Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 17

” آج کل آپ گاؤں نہیں جا رہے بابا ؟؟”
افطاری کے بعد وقاص ملک لاؤنج میں بیٹھے چائے پی رہے تھے جب سماہر نے اچانک سوال کیا تھا اور وہ چونکے تھے اور پھر ہلکا سا مسکرائے تھے۔
” بس آپ کے مما کی خاطر جانا چھوڑ دیا ہے “
سماہر ہلکا سا مسکرا رہی تھی۔
” پہلے تو کھبی مما کا خیال نہیں آیا تھا آپ کو “
عجیب لہجہ تھا، وقاص ملک اپنی بیٹی کو دیکھ رہے تھے جبکہ وہ سر جھٹک گئی۔
” میرا مطلب ہے یوں اچانک گاؤں کے سارے کام چھوڑ دئیے تو حیرت ہو رہی تھی۔ “
وہ نظریں پھیر کے اب ٹی وی دیکھنے لگی۔
” میران کی بیٹی آپ سے کافی گھل مل گئی ہے “
وقاص ملک کے سوال پہ، اس کے دل میں ابال سا اٹھا تھا لیکن خاموشی سے وہ وقاص ملک کو دیکھنے لگی اور نہ جانے کیوں وہ اپنے بیٹی سے نظریں چرا گئے تھے۔
” اس کی مما اسے سمجھا گئی تھی کہ اگر بابا دھتکار دیں تو سماہر کے پاس جانا، وہ آپ کی آپی ہے آپ کا زیادہ خیال رکھے گی۔ “
وقاص چونک کے اسے دیکھنے لگے جس کا لہجہ ہی بدلا ہوا تھا ۔
” سب کہتے ہیں کہ وہ مجھ سے زیادہ ملتی ہے، کیا یہ سچ ہے بابا ؟؟ کہ وہ مجھ سے زیادہ ملتی ہے ؟؟ جیسے میری ہی بہن ہے وہ ؟؟”
وقاص ملک لب بھینچے نظریں چرا گئے جبکہ سماہر کے چہرے پہ ہلکی مسکراہٹ پھیلی تھی اور اپنا کپ ٹیبل پہ رکھ کے وہ اٹھ کھڑی ہوئی تھی، اس کے قدم باہر کی طرف جا رہے تھے، وہ شخص جو اسی گھر کا حصہ تھا، جو اس کا اپنا تھا، وہ جو اس شخص سے منسوب تھی، وہی اس گھر سے گریزاں تھا، یہاں کے لوگوں سے گریزاں تھا، کنارہ کش ہو چکا تھا۔
” مجھے نماز پڑھنی ہے “
اسے اپنی آواز سنائی دی تھی اور پھر اس چہرے پہ بکھرتی ہلکی سی مسکراہٹ،
” ساتھ پڑھ لیں گے “
اس کی بھاری سرگوشی ابھری تھی لیکن وہ ان سنی کر گئی تھی اور اپنے گھر کی طرف آتے ہوئے اس نے ایک نظر بھی اس اداس چہرے کو نہیں دیکھا تھا، جس کی آنکھوں میں امید دم توڑ گئی تھی۔ زندگی کے ہر موڑ پہ اس شخص کا ساتھ دینے کا وعدہ وہ خود سے کر تو چکی تھی لیکن شاید نباہ نہیں پائی تھی۔
” مجھے میران کے پاس جانا ہے “
وہ منان کے سامنے آ رکی تھی جبکہ وہ احترام سے نظریں جھکا گیا تھا۔
” چھوٹی بی بی میران سائیں تو ۔۔۔۔ آپ کیسے جائیں گی ۔ “
” آپ لے کے جائیں گے منان کاکا “
وہ کہہ کے گاڑی کی طرف بڑھی تھی اور اسی تیزی سے منان نے آگے بڑھ کے گاڑی کا دروازہ کھولا تھا اس کے لئے، نظریں اب بھی جھکی ہوئی تھی۔ گاڑی کا دروازہ بند کر کے وہ اب موبائل نکال کے نمبر ملانے لگا ۔
” اب آپ غلط کر رہے ہیں منان کاکا “
