Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 19

سماہر لب بھینچے وقاص ملک کو دیکھ رہی تھی جبکہ وہ گھبرا گئے تھے لیکن خود کو کمپوز کرنے کی کوشش کرنے لگے۔
” یہ تمہارے پاس کیوں آئی ہے وقاص ؟؟ مین کچھ پوچھ رہی ہوں تم سے کہ اس کا تم سے کیا تعلق ہے “
تابعہ کی تیز آواز گونجی تھی جبکہ وقاص ہنسنے کی کوشش کرنے لگے ۔
” میں جب میران کے ساتھ ان کے گھر جاتا تھا تو مجھ سے مانوس سی ہوگئی ہے یہ بچی ۔ “
سماہر تاسف بھری آنکھوں سے اپنے بابا کو دیکھ رہی تھی، کتنا اور کب تک جھوٹ بولے گیں وہ، سماہر بس سوچ کے رہ گئی۔
” اوہ تو تم پہلے سے جانتے تھے کہ میران شادی کر چکا ہے اور ایک بیٹی بھی ہے اور پھر بھی اپنی بیٹی کو آگ میں جھونک دیا اس عیاش کے ساتھ “
تابعہ پھر سے چلائی تھی۔
” مما ۔۔۔ “
سماہر کی دبی دبی آواز پہ انہوں نے سماہر کو دیکھا تھا۔
” تم چپ رہو ۔ “
وہ پھر سے وقاص ملک کو دیکھنے لگی جبکہ سماہر کی نظریں وقاص ملک کے پیچھے چھپی عیشل پہ گئی جسے وقاص ملک خود سے الگ کرنے کی کوشش میں تھے، غصے کی لہر دوڑی تھی اس کے اندر، لیکن وہ خاموش رہی، گہرا سانس لیتی وہ آگے بڑھی تھی عیشل کو لینے کے لئے۔ وقاص ملک اسے ہی دیکھنے لگے جبکہ وہ تاسف بھری نظروں سے انہیں دیکھتی عیشل کا ہاتھ تھام کے اسے وقاص ملک سے الگ کر چکی تھی۔ ان نگاہوں میں کچھ نہ کہنے کی امید وہ دیکھ چکی تھی اور تبھی لب بھینچ کے وہ عیشل کو لے کے سیڑھیاں چڑھنے لگی جبکہ وقاص ملک نے ایک کڑی نظر اپنی بیوی پہ ڈالی تھی۔
” سماہر میران کے ساتھ خوش ہے تو تم کیوں بیچ میں آ رہی ہو “
” وہ بےوقوف ہے اور تم اور تمہاری بیٹیاں مل کے مجھے پاگل بنا رہی ہے ۔ “
چیختی چلاتی وہ بھی رخ موڑ کے اپنے کمرے کی طرف بڑھی تھی جبکہ ایک گہرا سانس خارج کرتے، وقاص ملک صوفے پہ ڈھے گئے تھے۔ ان کی نظریں اب بھی سیڑھیوں پہ تھی جیسے ابھی بھی وہاں سماہر کھڑی ہو اور تاسف بھری نظروں سے انہیں دیکھ رہی ہو، وہ سر جھٹک گئے تھے۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
” اے پاگل پٹھان “
وہ جو ائرپورٹ میں، اپنے کو ورکرز کے ساتھ آ رہا تھا جب اس تیز اواز پہ اسے رکنا پڑا اور مڑ کے دائیں طرف بھی دیکھنا بھی پڑا جبکہ اس لفظ پہ اس کے کو ورکرز مسکرانے لگیں۔
“پاگل پٹھان “
ڈاکٹر شرجیل نے مسکراتے ہوئے کہا تھا ۔
” میرب کا پاگل پٹھان “
ڈاکٹر نادیہ نے بھی لقمہ دیا تھا۔
” یارررر۔۔۔ ایکسکیوز می “
ارتسام ان کو دیکھتا کہنے لگا ۔
” ہاں جاؤ جاؤ۔۔ پاگل پٹھان “
شرجیل نے ہنستے ہوئے کہا تھا جبکہ وہ سر کھجاتا آگے بڑھ کے میرب کے قریب آیا تھا جو اسے ہی منہ بنا کے گھور رہی تھی۔
” سب کے بیچ ایسے کون بلاتا ہے ؟”
ارتسام اسے نظر بھر کے دیکھتا اب سوال کر رہا تھا ۔
” میں۔۔۔ “
میرب چہکی تھی ۔
” یاررررر ایسے تو نہیں کرو “
اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ محترمہ ناراض کس بات پہ تھی اب ۔
” تمہاری حرکت کا ری ایکشن ہے یہ “
وہ منہ بنا کے بولی تھی ۔
” کون سی حرکت؟؟”
ارتسام نے بھنویں اچکائی تھی۔
“مجھے پروپوز کیے بنا میرے گھر انکل آنٹی کو بھیج دیا پروپوزل دینے “
اپنے بال جھٹک کے وہ اب اپنے ناخنوں کو دیکھنے لگی ۔
” تو اس دن کیا تھا وہ ؟؟ جو میں نے کیا تھا اگر پروپوزل نہیں تھا وہ “
ارتسام حیرت سے اسے دیکھنے لگا جبکہ وہ کندھے اچکا گئی ۔
” مجھے کیا پتہ ۔ “
” یارررر میرب ، تنگ کرو گی اب مجھے “
میرب نے اسے غور سے دیکھا تھا، جس کا چہرہ تھکا تھکا سا تھا، بال ماتھے پہ بکھرے پڑے تھے، دل یکبارگی دھڑکا تھا اور لبوں نے مسکراہٹ کو چھوا تھا ۔
” کیا ؟؟”
ارتسام اب سوالیہ نشان بنا ہوا تھا ۔
” VIP … “
وہ مسکرائی تھی جبکہ ارتسام بھی جیسے ہلکا سا ہو کے مسکرایا تھا۔
” جی ہونے والی مسز VIP “
” میں ناراض تھی تم سے “
وہ اب جیسے مکمل بدلی ہوئی تھی، ناراض نظروں میں اپنائیت لیے وہ ارتسام کو دیکھ رہی تھی۔
” میں منا لیتا ہوں، مجھے کوئی مسئلہ نہیں “
میرب نے ہاتھ بڑھا کے اس کی ٹائی کھینچی تھی۔
” پاگل پٹھان “
اور بلکل اچانک ارتسام ہنس پڑا تھا کہ میرب کی دھڑکنیں منتشر کر گیا تھا تبھی پلکیں گالوں پہ سایہ فگن ہو کے، پھر سے اٹھی تھی۔
” اچھا چلو ۔۔۔ “
ارتسام نے کہتے کہتے پیچھے مڑ کے دیکھا تھا اس کے کو ورکرز جا چکے تھے اور پھر سے میرب کو دیکھنے لگا ۔
” چلو ساتھ میں چلتے ہیں، اگر تمہیں کوئی اعتراض نہیں ہے تو “
میرب مسکراتی نفی میں سر ہلانے لگی ۔
” اتنے دنوں بعد تمہیں دیکھا ہے آج، سارے گلے شکوے ختم “
ارتسام کھل کے مسکرایا تھا۔
” اگر ہیں بھی تو، مجھے کوئی مسئلہ نہیں، میں بصد شوق سارے گلے شکوے دور کرنے کے لیے تیار ہوں “
” چپ ۔۔ “
میرب مسکرا کے نظریں پھیر گئی تھی۔
” عارفین آنٹی سے کہو ناں کہ آغا جان اور ماں کو ہاں بول دیں “
ارتسام اپنے شرٹ کی آستینیں فولڈ کرتا کہنے لگا جبکہ میرب چور نظروں سے اس کی کلائی میں موجود ریسٹ واچ کو دیکھنے لگی جو اس پہ بےحد جچ رہی تھی اور پھر نظریں بھٹک کے اس کے چہرے پہ گئی تھی اور تیزی سے نظریں چرائی بھی تھی، دل پہ ہاتھ رکھ کے وہ ارتسام سے دو قدم آگے بڑھی تھی۔
” ارے کیا ہوا ؟؟”
ارتسام اس کے سرخ پڑتے چہرے کو چلتے کو ہوئے دیکھنے لگا جبکہ وہ نفی میں سر ہلانے لگی۔
” میرب ۔۔۔”
جبکہ وہ اب بھی اپنے تیزی سے دھڑکتے دل پہ ہاتھ رکھے ہوئی تھی۔
” نام مت لو ارتسام پلیز “
” کیوں؟؟”
وہ اس کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے پوچھ رہا تھا ۔
” میرا دل کانپنے لگتا ہے “
” وہاٹ “
ارتسام ہنسنے لگا جبکہ میرب کی ناراض نظروں نے اسے گھورا تھا اور وہ چپ کر گیا تھا۔
” اچھا بیٹھو گاڑی میں “
