Rate this Novel
Episode 05
پریشے ابھی ابھی کلینک پہنچی تھی، شہباز نے ہی اسے کلینک کے سامنے ڈراپ کیا تھا۔
” لنچ ساتھ کریں گے، مجھے تم سے کچھ ڈسکس کرنا ہے “
شہباز کی بات پہ پریشے نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا تھا جبکہ وہ مسکرا دیا تھا۔
” عام سی باتیں ہیں، پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے “
وہ اثبات میں سر ہلاتے اترنے لگی تھی۔
” اور ہاں “
جب شہباز کی آواز نے پھر سے رک کے اسے دیکھنے پہ مجبور کیا تھا ۔
” محبت ہے تم سے “
ان آنکھوں میں عجیب سی کشش تھی، پریشے نہ جانے کیوں شرمندہ سی ہو گئی تھی، وہ مسکرا بھی نہ سکی بس پلکیں جھکا کے وہ گاڑی سے نیچے اتری تھی۔ شہباز گاڑی آگے بڑھا چکا تھا کیونکہ اسے جلدی پولیس اسٹیشن پہنچنا تھا لیکن پریشے کو اپنا دل جیسے سینے سے باہر نکلتا محسوس ہو رہا تھا، آنکھوں میں جلن سی محسوس ہو رہی تھی، وہ کچھ لمحوں تک کھڑی اس سڑک کو خالی نظروں سے دیکھتی رہی، جہاں سے ابھی ابھی شہباز کی گاڑی گزری تھی۔ کتنی عجیب بات ہے نا، وہ شخص بنا کسی مطلب کے، اس سے بےلوث محبت کرتا ہے، سب جانتے ہوئے بھی اسے اپنا چکا ہے اور آخری سانس تک اس کے ساتھ رہنے کا وعدہ کر چکا ہے سب کی موجودگی میں، وہ شخص بار بار اسے اپنی محبت کا بتاتا ہے، اور ایک یہ خود ہے جو آدھی رات کو بھی اٹھ کے اپنی ادھوری محبت کا ماتم مناتی ہے۔ سر جھٹک کے آنکھوں میں آئی نمی کو پیچھے دھکیلا تھا اور رخ موڑ کے وہ کلینک کی طرف جانے لگی تھی جب پیچھے مڑنے پہ اپنے سامنے کھڑے عاھل خان کو دیکھ کے وہ چونکی تھی، دل یکبارگی زور سے دھڑکا تھا، یہ شخص یہاں کیا کر رہا ہے اور کب سے کھڑا ہے ؟؟
‘ اپنی self respect کو کھبی بھی اپنے محبت کے آگے گھٹنے ٹیکنے پہ مجبور نہ کرنا زما خورے’
اسے آبگینے کے الفاظ یاد آئے تھے۔
‘ تم اپنے عزت نفس کو پامال ہونے سے محفوظ رکھو گی تو دنیا تمہارے پیچھے ہی ہوگی، ورنہ تمہیں روند کے گزر جائے گی ‘
‘ آخری سانس تک میں وعدہ کرتا ہوں کہ نہ تم سے اپنی محبت سے پیچھے ہٹوں گا اور نہ اپنی زبان سے ‘
شہباز اور آبگینے کے الفاظ اس کے کانوں میں گڈمڈ ہو رہے تھے اور وہ سر جھٹک کے اس کے پہلو سے ہو کے گزر کے جانے لگی جب اچانک عاھل خان نے اس کی کلائی تھامی تھی اور اسی تیزی سے پریشے نے بدک کے اپنی کلائی اس کی گرفت سے چھڑا کے سخت نظروں سے اسے دیکھا تھا۔
” پریشے تم نے کیسی منگنی کر لی اس شخص سے ؟؟ کون ہے وہ ؟؟”
پریشے کو اپنے مقابل کھڑے اس شخص کے دماغی حالت پہ شبہ ہی ہوا تھا، تبھی سر جھٹک کے وہ پھر سے کلینک کی طرف بڑھی تھی، جب عاھل خان اس کے سامنے آ کھڑا ہوا تھا۔
” میری بات کا جواب دو پریشے “
