Rate this Novel
Episode 04
” سماہر ؟؟”
ازمائر کی آواز پہ وہ سوچوں کے محور سے نکل کے اسے دیکھنے لگی ۔
” کہاں کھو گئی ہو یار ؟؟ “
وہ مسکرا کے پوچھ رہا تھا جبکہ سماہر نفی میں سر ہلاتی گلاس وال سے باہر دیکھنے لگی ، ازمائر اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔
” تم پہ میں فورس نہیں کر رہا سماہر ، تم بےشک سوچ کے ڈیسژن لو اپنا ۔ “
وہ کہہ رہا تھا جبکہ سماہر پھر سے الجھی نظروں سے اسے دیکھنے لگی، ایک طرف وہ شخص تھا جس کی چاہ ہمیشہ سے دل میں رہی تھی اور جو اس سے یہ بھی کہہ چکا ہے کہ وہ محبت کرتا ہے اس سے اور دوسرا سامنے بیٹھا یہ شخص ہے ۔
” ایم سوری یار، شاید میں نے تمہیں مشکل میں ڈال دیا ہے “
وہ سر جھٹک کے نظریں جھکا گئی تھی، کندھے پہ اپنا دوپٹہ ٹھیک کرتی وہ سر نفی میں ہلانے لگی ۔
” بابا خود ڈیسائیڈ کریں گے، جو انہیں بہتر لگے گا میرے لئے “
اس کی نظروں میں وہ لمحہ گھوم گیا تھا جب دونوں بھائی آمنے سامنے کھڑے ہوئے تھے ایکدوسرے کے مقابل۔ تبھی کسی بھی بات کا حوالہ دیے بنا وہ سب اپنے بابا کے کندھے پہ ڈال گئی تھی اور ازمائر بھی خاموش ہو گیا تھا، ہلکا سا مسکرا کے اس نے کھانا سماہر کے آگے سرو کیا تھا ۔
” لنچ کرتے ہیں پھر گھر چلتے ہیں “
وہ خوشدلی سے کہتا سماہر کو دیکھنے لگا جبکہ سماہر بھی سکون کا سانس لیتی اپنے سامنے رکھے کھانے کی طرف متوجہ ہوئی تھی۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
ان چاروں نے اودھم مچایا ہوا تھا بارش میں، شام کی ہلکی ہلکی آمد میں خنکی کا ہلکا سا لمس بھی موجود تھا جو ان تینوں کو محسوس تو نہیں ہو رہا تھا لیکن سماہر ان تینوں کو گھورتی، لان سے ہوتی برآمدے میں آئی تھی۔ اپنے گیلے بال جھٹکتی وہ اپنا دوپٹہ جھٹکنے لگی ۔
” یہ شال اوڑھ سکتی ہو تم “
اپنے قریب بھاری مردانہ آواز پہ وہ چونکی تھی جبکہ میران اپنی مردانہ شال کندھے سے اتار کے اس کی طرف بڑھائے کھڑا تھا۔ اس نے چونک کے شال کو دیکھا تھا نہ انکار کرنے کی صورت نظر آ رہی تھی اور نہ ہی اقرار کر پا رہی تھی وہ۔
” ن ۔۔ نہیں میں بس ۔۔۔ “
اس سے پہلے کہ اس کی بات مکمل ہوتی، میران آگے بڑھ کے اپنی شال اس کے کندھے پہ اوڑھا چکا تھا ۔
” سردی لگ رہی ہے تمہیں، چہرے پہ صاف نظر آ رہا ہے۔”
وہ کہہ رہا تھا اور سماہر اس مردانہ شال سے اٹھتی میران ارتضی ملک کی خوشبو سے اپنی سانسیں چرانے میں محو تھی جو اس کے حواسوں کو اپنی دسترس میں مکمل کرنے پہ تلی ہوئی تھی۔ نظریں اٹھی تھی اور پھر سے جھکا کے وہ ادھر ادھر دیکھنے لگی۔ اپنے گیلے بال چہرے سے ہٹانے کے لیے اس نے اپنا ہاتھ اوپر اٹھایا ہی تھا جب میران کو اس کی ہتھیلی پہ کچھ لکھا نظر آیا۔