وہ دونوں گاڑی تک پہنچ گئے تھے اور ارتسام نے اس کے لئے گاڑی کا دروازہ کھولا تھا جبکہ میرب مسکراتی گاڑی کے فرنٹ سیٹ پہ بیٹھ چکی تھی اور ارتسام بھی ڈرائیونگ سیٹ پہ آ بیٹھا تھا۔
” امممم تو مجھے آج رات ہی جواب چاہئے، گھر جاتے ہی میں آغا جان اور ماں کو پھر سے بھیجنے لگا ہوں “
میرب نے چونک کے اسے دیکھا تھا اور پھر زیر لب مسکراتی نظریں پھیر گئی تھی جبکہ ارتسام گاڑی اسٹارٹ کرنے لگا کہ اب منزل بےحد قریب محسوس ہو رہی تھی اسے اور راستہ بےحد خوبصورت۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
شام ہو رہی تھی جب گاڑی کورٹ کے سامنے آ رکی تھی اور گود میں رکھے ہاتھوں کی انگلیاں مروڑتی، اس نے چپکے سے گاڑی کی شیشے کے پار اس عمارت کو دیکھا تھا جہاں بےحد رش تھا، دل یکبارگی زور سے دھڑکا تھا، جب اسے اپنے نازک، کمزور پڑتے ہاتھوں پہ مضبوط مردانہ ہاتھ کا لمس محسوس ہوا اور وہ چونک اپنے قریب، ڈرائیونگ سیٹ پہ بیٹھے ازمائر کو دیکھنے لگی جو مسکرا کے اسے ہی دیکھ رہا تھا، آسمانی رنگ کے ڈوپٹے کے ہالے میں، اس کی دودھیا رنگت مکمل سفید پڑ رہی تھی اور ہونٹ خشک ہو رہے تھے۔
” ع ۔۔۔ عید کے ب ۔۔۔۔ بعد کر لیتے ہیں سب سے بات کر کے “
اس کی کانپتی آواز میں کہی ہوئی بات پہ ازمائر نے لب بھینچ لیے تھے اور پھر سر جھٹک گیا تھا۔
” مائزہ ۔۔ تمہیں لگتا ہے کہ فیملی ہماری بات سنے گی ؟؟ اسپیشلی وقاص چاچو تو تمہاری اینگجمنٹ کا سوچ رہے ہیں اپنے دوست کے بیٹے کے ساتھ، تم کیا اس کا ساتھ قبول کر لو گی ؟؟ مجھ سے محبت بھول پاؤ گی ؟؟”
مائزہ خاموشی سے لب کاٹنے لگی، آنکھوں کے کٹورے لبریز ہو گئے تھے، جس کا فائدہ اب اچھے سے اٹھانے والا تھا ازمائر ارتضی ملک، تبھی اس کی طرف جھکا تھا۔
” میں شرمندہ ہوں اپنے الفاظ کے لئے مائزہ، اور میں سچے دل سے یہ پاک بندھن تم سے باندھنا چاہتا ہوں، کیونکہ تمہاری محبت نے مجھے مکمل اپنا اسیر کر لیا ہے”
مائزہ بھیگی آنکھوں سے، سانس روکے اسے اپنے قریب بولتا دیکھ رہی تھی جبکہ ازمائر نے نرمی سے اپنے ہاتھ کی پشت سے، اس کے گال کو سہلایا تھا۔
” جب ہم نکاح کر کے سب کے سامنے جائیں گے، تب وہ لوگ کچھ نہیں کر سکے گیں “
نکاح کے نام پہ مائزہ کا دل پھر سے ڈوب کے ابھرا تھا، وجود بےجان سا ہو رہا تھا لیکن ازمائر کی محبت کا رنگ بھی تو اس کے وجود پہ مکمل چڑھ چکا تھا، وہ اس شخص کی نزدیکی پہ پگھل رہی تھی، اس کے پرفیوم کی خوشبو میں وہ جیسے حواس باختہ ہو رہی تھی، اپنا آپ جیسے ہار رہی تھی، وہ ہارے ہوئے جواری کی طرح، اس کی ساری بےاعتنائیاں بھول کے، اس کے اس ایک لمس میں گم ہو گئی تھی، وہ شاید یہ بھی بھول گئی تھی کہ اس کے نزدیک بیٹھا یہ شخص، اس کی بہن سے بےحد محبت کا مرتکب ہوا ہے اور پہلی محبت بھلائے نہیں بھولتی۔
