Rate this Novel
Episode 11
” لالا ٹیرس پہ ہے “
میرب جو مہمانوں کے بیچ بیٹھی ہوئی تھی جب آبگینے کا میسج اسے آیا تھا اور وہ ہلکا سا مسکرا کے اپنے سامنے بیٹھی آنٹی کو دیکھنے لگی جو اسے ہی اپنی تیز نظروں سے تول رہی تھی، اپنے بیٹے کو لے کے وہ میرب کے رشتے کی بات کرنے آئی تھی۔ میرب مائزہ کو دیکھنے لگی اور وہ اچانک سے آنٹی کے بیٹے بلال کو دیکھنے لگی۔
” کچھ دیر ٹیرس پہ جانے کی بات کر رہے تھے آپ، تو چلتے ہیں؟”
مائزہ کی بات سن کے بلال آنٹی کو دیکھنے لگا جو سونے کے زیورات کے، ان کی نمائش کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی بتیسی کی بھی نمائش کر رہی تھی۔
” ہاں ہاں بیٹا جاؤ بچیوں کے ساتھ “
اپنے بیٹے کو کہہ کے وہ اب عارفین کو دیکھنے لگی۔
” میرا بیٹا بہت shy ہے، بس ہچکچا رہا ہے “
عارفین اور تابعہ نے مسکرانے پہ اکتفا کیا جبکہ بلال، مائزہ اور میرب کے ساتھ لاؤنج سے ہوتا سیڑھیاں چڑھنے لگا۔ ٹیرس پہ آ کے وہ ارتسام کو دیکھ چکی تھی، تبھی بلند آواز میں اسے کہنے لگی ۔
” آئیے بلال، یہ ہمارا پیارا سا ٹیرس ہے، یہاں شام کا وقت بےحد رومینٹک ہوتا ہے “
میرب کی آواز پہ کوئی کتاب پڑھتا ارتسام نظر اٹھا کے دیکھنے لگا لیکن میرب کے ساتھ موجود بلال نامی اس شخص کو دیکھ کے اس کے ماتھے پہ بل پڑ گئے تھے۔
” آپ بھی رومینٹک ہے کیا میرب ؟؟ “
اس اچانک سوال پہ میرب کو اچھو ہوتے ہوتے رہ گیا تھا لیکن کن انکھیوں سے ارتسام کے چہرے پہ بدلتے زاویوں کو دیکھتی وہ کندھے اچکا گئی ۔
” ہر انسان رومینٹک ہوتا ہے “
” مجھے رومینس بےحد پسند ہے “
بلال جیسے کھل کے بات کرنے کی کوشش کر رہا تھا اور ارتسام کا دل کیا کہ اسے رومینس کے کیڑے کو اٹھا کے ٹیرس سے نیچے پھینک دے، تبھی لب بھینچے میرب کو میسج کرنے لگا۔
” کون یے یہ رومینس کا کیڑا؟”
میرب کے لبوں کو مسکراہٹ چھو گئی تھی جسے بلال دیکھ چکا تھا ۔
” کون یے ؟؟ کس کا میسج ہے ؟؟”
میرب نے ایک نظر اسے دیکھا تھا اور ہنستے ہوئے کندھے اچکا گئی۔
” بس کچھ لوگ میسج کرتے ہیں تو میں بھی جواب دے دیتی ہوں، ٹائم پاس کے لئے “
میرب کا جواب سن کے ارتسام نے لب بھینچ لیے تھے۔ وہ اتنا اونچا تو بول ہی رہی تھی کہ ارتسام آسانی سے سن پا رہا تھا اسے۔ تبھی ایک بھرپور گھوری سے نوازا تھا میرب کو ۔
” یہ لڑکا کون ہے ؟؟ اس ٹیرس پہ ؟؟ آپ کو ہی دیکھ رہا ہے “
بلال کے پوچھنے پہ میرب بھی اسی طرف دیکھنے لگی ۔ ارتسام کی شرر بار نگاہوں کی دیکھتی وہ اپنی مسکراہٹ روک گئی جبکہ آنکھیں مسکرا رہی تھی۔
” وہ ۔۔۔۔ میرا بوائے فرینڈ ہے “
بلال نے حیرت سے اسے دیکھا تھا۔
” ارے نہیں نہیں۔۔ ویسا نہیں، بس ٹائم پاس ہے، شادی تھوڑی کرنی مجھے اس سے، بس ٹائم پاس ۔۔۔ تم سمجھ رہے ہو ناں کہ میں کیا کہنا چاہ رہی ہوں “
میرب اسے سمجھانے لگی جبکہ بلال حیرت سے اسے دیکھتا سر اثبات میں ہلا گیا ۔