” ہاتھ دکھاؤ اپنا “
سماہر سوالیہ نظروں سے اسے دیکھتی، اپنا ہاتھ آگے بڑھانے کا سوچ رہی تھی جب میران نے نرمی سے اس کا ہاتھ تھام کے ہتھیلی پہ لکھی تحریر پڑھنے لگا جو بارش میں ہلکی ہلکی مٹ بھی چکی تھی لیکن پڑھی جا سکتی تھی اور میران کا لبوں پہ ہلکی مسکراہٹ دیکھ کے، سماہر کو لگا کہ اسی بارش کی پانی میں کہیں جا کے ڈوب جائے۔
” وہ محض ایک شخص نہیں ۔۔۔۔۔۔۔
وہ چاہت ہے احساس ہے
تخیل ہے خیال ہے ۔۔۔۔۔
سادہ لفظوں میں کہیں تو
وہ محبت ہے “
وہ بھاری اواز میں پڑھ رہا تھا جب سماہر نے بوکھلا کے ہاتھ اس کے ہاتھ سے چھڑایا تھا اور ساتھ ہی نظریں بھی چرائی تھی ۔
” اتنا چھوٹا چھوٹا کیسے لکھ لیتی ہو ؟؟”
” ضروری ہے، ہمیشہ یہی ہو “
وہ جھنجھلائی تھی آخر۔
” کیسے ؟؟”
وہ پرسکون سا پوچھ رہا تھا ۔
” نہیں بتا سکتی “
وہ گہرا سانس لیتی کہنے لگی جبکہ زیر لب مسکراتا میران نے اس کا وہی ہاتھ تھام کے، اس کی ہتھیلی پہ لکھے آخری تین الفاظ پہ اپنی شہادت کی انگلی پھیری تھی۔
” وہ محبت ہی ہے ۔ “
بھاری مبہم سرگوشی پہ سماہر نے چونک کے اسے دیکھا تھا۔
” کل شام منتظر رہوں گا تمہارے جواب کا “
نرمی سے اس کا ہاتھ چھوڑتا وہ کہہ رہا تھا، اس کا مقصد پورا ہوا چکا تھا، گاڑی سے نکلتا ازمائر بھی رک کے ان دونوں کو دیکھ رہا تھا، دل و دماغ میں طوفان مچا تھا جبکہ میران اسے دیکھے بنا بھی اس کے دھواں ہوتے چہرے کو محسوس کر ریا تھا جبکہ لان میں کھڑی وہ تینوں بھی رک کے انہیں ہی دیکھ رہی تھیں۔ مائزہ اپنی بہن کے دل کا حال جانتی تھی، تبھی دھڑکتے دل کے ساتھ وہ اس بدمزاج شخص کو دیکھ رہی تھی جو اس کی بہن کو اپنی مغرور سرد آنکھوں سے دیکھ رہا تھا، نہ جانے کیا کہہ گیا تھا وہ کہ سماہر کی لرزتی پلکوں کو وہ یہاں سے بھی محسوس کر رہی تھی۔
” تیرا بدمزاج بھائی اس وقت اتنا رومینٹک پوز دے رہا ہے “
آبگینے لب دانتوں تلے دباتی میرب سے کہہ رہی تھی جبکہ وہ کندھے اچکا گئی ۔
” لگتا ہے بھائی اس برسات کی شام میں ہماری ہی کزن کے گیلے بالوں میں اپنا دل الجھا چکے ہیں۔ “
میرب کی بات پہ آبگینے ہنس پڑی تھی جبکہ مائزہ پرسوچ نظروں سے اسے دیکھنے لگی ۔
” میرب تمہیں لگتا ہے کہ تمہارا بد مزاج اور اخلاق سے عاری یہ بھائی، میری بہن سے محبت بھی کرسکتا ہے “
” ہونے کو کچھ بھی ہو سکتا ہے “
