Rate this Novel
Episode 12
” کیا بات ہے تابعہ؟ تم مجھ سے کسی بات پہ ناراض ہو ؟”
کافی دنوں سے جو سوال ذہن کے پردوں پہ چل رہا تھا آخر اسے الفاظ میں پرو کے، عارفین نے تابعہ سے پوچھ ہی لیا جبکہ تابعہ پہلے چونکی تھی اور پھر ہلکا سا مسکرائی تھی، انہیں اپنی اس جھیٹانی سے کوئی شکایت نہیں تھی اور نہ ہی عارفین سے کھبی انہیں کوئی مسئلہ رہا تھا، وہ تو عظمی سے بھی زیادہ عارفین کو اہمیت دیتی آئی تھی۔ نرمی سے عارفین کا ہاتھ تھام کے انہیں اپنے قریب بٹھایا تھا۔
” ارے نہیں عارفین ، تم تو میری بہن ہو تم سے کیوں ناراض ہونگی میں، بس وقاص کا رویہ آج کل کچھ عجیب ہے اور اوپر سے میران اور سماہر کی شادی ذہن کو الجھائے ہوئے ہیں “
عارفین بھی پرسکون سی مسکرا دی تھی۔
” مجھے لگا تم ناراض ہو مجھ سے اور جہاں تک رہی بات میران اور سماہر کی شادی کی تو، ہم سب اپنے ہی تو ہیں، ایکدوسرے سے جڑے ہوئے ہیں ہم، رمضان المبارک کا مہینہ آ رہا ہے، عید کے بعد ہی شادی کی کوئی تاریخ رکھ لیتے ہیں، کیا خیال ہے تمہارا ؟”
تابعہ انہیں ہی دیکھ رہی تھی، کیسے بتاتی کہ ان کے دل میں میران کے متعلق ڈر سا بیٹھ گیا ہے کہ سماہر کے لئے وہ بہترین شوہر ثابت ہوگا کہ نہیں، لیکن ان کے دل آزاری کے خیال سے وہ سر جھٹک کے کچھ کہنے کا ارادہ ترک کر گئی۔
” بلکل عارفین ، اللہ تعالٰی سے یہی دعا ہے کہ دونوں بچے اور ہمارا خاندان خوش رہیں۔ “
” آمین۔۔ میں سوچ رہی تھی کہ کیوں ناں رمضان المبارک کی تھوڑی سی شاپنگ کر لی جائے اور پھر ہماری سماہر کے لیے پہلی افطاری بھی تو ہماری طرف سے ہوگی۔ میری کوئی بہن نہیں ہے کہ جس سے میں مشورہ کروں بس تم ہی ہو تابعہ، تو سوچا دونوں مل کے کچھ کر لیتے ہیں اور خریداری کرتے ہیں۔ “
عارفین کی بات پہ تابعہ مسکرا دی تھی۔
” ارے اس کی کیا ضرورت ہے عارفین، سماہر تو تمہاری ہی بچی ہے اب اتنا بھی کیا کہ ۔۔۔ “
” کچھ مت کہو تم تابعہ، سماہر میری آنکھوں کا سکون ہے، بچپن سے تو یہی خواہش تھی کہ وہ میرے گھر کی بہو بنے اور جب میران نے اپنی پسند کا اظہار کیا سماہر سے متعلق، تو میری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا اور اب تو ہر لمحہ یہی دل کرتا ہے کہ سماہر کے لئے جو بھی مجھ سے بن پڑتا ہے، میں کروں ، میری بچی ہے سماہر، میرب اور سماہر میں کوئی فرق نہیں ہے میرے لئے “
تابعہ کچھ کچھ پرسکون سی ہوئی تھی عارفین کی باتوں سے اور پھر مسکرا کے سر جھٹک کے کھڑی ہو گئی تھی۔
” شاپنگ پہ چلتے ہیں۔ “
عارفین بھی اٹھ کھڑی ہوئی تھی اور دونوں ساتھ ہی گھر سے باہر نکلی تھیں۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
” آبگینے یار میری ۔۔۔۔ “
وہ جیسے ہی آبگینے کے کمرے میں داخل ہوا، اس کی بولتی بند ہو گئی جب سامنے میرب بیٹھی نظر آئی تھی اسے، آبگینے مسکراتی آنکھوں سے اپنے بھائی کو دیکھ رہی تھی جبکہ میرب ناراضگی کا اظہار کرتی رخ موڑ گئی تھی جسے ارتسام خان بھی محسوس کر چکا تھا۔