” میرا نام بار بار اپنی زبان سے ادا مت کریں، میں نہیں چاہتی کہ مجھے اپنے ہی نام سے نفرت ہو جائے “
بےتاثر انداز میں کہتی، وہ خود میں ہمت مجتمع کرتی اس کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی جبکہ ایک لمحے کے لئے عاھل خان کی آنکھوں میں حیرت ابھری تھی۔
” محبت کرتی ہو ناں تم مجھ سے “
” مر چکی ہے، دفن کر آئی ہوں اپنے ہاتھوں سے اس نام نہاد محبت کو، اسی دن ہی، اسی لمحے ہی، جب کسی اور کو مجھ پہ فوقیت دی گئی تھی۔”
مضبوط لہجے میں کہتی وہ اب بھی عاھل خان کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی جو بار بار حیران ہو رہا تھا۔
” تم بھی تو مجھ پہ دوسرے مرد کو فوقیت دی گئی “
اب کے لہجہ اور آنکھیں طنزیہ تھی، پریشے کچھ دیر اسے دیکھتی رہی، عاھل خان کو لگا جیسے اب الفاظ ختم ہو چکے ہیں اس کے سامنے، اس لڑکی کے ۔ تبھی وہ پھر سے بولا تھا۔
” تم بھی تو کسی اور مرد کو فوقیت دے گئی ہو مجھ پہ، ہمارے رشتے پہ۔ “
” شہباز کے ساتھ منگنی ہو جانے سے، مجھے نہیں لگتا کہ میں اس شخص کو ہمارے رشتے پہ فوقیت دے گئی ہوں؟؟ آپ تو آج بھی میرے خالہ زاد بھائی ہی ہے عاھل خان “
مسکراتی آنکھوں سے، اس شخص کو دیکھتی وہ کہہ کے آگے بڑھی تھی جبکہ عاھل خان لب بھینچے کھڑا اس کی پشت دیکھ رہا تھا، وہ جا رہی تھی اور عاھل خان کو لگا وہ اندر سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہا ہے۔ کلینک کے اندر آ کے، دیوار سے ٹیک لگا کے پریشے نے گہرا سانس لیا تھا۔
‘ میں اروشے سے شادی کر رہا ہوں، مجھے پریشے سے اپنے بچپن کی منگنی نامنظور ہے ‘
‘ پریشے میں تم سے، اگر تمہاری فیورٹ چیز چرانی چاہوں تو ؟؟’
‘ تم دوست ہو پریشے، کزن ہو، لیکن میں مجبور ہوں مجھے تم سے عاھل خان کو ہی چرانا ہے’
دوست ہی دوست کو برباد کر دیتے ہیں۔ اس نے ایک لمبا سانس کھینچتے، اپنی آنکھوں میں موجود آنسوؤں کو پیا تھا۔
آہ محبت!! تیرے انجام پہ رونا آیا
دوست کی دوستی پہ ماتم کناں ہیں ہم
محبت کی بربادی پہ ماتم کناں ہیں ہم
” گڈ مارننگ ڈاکٹر پریشے ، آپ ٹھیک ہے ؟؟”
نرس کی اواز پہ پریشے چونکی تھی اور سر جھٹک کے اسے دیکھنے لگی ۔
” ہممم ۔۔۔ ٹھیک ہوں “
اپنے چہرے پہ ہاتھ پھیرتی وہ آگے بڑھی تھی، نظریں بھٹک کے گلاس ڈور سے باہر گئی تھی جہاں اب عاھل خان نہیں تھا۔ نظریں پھیر کے وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھی تھی۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
” آپ یہاں “
ملازمہ نسرین کو ہدایات دیتی عارفین نے چونک کے لاؤنج میں کھڑے دشاب ارتضی ملک کو دیکھا تھا جو ابھی ابھی آئے تھے اور ساتھ ہی نظر میران کے کمرے کی طرف بھی اٹھی تھی، جس کا دروازہ کھبی بھی کھل سکتا تھا اور میران نے کوئی ہنگامہ کھڑا کر دینا تھا۔