میرب نے کندھے اچکائے تھے جبکہ مائزہ لب کاٹنے لگی ۔
” مجھے اس شخص پہ ایک فیصد بھی یقین نہیں ہے “
” تم تو سب کو شک کی نظر سے دیکھتی رہو بس “
آبگینے نے اسے ٹہوکا دیا تھا جبکہ مائزہ نفی میں سر ہلانے لگی۔
” بس اسی بدمزاج شخص کو شک کی نگاہ سے دیکھتی ہوں۔”
” اور محبت کی نگاہ سے کسے دیکھتی ہوگی تم ؟؟”
آبگینے کے شرارتی انداز پہ مائزہ نے اسے گھوری سے نوازا تھا اور نظر گاڑی کا دروازہ زور سے بند کرتے ازمائر پہ رک گئی جو لب بھینچے لمبے ڈگ بھرتا اپنے پورشن کی طرف جا رہا تھا جبکہ مائزہ کی پرسوچ نظروں سے اندر جانے تک اس کا پیچھا کیا تھا۔ میران ارتضی ملک اب جا رہا تھا اپنی گاڑی کی طرف، اس کا گارڈ چھتری اس کے سر پہ لیے، اس کے ساتھ ساتھ چل رہا تھا جبکہ سماہر تپتے گالوں کے ساتھ کھڑی اسے دیکھ رہی تھی۔ وہ جا رہا تھا اور اس لمحے سماہر کو اپنا دل ڈوبتا محسوس ہو رہا تھا ۔ کیا تھا ؟ کیسا تھا وہ ؟ محبت؟؟ تو آنکھیں اتنی سرد کیوں تھی اس شخص کی ؟؟
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
” اے پاگل پٹھان “
وہ ابھی گاڑی سے اترا تھا جب اس کے موبائل پہ کال آنے لگی، جسے وہ اترتے ریسیو کر گیا تھا اور آواز ہی میرب کی ٹکرائی تھی اس کے کان سے اور وہ مسکرا دیا تھا۔
” کیا ہوا پاگلی۔ “
جبکہ وہ کھلکھلائی تھی ۔ شام میں ہونے والی بارش اب رک چکی تھی لیکن رات کے اس پہر ہوا میں خنکی کا احساس ابھی بھی موجود تھا۔
” اوپر دیکھو۔ “
اس کے کھلکھلا کے کہنے پہ ارتسام اوپر دیکھنے لگا جہاں میرب اپنے بالکونی میں کھڑی اسے دیکھ رہی تھی جو ان کے لان کی طرف بنی ہوئی تھی۔ بارش کی ننھی سی بوند اس کے چہرے پہ آ گری تھی۔ لگتا تھا کہ پھر سے بارش ہونے ہی والی تھی ۔
” تمہیں چین نہیں ہے چڑیل “
آنکھوں کو پرسکون کرتا وہ ساتھ میں طنز بھی کر گیا تھا، بےحد دلکش لگ رہا تھا یہ لمحہ، گاڑی سے ٹیک لگائے کھڑا اس کی نظر بالکونی پہ تھی اور اس کی کھلکھلاتی آواز وہ کال پہ سن رہا تھا۔
” جن کو دیکھے بنا سکون کی نیند نہیں آنی تھی “
” ابا دیکھ لیں اس وقت ہمیں، تو بہت ہی سکون کی نیند آ جانی ہے تمہیں پاگلی”
ارتسام نے وہیں سے ابرو اچکا کے، اسے دیکھتے کہا تھا جبکہ وہ ڈرامائی انداز میں خود میں سمٹ سی گئی تھی۔
” اوہ میں ڈر گئی ۔ “
” نہیں لگ رہا ڈر؟؟”
وہ پوچھنے لگا ۔
” بلکل بھی نہیں، میں ہمت رکھتی ہوں کہ اپنی پسند کا اظہار کروں “
وہ کندھے اچکا کے کہنے لگی ۔
” سوچ لو ۔۔ دونوں بزرگوں کی دشمنی کافی گہری ہے “
ہونٹ دانتوں میں دبائے وہ شرارتی انداز میں کہنے لگا جبکہ وہ کھلکھلائی تھی ۔
