Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj NovelR50730

Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj NovelR50730 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Last Episode

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Last Episode

Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Last Episode

جیسے جیسے شادی کے دن قریب آتے جا رہے تھے، ویسے ویسے گھر کی چہل پہل اور رونق میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔خیرن بوا شادی کی تیاریوں میں خوب ہاتھ بٹا رہی تھیں اور ساتھ ہی ساتھ لڑکیوں کی بھی اچھی خاصی شامت آئی ہوئی تھی۔عنادل اور ارفع بھی اب یہیں ہوتی تھیں۔جیسے ہی اعظم احمد اپنے کمرے اور باقی مرد آفس کے لئے نکلتے، یہ ساری کبھی ایک پورشن تو کبھی دوسرے پورشن میں دھما چوکڑی مچائے رکھتی تھیں۔مرتضی اور فیروز بھی ان کے پیچھے پیچھے ناک میں دم کیے رہتے یا پھر خیرن بوا کو جھوٹی سچی لگا کر ان کے پیچھے لگائے رکھتے۔ابھی وہ ساری ڈھولک لئے چھوٹے چچا کے پورشن میں جمع تھیں۔خیرن بوا اور عقیلہ بیگم بھی وہیں تھیں۔
ایمان معمول سے زیادہ خاموش بیٹھی تھی۔وہ بار بار اس سے ان کے ساتھ شامل ہونے کو کہتیں مگر مسکرا دیتی۔اسکے لبوں کی مسکراہٹ آنکھوں میں ٹھہری اداسی سے میل نہیں کھا رہی تھیں۔آج صبح جب غزنوی نے اس سے کسی بات کو لے کر بحث کی تو وہ غصے میں ہاتھ میں پکڑی شرٹ وہیں بیڈ پہ پھینکتی روم سے نکل آئی تھی غزنوی اس کے اس انداز پہ بپھر گیا تھا اور اس سے پہلے کہ وہ کمرے سے نکلتی وہ تیزی سے اسکے سامنے آ کر اسکا راستہ روک گیا۔دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے یوں کھڑے تھے جیسے اگر ایک بھی جھکا تو ٹوٹ جائے گا۔ایمان کی نازک کلائی غزنوی کی گرفت میں تھی۔شدید غصے کے باعث غزنوی کے ماتھے کی رگ ابھر آئی تھی اور اسکی یک دم سرخ پڑھتی آنکھیں ایمان کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسنی دوڑا گئی۔سختی سے لب بھینچے غزنوی شاید اپنے غصے پہ قابو پانے کی کوشش کر رہا تھا۔ایمان کو ایک پل کو لگا جیسے وہ اسے اٹھا کر پٹخ دے گا لیکن اس کے خوف کے باوجود ایمان نے اپنی نظروں کا زاویہ نہیں بدلا تھا اور اسی طرح اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑی رہی۔
“یہ میری تمھیں لاسٹ وارننگ ہے۔”
وہ اسکا ہاتھ جھٹکے سے چھوڑتا صوفے کیطرف بڑھا۔
“یہ شرٹ استری کرو۔”
وہ یوں گویا ہوا جیسے ان کے بیچ سب نارمل ہو۔ایمان بیڈ پہ رکھی شرٹ کی طرف آئی۔شرٹ اٹھا کر مڑی تو غزنوی صوفے پہ بیٹھا شوز اتار رہا تھا۔وہ اسکی جانب متوجہ نہیں تھا۔اس نے غزنوی کے غصے کی پرواہ کیے بغیر شرٹ بیڈ پہ واپس رکھی اور فورا سے پیشتر کمرے سے نکل گئی۔اپنی دلیری دکھانے کی کوشش میں وہ اسکی بات سے انکار کر آئی تھی اور اب ان سب کے بیچ بیٹھی اپنی حرکت پچھتا رہی تھی۔ ____________________________________
اپنے پیچھے تیز آواز سے بند ہوتے دروازے کی جانب غزنوی نے پلٹ کر دیکھا تھا۔بند دروازے سے ہوتی اس کی نظر واپس بیڈ پہ پڑی شرٹ پہ پڑی۔
“گڈ۔۔!! محترمہ میرے انداز مجھ پہ ہی آزما رہی ہے۔”
