Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 21

ازمائر بےحد مصروف سا ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا آفس جانے کی تیاری کر رہا تھا جب نظر مرر میں نظر آتے مائزہ کے عکس پہ پڑی جو مسلسل اسے ہی گھور رہی تھی ۔
” ایسے کیا دیکھ رہی ہو ؟؟”
ڈریسنگ مرر سے اس نے آبرو اچکا کے مائزہ کے عکس کو دیکھا تھا جو مسلسل اسے ہی سپاٹ نگاہوں سے دیکھ رہی تھی۔
” دیکھ رہی ہوں کہ انتقام کی آگ نے تم سے سوچنے سمجھنے کی ساری صلاحیتیں چھین لی ہے “
سپاٹ لہجے میں کہتی وہ بےحد سنجیدہ تھی، ازمائر نے لب بھینچ لیے تھے۔
” انتقام کی بھوک اس قدر ہے تمہیں کہ تم یہ تک بھول چکے ہو ازمائر، کہ تمہاری بیوی ہونے سے پہلے میں تمہاری کزن اور اچھی دوست بھی ہوا کرتی تھی “
ازمائر جو اسے ہی لب بھینچے ڈریسنگ مرر میں گھور رہا تھا اب مڑ کے اسے براہ راست دیکھنے لگا جبکہ مائزہ کا دل زور سے دھڑکا ضرور تھا کہ اب کیا کرنے والا ہے وہ ۔ لیکن وہ خاموشی سے کھڑا مائزہ کو دیکھنے لگا جبکہ مائزہ نے نظریں پھیر لی تھی۔
” تیار ہو جاؤ تم بھی، میں یونیورسٹی ڈراپ کر دوں گا تمہیں “
وہ بےحد سنجیدگی سے کہتا اپنی ریسٹ واچ پہننے لگا جبکہ مائزہ گھور کے اسے دیکھنے لگی ۔ اس شخص کو فرق ہی نہیں پڑ رہا تھا کہ کل رات سے گھر میں کیا ہنگامہ برپا ہے اور کتنے سکون سے وہ بات کر رہا تھا جیسے کچھ ہوا ہی نہیں،
” تمہیں نہیں لگتا کہ تم حد سے زیادہ سنگدل ہو ؟”
صوفے سے کھڑی ہوتی وہ ازمائر کی پشت کو گھورتی کہنے لگی جبکہ ازمائر بےحد چونکنے والے انداز میں مڑ کے اسے دیکھنے لگا جیسے بہت بڑی نیوز دے دی ہو مائزہ نے۔
” بلکل ٹھیک کہہ رہی ہو تم، مجھے رات کو تمہیں ایسے آرام سے سونے نہیں دینا چاہئے تھا۔ بہت غلط کیا میں نے “
مائزہ کو اس کی بات پہ چپ ہی لگ گئی اور نظریں چراتی وہ لب بھینچ گئی۔
” جلدی باہر آؤ، مجھے افس سے لیٹ ہو رہا ہے “
وہ اپنا کوٹ پہننے لگا ۔
” میں نہیں جا سکتی یونی “
” کیوں؟؟ پاؤں پہ مہندی لگی ہے ؟؟”
ازمائر نے ایک ابرو اچکا کے سر سے پاؤں تک اس کا جائزہ لیا تھا جبکہ وہ لب بھینچ گئی۔
” میں گھر کیسے جا سکتی ہوں “
” ہممم ، دعوت تو کی نہیں انہوں نے، کیسے جا سکتی ہو تم دعوت کے بنا “
وہ کندھے اچکا کے کہتا اپنا موبائل دیکھنے لگا۔
” میں ان سب کے لیے مر چکی ہوں شاید “
سر جھکا کے کہتی وہ اپنے ہاتھوں کو دیکھنے لگی۔ ازمائر نے بےحد چونک کے اس کے جھکے سر کو دیکھا تھا، آواز بھرائی ہوئی تھی اس کی، اور اس وقت سر جھکائے کھڑی وہ ایسی مجرم لگ رہی تھی جسے بنا کسی گناہ کے سزا سنا دی گئی ہو اور پھر سر جھٹک گیا تھا۔
” تو کل سے جانا ۔۔ میں جا رہا ہوں “