” یہ آنکھوں کا اشارہ تمہارا مجھے چیلنجنگ لگ رہا ہے پاگل پٹھان ۔”
ارتسام کھل کے ہنسا تھا اور ساتھ ہی اس کی نظر اپنے گھر کی طرف گئی، جہاں شاہ نواز خان کے کمرے کی لائٹ آن ہوئی تھی جبکہ پورچ میں کھڑے ارتسام نے گھور کے بالکونی میں کھڑی میرب کو دیکھا تھا ۔
” میرے ابا جی جاگ گئے ہیں۔ “
” سلام دینا ان کو میرا ۔ “
وہ پھر سے کھلکھلائی تھی ۔
” کون ہے وہاں؟؟”
شاہ نواز خان کی آواز اپنے کمرے کی بالکونی سے گرجی تھی، میرب کھلکھلا کے ہنستی اپنے کمرے میں آ گئی تھی جبکہ ارتسام لب بھینچے گاڑی سے ہی ٹیک لگائے کھڑا رہا کیونکہ وہ شاہ نواز خان کو نظر نہیں آ رہا تھا وہاں سے ۔
” ارے چھوڑئیے۔۔ ہوگا کوئی، اب کیا ہمسایوں کو جگانے کا ارادہ ہے “
امامہ کی آواز پہ وہ زیر لب مسکرا دیا تھا جبکہ شاہ نواز خان بھرپور ہنکارا بھرتے، پھر سے اپنے کمرے میں آ گئے تھے، امامہ جانتی تھی کہ ارتسام ہی ہے، وہ اپنے بیٹے کی آواز کو کیسے نہیں پہچان پائے گی لیکن شاہ نواز خان کو اندر کمرے میں لانے کا مقصد ہی یہی تھا کہ امامہ نہیں چاہتی تھی کہ وہ کوئی بھی غلط بات کہے ارتسام کو ۔ “
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
” گاؤں سے آتے ہوئے میران کی گاڑی پہ فائرنگ ہوئی ہے “
وقاص ملک پریشان سے دشاب سے بات کر رہے تھے، وہ دونوں اس وقت لان میں تھے اور میران کی واپسی کے منتظر تھے۔
” ی ۔۔۔ یہ کیا کہہ رہے ہو تم وقاص ؟؟ کس نے اطلاع دی ؟ میران کیسا ہے ؟؟”
دشاب کا دل کانپا تھا یہ خبر سنتے ہی، جبکہ اپنا ماتھا سہلاتے وقاص ملک اپنے بھائی کے سفید پڑتے چہرے کو دیکھ رہے تھے اور پھر ان کے کندھے پہ اپنا ہاتھ رکھا تھا۔
” میران ٹھیک ہے۔ میری اس سے کال پہ بات ہوئی ہے، وہ شہر پہنچ چکا ہے اور گھر ہی آ رہا ہے “
” تم نے اسے پولیٹیکس کی راہ دکھا کے ٹھیک نہیں کیا وقاص، میں نے منع بھی کیا تھا کہ اسے یہ راہ مت دکھاؤ “
دشاب پریشانی سے کہہ رہے تھے ۔
” اور میں نے کہا تھا کہ تم اسے منع مت کرو، وہ تمہاری ضد میں آیا ہے پولیٹیکس میں “
وقاص لب بھینچے کہہ رہے تھے۔ دشاب کی نظر گیٹ پہ گئی تھی لیکن وہاں ابھی تک میران کی گاڑی نظر نہیں آئی تھی جب وقاص کے موبائل پہ کال آنے لگی تو وہ چونک کے وقاص کو دیکھنے لگے ۔
” میران کی کال ہے ۔ “
کہتے ساتھ انہوں نے کال ریسیو کی تھی جبکہ دشاب انہیں ہی دیکھ رہے تھے، دل میں کچھ ٹوٹ سا گیا تھا۔ ان کا اپنا بیٹا، ان سے زیادہ اپنے چچا پہ یقین رکھتا تھا اور ان کے زیادہ قریب ہو رہا تھا ۔