سماہر کی آواز پہ وہ چونکا تھا اور تیزی سے موبائل شرٹ کی جیب میں رکھا تھا، بےبسی سے سر جھکائے وہ ڈرائیونگ سیٹ پہ آ بیٹھا تھا کہ میران ارتضی ملک اپنے شاندار بنگلے میں تھا اور کسی کو بھی بتانے سے منع کیا تھا لیکن سماہر تو میران ارتضی ملک کی منکوحہ تھی، اس کی عزت، اس کی محبت، منان کے لئے مشکل امر تھا کہ وہ سماہر کے سامنے بےاحترامی کرتا اور اس کے حکم سے سر پیچی کرتا، وہ کوئی عام انسان نہ تھی، تبھی خاموشی سے وہ گاڑی ڈرائیو کرتا جا رہا تھا اور سماہر دھڑکتے دل کے ساتھ باہر دیکھ رہی تھی، رات کے اس پہر کی ہلکی ہلکی مدھم ہوائیں اس کے چہرے سے ٹکراتی اور اس کے چہرے پہ مسکراہٹ سی پھیل جاتی، لیکن لمحہ لمحہ دھڑکنیں جیسے بےلگام ہو رہی تھی۔ وی میران ارتضی ملک کے پاس جا رہی تھی، اسے آگاہ کیے بنا، کیسے جائے گی ؟؟ اس کے سامنے ؟؟ کیا کہے گی اسے جا کے؟؟ وہ کیوں آئی ہے یہاں؟؟ رات کے اس وقت؟؟ گاڑی ایک بےحد خوبصورت بنگلے کے پورچ میں آ رکی تھی اور وہ دھڑکتے دل کے ساتھ نظریں جھکا کے اپنے ہاتھوں کو دیکھنے لگی، گاڑی کا دروازہ کھولا منان سائیڈ پہ کھڑا ہو چکا تھا اور سماہر کے لئے اب گاڑی سے قدم باہر رکھنا محال لگ رہا تھا، پورا وجود جیسے بھاری ہو رہا تھا، دھڑکنیں جیسے کانوں میں بج رہے تھی اور وہ کچھ بھی سمجھنے اور سوچنے کی صلاحیت سے محروم ہو چکی تھی۔ خود میں ہمت مجتمع کرتی وہ گاڑی سے قدم باہر رکھ کے، خود بھی اور چکی تھی۔ توازن جیسے بگڑا تھا تبھی گاڑی کا سہارا لیے کھڑی وہ اس عالیشان بنگلے کو دیکھنے لگی جو اپنی قیمت اور خوبصورتی کا منہ بولتا ثبوت تھا۔ یہ میران ارتضی ملک کی اپنی پراپرٹی تھی۔ جو اسلام آباد کے پوش علاقے کے قیمتی ترین بنگلوں میں سے ایک تھا۔
چھوٹے چھوٹے قدم رکھتی وہ آگے بڑھ رہی تھی، جہاں جہاں سے گزرتی، سارے ملازمین اور گارڈز نظریں جھکا کے، دو قدم پیچھے ہو کے احترام کے ساتھ کھڑے ہو جاتے، سماہر میں اعتماد بڑھنے لگا، یہاں کا ہر ملازم اس کے احترام رکھتا تھا، اور وہ سب جانتے تھے سماہر میران ملک کو، میران ارتضی ملک کا احترام اور اس کی محبت سماہر کے دل میں مزید بلند مرتبہ حاصل کر چکی تھی۔
ایزی چیئر پہ، وہ آرام دہ انداز میں بیٹھا آنکھیں موندے ہوئے تھا، یہ میران ارتضی ملک کا بیڈروم تھا، آہٹ پہ وہ چونکا تھا، اس نے آنکھیں کھول دی تھی، وہی مخصوص خوشبو نتھنوں سے ٹکرائی تو بےاختیار وہ رخ موڑ کے پیچھے دیکھنے لگا، وہ مجسمہ حسن تو اس کے کمرے میں، اس کے پیچھے ہی کھڑی تھی، وہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہو کے اسے دیکھنے لگا جو نظریں جھکا گئی تھی اور پھر پلکیں اٹھی تھی اور یہی لمحہ ہوتا تھا ہمیشہ کہ میران ارتضی ملک اپنا آپ مکمل ہار جاتا اس کے سامنے ۔ کیا وی آواز دے ؟؟ کیا اس کا نام لے ؟؟ کیا اسے پکارے ؟؟ اگر وہ خیال ہوا تو ؟؟ اگر بس ایک عکس ہوا تو ؟؟ اس کا خوبصورت خیال ہوا تو؟؟ اور اگر ۔۔۔ اگر وہ کوئی خوبصورت خیال نہیں بلکہ خوبصورت حقیقت ہو تو ؟؟ وہ وہ حسن کا پیکر حقیقت ہوا تو ؟؟ تو ؟؟ تو کیا وہ سوال پوچھنے آئی ہے ؟؟ مجھ سے جواب مانگنے آئی ہے ؟؟ حساب مانگنے آئی ہے؟؟ سوال تھے کہ پے در پے اس کے دل و دماغ میں چل رہے تھے اور سماہر اس کے مسلسل دیکھنے سے، پریشان سی ہو کے نظریں جھکا گئی تھی پھر سے، چہرے پہ آئے آوارہ لٹوں کو اس نے ہاتھ کی مخروطی انگلیوں سے کان کے پیچھے اڑسنے کی کوشش کی تھی جو بیتاب سی ہو کے پھر سے اس کے چہرے کے اطراف پہ پھیلی تھی۔
” سماہر ؟؟”
میران اسے حیران آنکھوں سے دیکھتا پکار بیٹھا تھا ، کس قدر حیرت تھی اس کی آنکھوں میں، اس کے لہجے میں، خوبرو چہرے پہ سایہ سا گزرا تھا، شاید اسے لگا تھا کہ سماہر اس سے حساب لینے آئی ہے، اس کے ماضی کا حساب۔ جبکہ سماہر ہمت کرتی مزید دو قدم آگے آئی تھی۔ اس کے سامنے اس لمحہ تو آواز بھی جیسے بند پڑ رہی تھی، جیسے آواز کا گلا گھونٹا جا رہا ہو لیکن وہ میران ارتضی ملک کو دیکھ رہی تھی، اس لمحے اسے دیکھنا کتنا اچھا لگ رہا تھا سماہر کو، بس دیکھتے رہنا چاہتی تھی وہ میران ارتضی ملک کو۔
” میں تراویح پڑھنے آئی ہوں تمہاری امامت میں “
نرمی سے کہتی وہ ہلکا سا مسکرائی تھی جبکہ میران ارتضی ملک کو اپنا پورا وجود اس ایک ہلکی سی مسکراہٹ میں، پگھلتا محسوس ہوا تھا۔ ہر ڈر، ہر خوف بھول کے وہ سماہر کو دیکھ رہا تھا، خواہشیں کیا ایسے بر آتی ہے ؟؟ افطار کے وقت وہ جو دعا مانگ چکا تھا، اللہ تعالٰی اتنی جلدی سن لے گا یہ تو وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ آنکھوں میں نمی سی اتری تھی۔ تبھی نظریں چرا کے اس نے بالوں میں ہاتھ پھیرا تھا۔
” میں۔۔۔ میں وضو کر کے آتا ہوں “
اثبات میں سر ہلاتی وہ میران کو دیکھ رہی تھی جو تیزی سے واشروم کی طرف بڑھا تھا، دروازہ بند کر کے وہ اپنے دل پہ ہاتھ رکھ کے، کچھ لمحے کھڑا رہا تھا، ایسے لگ رہا تھا جیسے سانس بس رکنے ہی لگی ہے، جیسے دل نے بس اب دھڑکنے سے انکار کر دینا ہے۔ اپنے ہاتھ کی کپکپاہٹ پہ قابو پاتا وہ آئینہ کے سامنے آ کھڑا ہوا تھا، نم ہوتی سرخ آنکھوں سے وہ خود کو دیکھ رہا تھا، وہ مسکرانا چاہ رہا تھا لیکن وہ رو پڑا تھا، وہ اچانک سے رو پڑا تھا، جو پاگل پن، جو وحشت اتنے دنوں سے اس کے سرد وجود میں بڑھتی جا رہی تھی، آج جیسے اسے باہر نکلنے کا رستہ مل رہا تھا، جیسے وہ سردپن ختم ہو رہا تھا اور وہ پگھل رہا تھا، وہ موم ہو رہا تھا۔ اپنے ہاتھ کی مٹھی بنا کے ، اپنے ہونٹوں پہ رکھتا وہ جیسے اپنے اندر کی چیخ کو روکنے کی کوشش کر رہا تھا، وہ وضو کرنے لگا اور ہر وضو کا عمل کرتے وہ رو رہا تھا، اس کا دل، اس کا وجود، اس کی سانسیں جیسے شکر ادا کر رہی تھی۔
وہ باہر آیا تو سماہر کو اپنا منتظر پایا جو دوپٹہ سر پہ لپیٹے گلاس وال سے باہر دیکھ رہی تھی، آہٹ پہ مڑ کے اسے دیکھنے لگی وہ جو مبہوت سا کھڑا اسے دیکھ رہا تھا، نظریں چرا کے وارڈ روب کی طرف بڑھا تھا اور دو جائے نماز نکال کے اس نے اپنے لئے اور سماہر کے لئے بچھائی تھی، سماہر بھی خاموشی سے جائے نماز پہ آ کے اپنی جگہ پہ آ کھڑی ہوئی تھی جبکہ نظریں میران کی پشت پہ تھی، اسے محسوس ہوا تھا جیسے وہ کانپ رہا ہے، اس کے ہاتھ کانپ رہے ہیں تبھی اس نے ہاتھ بڑھا کے نرمی سے اس کا ہاتھ تھاما تھا اور یہی لمحہ تھا جب میران نے بنا سوچے مڑ کے سماہر کو خود میں بھینچ لیا تھا، اتنی شدت تھی اس لمس میں، کہ پل بھر کے لئے سماہر بھی پریشان ہو گئی تھی لیکن اگلے لمحے نرمی سے اپنی دونوں بانہیں میران ارتضی ملک کے پشت پہ باندھی تھی جیسے وہ بھی میران ارتضی ملک کی قربت کے لئے پاگل پاگل سی، بےچین سی رہی ہو۔ کتنی شدت تھی اس لمس میں کہ کئی لمحوں تک وہ دونوں ہی ایکدوسرے سے لگے، بس سانس لے رہے تھے، ایکدوسرے کو محسوس کر رہے تھے۔ کئی لمحے بعد اس سے الگ ہو کے میران نے اس کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھامے، اس کے ہاتھوں کو دیکھنے لگا جبکہ سماہر اس کے چہرے کو دیکھ رہی تھی، اس کی جھکی نظروں کو دیکھ رہی تھی، اس کے ماتھے پہ بکھرے بالوں کو دیکھ رہی تھی جو اسے بےحد پرکشش بنا رہے تھے۔ یہ شخص، اس کا محرم، اس کا عشق، اس کی محبت، وہ شکرگزاری کا ورد پڑھ رہی تھی دل میں بار بار۔
” میں گنہگار ہوں، مجھ میں کہاں اتنی ہمت کہ میں امامت کر سکوں، اللہ تعالٰی کے حضور جھک کے میں اپنے گناہوں کی بخشش ہی طلب کر سکتا ہوں، امامت تو مجھ سے جیسے گنہگار کے لئے نہیں ہے “
بھاری اواز گونجی تھی اور سماہر کا دل دھڑکنا بھول گیا، کتنے دنوں بعد وہ اس شخص کو سن رہی تھی، جو اسے دیکھ نہیں رہا تھا۔
” اور میں چاہتی ہوں کہ اپنے محرم کی امامت میں اپنی نماز ادا کروں “
میران چونک کے حیران آنکھوں سے اسے دیکھا تھا، کیا تھی وہ ؟؟ سراپا محبت؟ سراپا عشق؟
” میں۔۔۔۔ “