” چلیں اب نیچے ؟؟”
میرب اسے سوالیہ نظروں سے دیکھ رہی تھی جبکہ وہ سر جھٹک گیا ۔
” کتنے بوائے فرینڈز ہیں آپ کے میرب ؟؟”
” نئے یا پرانوں کو ملا کے ؟؟”
میرب کے پوچھنے پہ بلال کی آنکھوں میں مزید حیرت در آئی تھی۔
” اچھا نئے تو فی الحال دو ہیں لیکن ٹائم پاس ہیں بس اور پرانے والوں کو ملا کے بنتا ہے ٹوٹل دس ۔۔۔ “
میرب انگلیوں پہ گنتے بتانے لگی جبکہ اس نے لب بھینچ لیے تھے ۔
” دس ہی ہیں ناں؟؟”
میرب نے اس انداز سے اسے دیکھا جیسے اسے خود کے حساب کتاب پہ شبہ ہو ۔۔
” کچھ ٹھیک سے یاد نہیں لیکن دس ہی ہیں “
میرب کی بات پہ بلال نے گہرا سانس لیا تھا ۔
” میں چلتا ہوں پھر “
” شیور “
کندھے جھٹکتی میرب کہنے لگی جبکہ بلال نے بھنویں اچکاتے سیڑھیوں کی طرف قدم بڑھائے تھے، میرب رخ موڑ کے دوسرے ٹیرس پہ موجود ارتسام کو دیکھا تھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا اور پھر منہ بنا کے سر جھٹکتی وہ بھی سیڑھیاں اترنے لگی۔
” ڈرامہ کوئین “
ارتسام زیر لب بڑبڑاتا اپنا غصہ کم کرنے لگا ۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
اسے کچھ ہی منٹوں میں ہوش آ گیا تھا، آنکھیں کھولنے پہ دھندلا سا چہرہ پہلے ارتسام اور پھر آبگینے کا نظر آیا تھا، تب آنکھیں بھر آئی تھی اور نظریں چرا کے اٹھنے کی کوشش کرنے لگی ۔
” لیٹی رہو پریشے “
ارتسام نے اسے اٹھنے سے روکا تھا لیکن وہ ارتسام کا ہاتھ پرے کر کے اٹھنے لگی ۔
” میں ٹھیک ہوں “
وہ اب بھی نظریں چرا رہی تھی۔
” پریشے بیہوش کیوں ہوئی تھی تم ؟ سب ٹھیک تو ہے ؟؟”
آبگینے بھی پریشان سی پوچھنے لگی ۔
” م ۔۔ میں ٹھیک ہوں، تم دونوں پریشان مت ہو “
مختصر انداز میں جواب دیتی وہ اپنے بکھرے بال سمیٹنے لگی جبکہ ارتسام غور سے اس کے چہرے کو دیکھ رہا تھا۔
” کیا کہا ہے آغا جان نے تم سے؟”
ارتسام کے سوال پہ پریشے نے چونک کے اپنے بھائی کو دیکھا تھا، وہ جو کب سے اپنے آنسو چھپانے کی کوشش میں تھی، وہ سرخ ہوتی نم آنکھیں ارتسام کو بہت کچھ سمجھا گئی تھی۔
” کیا کہہ رہے ہو تم ارتسام، آغا جان مجھ سے کیو کہے گیں”
بات کو ٹالنے کی کوشش کی گئی تھی ۔
” بیہوشی میں بھی تم بار بار آغا جان کا نام لے رہی تھی تو اب بتاؤ کیا کہا ہے انہوں نے تم سے ؟”
ارتسام کا لہجہ اب کے سرد ہی تھا تبھی پریشے لب کاٹنے لگی، نم آنکھوں سے اس نے آبگینے کو دیکھا تھا اور پھر ارتسام کو دیکھنے لگی جو اب بھی لب بھینچے اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔
” پھر کس قربانی اور نام نہاد عزت کی بھینٹ چڑھانے چاہ رہے ہیں وہ تمہیں؟؟ بتاؤ پریشے؟”
پریشے کی نظریں جھکی تھی، لب کپکپائے تھے، آنکھیں پھر تیزی سے بھیگنے لگے جبکہ وہ دونوں پریشے کے جھکے سر کو دیکھ رہے تھے اور پھر اس کے وجود سے سسکی سی بھری تھی، آبگینے نے آگے بڑھ کے اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھا تھا ۔