” نہیں آ سکتا کیا ؟؟”
وہ مسکرا کے پوچھ رہے تھے جبکہ عارفین سر جھٹک کے لاؤنج میں ہی آئی تھی۔
” میرا مطلب یہ نہیں تھا ۔ آپ نے ناشتہ کیا ؟”
” جانتی تو ہو تمہارے ساتھ ہی کرتا ہوں ہمیشہ “
وہ عارفین کو گہری نگاہوں سے دیکھتے کہہ رہے تھے۔ عارفین مسکرا بھی نہ سکی۔
” ہمیشہ کب ؟”
اس نے بس اتنا کہا اور مڑ کے کچن کی طرف جانے لگی جب دشاب نے ان کا ہاتھ تھام کے انہیں روکا تھا، وہ مڑ کے دشاب کو دیکھنے لگی، آج ان کی آنکھوں میں لکھی تحریر عارفین کو بار بار نظریں چرانے پہ مجبور کر رہی تھی۔ دوسری شادی کے بعد وہ کس حد تک بدلے تھے، وہ سارے لمحے ان کے دل پہ تحریر بن کے، ان کہ دھڑکنیں چھلنی کرنے کے لئے کافی ہی تھی اور بات ہمیشہ کی کرتے ہیں، عارفین نے بس سوچا ہی تھا۔ اسی لمحے دروازہ کھلا تھا اور میران باہر آیا تھا۔ سرد نظروں سے دشاب کے ہاتھ میں موجود عارفین کے ہاتھ کو دیکھا تھا اور پھر ان کے وجود کو ایکدوسرے کے قریب کھڑے دیکھا تھا۔ عارفین نے تیزی سے اپنا ہاتھ چھڑایا تھا اور منتظر تھی کہ اب میران کون سا ہنگامہ کرنے والا ہے جبکہ دشاب پریشانی سے اسے دیکھنے لگے تھے ۔
” میران تم ٹھیک ہو بیٹا،مجھے تمہاری فکر ہورہی تھی “
میران نے آبرو اچکا کے اپنے باپ کو دیکھا تھا۔
” اچھا ؟؟ واقعی؟؟ میں بھی کہوں کہ ساری رات جاگ کے، آنکھوں میں گزار دی آپ نے “
لہجہ اور آنکھیں دونوں طنز سے بھرپور تھی جبکہ دشاب لب بھینچے نظریں چرا گئے ۔
” وقاص کہہ رہا تھا کہ تم شہر پہنچ چکے ہو اور کوئی میٹنگ ہے “
“ہاں وقاص چچا ۔۔۔ “
اس نے لفظ لفظ پہ زور دیا تھا ۔
” چچا جان ۔۔۔۔ ہمممم “
دشاب شرمندہ سے ہو گئے تھے جبکہ عارفین الجھی نظروں سے دونوں باپ بیٹے کو دیکھ رہی تھی۔
” کیا بات ہے ؟؟”
دشاب نے عارفین کی طرف دیکھا تھا جبکہ میران نے کندھے اچکائے تھے۔
” کچھ نہیں۔۔۔ میں سماہر سے شادی کر رہا ہوں، بہتر ہے کہ آپ دونوں آج وقاص چچا سے بات کریں جا کے، میری اور سماہر کی شادی کے لئے ۔ “
عارفین نے خوشگوار حیرت سے اپنے بیٹے کو دیکھا تھا، برسوں سے ان کی یہی خواہش تھی کہ سماہر ان کی بہو بن کے اس گھر میں آئے جبکہ دشاب ارتضی ملک کو لگا کہ جیسے ان کے جسم سے روح کھینچ دی گئی ہے ۔
‘ ڈیڈ پلیز سماہر مجھے پسند ہے، آپ باتیں کریں نا، سماہر کو میرے لیے مانگ لیں پلیز ڈیڈ’
ان کے کانوں میں ازمائر کے الفاظ گونجے تھے اور اب میران ۔
” میں سماہر سے محبت کرتا ہوں اور شادی بھی سماہر سے کروں گا ۔ “
وہ پھر سے کہہ رہا تھا، نظریں اب کے دشاب پہ تھی۔ وہ سمجھ چکا تھا کہ ازمائر بھی شاید ان سے بات کر چکا تھا اور بازی کو تو اب پلٹنا ہی تھا میران ارتضی ملک کے ہاتھوں۔ تبھی پینٹ پاکٹس میں دونوں ہاتھ ڈالے وہ دشاب کے مقابل آ کھڑا ہوا تھا۔ سرد آنکھیں دشاب کی سہمی آنکھوں میں جھانک رہی تھی۔
