Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 06

” آپ کیسے مان سکتے ہیں اس رشتے کے لئے ؟”
تابعہ ان کے سامنے بیٹھی پوچھ رہی تھی جو موبائل سائیڈ پہ رکھ کے اب انہیں ہی دیکھ رہے تھے۔
” کیا کمی ہے اس میں؟؟ جس کے لئے انکار کروں میں؟”
وقاص سنجیدگی سے پوچھنے لگے جبکہ تابعہ لب بھنیچ گئی تھی ۔
” ایک آوارہ، قماش، شرابی سیاستدان ہے وہ ۔ “
تابعہ چٹخی تھی جبکہ وقاص کے ماتھے پہ بےشمار بل پڑ چکے تھے۔
” تابعہ تمیز کے دائرے میں بات کرو، تم میرے بھتیجے کے متعلق بات کر رہی ہو”
تابعہ نے آنکھیں گھمائی تھی۔
” اور ہماری بیٹی جس رشتے کے لئے اپنی رضامندی کا اظہار کرے گی، میں وہی رشتہ اس کے لئے پسند کروں گا “
” کیا مطلب ہے آپ کا ؟؟ سماہر اس رشتے کے لئے راضی ہے ؟؟ کیسے ہو سکتا ہے ؟؟ آپ کو کیسے پتہ ؟”
تابعہ اچانک سے پے در پے سوال کرنے لگی جبکہ وقاص سنجیدگی سے اپنی بیوی کو دیکھنے لگے ۔
” سماہر پہ دباؤ ڈالنے کی ضرورت نہیں ہے تمہیں تابعہ، سماہر میری بیٹی ہے اور وہ خوش ہے اس رشتے کے لئے اور اس کی خوشی میں، میں بھی خوش ہوں “
” اس سے تو میں بات کرتی ہوں، کیسے ہاں بول سکتی ہے وہ میری مرضی کے بنا “
تابعہ غصے سے اٹھ کھڑی ہوئی تھی جب وقاص نے ان کا ہاتھ پکڑ کے انہیں روکا تھا ۔
” سماہر کا دل اگر دکھانے کی بھی کوشش کی تابعہ، تو مجھ سے کوئی شکایت مت کرنا “
تابعہ نے غصے سے اپنا ہاتھ چھڑایا تھا اور تن فن کرتی وہاں سے جا رہی تھی اب ۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
” ڈیڈ ایسا کیسے کر سکتے ہیں آپ میرے ساتھ ؟؟ میں نے آپ سے بات کی تھی ناں؟”
جب سے یہ بات ازمائر کے علم میں آئی تھی، وہ غم و غصے سے پاگل ہو رہا تھا، آنکھوں میں بےیقینی لیے وہ دشاب کو دیکھ رہا تھا جو بےحد بےبس نظر آ رہے تھے۔
” کچھ تو بولیے، کچھ تو بتائیے کیوں کیا آپ نے میرے ساتھ ایسا ؟؟”
وہ اب کے چلایا تھا، دشاب اپنے بیٹے کو دیکھنے لگے ۔
” کیونکہ میران نے بھی مجھ سے سماہر کے لئے بات کی تھی۔ “
ان کی آواز پست تھی۔
” تو ؟؟ تو ڈیڈ؟؟ اپنے بیٹے سے رشتہ پھر سے بحال کرنے کے لئے آپ اپنے اس بیٹے کو قربانی کا بکرا بنا گئے ؟”
ازمائر کی آنکھوں میں غصہ اتر آیا تھا۔
” میں نے ان کے سامنے دو رشتے رکھے تھے اور انہوں نے میران کے لئے رضامندی کا اظہار کیا تھا ۔ “
دشاب رسانیت سے کہہ رہے تھے جبکہ ازمائر کو اپنا دل پھٹتا محسوس ہو رہا تھا۔
” میران کو مجھ پہ ترجیح کیسے دے سکتے ہیں وقاص چاچو؟”
وہ بال نوچنے والا ہو گیا تھا ۔
” وقاص نہیں، سماہر نے خود میران کے لیے رضامندی کا اظہار کیا ہے “
دشاب کے الفاظ جیسے بم بن کے گرے تھے اس پہ، وہ حیران آنکھوں میں سرخی لیے انہیں دیکھ رہے تھے۔ یہ کیا کہہ رہے تھے وہ ؟؟ سماہر اس پہ میران کو ترجیح دے گئی ؟؟ کیوں؟؟ وہ تو سب سماہر کو بتا تو چکا تھا پھر ایسا کیوں؟؟ وہ جانتی تھی ازمائر کے احساسات اہنے لئے، پھر کیوں؟؟ کیوں؟؟ دل و دماغ بھاری ہو رہا تھا اور سرخی مائل آنکھوں سے جیسے خون چھلکنے لگا ۔