” کیا ہوا لالا ؟؟”
آبگینے کی آواز پہ وہ چونکا تھا ۔
” ہاں، وہ ہار میری شرٹ پریس کر دو گی پلیز۔۔ مجھے کچھ اسائنمنٹ پہ کام کرنے تھے۔ “
ساتھ ساتھ نظریں میرب کی پشت پہ بھٹک رہی تھی جبکہ آبگینے مسکراہٹ لبوں میں دبائے اس کے ہاتھ سے شرٹ لیتی کمرے سے باہر نکلی تھی۔ اپنی کنپٹی سہلاتا ارتسام دو قدم آگے بڑھا تھا ۔
” آج تم ہاسپٹل سے ایسے ہی چلی گئی ۔ “
میرب نے منہ بنا کے اسے دیکھا تھا اور پھر آنکھیں گھما کے رخ پھر سے موڑ گئی تھی جبکہ ارتسام کچھ سوچتا ادھر ادھر دیکھنے لگا ۔
” میں سوچ رہا تھا کہ پوچھ لوں تم سے کہ کیوں ناراض۔۔۔ “
لیکن میرب کے اٹھ کے اسے گھورنے پہ وہ بات بدل گیا ۔
” میرا مطلب ہے کہ تم ناراض ہی ہو مجھ سے “
وہ مسکرانے کی کوشش کرنے لگا اور میرب پھر سے رخ موڑ گئی کہ اس لمحے ارتسام کے چہرے کو دیکھ دیکھ کے اسے اہنی ہنسی ضبط کرنی مشکل لگ رہی تھی۔
” وہ ۔۔۔ میں کچھ کہنا چاہ رہا تھا تم سے “
ارتسام اپنی کنپٹی سہلاتا کہہ رہا تھا جبکہ میرب اس کی طرف پشت کیے ہوئے تھی۔
” تم شاید ناراض ہو گئی ہو مجھ سے “
ارتسام میرب کی پشت دیکھتا، اس کے چہرے کے تاثرات جاننے کی کوشش کر رہا تھا جبکہ میرب زیر لب مسکراتی کندھے اچکا گئی تھی ۔
” دیکھو میرب تم ناراض مت ہو مجھ سے “
میرب نے چہرہ موڑ کے، اسے ایک عدد گھوری سے نوازا تھا اور پھر نظریں پھیرتی رخ موڑ گئی تھی۔
” مجھ سے بات کرنے کی ضرورت نہیں ہے تمہیں پاگل پٹھان “
” یار پاگلیٹ، بات تو سنو “
ارتسام جھنجھلایا تھا اور میرب رخ موڑ کے اسے گھورنے لگی ۔
” تم مجھے مزید ناراض کر رہے ہو “
” اچھا یار ، یار ایسی نظروں سے تو مت دیکھو مجھے “
ارتسام اس کے گھورنے پہ جھنجھلایا تھا، لیکن میرب کے گھورنے میں کوئی کمی نہیں آئی تھی، تبھی وہ لب بھینچے اس کی طرف بڑھا تھا اور میرب بوکھلا کے دیوار سے جا لگی تھی۔
” دیکھو میرب، شادی کرو گی مجھ سے ؟؟ ابھی بتا دو”
ارتسام کے اچانک کہنے پہ، میرب نے حیران آنکھوں سے اسے دیکھا تھا۔
” اور اگر ابھی نہ بتاؤں تو ؟؟”
” تو ؟؟ تو ؟؟”
ارتسام کچھ سوچنے لگا جبکہ میرب سینے پہ دونوں ہاتھ باندھتی اس کی طرف بڑھی تھی اور ارتسام بوکھلا کے پیچھے ہونے لگا۔ ۔
” تم پاگل پٹھان ہو، دماغ سے پیدل ہو، تم پاگل پٹھان ہی رہو گیں، کھبی نہیں سدھرو گیں، تمہارے منہ میں زبان بس مجھ سے لڑنے کے لئے ہیں بس، کام کی بات تو تم سے ہوتی نہیں ہے کھبی ۔ تم سے بات کرنا اور بحث کرنا بیکار ہے “
وہ غصے سے کہتی دروازے کی طرف بڑھی تھی جبکہ ارتسام نے آگے بڑھ کے اس کی کلائی تھامی تھی اور میرب سوالیہ آنکھوں میں ناراضگی لیے اسے دیکھنے لگی ۔
