Rate this Novel
Episode 03
آج سنڈے تھا اور ہلکے ہلکے بادلوں نے آسمان کو گھیرا ہوا تھا ، سماہر آرام دہ انداز میں، لان میں رکھی کرسیوں میں سے ایک پہ بیٹھی اپنے میتھس کے نوٹس پھیلائے ہوئی تھی ، سردیاں ختم ہو رہی تھی ، پھر بھی ہلکی ہلکی سردی کا احساس اب بھی ہو رہا تھا ۔ گاڑی پورچ میں آ رکی تھی اور وہیں وقاص ملک اور میران گاڑی سے اتر کے اس کی طرف آ رہے تھے ۔
” اسلام علیکم ابو ۔ “
سماہر خوشدلی سے ان سے ملنے لگی۔
” وعلیکم السلام بیٹا۔ کیسی جا رہی ہے اسٹیڈیز؟؟”
وقاص ملک خوشدلی سے اپنی بیٹی سے پوچھنے لگے ۔
” بہت زبردست “
” چلو تم اسٹیڈیز کرو ، مجھے تمہاری امی سے بات کرنی تھی ۔ “
وقاص گھر کی طرف بڑھنے لگے جبکہ میران نے غور سے ٹیبل پہ رکھا سماہر کا نوٹ بک دیکھا تھا ، جہاں میتھس کے سوالات کے ساتھ ایک نوٹ لکھا ہوا تھا۔
” ہر وہ لڑکا جو سانس لیتا ہے۔۔ بے وفا ہے.۔۔ “
میران نے حیرت سے سماہر کو دیکھا تھا اور سماہر نے تیزی سے نوٹ بک بند کر دی تھی اور نظریں چراتی ادھر ادھر دیکھنے لگی ۔ ہر بار اس شخص سے سامنا عجیب انداز میں ہی کیوں ہوتا ۔
” ایسے کیوں دیکھ رہے ہیں آپ؟؟”
وہ میران کے مسلسل دیکھنے سے پریشان ہوتی پوچھنے لگی۔
” کیسا دیکھ رہا ہوں میں؟؟”
میران کی نظریں اب بھی اس کے چہرے پہ ٹھہری ہوئی تھی۔
” ایسے ناں، جیسے ابھی آپ دیکھ رہے ہیں۔ “
وہ جھنجھلا گئی تھی۔
” میں تو ہمیشہ ایسے ہی دیکھتا ہوں “
میران اپنی مسکراہٹ دباتا کہہ رہا تھا۔
” سب کو ایسے ہی دیکھتے ہیں آپ؟؟”
وہ اب براہ راست میران کی آنکھوں میں دیکھتی پوچھ رہی تھی۔
” کیسے دیکھتا ہوں؟ “
لہجہ پرسکون ہی تھا لیکن سماہر کو پریشان کر گیا تھا ۔
” آپ مجھے زچ کرنا چاہ رہے ہیں۔ “
” بلکل بھی نہیں۔ “
میران اپنی مسکراہٹ دباتا، سنجیدہ لہجے میں کہہ رہا تھا ، سماہر نظریں پھیرتی اپنی جگہ پہ بیٹھ چکی تھی، سر جھکائے وہ اپنے نوٹس بنانے لگی ، میران کچھ دیر اسے کے جھکے سر کو دیکھتا رہا۔
اب کی بارش میں کچھ ایسا کرنا
اپنی ہتھیلی پر قطروں کو جمع کرنا
جو جمع ھوجائیں وہ سب تیری چاہت
اور جو رہ جائیں وہ سب میری چاہت
بھاری گھمبیر آواز پہ سماہر نے نطر اٹھا کے اسے دیکھا تھا، آنکھوں میں حیرانی تھی جبکہ میران دوسری طرف دیکھنے لگا جیسے ابھی کچھ دیر پہلے اس نے کچھ کہا ہی نہ ہو ۔
” میں پڑھ رہی ہوں “
چبا چبا کے ہر لفظ کہتی وہ ناراض انداز میں پھر سے سر جھکا گئی تھی ، جب میران نے شہادت کی انگلی سے اس کے نوٹ بک پہ ہلکا سا دبایا تھا ، سماہر نے اسے دیکھنے سے ہی گریز کیا تھا جبکہ وہ تھوڑا سا خم ہوا تھا۔
” ہر سانس لینے والا مرد محبت یا پھر عشق کا مرتکب بھی ہو سکتا ہے ۔۔”
