Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 16

” بابا “
وہ آنکھوں میں نمی اور محبت لیے وقاص ملک کو دیکھ رہی تھی جبکہ وقاص ملک ادھر ادھر نظر دوڑاتا اب اپنی بیٹی کو دیکھ رہے تھے۔
” عیشل بیٹا، دیکھو بابا کی جان، آپ کے بابا کو کچھ پرابلمز ہیں یہاں، اس لئے آپ کچھ دن کے لئے مجھے بابا مت کہے کسی کے بھی سامنے، پھر سب ٹھیک ہو جائے گا، آپ کے بابا صرف میران ہیں “
” لیکن وہ اچھے بابا نہیں ہے، وہ غصہ ہوتے ہیں، مجھے گھور کے دیکھتے ہیں، مجھے آپ چاہئے، آپ میرے بابا ہیں “
وہ چھوٹی بچی روہانسی ہو رہی تھی، وقاص ملک نے لب بھینچ لیے تھے ۔
” میں بات کروں گا ان سے، کہ وہ آپ پہ غصہ نہ ہو، بس آپ کو میری بات ماننی ہوگی، آپ کو اپ کے فیورٹ ٹوائز بھی مل جائیں گے۔ “
” لیکن مجھے ٹوائز نہیں، مجھے آپ چاہئے بابا “
وہ ابھی بھی ضد کر رہی تھی۔
” بس چپ ۔۔۔ ایکدم چپ “
وقاص غرائے تھے اور وہ سہم گئی تھی، آنکھوں میں خوف لیے وہ وقاص ملک کو دیکھنے لگی۔
” جاؤ یہاں سے “
عیشل کو خود سے الگ کرتے، وہ جیسے دھتکار گئے تھے اسے اور آنکھوں میں نمی لیے ایک آس بھری نظر ان پہ ڈال کے، چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی وہاں سے جانے لگی، جب باہر آتے اس کا سامنے سماہر سے ہوا اور وہ تیزی سے سماہر سے جا لگی تھی، ان آنکھوں میں آنسو دیکھ کے سماہر کا دل اس کے لئے نرم پڑنے لگا تھا۔ تبھی اس کے قریب بیٹھ کے وہ عیشل کا چہرہ دیکھنے لگی لیکن وہ پھر سے سماہر کے گلے لگ کے خاموش آنسو بہانے لگی اور سماہر کی نظروں نے دیکھا کہ وقاص ملک وہاں سے نکل رہے تھے اور ان کا رخ پورچ کی طرف تھا۔ ان کی نظر سماہر اور اس کے قریب عیشل پہ پڑی اور وہیں عیشل نے سماہر کے بازو پہ اپنا ہاتھ رکھا تھا۔ سماہر نے بےحد حیرت سے اپنے بابا کو دیکھا، عیشل بھی تو وہیں سے آ رہی تھی روتے ہوئے، وقاص ملک نظریں چرا گئے تھے اور لمبے ڈگ بھرتے جانے لگے۔
” کیا ہوا ہے عیشل ؟؟”
کانپتی آواز میں وہ پوچھنے لگی جبکہ نظریں ابھی بھی وقاص ملک کی طرف تھی۔ یہ آنکھیں کچھ تو چھپا رہی تھی، یہ نظروں کا یون چرانا۔
