”
وہ اینکر پوچھ رہی تھی اور تب ایک چہرہ اس کی آنکھوں میں ابھر کے معدوم ہوا تھا، لبوں پہ مسکان بکھری تھی جبکہ اینکر مسکراتی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔
” بہت جلد آپ اس شخصیت کو میری مسز کے روپ میں دیکھے گیں “
اس کے کانوں میں وہ الفاظ گونجے تھے اور پھر سر جھٹک کے وہ نظریں پھیر گیا تھا ۔ قدم قدم وہ اپنے پورشن کی طرف بڑھ رہا تھا جبکہ سماہر کو اپنا دل ڈوبتا محسوس ہو رہا تھا۔
یہ شخص کھبی محبت نہیں کرتا کسی سے بھی ۔۔
اس نے سوچا تھا۔

☆☆☆☆¤▪︎▪︎¤¤¤¤☆☆☆☆

صبح صبح گھاس پہ وہ ننگے پاؤں چل رہی تھی اور یہ احساس بہت دلکش ہوتا ہے ۔ اوس کے ننھے ننھے قطرے جب پاؤں میں جذب یوتے ہیں، تب بےحد تراؤٹ کا احساس دلاتے ہیں اور ابھی بھی سماہر صبح کی نماز پڑھ کے یونہی باہر لان میں نکل آئی تھی، رات کی بارش کے بعد ہوا میں خنکی کا عنصر بھی موجود تھا تبھی وہ شال کو خوب اپنے گرد لپیٹے خود کو سردی کے احساس سے محفوظ کر رہی تھی۔
” گڈ مارننگ ۔ “
آواز پہ چونک کے مڑی تھی جہاں ازمائر مسکراتا ہوا اسے دیکھ رہا تھا۔
” گڈ مارننگ، اتنی صبح صبح جاگ گئے ؟؟”
وہ حیران آنکھوں سے اسے دیکھتی سوال کر رہی تھی کیونکہ اسے لگا کہ پورے گھر میں بس وہی سحر خیز ہے ۔
” ہاں جوگنگ پہ جا رہا تھا اور پھر جم جانا ہوتا ہے تو اس لئے جلدی جاگ جاتا ہوں۔ “
وہ مسکرا کے اس کے ساتھ چلتے ہوئے بتا رہا تھا ۔
” تم بھی جانا چاہو تو چل سکتی ہو ۔ “
“ارے نہیں، مجھ سے نہیں ہوتا یہ ایکسرسائز۔ “
وہ نفی میں سر ہلانے لگی جب ازمائر کی نظر اس کے نازک سفید پاؤں پہ پڑی جس کی سفید رنگت پہ اوس کے ننھے قطرے بےحد دلکش لگ رہے تھے ۔
” اتنی سردی میں ننگے پاؤں “
وہ حیران ہوا تھا جبکہ سماہر مسکرانے لگی ۔
” اتنی بھی سردی نہیں ہے جتنا آپ کو محسوس ہو رہی ہے ۔”
درختوں پہ پرندوں کی چہچہاہٹ ہو رہی تھی جنہیں سماہر نظر بھر کے دیکھنے لگی جبکہ ازمائر اسے اپنی آنکھوں میں حفظ کر رہا تھا اور اپنے کمرے کی کھڑکی پہ کھڑا میران ماتھے پہ بل ڈالے ان دونوں کو دیکھ رہا تھا ، آج کل وہ کچھ زیادہ ہی ازمائر کو سماہر کے قریب پاتا تھا ۔ درختوں سے ہوتی سماہر کی نظر اس کے کھڑکی کی طرف اٹھی اور آنکھوں میں حیرت در آئی تھی ، میران وہاں کھڑا اسے ہی دیکھ رہا تھا ، نظروں کا تصادم ہوا اور میران لب بھینچ گیا جبکہ سماہر کے نظروں کے تعاقب میں ازمائر نے بھی اس طرف دیکھا تھا لیکن تب تک وہ پیچھے ہٹ چکا تھا۔ سماہر سر جھٹک کے اپنی شال ٹھیک کرنے لگی ۔ ۔
” چلو میں چلتا ہوں۔ “
ازمائر کی بات پہ اس نے اثبات میں سر ہلایا تھا اور ازمائر اپنی گاڑی کی طرف بڑھنے لگا جبکہ سماہر کچھ سوچتی پھر سے کھڑکی کی طرف دیکھنے لگی لیکن اب وہاں میران نہیں تھا ۔ رات کو وہ جس طرح سے بارش میں بھیگتا کھڑا اسے دیکھ رہا تھا سماہر کے دل کی عجیب حالت ہو رہی تھی تب ، سر جھٹک کے وہ بھی چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی گھر کی طرف جانے لگی کہ اس پہ نیند کا غلبہ آنے لگا تھا اب ۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆

” کوئ آپکی کمی محسوس کررہا ہے آپکا وقت مانگ رہا ہے آپکی ناراضگی پر منارہا ہے آپکی بے رخی پر تڑپ رہا ہےتکلیف پر رورہا ہےآپکی بے حسی پر تکلیف میں مبتلا ہے.