وہ خود سے بولا۔۔ساتھ ہی لبوں پہ پھیلتی مسکراہٹ اسکے غصے کے پل بھر میں اُڑنچھو ہونے کا پتہ دے رہی تھی۔
“تو کیا خیال ہے محترم غزنوی احمد۔۔سیر کو تو سوا سیر ہی ہوتا ہے۔”
کچھ سوچ کر وہ کمرے سے نکل آیا۔گھر میں بالکل خاموشی تھی۔اس نے سیڑھیوں سے اترتے ہوئے شگفتہ کو پکارا۔شگفتہ کچن میں تھی اس کی آواز سن کر دوڑی آئی۔
“جی صاحب؟”
شگفتہ قریب آئی۔
“کہاں ہیں سب؟”
وہ آخری سیڑھی پہ رک گیا۔
“وہ چھوٹے چچا کے گھر ہیں۔”
شگفتہ نے جواب دیا۔
“جا کر ایمان کو بلا کر لاو۔۔”
آواز میں غصے کی آمیزش کرتا وہ واپس سیڑھیاں چڑھ گیا۔
“جی صاحب۔۔”
وہ کچن کی طرف بڑھ گئی۔
“وہاں کہاں جا رہی ہو؟”
غزنوی شگفتہ کچن کی طرف جاتے دیکھ کر دھاڑا۔
“جج۔۔جی جی۔۔۔۔”
شگفتہ باہر کی طرف بھاگی۔ __________________________________________
“اوئے کہاں گم ہو؟”
یہاں سب کے بیچ موجود ہونے کے باوجود اسکا دھیان غزنوی کے اردگرد منڈلا رہا تھا۔اسے گم سم دیکھ کر سحرش نے اسکا کندھا ہلا کر اسے متوجہ کیا تھا۔
“آں۔۔۔!! کہیں نہیں۔۔۔”
وہ چونک کر بولی۔
“ارے بھئی کچھ تو ہے جسکی پردہ داری ہے۔”
سحرش نے اسے چھیڑا۔ایمان نے جوابا صرف مسکرانے پہ اکتفاء کیا۔اس دوران لاریب کے اچانک کھڑے ہو کر ٹھمکے لگانے پہ وہ دونوں اسکی طرف متوجہ ہوئیں۔شمائلہ بیگم بھی وہیں موجود صائمہ پھپھو کے ساتھ باتوں میں مگن تھیں۔وہ سحرش کو اپنی شاپنگ کے متعلق بتا رہی تھی کہ اندر آتی شگفتہ پہ اسکی نظر پڑی۔شگفتہ بھی اسے ہی دیکھ رہی تھی۔پھر اس نے آواز دے کر اشارے سے اسے باہر بلایا اور خود بھی باہر نکل گئی۔ایمان سحرش کو بتاتی اٹھ کر باہر آ گئی۔
“کیا ہوا شگفتہ؟؟”
ایمان نے شگفتہ کے اسقدر رازداری برتتے انداز پہ اسے حیرت سے پوچھا۔
“باجی وہ چھوٹے صاحب بڑے غصے میں ہیں اور انہوں نے مجھے آپکو بلانے بھیجا ہے۔”
شگفتہ نے ایسے کہا جیسے کوئی پہاڑ سر کر لیا ہو۔
“اچھا تم جاو۔۔میں آتی ہوں۔”
ایمان نے اسے ٹالا اور پلٹ کر جانے لگی۔
“ارے نہیں باجی۔۔آپ میرے ساتھ چلیں ورنہ میری شامت آ جانی ہے۔انہوں نے کہا ہے آپکو ساتھ لے کر آوں۔”
ایک تو پہلے ہی وہ اپنے کارہائے نمایاں پہ پچھتا رہی تھی اور اب شگفتہ کا انداز اسے مزید ہولائے دے رہا تھا۔
“اچھا چلو۔۔۔”
ایمان دل کڑا کر اسکے آگے آگے ہو لی۔
“بہادر بنو ایمان۔۔۔تم بھی ایمان غزنوی احمد ہو، اب تمھیں ڈرنا نہیں ہے چاہے کچھ بھی ہو جائے۔اب اس محمود غزنوی، چنگیز خان اور ہٹلر کو بتانا ہے کہ تم اب اس سے خائف نہیں ہو۔”
دل ہی دل میں خود کو مضبوط کرتی وہ سیڑھیاں چڑھنے لگی۔دل کو ڈھارس باندھنے کے لئے اس پلٹ کر دیکھا، شگفتہ غائب تھی۔
“یہ کہاں گئی؟”
اس نے اردگرد نظر دوڑائی۔
“کمال کرتی ہو ایمان اب کیا شگفتہ تمھارے ساتھ روم میں جائے گی۔اب آگے طوفان کا سامنا تم نے خود کرنا ہے۔”
اس نے سوچا اور دستک دیئے بغیر روم میں داخل ہو گئی۔
“آپ نے بلایا تھا؟”
وہ سیدھی اسکے سر پہ جا کھڑی ہوئی۔انداز ایسا تھا جیسے کوئی قلعہ فتح کر لیا ہو۔
“جی جی بیگم صاحبہ۔۔! اس ناچیز نے ہی آپکو بلانے کی گستاخی کی ہے۔”