اس سے پہلے وہ اپنی بات مکمل کرتا، سماہر نے اپنے ہاتھ کی ہتھیلی سے اس کے لبوں کو چھوا تھا اور وہ خاموش ہو گیا تھا جبکہ اس ٹوٹے بکھرے شخص کو سماہر محبت بھری نظروں سے دیکھ رہی تھی۔ میران نے جھک کے اس کے ماتھے پہ اپنے لب رکھے تھے اور سماہر نے اس کے ہاتھ کی پشت پہ اپنے لب رکھے تھے۔ اس سے بڑھ کے کیا اظہار ہو سکتا تھا میران کے لئے ؟؟ سماہر کی محبت کا، اس کے لئے سماہر کے احترام کا۔
” میرا ماضی اس قدر سیاہ ہے کہ میرا وجود کانپ رہا ہے اس لمحے “
سماہر بنا کچھ کہے اسے دیکھ رہی تھی جو رک رک کے کہہ رہا تھا۔
” اگر تم میرا ماضی مکمل جان لو تو نفرت کے قابل بھی نہیں سمجھو گی مجھے “
وہ پھر کہہ رہا تھا جبکہ سماہر خاموشی سے اسے اس لمحے حفظ کر رہی تھی۔ میران منتظر تھا اسے سننے کے لئے لیکن وہ خاموش تھی نظریں جھکا کے وہ میران کو ہاتھوں کو دیکھ رہی تھی جو اس کا ہاتھ تھامے ہوئے تھے۔
” تم کچھ کہو گی نہیں؟”
اور وہ نظریں اٹھا کے میران ارتضی ملک کو دیکھنے لگی ۔ آج ان مغرور سیاہ آنکھوں میں بےبسی کی جھلک کس قدر نمایاں تھی ۔ وہ بےتاثر آنکھیں آج کس قدر خوبصورت تھی۔
” کیا سننا چاہتے ہو ؟”
اور اس سوال پہ وہ لب بھینچ گیا ۔
” تمہارا ماضی کریدنے سے میرے ہاتھ کیا آ جائے گا میران ؟؟”
وہ خاموشی سے اسے دیکھے گیا ۔ کتنی مضبوط تھی وہ لڑکی۔ اس کی نظریں اب اس کے ہاتھ کی تیسری انگلی میں موجود اس انگوٹھی پہ گئی جو میران ارتضی ملک کے نام کی تھی جسے وہ بےخیالی میں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں سے گھما رہی تھی ۔
” اگر تم انکار۔۔۔ “
میران کہتے کہتے رکا تھا شاید خود میں ہمت مجتمع کرنا چاہ رہا تھا وہ سب کہنے کی ۔ دل ڈوبا تھا ان سرمئی آنکھوں میں لیکن پھر وہ نظریں چرا گیا ۔
” اگر ۔۔۔ اگر تم انکار کرنا چاہو تو تمہیں حق ہے اس بات کا “
وہ ہلکا سا مسکرائی تھی اور پھر سر جھٹکا تھا ۔
” کیا انکار کروں؟؟ کس کس بات کے لئے انکار کروں میران ؟؟ میرے ہاتھ میں موجود تمہارے نام کی اس انگوٹھی کو اتار کے اگر میں تمہارے سامنے رکھ دوں تو کیا سب ختم ہو سکتا ہے؟؟ اگر نکاح نامے پہ ہوئے اس سائن کو مٹا دوں تو؟؟ کیا اس محبت کے لئے انکار ہو سکتا ہے ؟؟ کیا ان لمحوں کے لئے انکار ہو سکتا ہے جن سے خوبصورت یادیں وابستہ ہیں ہماری ؟؟ کیا ۔۔۔”
وہ رکی تھی۔ میران اب اسے دیکھ رہا تھا۔ آنکھوں میں نمی ٹھہری تھی ۔
” کیا اس احساس کے لئے انکار ہو سکتا ہے میران جو ۔۔۔ “
وہ بات ادھوری چھوڑ گئی تھی اور نظریں جھکا گئی تھی جبکہ میران دیر تک اس کے گلابی گالوں پہ سایہ فگن ان لرزتی پلکوں کو دیکھتا رہا ۔
” اس قدر محبت؟؟ کہ میرا ماضی بھی تمہیں مجھ سے متنفر نہیں کر رہا ؟”