عجلت میں کہتا وہ کمرے سے نکل چکا تھا جبکہ مائزہ نے بھیگی آنکھیں اٹھا کے بند دروازے کو دیکھا تھا، وہ غلط کر چکی تھی اور بےحد غلط کر چکی تھی، اپنے ساتھ، اپنوں کے ساتھ، اسے کسی کی پرواہ نہ تھی لیکن اسے خود کے لئے دکھ ہو رہا تھا کہ وہ دھوکے سے انتقام کے لئے استعمال ہوئی تھی، بجھے دل کے ساتھ وہ چلتی بالکونی میں آئی تھی لیکن باہر لان کا منظر دیکھ کے اس کی سانس جیسے رک گئی تھی، پورے وجود سے جیسے جان جانے لگی تھی، سماہر اور ازمائر آمنے سامنے کھڑے تھے، بےجان ہوتے کانپتے ہاتھوں سے اس نے ریلنگ کو تھاما تھا۔
” میری بہن کا استعمال کرو گے تم ، اس بات کی امید نہیں تھی مجھے تم سے “
سماہر کے سپاٹ انداز پہ وہ ہلکا سا مسکرایا تھا۔
” آپ سے اچانک تم ۔۔ “
سماہر لب بھینچ گئی۔
” مائزہ میری بہن ہے اور جو تم سوچ رہے ہو ازمائر۔ وہ بہت غلط ہے، تم کیسے اتنے سفاک ہو سکتے ہو کہ مائزہ کا استعمال کر رہے ہو تم اپنے انتقام کی آڑ میں “
” تو تم بھی تو سفاک بن چکی تھی میرے مقابل “
لبوں پہ زخمی مسکراہٹ تھی لیکن آنکھوں میں طنز کا عنصر نمایاں تھا۔
” ازمائر ۔۔۔ “
لیکن اس کی بات ادھوری رہ گئی جب اس کی نظر مائزہ پہ پڑی جو تیز تیز قدم ان کی طرف آ رہی تھی اور قریب آتے ہی اس نے ازمائر کے بازو میں اپنا بازو حائل کیا تھا، سماہر اسے ہی دیکھ رہی تھی جس کا چہرہ حد درجہ سرخ ہو رہا تھا، ازمائر نے بھی چونک کے اسے دیکھا تھا۔
” مجھے یونیورسٹی جانا ہے “
وہ مکمل طور پہ سماہر کو نظرانداز کر چکی تھی جبکہ سماہر مسلسل اسے ہی دیکھ رہی تھی اور پھر وہ سامنے سے ہٹ گئی تھی، آج اس کے سامنے کھڑی یہ لڑکی اس کی بہن نہیں لگ رہی تھی بلکہ ایک بیوی لگ رہی تھی جو اپنی ہی بہن سے اپنے رشتے کو بچانے کی کوشش میں ہو۔ ازمائر اسے ہی دیکھ رہا تھا اور پھر سر جھٹک کے اپنا بازو مائزہ کے ہاتھ سے چھڑا کے گاڑی کی طرف بڑھ گیا، مائزہ وہیں کھڑی رہی۔
” میں تم سے کچھ نہیں کہوں گی مائزہ، بس اتنا سوچ لینا کہ کیا کچھ کھو چکی ہو تم اور کیا کھونے والی ہو تم “
مائزہ نے چونک کے اسے دیکھا تھا اور وہ سر جھٹک کے جانے لگی۔
” تم جو کہنا چاہ رہی ہو میں اچھی طرح سے جانتی ہوں، بس تم میرے شوہر سے دور رہنا اب سے “
مائزہ کا لہجہ نفرت بھرا تھا، سماہر نے رک کے اسے دیکھا تھا، مائزہ کی آنکھوں میں جو نفرت تھی اسے سماہر نے بےحد تاسف سے دیکھا تھا اور سر جھٹک گئی تھی، اسے بنا کچھ کہے وہ اپنے پورشن کی طرف قدم قدم بڑھنے لگی جبکہ مائزہ کو اپنے پورے وجود میں بھڑکتی آگ کے شعلے محسوس ہونے لگے تھے۔ اس کی نظر میرب پہ گئی ۔
” میرب “
اسے پکارے کے وہ اب مسکرانے کی کوشش کرنے لگی جبکہ میرب بےحد سنجیدگی سے اسے دیکھنے لگی۔
” آج بہت گرمی ہے “
مائزہ مسکرا کے کہنے لگی ۔
” ہممم “
میرب نے ادھر ادھر دیکھنے ہنکارا بھرا تھا۔