غزنوی نے یہ کہتے ساتھ ہی اسے بازو کے پکڑ کر اپنے جانب کھینچا۔وہ توازن برقرار نہیں رکھ پائی اور اسکے ساتھ آ لگی اور اس سے پہلے کہ ایمان اس سے الگ ہوتی وہ اس پہ اپنی گرفت مضبوط کر گیا۔ایمان نے اسکے چہرے پہ غصہ تلاش کرنا چاہا مگر وہاں تو غصے کا شائبہ تک نہ تھا۔ایمان کا ڈر کہیں دور جا سویا۔
“اللہ پوچھے تمھیں شگفتہ۔۔۔”
وہ دل میں شگفتہ کو اچھی خاصی صلواتیں سنانے لگی۔
“یہ کیا طریقہ تھا؟”
غزنوی نے اسکی ننھی سے ناک کو دبا کر چھوڑا۔وہ ریلیکس ہوتی اس سے الگ ہوئی لیکن غزنوی کے بازو ابھی بھی اس کے گرد حصار بنائے ہوئے تھے۔
“کیا؟؟”
وہ روٹھے انداز میں آنکھیں گھماتی بولی تھی۔
“یہ تمھارے نخرے کچھ زیادہ بڑھ نہیں گئے؟”
ایمان کے من موہنے چہرے کے گرد جھولتی لٹ کو غزنوی نے انگلی پہ لپیٹتے ہوئے پوچھا۔
“میں نے تو نخرے نہیں کیے لیکن آپ بہت فری ہو رہے ہیں۔”
ایمان نے اسکے سینے پہ انگلی رکھ کر اسے پیچھے کیا۔
“میں اب آپکے ساتھ فری نہیں ہوں گا تو کس کے ساتھ ہوں گا۔اگر آپکو اچھا نہیں لگتا تو مجھے بتایئے میں اسکے ساتھ فری ہو جاوں گا جس سے آپ کہیں گی۔”
غزنوی نے شرارت بھرے لہجے میں کہا۔اس کا گھمبیر لہجہ۔۔ ایمان کا دل ڈوب کر ابھرا۔
“میں آپکو اس قابل نہیں چھوڑوں گی کہ کسی اور کے ساتھ فری ہوں۔”
ایمان نے اپنے دل کی بےترتیب دھڑکنوں پہ قابو پاتے ہوئے اسکی آنکھوں میں جھانکا۔
“جب بھی کوشش کی ہے منہ کی کھائی ہے۔”
وہ ہنسا تھا۔۔۔ایمان نے اپنی بند مٹھی اسکے کشادہ سینے پہ ماری۔غزنوی کی آنکھوں میں محبت کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر اسے اپنے ساتھ بہائے لے جانے لگا۔وہ گھبرا کر اٹھ کھڑی ہوئی۔
“بھاگنا تمھارے لئے ہمیشہ سے آسان رہا ہے۔”
وہ صوفے سے پشت ٹکاتا گویا ہوا۔
“میں کیوں بھاگوں گی آپ سے؟”
وہ پلٹ کر سادہ سے لہجے میں کہتی دروازے کی جانب بڑھی۔
“اسے بھاگنا نہیں کہتے تو اور کیا کہتے ہیں۔”
غزنوی کا لہجہ طنزیہ ہوا۔ایمان نے پلٹ کر ایک سرسری سی نظر اس پہ ڈالی۔
“اب نہیں بھاگوں گی۔”
ایک گہری مسکراہٹ اسکی جانب اچھالتی وہ کمرے سے نکل گئی جبکہ اس واضح اقرار پہ غزنوی کے لبوں پہ مسکراہٹ آن ٹھہری۔ ______________________________________________
آج ایمان اور ملائکہ صبح ہی سے چھوٹے چچا کے پورشن میں تھیں۔شادی کی تیاریاں اپنے آخری مراحل میں تھیں۔وہ دونوں جیسے ہی فارغ ہوتیں ان کی مدد کے لئے دوڑی جاتیں۔شادی میں پندرہ دن باقی تھے۔اعظم احمد نے شادی کے تمام فنکشنز اپنے پورشن میں ہی رکھے تھے۔باقی سب بھی وہیں اکٹھی ہوتی تھیں۔کام بھی کرتیں اور ہلا گلا بھی مچائے رکھتی تھیں۔جہاں جہاں وہ موجود ہوتیں فائقہ ان کے پیچھے پیچھے رہتی اور کام کے دوران انہیں تنگ کرتی رہتی۔کبھی چیزیں غائب کر دیتی تو کبھی ان کے کاموں میں کیڑے نکالتی۔وہ سب اسکی اس گھر میں آخری شرارتوں کا سوچ کر برداشت کرتیں لیکن چچی باقاعدہ اسے اسکی غیر سنجیدگی پہ ڈانٹتی اور ٹوکتی رہتیں مگر وہ فائقہ ہی کیا جو سنجیدہ ہو جائے۔ان کی نصیحت ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دیتی اور ہنستی رہتی۔سبھی اسکی مسکراہٹوں کے دائمی ہونے کی دعا کرتیں۔
اس وقت بھی وہ ساری مل جل کر کام نبٹا رہی تھیں کہ ملائکہ ایمان سے گھر جانے کا کہتی کمرے سے نکل آئی۔
“ملائکہ۔۔!”