” میران اسلام آباد پہنچ چکا ہے اور کوئی میٹنگ اٹینڈ کرنی ہے اسے، تو رات کو لیٹ آئے گا “
وقاص بتا رہے تھے جبکہ دشاب بنا کچھ کہے لب بھینچے اپنے پورشن کی طرف بڑھے تھے تو وقاص بھی اپنے پورشن کی طرف بڑھے تھے اور وہیں درخت کی اوٹ میں کھڑی سماہر بھیگی آنکھوں سمیت، دھڑکتے دل کے ساتھ وہیں بےدم سی ہو کے بیٹھ گئی تھی، میران ارتضی ملک پہ گولیاں چلی تھی اور وہ بچ گیا تھا لیکن دل تھا کہ بےسکون سا ہو رہا تھا۔ وہ بھی دشمن رکھتا ہے؟ یہ خیال ہی اسے مضطرب کر رہا تھا ۔ سیاست چیز ہی ایسی ہے یہاں سب کے دشمن ہوتے ہیں، یہاں اپنے اپنوں کے ہی دشمن ہوتے ہیں ، وہ رات تک وہیں لان میں ٹہلتی رہی تھی، اسے سکون نہیں مل رہا تھا، دل کی بےچینی بڑھتی جا رہی تھی اور آنکھیں دھندلائی جا رہی تھی۔ میران ارتضی ملک اس کا محبوب تھا، جس سے وہ محبت کرتی تھی، بےحد محبت۔ گاڑی گیٹ سے داخل ہو کے پورچ میں جا رہی تھی اور اس کی گاڑی کے پیچھے ایک اور گاڑی بھی آئی تھی جو وقاص ملک کے گارڈز کی گاڑی تھی جسے وقاص ملک نے شام کو ہی میران کی سیکیورٹی کے لئے بھیجا تھا۔ وہ رک چکی تھی، پاؤں شل ہو چکے تھے اور خوفزدہ آنکھیں کسی انہونی کے خیال سے ساکت، بنا پلکیں جھپکائے اسے دیکھ رہی تھی۔ میران ارتضی ملک گاڑی سے اترا تھا، اپنے مخصوص انداز میں مردانہ شال اپنے کندھے پہ ڈالتا، لمبے ڈگ بھرتا گھر کی طرف جا رہا تھا، جب نظریں لان کی طرف اٹھی تھی اور وہیں رک گئی تھی، جہاں سماہر سفید لباس اور گلابی دوپٹہ اپنے کندھے پہ اوڑھے، ساکت سی کھڑی اس کی طرف ہی دیکھ رہی تھی۔ وہ پہلے چونکا تھا لیکن اتنے فاصلے کے باوجود بھی وہ اس کے چہرے پہ ویرانیوں کو دیکھ پا رہا تھا، ان آنکھوں میں چمکتی نمی اس کی آنکھوں سے پوشیدہ نہیں رہی تھی۔ گہرا سانس لیتا وہ سماہر کی طرف آ رہا تھا اور سماہر کی دھڑکنیں بڑھ رہی تھی لمحہ لمحہ۔
کچھ اس طرح ۔۔
اے رات تھم ذرا ۔۔۔
کچھ اس طرح۔۔
دو جسم سے ۔۔ایک جان میں
ڈھل جائے ہم ذرا
کچھ اس طرح۔۔
وہ سماہر کے سامنے آ رکا تھا اور سماہر ساکت آنکھوں میں نمی لیے اس کے چہرے کو دیکھ رہی تھی، ہلکی ہلکی بڑھی ہوئی شیو اسے دلکش بنا رہے تھے لیکن چہرے پہ تھکاوٹ نمایاں تھی جسے سماہر دیکھے جا رہی تھی۔
” تم ابھی تک جاگ رہی ہو “
بھاری بوجھل آواز میں بھی تھکاوٹ پنہاں تھی۔
” کون تھے وہ لوگ ؟؟”
آخر بھرائی آواز میں سماہر نے پوچھ ہی لیا تھا، میران نے گہرا سانس لیتے اپنی کنپٹی سہلائی تھی اور پھر سماہر کو دیکھنے لگا۔