” آغا ۔۔۔۔۔ جان کہہ رہے ہیں کہ م ۔۔۔۔ میں، وہ عاھل خان آیا تھا ان کے پاس اور اور “
وہ بھیگی پلکیں اٹھا کے ارتسام کو دیکھنے لگی جس کے چہرے پہ سرخی سی پھیل رہی تھی ۔
” آغا جان چاہتے ہیں کہ میں عاھل خان سے شادی۔۔۔۔ “
اس سے آگے پریشے سے بولا نہ گیا اور وہ لبوں پہ ہاتھ رکھ کے سر جھکا گئی تھی جبکہ ارتسام غصے میں لب بھینچتا اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا تھا ۔
” لالا “
آبگینے نے پریشانی سے اسے آواز دی تھی لیکن وہ لب ڈگ بھرتا کمرے سے جا رہا تھا، پریشے خوفزدہ آنکھوں سے اسے جاتا دیکھ رہی تھی ۔
” آ ۔۔۔۔ بگینے یہ میں نے کیا کر دیا “
پریشے کانپتی بیڈ سے اتری تھی اور آبگینے کے ساتھ کمرے سے باہر نکلی، لاؤنج میں ارتسام اپنے باپ کے مقابل کھڑا انہیں خشمگین نگاہوں سے دیکھ رہا تھا جبکہ امامہ بھی ساتھ میں کھڑی پریشان چہرہ لیے ہوئے تھی۔
” پریشے میری بہن ہے، بازاری عورت نہیں ہے کہ اپ کے نام نہاد عزت کی بھینٹ چڑھتی رہے “
وہ تقریبا دھاڑا تھا، وہاں موجود تینوں خواتین نے اہنے دل پہ ہاتھ رکھ لیے تھے جبکہ شاہ نواز خان اپنے بیٹے کو سرد نگاہوں سے دیکھ رہے تھے۔
” تم اپنے باپ کے مقابل کھڑے ہو ارتسام خان “
” جانتا ہوں کہ اپنے آغا جان سے بات کر رہا ہوں اس وقت میں، مجھے اس انداز میں بات نہیں کرنی چاہئے لیکن پریشے میری بہن ہے اور میں اپنی بہن کے لئے اپنے آغا جان کے مقابل کھڑا ہوں، اپنی بہنوں کی حفاظت کرنا میرا فرض ہے “
ارتسام نے دو ٹوک انداز میں کہا تھا ۔
” تو کیا کہنا چاہ رہے ہو تم ارتسام خان، میری ہی بیٹیوں کی حفاظت تم مجھ سے کرو گیں، میں باپ ہوں ان کا “
شاہ نواز خان کا انداز سلگتا ہوا تھا جبکہ ارتسام کے چہرے پہ طنزیہ مسکراہٹ ابھری تھی۔
” وہ باپ، جو اپنی بیٹی کو پھر سے اس انسان کے حوالے کرنا چاہ رہا ہے جو اس گھر کے ہر مکین کے لئے غلاظت کا ڈھیر ہے، نفرت کرتا ہے یہاں کا ہر فرد اس انسان سے اور اپنے بھائی سے، پھر سے رشتہ جوڑنے کے لئے اپنی ہی بیٹی کو اس غلاظت کے ڈھیر میں پھینک رہے ہیں، آغا جان پریشے اور آبگینے کا بھائی ابھی زندہ ہے “
وہ آخر میں دھاڑا تھا، دونوں بہنوں سے محبت بھرے انداز میں، بےحد مان سے اپنے بھائی کو دیکھا تھا، امامہ بھی نم آنکھوں سے اپنے بیٹے کو دیکھ رہی تھی جبکہ شاہ نواز خان سختی سے جبڑے بھینچ کے اسے دیکھ رہے تھے۔
” عاھل خان نے اگر اس گھر کی دہلیز پہ بھی قدم رکھا تو آگے کے ذمہ دار آپ خود ہونگیں آغا جان “
وہ لفظ لفظ چبا کے کہتا اب لمبے ڈگ بھرتا باہر کی طرف جا رہا تھا، شاہ نواز خان وہیں صوفے پہ گرنے والے انداز میں بیٹھ چکے تھے، امامہ کچھ دیر انہیں تاسف سے دیکھتی رہی۔
” افسوس ہو رہا ہے مجھے اپ پہ شاہ نواز، بےحد افسوس “