” اللہ کریں بارش ہو جائے بس، ورنہ کیسے گزرے گا یہ دن “
مائزہ بات کرتی اس کے قریب آئی تھی جبکہ میرب سنجیدگی سے اس کا چہرہ دیکھ رہی تھی۔
” سب کو پریشان کر کے کیا ملا تمہیں مائزہ ؟؟”
میرب کے سوال پہ وہ لب بھینچ گئی لیکن خاموش رہی۔
” بھائی کی تو خیر ہے، وہ بیٹا ہے اس گھر کا، مرد ہے، اس کا اچھا برا سب بھلا دیں گے، تم تو لڑکی ہو مائزہ، کم از کم تم ہی خیال کر لیتی اس گھر کی عزت کا۔ “
” میرب ۔۔۔ “
مائزہ کا انداز تنبیہی تھا۔
” ناراص مت ہو مائزہ اور نہ غصہ ہو، تم میری چچا زاد بہن ہو اور مجھے عزیز ہو، لیکن جو بھی ہوا غلط ہوا، اور تمہیں مطمئن دیکھ کے مجھے یہی لگ رہا ہے کہ تمہیں کوئی فرق نہیں پڑ رہا کہ کل کی رات کیسی قیامت بن کے گزری اس گھر کے ہر فرد پہ۔ خیر خوش رہو “
اپنی بات کہہ کے میرب سر جھٹک کے آگے بڑھ گئی جبکہ مائزہ وہیں کھڑی رہی، وہ غلط کر تو چکی تھی لیکن وہ یہ ماننا نہیں چاہتی تھی کہ وہ غلط کر چکی ہے تبھی سر جھٹک کے اس نے ایک نظر اپنے پورشن کی طرف دیکھا تھا جو اس کا میکہ بن چکا تھا اور وہاں اس کی ماں کے لئے وہ مر بھی چکی تھی، آنکھیں نم ہوئی تھی اور تبھی نظریں پھیر کے وہ اپنے نئے گھر کی طرف بڑھنے لگی جہاں وہ بن بیاہی، بنا کسی رخصتی، بنا کسی رسم اور بنا کسی دعا کے، کورٹ میرج کر کے آئی تھی۔ گھر سے بھاگی ہوئی لڑکی اور کورٹ میرج کرنے والی لڑکیوں میں کوئی فرق نہیں ہوتا، بس ایک کا تعلق ناجائز بن جاتا ہے جبکہ دوسرے کا تعلق جائز بن جاتا ہے۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
وہ دس بار اس میسج کو پڑھ چکی تھی اور ہر بار پڑھنے پر یہی لگتا اسے ، کہمرد ذات اعتبار اور یقین کے قابل نہیں ہے، ایک مرد اس کی زندگی میں آیا اور پھر دوسری لڑکی کے لیے اسے چھوڑ گیا اور جب اس سے بھی دل بھر گیا تو اسے بھی چھوڑ کے چلا گیا، غائب ہو گیا اور پھر دوسرا مرد اس کی زندگی میں آیا لیکن وہ بھی چھوڑ گیا اس میسج کے ساتھ۔
” ہمارا ساتھ یہیں تک تھا پریشے، مجھے شادی نہیں کرنی ابھی اور نہ کھبی “
آنکھوں میں آنسو نہیں تھے لیکن لبوں پہ زخمی مسکراہٹ آ کے معدوم ضرور ہوئی تھی۔
” بس کردو اللہ کی بندی “
آبگینے اسے یوں بیٹھا دیکھ کے، اس کے ہاتھ سے موبائل جھپٹ کے دوسرے بیڈ پہ پھینک چکی تھی جبکہ پریشے خالی نظروں سے اسے دیکھے گئی ۔
” نمبر بند ہے اس کا “
” وہ تو ہوگا کمینے کا، پولیس والے کا کیا اعتبار “
آبگینے نے دانت پیسے تھے جبکہ پریشے خاموش ہی رہی۔ موبائل پہ آتی کال نے دونوں کو متوجہ کیا تھا، تبھی پریشے نے آگے بڑھ کے موبائل اٹھایا، کوئی نمبر تھا۔
” ہیلو ۔ “
” پریشے ۔۔ “
یہ اروشے تھی، پریشے اچھنبے سے موبائل کو دیکھنے لگی اور پھر کان سے لگایا تھا۔