وہ لرزتی پلکیں پھر سے اٹھی تھی ۔ ان سرمئی آنکھوں میں ہلکی سی نمی تھی جسے میران بوجھل نگاہوں سے دیکھے گیا ۔
” جو شخص آدھی رات کو اٹھ کے باوضو ہو کے اپنے رب کے آگے سجدہ ریز ہوتا ہے صرف اس لئے کہ وہ عبادت کے ان مقدس لمحوں میں اپنے ماضی کو دفنانا چاہتا ہے ۔ اپنے ہر گناہ کے لئے وہ قطرہ قطرہ آنسو بہاتا ہے تو ایسے شخص کی پاکیزگی کی گواہی تو تہجد کے وہ مقدس لمحے بھی دے دیتا ہے تو میران میں پھر سے کیوں وہ ماضی کریدوں جسے آپ دفن کر آئے ہیں اپنے رب کے حضور سچے دل سے جھک کے ۔ “
وہ جذب کے عالم میں اپنے سامنے کھڑے اس شخص کو دیکھتی کہہ رہی تھی اور وہی لمحہ تھا جب میران ارتضی ملک کو محسوس ہوا کہ وہ جو اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے پہلی بار آنکھیں موند کے سجدہ ریز ہوا تھا ۔ آج وہ اپنے ماضی کے لئے بخشش پا چکا ہے ۔
” تم ؟؟ سماہر تم ؟؟”
وہ حیران سا تھا جبکہ وہ ہلکا سا مسکرائی تھی۔
” میں دیکھ چکی ہوں تمہیں اور اگر تم میں یہ بدلاو نہ بھی آتا میران، تو میں ایسے ہی تمہارے سامنے کھڑی ہوتی اور ایسے محبت کرتی تم سے میں، میری محبت تمہاری ماضی کی محتاج نہیں، تمہارے کسی عمل کی محتاج نہیں ہے، میں محبت کرتی ہوں تم سے، تم ہی میرے محرم ہو، تم ہی عشق ہو اور میں اپنی آخری سانس تک تمہاری محرم رہنا چاہوں گی۔ “
میران نے اس کا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں بھر لیا تھا، نرم نگاہوں سے وہ سماہر کو دیکھ رہا تھا جو نم آنکھوں سمیت مسکرا رہی تھی، آنکھیں اس کی بھی نم تھی۔
” اتنا خوبصورت اظہار، مجھے معتبر کر گیا ہے سماہر، تمہارا یہ دلکش اعتراف محبت مجھے معتبر کر گیا ہے، میں جو تنہا ہو چکا تھا، خود کو اس سونے کے پنجرے میں مقید کر چکا تھا، آج تم نے مجھے معتبر کر دیا ہے، آج مجھے مکمل کر دیا ہے، تم سے عشق کی شدت بڑھ گئی ہے سماہر میران ملک “
وہ رو دیا تھا اور سماہر نفی میں سر ہلاتی اس کے چہرے پہ اس آنسو کو اپنے لبوں سے روک گئی تھی، اس لمس نے میران ارتضی ملک کو جیسے خود میں مزید معتبر کر دیا تھا تبھی اس نے سماہر کو بانہوں میں بھر لیا تھا اور اسے خود سے لگائے وہ آنکھیں موندے پرسکون سا ہو رہا تھا، وہ محبت میں ہارا نہیں تھا، عشق جو اس کے وجود کو اپنی دسترس میں کر چکا تھا، وہ عشق اسی کا تھا، وہ عشق آج اس لمحے اسے سکون بخش رہا تھا اور اس کا پورا وجود جیسے شکرانے کے نوافل ادا کر رہا تھا۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
