Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 14

گاڑی کا ہارن بجا تھا اور وہ اچانک بیڈ پہ اٹھ بیٹھی تھی، مائزہ جو اسے سحری کے لئے جگانے آئی تھی چونک کے اسے گھورنے لگی۔
” میران آیا ہے “
وہ کہتی تیزی سے بیڈ سے اترنے لگی جبکہ اسے سحری کے لیے جگانے آئی مائزہ گھور کے دیکھنے لگی ۔
” حلق خشک ہو گیا میرا بول بول کے، کہ سماہر اٹھ جاؤ۔۔ سحری کا وقت ہے، مجال ہے جو اٹھی ہو اور گاڑی کے ہارن پہ بھاگنا دیکھو محترمہ کا”
سماہر اس کی بات ان سنی کرتی بالکونی میں آئی تھی لیکن اسے میران نظر نہیں آیا تھا، پورچ میں اس کہ گاڑی کھڑی نظر آ رہی تھی اسے جو ابھی ابھی آ کے رکی تھی لیکن وہ خود کہیں نہیں تھا، سماہر بےچین سی اندر آئی تھی اور دروازے کی طرف بڑھنے لگی ۔
” کہاں؟؟”
سماہر رک کے مائزہ کو دیکھنے لگی ۔
” مجھے بس لمحہ بھر کے لئے اسے دیکھنا ہے مائزہ “
آنکھوں میں نمی کی تحریر تھی اور آواز رندھی ہوئی سی تھی جبکہ مائزہ اپنی بہن کو دیکھے گئی ۔
” سماہر سحری کا ٹائم ہو رہا ہے، مما اور بابا ٹیبل پہ ویٹ کر رہے ہیں۔ “
” مائزہ ۔۔ “
اس کا ہاتھ تھام کے سماہر نے اپنے دل پہ رکھا تھا جو تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ ۔
” سن رہی ہو ناں دھڑکنیں؟؟ تو خود سوچو اس حالت میں، اس شخص کو دیکھے بنا میں کیسے کچھ کھا سکتی ہوں “
مائزہ اب بھی حیران تھی اپنی بہن کے لئے، تبھی اس کے گال تھپتھپائے تھے۔
” جاؤ اور پلیز جلدی آنا “
سماہر مسکرا کے باہر نکلی تھی، اسے باہر جانا تھا، کسی بھی طرح کر کے بس ایک نظر میران کو دیکھنا تھا، وہ بات نہیں کرنا چاہتی تھی اس شخص سے، ناراضگی جتانی تھی، لیکن بس ایک نظر دیکھنا تھا اسے۔ اپنی دھن میں مگن اس نے جیسے ہی دروازہ کھولا، سامنے عارفین کو اور ان کی ملازمہ کو دیکھ کے وہ چونک کے رکی تھی۔
” چچی ماں آپ۔۔ “
خود کو نارمل کرتی وہ پوچھنے لگی جبکہ عارفین مسکرا دی تھی اور نرمی سے اس کے گال پہ ہاتھ رکھے تھے۔
” نکاح کے بعد میری بچی کی پہلی سحری میری طرف سے ہیں۔ “
ان کے نرم لہجے میں کہی ہوئی بات پہ، سماہر حیران سی انہیں دیکھنے لگی جبکہ وہ اپنے ساتھ کھڑی زینب کو اشارہ کر چکی تھی کہ ہاتھ میں موجود ٹرے گھر کے اندر لے کے جائے اور خود سماہر کے دونوں ہاتھ تھام کے اسے نم آنکھوں سے دیکھنے لگی۔
” میری بچی، میری جان ، جانتی ہو ناں کہ میں کس قدر محبت کرتی ہوں تم سے، جانتی ہو ناں سماہر ؟؟”
ان کی آواز بھرا گئی تھی جبکہ سماہر حیرت سے انہیں دیکھتی سر اثبات میں ہلا گئی۔
” میران نے جو کیا، میں نہیں جانتی کہ کیوں کیا اس نے یہ سب ؟؟ کیا وجہ تھی ؟؟ لیکن میرا بچہ میں تم سے معافی مانگتی ہوں، مجھے اور میرے بیٹے کو معاف کر دو، ہم نے تمہارا دل دکھایا ہے “