” کیا سوچ رہی ہو مائزہ ؟؟”
ازمائر اس کی جھکی نظروں اور سوچوں میں گم وجود کو دیکھ کے جھنجھلایا تھا لیکن پھر بھی لہجہ دھیما رکھا، اتنا دھیما کہ بات کرتے اس کی گرم سانسیں مائزہ کی گردن کو جھلسانے لگی تھی، تبھی گھبرا کے سر نفی میں ہلانے لگی۔
” تو پھر چلتے ہیں “
اس کے لب مزید قریب ہوئے تھے مائزہ کے، کہ اس کے کان کی لو جلنے لگی تھی ازمائر کے لبوں کے لمس سے۔ مائزہ جھینپی تھی اور زیر لب مسکراتا ازمائر اسے کچھ بھی سوچنے کا موقع دیے، اس کی گردن پہ اپنے جلتے لب رکھ چکا تھا، مائزہ کو اپنے دل کی دھڑکنیں سنبھالنا مشکل لگی تھی، اس کا وجود ازمائر کی ذرا سی قربت سے کانپنے لگا تھا اور ازمائر اس کی کیفیت سے لطف اندوز ہوتا جھکا تھا اور اس کی گود میں رکھےاس کے ہاتھ تھام کے ، اس پہ اپنے لب رکھتا اسے مکمل مسمرائز کرنے کا ارادہ رکھتا تھا، کیونکہ وہ مائزہ کی کیفیت سے بخوبی آگاہ ہو رہا تھا کہ ازمائر کی نزدیکی پہ وہ کس قدر بوکھلا رہی ہے اور تبھی گاڑی سے اتر کے، وہ دوسری طرف سے آ کے مائزہ کے لئے بھی گاڑی کا دروازہ کھول چکا تھا، مائزہ نے جھینپی نظروں سے اسے دیکھا تھا کہ جو بھی کچھ دیر پہلے ہوا تھا وہ مائزہ کی کیفیت کو مکمل آشکار کر چکا تھا ازمائر پہ، تبھی اہنا نازک کانپتا ہاتھ ازمائر کے مضبوط ہاتھ پہ رکھتی وی نیچے اتری تھی اور اس لمحے وہ سب بھول چکی تھی، گھر کو، ماں باپ کو، بہن کو، چچا چچی کو، اپنی عزت نفس کو ، اسے یاد تھا تو یہ کہ ، ابھی کچھ دیر پہلے ازمائر اسے اپنے محبت بھرے لمس میں مکمل مسمرائز کر چکا ہے اور تبھی قدم قدم وہ ازمائر کے ساتھ، سامنے کورٹ کی طرف بڑھ رہی تھی۔ اس کے لب مسکرا رہے تھے جبکہ ازمائر کی آنکھوں میں خاص چمک تھی، جیت کی چمک، فاتح ہونے کی چمک، انتقام کی چمک، جسے یہ باولی سی لڑکی دیکھ ہی نہیں پائی تھی۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
افطاری کے بعد وہ بالکونی میں آ کھڑی ہوئی تھی، نظریں آسمان کی طرف اٹھی ہوئی تھی جہاں چاند اپنے عروج پہ پہنچنے کے بعد اب اپنے زوال پہ پہنچ چکا تھا، رمضان المبارک کا یہ مقدس مہینہ بھی آہستہ آہستہ اپنے اختتام کی طرف جا رہا تھا اور اب اسے اس مقدس مہینے کی طاق راتوں میں اپنے رب کو راضی کر کے، اس شخص کو بار بار اپنے رب سے مانگنا تھا، جو مکمل اس کا ہی تو تھا لیکن پھر بھی وہ مانگنا چاہتی تھی اس شخص کو ہر بار، بار بار، اس شخص کو سوچ کے ہی لب دھمیے سے مسکرائے تھے اور چہرے پہ دھنک رنگ پھیل گئے تھے۔ کھنکھارنے کی آواز پہ وہ اپنی سوچوں سے چونک کے مڑی تھی اور سامنے اپنی مردانہ وجاہت سمیت کھڑے میران ارتضی ملک کو دیکھ کے، اس کی آنکھیں جیسے حیا کے رنگوں سے بھر گئی تھی، وہ تو یہاں نہیں تھا اج، پھر یوں اچانک کیسے آ گیا؟ گاڑی بھی تو پورچ میں کھڑی نظر نہیں آئی تھی اسے،