” مجھ سے کوئی پیار نہیں کرتا آپی، مما مجھے کیوں چھوڑ کے چلی گئی، بس وہی مجھ سے پیار کرتی تھی “
سماہر کو اس کے لئے بہت دکھ ہوا تھا۔
” آپ کے بابا تو آپ سے پیار کرتے ہیں عیشل “
” نہیں کرتے، مجھے دھکا دے کے خود سے الگ کرتے ہیں، مجھے رلانے ہیں اور مجھے بلکل پیار نہیں کرتے “
وہ روتے ہوئے کہنے لگی۔
” تو ابھی آپ کیوں رو رہی ہے ؟؟”
سماہر ہوچھنے لگی۔
” بابا نے مجھے دھکا دیا اور نکل جانے کو کہا “
وہ روتے ہوئے بتانے لگی ۔
” کب ؟؟”
سماہر اس کا بھیگا چہرہ دیکھنے لگی۔
” ابھی ۔۔۔۔ “
” عیشل آپ یہاں ہے ؟؟ میں آپ کو پورے گھر میں ڈھونڈ رہا تھا، چلئیے دادو نے ناشتہ بنایا ہے آپ کے لئے “
وہ بےحد نرمی سے کہہ رہا تھا شاید سماہر کی باتوں کا اثر تھا جبکہ سماہر اپنی جگہ سے اٹھتی حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی۔ کچھ تو تھا، کچھ تو ہے ۔ عیشل اپنا چہرہ ہاتھوں سے صاف کرتی یونہی کھڑی رہی۔
” آپ نے عیشل کو دھکا دے کے نکل جانے کو کہا ؟؟”
سماہر کے سوال پہ وہ چونکا تھا۔
” کب ؟؟”
” ابھی ۔۔۔ “
سماہر اسے کھوجتی نظروں سے دیکھ رہی تھی جبکہ میران کی آنکھوں میں پہلے حیرت ابھری اور پھر وہ نظریں چرا گیا اور آگے بڑھ کے عیشل کا ہاتھ تھاما تھا ۔
” چلئیے عیشل ۔۔”
وہ ایک اچٹتی نظر سماہر پہ ڈال کے عیشل کو لیے آگے بڑھ گیا لیکن اس ایک نگاہ میں بھی کچھ تو تھا کہ سماہر کے لئے بہت سے سوال کھڑے کر گیا، نظریں چرانے کا عمل وقاص اور میران دونوں کا ایک جیسا ہی تھا، وہ انہی سوچوں میں غلطاں تھی جب اچانک اس کے کندھے کو جیسے ہلایا گیا ہو، وہ بوکھلا کے دائیں طرف دیکھنے لگی جہاں شازم اس کے قریب کھڑا مسکرا رہا تھا، سماہر نے خوشگوار حیرت سے اسے دیکھا۔
” ارے شازم، تم کب آئے ؟؟”
وہ ہنستے ہوئے پوچھنے لگی جبکہ شازم ہنسنے ہوئے کندھے اچکا گیا اور ساتھ ہی ہاتھ اس کی طرف بڑھایا تھا جسے سماہر تھام گئی تھی اور اپنے مخصوص پرانے انداز میں دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیاں ملا کے، دونوں ہاتھوں کی پشت ایکدوسرے سے ملا کے، ایکدوسرے کی ناک کو چھوا تھا۔
” کیسی ہو میری حسینہ، اور اب تو میری بھابی ہو ۔۔
So congratulations and am so excited..