وہ ہاتھ جوڑ گئی تھی جنہیں سماہر نے دونوں ہاتھوں میں تھام کے ان پہ بوسہ دیا تھا۔
” چچی ماں ، یہ آپ کیا کر رہی ہے؟؟ “
” سماہر میری بچی، میں بہت شرمندہ ہوں تم سے، تبھی میں اتنے دنوں سے تمہارے سامنے آنے سے بھی کترا رہی تھی، لیکن ابھی میرے حلق سے کچھ اترنا نہیں تھا اگر میں تمہارے لئے سحری نہ لاتی “
وہ بھیگی آنکھوں میں مہربانی دیکھ رہی تھی اور پھر اس نے عارفین کو خود سے لگایا تھا، ان کے گلے لگ کے وہ آنکھیں موند گئی تھی۔
” چچی ماں، آپ ایسی باتیں نہیں کریں پلیز، میں جانتی ہوں اپ کی محبت کو، آپ میری بزرگ ہے، مجھے کسی سے کوئی شکایت نہیں ہے، بس آپ پلیز ایسے ہرٹ نہ ہو پلیز “
اپنی بالکونی میں کھڑا میران ارتضی ملک یہ منظر زخمی نگاہوں سے دیکھ رہا تھا جبکہ سماہر ان سے الگ ہو کے اب ان کے آنسو صاف کر رہی تھی۔
” پلیز آپ ارام سے سحری کریں، اور جس محبت سے آپ نے میرے لئے سحری بنائی ہے، میں احترام کرتی ہوں آپ کا اور آپ کی محبت کا، چلئیے ہمارے ساتھ مل کے سحری کرتے ہیں۔ “
سماہر انہیں گھر کے اندر لے جانے لگی جبکہ عارفین رک گئی تھی۔ ۔
” ارے نہیں میری جان ، مجھے میرب کو سحری کے لئے جگانا ہے اور میران آیا ہے تو ان کے کئے سحری بنانی ہے “
اپنی رو میں کہتی وہ ایکدم سے چپ ہو گئی تھی جبکہ میران کے نام پہ اس کی دھڑکنیں منتشر ہوئی تھی اور چہرے پہ جیسے رنگ سے بکھرے تھے۔ ۔
” سماہر بیٹا، میران کو معاف مت کرنا، اسے ہر بڑی سے بڑی سزا دینا ہے، وہ پچھتاؤں میں گھرا رہے، تمہیں دکھ دینے کے بعد اسے کوئی حق نہیں خوش رہنے کا۔ “
سماہر خاموش ہی رہی ۔ ۔
” میں چلتی ہوں۔ خوش رہو میری بچی “
اس کے کندھے پہ ہاتھ پھیر کے وہ زینب کے ساتھ آگے بڑھی تھی جبکہ سماہر دھڑکتے دل کے ساتھ وہیں کھڑی رہی تھی، اسے میران کو دیکھنا تھا لیکن اسے ایک نظر دیکھنے کے لئے وہ تڑپ رہی تھی اور کوئی راستہ نظر نہیں آ رہا تھا اسے، لب کاٹتی وہ اداس آنکھیں لیے اندر کی طرف جانے کے لئے مڑنے لگی تھی جب نظر میران کے کمرے کی بالکونی پہ جا کے ٹھہری تھی جہاں وہ شخص کھڑا، لب بھینچے اداس آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا، سماہر رک گئی تھی، دروازے پہ ہاتھ رکھ کے اس نے شاید سہارا لیا تھا اور آنکھیں جیسے انکاری ہو گئی تھی، تبھی وہ آنکھیں میران ارتضی ملک پہ رک گئی تھی اور اس شخص کی سماہر پہ۔ جس کی آنکھوں میں اب کے ناراضگی تھی، شکایتوں کا جال تھا، گلے شکوے تھے، جدائی کے لمحات کا عکس تھا اور پھر وہ نظریں پھیر کے اندر چلی گئی تھی، دروازہ بند کر کے وہ وہیں ٹیک لگا کے کھڑی ہو چکی تھی، دل پہ ہاتھ رکھے وہ تیز ہوتی دھڑکنوں کو جیسے تھپکی دینے کی کوشش کر رہی تھی لیکن اس شخص کو پھر سے دیکھنے، بےحد قریب سے دیکھنے کی چاہ بڑھتی جا رہی تھی۔
