Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 01

” مجھے معاف کردو پلیز ، میں نہیں چاہتا تھا دوسری شادی کرنا لیکن ۔۔۔ “
وہ نم آنکھوں سے عارفین کے سامنے بیٹھے تھے جن سے بےحد محبت ہونے کے بعد انہوں نے شادی کی تھی بےحد چاہ سے اور اب وہ سوتن لے ہی آئے تھے ان پہ ۔
” میں مجبور ہو گیا تھا ، تم جانتی ہو ناں ، تم نے دیکھا تو تھا کہ مجھے مجبور کیا گیا ۔ “
ان کے ہاتھ کانپے تھے، بیڈ کراؤن پہ اپنے ہاتھ مضبوطی سے جماتی وہ اٹھنے کی کوشش کرنے لگی لیکن ایسا لگ رہا تھا جیسے سانس اب نکلے گی اور اب نکلے گی ۔۔ اپنے سے متعلق شخص کو دوسری عورت کو سونپنا کس قدر تکلیف دہ ہے ، یہ ان سے بہتر کون جان سکتا تھا کہ اپنے محبوب کو دوسری عورت کے پاس بھیجنا کس قدر مشکل امر ہے ایک بیوی کے لئے ۔
” جائیے پلیز ، آپ کی منتظر ہے وہ ۔ “
کس قدر مشکل تھا یہ ایک جملہ کہنا لیکن وہ کہہ گئی تھی اور وہ نم آنکھوں سے اپنی بیوی کو دیکھتے نفی میں سر ہلا رہے تھے ۔
” میں یہ نہیں کر سکتا ، نہیں کر پا رہا میں یہ ۔ “
اور وہ جو خود پہ کب سے ضبط کیے ہوئی تھی آخر مسکرا کے اپنے سامنے بیٹھے دشاب ارتضی ملک کو دیکھنے لگی ۔
” آپ کے خاندان کو وارث چاہیئے جو آپ کا نام آگے لے جا سکے ، جائیے اور اس خاندان کو اپنا وارث دیجئیے جو میں تو نہ دے سکی شاید وہ دوسری عورت وہ وارث آپ کو دے پائے ۔ “
لہجہ ہر طنز سے عاری تھا، بھیگی آنکھوں میں بھی نرم تاثر تھا لیکن وہ شرمندہ ہو گئے تھے تبھی سر جھکا گئے تھے وہ اور پھر وہ جا رہے تھے دوسرے کمرے میں جہاں ان کی دوسری بیوی منتظر تھی اور وہ عورت مضبوط بنی اپنے شوہر کو لمحہ لمحہ خود سے دور جاتا دیکھ رہی تھی ۔ آنکھیں موند کے انہوں نے آنے والی صبح کو سوچا تھا جب ان کا محبوب دوسری عورت کی خوشبو اوڑھ کے ان سے کیسے آنکھیں ملا پائیں گے ۔
اور اب !!!! ان کے چہرے پہ تلخ مسکراہٹ بکھری تھی ، وہ جو اس رات عارفین کے سامنے نم آنکھوں سمیت بیٹھے تھے ، اج اتنے سالوں بعد لمحہ لمحہ وہ بےحد بدل گئے تھے کہ شاید پہچاننے میں نہیں آ رہے تھے ۔ انہوں نے گہرا سانس لیا تھا، آج ، رات کے اس پہر نہ جانے پھر سے کیوں وہ رات یاد کی صورت ان کے وجود پہ بکھرے پڑ رہے تھے جس کا بیتا لمحہ لمحہ ان کے لئے کسی عذاب سے کم نہ تھا ، کسی زہر سے کم نہ تھا اور کوئی ان سے ان کی زندگی کے بدترین لمحات کا پوچھے تو وہ اس رات کے ہر سیکنڈ اور منٹ کو اپنی زندگی کے عذاب کش لمحات کا نام دیں گی ، جن کا لمحہ لمحہ ان پہ بھاری تھا جب ان کا محبوب شوہر اسی گھر کے دوسرے کمرے میں اپنے لذت بھرے لمحات گزار رہے تھے دوسری عورت کی قربت میں۔
دھڑام کی آواز پہ وہ چونکی تھی، نظر گھڑی پہ گئی ، رات کے تین بج رہے تھے ، یہ وقت تو میران ارتضی ملک کے گھر آنے کا تھا ۔