‏آپکے سامنے ہاتھ جوڑ کر محبت کی بھیک مانگ رہا ہے
‏تو سنو
‏وہ محبت کی آخری حدوں کو چھورہا ہے ۔ “
پرسوز آواز میں کہے ہوئے الفاظ پہ عاھل خان نے چونک کے پیچھے مڑا تھا، وہ جو اس اوپن ائیر ریسٹورنٹ میں لنچ کرنے آیا تھا، اس کی کرسی کے پیچھے ہی اس کرسی پہ پریشے بیٹھی ہوئی تھی ۔ ایک پل کو محسوس ہوا کہ وہ شاید اس سے بات کر رہی ہے لیکن اگلے لمحے یہ خوشفہمی بھی نہ رہی جب اسے ایک مردانہ آواز سنائی دی ۔
” مس پریشے لگتا ہے آپ کتابیں بہت زیادہ پڑھتی ہے “
عاھل خان نے آبرو اچکا کے اسے دیکھنے کی کوشش کی تھی ، وہ جو کوئی بھی تھا ؟ بےحد گہری نظروں سے پریشے کو دیکھ رہا تھا، عاھل پھر سے رخ موڑ کے بیٹھ چکا تھا ۔
” وہ کیسے ؟؟”
وہ شاید سوالیہ نظروں سے اسے دیکھتی مسکرائی تھی، عاھل کو یہی محسوس ہوا تھا ۔
” اب دیکھئے ناں، ہم میں جب بھی کوئی بات ہوتی ہے ، اس گفتگو میں زیادہ تر ایسے الفاظ ضرور ہوتے ہیں جو کتاب سے اقتباسات ہی ہوتے ہیں “
وہ مسکرا کے کہہ رہا تھا جبکہ پریشے ہنسی تھی۔
” اقتباسات، تو اس کا مطلب ہے کہ آپ بھی کتابیں پڑھتے ہیں۔ “
” نہیں، مجھے کتابیں پڑھنے والی ایک خاص لڑکی بہت اٹریکٹ کر گئی ہے ، اور یہی وجہ ہے کہ میں بھی بک شیلف کے چکر لگانے لگا ہوں اب ” ۔
وہ مسکرا کے کہہ رہا تھا جبکہ پریشے حیران آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی، جس کی بولتی آنکھوں میں بےپناہ ان کہی باتیں تھی اور وہ نظریں چرا گئی تھی ۔
” شہباز ، ہمیں چلنا چاہئے ۔ “
” ارے کیوں ؟ فیملی کی پرمیشن سے ہم یہاں ہیں۔ “
وہ زیر لب مسکرا کے کہہ رہا تھا جبکہ پریشے لب کاٹتی نظریں جھکا گئی تھی۔
” عاھل میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے ، گھر چلتے ہیں “
اروشے کی آواز پہ اس کے کان کھڑے ہوئے تھے ، مطلب عاھل خان بھی یہیں موجود تھا۔
” کیوں؟؟ کیا ہوا ہے ؟؟”
عجیب بےتاثر لہجہ تھا اور وہ عین پیچھے، بےحد قریب سے ، اس کی سماعتوں سے ٹکرایا تھا اور نہ چاہتے ہوئے بھی وہ پیچھے دیکھنے لگی تھی ، جب اروشے کی نظر اس پہ پڑی تھی اور اس کے ماتھے پہ بل پڑ گئے تھے ۔
” یہ کیا بکواس ہے؟ تم یہاں کیا کر رہی ہو ؟”
وہ چلاتی تیزی سے پریشے کی طرف بڑھی تھی جب عاھل نے اٹھ کے بیچ میں ہی اسے روک دیا تھا جبکہ رخ موڑ کے وہ شہباز سے بھی نظریں چرانے لگی ۔
” تو اس لیے تم یہاں بیٹھے ہو ، کیونکہ یہاں یہ لڑکی بیٹھی ہوئی ہے ، شرم نہیں آئی تمہیں ، میرے شوہر کے پیچھے اب بھی پڑی ہوئی ہو “
وہ کہہ رہی تھی۔
” شٹ اپ اروشے “
عاھل نے دبی دبی آواز میں کہتے اسے گھورا تھا۔ شہباز جو حیران آنکھوں سے اروشے کو اور پھر آنکھوں میں آئی نمی کو چھپاتی پریشے کو دیکھا اور پھر اپنی جگہ سے کھڑا ہوا تھا ۔