” مجھے امید ہے کہ اچھے باپ بن کے میرا مان نہیں توڑے گیں۔ کیا پتہ، یہ ایک سلسلہ باپ اور بیٹے کے قریب آنے کا یا پھر سے میری ماں کی زندگی کا مضبوط کیریکٹر بننے کا ۔ “
ایک نظر عارفین پہ ڈال کے، وہ اب مسکراتی آنکھوں سے دشاب کو دیکھ رہا تھا، جن کا گلا سوکھے کانٹے کی طرح خشک ہو رہا تھا۔ وہ کچھ کہنے کے قابل بھی نہ رہے تھے۔ ان کے دو بیٹے ان کے مقابل کھڑے تھے اپنی اپنی خواہش کا کشکول ہاتھ میں لیے، اور دونوں بیٹوں کی خواہش ایک ہی تھی، سماہر وقاص ملک۔ وہ چونکے تھے کیونکہ میران نے ان کا کندھا تھپتھپایا تھا۔ وہ چونک کے اپنے خوبرو بیٹے کو دیکھ رہے تھے جو سراپا غرور کا بنا بت تھا ۔ میران رخ موڑ کے جا رہا تھا جبکہ دشاب نے ایک مجبور سی نظر عارفین پہ ڈالی تھی، جن کے چہرے پہ خوشی کی رمق تھی اور وہ خود اس وقت اس مقام پہ کھڑے تھے جہاں سے وہ کھبی بھی لڑکھڑا کے گر سکتے تھے ۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
” تم یہاں کیا کر رہی ہو ؟”
ارتسام حیرت سے میرب کو دیکھ رہا تھا جو مسکراتی آنکھوں سے اسے دیکھتی آنکھ ونک کر گئی تھی جبکہ ارتسام بوکھلا کے چاروں طرف دیکھنے لگا ۔
” مسٹر VIP سے ملنے “
” تمہیں یونیورسٹی ہونا چاہئے اپنے “
ارتسام اسے دیکھتا کہہ رہا تھا جو کافی فریش لگ رہی تھی۔
” اہنے استاد سے ملنے آئی ہوں، وہ جو کھبی اکیڈمی میں میرے استاد محترم ہوا کرتے تھے “
اس کے انداز پہ ارتسام مسکرا پڑا تھا ۔
” اچھا بتاؤ کیوں آئی ہو یہاں؟”
” وہ میرا ہونے والا منگیتر مجھ پہ دل ہار گیا ہے تو اسے ہی لائی تھی “
اس کے شرارتی انداز پہ، ارتسام نے لب بھینچ لیے تھے جبکہ وہ کھلکھلائی تھی ۔
” اچھا بتاتی ہوں، پاگل پٹھان “
” ایٹ لیسٹ، یہاں تو عزت سے بات کرو “
ارتسام نے تاسف سے اسے دیکھا تھا۔
” نہیں کر سکتی ناں پاگل پٹھان “
اس نے منہ بنایا تھا،ارتسام خاموشی سے اسے دیکھے گیا ۔
” میری دوست کی طبیعت ڈاؤن ہو رہی تھی تو اس کے ساتھ آئی ہوں ۔ “
” اچھا ۔۔۔ تم ٹھیک ہو ؟”
وہ ادھر ادھر دیکھتا پوچھ رہا تھا جسے میرب بھی نوٹ کر گئی تھی۔
” یہ ادھر ادھر دیکھ کے کیوں بات کر رہے ہو ؟؟ میری طرف دیکھ کے بات کرو “
ارتسام مسکرا پڑا تھا۔
” نہیں دیکھنا “
” کیوں؟؟”
وہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔
” ڈر لگتا ہے کہیں نظر نہ لگا دو “
وہ شرارتی انداز میں مسکرایا تھا جبکہ میرب نے اسے بازو پہ، اپنے ہاتھ میں موجود بیگ سے مارا تھا، وہاں سے گزرتی نرسز رک کے انہیں دیکھتی، مسکرا کے آگے بڑھی تھیں۔
” کیا کر رہی ہو پاگلت، سب دیکھ رہے ہیں۔ “
وہ میرب کو گھورنے لگا جبکہ میرب منہ بنا کے آگے بڑھی تھی۔
” اففف کیا ہوا اب ؟؟”