سحری بنا کے وہ دوبارہ سے کمرے میں آئی تھی۔ میران سینے پہ دونوں بازو باندھے، ایزی چیئر پہ آنکھیں موندے ہوئے تھا، شاید وہ سو رہا تھا، سماہر کو یہی محسوس ہوا تھا تبھی لب کاٹتی وہ کچھ دیر اس کے سوئے چہرے کو دیکھتی رہی، دل کی دھڑکنیں بڑھی تھی اور وہ نظریں چرا گئی تھی، دیوار پہ لگے گھڑی پہ نظر گئی تو سحری کا ٹائم آگے بڑھ رہا تھا اگر یونہی کھڑی رہی تو صبح کی اذان بھی ہو جانی تھی، نظریں پھر سے میران کے چہرے پہ گئی، دھڑکتے دل کے ساتھ اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھ کے اسے اٹھانا چاہا تھا لیکن لب کاٹتی پھر سے رک گئی تھی، کچھ سوچ کے اپنی شہادت کی انگلی اس کے کندھے پہ رکھنا چاہا لیکن سر نفی میں ہلاتی وہ پھر سے رک گئی تھی۔
” یا اللہ کیسے جگاؤں؟؟”
گہرا سانس لیتی وہ تھوڑا سا خم ہو کے، میران پہ جھکی تھی اور بےحد آہستگی سے اس کا نام لیا تھا۔
” میران ۔۔۔ “
لیکن اس کی آنکھیں بند تھی۔
” میران ۔۔ “
اس نے پھر سے سرگوشی میں میران کو آواز دی تھی لیکن وہ اب بھی آنکھیں بند کیے ہوئے تھا، سماہر کو مزید قریب ہونا پڑا تھا۔
” میران اٹھئیے پلیز ۔۔ “
وہ نرمی سے کہتی پریشان نظروں سے اس کی بند آنکھوں کو دیکھ رہی تھی لیکن میران نے شاید قسم کھائی تھی آنکھیں نہ کھولنے کی ۔
” میران اٹھئیے ناں ۔”
اپنے بےحد قریب نرم سرگوشی محسوس کرتا وہ ہلکا سا مسکرا دیا تھا، اپنے چہرے پہ سماہر کی پرتپش سانسیں محسوس کر کے، مدہوش سا ہوتا آنکھیں کھول چکا تھا، سماہر اس کے یوں آنکھیں کھل جانے پہ بدک کے پیچھے ہونا چاہا تھا لیکن لڑکھڑا کے وہ میران پہ آ گری تھی اور میران نے لمحہ بھر میں اسے بانہوں میں بھر لیا تھا،
” م ۔۔۔ میں۔۔۔۔ م ۔۔۔ میں وہ “
سماہر بوکھلا کے میران کے مسکراتے چہرے کو دیکھنے لگی۔
” تم ۔۔۔۔ تم کیا ؟؟”
میران نے بھی اسی کے انداز میں استفسار کیا تھا، اس کی گہری نگاہوں کا اثر تھا کہ سماہر سب بھول کے، اسے دیکھنے لگی۔ کتنے دنوں بعد آج وہ دونوں ایکدوسرے کے بےحد قریب آئے تھے، نہ جانے کتنے سیکنڈ اور لمحے گزر گئے تھے اتنے دنوں میں کہ ایکدوسرے کی آنکھوں میں نہیں دیکھا تھا دونوں نے اور جیسے صدیاں گزرتی محسوس ہوئی تھی ان دونوں کو، جو ایکدوسرے کی خوشبو کو اپنی سانسوں میں محسوس نہیں کیا تھا، یہ مبہم سا لمس جیسے سکون بخش رہا تھا دونوں کے وجود کو۔ میران نے زیر لب مسکرا کے اس کے بالوں کی لٹ کو شہادت کی انگلی میں لپیٹا تھا۔
” کیا کہنا تھا تمہیں سماہر ؟؟”
مدھم سرگوشی پہ سماہر لرزتی پلکوں کو گرا کے، پھر سے نظریں اٹھا کے اسے دیکھنے لگی،
” میں۔۔۔۔۔ میں۔۔۔ “