” اور یہ پاگل پٹھان اس پاگلیٹ کو اپنی مسز بنانا چاہتا ہے، شادی کرنا چاہتا ہے تو کیا تمہیں یہ پاگل پٹھان قبول ہے ؟”
وہ جلدی سے گھمبیر انداز میں بولا تھا۔
” تم مجھے پروپوز کر رہے ہو ؟؟”
میرب اسے سر تا پیر گھورتی پوچھنے لگی ۔
” تمہیں کیا لگتا ہے ؟”
ارتسام الٹا اس سے پوچھنے لگا ۔
” ایسے لگتا ہے کہ جیسے ایک ڈاکٹر اپنی مریض کو instructions دے رہا ہو کہ دوائی ٹائم پہ لینا ہے “
میرب کے کہنے پہ ارتسام نے جھٹکے سے اس کی کلائی چھوڑ دی تھی۔
” وہاٹ “
میرب کھلکھلا کے ہنس دی تھی۔ ارتسام نے ناراضگی بھری گھوری سے اسے نواز کے لب بھینچ لیے تھے ۔
” اپنے آغا جان سے کہو کہ مجھے میرے بابا سے مانگ لیں اپنے پاگل پٹھان کے لئے ، تب میں اپنا جواب دوں گی۔ ابھی کے لئے اللہ حافظ “
وہ مسکرا کے کہتی دھپ سے دروازہ کھول کے کمرے سے باہر نکلی تھی جبکہ ارتسام زیر لب مسکراتا اس کے پیچھے ہی باہر نکلا تھا ۔
” مجھے جواب معلوم ہے پاگلیٹ “
سیڑھیاں اترتی میرب نے ایک شرمگیں مسکراہٹ کے ساتھ اسے ایک نظر دیکھا تھا اور پھر نظریں جھکا کے وہ سیڑھیاں اتر گئی تھی جبکہ اوپر کھڑا ارتسام مسکراتی آنکھوں سے اسے جاتا دیکھ رہا تھا اور اپنے کمرے سے نکلتے شاہ نواز خان نے ارتسام کے نظروں کے تعاقب میں میرب کو دیکھا اور پھر اپنے بیٹے کے چہرے پہ پھیلی محبت کو، جو کسی نور کی طرح اس کے چہرے پہ بکھرا پڑا تھا میرب کے لئے ۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
” دیکھ رہے ہیں آپ زریاب کاکا ، عاھل میرے ساتھ کیسا رویہ رکھے ہوئے ہیں، وہ پھر سے پریشے سے شادی کرنے کے پلانز بنا رہا ہے “
روز روز عاھل کے رویے کو دیکھ دیکھ کے وہ تھک چکی تھی اور تبھی وہ اپنے سسر اور چچا زریاب خان کے سامنے اپنی پریشانی رکھ چکی تھی لیکن زریاب خان اس کی نسبت پرسکون ہی نظر آ رہے تھے۔
” اس میں اتنا شور شرابہ کرنے کی کیا ضرورت ہے اروشے، پریشے اس کی اور تمہاری چچا زاد ہے اور پھر وہ بچپن سے عاھل کے نام سے منسوب رہی ہے، اور اگر اب وہ پھر سے اس رشتے کو استوار کرنا چاہتا ہے تو یہ دونوں بلکہ تینوں خاندانوں کے لئے دوستی اور خوشی کا باعث بنے گی۔ “
اروشے حیرت سے اپنے سامنے بیٹھے اپنے ہی سگے چچا کو ایسی باتیں کرتے سن رہی تھی ۔
” یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں زریاب کاکا ؟؟”
الفاظ بھی حیرت میں ڈوبے ہوئے تھے جبکہ وہ کندھے اچکا گئے۔
” پریشے ہم سب کی پسند تھی اور خود عاھل خان کی بھی پسند تھی، پھر نہ جانے تم کہاں سے بیچ میں آ گئی اور کیسے عاھل خان اپنے بچپن کی منگیتر کو چھوڑ کے تم سے شادی کا فیصلہ کر بیٹھا اور اب دو خاندانوں کو پھر سے ملنے کا ایک رستہ مل رہا ہے تو میں عاھل خان کو روکوں گا نہیں، دونوں بہنیں ہو، چچازاد ہو، سہیلیاں ہو، خوشی خوشی ایک ہی گھر میں رہو “
وہ کتنے پرسکون تھے اور کتنے آرام سے یہ باتیں کہہ رہے تھے، اروشے کا دل جیسے پھٹنے کو تھا تبھی وہ کھڑی ہوتی چیخ پڑی تھی۔