کہ تم ہمارے گھر آفیشلی میران کی وائف بن کے آؤ اور میں تمہیں کچن کی طرف بھیج دیا کروں اور تم سے سارے گھر کے کام کرواؤں”
سماہر کو خوشی ہوئی تھی جب وہ یوں خوشی کا اظہار کر رہا تھا، اس گھر کے نیچے والے پورشن میں کوئی بھی تو اس سے خوش نہ تھا ۔
” بلی کے خواب میں چھیچھڑے “
سماہر کی بات پہ دونوں ہنس پڑے تھے۔
” کیا سوچ رہی تھی؟؟”
شازم کے پوچھنے پہ وہ مسکرا سر نفی میں ہلانے لگی ۔
” ویسے۔۔۔ “
شازم اس کی طرف رازداری سے جھکا تھا۔
” یہ عیشل نام کی بیٹی کون ہے ؟؟ مجھے تو وہ کہیں سے بھی میرے بھائی کی بیٹی نہیں لگتی “
سماہر حیران سی اسے دیکھنے لگی، کتنے آرام سے وہ یہ بات کہہ رہا تھا اور وہ کب سے سوچوں کے تسلسل میں گم، خود پہ جیسے بوجھ سا گرتا محسوس کر رہی تھی۔
” سچ کہہ رہا ہوں، بھائی جیسے بھی ہو یار وہ یہ خفیہ ٹائپ شادی کرنے والے بندے ہیں نہیں، یار ہم دونوں تو بچپن سے اسے جانتے ہیں کہ وہ ہر کام ڈنکے کی چوٹ پہ کرتا ہے، ان کی پرسنیلٹی جتنی بھی ڈبنگ یا اپنی من مانی کرنے والی کیوں نہ ہو، وہ کھبی جھوٹ نہیں بولتے نہ دھوکا دیتے ہیں۔ تم بھی تو جانتی ہو نا یار “
سماہر اسے دیکھتی اثبات میں سر ہلانے لگی، تبھی تو سماہر کا دل اس سے کنارہ کش نہیں ہو پا رہا تھا اور نہ ہی وہ اپنی محبت کو اس کے مقابل کم کر پا رہی تھی، وہ تو خود میران نے اس سے کچھ دوری اختیار کر لی تھی اور تبھی وہ بھی خاموش ہو گئی تھی ۔
” اس بچی کی شکل تم سے زیادہ ملتی ہے، جیسے تمہارا بچپن سامنے ہو “
سماہر کا دل ڈوب کے ابھرا تھا، اسے کچھ دیر پہلے کا لمحہ یاد آیا تھا، وقاص ملک کا اسی گیسٹ روم سے باہر آنا، جہاں سے عیشل روتے ہوئے باہر نکلی تھی اور پھر ان آنکھیں چرانا ۔
” اینی وے، میں تو آیا ہی اس لئے ہوں شاید، کہ اس میٹر کو سولو کر سکوں، چلو آج سے یہی ہم دونوں کا مشن “
سماہر ہلکا سا مسکرا دی تھی جبکہ شازم کھل کے مسکراتا اس کے چہرے پہ ہاتھ سے تھپکی دینے لگا۔
” ہئی ڈونٹ ووری، میران بس تم سے محبت کرتا ہے اور تم ہی اس کی زندگی میں آنے والی پہلی لڑکی اور عورت ہو ۔۔ آئی سوئیر “
لیکن میران کی تیز نظروں سے اس کا یہ عمل دور سے دیکھ لیا تھا، ایک ہاتھ سے سماہر کا ہاتھ تھاما ہوا تھا اور دوسرا ہاتھ سماہر کے گال پہ تھا، تبھی لب بھینچے لمبے ڈگ بھرتا ان تک پہنچا تھا اور بےاختیار اس کے ہاتھ میں موجود سماہر کا ہاتھ وہ اپنے ہاتھ میں تھام چکا تھا اور ساتھ ہی اسے قریب کرتا، خود سے لگا گیا تھا، یہ سب بلکل اچانک ہوا کہ سماہر بھی حیران سی اسے دیکھنے لگی جبکہ شازم لب دانتوں تلے دباتی مسکرانے لگا ۔