یہ کہہ کے وہ سیڑھیوں کی طرف بڑھی تھی جبکہ پریشے اور آبگینے اپنے کمرے کی طرف بڑھی تھیں۔ گھر کے ماحول میں تناؤ سا آ گیا تھا جہاں گھٹن کا احساس بڑھتا ہی جا رہا تھا۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
ہلکی ہلکی چلتی ہوائیں اس کے بالوں سے اٹھکھیلیاں کھیل رہی تھی اور وہ لان کے ایک گوشے میں نظریں جھکائے بیٹھی اپنی کتابوں میں گم تھی۔ بار بار کچھ سوچتی وہ پین کو اپنی لبوں کے بیچ دباتی، سوچتی نگاہوں سے مسکرا کے پھر سے کچھ لکھنے لگتی اور اس منظر کو اپنے پورشن سے باہر آتے ازمائر نے رک کے، بےحد دلچسپی سے دیکھا تھا، دل عجیب ہی لے پہ دھڑکا تھا، جہاں صرف اداسیوں کا بسیرا تھا۔ وہ سماہر میران ملک تھی، وہ کسی اور سے منسوب تھی، دل میں ٹھیس سی اٹھی تھی، کاش وہ خوبصورت سی لڑکی اس کا نصیب بنتی تو اج ان پلکوں کے جھالر پہ ازمائر کے عکس کا بسیرا ہوتا اور ان لبوں پہ مسکان ازمائر کے نام کی ہوتی، تلخ مسکراہٹ اس کے چہرے پہ ابھر کے معدوم ہوئی تھی اور وہ سر جھٹک کے جانے لگا تھا لیکن قدم پھر سے رکے تھے، اسے دیکھنے کی چاہ پھر سے بڑھی تھی اور وہ رک چکا تھا جبکہ کمرے سے بالکونی میں آتی مائزہ نے اداس آنکھوں سے اس شخص کو دیکھا تھا جس کے چہرے پہ اداسیوں کا بسیرا تھا اور وہ شخص بےحد کرب بھری نگاہوں سے لان کے گوشے میں بیٹھی، اپنی سوچوں میں محو سماہر کو دیکھ رہا تھا، دل پہ یکبارگی بوجھل سا ہوا تھا، لب کاٹتی وہ گہرا سانس لے چکی تھی۔
” یہ شخص میرا کھبی ہو ہی نہیں سکتا، جسے ہر لمحہ چاہا ہے، جس کو پانے کی ہر لمحہ دعا کی ہے، وہ شخص تو کسی اور کی محبت میں پور پور ڈوب ہوا ہے، اور وہ بھی میری بہن ،،،”
اس کے چہرے پہ تلخ مسکراہٹ ابھری تھی۔
” مجھے اس شخص سے دور ہونا ہے، بےحد دور “
وہ ریلنگ سے دونوں ہاتھ ہٹا کے، قدم قدم پیچھے جا رہی تھی، یہاں تک کہ اس نے کمرے میں قدم رکھا تھا اور تیزی سے بالکونی کا دروازہ بند کر کے وہ پردے پہ کھینچ چکی تھی، شاید یہی طریقہ اسے نظر آیا تھا اس شخص کے عکس کو اپنی آنکھوں سے نوچ پھینکنے کا، لیکن وہ وہیں دیوار سے ٹیک لگا کے زمین پہ بیٹھتی گئی۔
” مجھے اس شخص کو نہیں سوچنا میرے اللہ، اسے اپ سے مانگا تھا میں نے بار بار، اور اب میں ہی آپ سے مانگتی ہوں کہ اس شخص کی محبت میرے دل سے نکال دیں، باہر پھینک دیں اسے میرے خواب و خیال سے۔ پلیز میرے اللہ پلیز “
آخر کچھ نہ بن پڑا تو پھوٹ پھوٹ کے رونے لگی کہ وہ شخص ہمیشہ سے اس کی محبت رہی ہے، اور اب کیسے وہ اسے بھول سکے گی، کیسے ؟؟
اپنی سوچوں میں مگن اس نے نظریں اٹھا کے لان کی طرف دیکھا تھا جہاں میران ارتضی ملک گھر سے باہر نکل رہا تھا، سماہر کے لبوں کو دلفریب مسکراہٹ نے چھوا تھا، وہ شرمیلی مسکان چہرے پہ سجائے، مسکراتی آنکھوں سے اس شخص کو دیکھا تھا کہ جس کا خیال ہی اس کی دھڑکنیں منتشر کر دیتا تھا لیکن میران نے بس ایک نظر اسے دیکھا تھا، ایک سرد سی نظر اس نے سماہر کی طرف ڈالی تھی اور سرد نگاہ نے سماہر کو اندر تک دہلا دیا تھا، تبھی چہرے پہ پھیلی مسکان سمٹ گئی تھی اور مسکراتی آنکھوں کی چمک ماند پڑ گئی تھی، وہ پل بھر کو رکا تھا اور پھر لب بھینچ کے وہ اپنی گاڑی کی طرف بڑھا تھا ۔