” کیا کہہ رہے ہیں آپ زریاب کاکا، میں اپ کے پوتے کی ماں بن رہی ہوں، اس گھر کی بہو ہوں، اپ کیسے میرے ساتھ ایسا کر سکتے ہیں “
زریاب خان ماتھے پہ بل ڈالے اپنی جگہ سے کھڑے ہوئے تھے۔
” زبان کو لگام دو لڑکی، بہو ہو اس گھر کی تو بہو بن کے رہو۔ ایک پوتا ہی جنم دے رہی ہو، کون سا انوکھا کام کر رہی ہو دنیا کا۔ ہر دوسری تیسری عورت شادی کے بعد ماں بنتی ہے، یہ بےشرمی اپنے گھر کی دہلیز پہ چھوڑ کے آتی یہاں، ہمیں یہ بےشرمی قطعی نہیں پسند ۔ “
وہ غرا رہے تھے اور اروشے کو ایسا لگ رہا تھا جیسے پوری دنیا اس کے گرد گھوم رہی ہے، مکافات عمل جیسے شروع ہو چکا ہے اس کے اعمال کا، وہ جو دو سال پہلے ایک گھر اور رشتے کو اجاڑ گئی تھی اور آج اس کا گھر اور اس کا رشتہ اجڑ رہا تھا، وہ تو رو بھی نہیں پا رہی تھی۔ تبھی اسے غش آیا تھا اور چکراتے سر کے ساتھ وہ نیچے گر پڑی تھی۔
” اروشے “
زریاب خان چلائے تھے اور اس کی طرف لپکے تھے۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
گاڑی پورچ میں آ رکی تھی، وہ گاڑی سے اترا تھا لیکن وہ اکیلا نہیں تھا، اس کے ساتھ ایک بچی بھی تھی سات سال کی بچی، جو گاڑی سے اتر کے اب اس محل نما بنگلے کا جائزہ لے رہی تھی اپنی معصوم آنکھوں سے، جبکہ میران ارتضی ملک لب بھینچے، بنا کچھ کہے اس کی انگلی پکڑ کے اہنے پورشن کی طرف چلنے لگا۔ منہ بسورتی، میران ارتضی ملک کو ناگواری سے دیکھتی وہ پھر سے ادھر ادھر دیکھنے کا مشغلہ انجام دینے لگی اور ساتھ چل بھی رہی تھی، اسے اس لمبے چوڑے شخص کے چلنے کی رفتار کا مقابلہ بھی ساتھ ساتھ ہی کرنا تھا جو اس ننھی سی جان کے لئے مشکل امر تھا۔ ازمائر نے لب بھینچے سوالیہ نظروں سے ان دونوں کو گھورا تھا ۔
” یہ بچی کون ہے ؟؟”
نہ چاہتے ہوئے بھی وہ پوچھ بیٹھا لیکن میران ایسے لاتعلق سا بنا اس کے قریب سے ہو کے گزرا تھا جیسے اس نے کچھ سنا ہی نہ ہو۔ وہ اندر جا چکا تھا، سیڑھیاں چڑھتا وہ لاؤنج میں آیا تھا جہاں میرب ٹی وی دیکھ رہی تھی جبکہ عارفین بھی پاس ہی بیٹھی ہوئی تھی۔ دونوں نے سوالیہ نظروں سے اس بچی کو اور پھر لب بھینچے، بےتاثر چہرہ لیے کھڑے میران ارتضی ملک کو دیکھا تھا۔
” یہ میری بیٹی ہے عیشل “
ان دونوں ہستیوں پہ جیسے بم گرا تھا، دونوں حیرت سے اسے دیکھتے اٹھ کھڑی ہوئی تھیں جب اچانک پیچھے سے میران پہ وار ہوا تھا ۔
” ذلیل ، کمینے انسان ، یہی سب کرنا تھا تو کیوں کیا نکاح سماہر سے، کیوں برباد کی اس کی زندگی جب پہلے سے ہی بیوی موجود تھی تمہاری “
ازمائر چیخا تھا جبکہ میران نے اس کا وار ناکام بناتے اسے پیچھے دھکا دیا تھا، عیشل روتے ہوئے چیختی صوفے کے پیچھے جا چھپی تھی۔ اس چھوٹی بچی کے لئے یہ سب اجنبی تھے اور یہ جگہ بھی۔ تبھی وہ ڈر کے صوفے کے پیچھے چھپی تھی اور خوفزدہ آنکھوں سے انہیں دیکھ رہی تھی جو لڑ رہے تھے۔