وہ لان سے گزر کر اندر جا رہی تھی کہ غزنوی کی آواز پہ اس نے پورچ کی جانب دیکھا۔وہ دونوں ہاتھوں میں ڈھیر سارے شاپرز پکڑے ہوئے تھے۔وہ رک کر اسکی طرف بڑھی۔
“السلام و علیکم بھائی۔۔!!”
ملائکہ نے سلام کیا۔
“وعلیکم السلام۔۔!! یہ پکڑو ذرا۔۔”
غزنوی نے کچھ شاپرز اسکی طرف بڑھائے جو ملائکہ نے تھام لئے۔
“آپ نے تو آج کافی شاپنگ کر لی۔”
وہ شاپنگ بیگز میں جھانکتی ہوئی بولی۔
“ہاں آج جلدی فارغ ہو گیا تھا تو مارکیٹ کا چکر لگا لیا۔”
وہ دونوں آگے پیچھے لاونج میں داخل ہوئے۔شمائلہ بیگم بھی وہیں موجود تھیں۔انہوں نے غزنوی کو شاپنگ بیگز سے لدا پھدا دیکھکر نرمی سے مسکرائیں۔
“کیا ہوا جو یہ لڑکا کسی کی بات مان لے۔۔اپنی مرضی کا مالک ہے۔”
وہ بڑابڑائیں۔۔غزنوی بلند آواز میں سلام کرتا ان کے پاس آ بیٹھا۔
“آج آفس نہیں گئے تھے کیا، فرصت کیسے ملی میرے بیٹے کو؟”
انہوں نے مسکراہٹ دباتے ہوئے پوچھا۔وہ ان کے لہجے میں چھپا طنز محسوس کر کے مسکرا دیا۔
“آج آفس سے وقت پہ نکل آیا تھا تو سوچا شاپنگ کر لی جائے۔”
غزنوی نے ایک شاپر ان کی طرف اور دوسرا شاپر ملائکہ کی طرف بڑھایا۔
“امی لگتا ہے بھائی آج سارا مال ہی خرید لائے ہیں۔”
ملائکہ نے شاپنگ بیگ تھامتے ہوئے شمائلہ بیگم کی طرف دیکھا۔شمائلہ بیگم نے اثبات میں سر ہلایا۔
“یہ کچھ اپنی اور ایمان کے لئے۔”
وہ سر کھجاتا بولا۔
“تھینک یو بھائی۔۔۔اتنا خوبصورت ڈریس۔”
ملائکہ کی آنکھیں خوشی سے چمک رہی تھیں۔
“ویلکم۔۔۔اب ایسا کرو کہ یہ باقی شاپرز کمرے میں رکھ آو۔”
غزنوی نے حکم نامہ بھی جاری کیا۔ملائکہ نے شاپرز اٹھائے پلٹ گئی۔اسی دوران شگفتہ پانی کا گلاس لئے لاونج میں داخل ہوئی۔
“شگفتہ یہ باقی تم اٹھا لاو۔”
ملائکہ نے شگفتہ سے کہا تو سر ہلاتی گلاس غزنوی کے سامنے رکھتی اس کے ساتھ ہو لی۔غزنوی کی نظریں مطلوبہ شخص کی تلاش میں تھیں مگر وہ کہیں دکھائی نہیں دے رہی تھی۔
“ایمان کہاں ہے؟”
بلاآخر اس نے شمائلہ بیگم سے پوچھ لیا۔
“وہ تمھاری چچی کی طرف گئی ہے۔”
شمائلہ بیگم نے بتایا۔
“اچھا۔۔۔ذرا میرے لئے ایک کپ چائے بھجوا دیں۔”
وہ اٹھ کھڑا ہوا۔
“اچھا۔۔۔اور ہاں یاد آیا۔۔مصطفی کئی بار کال کر چکا ہے کہہ رہا تھا تم اسکا فون نہیں اٹھا رہے ہو۔کال کر لو اسے۔”
انہوں نے یاد آنے پر اس سے کہا۔
“جی کر لیتا ہوں۔۔میں مال میں تھا اور موبائل گاڑی میں ہی رہ گیا تھا اس لئے ریسیو نہیں کر سکا۔”
اس نے پلٹ کر کہا اور پھر تیزی سے سیڑھیاں چڑھ گیا۔شمائلہ بیگم اس کے چائے بنانے کے لئے اٹھ کھڑی ہوئیں۔ __________________________________________
شام کے قریب قریب وہ گھر میں داخل ہوئی۔تھکاوٹ کے باعث سیدھی اپنے کمرے میں آئی۔پورا کمرہ تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا۔اس نے سوئچ بورڈ ٹٹول کر لائٹس آن کیں اور پلٹ کر دروازہ بند کرتی اندر آئی۔کمرہ روشن ہوتے ہی بید پہ پڑے شاپنگ بیگز اسکی آنکھوں سے ٹکرائے۔اس کی حیرت میں اضافہ ہوا جب اس نے ایک ایک شاپر کھول کر دیکھا۔تین بے حد خوبصورت اور آنکھوں کو خیرہ کر دینے والے ملبوسات، میچنگ جیولری، سینڈلز، کلچز اور پرفیومز۔۔۔باقی دو شاپرز میں مردانے کپڑے اور جوتے تھے۔سبھی برانڈڈ اور خوبصورت تھا۔