‘ وہ شخص بےحد سرد مزاج ہے سماہر ، توڑ دے گا وہ آپ کو ‘
اسے ازمائر کے الفاظ یاد آئے تھے اور لمحہ بھر کے لئے چہرے پہ ایک سایہ سا گزرا تھا اس کے اور وہ بےدلی سے کتابیں بند کر کے، اس کی گاڑی کو گیٹ سے باہر نکلتا دیکھ رہی تھی، وہ جا رہا تھا، وہ جا چکا تھا، وہ جو کل سماہر کو اپنی محبت اور اپنی قربت میں مکمل پاگل اور مدہوش کر چکا تھا، آج وہ ایک سرد نگاہ اس پہ ڈال کے جا رہا تھا، بنا کچھ کہے، بنا کسی محبت کی نگاہ کے ۔ کیوں ؟؟ اور جواب ندارد!
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
” اے پاگل پٹھان، ارے او VIP “
میرب کی آواز پہ وہ لب بھینچے گھوما تھا جبکہ میرب ہاسپٹل کوریڈور میں کھڑی مسکراتی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔ ارتسام ادھر ادھر نظریں دوڑاتا اس کے قریب آیا تھا ۔
” تم یہاں کیا کر رہی ہو “
” میں؟؟ میں اس لیے آئی تھی کہ پوچھ تو لوں تمہیں بلال کیسا لگا ؟”
وہ مسکراتی آنکھوں میں شرارت لیے ارتسام کو دیکھ رہی تھی جبکہ ارتسام آنکھیں گھما کے اسے دیکھنے لگا ۔
” یہ بلال کون ہے ؟؟”
میرب رازداری سے اس کی طرف جھکی تھی۔
” دشاب ارتضی ملک کے ہونے والے داماد “
” وہاٹ دا ہیل ، پیچھے ہٹو تم”
ارتسام لب بھینچے، ماتھے پہ بل ڈالے اس سے دو قدم پیچھے ہوئے تھا جبکہ میرب کھلکھلائی تھی۔
” دشاب ارتضی ملک کے ہونے والا داماد بلال مجھے بیاہ کے لے جائے گا اور تم ان دو بزرگوں کی دشمنی کے بیچ بیٹھ کے طبلہ بجانا “
منہ بنا کے کہتی وہ نظریں پھیر گئی تھی جبکہ ارتسام نے بےحد تحمل سے اسے ملاحظہ کیا تھا۔
” میرب میرا دماغ مت گھماو”
” میں تو مکمل تمہیں گھما چکی ہوں “
میرب مزے سے کہتی ادھر ادھر دیکھنے لگی اور پھر اس کا ہاتھ پکڑ کے اسے کھینچا تھا ۔
” مجھے کافی پلاؤ اپنے ہاسپٹل کے کینٹین کی، کیا پتہ یہ ہمارا آخری کافی ہو ایک ساتھ “
آنکھیں پٹپٹا کے کہتی وہ ارتسام کے ضبط کو آزما رہی رہی شاید، تبھی ارتسام نے گہرا سانس لیا تھا اور اپنا ہاتھ بھی چھڑایا تھا اس کی گرفت سے جھکی میرب حیران آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی۔
” مجھے کام ہیں۔ جاؤ تم یہاں سے “
وہ جانے کے لئے مڑا تھا جب میرب اس کے سامنے آئی تھی اور جھٹکے سے اس کے سینے پہ ہاتھ مارا تھا۔
” میرب کیا کر رہی ہو؟”
وہ ادھر ادھر دیکھتا کہنے لگا جبکہ میرب غصے میں اسے دیکھ رہی تھی۔