” تم نے میرے خیال سے مزید سونا تھا آج “
میران کے طنزیہ لہجے پہ وہ کندھے اچکا گیا۔
” ہاں میں بس جانے لگا تھا “
ساتھ آبرو اچکا کے سماہر کو اشارہ کیا تھا کہ دیکھ سکتی ہو میران کی محبت جبکہ سماہر کے حواسوں پہ اس کے برانڈ پرفیوم کی خوشبو چا رہی تھی، جو اس کے اعصاب سلیب کرتی، اسے مدہوش سا کر رہی تھی اور تبھی بلکل اچانک دھڑکنیں بھی بےلگام ہوئی تھی۔
” یہ اشارے بازی کیا کر رہے ہو تم ؟؟”
میران پھر سے اسے ڈانٹ رہا تھا اور وہ پھر سے کندھے اچکا گیا ۔
” یہ میرا اور سماہر کا پرسنل میٹر ہے”
اور ساتھ ہی وہاں سے جانے لگا جبکہ میران اب سوالیہ نظروں سے سماہر کو دیکھنے لگا لیکن وہ تو بس میران کی آنکھوں میں دیکھے جا رہی تھی جیسے سچ جاننے کی کوشش کر رہی ہو۔ میران سانس روکے کچھ لمحے اسے دیکھتا رہا لیکن سماہر نرمی سے اس کے حصار سے الگ ہو کے پیچھے ہوئی تھی اور پھر لب کاٹتی رخ موڑ کے گھر کی طرف جانے لگی، میران کسی ہارے جواری کی طرح کھڑا اسے خود سے پل پ دور ہوتا جاتا دیکھ رہا تھا۔
‘ کیوں؟ اے اللہ کیوں؟؟ جتنا وہ مجھ سے دور ہوتی ہے، اسی قدر اس کی محبت میرے وجود میں اپنی جڑیں مضبوط کرتی محسوس ہوتی ہے، میں اپنے حواس کھونے لگا ہوں اس کے عشق میں، میرے رب کوئی تو چارہ کر دیں، میں سماہر کے بنا کھوکھلا ہونے لگا ہوں میرے رب’
لب بھینچے، سر جھٹک کے وہ رخ موڑ کے پورچ کی طرف جانے لگا، دل پہ بوجھ سا آن پڑا تھا جیسے خود کو زبردستی کھینچ کے لے جا رہا ہو جبکہ اپنے کمرے کی بالکونی میں کھڑی سماہر اسے پہ دیکھ رہی تھی اور ذہن میں شازم کے باتوں کی بازگشت تھی اور پھر وقاص ملک کا وہ نظریں چرانا، عیشل کا رونا۔ کسی فلم کے ٹریلر کی طرح سب آگے پیچھے چل رہا تھا۔ اپنے وجود میں جذب ہوئی میران کی خوشبو کو اس نے گہرا سانس لیتے، خود میں پھر سے محسوس کیا تھا اس نے اور لب مسکرا اٹھے تھے۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
” ڈونٹ موو “
وہ جو یونیورسٹی سے ابھی باہر نکلی تھی اور روڈ پہ نظر دوڑاتی وہ سائیڈ پہ چلنے لگی جب اچانک اسے اپنی کمر پہ ریوالور کا احساس ہوا اور ساتھ ہی بھاری اواز اس کے کان میں گونجی تھی سرگوشی کی مانند۔ اس نے بوکھلا کے مڑنا چاہا لیکن ریوالور کا دباؤ اس کی کمر پہ بڑھا تھا ۔
” ہلی بھی تو یہی ڈھیر کر دوں گا “
” کون ہو تم ؟”
گھبرائی ہوئی آواز میں غراہٹ کا عنصر بھی شامل تھا۔
” شاہ نواز خان کا داماد “
مبہم سرگوشی میں مسکراہٹ بھی پنہاں تھی ۔