سماہر نے پلکیں اٹھا کے اسے دیکھا تھا ، جو اس کے بےحد قریب جھکا ہوا تھا، وہ ان آنکھوں کو بےحد قریب سے دیکھ پا رہی تھی، بےتاثر تھی وہ آنکھیں، بےحد سرد ۔ وہ تیزی سے پلکیں جھکا گئی تھی جبکہ میران نظر بھر کے اسے دیکھا تھا، سیدھا ہوا تھا اور قدم قدم گاڑی کی طرف بڑھ رہا تھا جبکہ سماہر دھڑکتے دل کے ساتھ نظریں اٹھا کے اسے جاتا دیکھتی رہی ۔
▪︎▪︎☆☆☆☆☆▪︎▪︎▪︎▪︎▪︎
” لالا ایسے اسمائل دے کےمیسج نہ کیا کریں، مورے کو شک ہو جاتا ہے “
آبگینے کی شرارت پہ ، میرب کو میسج کرتا ارتسام نظر اٹھا کے اپنی بہن کو گھورنے لگا۔
” مورے کو کچھ نہیں ہوتا، تمہیں ہی بس چغلیاں کرنے کا شوق ہے بہت ۔ “
وہ پھر سے موبائل کی طرف متوجہ ہوا تھا جہاں میرب کا میسج جگمگا رہا تھا ۔
” ہاں تو میں کیا کہہ رہی تھی VIP ؟؟”
” اتنا لیٹ رپلائی، مجھے کیا پتہ کیا کہہ رہی تھی تم “
منہ بنا کے اس نے میسج سینڈ کیا تھا ۔
” ہاں میں کہہ رہی تھی کہ ذرا اپنی ایک تصویر تو سینڈ کرو ، نماز پڑھتے ہوئے “
ارتسام نے اچھنبے سے اس کے میسج کو دیکھا تھا ۔
” don’t tell me
کہ تمہیں ابھی میری تصویر چاہئے “
میسج سینڈ کرنے کے بعد وہ اسکرین کو ہی دیکھ رہا تھا ۔ ۔
” کر دو ناں ، مجھے بہت چاہ ہے کہ تمہیں نماز پڑھتے ہوئے دیکھوں “
لب دانتوں تلے دبائے میرب نے اسے میسج کیا تھا جبکہ پاس بیٹھی سماہر نے اسے گھور کے دیکھا تھا جو کب سے موبائل میں مصروف تھی ۔
” مسجد آ کے دیکھ لینا۔ “
اس کے میسج پہ میرب کی ہنسی نکلی تھی جس پہ سماہر کی بھرپور گھوری نے اس کا استقبال کیا ۔
” لڑکی میرا دماغ خراب کر رہی ہو تم اب ۔ “
میرب نے اپنی ہنسی روکی تھی ۔
” اچھا بس لاسٹ۔ “
اسے کہتی وہ پھر سے میسج لکھنے لگی ۔ ۔
” یار سینڈ کرو ناں، میری وش ہی پوری کر لو ۔”
” مجھے دیکھنا؟ وہ بھی نماز ادا کرتے ہوئے ، تمہاری اتنی وش کیوں ہے پگلیٹ؟؟”
ایک عدد گھوری سے آبگینے کو نوازتا وہ اپنا موبائل دیکھنے لگا۔ جو کب سے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔
” کہتے ہیں کہ من پسند مرد کو اگر نماز پڑھتے ہوئے دیکھ لو تو وہ تمہارا نصیب بن جاتا ہے “
اور اس کے میسج پہ ارتسام بےساختہ ہنس پڑا تھا ، آبگینے بھی ہنسنے لگی جبکہ ارتسام ہنسی روک کے اسے اچھنبے سے دیکھنے لگا ۔
” تم کیوں ہنس رہی ہو ؟؟”
” مورے ، لالا لیوانے ہو گیا ہے “
وہ بلند آواز میں کہتی بھاگی تھی جبکہ یہاں سماہر اس کے ہاتھ سے موبائل چھین کے ٹیبل پہ رکھ چکی تھی ۔
” جاؤ پانی لے کر آؤ، مجھے پیاس لگی ہے “
” اچھا ۔۔ “
میرب ہنستے ہوئے نیچے کی طرف جانے لگی تو سماہر کچھ سوچتی ٹیرس کے ریلنگ کے قریب آ کھڑی ہوئی تھی۔ کچھ لمحے چلتی ہوا کو اپنے چہرے پہ محسوس کرتی رہی اور پیچھے آہٹ پہ بنا مڑے وہ کہنے لگی ۔
” پتہ کیا ، میرا شوہر بھی اپنی محبوبہ کو چونا لگا رہا ہوگا ، جان تُم نہ ملی تو میں مر جاؤں گا قسم سے ۔”
بڑا ہی تاسف بھرا لہجہ تھا اس کا ، جبکہ اچانک سے آیا شخص چونک کے اس کی پشت دیکھنے لگا ۔