” ایم سوری لیکن میں کیا کرتی، عاھل مجھے طلاق دے گیا، میری زندگی برباد ہوگئی، میں برباد ہوگئی، کچھ نہیں بچا میری زندگی میں خوشی کے نام پہ، تو میں تمہیں کیسے خوش رہنے دیتی، تبھی شہباز سے ملی میں “
پریشے کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئی تھی، ہاتھ بےجان ہوگیا تھا، موبائل جیسے اس کے ہاتھ سے چھوٹ گیا تھا جسے جلدی سے آبگینے تھام کے کان سے لگا چکی تھی۔
” اب مجھے سکون ہے، کیونکہ برباد ہم دونوں ہو چکی ہیں، اب مجھے یہ غم تو نہیں ستائے گا کہ پریشے خوش ہے اور میں ناخوش “
وہ اپنی دھن میں کہہ رہی تھی، آبگینے کی نظر پریشے کے چہرے پہ گئی جو لتے کی مانند سفید پڑ چکا تھا۔
” انتہا درجے کی گھٹیا اور نیچ عورت ہو تم، عورت کی ذات پہ کالا داغ ہو تم، چڑیل کمینی “
آبگینے گالیاں دینے پہ آ گئی تھی لیکن اروشے کال بند کر چکی تھی جبکہ آبگینے نے دانت پیستے موبائل بیڈ پہ اچھالا تھا۔
” بہت کمینی ہے یہ چڑیل “
” پتہ نہیں کیا کہا ہوگا شہباز سے ؟”
پریشے پریشان نظروں سے آبگینے کو دیکھنے لگی جبکہ وہ تلملائی تھی۔
” نام مت لو اس کمینے کا، مرد ہو کے دوسری عورتوں کی باتوں میں آتا ہے، بھاڑ میں جائے وہ بھی “
پریشے خاموشی سے لب کاٹنے لگی۔
” نہ جانے کس بات کا بدلہ لینا چاہ رہی ہے مجھ سے، شاید بہن ہونے کا حق ادا کر رہی ہے “
کچھ دیر خاموشی کے بعد اس نے پست آواز میں کہا تھا جبکہ آبگینے سر جھٹک گئی۔
” چھوڑو اسے، دفعہ کرو، وہ بہن کہلانے کے بھی لائق نہیں ہے، تم اپنا دل مت دکھاؤ، اللہ تمہاری مدد کر رہا ہے تمہیں ہر برے انسان سے بچا رہی ہے اور تم تو میری پیاری بہن ہو، میری خوبصورت بہن اور میں تم سے بےحد محبت کرتی ہوں میری جان “
پریشے خاموشی سے اپنے ناخنوں کو دیکھنے لگی جبکہ آبگینے لب بھینچے اپنی بہن کے پژمردہ چہرے کو دیکھتی رہی، خوبصورتی میں وہ اپنی مثال آپ تھی لیکن نصیب سے کیوں اتنا دکھ مل رہا تھا اسے،
” یا اللہ میری بہن کو اس کی خوشیاں لوٹا دیں، بہت سی خوشیاں نصیب فرما”
دل ہی دل میں پریشے کو دعا دیتی وہ گہرا سانس لیتی اپنا موبائل دیکھنے لگی جہاں میرب کا میسج جگمگا رہا تھا۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
” تم میں اچھی بیوی والا کچھ ہے بھی کہ نہیں “
مائزہ اپنے کمرے کی طرف جا رہی تھی جب عظمی کی اواز پہ اسے رکنا پڑا، مڑ کے وہ عظمی کو دیکھنے لگی۔
” بےشرم تو ہو ہی لیکن اب بیوی بن ہی گئی ہو زبردستی کی، تو تمہارا فرض بنتا ہے کہ میرے بیٹے کا خیال رکھو “
رات سے جو آگ بھڑک رہی تھی اس کے اندر، وہ اب نکالنے کا موقع مل رہا تھا اسے لیکن سامنے بھی مائزہ ہی تھی، سینے پہ دونوں ہاتھ باندھ کے اس نے سر سے پاؤں تک عظمی کو دیکھا تھا۔