” ویٹ ویٹ، آپ کو لگتا بہت بڑی خوش فہمی لاحق ہو چکی ہے “،
وہ دیکھ اروشے اور عاھل کو رہا تھا اور ساتھ ہی پریشے کا ہاتھ تھام کے ، اسے اٹھنے میں مدد دیتا وہ پریشے کو اہنے قریب لیے انہیں پھر سے دیکھنے لگا ۔
” پریشے میری فیانسی ہے اور ہم یہاں لنچ کرنے آئے ہیں، ویل ہمیں بلکل معلوم نہ تھا کہ یہ ریسٹورنٹ آپ خرید چکی ہے ، ویری سوری “
عاھل آنکھوں میں حیرت لیے پریشے کو دیکھ رہا تھا جبکہ پریشے نے کن انکھیوں سے اسے دیکھنے کی کوشش کی تھی اور اس کی نظریں خود پہ محسوس کر کے وہ پھر سے نظریں جھکا گئی تھی ۔ اس نے کھبی یوں نہیں سوچا تھا کہ کھبی اس کی زندگی میں ایسا بھی کوئی لمحہ آ سکتا ہے کہ وہ کسی اور کی ذات سے منسوب ہو کے ، یوں عاھل خان کے سامنے کھڑی ہوگی ۔
” چلیں عاھل ، اگر دل بھر گیا ہو ۔ “
اروشے کو کچھ سمجھ نہیں آیا تبھی دانت پیستی عاھل کو گھورتی وہ کہنے لگی کہ عاھل خان کی آنکھوں میں ان جذبوں کو وہ دیکھ چکی تھی۔
” آپ دونوں بیٹھئیے، ہم بس جانے ہی والے تھے ۔ چلیں پریشے “
شہباز مسکراتی آنکھوں سے ان دونوں کو دیکھتا ، پریشے کو لیے وہاں سے آگے بڑھا تھا کہ پریشے کا وہاں رکنا اور اس کا پریشان ہونا شہباز دیکھ چکا تھا جبکہ عاھل خان لب بھینچے لمحہ لمحہ پریشے کو اس شخص کے پہلو میں دیکھ رہا تھا جو یہاں سے جا رہے تھے۔
” نشہ اتر گیا ہے جو پھر سے نظریں بھٹک بھٹک کے پریشے کے آس پاس گھوم رہی ہے “
اروشے چٹخ کے کہہ رہی تھی ، حالانکہ پریشے اس کے لئے پرایا نہیں تھی وہ اروشے کی چچا زاد تھی ، پھر بھی اس کی آنکھوں میں پریشے کے لئے نفرت کی آگ واضح نظر آتی تھی ۔
” تم سے بات کر رہی ہوں عاھل خان “
اروشے اس کا بازو ہلانے لگی جبکہ عاھل نے اپنے بازو پہ رکھا اس کا ہاتھ جھٹکا تھا اور سرخ ہوتی آنکھوں سے وہ اروشے کو گھورنے لگا اور ساتھ ہی اس کی کلائی کو بھی دبوچا تھا کہ اروشے کراہ کے رہ گئی ۔
” آئندہ مجھ سے اس ٹون میں بات کی تو زبان کھینچ لوں گا تمہاری “
دبی دبی آواز میں غراتا وہ اروشے کی آنکھوں میں دیکھتا بہت کچھ باور کرا گیا تھا اور اسے سائیڈ پہ کرتا وہ لمبے ڈگ بھرتا اب باہر کی طرف قدم رکھ رہا تھا کہ دل میں طوفان اٹھ رہا تھا پریشے کو یوں شہباز کے ساتھ دیکھ کے ، خود سے منسوب پریشے کو جب وہ خود سے ہی نوچ کے پھینک چکا تھا ، جب اس کا کوئی لفظ، کوئی آنسو بھی خاطر میں نہ لاتا وہ بچپن کی منگنی توڑ گیا تھا اور اروشے کا نام لیا تھا شادی کے لئے ، تب اس نے یہ نہیں سوچا تھا کہ اس کے بچپن کی منگیتر کو کل وہ کسی دوسرے مرد سے بھی منسوب ہوتا دیکھے گا اور جب آج وہ دیکھ رہا ہے تو آگ اس کے پورے وجود کو اپنی لپیٹ میں لے رہا تھا اور وہ جیسے بھسم ہو رہا تھا ۔

☆☆☆¤¤¤¤¤☆☆☆☆☆