” میرے آغا جان تمہارا قیمہ بنا دیں گے تم جانتے نہیں ہو انہیں شاید “
اس کی بات مکمل بھی نہیں ہوئی تھی جب پیچھے سے اسے دھکا دیتے ہوئے گاڑی کی فرنٹ سیٹ پہ جیسے پھینکا گیا تھا، وہ سنبھلتی ابھی کچھ سمجھ پاتی جب کار ڈور ہی بند ہوا تھا اور اس سے پہلے وہ اترنے کی کوشش کرتی، بلیک ماسک میں موجود وہ شخص ڈرائیونگ سیٹ پہ آ بیٹھا تھا اور اب فرصت سے آبگینے کو دیکھ رہا تھا جبکہ آبگینے ڈور لاک کھولنے کی کوشش کرنے لگی۔
” محنت بیکار ہے، یہ سب محنت تم مجھ سے محبت کرنے میں لگا لینا “
اب کے آواز مختلف تھی، تبھی اس نے بےحد چونک کے اسے دیکھا تھا اور بلیک ماسک کے پیچھے موجود اس شخص کو پہچاننے کی کوشش کرنے لگی ۔
” زما آشنا زار شم “
اس کے الفاظ پہ آبگینے کی آنکھوں میں پہلے حیرت ابھری تھی اور پھر غصہ اور بھرپور گھوری ۔
” شا ۔۔۔۔ زم “
” جان شازم “
ایک ادا سے کہتا وہ بلیک ماسک اتار چکا تھا ۔۔
” یو ایڈیٹ ۔۔۔ “
اپنا بیگ اس کے منہ پہ مارتی وہ چلائی تھی جبکہ شازم ہنسنے لگا تھا ۔
” جان لے لوں گی تمہاری میں، اتنا گھٹیا مذاق “
وہ پھر سے چلائی تھی جبکہ شازم اپنا بچاؤ کرتا ہنسنے لگا ۔
” یار ایم سوری ۔۔۔ مذاق تھا، ویسے بڑی ہمت والی ہے میری فیوچر وائف “
” شٹ اپ “
گہرا سانس لیتی وہ بیگ گود میں رکھ کے اسے گھورنے لگی ۔
” ڈور لاک کھولو مجھے اترنا ہے “
” یہ ڈور لاک ابھی کھبی نہیں کھلے گی، پہلے یہ بتاؤ مجھے مس کیا؟؟”
اس کے سوال پہ آبگینے کا دل ڈوب کے ابھرا تھا لیکن وہ منہ بسورے باہر دیکھنے لگی ۔
” بتاؤ ناں آبگینے ؟ مجھے مس کیا ؟؟”
وہ پھر سے پوچھ رہا تھا ۔
” مس کیا ہوتا تو پہچان نہ جاتی تمہیں “
وہ اترا کے کہتی پھر سے رخ موڑ گئی تھی جبکہ اس کے آواز کی کپکپاہٹ شازم محسوس کرتا زیر لب مسکرا دیا تھا تبھی اس کے قریب سرگوشی کی تھی ۔
” میں نے بھی مس کیا ۔ “
آبگینے نے اسے دیکھنے کی کوشش بھی نہیں کی،پلکیں لرز کے جھکی تھی اور پھر سے اٹھی تھی۔ ۔
” م ۔۔۔ مجھے گ ۔۔۔ گھر جانا ہے “
” میرے ساتھ ؟؟”
وہ اب بھی سرگوشی میں سوال کر رہا تھا اور آبگینے کو لگا جیسے سانس رک رک کے آ رہی ہو اسے ۔ شازم زیر لب مسکراتا پیچھے ہوا تھا اور گاڑی اسٹارٹ کرنے لگا اور تب تک آبگینے سنبھل کے اب اسے گھورنے لگی تھی، نظر پانی کے بوتل پہ گئی جو خالی تھا، جسے اٹھا کے اس نے شازم کے سر پہ مارا تھا اور وہ حیرت سے آبگینے کو دیکھنے لگا ۔
” مجھے ڈرانے دھمکانے کی کوشش کی گئی اور یہ اسی لئے تمہارے سر پہ مارا ہے میں نے”
” اوہ یہ تو سیدھا دل پہ لگا ہے “