” لو آ گیا اس گھر کا شرابی بیٹا ۔ “
ہمیشہ کی طرح عظمی کی آواز گھر میں گونجی تھی ۔
” چپ رہو تم ۔ “
ساتھ ہی دشاب ارتضی ملک کی آواز بھی گونجی تھی جبکہ عارفین سینے پہ ہاتھ رکھے تیزی سے کمرے سے باہر نکلی تھی جہاں ان کا بیٹا میران ارتضی ملک شراب کے نشے میں جھومتا اوپر آنے کے لئے سیڑھیوں کی طرف بڑھ رہا تھا جب دشاب کی گرجتی آواز پہ اس کے قدم ڈگمگائے تھے اور وہ لڑکھڑاتا مڑا تھا۔
” اوہ سلام سلام ابا جان حضور، آج آپ یہیں ہیں ۔ “
” پھر سے کتنی بوتلیں چڑھا کے آ گئے جو پورا گھر جگانے پہ تلے ہوئے ہو ؟؟”
عظمی منہ بناتی کڑے تیوروں سے پوچھ رہی تھی۔
” آپ نے بھی پینی تھی کیا ؟؟ میں لانا بھول گیا “
میران کے آنکھ ونک کرنے پہ عظمی کی گھوریاں عروج پہ پہنچ گئی ۔ ۔
” استغفراللہ، دشاب دیکھ رہے ہیں آپ، کیا کہہ رہا ہے یہ مجھے “
اس سے پہلے دشاب کچھ کہتے، عارفین سیڑھیاں تیزی سے اترتی نیچے آئی تھی اور میران کا بازو تھاما تھا ۔
” میران چلو یہاں سے ۔ “
جبکہ میران نے جھٹکے سے اپنا بازو چھڑایا تھا ۔
” آپ اپنے اس شوہر نامدار کو ہی سنبھالئے ۔۔ “
سرد لہجے میں کہتا وہ لڑکھڑاتے قدموں سیڑھیاں چڑھنے لگا جہاں میرب کھڑی یہ تماشا دیکھ رہی تھی ۔
عارفین نے عظمی کی گھوریوں پہ نظریں چرائی تھی ، ایک شکایت بھری نظر انہوں نے دشاب پہ ڈالی تھی اور رخ موڑ کے سیڑھیاں چڑھنے لگی جبکہ دشاب لب بھینچے ان دونوں ماں بیٹے کو آگے پیچھے سیڑھیاں چڑھتے دیکھ رہے تھے۔
” چلئیے ناں کمرے میں، نیند خراب ہو گئی آپ کی بھی “
عظمی ان کا بازو تھامے نرم لہجے میں کہنے لگی کہ ان کا نظر التفات بھی وہ برداشت نہیں کر سکتی تھی عارفین کے لئے ۔ جبکہ دشاب اپنا بازو اس کی گرفت سے چھڑا کے لمبے ڈگ بھرتے کمرے کی طرف بڑھے تھے ۔ عظمی نے ایک تیز نظر سیڑھیوں پہ ڈالی تھی جہاں اب کوئی نہیں تھا ۔
” نیندیں حرام کر رکھی اس عورت نے اور اس کی دو اولادوں نے “
نخوت سے سر جھٹکتی وہ بھی کمرے کی طرف بڑھ گئی تھی۔ میرب اپنے بھائی کو سہارا دیے کمرے میں لائی تھی جبکہ وہ بیڈ پہ گر سا گیا ۔
” جاؤ سو جاؤ میرب “
اس کی طرف دیکھنے سے میران گریز کر رہا تھا ۔
” پانی لاؤں بھائی ؟”
ہمیشہ کی اپنے بھائی پہ مہربان بہن رہی تھی وہ ، تبھی پوچھنے لگی جبکہ وہ رخ موڑے خاموش رہا ، شاید اسے اس وقت اپنی بہن سے شرمندگی ہو رہی تھی ، یوں اس حالت میں۔میرب بھی سر جھٹک کے کمرے سے باہر نکلی تھی اور دروازہ بھی بند کیا تھا تو نظر عارفین پہ پڑی جو صوفے پہ افسردہ سی بیٹھی ہوئی تھی ۔
” مما آپ یہاں کیوں بیٹھی ہے ؟”
عارفین پریشان نظروں سے میرب کو دیکھنے لگی ۔
” سو گیا ؟”
” جی سو گیا ہے ، چلئیے آپ بھی سو جائیے “