” یار میرب تیرا کوئی اعتبار نہیں، بندہ تجھ سے اپنی فیلنگز بھی نہیں شئیر کر سکتا، کب جا کے اعلان کردو پورے شہر میں۔ “
آہٹ پہ اسے محسوس ہوا کہ میرب ہی ہوگی جو نیچے پانی لینے گئی تھی، تبھی اپنی دھن میں کہہ رہی تھی اور وہ شخص زیر لب مسکرا پڑا تھا ۔
” بول دو ناں ذرا ۔۔
دل میں جو ہے چھپا ۔۔
میں کسی سے کہوں گی نہیں۔۔ “
ہلکی آواز میں وہ گنگناتی اچانک سے مڑی تھی اور وہاں کوئی میرب نہیں تھی لیکن میرب کا ایک عدد سخت مزاج بھائی وہاں ضرور کھڑا تھا ، سماہر کی آنکھیں چار اطراف میں گھومنے لگی اور پھر سے آ کے اس پہ ٹھہر گئی ۔
” آ ۔۔۔ آپ ۔۔ آپ کب سے کھڑے ہیں یہاں؟؟”
خود کو دل ہی دل میں کوستی وہ پوچھ رہی تھی اور۔ساتھ ہی یہی دعا تھی لبوں پہ، کہ اس نے کچھ نہ سنا ہو ۔
” جب آپ کا ہزبینڈ کسی لڑکی کو چونا لگا رہا تھا ۔ “
بھاری اواز میں کہتا میران اس کے چہرے پہ پھیلی خفت کو دیکھ رہا تھا۔
” وہ تو مذاق، وہ تو بس ، میں میرب کو بلا لوں۔”
وہ جانے لگی جب میران کی آواز نے اس کے قدم روک لیے ۔
” شادی کا کب ارادہ ہے تمہارا ؟؟”
آنکھیں بند کر کے اس نے گہرا سانس لیا تھا اور پھر مڑ کے اسے دیکھنے لگی۔ ۔
” دیکھئیے وہ تو بس ایسے ہی بول دیا ، اپ مجھے شرمندہ تو نہ کریں اب “
” مجھ سے شادی کے بارے میں کیا خیال ہے آپ کا ؟؟”
اس اچانک سوال پہ وہ رک کے میران کو دیکھنے لگی کہ اس کے چہرے پہ مذاق کا کوئی شائبہ ہیں بھی کہ نہیں، لیکن وہاں مذاق کا کوئی شائبہ نہ تھا ، بلکہ ہمیشہ کی طرح بےتاثر چہرہ تھا ۔
” میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں سماہر ۔ “
لمحے بھر کے لئے سماہر حیران ہوئی تھی اس شخص کی زبان سے یہ الفاظ سن کے ، لیکن وہ عام لڑکیوں کی طرح شرمانا کھبی نہیں چاہتی تھی ، تبھی سر جھٹکا تھا اور دوسرے ہی لمحے وہ سوالیہ نظروں سے اس شخص کی آنکھوں میں دیکھنے لگی۔
” کیوں؟؟”
میران نے اچھنبے سے اسے دیکھا تھا۔
” محبت تو آپ کو کھبی ہو نہیں سکتی اپنے علاوہ کسی سے ، تو پھر مجھ سے شادی کا خیال کیسے آیا آپ کو ؟؟”
وہ پھر سے پوچھ رہی تھی لیکن میران کی نظروں سے اسے محسوس ہوا کہ وہ کچھ زیادہ بول گئی ہے تبھی نظریں چرا گئی تھی۔ میران ارتضی ملک کچھ دیر اسے دیکھتا رہا جو نظریں چرا کے اب دوسری طرف دیکھ رہی تھی۔ کیوں؟؟ کیسے بتاتا اسے کہ کیوں؟؟ کیسے بتاتا کہ وہ اپنی آنکھوں کے سامنے ازمائر ارتضی ملک کو ہارتا ہوا ، شکستہ خوردہ اور ٹوٹتا ہوا دیکھنا چاہتا ہے ، جب وہ بار بار اپنی محبت کو میران کے قریب ، میران سے منسوب دیکھے گا تو ہر بار ٹوٹ کے بکھرے گا اور بارہا بکھرے گا اور تب میران ارتضی ملک سکون محسوس کرے گا ۔
” کون کہتا ہے کہ میران ارتضی ملک کو محبت نہیں ہو سکتی ؟؟”
اس کے سوال پہ سماہر نے نظروں کا رخ اس کی طرف کیا تھا۔