” کیا فرائض ہیں میرے ؟؟ بتائےپلیز ؟”
آواز میں طنز پنہاں تھا۔
” بھوکا پیاسا گیا ہے میرا بیٹا آفس، کم از کم ناشتہ ہی کروا دیتی “
عظمی بھی تنک کے بولی تھی جبکہ مائزہ کے چہرے پہ طنز تھا۔
” رمضان المبارک میں آپ لوگ ناشتہ بھی کرتے ہو صبح صبح؟؟”
عظمی کے چہرے پہ ایک رنگ آ کے گزرا تھا جبکہ غصے سے نظریں پھیرتی وہ سرخ پڑ گئی تھی کہ اب کیا جواب دے وہ مائزہ کو۔
” آپ بھی تو فرائض انجام دیں میرے، میری پیاری ساسو ماں، آپ کی بہو بنا زیور کے خالی خالی نہیں لگ رہی آپ کو ؟؟”
معصومیت کے انتہا پہ تھی وہ ابھی جبکہ عظمی نے دانت پیسے تھے۔
” شرم و حیا کے دائرے میں رہ کے، پورے رسم و رواج ادا کر کے، دلہن بن کے آتی میرے گھر، تو میں زیور بھی پہنا دیتی “
مائزہ نے لب بھینچ لیے تھے لیکن جلد ہی خود کو کمپوز بھی کر چکی تھی۔
” آپ کا بیٹا تو آپ کی طرف دیکھنا گوارا نہیں کرتا، تبھی شاید ضروری نہیں سمجھا کہ آپ کو بتا دیں ہماری شادی کا “
عظمی نے سخت نظروں سے اسے گھورا تھا۔
” بکواس بند کرو اور تھوڑی شرم کر لو، بےشرموں کی طرح پورے گھر میں منڈلاتی پھر رہی ہو، میرے گھر کو ناپاک کر رہی ہو اپنے وجود سے، گھر سے بھاگی ہوئی، کورٹ میرج کرنے والی لڑکیاں بےحیا ہی ہوتی ہے، “
مائزہ لب بھینچے، سرخ ہوتی آنکھوں سے اسے گھورنے لگی جبکہ عظمی نخوت سے سر جھٹکتی اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی جبکہ مائزہ وہاں ساکت کھڑی ان الفاظ کے زہر کو اپنے وجود میں اترتا محسوس کر رہی تھی۔ وہ غلط کر چکی تھی اور بہت کچھ غلط کر چکی تھی لیکن اسے خاموشی سی اس زہر کو خود میں اتارتے رہنا تھا جب تک وہ زندہ تھی کہ کالا داغ اس ماتھے پہ لگ چکا تھا بےحیا اور گھر سے بھاگی ہوئی بد ذات لڑکی۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

نماز پڑھ کے اس نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے تھے اور آنسو کا قطرہ اس کی انکھ سے پھسل کے، اس کے گال پہ بہہ نکلا تھا جبکہ وہاں کھڑی سماہر نے بےحد چونک کے اس آنسو کو دیکھا تھا۔ وہ دعا کرتے ہوئے مسلسل آنسو بہا رہا تھا، چہرے پہ ہاتھ پھیر کے اس کی نظر دائیں طرف گئی جہاں سماہر کھڑی اسے دیکھ رہی تھی، اپنی جگہ سے کھڑا ہو کے اس نے جائے نماز تہہ کر کے صوفے پہ رکھا تھا اور لب کاٹتا کچھ سوچتا وہ مڑ کے پھر سے سماہر کو دیکھنے لگا جو اسے ہی مسلسل دیکھ رہی تھی۔ ہلکا سا مسکرانے کی کوشش کرتا وہ دو قدم آگے آیا تھا۔
” سماہر تم کب آئی؟؟”
” جب تم دعا مانگ رہے تھے تب “
سماہر نے نرم لہجے میں کہتے اسے دیکھا تھا جبکہ وہ نظریں چرانے لگا۔
” جھوٹ کیوں کہا مجھ سے میران؟؟”
اور میران کا دل بےحد زور سے دھڑکا تھا جیسے اس کا سچ سامنے آ گیا ہو اور وہ اب کھو دے گا سماہر کو۔