” تم مجھ سے حساب لینے والے کون ہوتے ہیں، اپنی حد مت بھولو “
میران بھی چلایا تھا جبکہ ازمائر خشمگین نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا ۔
” آئندہ مجھ پہ ہاتھ اٹھانے کی جرات مت کرنا کھبی بھی۔ میں ہاتھ توڑ دوں گا “
” تم جیسا عیاش اور کم ظرف انسان میں نے اپنی پوری زندگی میں نہیں دیکھا، سماہر کو برباد کر دیا تم نے، ایک بیوی کے ہوتے ہوئے تم سماہر کو دھوکا دیتے رہے، نہ جانے کتنی عورتوں سے تعلق ۔۔۔۔ “
” بس ۔۔۔ “
میران کی غراہٹ پہ اس کی بات ادھوری رہ گئی تھی۔
” میران کون ہے یہ بچی ؟”
عارفین کے سوال پہ وہ لب بھینچے اپنی ماں کو دیکھتا رہا، کیا کہے ؟ کیا جواب دیں ؟ سچ کہے یا جھوٹ ؟؟
بنا کوئی جواب دیے، سر جھٹک کے وہ اپنے کمرے میں جا کے بند ہو گیا تھا۔ عارفین ازمائر کو دیکھنے لگی جو سر جھٹک کے سیڑھیاں اترنے لگا، نظریں میرب کی طرف اٹھی جو آنکھوں میں نمی لیے اس بچی کو دیکھ رہی تھی اور وہ بچی خوفزدہ نظروں سے ان دونوں کو دیکھ رہی تھی جس کے لئے یہ دونوں چہرے اجنبی ہی تھے۔
کمرے کا دروازہ دستک کے بعد کھلا تھا اور ازمائر اندر داخل ہوا تھا، سماہر سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی جس کے ہونٹ کا کنارہ پھٹا ہوا تھا اور آنکھیں سرخی مائل ہو رہی تھی۔
” کیا بات ہے ازمائر ؟؟”
سماہر کتاب بند کرتی اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔
” پھر سے لڑائی ہوئی ہے آپ دونوں کی ؟”
وہ سوال کر رہی تھی اور اب کے ازمائر کی آنکھوں میں بےبسی در آئی تھی، یہ لڑکی ٹوٹ جائے گی۔ یہ خیال ہی اسے مضطرب کر رہا تھا۔
” مجھے منتخب نہیں کیا آپ نے سماہر ، دکھ نہیں ہے اس بات کا لیکن کم از کم اپنے لئے میران کا تو انتخاب نہ کرتی آپ “
لہجہ بھی مضطرب تھا، سماہر نے گہرا سانس لیا تھا ۔
” کیا ہوا ہے ؟”
” دھوکا دے رہا تھا اب تک وہ اپ کو، کہا تھا ناں میں نے آپ سے کہ اپنی اصلیت دکھا ہی دے گا وہ ایک دن اور آپ نے ایک نہ سنی میری “
ازمائر کے الفاظ پہ اس نے لب بھنیچ لیے تھے۔
” ازمائر پلیز ۔ “
” شادی کر چکا ہے وہ سماہر، بیٹی ہے اس کی ایک ، نہ جانے جائز ہے یا ناجائز ۔ “
ازمائر کے اچانک کہنے پہ سماہر نے حیرت سے اسے دیکھا تھا اور پھر ناگواری سے۔
” ازمائر کیوں کر رہے ہیں آپ یہ سب ؟”
” میں؟؟ سماہر میں کر رہا ہوں؟؟ میں کیا کر رہا ہوں؟ میں تو خاموش ہو چکا ہوں کب کا، آپ کی خوشی چاہتا ہوں میں بس، آپ کو کوئی دکھ نہ پہنچے یہی چاہتا ہوں میں اور کیا چاہوں گا میں آپ سے “
وہ رکا تھا جبکہ سماہر بنا کچھ کہے اسے دیکھے گئی، جس کی آنکھوں میں کرب کا جہاں آباد تھا۔
” میران ارتضی ملک آپ کو دھوکا دے چکا ہے، میں کیسے برداشت کر لوں یہ یار ؟؟ کیسے ؟؟ میری قسمت میں آپ نہیں ہے سماہر لیکن آپ کا خیال میری روح سے بندھا ہوا ہے “