” نہیں چھوڑوں گا، اس بار تو نہیں چھوڑوں گا”
وہ غصے اور نفرت سے دانت پیستا کمرے سے باہر نکلا تھا، دشاب بھی اپنے بیٹے کے تیور دیکھتے باہر نکلے تھے اس کے پیچھے، وہ تیز قدم اٹھاتا سیڑھیوں کی طرف بڑھ رہا تھا جب عظمی نے آگے بڑھ کے اسے روکنے کی کوشش کی تھی۔
” ازمائر کہاں جا رہے ہو ؟”
ازمائر جھٹکے سے اپنا بازو اس کے ہاتھ سے چھڑاتا سیڑھیاں چڑھنے لگا ۔
” میران ۔۔۔ میران “
وہ چیخ رہا تھا ، دشاب اور عظمی بھی اس کے پیچھے اوپر جا رہے تھے، عارفین دل پہ ہاتھ رکھے کمرے سے باہر آئی تھی، میرب بھی کمرے سے باہر نکلی تھی اور بپھرتے، چیختے چلاتے ازمائر کو خوفزدہ آنکھوں سے دیکھنے لگی، دل تیزی سے کانپ رہا تھا کیونکہ وہ دونوں بھائیوں کی دشمنی سے بخوبی واقف تھی ۔
” میران ۔۔۔۔ “
کمرے کے دروازہ کھول کے، میران پینٹ پاکٹس میں دونوں ہاتھ ڈالے، پرسکون انداز میں باہر آیا تھا، ازمائر اس پہ جھپٹنے کے لئے آگے بڑھا ہی تھا، جب دشاب نے آگے بڑھ کے اسے روکنے کی کوشش کی تھی ۔
” ازمائر نہیں۔۔ “
” ذلیل انسان، کس بات کا انتقام لے رہے ہو تم مجھ سے؟ جانتے تھے میری فیلنگز سماہر کے لئے، پھر بھی تم نے یہ گھٹیا حرکت کی ۔۔۔۔ “
وہ چلاتا، غراتا میران کے قریب آیا تھا اور اسے مارنے کے لئے مکہ مارنا چاہا، جب میران نے اس کا مکہ ہوا میں ہی روک دیا تھا اور طنزیہ نگاہوں سے اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگا ۔
” روتے ہوئے اچھے لگ رہے ہو لیکن جانتے ہو کیا حقیقت ہے ؟؟ جس کے لئے تم رو رہے ہو اس وقت میرے سامنے، وہ تم پہ مجھے ترجیح دے گئی ہے کیونکہ تم ابھی اس مقام پہ نہیں پہنچ پائے، جہاں اس وقت میں ہوں اس کی آنکھوں میں۔ “
” یو باسٹرڈ “
اس نے دوسرے ہاتھ کا وار کیا تھا میران پہ اور پھر اسے دھکا دیا تھا لیکن میران اس کا وار ناکام بناتا خود اس پہ وار کرتا اسے دیوار سے پن کر گیا تھا ۔
” ازمائر ۔۔ “
” میران ۔۔”
دونوں مائیں چلائی تھیں جبکہ میرب یہ سب دیکھ کے رو رہی تھی۔ دشاب آگے بڑھے تھے ان دونوں کو روکنے کے لئے، لیکن شاید وہ رکنے والے نہیں تھے۔ تبھی ایکدوسرے کو زخمی کرنے میں مگن تھے ۔ ایکدوسرے کی آنکھوں میں نفرت سے دیکھتے وہ وار پہ وار کر رہے تھے۔ ایک کا ہونٹ پھٹ گیا تھا تو دوسرے کے ناک سے خون بہہ رہا تھا، ایک کے ماتھے پہ زخم آیا تھا تو دوسرے کی شرٹ پہ خون کے چھینٹے پڑے تھے۔ عارفین کے لئے یہ سب دیکھنا مشکل تھا، تبھی وہ تیزی سے آگے بڑھ کے، بنا خود کے زخمی ہو جانے کا خیال کیے، میران کو کندھے سے کھینچ کے پیچھے کیا تھا ۔
” میران تمہیں میری قسم ہے بس کر دو “
میران گہرے سانس لیتا اپنی ماں کو دیکھنے لگا جبکہ ازمائر بھی رک چکا تھا اور اب گہرے سانس لیتا، آنکھوں میں نفرت لیے میران کو دیکھ رہا تھا۔ عظمی نے اس کا بازو تھامنا چاہا لیکن وہ جھٹکے سے اپنا بازو اس کی گرفت سے آزاد کر چکا تھا۔ شکایت بھری نظر دشاب پہ ڈالی تھی۔