” ک ۔۔۔ کیسا جھوٹ ؟”
اس کی زبان لڑکھڑا گئی تھی، آواز جیسے گہری کھائی سے آ رہی تھی ۔
” جھوٹ کہا ۔۔ مجھ سے جھوٹ کہا ۔۔ “
وہ میران کی آنکھوں میں براہ راست دیکھتی پوچھ رہی تھی جبکہ وہ بےبسی سے اپنی آنکھوں کو اس کو دیکھ لینے سے سیراب کرنے لگا ۔
” میں کچھ پوچھ رہی ہوں تم سے میران ۔ ایسے دیکھنا بند کردو مجھے “
اور وہ نظریں جھکا گیا جیسے اسے دیکھنے کی اجازت چھن گئی ہو اس سے ۔ سماہر زچ ہونے لگی تھی اب۔ تبھی آواز بلند ہوئی تھی اس کی ۔
” کیوں کر رہے ہو ایسا ؟”
” تو اور میں کیا کرتا سماہر ؟؟ مجھ سے تمہیں چھین رہے تھے ۔ مجھے ہار کی پرواہ نہیں ہے لیکن میں تمہیں ہار جاتا تو سانسیں بھی ہار جاتا اپنی ۔ “
وہ حیرت سے میران کو دیکھے گئی ۔ کیا ہے یہ شخص؟؟ کیوں ہے ایسا ؟؟ وہ ایسا تو کھبی نہیں تھا ۔
” کیونکہ میران ارتضی ملک کو پہلے محبت کا عہدہ نہیں ملا تھا اور جب سے تم سے محبت کا یہ عہدہ ملا ہے مجھے ۔ میں خود میں جیسے رہتا ہی نہیں ہوں سماہر ۔ جانتی ہو کیوں؟؟”
سماہر کی آنکھوں میں حیرت ابھری تھی۔وہ شخص اس کی سوچیں بھی پڑھنے لگا ہے اب کیا ۔ جبکہ وہ زیر لب مسکرا دیا تھا جب ان سرمئی آنکھوں میں سوال ابھرا تھا۔
” کیونکہ تم سے جانا میں نے کہ خدا کے معنی کیا ہے ؟ سجدہ میں سر رکھ کے کسی کی شدت سے چاہ کرنا کیا ہوتا ہے؟ سماہر کی محبت میں ڈوب کے جانا کہ قربت خدا کیا ہوتی ہے ؟ آنکھیں موند کے نیت کرنا اور پھر ہاتھ باندھ کے اللہ کی عبادت میں مشغول ہونا کس قدر پرسکون احساس ہے اور پھر رکوع میں جھک کے اس خدا کی تعظیم کس قدر لذت بخش ہے سجدے میں سر رکھ کے اللہ کی بڑائی بیان کرنا اور پھر ہاتھ پھیلا کے اپنے گناہوں کے بخشے جانے کی امید رکھنا۔ یہ سب تو تم سے جانا میں نے سماہر ۔ پھر کیوں نا مجھے تم سے محبت نہ ہو ۔ جب میرا خدا ہی یہی چاہتا ہے کہ میرے نصیب میں پاکدامن بیوی لکھ دی جا چکی ہے ۔ “
وہ بھیگی آنکھیں عالم جذب میں اسے دیکھ رہی تھی جس کے چہرے پہ اللہ کی محبت تھی اور جس کی آنکھوں میں سماہر وقاص کے لئے بےپناہ محبت تھی ۔
” لیکن ۔۔۔۔ “
وہ خاموش ہو کے لب کاٹنے لگا جبکہ سماہر کی سوالیہ نظریں اس پہ تھی۔
” لیکن سماہر، اگر ۔۔۔ اگر “
” بارش۔۔۔ “
وہ جو کہنے جا رہا تھا اس کی بات ادھوری رہ گئی، سماہر تیزی سے بالکونی کی طرف بڑھی تھی جبکہ میران نے بےبس نظروں سے اس کی پشت کو دیکھا تھا اور پھر ڈوبتے دل کے ساتھ لب بھینچے وہ بھی آہستہ روی سے چلتا اس کے قریب بالکونی میں آیا تھا اور اس کے مسکراتے چہرے کو نرم نگاہوں سے دیکھنے لگا لیکن دل میں خوف دھیرے دھیرے بڑھتا جا رہا تھا، سماہر کو کھو دینے کا خوف !!!!
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