ارتسام بھی اس کے پیچھے ہی آیا تھا۔
” لیوانے ہو گئی ہوں “
اسے ایک نظر دیکھتی کہنے لگی جبکہ وہ مسکرانے لگا ۔
” لیوانے تو ہو تم، سم لیوانے یی ( بہت بڑی پاگل ہو ) “
میرب نے اسے گھورنے پہ ہی اکتفا کیا اور آگے بڑھی لیکن جاتے جاتے رک کے اسے دیکھنے لگی ۔
” تہ زما لیوانے یی ( تم میرے پاگل ہو)”
اور مسکراتی رخ موڑ کے جا رہی تھی جبکہ ارتسام اسے جاتا دیکھتا رہا، لب مسکرا رہے تھے اور آنکھیں اس کا پیچھا کر رہی تھی، جب آنکھوں سے اوجھل ہوئی تو سر جھٹک کے وہ بھی آگے بڑھا تھا ۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
ساری رات وہ سو نہ پائی تھی، میران ارتضی ملک کی خوشبو جیسے اس کا پورا وجود اوڑھ چکی تھی اور وہ مہک رہی تھی۔ وہ مردانہ شال اس سے ایک پل کے لئے بھی دور نہ ہوئی تھی اور اب دھڑکتے دل کے ساتھ یونیورسٹی جانے کے لئے نکلتے ہوئے، اس نے میران کی شال بھی فولڈ کر کے اپنے بازو پہ ڈالی تھی کہ جاتے ہوئے وہ شال عارفین کو دے دیں گی، لیکن سامنا ہی لان میں اس شخص سے ہوا تھا۔ وہ نظریں چرا کے جھکا گئی تھی کہ کہیں مقابل کھڑا شخص اس کے بدلے روپ کو نہ دیکھ سکے جو مکمل اس کی خوشبو میں نہا کے نکھر چکی ہے اور اس کی اس ادا کو میران ارتضی ملک نے اپنی آنکھوں میں حفظ کیا تھا۔ اس کے چہرے پہ اچانک سے پھیلتے ان رنگوں کو میران ارتضی ملک نے دلچسپی سے دیکھا تھا اور ان لرزتی جھکتی پلکوں نے جیسے اس کے دل پہ دلفریب ستم سے ڈھائے تھے۔
” وہ مقدس آنکھوں والی لڑکی!
جب میرے سامنے آتی ہے
تو اس پر آیت الکرسی پڑھ کر دم کرنے کا دل کرتا ہے
وہ جب نظریں جھکا کر چلتی ہے،
تو اسکے اس انداز سے عشق کرنے کا دل کرتا ہے
وہ جب مسکراتی ہے تو ہر طرف،
اسکی مسکراہٹ کی خوشبو دور دور تک پھیل جاتی ہے
اسکی مسکراہٹ میں زندگی کے خوبصورت رنگ ہوتے ہیں۔
اسکی مسکراہٹ میں دل کے ہر درد کی دوا ہوتی ہے
وہ بات کرتی ہے تو ایسے لگتا ہے،
جیسے میں اسے صدیوں سے جانتا ہوں۔
اور جب وہ خاموش ہو جاتی ہے،
تو مجھے اپنی زندگی بھی بوجھ لگنے لگتی ہے
وہ جب بات کرتی ہے تو دل کو اپنا بنا لیتی ہے
اسکی ہنسی کے سحر میں،
میں اپنا آپ کو بھی بھول جاتے ہیں۔”
اس کی گھمبیر سرگوشی، اس کے بوجھل لہجے کی تپش میں سماہر وقاص ملک کو اپنا مکمل وجود جھلستا ہوا سا محسوس ہو رہا تھا اور جب وہ رکا تو لرزتی پلکوں کے جھالر اٹھا کے، وہ اپنے سامنے کھڑے اس خوبرو مرد کو دیکھنے لگی جو ہر لمحہ، ہر روز اپنی محبت کے جال میں آہستہ آہستہ اسے پھانس سا رہا تھا اور وہ اس محبت کے جال میں نکھرتی اور مہکتی جا رہی تھی۔ وہ پھر سے پلکیں جھکا گئی تھی۔
” جب کیفی نے بولا تیری آنکھوں میں بستا ہے میرا جہاں، جب فیض نے لِکھا تیری آنکھوں کے سِواء دنیا میں رکھا کیا ہے اور جب نُصرت فتح نے کہا آنکھیں دیکھیں تو میں دیکھتا رہ گیا ۔۔۔