وہ بھی شازم ہی تھا، دل پہ ہاتھ رکھ کے کہتا وہ مسکرا رہا تھا جبکہ آبگینے نے منہ بنایا تھا ۔
” رمضان المبارک کا احترام ہی کر لیا کرو تم “
” جو حکم آپ کا، تو افطاری کے بعد محبت اور پیار ویار کا پلان ہے تمہارا ؟؟”
شازم کہتے ساتھ ہنسنے لگا جبکہ ایک اور وار ہوا تھا اس کے سر پہ بوتل کا ۔
” اب کیا ہوا ہے ؟”
شازم نے مصنوعی جھنجھلاہٹ کے ساتھ کہا تھا جبکہ آبگینے کندھے اچکا گئی ۔
” اپنی حدیں پار کرنے کی کوشش کا جواب ۔ “
” یار اللہ میں بس مار کھانے کے لئے بھیجا گیا ہوں شاید۔ “
شازم سر تاسف سے ہلاتا گاڑی ڈرائیو وے پہ ڈال چکا تھا۔
” جو حرکتیں ہیں تمہاری، ان کے مطابق تو تمہیں بلڈوزر سے اڑا دینا چاہئے “
آبگینے مزے سے کہتی اب مسکرا رہی تھی۔
” میرا کچھ نہیں جائے گا، شادی سے پہلے تم ہی بیوہ ہو جاؤ گی “
شازم کا انداز بھی لاپرواہ تھا ۔
” میرے آغا جان تمہارے ابا جان سے جس قدر نفرت کرتے ہیں۔ اس کے مطابق تو یہی لگتا ہے مجھے کہ تمہیں دیکھتے ہی گولی سے اڑا دے گیں۔ “
آبگینے کی آنکھوں میں شرارت تھی جبکہ اس نے ایک نظر آبگینے کو دیکھا تھا۔
” چیلنج ۔۔ ؟؟”
آبگینے زیر لب مسکراتی پھر سے باہر دیکھنے لگی ۔
” میں بھی تمہارے آغا جان سے کہہ دوں گا کہ آپ کی بیٹی سے زہ مینہ کوم “
شازم کی بات پہ آبگینے نے اسے دیکھا تھا ۔
” مطلب تم نے یہ ڈیسژن لے ہی لیا، کہ تم نے مرنا میرے آغا جان کی گولی سے ہی ہے “
” اوہوم ۔۔ “
اس نے نفی میں سر ہلایا تھا۔
” آغا جان کی بیٹی سے نکاح کرنا ہے اور وہ بھی انہی کی مرضی سے ۔ “
” خیال اچھا ہے لیکن خیال خام ہے “
آبگینے کہتی پھر سے باہر دیکھنے لگی جبکہ شازم ایک نظر اس کے نازک سراپے پہ ڈال کے، زیر لب مسکراتا ڈرائیونگ پہ اپنا سارا دھیان مبذول کر چکا تھا۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
” آ گئے تم “
مسکراتی طنزیہ آنکھوں سے دشاب کو دیکھتی عظمی کہہ رہی تھی جبکہ وہ گہرا سانس لیتے صوفے پہ بیٹھ چکے تھے ۔
” اتنے پرسکون انداز میں بیٹھے ہو، اگر میں نے ایسا ویسا کچھ بتا دیا تو یہ سکون چٹکیوں میں میں ہو جائے گا “
عظمی بھی اترا کے ان کے قریب بیٹھ چکی تھی۔
” وہ تو مجھے معلوم ہے کہ تمہارا صرف میرے نزدیک ہونا ہی، میری بےسکونی کا باعث بنتا ہے “
دشاب کا لہجہ بیزار سا تھا جبکہ عظمی شیطانی مسکراہٹ مسکرانے لگی ۔
” شاہ نواز خان۔۔۔۔ “
دشاب نے آبرو اچکا کے اسے دیکھا تھا جبکہ عظمی مسکرا کے اوپر والے پورشن کی طرف دیکھنے لگی اور پھر سے دشاب کو دیکھنے لگی۔
” آج افطاری پہ تمہاری پہلی بیوی کے پاس آیا ہے “