منتشر ہوتی دھڑکنوں کو سنبھالتی وہ اب کے سوالیہ نظروں سے میران کو دیکھنے لگی جبکہ میران اس کی ہر ادا پہ زیر لب مسکرا رہا تھا۔ گھمبیر آنکھوں میں ہزاروں الفاظ لیے وہ سماہر کے بالوں میں انگلیاں چلا رہا تھا۔
” میں سن رہا ہوں۔۔۔ “
” س ۔۔۔ سحری۔۔۔۔۔ “
بمشکل لفظ ادا کیا گیا تھا لیکن اسی لمحے اذان کی آواز بھی سنائی دی تھی اور سماہر کو لگا کہ وہ رو دے گی اب ۔
” سحری کا وقت ختم ہو گیا ۔۔ “
بوکھلا کے کہتی وہ میران کے سینے پر سے اٹھنے کی کوشش کرنے لگی لیکن میران نے بازوؤں کا گھیرا اس کے گرد تنگ کر کے، اس کی یہ کوشش ناکام بنا دی۔ پرحدت لبوں کا لمس سماہر کے ماتھے پہ ثبت کر کے، اس نے جیسے سماہر کو اٹھنے کی اجازت دے دی تھی اور وہ تیزی سے اٹھ کے اپنے بال سمیٹتی صوفے پہ جا بیٹھی تھی۔
” میں نے تو کچھ کھایا بھی نہیں تھا۔ اب کل روزہ کیسے رکھوں گی “
” اتنی سی بات کہنے میں اتنی دیر لگا دی، جلدی سے کہہ دیتی تو سحری بھی کر لیتے “
میران اس کے پریشان چہرے سے لطف اندوز ہوتا پرسکون انداز میں کہہ رہا تھا جبکہ وہ روہانسی سی، ناراض نظروں سے میران کو دیکھنے لگی۔
” بھوک لگی ہے مجھے “
” چلو تمہاری جگہ ایک دن ایکسٹرا روزہ رکھ لیتا ہوں میں۔۔ تم آرام سے کل روزہ مت رکھنا “
میران کی بات پہ سماہر اسے غور سے دیکھنے لگی جبکہ وہ بےحد سنجیدہ تھا، سر کھجاتا وہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا تھا۔
” میں نماز پڑھ لیتا ہوں “
” میں اتنی ویک نہیں ہوں کہ بنا سحری کے روزہ نہ رکھ سکوں “
سماہر نے بھی اپنی بات بتانی ضروری سمجھی جبکہ وہ رکا تھا۔
” گریٹ، یہ تو میں جانتا ہوں کہ مسز سماہر میران ملک بیت اسٹرونگ ہے “
وہ پھر سے ناراض نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی جبکہ میران بہت عرصے بعد شاید آج کھل کے ہنسا تھا اور سماہر حیران آنکھوں سے اس شخص کو دیکھنے لگی۔
” یہ ہنستے ہوئے کتنا خوبصورت لگتا ہے “
دل ہی دل میں کہتی وہ بھی اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی تھی اور بےاختیار اس کے قریب آ کھڑی ہوئی تھی ۔
” ساتھ میں نماز پڑھتے ہیں۔ “
وہ رک کے سماہر کو دیکھنے لگا جبکہ سماہر کی آنکھوں میں شرارت کی جھلک تھی ۔
” اللہ تعالٰی کا شکریہ ادا کرنا ہے کہ دیر سے سہی لیکن ہنسنا تو آ گیا کھڑوس میران ملک کو ۔ “
اس سے پہلے وہ سماہر کی بات سمجھتا، سماہر جھپاک سے واشروم کا دروازہ کھول کے اندر جا چکی تھی اور دروازہ بند کرنا نہ بھولی تھی جبکہ باہر کھڑا میران زیر لب مسکرا دیا تھا کہ آج اسے محسوس ہوا تھا کہ زندگی بےحد خوبصورت ہوگئی ہے اچانک سے ۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