“صاحب بہادر نے تو اچھا خاصا خرچہ کر ڈالا۔”
وہ تمام چیزوں پہ توصیفی نظر ڈالی اور غزنوی کی پسند کی کھلے دل سے داد دیتے ہوئے تمام شاپرز اٹھا کر الماری میں رکھے۔کبھی کبھی غزنوی کی جانب سے دلایا گیا محبت کا احساس اسے بہت معتبر کر دیتا تھا، دل میں پھول سے کھل جاتے اور ان پھولوں کی مہک سے اسکی زندگی بھی مہکنے لگتی تھی۔بےشک وہ کبھی کبھی اسکے لہجے کی سختی اسکا دل بھی پتھر کر دیتی تھی، اسکا دل ٹوٹ جاتا تھا، ساری دینا سے خفا ہو جاتا تھا لیکن جب وہ اسکے دل کی تاروں کو چھو آتا تو وہ سب کچھ بھلا دیتی۔۔۔اپنی ذات کو بھی جسکی خاطر وہ اسکے سامنے تن کر کھڑی ہونے لگی تھی۔اس کی محبت سے مخمور وہ نماز ادا کرنے اٹھ کھڑی ہوئی۔مغرب پڑھ کر وہ کمرے سے باہر نکلنے ہی والی تھی کہ تیزی سے اندر داخل ہوتے غزنوی سے ٹکرا گئی۔
“اففف۔۔!!”
ایمان نے اپنی ناک پہ ہاتھ رکھا جو غزنوی کے فولادی سینے سے ٹکرائی تھی۔درد کی شدت سے آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے تھے۔
“اوہ۔۔۔!! ٹھیک ہو تم؟”
غزنوی نے اسے فوراً سنبھالا تھا۔ایمان نے ناک پہ دباؤ بڑھاتے ہوئے سر اثبات میں ہلایا۔آنسو ڈھلک کر چہرہ بھگو گئے تھے۔۔غزنوی نے بغور اسکی طرف دیکھا۔پیلے رنگ کی پھولدار قمیص پہ سفید ڈوپٹہ شانوں پہ پھیلائے اسی کی جانب دیکھ رہی تھی۔سرخ و سپید رنگت پیلے رنگ میں مزید نکھر گئی تھی۔
“آرام سے نہیں چل سکتی تھی۔”
غزنوی نے خود پہ ہوتے اس جادو کو توڑا جو اسے لپیٹ میں لینے لگا تھا۔
“میں تو آرام سے ہی چل رہی تھی۔”
وہ بسورتے ہوئے بولی اور آنسو صاف کیے۔
“ویسے ایک بات تو بتاؤ یہ تلوار جیسی ناک لئے طوفان میل بنی کہاں جا رہی تھی، سینہ چیر دیا لے کے۔”
غزنوی نے مسکراتے ہوئے اسکی ناک کو پکڑ کر ہلکے سے دبایا۔ایمان نے اپنی بند مٹھی اسکے سینے سے ٹکرائی۔
“اور آپ خود کون سی میل پہ سوار تھے، یا پھر جان بوجھ کر مجھ سے ٹکرا رہے تھے؟”
وہ اس سے فاصلے پہ کھڑی ہوئی۔
“ارے بیگم صاحبہ ہم تو آئے ہی اس دنیا میں آپ سے ٹکرانے کے لئے ہیں۔”
غزنوی دھیرے سے کہتا اپنے اور ایمان کے بیچ موجود فاصلے کو مٹا گیا اور اپنے مخصوص انداز میں اس کے چہرے پر پھونک ماری۔ایمان نے آنکھیں بند کیں۔وہ یہ نرم جھونکے سہنے کی عادی ہو گئی تھی اس لئے اس نے کچھ بھی کہے بغیر اس کے پاس سے نکلنا چاہا۔
“بیڈ پہ شاپنگ بیگز رکھے تھے۔”
غزنوی نے اسے روکا اور سوالیہ انداز میں بیڈ کیطرف اشارہ کیا۔
“الماری میں رکھ دیئے ہیں۔”
ایمان نے بتایا۔
“تم نے دیکھی، پسند آئی؟”
غزنوی نے گھڑی اتار کر سائیڈ ٹیبل پہ رکھی۔
“جی دیکھی بھی اور پسند بھی آئی۔ویسے کمال کی بات ہے آپ جلد فارغ ہو گئے “فالتو” لوگوں کے لئے۔”
ایمان نے اسکا بغور جائزہ لیا۔ایمان کے لہجے میں طنز محسوس کرتا وہ دراز کھولتا وہیں تھم گیا۔
“یہاں آؤ ذرا۔۔۔”
غزنوی نے اسے اشارہ کیا۔ایمان نفی میں گردن ہلاتی نہایت پھرتیلے انداز میں کمرے سے نکلی تھی جبکہ وہ سیٹی پہ کوئی دھن بجاتا واش روم کی جانب بڑھ گیا۔ _____________________________________