” میں شاید آپ کا بیٹا ہی نہیں ہوں “
دشاب تڑپ ہی گئے تھے۔ ازمائر نے میران کی طرف دیکھا تھا جو طنزیہ انداز میں مسکراہٹ اس کی طرف اچھال رہا تھا۔ خود پہ کنٹرول کرتا وہ جھٹکے سے رخ موڑ کے سیڑھیاں اترنے لگا تھا، دشاب بھی جھکے کندھوں کے ساتھ سیڑھیوں کی طرف بڑھے تھے ۔ عظمی نے تیز نظر میران پہ ڈالی تھی۔
” قابل نفرت ہو تم۔ مر ہی جاؤ تم تو “
نفرت سے کہتی وہ سیڑھیاں اتر رہی تھی۔ آنکھوں میں آنسو لیے عارفین اپنے زخمی بیٹے کو دیکھتی اپنے کمرے کی طرف بڑھی تھی، جبکہ میرب وہیں کھڑی اپنے بھائی کو دیکھ رہی تھی۔ اسے اپنے اس بھائی سے بےحد محبت تھی، یہ بات الگ تھی کہ وہ کھبی اچھا بھائی بن کے، میرب کے شانہ بہ شانہ نہیں رہا تھا لیکن وہ بہن تھی، اپنے بھائی پہ جان نچھاور کر دینے والی ۔ چھوٹے قدم اٹھاتی وہ میران کے قریب آئی تھی۔
” میں بینڈج کر دوں بھائی ؟؟”
میران اسے دیکھنے لگا جو آنکھوں میں آنسو لیے اسے دیکھ رہی تھی، دل پسیج سا گیا تھا، وہ جو ہمیشہ سب کو سنگدل، سرد اور بداخلاق انسان نظر آتا ہے، اندر سے وہ نرم انسان شاید کوئی دیکھ ہی نہیں پا رہا تھا۔ اس نے سر جھٹکا تھا ۔
” تم ڈاکٹر ہو ؟؟”
میرب لب کاٹنے لگی اور میران سر جھٹک کے اپنے کمرے میں گیا تھا اور میرب بھیگی آنکھوں سے بند دروازے کو دیکھتی رہی ۔ تین تین بھائیوں کے ہوتے ہوئے بھی اسے اکثر لگتا، اس کا کوئی نہیں، وہ اکیلی ہے، ایسا کوئی بھائی نہیں ہے اس کا، جسے وہ بنا کسی ہچکچاہٹ کے بلا سکے ۔ وہ سر جھٹک کے اب سیڑھیوں کی طرف دیکھ رہی تھی۔ اس کی سوچوں کا محور اب ازمائر تھا جو مکمل ٹوٹ گیا تھا آج اور وہ جانتی تھی اس سب میں میران کا ہاتھ زیادہ تھا۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
” دماغ تو نہیں خراب اس کمینے کا ؟ جو تمہارے کلینک پہنچ گیا “
آبگینے غصے سے چلائی تھی جبکہ پریشے لب بھینچے اسے دیکھنے لگی ۔
” کیا ؟؟ ایسے کیا دیکھ رہی ہو ؟؟ دل میں محبت جنم لے رہی ہے کیا اس کے لئے ؟؟ اس کمینے دھوکے باز کے لئے، جو ایسے دیکھ رہی ہو “
آبگینے پھر سے بپھری تھی جبکہ پریشے سر ہی پکڑ کے بیٹھ گئی اپنا ۔
” اللہ کا واسطہ ہے آبگینے، بس کر دو یار ، مجھے تو اب پچھتاوا ہو رہا ہے تمہیں سب بتا کے “
آبگینے نے منہ بنایا تھا ۔
” تم میری بہن ہو پریشے، مجھے تمہارا حد سے زیادہ خیال ہے، اور یار محبت کرتی ہوں میں تم سے، مجھے غصہ آتا ہے اس پہ جو تمہیں ہرٹ کرے، تبھی تمہارے لئے شہباز بھائی کو چنا میں نے،
Loving .. caring.. strong “
وہ بےحد پیار اور احترام سے شہباز کا ذکر کر رہی تھی ۔
” اگر تمہارے شہباز بھائی بھی چھوڑ گئے تو ؟؟”
” نہیں، عورت کے لئے احترام اور محبت، مرد کی آنکھوں میں صاف نظر آتا ہے اور شہباز بھائی کی آنکھوں میں تمہارے لئے یہ دونوں احساس موجود ہے، بس تم اپنے چشمے نکال کے ان کی آنکھوں میں دیکھنے کی کوشش کرو “