” ازمائر پلیز جائیے یہاں سے آپ “
سماہر اسے ناگواری سے دیکھتی کہہ رہی تھی جبکہ ازمائر اسے دیکھے گیا۔
” اس کی بیٹی کا نام عیشل ہے اور وہ ابھی اسی کے گھر میں موجود ہے “
سماہر حیرت سے اسے دیکھنے لگی۔
” وہ خود لے کر آیا ہے اسے”
وہ پھر سے بولا تھا جبکہ سماہر کو لگا تھا جیسے ہر طرف شور سا برپا ہے، اس کے اندر باہر جیسے ہنگامہ ہو رہا ہے، اسے کچھ سنائی نہیں دے رہا، وہ سن ہو چکی ہے، دل تیزی سے دھڑکنے کا عمل دہرانے لگا، ازمائر لب بھینچے اسے دیکھ رہا تھا اور وہ تیزی سے لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ، اپنے بھاری ہوتے وجود کو سنبھالتی کمرے سے باہر کی طرف بھاگی تھی۔ جوں جوں وہ اس گھر کے قریب جا رہی تھی، توں توں اس کا وجود بھاری ہوتا جا رہا تھا، جیسے آگے بڑھنے سے انکاری ہو لیکن وہ پھر بھی خود کو سنبھالتی، خود کو کھینچتی وہاں تک پہنچ ہی گئی تھی اور!!!! وہ عیشل تھی، وہاں واقع ایک بچی تھی، کوئی سات سال کے قریب کمزور سی بچی، جو میرب کے ساتھ لگی تھی، نظر جیسے ہی سماہر کی طرف اٹھی تو شناسائی کی رمق سی ان آنکھوں میں جاگی تھی اور تیزی سے بھاگتی وہ سماہر سے جا لگی تھی۔
” آپی۔۔ “
میرب اور عارفین حیرت سے اسے دیکھ رہی تھیں جبکہ سماہر سب سے بےنیاز اس بند دروازے کو دیکھ رہی تھی جہاں کے دوسری طرف میران ارتضی ملک تھا اور پھر کمرے کا دروازہ کھلا تھا اور میران باہر آیا تھا۔ نظریں ملی تھی، وہ دونوں ہی ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے، ایک کی آنکھوں میں شکایات کا جال بچھا تھا تو دوسرے کی آنکھوں میں بےبسی تھی، لاچاری تھی، وہ بس لب بھینچ گیا اور غیر محسوس انداز میں عیشل سماہر سے لگی مزید سمٹ گئی تھی جیسے خود کو سماہر کے وجود میں کہیں چھپانے کی کوشش کر رہی ہو۔
‘ کیا یہ سچ ہے ؟’
وہ پوچھنا چاہ رہی تھی لیکن زبان تالو سے چپک گئے تھے۔
‘ میں سمجھی تھی کہ میں ہی ہوں وہ پہلی عورت، تو کیا میں نہیں تھی وہ پہلی عورت ؟؟’
سوال تھے ان آنکھوں میں، جنہیں میران پڑھ رہا تھا اور پھر وہ نظریں چرا گیا، سماہر کے دل میں طوفان برپا ہو چکا تھا اور میران تیزی سے آگے بڑھ کے سیڑھیاں اترنے لگا، عارفین بےبسی سے سماہر کو دیکھ رہی تھی، کئی سال پہلے وہ بھی تو اس مقام پہ لا کھڑی کر دی گئی تھی، محبت کی توہین تب بھی تو ہوئی تھی، تب بھی سہاگ پرایا ہو گیا تھا اور اب۔۔۔ چھوٹے بوجھل قدم اٹھاتی وہ سماہر کے قریب آئی تھی اور سماہر کے کندھے پہ ہاتھ رکھا تھا، وہ چونکی تھی، لیکن بولی کچھ نہیں، خالی آنکھوں سے وہ عارفین کو دیکھے گئی اور پھر خود سے لگی عیشل کو دیکھا تھا جو اس کی کمر کے گرد اپنے ننھے بازو حائل کیے کھڑی تھی۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