” میران ارتضی ملک تو سماہر وقاص ملک کی محبت میں پور پور ڈوب چکا ہے اور تمہیں خود سے منسوب کرنا چاہتا ہوں، اپنی محبت کو مقدس بندھن کا نام دینا چاہتا ہوں سماہر ، جو میران کو تم سے ہے۔ “
وہ کہہ رہا تھا جبکہ سماہر اس کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی جو اس لمحے بھی بےتاثر تھی۔ الفاظ میں بےحد شدت تھی، بےحد تپش تھی ، لیکن آنکھیں۔۔ یہ آنکھیں اتنی سرد کیوں تھی ؟؟ وہ سوچ رہی تھی جب ازمائر پہ نظر پڑی اس کی ، جو ان دونوں کو نیچے لان سے دیکھتا ، ابھی ابھی ٹیرس پہ آیا تھا اور اب سپاٹ نگاہوں سے میران کو دیکھ رہا تھا ۔ سماہر کی نظروں کے تعاقب میں میران نے بھی مڑ کے دیکھا تھا اور آنکھوں میں طنزیہ مسکراہٹ ابھری تھی ۔ ازمائر اپنے اندر شدید امڈتے غصے پہ ضبط کرتا سماہر کو دیکھنے لگا۔
” آپ یہاں کیا کر رہی ہے سماہر ؟؟”
” مجھ سے باتیں کر رہی ہے ۔ “
اس سے پہلے سماہر جواب دیتی ، میران جواب دے چکا تھا ۔ کتنا سرد تھا میران کا لہجہ ، وہ سر جھٹک کے تیزی سے آگے بڑھی تھی اور نیچے جانے لگی جبکہ ازمائر غصے سے میران کی طرف بڑھا تھا جو مسکراتی آنکھوں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔
” جان سے مار دوں گا تمہیں۔ “
وہ میران کا کالر دبوچ کے غرایا تھا جبکہ میران اس کا ہاتھ اپنے کالر پر سے جھٹک چکا تھا۔
” بڑے بھائی کی غلطی جان کے معاف کر دیتا ہوں لیکن اس شرط پہ کہ آئندہ یہ ہاتھ کنٹرول میں رہے تمہارے “
سرد ٹھہرا ہوا لہجہ اور سرد بےتاثر آنکھیں۔
” سماہر سے دور رہو ، اسے اپنی گندگی سے دور رکھو ۔ “
وہ پھر سے غرایا تھا جبکہ ان سرد آنکھوں میں مسکراہٹ ابھری تھی ۔
” میری کزن ہے ۔ تمہیں کوئی مسئلہ ہے؟؟”
ازمائر نے دانت پیسے تھے اور ساتھ ہی میران کو دھکا دیا تھا اور وہ پیچھے لڑکھڑا کے سنبھلتا ، پھر سے آگے بڑھ کے ازمائر کو دھکا دے چکا تھا ۔ دونوں نفرت بھری نظروں سے ایکدوسرے کو دیکھ رہے تھے ، بےحد نفرت کی آگ بھڑک رہی تھی دونوں کے وجود اور آنکھوں میں۔
” بھائی ۔۔ “
میرب کی آواز پہ دونوں نے مڑ کے سیڑھیوں کی طرف دیکھا تھا ۔ میران کی سرخی چھلکاتی آنکھوں سے اس نے نظریں چرائی تھی، اسے ہمیشہ ڈر لگتا تھا اپنے اس بھائی سے ، نظریں چرا کے وہ ازمائر کو دیکھنے لگی ۔
” ب ۔۔ بڑی امی آپ کو بلا رہی ہے ۔ “
وہ جھوٹ کہہ رہی تھی لیکن اس وقت دونوں کو یوں ایکدوسرے کے مقابل دیکھ کے ، اس کا نازک سا دل کانپنے لگا تھا ۔ میران کے مقابلے میں ازمائر تھوڑا ٹھنڈے مزاج کا تھا، تبھی گہرا سانس لیتا وہ ایک سرد نظر میران پہ ڈال کے سیڑھیوں کی طرف بڑھ گیا تھا ۔
” نظریں چرا کے ایسے ہی میرے راستے سے ہٹ جانا بےحد بہترین عمل ہے تمہارے لئے ۔ “
میران کی آواز پہ اس نے گہرا سانس لیا تھا لیکن میرب کی آنکھوں میں بےبسی اسے کچھ غلط کہنے سے روک گئی تھی ، سر جھٹک کے وہ تیزی سے سیڑھیاں اترنے لگا اور میرب بھی تیزی سے نیچے اتر گئی تھی ۔ جبکہ میران ارتضی ملک کے وجیہہ چہرے پہ زہر خند مسکراہٹ تھی ۔ یہ پہلا مرحلہ تھا ، اس کے بعد اور بھی بہت سے مراحل آنے والے تھے جب لمحہ لمحہ وہ ازمائر کو توڑتا رہے گا ۔