” یہی چاہتے ہو تم کہ میں کسی اور کی ہو جاؤں، کسی اور کے نام سے منسوب ہو جاؤں اور میرے ہاتھ کی تیسری انگلی میں کسی اور کے نام کی رنگ ہو اور کسی اور کے نام سے اپنا نام جڑتا دیکھوں اور نکاح نامے پہ سائن کروں تو یہی سہی، ارتسام خان یہی ہوگا لیکن بہت ترسو گیں، ابھی تو منہ بنا رہے ہو اور مجھے جانے کا کہہ رہے ہو اور تب ارتسام تب مجھے روکنے کی کوشش کرو گیں اور میں دور جا چکی ہونگی “
وہ غصے سے ارتسام کو دیکھتی کہہ رہی تھی اور پھر سر جھٹک کے وہ ہاسپٹل کوریڈور سے باہر کی طرف بڑھنے لگی جبکہ ارتسام حیرت سے اسے جاتا دیکھ رہا تھا ۔ یہ کیا کہہ گئی تھی وہ ؟ کسی اور سے منسوب ہوگی میرب ؟؟ یہ تو وہ کھبی چاہ کے بھی نہیں چاہ سکتا جبکہ میرب ہاسپٹل کے احاطے سے باہر جاتے ہوئے آبگینے کو کال کر چکی تھی ۔
” کام ہو گیا ، آگے تمہارا کام “
اور دوسری طرف سے آبگینے کی ہنسی ابھری تھی جبکہ میرب بھی مسکراتی موبائل بند کر چکی تھی ۔
” پاگل پٹھان، تمہارا سامنا میرب سے ہوا ہے تمہیں ململ پاگل نہ بنا دیا تو میرا نام بدل دینا “
مسکراہٹ اس کے چہرے سے الگ ہی نہیں ہو رہی تھی۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
” گاؤں گاؤں، ہر روز گاؤں، حکومت کا پورا کاروبار تو جیسے آپ کے کندھوں پہ ہیں بس “
تابعہ جھنجھلائی تھی جبکہ وقاص ملک نے لب بھینچے گھور کے اپنی بیوی کو دیکھا تھا ۔
” تو کیا لگتا ہے ؟؟ ہنگامہ کرو گی اور میں رک جاؤں گا “
تابعہ اب بھی انہیں گھور رہی تھی ۔
” میری مرضی کے بنا سماہر کا نکاح کروایا میران سے اور اب بھی میری مرضی کے بنا مائزہ کا رشتہ کرنے کا سوچ رہے ہیں آپ اپنے اس دوست کے بیٹے تابش سے ۔ جو مجھے ایک آنکھ بھی نہیں بھاتا “
” تو ؟؟ میں باپ ہوں اور میں بہتر فیصلے کرنا جانتا ہوں اپنی بیٹیوں کے لئے، تابش بہترین آپشن ہے مائزہ کے لئے، امان اخونزادہ کامیاب پولیٹیشن ہے، اس کی ساکھ مضبوط ہے اور تابش اخونزادہ بزنس ٹائیکون ہے ۔ بہترین انتخاب ہیں مائزہ کے لئے “
وقاص ملک مغرور انداز میں کہہ رہے تھے جبکہ تابعہ تاسف بھری نگاہوں سے انہیں دیکھ رہی تھی۔
” مائزہ سے پوچھا وہ کیا چاہتی ہے ؟”
وقاص ملک نے تمسخر بھرے انداز میں اپنی بیوی کو دیکھا تھا ۔
” سماہر سے پوچھا تھا اور وہ راضی ہو گئی تھی میران کے لئے اور تمہاری ساری منفی باتیں دھری کی دھری رہ گئی تھی اور اب مائزہ بھی وہی مثبت جواب دے گی اور تم اپنا منہ لے کے رہو گی “
تابعہ غصے سے چلائی تھی۔ ۔
” مجھے زچ کرنا اچھا لگتا ہے تمہیں “
” بہت “
وقاص ملک کا انداز پرسکون تھا ۔
” اور اب میں گاؤں جا رہا ہوں، آ کے بات ہوگی اس بارے میں “
اپنی بات کہہ کے وہ لمبے ڈگ بھرتا باہر کی طرف گئے تھے جبکہ تابعہ لب بھینچے انہیں جاتا دیکھنے لگی۔ دل میں آگ سی لگی تھی جو کسی پل نہیں بجھ رہی تھی۔ یہ شخص اسے ہمیشہ زچ کرنے کی کوشش کرتا یا پھر ان کی باتوں کے خلاف جا کے اپنے فیصلے سناتے۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