عظمی کے کہنے کی دیر تھی کہ دشاب جھٹکے سے اپنی جگہ سے اٹھا تھا اور تیزی سے سیڑھیوں کی طرف بڑھا تھا جبکہ عظمی زہرخند ہنسی ہنسنے لگی لیکن جس تیزی سے اوپر پہنچے تھے اسی طرح جھٹکے سے رک چکے تھے کیونکہ لاؤنج میں شاہ نواز خان اور امامہ دونوں ہی بیٹھے ہوئے تھے جبکہ عارفین کی نظر دشاب پہ گئی تھی جن کے چہرے کا رنگ اڑا ہوا تھا اور اسی طرح شاہ نواز اور امامہ کی بھی گئی تھی جبکہ دشاب مسکرا بھی نہ پا رہا تھا۔
” دشاب آپ آئیے۔ “
عارفین نے ہی انہیں متوجہ کیا تھا اور وہ گہرا سانس لیتے ان کے قریب آئے تھے، نظر شاہ نواز خان پہ تھی جو لب بھینچے انہیں ہی دیکھ رہے تھے، امامہ نے ہی انہیں متوجہ کیا تھا، آنکھوں سے ایسے اشارہ کیا تھا جیسے کہنا چاہ رہی ہو کہ ہم اپنے بیٹے کے لئے آئے ہیں یہاں، اور سر جھٹک کے وہ امامہ کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے اور لب بھینچے دشاب سے ملنے لگیں۔
” بی بی جی افطاری تیار کر دی ہے اور ٹیبل بھی لگا دیا ہے “
زینب نے آ کے اطلاع دی تھی۔
” ٹھیک ہے ۔ “
زینب کو جواب دے کے انہوں نے ان تینوں کی طرف دیکھا تھا۔
” چلیں افطار کا وقت ہو رہا ہے”
” میران اور میرب کہاں ہیں ؟”
دشاب اٹھتے ہوئے پوچھنے لگے ۔
” میران آفس ہے اور میرب سماہر اور مائزہ کے پاس ہے، مائزہ کے منگنی کی تیاریوں میں مصروف ہیں “
عارفین نے انہیں جواب دیا تھا اور شاہ نواز اور امامہ کی طرف دیکھنے لگی۔
” آئیے پلیز ۔ “
دشاب عارفین کے چہرے کو دیکھ رہے تھے، دل میں ایک ڈر سا بھی تھا کہ شاہ نواز خان یہاں کیوں آئے ہیں؟ عارفین کہیں ان کا سچ نہ جان لیں۔۔ کہیں امامہ اور شاہ نواز ان کا سچ عارفین کو نہ بتا دیں، لیکن وہ خاموش رہے تھے اور بعد میں انہیں پتہ چلا کہ وہ دونوں ارتسام کے لئے میرب کو مانگنے آئے ہیں اور تب وہ حیران آنکھوں سے عارفین کو دیکھنے لگے۔
” آپ نے مجھے بتانا ضروری نہیں سمجھا عارفین ؟؟”
” میں نے ابھی انہیں کوئی جواب نہیں دیا، میرے لئے اولیت میرے بچوں کی خوشی ہے اور یہ ڈیسژن میں میرب کی رضامندی پہ ہی لوں گی “
عارفین نے رسانیت سے جواب دیتے نظریں پھیری تھی۔
” میں ان کا باپ ہوں عارفین “
دشاب نے شاید احتجاج کرنا چاہا تھا جبکہ عارفین چونک کے انہیں دیکھنے لگی اور پھر ہلکا سا مسکرا دی تھی۔
” جی بلکل آپ میرے دونوں بچوں کے باپ ہیں “
اور سر جھٹک کے چائے کا کپ لبوں سے لگا لیا تھا جبکہ اس کے بعد دشاب خاموش ہو گئے تھے، وہ کچھ نہیں بولے، شاید بولنے کو کچھ تھا بھی نہیں اب ۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