عزیزِ مَن میں نے اِس بات کو شِدت سے محسوس کیا”
وہ کہہ رہا تھا اور سماہر نے چونک کے اسے دیکھا تھا۔ یہ شخص جادوگر ہے ؟؟ کیسے پڑھ لیتا ہے اس کے لکھے الفاظ ؟؟ یہ تو اس کے نوٹ بک میں لکھی ہوئی تھی تو اس نے کیسے ؟؟ وہ سوچ رہی تھی اور اچانک اسے یاد آیا تھا کہ اس نے نوٹ بک میرب کو دیا تھا، دل ہی دل میں خود کو کوسنے لگی تھی وہ ۔ جبکہ میران ارتضی ملک زیر لب مسکرا رہا تھا تبھی اس کی طرف جھکا تھا ۔
” اور میں تو لمبے عرصے سے یہی محسوس کر رہا ہوں سماہر وقاص ملک “
بھاری بوجھل سرگوشی پہ وہ سٹپٹا کے نظریں اٹھا کے اسے دیکھنے لگی جو ایک ابرو اچکائے اسے ہی دیکھ رہا تھا اور پھر تیزی سے پلکیں جھکا گئی اور شال والا بازو اس کی طرف بڑھایا تھا جسے نہ سمجھتے ہوئے میران تھام گیا جبکہ وہ بوکھلا گئی ۔
” یہ شال آپ کی تھی ناں، تو میں یہ شال آپ کو ۔۔۔ “
لیکن شہادت کی انگلی اس کے لبوں پہ رکھ کے میران نے اسے خاموش ہی کرایا تھا اور وہ میران کو پریشان آنکھوں سے دیکھنے لگی۔
” اور اب تمہاری ہے ۔ “
اس کے گال تپ اٹھے تھے میران ارتضی ملک کے بوجھل لہجے سے ۔ وہ سماہر کے کان کے قریب جھکا تھا ۔
” مجھ سمیت ۔ “
سماہر کو اپنی دھڑکنیں اسی کان میں دھڑکتی محسوس ہوئی تھی، ایسے لگ رہا تھا جیسے وہ مکمل پیرالائز ہو چکی ہے۔ اس میں نہ ہلنے کی سکت ہے نہ اس شخص کو دیکھنے کی۔ جبکہ وہ پیچھے ہو کے اب زیر لب مسکراتا سماہر کو دیکھ رہا تھا جس کے گال گلابی ہو رہے تھے۔
” کیا مجھے تمہیں یونیورسٹی تک چھوڑنے کی سعادت مل سکتی ہے؟؟”
یا اللہ! یہ شخص ساحر ہے ؟؟ جو مجھے خود سے لمحہ لمحہ باندھے جا رہا ہے ؟؟ یا اللہ! آپ کی بندی تو مر ہی جائے گی ۔
وہ دل ہی دل میں خود سے ہمکلام تھی جبکہ میران اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔
” سماہر ۔۔۔ “
اس نے پھر سے آواز دی تھی جبکہ سماہر کو لگا وہ گرنے ہی والی ہے ۔
” نہ کریں ناں پلیز “
بےاختیار اس کی زبان سے ادا ہوئے تھے، لیکن میران کی آنکھوں میں حیرت دیکھ کے وہ جی بھر کے شرمندہ ہوئی تھی، تبھی نظریں چرا کے وہ تیزی سے آگے بڑھی تھی اور تیز تیز قدم اٹھاتی میران کی گاڑی میں بیٹھ کے ہی اپنی رکی سانس خارج کی تھی جبکہ میران جو اسے ہی محویت سے دیکھ رہا تھا، زیر لب مسکراتا اہنی گاڑی کی طرف بڑھا تھا کہ سماہر کو یونیورسٹی چھوڑ کے اسے ایک ضروری میٹنگ کے لئے بھی جانا تھا ۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
” آپ کو یقین ہے ناں کہ میرا ٹیسٹ اچھا ہی ہوگا ؟؟”
مائزہ پریشان نظروں سے اسے دیکھتی پوچھ رہی تھی جبکہ ازمائر مسکرانے لگا ۔
” 100 % یقین ہے ڈئیر کزن، میں نے تیاری کروائی ہے “