آبگینے نرمی سے اسے سمجھا رہی تھی ، پریشے سے وہ چھوٹی تھی لیکن اس سارے عرصے میں اس نے پریشے کو سمیٹا تھا، اس کا بےحد خیال رکھا اور اسے ہمیشہ سمجھاتی رہی۔ پریشے نے بےحد محبت سے آبگینے کو بانہوں میں بھرا تھا اور اس کے گال پہ پیار کرتی اب اسے دیکھ رہی تھی۔
” بہت اچھی ہو تم آبگینے، تمہارے لئے بہترین شہزادہ لکھا ہے اللہ نے تمہارے نصیب میں۔ “
آبگینے کھلکھلائی تھی ۔
” جس شہزادے کا تم ذکر کر رہی ہو، کوئی فائدہ نہیں اس شہزادے کا، ہمارے ابا جان اس شہزادے کی پوری فیملی کو ناپسند کرتے ہیں “
پریشے کھلکھلا کے ہنس پڑی تھی۔
” سوچ لو ، جانے سے پہلے وہ کہہ گیا تھا تمہیں کہ خبردار جو میرے علاوہ کسی کا بھی سوچا تو “
آبگینے نے آنکھیں گھما کے منہ بنایا تھا ۔
” چل اے ۔۔۔ تم سب پاگل پٹھان ہو “
پریشے مزید کھلکھلائی تھی جبکہ آبگینے بھی کچھ سوچ کے ہنسنے لگی تھی ۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
” کیوں سماہر ؟؟”
گھر کے پچھلے لان کی طرف وہ دونوں آمنے سامنے کھڑے تھے۔اس کی سوالیہ نظریں سماہر پہ تھی جبکہ سماہر الجھی نظروں سے اس کے زخمی چہرے کو دیکھ رہی تھی اور ان آنکھوں میں پنہاں کرب پہ نظر پڑی تو نظریں ہی چرا گئی۔
” میں سب بتا تو چکا تھا آپ سے ، پھر کیوں؟؟ ہاتھ تھامنے سے ہی انکاری ہو گئی آپ “
اس کا لہجہ اور انداز کرب بھرا تھا ۔
” میں اپ کو اس نظر سے نہیں دیکھتی ازمائر “
سماہر کی آواز جیسے اسے اپنے وجود میں چھبتی مھسوس ہو رہی تھی، کتنا تکلیف دہ تھا اپنے محبوب کی زبان سے یہ سننا، کہ جس محبوب کے ساتھ کے لئے آپ نے خواب سجائے ہیں لیکن اس محبوب کو ان خوابوں سے کوئی سروکار ہی نہیں۔ آنکھیں پل بھر میں نم ہو گئی تھی ۔
” میں کیا کہوں اب سماہر؟ الفاظ بن ہی نہیں پا رہے، زبان سے ادا ہونے سے انکاری ہے، ٹوٹ ٹوٹ کے بکھر رہے ہیں جیسے ماتم کناں ہو۔ “
سماہر ان نم آنکھوں سے نظریں چرا کے جھکا گئی تھی۔
” میران ہی کیوں؟؟ میں کیوں نہیں؟؟”
وہ پھر سے ازمائر کو دیکھنے لگی ۔
” محبت بتا کے نہیں ہوتی کھبی “
” وہ شخص اپ کی پاک محبت کے قابل نہیں ہے سماہر۔ توڑ دے گا وہ آپ کو “
وہ پھر سے کہہ رہا تھا، سماہر کو اپنا دل ڈوبتا محسوس ہوا تھا ۔
” میں اپنی محبت سے اسے سدھار دوں گی۔۔ مجھے یقین ہے “
ازمائر بےبسی سے اسے دیکھ رہا تھا ۔
” ٹوٹ جائیے گی آپ “
” ٹوٹ کے جڑنے کا ہنر آتا ہے مجھے “
اس کی آنکھیں بھی نم ہوئی تھی۔
” میں اپ کو ٹوٹتا بکھرتا دیکھ نہیں سکوں گا “
لہجہ ٹوٹا ہوا سا تھا ۔
” آپ کے نصیب میں اچھی لڑکی ہے انشاءاللہ “
سمایر نے بات بدلنے کی کوشش کی تھی جبکہ ازمائر کے لبوں پہ کرب بھری مسکراہٹ آن ٹھہری تھی۔
” میرے نصیب میں سماہر وقاص ملک نہیں ہے، بس یہی شکایت ہے “
آنسو گال پہ ٹوٹ کے گرا تھا، سماہر کے لئے مشکل امر تھا ازمائر کو یوں دیکھنا، تبھی نظریں جھکا کے آگے بڑھی تھی جانے کے لئے ۔