” سماہر سحری کا ٹائم ہونے کے بعد سحری کرنی ہے کیا تم نے “
مائزہ کی آواز پہ وہ چونکی تھی اور ہوش کی دنیا میں آئی تھی، تبھی نظریں چرا کے وہ اپنے بکھرے بال سمیٹنے لگی۔
” ہاں چلو “
مائزہ سے بھی پہلے وہ آگے بڑھی تھی جبکہ مائزہ زیر لب مسکراتی، سر تاسف میں ہلاتی اس کے پیچھے ہی آئی تھی اور بالکونی میں کھڑا میران ارتضی ملک اس وقت خود کو درد اور کرب کی گہرائی میں خود کو اترتا محسوس کر رہا تھا۔
” بھائی “
میرب کی آواز پہ وہ چونک کے مڑا تھا جبکہ میرب لب کاٹتی اس کے قریب آئی تھی لیکن اس کے سینے سے لگنے سے ڈر رہی تھی شاید۔
‘ میرب بہن ہے آپ کی میران، بھائی ہونے کا احساس دلائے اسے، تاکہ وہ خود کو محفوظ محسوس کر سکے، مضبوط محسوس کر سکے۔۔’
اسے سماہر کے لئے الفاظ یاد آئے تھے اور اس نے ہاتھ آگے بڑھا کے میرب کو خود سے لگایا تھا، میرب پہلے حیران ہوئی تھی۔
” کیسی ہو میرب ؟؟”
” ٹھیک ہوں “
آہستہ آواز میں کہتی وہ مسکرا دی تھی ۔
” مما سحری کے لئے بلا رہی ہے آپ کو “
میران نے اثبات میں سر ہلایا تھا۔
” چلتے ہیں۔ “
گہرا سانس لیتے وہ میرب کے ساتھ اندر جانے کے لئے بڑھا تھا۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
” ازمائر یہاں کیوں بیٹھے ہوئے ہو بیٹا؟؟”
وہ جو نہ جانے کب سے اپنے کمرے کی بالکونی میں بیٹھا اپنی سوچوں میں گم تھا جب عظمی نے آ کے اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھا تھا۔ وہ چونک کے اپنی ماں کو دیکھنے لگا اور پھر سر جھٹک کے اس نے اپنی آنکھیں ہاتھ کی انگلیوں سے مسلی تھی۔
” آپ کیوں جاگ رہی ہے مما “
عظمی نے پہلے حیرت سے اور پھر ہنس کے اپنے بیٹے کو دیکھا تھا۔
” آج رمضان المبارک کی پہلی سحری ہے بیٹا، میں تو تمہیں جگانے آئی تھی لیکن تم پہلے سے ہی جاگ رہے ہو “
” ہممم ہاں، میں بھول گیا تھا۔ “
ادھر ادھر لان میں نظر دوڑاتا وہ کہنے لگا۔
” تو چلو بیٹا، گرما گرم پراٹھے بنوائے ہیں میں نے اہنے بیٹے کے لئے “
عظمی کی بات پہ ازمائر اسے دیکھے گیا۔
” کیا بات ہے بیٹا؟؟”
” اپنے بیٹے کو کتنا چاہتی ہے آپ ؟”
اس نے سوال کیا تھا جبکہ عظمی اس کے سامنے کرسی پہ بیٹھی تھی۔
” یہ کیسا سوال ہے ؟؟”
” کچھ نہیں۔۔۔ “
وہ سر جھٹک گیا جبکہ عظمی نے اس کا ہاتھ تھاما تھا۔
” میں جانتی ہوں کہ اس وقت تمہارے مائنڈ میں کیا چل رہا ہے ازمائر، میں ماں ہوں تمہاری۔ وہ دوغلا انسان آیا ہوا ہے آج گھر، لیکن تم فکر نہ کرو، اس نے جھوٹ کی بنیاد پہ رشتہ بنایا ہے، دیکھنا بہت جلد یہ رشتہ ٹوٹ جائے گا اور پھر آگے کا راستہ تمہارا “