” آپ کب آئے؟؟”
وہ جب بھی بوکھلا جاتی تو تم کی بجائے ہمیشہ آپ ہی کہتی۔
” جب مجھے ہی سوچ رہی تھی “
اس کے جواب پہ سماہر نے نظریں چرائی تھی۔
” آپ کو کیسے پتہ ؟؟”
” آپ کے چہرے پہ پھیلے ان خوبصورت حیا کے رنگ مجھے یہ بتا رہے ہیں، کہ آپ کے تصور میں میران ارتضی ملک ہی تھا”
اس کے مضبوط لہجے میں جواب دینے پہ سماہر بوکھلا کے مڑی تھی کہ چوری پکڑی گئی تھی جبکہ میران زیر لب مسکراتا اس کی پشت پہ آ رکا تھا اور ریلنگ پہ دونوں ہاتھ ایسے رکھے تھے کہ سماہر کا نازک وجود اس کے حصار میں مقید ہو گیا تھا جبکہ سماہر کو میران کی سانسیں اپنی پشت پہ محسوس ہو رہی تھی اور خود میں سمٹتی مسکرانے لگی۔
” سچ کہہ رہا ہوں میں ویسے “
اس کی مبہم سرگوشی پہ، وہ نظریں جھکا کے مسکرانے لگی جبکہ اس کی پشت پہ کھڑا میران بھی مسکرا رہا تھا۔
” ایک لمبے عرصے تک مجھے کھبی یہ محسوس نہیں ہوا تھا سماہر، کہ میں تم سے خاموش محبت کا مرتکب ہوا ہوں “
بھاری مدھم سرگوشی پہ سماہر رک کے اسے سننے لگی جبکہ میران کی نظریں آسمان پہ مرکوز تھی جیسے وہ کچھ سوچ رہا ہو۔
” تمہارے سامنے آ جانے سے، تمہاری کھلکھلاہٹیں سننے سے، تمہیں دیکھ لینے سے، کوئی بات کر لینے سے، میں بےحد مصروف ہونے کے باوجود بھی، اپنے رگ و پے میں سکون سا اترتا محسوس کرتا ہمیشہ، لیکن کھبی یہ محسوس نہیں ہونے دیا خود کو، کہ میں۔۔۔۔۔ “
وہ رکا تھا شاید کچھ سوچ رہا تھا۔
” میرا بچپن بےحد عجیب گزرا ہے، نفرتوں اور بےاعتنائیوں کے بیچ محبتوں کو ڈھونڈتا، ایک چھوٹا سا بچہ، جسے محبت کی کمی ہمیشہ محسوس ہوتی رہی، جسے ہمیشہ یہ باور کرایا گیا کہ تم پسندیدہ نہیں ہو، تم ان چاہے ہو، un wanted child may be ۔۔۔ مجھے ہمیشہ یہی محسوس ہوا “
کہتے کہتے وہ پھر رکا تھا، سماہر ان الفاظ کے کھوکھلے پن کو محسوس کر رہی تھی۔
” اور پھر وہ وقت بھی آیا کہ میں اپنی عمر سے پہلے ہی اتنا بڑا ہو گیا کہ مجھے خالص محبتوں میں بھی کھوٹ نظر آنے لگا۔ میں کھبی میرب کے لئے اچھا بھائی نہ بن سکا، شازم کی بےپناہ محبت بھی مجھے اپنے خول سے باہر نہ لا پائی، م ۔۔۔۔ م ۔۔۔۔ “
وہ شاید کہہ نہیں پا رہا تھا یہ لفظ۔
” م ۔۔۔ ماں، وہ بھی مجھے غلط لگنے لگی تھی، اور پھر مجھے نہ باپ کی چاہ رہی، نہ ماں کی، نہ بھائی کی، میں مکمل سرد انسان بن گیا جس کا وجود اس قدر برف کا سیل بن گیا تھا کہ اسے توڑنا بےحد مشکل بن گیا لیکن تم ۔۔۔۔ سماہر وقاص ملک “
وہ شاید مسکرایا تھا لیکن آنکھوں میں ابھی سوچوں کی پرچھائیاں تھی۔
” وہ نازک سی، کم سن سی لڑکی، جس کی آنکھیں اکثر چپکے سے مجھے دیکھتی تھی “
سماہر چونکی تھی، وہ دھڑکتے دل کے ساتھ مڑنے لگی تھی لیکن میران نے اسے روکا تھا اور تبھی وہ یونہی کھڑی اسے سننے لگی اپنی پشت پہ۔