” میں ٹھیک ہوں سماہر ۔ “
” اور میں ٹھیک نہیں ہوں میران “
میران چونکا تھا، جس انداز میں اس کا نام مقابل کے لبوں سے ادا ہوئے تھے،پل بھر میں میران کی دھڑکنیں بڑھا گئی تھی، وہ بےخیالی میں سماہر کو دیکھے گیا، ان لبوں سے یہ نام آج کس قدر مختلف لگ رہا تھا۔ وہ زیر لب مسکرا دیا تھا اور دو قدم آگے بڑھ کے، اس کے قریب ہوا تھا۔
” میں ان گولیوں سے بچا تو بےیقینی سی تھی اپنی قسمت پہ، لیکن اب قسمت پہ رشک آ رہا ہے مجھے اپنے، کیونکہ ایک نازک سی لڑکی میری سلامتی کی دعائیں مانگ رہی تھی۔ “
مبہم سا گھمبیر لہجہ۔
” اگر آپ کو کچھ ہو جاتا ۔ “
نظریں اس چہرے سے ہٹ جانے سے انکاری تھی جبکہ میران زیر لب مسکراتا سر نفی میں ہلا گیا۔
” تم جو ہو میری سلامتی کی دعائیں کرنے والی “
” مت جائیے گا اب پلیز “
آنکھوں میں پھر سے نمی ٹھہری تھی اور دھڑکنیں بڑھ گئی تھی، میران نے نظر بھر کے اس کے چہرے کے اطراف میں بکھرے بالوں کو دیکھا تھا اور پھر ان آنکھوں میں پریشانی کو ۔
” نہیں جاؤں گا “
” آپ کو قسم ہے ۔ “
سماہر کہہ رہی تھی جبکہ میران اس چہرے پہ بکھرے محبت کو دیکھے گیا ۔
” قسم ہے “
گھمبیر لہجے میں کہتا وہ سماہر کی سانسیں بےترتیب کر گیا ۔
” میری قسم ۔ “
ان آنکھوں میں دیکھتی وہ پوچھ رہی تھی، سماہر وہ پہلی لڑکی تھی جو میران کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے بات کر رہی تھی اس لمحے اور یہ لمحے اسے اپنا اسیر بنا رہے تھے، سر نفی میں ہلاتا وہ گہری نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔
” میران ارتضی ملک، اپنی جان سے پیاری ہستی، اپنی محبت کی قسم کھبی نہیں کھاتا “
سماہر نے حیرانی سے اسے دیکھا تھا اور پلکیں جھکا گئی تھی ۔
” تمہاری محبت کافی ہے میرے لئے سماہر، مجھے اپنے وعدے پہ قائم رہنے کے لئے ۔ اور اگر کھبی وعدے سے گمراہ ہوا تو تم ہاتھ بڑھا کے روک لینا مجھے، تمہیں حق ہے “
وہ سرگوشی کر رہا تھا، سماہر نے نظریں اٹھا کے اسے دیکھا تھا اور پھر نظریں چرا گئی تھی۔
“م ۔۔ میں چلتی ہوں “
تیزی سے کہہ کے وہ گھر کی طرف بڑھی تھی جبکہ میران وہیں کھڑا اسے جاتا دیکھتا رہا، آنکھوں میں عجب خمار تھا، عجب نشہ تھا، اس لمحے وہ سماہر تھی، پہلی عورت جو میران کے وجود کو مکمل اپنے سحر میں جکڑ چکی تھی، کوئی جنگ، کوئی ضد نہیں۔ اور پھر سر جھٹکا تھا،لب بھینچ لیے تھے۔
” محبت نہیں ہو سکتی تم، جنگ ہو، ضد ہو، میری ضد اور ازمائر سے جنگ “
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