☆☆☆▪︎▪︎▪︎▪︎▪︎▪︎☆☆☆
وہ جیسے ہی یونیورسٹی گیٹ سے باہر نکلی جب اس کی نظر گاڑی سے ٹیک لگائے کھڑے ازمائر پہ پڑی، جو بلیک جینز پہ سرمئی رنگ کی شرٹ پہنے اسی کا ہی منتظر تھا شاید۔ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی وہ ازمائر کے قریب گئی تھی ۔
” ازمائر اپ یہاں؟؟”
ازمائر نے اس کی حیران آنکھوں میں دیکھا تھا اور ہلکا سا مسکرایا تھا۔
” یونیورسٹی آف ہو گئی ؟”
اس کے سوال کا جواب دینے کی بجائے وہ پوچھنے لگا جبکہ سماہر اثبات میں سر ہلانے لگی ۔
” تو پھر چلیں، مجھے آپ سے امپورٹنٹ بات کرنی تھی ۔ “
ازمائر اس کے لئے فرنٹ سیٹ کا ڈور کھول چکا تھا جبکہ سماہر سوالیہ نظروں سے اسے دیکھتی گاڑی میں بیٹھ چکی تھی، ازمائر بھی دوسری طرف سے گاڑی میں آ کے بیٹھ چکا تو سماہر پوچھنے لگی ۔
” کیا بات کرنی ہے ؟؟ سب ٹھیک تو ہے ؟؟”
وہ کندھے اچکا کے، مسکراتے ہوئے گاڑی اسٹارٹ کرنے لگا ۔
” ازمائر بتائیے ناں؟؟”
” بلکل سماہر سب ٹھیک ہے ، لنچ کرنے جا رہے ہیں ہم اور وہیں آپ سے بات کروں گا ۔ “
ایک نظر سماہر کو دیکھ کے وہ کہنے لگا اور زیر لب مسکرا کے وہ روڈ کو دیکھنے لگا ۔
” موڈ ٹھیک کر لیں آپ سماہر ، ایسے لگا رہا جیسے بھگا کے لے جا رہا ہوں اپنی کزن کو “
اس کے شرارتی انداز میں کہنے پہ سماہر سر جھٹک کے مسکرا دی تھی ۔
” ایسا کچھ نہیں ہے ، آپ اتنے پراسرار انداز میں کہہ رہے تھے کہ بس “
ازمائر ہنس دیا تھا۔
” اممممم ، بھئی اتنا بھی پراسرار انداز نہیں تھا میرا ۔ “
” بس مجھے لگا ۔ “
سماہر کندھے اچکا گئی تھی، گاڑی ایک ریسٹورنٹ کے سامنے رکی تھی جہاں وہ کھانے کا آرڈر دے کے اب سماہر کو دیکھ رہا تھا ۔
” میں سن رہی ہوں، کہئے “
” لنچ کر لیں، پھر بتاتا ہوں “
ازمائر گہرا سانس لیتا کہنے لگا جبکہ سماہر کو جاننا تھا کہ وہ کیا کہنا چاہ رہا ہے ۔
” لنچ بھی کر لیں گے ، پہلے بتائیے “
ہنکارا بھرتا وہ گہری نگاہوں سے سماہر کی سوالیہ آنکھوں میں دیکھ رہا تھا۔
” سماہر میں آپ سے ،”
وہ بات ادھوری چھوڑ کے اپنی کنپٹی سہلانے لگا ۔ اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ کیسے بات کریں اہنے مقابل بیٹھی اس لڑکی سے ، جسے وہ سالوں سے پسند کرتا آ رہا ہے ۔
” مجھ سے شادی کریں گی آپ؟؟”
وہ کہہ چکا تھا اور سماہر حیران آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔ یہ کیا کہہ رہا تھا وہ ؟؟ شادی ؟؟ پروپوزل ؟؟ تو وہ یہ سب کہنے آیا تھا ؟؟
” میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں سماہر ‘
اس کے کانوں میں میران کے کہے الفاظ گونجے تھے ۔
” سماہر ؟؟”
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