آج مہندی تھی اس لئے گھر میں صبح سے ہی چہل پہل کا سماں تھا۔لان کو مہندی کے فنکشن کے لئے سجایا گیا تھا۔سبھی لڑکیاں صبح سے ہی تیاری میں مگن تھیں۔ہر کام مکمل ہونے کے باوجود کسی کا ڈوپٹہ نہیں مل رہا تھا تو کوئی اپنا ڈریس کہیں رکھ کر بھول گئی تھی۔ایک اودھم سا برپا تھا پورے گھر میں۔
“ائے کوڑھ مغز۔۔تجھے کہا ہے کہ یہ پھول اندر لے جا مگر تو نے تو یہیں ڈھیر لگا دیا۔عقل کیا گھانس چرنے گئی ہوئی ہے تیری۔”
خیرن بوا نے شگفتہ کو گلاب کے پھول وہیں ٹیبل پہ رکھ کر جاتے دیکھ کر اسے خوب لتاڑا۔آج صبح ہی سے بیچاری کی شامت آئی ہوئی تھی۔
“بوا جی باہر آپ نے ہی کہا تھا کہ اندر رکھ دو تو میں نے یہاں رکھ دیئے۔”
شگفتہ نے سارا ملبہ ان پہ ڈال دینا چاہا۔
“ائے باولی ہوئی ہے کیا۔۔بہری ہو گئی ہے۔میں نے کہا تھا کہ اندر کمرے میں پرخہ کو دے کر آ۔”
خیرن بوا نے خود پہ الزام لگتے دیکھا تو اسے آڑھے ہاتھوں لیا۔
“اب میرا منہ کیا تاک رہی ہے۔۔۔جا لے کر جا اندر۔”
شگفتہ کو وہیں جمے دیکھ کر وہ مزید تپ گئیں۔
“جا رہی ہوں۔”
شگفتہ نے ٹوکرا اٹھایا اور پرخہ کو ڈھونڈتی آگے بڑھی۔
“خیرن کیوں اپنا جی جلاتی ہو، بچیاں دیکھ لیں گی خودی۔”
عقیلہ بیگم اپنا سفید بڑا سا چکن کا ڈوپٹہ سر پہ ٹکاتی لاونج میں داخل ہوئیں اور خیرن بوا کو شگفتہ سے الجھتے دیکھ کر کہا۔
“ائے ان پہ ڈال دیا تو ہو گیا کام۔۔اوپر سے یہ شگفتہ۔۔کمبخت ایک نمبر کی کام چور ہے۔چاہتی ہے کہ ہر وقت نٹھلی بیٹھی رہے۔”
خیرن بوا ناک چڑھا کر اوپر جاتی شگفتہ کیطرف دیکھا۔عقیلہ بیگم سر ہلاتی چپ کر گئیں۔انہیں معلوم تھا کہ اس بحث کا کوئی اختتام نہیں ہو گا۔ _________________________________________
گوٹہ کناری لگے بڑے سے پیلے ڈوپٹے کو سنبھالتی وہ نیچے اتر رہی تھی کہ آخری سیڑھی پہ پاوں مڑا اور اس سے پہلے کہ وہ گرتی کسی کے مضبوط بازوں نے اسے سنبھالا۔
“ارے ارے بیگم صاحبہ۔۔۔سنبھل کر چلیے۔”
غزنوی کی گھمبیر آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی۔
“افف۔۔۔ایک تو آپ میرے لئے یہ مصیبت غرارہ خرید لائے ہیں۔گز بھر کا تو ڈوپٹہ ہے۔اوپر سے بیوٹیشن کو اپنے نادر مشورے کیوں دیئے۔اچھا بھلا اسے چوٹی بنانے کا کہا تھا۔”
ایمان ایک ہاتھ سے ڈوپٹہ سنبھالتی اور دوسرے ہاتھ سے بکھرے سلکی بال۔۔جو چہرے پہ بکھر آئے تھے، تپے ہوئے لہجے میں بولی۔
اسکی بھوری آنکھوں میں کاجل کی گہری لکیر۔۔۔غزنوی نے نظروں کا زاویہ بدلا۔
“نیچے اترو۔۔۔”
غزنوی نے ہاتھ اسکی طرف بڑھایا جو ایمان نے تھام لیا اور نیچے اتری۔سفید کلف لگے شلوار سوٹ میں وہ بہت ہینڈسم لگ رہا تھا۔
“کیوں لگ رہا ہوں نا دولہا؟”
ایمان کو اپنی طرف محو انداز میں دیکھتا پا کر اسکی جانب جھک کر شرارتی انداز میں بولا۔
“اللہ رے یہ خوش فہمی۔۔۔کس نے کہہ دیا آپ سے ایسا؟”
ایمان نے جانے لگی۔
“آپکی آنکھوں نے۔”
غزنوی نے اسکا ہاتھ تھام کر اسے روکا۔وہ اسکے سامنے کھڑا ہوا اور اسکی آنکھوں جھانکتا گھمبیر لہجے میں گنگنایا۔
سب بتاتی ہیں ان کہی ، آنکھیں
دل کی کرتی ہیں مخبری، آنکھیں
جھانک لیتی ہیں دل کے اندر تک