میرب انہیں اٹھنے میں مدد دیتی ، ان کے ساتھ ہی ان کے کمرے میں گئی تھی کہ اس کی زندگی میں اس کے دو جان سے بھی زیادہ عزیز ہستیاں تھے عارفین اور میران جبکہ دشاب اس کے باپ تھے لیکن وہ ان سے دور رہنے کی کوشش کرتی ، نہ جانے کیوں اپنے اور ان کے بیچ دیوار سی کھڑی کر رکھی تھی ، وہ میران کی طرح ان سے بدتمیزی نہیں کرتی تھی لیکن وہ خاموش ہی رہتی دشاب کے سامنے ۔

☆☆☆☆☆☆☆☆

” اففففف یار اسے کوئی پوچھتا نہیں ہے کہ اتنی رات کو ، نشے میں دھت ایسے گاڑی کیوں چلاتے ہو مسٹر ۔ کوئی روکتا شوکتا نہیں ہے اسے “
مائزہ تکیے پہ سر پٹختی غصے سے کہنے لگی جبکہ بالکونی کا دروازہ بند کرتی سماہر نے اپنی بہن کو گھوری سے نوازا تھا ۔
” کسی دن زخمی ہو کے آ جائے تو کتنا مزہ آئے اور پھر میں اس کی نیندیں حرام کروں۔۔ “
وہ مزید تپتے لہجے میں کہہ رہی تھی جبکہ سماہر سوچوں میں گم اپنے بیڈ پہ دھڑام سے گری تھی ۔
” ایسے نہیں کہتے مائزہ ، وہ عارفین چچی جان کا بیٹا ہے ، وہ سنے گی تو دکھ ہوگا انہیں “
مائزہ آنکھیں گھما کے اپنی بہن کو دیکھنے لگی جو چھت کو گھور رہی تھی۔
” بہن ، ادھر کہاں سے آ گئی ہماری چچی جان، جو انہیں سن کے دکھ ہوگا ۔ “
سماہر خاموش ہی رہی جبکہ مائزہ منہ موڑ کے کمفرٹر میں خود کو چھپا گئی ۔
” اب سکون سے سو ہی جاؤں۔ “
وہ سو چکی تھی، جبکہ سماہر چھت کو گھورتی رہی ، سوچوں کا تسلسل بےدھیانی میں اس شخص کے گرد بنتا جا رہا تھا جو ان کے خاندان کا وجیہہ مرد ہونے کے ساتھ ساتھ، نہایت ہی بداخلاق انسان بھی تھا ۔ جس کے بارے میں سب کا یہی خیال تھا کہ میران ارتضی ملک سے زیادہ بدتمیز ، بداخلاق ، بدچلن ، مغرور انسان کوئی نہیں ہے لیکن سماہر جانتی تھی کہ ان سب خصوصیات کے باوجود اس پتھر نما مغرور شخص کا اندر بےحد خوبصورت تھا جسے بس سنوارنے کی ضرورت تھی لیکن شاید کسی کو دلچسپی ہی نہیں تھی کہ اس مغرور شخص کو سنوارے یا شاید وہ مغرور پتھر نما شخص کسی کو اپنا آپ دکھانے کی ضرورت ہی نہیں محسوس کرتا تھا۔
” اففف سماہر بس کر دو، کیوں سوچ رہی ہو تم اسے ۔۔ “
دانت پیستی وہ آنکھیں بند کر گئی تھی لیکن اب نیند آنے میں بہت وقت لگنا تھا اسے کہ آنکھیں بند کرنے پہ بھی وہ مغرور سا عکس اس کی پلکوں پہ آن ٹھہرا تھا ۔ خود سے الجھتی اور لڑتی وہ آخر کار نیند کی دیوی کو خود پہ مہربان کر ہی چکی تھی۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

“رو دیتی ہوں جب یاد آتا ہے کہ میں بھی اِستعمال ہوئی تھی اور وہ بھی کہاں ۔۔۔ مُحبت کے نام پر! ۔”
پریشے کی پلکیں بھیگی تھی۔

” نہ جانے جب مُحبتیں فنا ہو جاتی ہیں ، بِچھڑ جاتی ہیں تو اپنے پیچھے خوش فہمیاں کِیوں چھوڑ جاتی ہیں ، دِل ہر آن ایک ہی دُھن میں لگا رہتا ہے کہ ؛ وہ ہمیں مِل جائے گا ، ہمارا پھر سے ساتھ چاہے گا حالانکہ ؛ جُدائیوں کے راستے تو بُہت طویل ہوتے ہیں ۔۔۔ جانے والے کبھی لوٹ کر نہیں آتے جو اُس نے مِلنا ہوتا تو بِچھڑتا ہی کِیوں!؟ ، اگر تُم تنہا ہو اور وقت کے دِل شکن لمحات تُمھارے محسوسات کو پامال کر رہے ہیں تو کیا ہُوا!؟ ، تُم اِس دُنیا میں اکیلے آئے تھے ، اکیلے ہی جاؤگے ، جب قُدرت نے تُمھیں اکیلا ہی تخلیق کِیا تھا تو پھر تنہائی سے کیا گھبرانا! ۔ “
وہ بھیگی آنکھوں کے ساتھ اس کتاب میں لکھی تحریر کو پڑھ رہی تھی اور ان آنسوؤں کو بہنے سے روکنے کے لئے اس نے آنکھیں میچ کے لب بھینچ لیے تھے ۔ جب اچانک کتاب اس کے ہاتھ سے چھین لیا گیا تھا ، بھیگی پلکیں اٹھا کے اس نے دیکھا تھا وہ آبگینے تھی جو اسے بھرپور گھوری سے نواز رہی تھی جبکہ وہ نظریں چرا کے ہاتھ کی پشت سے آنسو صاف کرنے لگی ۔
” مسئلہ کیا ہے تمہارے ساتھ پریشے؟؟ تمہارے موتی جیسے قیمتی آنسو ہیں یہ ، جنہیں تم اس کمینے کے لئے بہا رہی ہو ۔ “
” کتاب واپس کرو آبگینے “
پریشے سرخ ہوتی آنکھوں سے اسے دیکھتی کہنے لگی جبکہ آبگینے جھٹکے سے کتاب اوپر وارڈ روب پہ پھینک چکی تھی، پریشے حیران آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی ۔
“یہ کیا کیا تم نے آبگینے “
” وہی جو مجھ جیسی محبت کرنے والی خورے (بہن) اپنی خورے (بہن)سے کرتی ہے ۔۔”
آبگینے اسے آنکھیں دکھاتی کہنے لگی ۔
” عجیب خورے ہو تم بھی ۔ “
منہ بنا کے اسے کہتی وہ بیڈ سے اتر کے کھڑکی میں آ کھڑی ہوئی تھی جبکہ آبگینے بھی اس کے قریب آ کھڑی ہوئی تھی اور دونوں بہنیں ساتھ کھڑی برستی بارش کو دیکھنے لگی۔
” اس گوبھی خان کا منہ توڑ دوں گی میں جا کے پریشے، اگر تم دوبارہ سے روئی تو ۔ “
پریشے شاکی نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔
” اس کا نام عاھل خان ہے ۔ “
” نہیں وہ گوبھی ہے اور گوبھی مجھے بلکل نہیں پسند “
آبگینے نے بگڑے موڈ کے ساتھ کہا جبکہ پریشے تاسف سے سر ہلانے لگی ۔
” زہر لگتا ہے مجھے وہ آستین کا سانپ “
آبگینے پھر سے کہنے لگی ۔
” بس کرو آبگینے “
پریشے کھڑکی کے پاس سے ہٹ کے دروازے کی طرف بڑھی تھی جبکہ آبگینے نے اس کی پشت گھوری تھی۔
” دیکھ لینا پریشے ، میرے سامنے وہ آئے تو ، میں ۔۔۔۔ میں ایک پانہ سے بھرا گلاس اس کے منہ پہ پھینکوں گی ۔”
اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا کہے ، ہینڈل پہ جاتے ہاتھ رکے تھے پریشے کے ، وہ مڑ کے حیران آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی اور پھر ہنس دی تھی ۔
” ہاں یہی کروں گی ۔ “
آبگینے ہاتھ کی مٹھی ہوا میں لہراتی کہنے لگی ۔ ۔
“تم کچھ مت کرو میری پیاری بہن ۔ چلو میرے ساتھ کچن میں۔ “
پریشے دروازہ کھول کے باہر نکلی تھی۔
“پکوڑے بناتے ہیں۔ “
آبگینے بھی اس کے پیچھے ہی تیزی سے باہر نکلی تھی۔
” بلکل بھی نہیں”
پریشے نفی میں سر ہلانے لگی ۔
” کیوں؟؟ بارش میں مزہ آتا ہے “
آبگینے منہ بنانے لگی ۔
” لالا بھی آ رہا ہوگا ، اسے بھی پسند ہے “
” لالا آئلی کھانا زیادہ نہیں کھاتے ، تمہیں تو پتہ ہے “
پریشے نے پھر سے معذرت کرنی چاہی ۔
” کہہ دو کہ میں کسی گٹڑ سے ملی ہوں تمہیں “
آبگینے کی بات پہ وہ رک کے اسے حیرت سے دیکھنے لگی جبکہ وہ مصنوعی انداز میں رونے کا شغل فرما رہی تھی ۔
” تمہیں یہ حقیقت کیسے پتہ چلی آبگینے؟؟ ہم تو کب سے چھپاتے آ رہے ہیں تم سے ۔ “
پریشے کی بات پہ آبگینے نے رک کے اسے دیکھا تھا ، لیکن اس کے سنجیدہ چہرے سے وہ مزید روہانسی ی
ہو گئی ۔
” بےبے۔۔۔ “
کہتی وہ کچن سے باہر نکلی تھی جبکہ پریشے ہاتھ جھاڑتی ، مسکراتی پکوڑوں کا مصالحہ تیار کرنے لگی اور ساتھ ساتھ آبگینے کا چہرہ یاد کر کے مسکرا بھی رہی تھی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

” آپ کا پورا افس اور بزنس ڈیلز میری وجہ سے چل رہی ہے، آپ کی پولیٹکس، یہ شان و شوکت ، یہ دبدبہ ، یہ سب میری وجہ سے ہیں، تو اس لئے آپ اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ میرے مقابل کھڑے ہو کے اپ مجھ سے سوال کریں کہ میں کیا کرتا پھرتا ہوں۔”
میران تقریبا دھاڑا تھا جبکہ دشاب ارتضی ملک لب بھینچے اپنے بیٹے کو دیکھ رہے تھے ۔
” تم ڈیڈ سے کس ٹون میں بات کر رہے ہو میران ۔ “
ازمائر ماتھے پہ بل ڈالے تیز اواز میں بولا تھا جبکہ میران نے آبرو اچکا کے اسے سر سے پاؤں تک گھورا تھا ۔
“میں اپنے ڈیڈ سے جس ٹون میں بات کروں، تمہیں کیا تکلیف ہو رہی ہے “
ازمائر لب بھنیچ گیا تھا جبکہ دشاب ارتضی ملک نے اشارے سے اسے چپ رہنے کو کہا تھا اور پھر اپنے مقابل کھڑے اپنے خوبرو بیٹے کو دیکھنے لگے جو وجاہت میں اپنے باپ کا ہی پرتو تھا جبکہ آنکھیں مکمل عارفین پہ گئی تھی، ضدی ہونے کے ساتھ ساتھ غصے کا بھی تیز تھا وہ ۔ دشاب کو اس میں ہمیشہ اپنا آپ نظر آتا لیکن اکثر دل میں کسک اٹھتی کہ کاش یہ بیٹا ان کی دوسری شادی سے پہلے اس دنیا میں آتا تو شاید آج زندگی اور وقت کا رخ کچھ اور ہی ہوتا ۔ میران کی آنکھوں میں شکوے شکایات کا جال ہمیشہ بچھا ہوا نہ دیکھتے ۔
” اگر آپ کو مزید کچھ نہیں کہنا تو میں جا رہا ہوں “
دشاب نے سر جھٹکا تھا ، وہ کچھ نہیں بولے تھے اور ایک تیز نظر ازمائر پہ ڈال کے میران ارتضی ملک لمبے ڈگ بھرتا وہاں سے اندر کی طرف جا رہا تھا ۔ ازمائر ان کے قریب آئے تھے ۔
“ڈیڈ آپ اسے کچھ کہتے کہتے رک کیوں جاتے ہیں؟”
” وہ بھائی ہے تمہارا ازمائر ، ایک ہی خون دوڑ رہا ہے تم دونوں کی رگوں میں۔ “
وہ بس اتنا ہی کہہ سکے کہ اپنے بیٹے کی آنکھوں میں دیکھ کے اکثر لگتا کہ عارفین کی شکوہ بھری آنکھیں انہیں دیکھ رہی ہو ۔ ازمائر کچھ دیر دشاب کو دیکھتا رہا اور پھر سر جھٹک کے وہ لان سے ہوتا باہر کی طرف جا رہا تھا ، جب نظر دائیں طرف لان پہ پڑی جہاں سے سماہر ان کے لان کی طرف آ رہی تھی۔ دونوں گھر اس انداز میں بنے ہوئے تھے کہ دونوں گھروں کے لان ایک دوسرے سے ملے ہوئے تھے ، چہرے پہ سکون سا پھیلتا محسوس ہوا تھا ، کچھ دیر پہلے کا غصہ جیسے زائل ہونے لگا تھا۔ آسمانی رنگ کی شرٹ اور ٹراؤزر میں ملبوس ، ہم رنگ دوپٹہ کندھوں پہ لیے وہ اس ننھی برستی بوندوں میں بےحد دلکش لگ رہی تھی۔
” یونیورسٹی سے کب آئی تم ؟”
وہ خوشگوار لہجے میں پوچھنے لگا جبکہ وہ بھی مسکرا دی تھی۔
” آج جلدی آ گئی ، کلاسز نہیں تھی زیادہ ۔ “
گہرا سانس لیتا وہ اپنے گردن کی پشت سہلانے لگا ۔
” کہاں جا رہی تھی؟ “
اس کے ہاتھ میں موجود کتابیں دیکھ کے وہ پوچھنے لگا۔
“ہاں میں میرب کے ساتھ کچھ میتھس کوئسچنز سولو کرنے کا سوچ رہی تھی۔ “
” کوئی پرابلم ہو تو مجھ سے ہیلپ لے سکتی ہو “
اس کے چہرے کو نظر بھر کے دیکھتا وہ مسکرا کے کہہ رہا تھا ۔
” ضرور۔ تو میں چلتی ہوں پھر “
وہ ہاتھ سے گھر کی طرف اشارہ کرتی کہنے لگی تو وہ مسکرا کے کندھے اچکا گیا۔
” شیور۔ “
وہ بھی مسکرا کے لان سے ہوتی اب گھر کے اندر کی طرف جا رہی تھی جبکہ ازمائر وہیں کھڑا زیر لب مسکراتا اسے جاتا دیکھ رہا تھا اور اپنے کمرے کی کھڑکی سے دیکھتا میران ارتضی ملک ابرو اچکا گیا ، چہرے پہ سوچ کہ بےشمار لکیریں تھی اور ماتھے پہ بل پڑے تھے ۔ جبکہ باہر سے آتی آوازوں نے اسے اپنی طرف متوجہ کیا تھا۔ سماہر عارفین سے مل رہی تھی اور شاید کچھ کھاتے ہوئے ان کی طرف کر رہی تھی، سر جھٹک کے وہ کمرے سے باہر آیا تھا۔ جہاں اوپن کچن میں عارفین کے لاڈ اٹھاتی ، ان کے ہاتھ کے بنے سموسے کھا رہی تھی۔
“اممم چاچی ماں ، اممم اممم “
جبکہ عارفین ہنس رہی تھی ، ساتھ کھڑی ان کے گھر کام کرنے والی آیا بھی ہنس پڑی تھی جو برسوں سے عارفین لے ساتھ تھی ۔
” کیسے کر لیتی ہے اپ یہ سب ؟؟ ایک دفعہ میں نے بنانے کی کوشش کی لیکن آپ کو پتہ کیا ہوا ؟؟ میرا نیل ہی ٹوٹ گیا ۔ “
کہتے کہتے اس کا منہ اتر گیا تھا جبکہ دروازے سے ٹیک لگا کے کھڑا میران غور سے اسے ہی دیکھ رہا تھا جبکہ وہ ایک اور سموسے سے بھی انصاف کرنے لگی ۔
” میرب سو رہی ہے کیا ؟؟”
” کمرے میں ہوگی اپنے، تم چلو میں وہیں چائے اور سموسے لاتی ہوں تم دونوں کے لئے “
عارفین نے پیار سے اس کا چہرہ تھپتھپاتے کہا تھا ۔
” اوکے چچی ماں۔ “
وہ مسکرا کے ٹیبل پہ رکھی کتابیں اٹھا کے کچن سے باہر جانے لگی ، جب اس کی نظر میران کی طرف اٹھی تھی جو اپنے کمرے کے دروازے سے ٹیک لگائے کھڑا تھا ۔
” اسلام علیکم ۔۔ “
نظریں چرا کے وہ کہتی میرب کے کمرے کی طرف بڑھی تھی ۔
” وعلیکم السلام ، کون سے سبجیکٹس ہیں؟”
اس کے بھاری اواز میں استفسار کرنے پہ سماہر رک کے اسے حیرت سے دیکھنے لگی ، یہ شخص تو سیدھے منہ کسی سے بات نہیں کرتا ، کجا ابھی فرصت سے کھڑا وہ سماہر سے اس کے سبجیکٹس کا پوچھ رہا ہے ۔
” میتھس ۔ “
سماہر نے مختصر جواب دیا تھا ۔
” دکھاؤ؟”
ہاتھ آگے بڑھا کے وہ شاید سماہر کے ہاتھ میں موجود بکس ہی مانگ رہا تھا ۔ وہ پہلے چونکی تھی اور پھر ہاتھ میں موجود بکس اس کی طرف بڑھائی تھی جنہیں وہ تھام کے سنجیدگی سے دیکھ رہا تھا ، ہمیشہ کی طرح ماتھے پہ بلوں کا جال بچھا ہوا تھا جبکہ سماہر اپنی بھٹکتی نظروں کو اس کے سراپے سے چراتی عارفین کو دیکھنے لگی جو مسکرا کے اسے تسلی بخش انداز میں دیکھ رہی تھی۔
” میتھس بہت ڈرائی سبجیکٹ ہے “
اس کی بھاری اواز پہ وہ چونک کے دوبارہ سے مڑی تھی ۔
” میں جب بزنس پڑھ رہا تھا تب مجھے میتھس میں زیادہ انٹرسٹ نہیں تھا اتنا “
وہ پھر سے کہہ رہا تھا جبکہ سماہر حیرت کے سمندر میں غوطہ زن ہوتی کندھے اچکا گئی ، یہ شخص آج اسے حیران کرنے پہ تلا ہوا تھا ۔ اتنی لمبی گفتگو کرنا تو اس کی شان کے خلاف ہی رہا تھا ہمیشہ۔ لیکن شاید وہ جواب کا منتظر تھا تبھی فرصت سے سماہر کو دیکھ رہا تھا، دل کی دھڑکنیں جو اوپر نیچے ہوئی تھی ، اپنی دھڑکنوں کو سنبھالتی وہ جواب دینے لگی ۔
” مجھے پسند ہے میتھس ، انٹرسٹنگ ہے “
” مشکل نہیں لگتا ؟؟”
غور سے سماہر کو دیکھتا وہ ابرو اچکا کے پوچھ رہا تھا ۔
” مجھے مشکلیں پسند ہیں آئی تھنک، جو کوئی نہ کر سکے ، وہ میں کر جاؤں تو یہ بےحد انٹرسٹنگ ہے میرے لئے “
وہ سنجیدگی سے جواب دیتی میرب کے کمرے کے بند دروازے کو دیکھنے لگی ۔
‘ اس کھڑوس کزن کو میرے آج کیا ہو گیا ہے ، یا اللہ گھور بھی ایسے رہا ہے کہ بندے کو خود ہی لگنے لگتا کہ کوئی غلطی تو نہیں کر دی میں نے ‘
سوچوں کا سلسلہ بھی بنتا جا رہا تھا جب میران کی آواز پہ اسے پھر سے مڑنا پڑا۔
” کھبی کوئی پرابلم ہو تو مجھ سے ہیلپ لے سکتی ہو “
بکس اس کی طرف بڑھاتا وہ کہہ رہا تھا جبکہ سماہر کی آنکھوں میں حیرت ابھری تھی ، یہ شخص اسے آج حیران ہی کر رہا تھا لیکن سر جھٹک کے تیزی سے بکس اس کے ہاتھ سے لیتی ، وہ اثبات میں سر ہلاتی میرب کے کمرے کی طرف مڑی تھی ۔
” یا اللہ اس کھمبے نما کھڑوس کو کیا ہو گیا ہے “
زیر لب بڑبڑاتی وہ جھپاک سے کمرے میں داخل ہوئی تھی جبکہ میران پرسوچ نظروں سے اسے دیکھتا رہا جب تک وہ نظروں سے اوجھل نہ ہوئی ، نظر کچن میں کھڑی عارفین پہ گئی جو اپنے ہی بیٹے کو مسکراتی آنکھوں سے دیکھ رہی تھی اور نظریں چرا کے وہ اپنے کمرے میں چلا گیا ۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