ازمائر کے چہرے پہ تمسخر آیا تھا۔
” اول تو یہ کہ ایسا کچھ نہیں ہونے والا، سماہر کسی بھی قیمت پہ میران سے بدظن نہیں ہوگی، اور نہ میران میرے لئے راستہ صاف ہونے دے گا اور دوسری بات یہ کہ مجھے اب سماہر نہیں چاہئے۔ “
یہ کہہ کے وہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا تھا ۔
” ازمائر ؟؟”
عظمی حیرت سے اپنے بیٹے کی پشت دیکھتی اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔
” مجھے سحری کرنی ہے “
بنا مڑے کہتا وہ کمرے سے باہر نکلا تھا جبکہ عظمی حیرت سے کچھ سوچتی اس کے پیچھے ہی کمرے سے باہر نکلی تھی، ازمائر کے دل و دماغ میں کیا چل رہا ہے، عظمی لاکھ کوشش کے بعد بھی اس تک رسائی حاصل نہیں کر پا رہی تھی۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
” مجھے منظور ہے بابا، جیسے آپ کو ٹھیک لگے۔ “
مائزہ نے دو منٹ بھی نہیں لگایا تھا اپنا جواب دینے میں، جہاں سماہر اور تابعہ نے حیرت سے اسے دیکھا تھا تو وہیں وقاص ملل نے بےحد مغرور انداز میں تابعہ کی طرف آبرو اچکا کے دیکھا تھا جبکہ وہ لب بھینچ گئی تھی۔
” میں نے کہا تھا ناں کہ میری بیٹی کھبی مجھے منع نہیں کرے گی “
لہجہ بھی مغرور سا تھا جبکہ مائزہ ، سماہر سے نظریں چراتی پانی کا گلاس لبوں سے لگا گئی ۔
” تو کل افطاری پہ ان کی فیملی کو دعوت دے دیتا ہوں میں، اچھا ہوگا دونوں فیملیز بیٹھ کے آپس میں بات کریں “
وقاص ملک خوشدلی سے کہہ رہے تھے جبکہ سماہر کی تاسف بھری نظریں مائزہ پہ تھی اور تبھی کمرے میں آتے ہی سماہر نے مائزہ کا بازو تھام کے اس کا رخ اپنی طرف کیا تھا۔
” یہ کیا حرکت کی ہے تم نے مائزہ ؟”
مائزہ نے اپنا بازو اس کی گرفت سے چھڑایا تھا۔
” وہی جو مجھے کرنا چاہئے، بابا نے اچھا شخص چنا ہے میرے لئے، ہینڈسم ہے، امیر ہے، نام ہے، بینک بیلنس “
” تمہیں یہ سب تو نہیں چاہئے مائزہ ؟؟”
سماہر کا لہجہ دکھ سے بھرا تھا جبکہ مائزہ اس کی آنکھوں میں سپاٹ نگاہوں سے دیکھنے لگی۔
” تو جو چاہئے وہ کون سا مل رہا ہے مجھے “
” مائزہ وقت گزرنے تو دو، ازمائر تمہارے لئے بہترین انتخاب ہے، “
سماہر نے پھر سے اس کا ہاتھ تھامنے کی کوشش کی تھی اور مائزہ نے پھر سے اپنا ہاتھ چھڑایا تھا۔
” یہ تم سے کس نے کہا کہ ازمائر میرے لئے بہترین ہے ؟؟ اگر ایسا ہوتا تو اسے مجھ سے محبت ہوئی ہوتی نا کہ تم سے محبت ہو گئی ہے اسے “
” میں اب میران کی منکوحہ ہوں مائزہ ، پلیز ایسی باتیں مت کرو “
سماہر کی بات پہ مائزہ ہنسنے لگی۔