ازمائر مسکرا کے اپنی ٹائی باندھتا کہہ رہا تھا جبکہ مائزہ نے نظریں چرائی تھی اور اپنی کتابیں سمیٹنے لگی ۔
” میں بھی چلتی ہوں پھر یونیورسٹی جانے کی تیاری کر لوں۔ “
” کب ہے ٹیسٹ؟؟”
ازمائر مصروف سا پوچھ رہا تھا ۔
” گیارہ بجے ۔ “
مختصر جواب دیتی وہ کھڑی ہو چکی تھی، ازمائر بھی اس کی طرف مڑا تھا ۔
” تو جانا نہیں ہے ؟؟”
” آج لیٹ جاؤں گی ۔ “
وہ ابھی بھی نظریں چرا رہی تھی جبکہ ازمائر اپنا کوٹ پہننے لگا ۔
” اچھی بات ہے، شام کو تمہارے لئے ایک سرپرائز ہے، تم خوش ہو جاؤ گی “
وہ ہنستے ہوئے کہہ رہا تھا جبکہ مائزہ حیرت سے اسے دیکھنے لگی ۔
” ایسا کیا سرپرائز ہے ؟؟”
وہ کندھے اچکا گیا ۔
” شام کو ہی ۔ “
عظمی کمرے کے دروازے پہ آ کھڑی ہوئی تھی۔
” ازمائر ناشتہ نہیں کرنا بیٹا؟؟”
” نو مام، میں لیٹ ہو رہا ہوں، شام کو ملتے ہیں پھر “
وہ اپنی ماں سے لگ کے باہر نکلا تھا جبکہ عظمی اب مائزہ کو دیکھ رہی تھی۔
” آؤ مائزہ ناشتہ کرتے ہیں۔ “
” نہیں چچی جان تھینک یو، میں گھر ہی جا رہی تھی۔ “
مائزہ جھجھک کے کہتی آگے بڑھی تھی ۔
” ارے آؤ بیٹا ناشتہ کرتے ہیں دونوں ساتھ میں، میں اکیلی ہی ہوں ویسے بھی “
عظمی نے اس کا ہاتھ تھاما تھا اور وہ جھجھکتی ہوئی اس کے ساتھ ڈائننگ ہال کی طرف بڑھی تھی ۔
” رات کو پھر سے وہ لڑکا شراب پی کے آیا تھا گھر “
ناشتے کے دوران اس نے منہ بنا کے کہا تھا، مائزہ ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگی ۔
” ارے وہی میران ۔ “
مائزہ نے لب بھینچ لیے ۔
” بہت بدتمیز ہے یہ لڑکا، مجھے تو ایک آنکھ نہیں بھاتا۔ بدتمیز، مغرور، بےمروت ۔۔۔ میرا تو دل کرتا ہے کہ اسے گھر سے نکال باہر کروں “
وہ کہہ رہی تھی جبکہ مائزہ سوچ رہی تھی کہ ابھی اس کی جگہ سماہر وہاں ہوتی تو کیا ردعمل ہوتا اس کا ۔
” آج کل بہت سماہر کے ارد گرد گھوم رہا ہے ۔ میں تو کہتی ہوں دھیان رکھو سماہر پہ، سمجھاؤ اسے ، تمہاری بہن ہے ۔ یہ لڑکا ٹھیک نہیں ہے، اس سے دور ہی رہے۔ بہت پیاری بچی ہے تمہاری بہن۔ مجھ سے زیادہ بات تو نہیں کرتی لیکن اچھی لڑکی ہے “
مائزہ کے لیے ناشتہ کرنا مشکل ہو رہا تھا تبھی جلدی سے اٹھ کھڑی ہوئی تھی ۔
” جی چچی جان میں کہہ دوں گی “
وہ اہنی کتابیں سمیٹنے لگی ۔
” ارے بیٹھو کہاں جا رہی ہو ؟؟”
عظمی نے پھر سے اسے روکنا چاہا جبکہ وہ جانے لگی ۔
” ارے نہیں چچی جان ، مجھے یونیورسٹی جانا ہے ۔ پھر بات ہوتی ہے ۔ اللہ حافظ “
وہ کہہ کے تیزی سے باہر نکلی تھی کہ اس کا تو دم ہی نکلنے لگا تھا وہاں ۔ عظمی بدمزہ ہوئی تھی، آنکھیں گھما کے اس نے اوپر والے پورشن کی طرف دیکھا تھا اور پھر ناک چڑھا کے وہ اپنا کپ اٹھا کے لبوں سے لگا گئی تھی۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