” رک جائیں پلیز کچھ دیر “
کتنی آس اور امید سی تھی، سماہر کے بڑھتے قدم رکے تھے لیکن وہ مڑی نہیں تھی ۔
” رات کافی ہو گئی ہے ۔ “
” کالی سیاہ رات، اماوس کی رات، موت کی رات “
سماہر رک کے ازمائر کو دیکھنے لگی ۔
” کیوں ایسے باتیں کر رہے ہیں آپ؟؟”
” مجھے لگا تھا یہاں آنے سے پہلے کہ میں اپنی محبت کی شدت سے آپ کو منا لوں گا، میری محبت کا یقین دلا دوں گا، آپ کو اپنا نصیب بنانے کی ہر ممکن کوشش کروں گا لیکن آپ کے مقابل کھڑے ہو کے ایسے لگ رہا ہے جیسے میں کسی بت کے سامنے کھڑا، بار بار اس کی چوکھٹ پہ اپنا ماتھا ٹیک رہا ہوں اور وہ سن نہیں رہا، مجھے دلاسے کے دو لفظ نہیں بول رہا۔ “
وہ سر جھٹک کے کہہ رہا تھا جبکہ سماہر اسے دیکھ رہی تھی جب اچانک گاڑی کے ٹائر چڑچڑانے کی آواز آئی تھی۔ وہ دونوں چونکے تھے۔ میران ارتضی ملک نشے میں دھت، اپنے بھاری ہوتے سر کو سنبھالتا، گاڑی سے نکل رہا تھا، سماہر نہ جانے کیوں اس لمحے، ازمائر سے نظریں چرا گئی ۔
” یہ ہے آپ کا انتخاب، ہر رات وہ نشے میں دھت آئے گا اور ہر رات آپ اسے سہارا دے گی ۔ “
ازمائر کی بات پہ رک کے سماہر اسے دیکھنے لگی ۔
” اگر وہ سہارا مانگے گا، میں اس کے لئے سہارا بنوں گی، اگر وہ بیساکھی کی ضرورت محسوس کرے گا تو میں اس کا ہاتھ تھام کے اسے سہارا دوں گی، وہ محبت مانگے گا تو میں سراپا محبت بن جاؤں گی۔ میں نے میران ارتضی ملک سے مکمل محبت کی ہے، اس کی ساری برائیوں اور اچھائیوں سمیت، میں نے اس سے محبت کی ہے ۔ “
مضبوط لہجے میں اپنی بات کہہ کے وہ سر جھٹک کے آگے بڑھی تھی کہ یہاں رکنے کا کوئی فائدہ نہ تھا۔وہ میران ارتضی ملک سے محبت کرتی ہے اور آخری سانس تک کرتی رہے گی، اس کے ہر برائی سمیت وہ اس شخص کو اپنا سب مان بیٹھی تھی، کوئی بھی اسے میران ارتضی ملک سے الگ کرنے کی کوشش کر بھی لیں تو وہ اس کوشش کو ناکام بنا دے گی ۔ چلتے چلتے میران ارتضی ملک رکا تھا، سر اٹھا کے وہ اپنی سرخ ہوتی آنکھوں سے سماہر کے کمرے کی بالکونی کی طرف دیکھ رہا تھا۔ سماہر درخت کی اوٹ میں کھڑی، سانس روکے اسے دیکھ رہی تھی۔ وہ رو رہا تھا شاید، آنسو اس کی گال پہ پھسلے تھے اور سماہر کو وہ آنسو اپنے دل پہ گرتے محسوس ہوئے تھے ۔
” پوری دنیا بھی آپ کے خلاف ہو میران ارتضی ملک، میں پھر بھی اپ کا ہاتھ تھامے، آپ کے قریب ہی کھڑی ہونگی، یہ میرا وعدہ ہے خود سے اور اس رشتے سے جو بہت جلد ہمارے بیچ طے پانے والا ہے “
وہ دل میں خودکلامی کرتی، بھیگی آنکھوں سے میران ارتضی ملک کی پشت دیکھ رہی تھی جو لڑکھڑاتے بھاری قدموں کے ساتھ چلتا ہوا، اپنے پورشن کی طرف جا رہا تھا جبکہ ازمائر ارتضی ملک لب بھینچے، نم آنکھوں سے سماہر کو دیکھ رہا تھا جس کی تمام تر توجہ کا مرکز صرف میران کی ذات تھی اور وہ کچھ نہیں تھا۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