” یہاں اس عالیشان بنگلے میں سب پاگل ہیں۔ میں ازمائر کے پیچھے تو ازمائر تمہارے پیچھے، تم میران کے پیچھے اور میران ۔۔ “
وہ رک کے ہنسنے لگی۔
” میران ارتضی ملک اپنی بیوی نمٹا کے تم پہ ڈاؤ پیچ چلا رہا ہے “
” مائزہ “
سماہر چلائی تھی، آواز میں غم اور غصہ دونوں کی جھلک تھی جبکہ مائزہ ہنستے ہوئے اپنے بیڈ پہ جا کے لیٹ گئی ۔
” تم مجھ سے بدتمیزی کرنے کا کوئی حق نہیں رکھتی “
سماہر اب بھی غصے میں اسے گھور رہی تھی۔
” معاف کرنا بہن ۔۔ گڈ نائٹ “
کہہ کے وہ کمفرٹر اپنے منہ تک لے چکی تھی جبکہ سماہر کا دل تیزی سے اس کی بات پہ دھڑکنے لگا تھا۔ دل جو خوش فہم سا تھا کہ میران ارتضی ملک اس سے محبت کرتا ہے، وہی اس کی پہلی محبت ہے اور وہ میران کی زندگی میں آئی پہلی عورت ہے، سب جیسے مٹی کا ڈھیر بن رہا تھا، مائزہ اسے آئینہ دکھا کے سو چکی تھی لیکن سماہر کی بےچینی سوا کر گئی تھی اور تبھی نیند بھی اس سے روٹھ کے کمرے کے ایک کونے میں منہ چھپا کر بیٹھ چکی تھی۔
یہ محبت بھی ناں!
اچھے خاصے عقلمند انسان کو بھی بےوقوف بنانے کی اہلیت رکھتی ہے۔
یہی سب سماہر کے ساتھ بھی ہو رہا تھا۔
میتھس کی دنیا میں ہر تھیوری، ہر پرابلم کو مات دینے والی سماہر، محبت کی اس عجیب دنیا میں بےوقوف بنی، اپنی خوش فہمیوں کا محل بنائے، خود میں مست مگن تھی لیکن منہ کے بل گری بھی، تو کہاں؟؟؟
جہاں سے پیچھے قدم رکھنے کا کوئی بہانہ نہیں مل رہا تھا اور آگے قدم بڑھانے کا کوئی مقصد۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
” اس لڑکی کو ہوش نہیں آنا چاہئے “
زریاب خان سرد لہجے میں ڈاکٹر مہ جبین سے کہہ رہے تھے جبکہ وہ حیرت سے اس شخص کو دیکھ رہی تھی۔
” مطلب ؟؟”
” مطلب یہ کہ، جس طرح سے اس لڑکی کے لئے 48 گھنٹے کا بتایا ہے کہ خطرہ ہے اسے، تو اس خطرے کو اس کی موت کا باعث بنا دو “
بےحد سفاک لگ رہا تھا زریاب خان اس وقت، ڈاکٹر مہ جبین کو تو اس وقت یہی لگا ۔
” یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں سر ؟”
” ٹھیک کہہ رہا ہوں میں، اگر وہ زندہ بچ گئی اور ہوش میں آئی تو میری زندگی برباد ہو جائے گی “
وہ گرجا تھا جبکہ مہ جبین نفی میں سر ہلانے لگی۔
” میں ایک ڈاکٹر ہوں اور میں اپنے پیشے کے ساتھ دوغلا پن نہیں کر سکتی “
” پانچ لاکھ ۔۔ “
مہ جبین نہ سمجھی سے اسے دیکھنے لگی۔
” زیادہ چاہو تو زیادہ بھی دے سکتا ہوں “
” آپ میری قیمت لگا رہے ہیں؟”
مہ جبین کے لہجے میں غصہ تھا جبکہ زریاب خان مسکرانے لگا۔
” دس لاکھ۔ “
مہ جبین لب بھینچے خاموشی سے اسے دیکھنے لگی۔
” وہ لڑکی مر جانی چاہئے آج رات ہی “
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