” تم اپنے باپ سے کس لہجے میں بات کر رہے ہو عاھل خان ؟”
زریاب خان گرجے تھے جبکہ عاھل کے چہرے پہ طنزیہ مسکراہٹ بکھری تھی۔
” اپنے بچے اور بیوی کے قاتل سے اور کیسے بات کرنی چاہئے مجھے؟؟”
ان کے چہرے خان رنگ متغیر ہوا تھا لیکن پھر جلدی سے خود کو سنبھال لیا تھا اور عاھل خان کو تیز نظروں سے دیکھنے لگے ۔
” یہ کیا کہہ رہے ہو تم عاھل خان ؟ تمیز بھول چکے ہو شاید تم “
” آہ تمیز۔ ؟؟؟ “
عاھل خان نے دانت پیسے تھے۔
” فی الحال تو مجھے یہ لگ رہا ہے کہ میں یہ بھی بھولنے والا ہوں کہ میرے سامنے کھڑا یہ شخص میرے بچے کا قاتل ہونے کے ساتھ ساتھ میرے آغا جان بھی ہے ۔ “
زریاب خان نے نظریں چرائی تھی۔
” کیوں؟؟ کیوں چھین لی میری خوشی مجھ سے ؟؟ کیوں؟؟ پہلے پریشے کو میری زندگی سے نکال باہر پھینکنے کی کوشش کی اور کامیاب بھی ہو گئے اور جب باپ بننے کی خوشی ملی تو وہ بھی چھین لیا مجھ سے ؟؟ کیوں آغا جان کیوں؟؟ میرا قصور کیا ہے آخر ؟؟ کیا بگاڑا ہے میں نے اپ کا ؟؟ جو یہ سزا مل رہی ہے مجھے ؟”
وہ چلایا تھا جبکہ زریاب خان لب بھینچے اسے دیکھ رہے تھے۔
” اتنی پریشے عزیز ہوتی تو اسے تم خود نہ چھوڑتے عاھل خان، مجھ پہ الزام مت لگاؤ اب “
عاھل خان ہنسنے لگا اور ہنستے ہنستے اچانک نم آنکھوں سے وہ اپنے باپ کو دیکھنے لگا۔
” میری ماں کو طلاق دینے کی دھمکی دینے والے آپ تھے آغا جان، مجھے بےبس کرنے والے آپ تھے، پریشے کو نہ چھوڑتا میں، تو آپ میری ماں کو طلاق دے دیتے اور اسی غم نے ان کی جان لے لی اور آپ کہہ رہے ہیں کہ آپ نے کچھ کیا ہی نہیں، اروشے کو زبردستی میری زندگی میں شامل کرنے والے آپ ہیں، مجھے ختم کر دیا آپ نے، میں ختم ہو گیا “
کہتے کہتے وہ رو پڑا تھا لیکن زریاب خان کے مغرور چہرے پہ کوئی تاثر نہیں تھا۔
” اپنے غرور اور تنی گردن کی آڑ میں سب ختم کر دیا آپ نے، اپنے بیٹے کو ختم کر دیا آپ نے۔ ختم کر دیا ۔۔۔ مجھے نشہ دلا کے میرے پاؤں کی زنجیر بنا دی آپ نے اس رشتے کو۔ “
وہ چلایا تھا اور ٹیبل کو ٹھوکر مارتا وہ لمبے ڈگ بھرتا وہاں سے نکلتا چلا گیا جبکہ زریاب خان پشت پہ دونوں ہاتھ باندھے اسے جاتا دیکھ رہے تھے اور عاھل خان جا رہا تھا یہاں سے، کھبی نہ واپس آنے کے لئے، اگر انہیں اس بات کی ذرا سی بھی بھنک پڑ جاتی تو اس لمحے شاید آگے بڑھ کے اسے جانے سے روک دیتے لیکن آنے والے کل سے بےخبر وہ عاھل خان کو جاتا دیکھ رہے تھے۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