” کچھ نہ کچھ لکھتی ہوئی، کچھ نہ کچھ سوچتی ہوئی، اکثر اپنی سوچوں میں گم، اپنی کتابوں میں جھکی ہوئی، اس بات سے بےنیاز کہ شوخ ہوائیں اس کے بالوں سے اٹھکھیلیاں کھیل رہی ہے، جھکی نظروں کے ساتھ، اس کے گنگناتے لب اور اس کے اڑتے بالوں کا یہ منظر کوئی بےحد دلچسپی سے دیکھ رہا ہے، کسی آنکھوں کو سکون سا محسوس ہو رہا ہے لیکن تب بھی مجھے محسوس نہیں ہوا کہ یہ تم سے خاموش محبت ہے میری۔ “
وہ ہلکا سا ہنسا تھا جبکہ سماہر سانس روکے اسے سن رہی تھی۔
” میرے سامنے آ جانے سے، وہ لرزتی پلکوں کا منظر میں نے کئی بار حفظ کیا ہے، بار بار پلکیں جھکنا اور پھر اٹھنا، بات کرتے کرتے نظریں چرانا، اور کھبی کھبی ان آنکھوں میں خوشگوار حیرت ابھرنا، کھبی چور نظروں سے اس اور دیکھنا، جہاں سے میں گزر رہا ہوں اور پھر ان آنکھوں کا مجھے تعاقب کرنا، بےحد سکون بخش تھا میرے لئے ۔ اس قدر سکون بخش کہ مجھے تم سے محبت ہو چکی تھی اور اسقدر محبت کہ میں باہر بھی ہوتا، آفس ہوتا، کسی انٹرویو میں ہوتا، کیمرے کے سامنے ہوتا، مجھ میں تمہارا عکس نظر آنے لگا یہاں تک کہ سب یہ سوال کرنے لگے کہ کون ہے وہ ؟؟”
اب کے سماہر زبردستی مڑ کے اسے دیکھنے لگی جبکہ میران بھی گھمبیر نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔
” آپ مجھے چوری چوری دیکھ رہے تھے۔ “
ناراضگی بھرا لہجہ تھا اور میران بےساختہ ہنس دیا تھا۔
” یہ تو مجھے تم سے کہنا چاہیئے مسز سماہر میران ملک ۔ “
منہ بنا کے سماہر نظریں چرا گئی جبکہ میران اس کے بےحد قریب ہوا تھا اور خاموشی سے اسے دیکھنے لگا۔ دل میں یکبارگی خیال آیا تھا کہ اسے اپنی اپنی حقیقت بتا دے، سب سچ بتا دے، عیشل کون ہے ؟؟ وہ میران کی بیٹی نہیں ہے ، سماہر پہلی عورت ہے جو اس کی زندگی میں ہمیشہ سے رہی ہے، اس نے کھبی سماہر کے علاوہ کھبی کسی کو نہیں چھوا، نہ خیال و خواب میں اور نہ ہی حقیقت میں، لیکن وہ لب بھینچ گیا جبکہ سماہر اسے ہی دیکھ رہی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ میران کچھ کہنا چاہ رہا ہے لیکن کہہ نہیں پا رہا۔
” میں سن رہی ہوں “
میران چونکا تھا، آنکھوں میں حیرت ابھری تھی جبکہ سماہر مسکرا رہی تھی۔
” اتنا سب بتا چکے ہو مجھے تو مزید کچھ کہنا باقی رہ گیا ہے، وہ بھی بتا دو میران “
میران کے چہرے پہ زخمی مسکراہٹ آ ٹھہری تھی جبکہ سماہر مسلسل اسے ہی دیکھ رہی تھی جب اچانک پورچ میں گاڑی تیز رفتاری سے آ رکی تھی، دونوں نے چونک کے بالکونی سے نیچے دیکھا تھا جہاں گاڑی سے ازمائر اور مائزہ نیچے اتر رہا تھا اور قریب آ کے ازمائر نے مائزہ کا ہاتھ تھاما تھا جبکہ مائزہ کے ہاتھ کچھ پیپرز بھی تھے۔
” مائزہ اور ازمائر ۔۔۔ “
سماہر کا لہجہ حیرت میں ڈوبا ہوا تھا اور اس سے کئی زیادہ میران کی آنکھوں میں سرد پن تھا جبکہ لب بھینچے ہوئے تھے۔

💕💕💕💕💕💕💕💕💕