جب بھی ملتی ہیں باہمی آنکھیں
اک غزل آج اُن پہ کہہ ڈالوں
کہہ رہی ہیں وہ جھیل سی آنکھیں
ہے خبر، لوٹنا نہیں اُس کو
پھر بھی ہیں راہ دیکھتی، آنکھیں
در حقیقت ہمارے اندر کی
بس دکھاتی ہیں روشنی آنکھیں
اُن میں کچھ بات ہے الگ یوسف
ورنہ دنیا میں اور بھی آنکھیں۔۔۔۔۔
ایمان سے وہاں رکنا محال ہو گیا مگر اسکا ہاتھ اب بھی غزنوی کے مضبوط ہاتھ میں تھا۔
“ایمان۔۔۔۔۔!!”
اسی اثناء میں ملائکہ اسے پکارتی اندر کی جانب آ رہی تھی۔ایمان ہوش میں آئی۔
“چھوڑیں غزنوی۔۔۔”
ایمان نے دھیرے سے کہتے ہوئے اپنا ہاتھ چھڑانا چاہا۔
“کیا۔۔۔۔؟؟”
وہ شریر ہوا۔
“میرا ہاتھ۔۔۔”
ایمان نے التجائی نظروں سے اسکی جانب دیکھا۔وہ اسکا ہاتھ چھوڑ کر وہاں سے چلا گیا۔
“تم یہاں ہو۔۔۔چلو سب بلا رہے ہیں رسم شروع ہو گئی ہے۔”
ملائکہ اسکا ہاتھ پکڑتی باہر لان کی جانب بڑھ گئی۔ __________________________________________
رسمیں کافی دیر تک چلیں تھیں۔اب تھک کر سب اپنے اپنے کمروں میں تھے۔شگفتہ اپنے کوارٹر میں جاتے ہوئے اسے غزنوی کا پیغام دے کر گئی تھی اور اب وہ نیند کو دور بھگاتی اس کے لئے چائے بنا رہی تھی۔چائے لئے وہ کمرے میں آئی تو غزنوی صوفے پہ آنکھیں موندے بیٹھا تھا۔
“چائے۔۔۔”
ایمان کی آواز پہ وہ آنکھیں کھول کر سیدھا ہوا۔
“چائے بنا رہی تھی یا پائے؟”
وہ کپ ٹیبل پہ رکھ کر پلٹ کر جا رہی تھی جب غزنوی نے پیچھے سے اسے گھیرے میں لیا اور اسکے گال سے گال ٹکراتا بولا۔
“آپ کیا ہر وقت میرے ساتھ جنگ کی حالت میں رہتے ہیں۔”
ایمان نے کہا۔
“یہ محبت کی جنگ ہے اور تم جانتی ہو کہ محبت اور جنگ میں سب جائز ہے اور پھر میری تو محبت اور جنگ دونوں ساتھ ساتھ جاری ہیں۔”
غزنوی نے اپنی قید کا حصار اسکے گرد تنگ کیا۔
“میں باز آئی آپ کی ایسی جنگ نما محبت سے۔۔مجھے معاف رکھئیے۔”
ایمان کے ہاتھ اسکے مضبوط بازوں پہ جمے تھے۔
“کیوں۔۔۔؟؟”
غزنوی نے اسکی سنہری مائل ذلفوں میں چہرہ چھپایا۔
“کیونکہ مجھے نیند آ رہی ہے۔”
ایمان نے تھکاوٹ بھرے لہجے میں کہا۔
“اچھا ابھی تمھیں نیند آ رہی ہے اور فنکشن کے دوران جو تم مجھے اشارے کر رہی تھیں، وہ کیا تھا؟”
غزنوی کا انداز سنجیدگی لئے ہوئے تھا۔
“کیا۔۔۔میں؟؟ میں نے کب آپکو اشارے کیے؟”
حیرت کی زیادتی سے ایمان کی آنکھیں پھیل گئیں۔
“چلو اب نخرے مت کرو اور مان لو کہ تم مجھے اشارے کر رہی تھیں۔”
وہ ہنسی دباتے ہوئے بولا۔
“میں نے ایسا کوئی کام نہیں کیا۔۔ہاں البتہ آپ نے مجھے پریشان کیے رکھا، پورے فنکشن میں میرے باڈی گارڈ بنے رہے۔”
ایمان نے اس سے الگ ہونا چاہا مگر غزنوی کی گرفت مضبوط ہوتی جا رہی تھی۔
“بالکل غلط۔۔۔الٹا تم مجھ پہ اپنی یہ بندوق جیسی آنکھیں تانے ہوئے تھیں جیسے کسی دشمن گروہ سے میرا تعلق ہو۔”
غزنوی نے چہرے پہ معصومیت سجاتے ہوئے کہا۔
“اب اس وقت اس فضول بحث کا مقصد؟”
ایمان نے پلٹ کر اسکی طرف دیکھا جسکے چہرے پہ کچھ اور ہی رنگ بکھرے تھے۔
“میرا مقصد تو واضح ہے۔”
غزنوی نے اسکے سر سے سر ٹکرایا۔
“آپکا مقصد تو صرف مجھے تنگ کرنا ہے محبت کرنا نہیں۔”
ایمان نے نارضگی جتائی۔
“تم نے اقرار مانگا ہے….
تو سنو……!!
دل کے سچے جذبے…
اظہار کے محتاج نہیں ہوتے…
یہ تو وہ جذبے ہیں…
جو جگنو بن کر…
آنکهوں میں چمکتے ہیں…
ہونٹوں کے نرم گوشوں میں رہ کر..
دل میں بستے ہیں….
تم مجھ میں اس طرح سمائی ہو…
کہ جیسے…
تاروں میں چمک…
تتلی میں رنگ…
میرا تمہارا رشتہ اٹوٹ ہے….
جو جڑا رہے تو زندگی…..
اور ٹوٹ جائے تو موت………….!!
وہ اسکی آنکھوں میں دیکھتا گھمبیر لہجے میں کہتا گیا اور وہ اسکی آنکھوں کے حصار میں جکڑی اسکے حرف حرف پہ ایمان لے آئی۔
“آج بھاگنا نہیں ہے؟”
کچھ پل یونہی خاموشی سے بیت گئے تو غزنوی نے پوچھا۔ایمان نے نفی میں گردن ہلائی اور اسکے کشادہ سینے سے لگ کر آنکھیں موند گئی۔
“مجھے آپکی محبت کے حصار سے کبھی نہیں بھاگنا۔”
وہ دھیرے سے بولی تھی۔
“میں بھاگنے دوں گا بھی نہیں۔”
ایمان نے اسکی طرف دیکھا تو غزنوی کے مسکراتے لب اسکی شفاف پیشانی کو چھو گئے۔
“اب لڑیں گے نہیں نا؟”
ایمان نے اس یقین دہانی چاہی۔
“نہیں۔”
غزنوی نے نفی میں سر ہلایا۔
“اور میرے کاموں میں کیڑے بھی نہیں نکالیں گے؟”
اس نے ایک اور وعدہ چاہا۔
“نہیں۔”
وہ اسکا چہرہ ہاتھوں پہ لئے بولا۔ایمان مسکرائی۔
“یار ان کھلے بالوں میں تو تم بالکل چڑیل لگ رہی ہو۔آئیندہ بال کھلے مت چھوڑنا۔”
غزنوی اسے سر تا پیر گھورتے ہوئے بولا۔
“اور آپ خود کیا ہیں۔۔اکڑو جن۔۔۔”
ایمان نے اپنا بدلہ چکایا۔
“اچھا۔۔۔ٹھہرو۔۔۔”
غزنوی نے اسے پکڑا۔۔
“کیا ہوں میں۔۔۔۔؟؟”
غزنوی نے پوچھا۔
“شہزادہ گلفام۔۔۔”
وہ اسکے تیور دیکھ کر تیزی سے بولی۔
“ہیم۔۔۔۔؟؟”
غزنوی نے گرفت مضبوط کی۔
“نہیں نہیں پرنس چارلس۔۔۔”
ایمان نے ہنستے ہوئے کہا۔
“کیا۔۔۔۔۔؟؟”
غزنوی نے وارننگ دیتے ہوئے پوچھا۔
“آپ غزنوی ہیں۔۔۔میرے غزنوی۔”
اس قدر واضح اظہار۔۔غزنوی مسکرا دیا۔۔۔۔وارننگ کام کر گئی تھی۔وہ اسکے چہرے پہ جھکا تھا۔ایمان کے من موہنے چہرے پہ رنگ بکھرے جنھیں وہ اپنے لبوں سے چننے لگا۔دونوں کے بیچ خاموشی گہری آن ٹھہری اور اس خاموشی میں صرف محبت کلام کر رہی تھی۔
ختم شد۔۔۔⁦

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *