Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj NovelR50730 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode12
No Download Link
634K
18
Rate this Novel
Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode01 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode02 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode03 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode04 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode05 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode06 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode07 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode08 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode09 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode10 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode11 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode12 (Watching)Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode13 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode14 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode15 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode16 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode17 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Last Episode
Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode12
Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode12
“السلام وعلیکم شاہ گل۔۔!! کیسی ہیں آپ؟”
ایمان فون کان سے لگائے لاونج میں آئی۔غزنوی بھی وہیں صوفے پہ آنکھیں بند کیے محو استراحت تھا۔ایمان کی آواز سن کر آنکھیں کھول کر ایک نظر اسکی جانب دیکھا اور پھر دوبارہ آنکھیں بند کرلیں۔آج سنڈے تھا تو وہ گھر پہ ہی تھا۔
“وعلیکم السلام۔۔!! الحمداللہ میں بالکل ٹھیک ہوں۔تم سناؤ۔۔”
شاہ گل نے اس سے پوچھا تھا۔
“یہاں سب ٹھیک ہے۔۔شاہ گل آپ مصطفیٰ بھائی کو کب بھیجیں گی مجھے لینے۔”
وہ کنکھیوں سے غزنوی کی طرف دیکھتے ہوئے بولی۔۔وہ جانتی تھی کہ اسکےکان اسی کی جانب لگے ہیں۔
“یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں شاہ گل۔۔کب ہوا یہ۔۔۔اور بابا۔۔بابا ٹھیک تو ہیں نا؟”
اسکے سوال کے جواب میں شاہ گل نے اسے جو بتایا وہ سن کر وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔غزنوی نے پٹ سے آنکھیں کھول کر اسے دیکھا۔ایمان کے چہرے سے پریشانی ہویدا تھی اور آنکھوں میں تیزی سے پانی جمع ہونے لگا تھا۔ہاتھوں کی کپکپاہٹ اور خاموش لب۔۔۔اسے لگا وہ ابھی گر جائے گی۔وہ صوفے کو مضبوطی سے تھامتے ہوئے بیٹھ گئی۔۔بھل بھل بہتے آنسوؤں سے اسکا چہرہ بھیگتا جا رہا تھا۔
“کیا ہوا ایمان؟”
وہ قریب آیا۔۔مگر وہ گم سم سی اسکا چہرہ دیکھ رہی تھی۔کسی انہونی کا احساس غزنوی کی رگ و پے میں سرایت کر گیا۔اس نے فوراً اسکے ہاتھ سے موبائل لے کر کان سے لگایا۔
“السلام و علیکم شاہ گل۔۔۔کیا ہوا ہے؟؟ سب ٹھیک تو ہے نا؟”
غزنوی کی نظریں خاموش آنسو بہاتی ایمان پہ تھیں۔
“وعلیکم السلام۔۔بیٹا۔۔۔!! ایمان ٹھیک ہے؟”
عقیلہ بیگم نے اس سے ایمان کا پوچھا۔۔ان کے لہجے میں پریشانی تھی۔
“وہ تو سُدھ بُدھ کھوئے بیٹھی ہے۔۔آپ بتائیں تو صحیح، آخر ہوا کیا ہے؟”
“بابا۔۔۔۔!!”
ایمان نے باپ کو پکارتے ہوئے بے طرح رو دی۔
“بیٹا یہاں سب ٹھیک ہے۔۔لیکن ایمان کے والد کو گولی لگی ہے۔ابھی کچھ دیر پہلے تمھارے داجی کو گاوں سے فون آیا تھا۔۔۔وہ جانے کی تیاری کر رہے ہیں۔”
عقیلہ بیگم نے بہت دکھ سے بتایا۔۔ایمان کے رونے کی آواز ان کے کانوں تک بھی پہنچ رہی تھی۔
“اوہ۔۔!! کب ہوا یہ اور کس نے۔۔؟”
غزنوی نے ایمان کیطرف دیکھا جو روئے جا رہی تھی۔
“جس نے بھی فون کیا تھا اس نے بتایا کہ رشید خان کا پھر سے بادشاہ خان کے اڈے پر آنا جانا شروع ہو چکا تھا۔بادشاہ خان کو ہی لوگوں نے دیکھا گولی چلاتے ہوئے۔باقی تفصیل تو وہاں جا کر ہی معلوم ہو گی۔تمھارے داجی بتا رہے تھے کہ رشید خان کی حالت کافی تشویشناک ہے۔تم ایمان کو لے جاؤ گاؤں۔۔اس کا وہاں موجود ہونا ضروری ہے۔اگر تم فارغ نہیں ہو تو اسے گل خان کے ساتھ بھیج دو۔”
عقیلہ بیگم نے تفصیل بتانے کے ساتھ ساتھ اسے اعظم احمد کا پیغام بھی دے دیا۔
“جی میں لے جاتا ہوں۔”
وہ دل میں آتے مزید سوال ترک کرتے ہوئے بولا۔
“ایمان کو حوصلہ دو۔۔اس کڑے وقت میں تمھارا ساتھ بہت اہمیت رکھتا ہے۔یہ ایک واحد رشتہ ہی رہ گیا اسکے پاس۔۔اللہ اپنا رحم کرے۔۔آمین۔۔!!”
عقیلہ بیگم ایمان کا دکھ اپنے دل پہ محسوس کر رہی تھیں۔
“آمین۔۔!!”
غزنوی نے دھیرے سے کہا۔
“تمھارے داجی تھوڑی دیر میں نکل رہے ہیں۔۔اچھا اللہ حافظ۔۔!”
عقیلہ بیگم نے الوادعی کلمات کہے۔
“شاہ گل۔۔!! کیا آپ بھی جا رہی ہیں؟”
غزنوی نے کچھ سوچ کر پوچھا۔
“ہاں بیٹا۔۔۔تمھارے داجی مجھے بھی چلنے کے لئے کہہ رہے ہیں۔”
عقیلہ بیگم نے گہری سانس خارج کی۔
“جی۔۔یہی مناسب رہے گا۔۔ہم بھی نکلتے ہیں۔۔اللہ حافظ۔۔!”
یہ کہہ کر اس نے موبائل ٹیبل پہ رکھا اور ایمان کے پاس بیٹھ گیا جو چہرہ ہاتھوں میں چھپائے ہچکیوں سے رو رہی تھی۔
“ایمان حوصلہ کرو۔۔”
اس نے ایمان کے چہرے سے ہاتھ ہٹائے۔۔اسکا آنسوؤں سے تر سرخ چہرہ اسکے سامنے تھا۔
“اللہ نے چاہا تو وہ ٹھیک ہو جائیں گے۔۔چلو شاباش آنسو پونچھو اور کچھ سامان رکھو ہم ابھی جائیں گے۔”
غزنوی نے اسکی پلکوں سے ٹوٹتے موتی اپنی پوروں سے چن لیے۔۔وہ فوراً اٹھی اور کمرے کی طرف بڑھ گئی۔غزنوی بھی گل خان سے بات کرنے اٹھ کھڑا ہوا۔۔پہلے اس نے شاہدہ کو اپنے جانے کا بتایا اور پھر گل خان سے گاڑی نکالنے کو کہا۔
اسکے بعد وہ واپس کمرے میں آیا تو ایمان سوٹ کیس تیار کر چکی تھی۔
“تم چینج کر لو۔۔۔”
غزنوی نے اسکے ملگجے کپڑوں کی طرف اشارہ کیا۔۔وہ خاموشی سے اٹھی، الماری سے اپنے کپڑے لئے اور واش روم کی طرف بڑھ گئی۔غزنوی نے اپنی پاکٹ سے موبائل نکالا اور کمیل کو کال کر کے اسے سارے بات بتائی۔
“یار کچھ پتہ نہیں۔۔۔کتنے دن لگ جائیں۔۔ویسے تو سہیل صاحب ہیں مگر ایک آدھ چکر لگا لینا تم بھی۔”
اس نے ایک ہاتھ سے بال سنوارتے ہوئے کہا۔
“فکر نہ کرو۔۔۔میں دیکھ لوں گا۔”
دوسری جانب سے کمیل نے کہا۔
“تھینک یو یار۔۔”
اس نے شکریہ ادا کرتے ہوئے موبائل جیب میں رکھ دیا۔اسی دوران ایمان بھی واش روم سے باہر آئی تھی۔اسے باہر آتے دیکھ کر غزنوی سوٹ کیس اٹھا کر باہر نکل گیا۔وہ بھی اسکے پیچھے آئی تھی۔ اسکے بیٹھتے ہی غزنوی نے گاڑی اسٹارٹ کی۔گل خان گیٹ کھول چکا تھا۔اگلے چند لمحوں میں گاڑی ہوا سے باتیں کرتی سڑک پر دوڑ رہی تھی۔ ___________________________________________
جب وہ حویلی پہنچے تو عصر کا وقت ہو چکا تھا۔ان کی گاڑی تیزی سے حویلی کا گیٹ پار کرتی گیٹ سے کچھ ہی فاصلے پر رک گئی تھی۔
“مجھے ہاسپٹل جانا ہے۔۔آپ مجھے یہاں کیوں لے آئے ہیں؟”
ایمان نے اسکی جانب دیکھا۔ان کے رکتے ہی چوکیدار دوڑتا ہوا ان کے پاس آیا تھا۔
“مجھے نہیں معلوم وہ کون سے ہاسپٹل میں ہیں۔راستے میں بھی میں فون کرتا رہا ہوں داجی کو، مگر وہ فون نہیں ریسیو کر رہے ہیں۔یہاں پوچھ لیتے ہیں۔”
غزنوی نے اس سے کہا اور پھر چوکیدار کی طرف متوجہ ہوا۔
“خلیل خان۔۔۔داجی۔۔۔۔”
ابھی اس نے اتنا کہا ہی تھا کہ ڈیش بورڈ پہ رکھا اسکا موبائل بجنے لگا۔اس نے فون اٹھا کر دیکھا تو اعظم احمد کا نمبر دیکھکر کال ریسیو کی۔
“جی داجی۔۔۔!! السلام و علیکم۔۔۔ہم پہنچ گئے ہیں۔کون سے ہاسپٹل میں ہیں آپ لوگ۔۔؟”
غزنوی نے ان سے پوچھتے ہوئے چوکیدار کو جانے کا اشارہ کیا جو اسکا منتظر کھڑا تھا۔وہ اسکا اشارہ پاتے ہی چلا گیا۔
“وعلیکم السلام۔۔غزنوی ہم یہاں ایک پرائیویٹ ہاسپٹل میں ہیں۔تم گل شیر سے کہو وہ لے آئے گا تم لوگوں کو، اسے راستہ معلوم ہے۔”
اعظم احمد کو معلوم تھا کہ وہ راستہ سمجھ نہیں پائے گا اس لئے اسے گل شیر کو ساتھ لانے کو کہا۔
“جی۔۔۔کیا شاہ گل بھی وہیں ہیں آپ کے پاس؟”
غزنوی نے عقیلہ بیگم کی بابت پوچھا۔
“ہاں بیٹا وہ یہیں ہیں۔۔آپریشن ہو گیا ہے لیکن رشید خان ابھی بےہوش ہے لیکن ڈاکٹر اس کی حالت اب خطرے سے باہر بتا رہے ہیں۔”
اعظم احمد نے اس کے پوچھنے سے پہلے بتا دیا۔
“ٹھیک ہے داجی۔۔۔ہم آ رہے ہیں۔”
اس نے موبائل ڈیش بورڈ پہ رکھا اور گاڑی اسٹارٹ کی۔
“آپریشن ہو گیا ہے۔۔انکل ابھی بےہوش ہیں مگر خطرے سے باہر ہیں۔”
وہ ایمان کو اپنی جانب منتظر نظروں سے دیکھتا پا کر بولا۔ایمان کے چہرے پہ سکون کی لہر دوڑ گئی۔
اس نے گاڑی ریسورس کی اور گیٹ کے قریب آ کر رک گیا۔
“خلیل خان۔۔۔گل شیر کدھر ہے۔۔اسے بلاؤ۔۔ہمارے ساتھ ہاسپٹل چلنا ہے اسے۔”
غزنوی نے گیٹ کے قریب بیٹھے چوکیدار سے کہا۔
“جی صاحب۔۔۔!!”
وہ سرونٹ کوارٹر کی طرف بڑھ گیا۔تھوڑی دیر بعد خلیل خان گل شیر کو لئے ان کی طرف آیا۔گل شیر خلیل خان کا بڑا بیٹا تھا۔چہرے سے لگ رہا تھا کہ اسے نیند سے جگایا گیا ہے۔
“السلام و علیکم چھوٹے صاحب۔۔!!”
وہ پچھلی سیٹ پہ بیٹھتے ہوئے بولا۔
“وعلیکم السلام۔۔۔!!”
غزنوی نے گاڑی اسٹارٹ کی اور گیٹ سے باہر نکالی۔پچھلی سیٹ پر بیٹھا گل شیر اسے راستہ بتاتا جا رہا تھا۔بیس منٹ کی ڈرائیو کے بعد وہ ہاسپٹل پہنچ چکے تھے۔
“صاحب میں واپس چلا جاؤں؟”
غزنوی گاڑی سے نکلنے لگا تو پیچھے بیٹھا گل شیر بول پڑا۔۔
“ٹھیک ہے جاؤ۔”
اس کے کہنے کی دیر تھی وہ تیزی سے گاڑی سے نکلا۔۔ایمان بھی باہر کھڑی غزنوی کا انتظار کر رہی تھی۔رشید خان کے خیریت سے ہونے کی اطلاع سن کر وہ پرسکون تو ہوئی تھی مگر چہرے پہ بےچینی کے تاثرات اب بھی قائم تھے۔
وہ گاڑی لاکڈ کرتا اسکے پاس آیا۔
“چلیں۔۔”
وہ اسے ساتھ لئے آگے بڑھا۔ریسپشن پہ بات کرنے کے لئے وہ آگے ہوا ہی تھا کہ دائیں جانب سے آتے اعظم احمد نے اسے پکارا تو وہ وہیں رک گیا۔
“السلام علیکم داجی۔۔! بابا کیسے ہیں؟”
اُس سے پہلے ایمان ان کی طرف بڑھی۔
“پریشانی کی بات نہیں ہے بیٹا۔۔رشید خان اب بہتر ہے۔
بس ابھی دواوں کے زیر اثر سو رہا ہے۔آو میں تمھیں لے چلوں۔”
وہ اس سے کہتے ہوئے غزنوی سے بغلگیر ہوئے اور پھر ان دونوں کو ساتھ لئے آگے بڑھے۔دائیں طرف مڑنے پر ایمان کو عقیلہ بیگم بینچ پہ بیٹھی دکھائی دیں۔وہ تیز قدموں سے چلتی ان کے پاس آئی اور ان کے سینے سے لگ گئی۔
“نا بچے۔۔۔اللہ نے اپنا کرم کیا ہے۔۔اللہ کے حضور شکرانے کے نوافل ادا کرو۔۔تمھارے بابا کو اللہ نے دوسری زندگی دی ہے۔”
وہ اسکی پیٹھ سہلاتے ہوئے بولیں۔
وہ آنسو پونچھتی ان سے الگ ہوئی۔
“السلام علیکم شاہ گل۔۔!!”
غزنوی نے عقیلہ بیگم کو سلام کیا۔
“وعلیکم السلام بیٹا۔۔جیتے رہو۔۔تم تو جاتے ہو بیٹا تو پلٹ کر فون تک نہیں کرتے۔”
عقیلہ بیگم نے اسکے سر پہ ہاتھ پھیرا مگر اس سے شکوہ کرنا بھی نہیں بُھولیں تھیں۔وہ شرمندہ سا ہو گیا۔
“آؤ بیٹا میں تمھیں اندر لے جاوں۔”
اعظم احمد نے ایمان سے کہا تو وہ اٹھی اور ان کے ساتھ سامنے والے روم میں چلی گئی۔
“یہ سب ہوا کیسے شاہ گل۔۔؟”
ایمان کے جاتے ہی غزنوی نے عقیلہ بیگم سے پوچھا۔
“بس بیٹا۔۔۔عقل کا اندھا ہے رشید خان۔۔پہلے کتنی مشکل سے اسکے چنگل سے نکالنے کے لئے تمھارے داجی نے زمینوں پہ کام سے لگایا تھا۔بس کچھ ہی دن من لگا اور پھر سے وہی سب۔۔جُواری کب جُوا گری چھورتا ہے۔۔بادشاہ خان کے ساتھ پھر سے اڈے پر جانے لگا تھا۔آج بھی صبح وہیں گیا تھا۔اللہ معاف کرے اُس کمبخت نے اس مقدس مہینے میں بھی جوے کا اڈا کھول رکھا ہے۔وہیں پیسوں پہ لڑائی ہو گئی اور بادشاہ خان نے غصے میں آ کر اس پہ فائر کر دیا۔۔یہ تو اللہ نے اپنا کرم کیا کہ لوگوں کے روکنے پر اسکا نشانہ چُوک گیا اور گولی رشید خان کو چھو کر نکل گئی۔خون بہت زیادہ بہنے کی وجہ سے اس کی حالت تشویشناک تھی۔”
عقیلہ بیگم نے اسے ساری بات تفصیل سے بتائی جو ابھی کچھ دیر پہلے اعظم احمد نے انہیں بتائی تھی۔
“اور اب کہاں ہے بادشاہ خان؟”
اس نے ان سے پوچھا۔۔اسی بیچ اعظم احمد روم سے باہر آئے۔
“وہ جیل میں ہے۔۔اتنی آسانی سے چھوٹے گا نہیں۔بہت سے لوگوں کے سامنے یہ سب ہوا۔۔کچھ تو گواہی دینے کو بھی تیار ہیں اور کچھ بادشاہ خان کے ڈر سے پیچھے ہٹ گئے۔پہلے پہل تو پولیس والے اسے گرفتار ہی نہیں کر رہے تھے یہ تو میں نے انسپیکٹر سے بات کی تو کوئی ایکشن لیا گیا۔”
وہ بینچ پہ بیٹھ گئے۔
“داجی مضبوط کیس جب تک نہیں بنے گا تو اس نے تو باہر آ ہی جانا ہے۔میں خود جاؤں گا تھانے۔”
وہ مضبوط لہجے میں بولا۔
“ہاں بالکل۔۔لیکن تم فکر مت کرو، بادشاہ خان پہ ایک کیس تھوڑی نا ہے۔اس کے علاوہ بھی بہت سے کیس ہیں اس پہ۔۔پہلے تو کوئی ڈر کے مارے گواہی نہیں دیتا تھا اب دیکھنا سارے آگے آئیں گے۔”
اعظم احمد نے اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھا۔
“شاہ گل مغرب کا وقت قریب ہے۔چلیں میں آپکو اور ایمان کو گھر چھوڑ آوں۔”
کچھ دیر بعد وہ اٹھ کھڑا ہوا۔
“ٹھیک ہے بیٹا۔۔”
وہ گھٹنوں پہ ہاتھ رکھتی اٹھ کھڑی ہوئیں۔
“میں ایمان کو بلاتا ہوں۔”
عقیلہ بیگم کے سر ہلانے پہ وہ کمرے میں داخل ہو گیا۔
وہ ان کے قریب کرسی گھسیٹے، ان کا ہاتھ ہاتھ میں لیے بیٹھی تھی۔
“ایمان۔۔۔!”
اس کے پکارنے پر ایمان نے پلٹ کر دیکھا۔ایمان نے رشید خان کا ہاتھ بہت نرمی سے واپس رکھا اور اسکی جانب متوجہ ہوئی۔
“چلو میں تمھیں اور شاہ گل کو حویلی چھوڑ آؤں۔”
وہ قریب آ کر دھیرے سے بولا۔
“مگر یہاں بابا اکیلے۔۔۔”
وہ دھیرے سے کہتی کھڑی ہوئی۔
“میں ہوں نا۔”
غزنوی نے اپنی طرف اشارہ کیا۔
“آپ چلے جائیں۔۔میں رک جاتی ہوں بابا کے پاس۔”
وہ جانا نہیں چاہتی تھی اس لئے پلٹ کر اپنی جگہ پہ جا بیٹھی۔
“چلو اٹھو۔۔۔افطاری کے بعد آ جانا۔۔تم تھک گئی ہو گی اور پھر وہاں شاہ گل اور داجی بھی اکیلے ہونگے۔”
غزنوی نے اسے بازو سے پکڑ کر کھڑا کیا تھا۔ایمان نے اسے ناراضگی بھری نظروں سے دیکھا تو اس نے آنکھوں ہی آنکھوں میں اسے چلنے کا اشارہ کیا۔
“جب انہیں ہوش آ جائے گا تو میں آ جاؤں گا تمھیں لینے۔”
اسکے کندھے پہ بازو پھیلائے وہ اسے لئے دروازے کی طرف کیطرف بڑھتے ہوئے بولا۔ایمان نے سر اثبات میں ہلایا اور پھر ایک بار پلٹ کر رشید خان پہ ایک نظر ڈالتی باہر نکل گئی۔
غزنوی اسے، عقیلہ بیگم اور اعظم احمد کو حویلی لے آیا۔مغرب کا وقت قریب تھا اس لئے وہ آرام کرنے کی بجائے کچن میں آ گئی۔اعظم احمد اور شاہ گل نے غزنوی کو بھی کچھ دیر کے لئے روک لیا تھا۔ ____________________________________________
رشید خان کو ہوش آ گیا تھا۔کمزوری کی وجہ سے اسے ایک دو دن اور ہسپتال میں رہنا تھا۔پولیس آ کر اسکا بیان بھی لے گئی تھی۔اعظم احمد اور بیٹی کے سامنے یہ اعتراف اسے شرمسار کر گیا کہ وہ پھر سے جوا کھیلنے لگا تھا۔انسپیکٹر صاحب نے انہیں یقین دلایا تھا کہ وہ بادشاہ خان کو کڑی سے کڑی سزا دلوائیں گے۔
ڈاکٹرز کی بھرپور توجہ کی بدولت رشید خان تیزی سے صحت یاب ہو رہا تھا۔تین دن بعد اسے ڈسچارج کر دیا گیا۔غزنوی رشید خان کو حویلی لے آیا تھا اور اب ایمان باپ کی تیمارداری میں لگی رہتی۔غزنوی بھی رشید خان کی میڈیسن کا خیال رکھتا، اسے ڈریسنگ کے لئے ہاسپٹل لے کر جاتا۔رشید خان اور غزنوی کے بیچ جو تھوڑی بہت جھجھک تھی وہ اب ختم ہو گئی تھی۔آج بھی معمول کے مطابق جب وہ رشید خان کو ڈریسنگ کروانے کے بعد واپس آیا تو ایمان وہیں لان میں ان کا انتظار کر رہی تھی۔گاڑی سے نکلتے ہوئے ان دونوں نے بھی ایمان کو دیکھ لیا تھا۔۔وہ دونوں کسی بات پہ مسکراتے ہوئے اسکی جانب آ رہے تھے۔وہ اٹھ کر رشید خان کی طرف بڑھی۔
“کیا کہا ڈاکٹر نے۔۔؟”
وہ باپ کے سینے سے لگی پوچھ رہی تھی۔
“ڈاکٹر نے کہا ہے کہ اب زخم کافی حد تک ٹھیک ہو گیا ہے۔بس ایک دو بار اور پٹی بدلوانے جانا پڑے گا۔”
رشید خان نے اس کے سر کا بوسہ لیتے ہوئے کہا۔وہ باپ کے رویے میں اسقدر تبدیلی دیکھکر حیران ہوتی تھی۔بچپن میں جب وہ ان کے قریب جاتی تھی تو وہ اسے دھتکار کر پرے کر دیا کرتے تھے مگر ان کے اتنے روکھے رویے کے باوجود وہ ان کے پاس جانا نہیں چھوڑتی تھی۔اس نے دیکھا تھا کہ اسکی سہیلیوں کے بابا ان سے کتنا پیار کرتے، ان کے لئے کھلونے لاتے، وہ بھی چاہتی تھی کہ جب وہ کھیل رہی ہو تو اسکے بابا آ کر اسے گود میں اٹھائیں، اسے پیار کریں۔۔مگر ایسا ہونا تو دور کی بات رشید خان اسے قریب تک آنے نہیں دیتا تھا۔وہ بارہا اپنے رویے سے جتاتا رہتا تھا کہ اسے بیٹے کی چاہ تھی اور وہ بیٹی تھی۔
ماں سے سوال کرتی تو وہ بہلا پھسلا کر اسکا دھیان کسی اور جانب کر دیتی تھیں۔۔پھر ماں کے جانے کے بعد تو وہ اسے بھول ہی گئے تھے۔۔
لیکن آج سب کچھ بدل گیا تھا۔۔جو محبت اور شفقت اسے چاہئیے تھی وہ اسے مل رہی تھی۔۔
“کیا سوچ رہی ہو بیٹا۔۔؟”
رشید خان نے کسی گہری سوچ میں ڈوبے دیکھ کر پوچھا۔
“کچھ نہیں بابا۔۔۔میں آپ کے لئے کچھ کھانے کو لاؤں؟”
وہ اپنے خیالات جھٹکتی بولی۔
“نہیں۔۔۔بس تھک گیا ہوں۔۔کچھ دیر آرام کروں گا۔”
رشید خان نے اندر کی جانب قدم بڑھا دیئے، شاید وہ بیٹی کے چہرے پہ پھیلتی حیرانی سے اب مانوس ہو چکا تھا۔
“ہماری طرف بھی کچھ نظر کرم ہو جائے۔۔ہم سے پوچھا جائے کہ ہمیں کیا چاہیئے؟”
غزنوی جو اتنی دیر سے خاموش بیٹھا تھا، رشید خان کے جاتے ہی بولا۔۔انداز میں شرارت چھلک رہی تھی۔
“کیوں آپ کا روزہ نہیں ہے؟”
ایمان نے اسکی طرف حیرانی سے دیکھا۔
“روزہ تو ہے مگر۔۔۔۔۔کھانے پینے کے علاؤہ بھی بہت کچھ ہوتا ہے جسکی چاہ کی جا سکتی ہے۔”
وہ معنی خیزی سے کہتا قریب آیا۔
“شرم تو نہیں آتی روزے میں بھی۔۔۔۔”
ایمان نے آگے کچھ بھی کہنے سے گریز کیا اور پلٹ کر اندر کی جانب بڑھ گئی جبکہ غزنوی کے لبوں کی مسکراہٹ گہری ہوتی چلی گئی۔ _______________________________________________
انہیں گاؤں آئے کافی دن ہو گئے تھے۔اعظم احمد تو جب سے آئے تھے روز کہیں نہ کہیں نکل جاتے، آج وہ زمینوں پہ گئے تھے اور اپنے ساتھ غزنوی اور رشید خان کو بھی لے گئے تھے۔ایمان اور عقیلہ بیگم حویلی میں ہی تھیں۔جب سے گاؤں والوں کو پتہ چلا تھا کہ عقیلہ بیگم بھی آئی ہیں تو روز کوئی نہ کوئی ان سے ملنے آ جاتا۔عقیلہ بیگم سب سے ہی بہت شفقت اور ملنساری سے ملتی تھیں۔
آج بھی کوئی خاتون ان سے ملنے آئی ہوئی تھی اس لئے وہ مہمان خانے میں تھیں۔ایمان کمرے میں بیٹھی بیٹھی بور ہونے لگی تو وہ بھی مہمان خانے چلی آئی۔
“شاہ گل۔۔۔کیا میں آ جاؤں؟”
اندر داخل ہونے سے پہلے ایمان نے ان سے اجازت لینا ضروری سمجھا کیونکہ جو عورت ان کے ساتھ بیٹھی تھی وہ بہت دھیرے بات کر رہی تھی جیسے اسے کسی دوسرے کے اسکی بات سن لینے کا خدشہ ہو۔
“آ جاؤ بیٹا۔۔”
عقیلہ بیگم نے پلٹ کر اسے دیکھا اور پھر اندر آنے کی اجازت دی۔وہ عورت اب کچھ فاصلے پہ ہو کر بیٹھ گئی تھی۔ایمان اس عورت کو سلام کرتی عقیلہ بیگم کے پاس آ کر بیٹھ گئی۔وہ عورت اب مسکراتی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔
“ماشاءاللہ۔۔۔بہت سنا تھا ایمان کے بارے میں۔۔۔آج دیکھ بھی لیا۔۔بالکل اپنی ماں جیسی ہے۔بڑے صبر والی عورت تھی اسکی ماں۔”
وہ عورت ایمان کو دیکھتے ہوئے بولی۔
“آپ اماں کو جانتی ہیں؟”
اپنی ماں کے متعلق سن کر اس نے اشتیاق سے پوچھا۔
“ہاں بالکل جانتی ہوں۔۔تمھاری ماں تو میری سہیلی تھی۔بیاہ کر ہمارے گھر کے قریب ہی آئی تھی۔ہم دونوں میں بڑی گہری دوستی تھی۔پھر میری شادی ساتھ والے گاؤں میں ہوگئی تو ملنا ملانا کسی حد تک کم ہو گیا تھا۔تمھاری پیدائش کے بعد میں اس سے کوئی تین چار بار ہی ملی ہوں گی، پھر تمھارے باپ کیوجہ سے وہ بھی ختم ہو گیا۔”
وہ گہری سانس خارج کرتے ہوئے بولی۔اسکی آنکھوں میں نمی اتر آئی تھی۔۔ماں کے ذکر پر ایمان کی آنکھیں بھی آبدیدہ ہوگئیں۔
“تم سے ملنے تو میں کئی بار آئی تھی مگر تمھارے باپ نے ملنے ہی نہیں دیا۔”
یہ کہہ کر وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔
“اچھا شاہ گل۔۔۔اب میں چلتی ہوں۔اگر ہو سکے تو۔۔۔۔”
وہ عورت کچھ کہتے کہتے خاموش ہو گئی۔
“ہاں ہاں تم فکر مت کرو۔۔میں آج ہی بات کروں گی۔۔انشاءاللہ کچھ نہ کچھ حل نکل آئے گا۔”
عقیلہ بیگم نے اس تسلی بھرے الفاظ کہے تو وہ شکریہ ادا کرتی وہاں سے چلی گئی۔
“شاہ گل ان کا کیا مسئلہ تھا؟”
ایمان نے عقیلہ بیگم سے پوچھا۔۔۔وہ ابھی اور باتیں کرنا چاہتی تھی مگر وہ شاید جلدی میں تھی اس لئے رکی نہیں۔
“اس کی بیٹی کی شادی کا مسئلہ ہے۔بچپن میں اپنی رضامندی سے رشتہ طے کر دیا تھا۔اب لڑکے والے منکر ہو گئے ہیں۔رشتے کی بات پورے خاندان کو پتہ تھی اس لئے اب خاندان سے کوئی بھی آگے نہیں آ رہا۔۔بیٹی ابھی کم عمر ہے مگر یہ جلد سے جلد اسکی شادی کرنا چاہتی ہے۔اسکی بہن اپنے بیٹے کے لئے رشتہ مانگ رہی ہے مگر اسکا شوہر اس رشتے کے لئے راضی نہیں کہ شادی صرف اسکے خاندان میں ہو گی ورنہ وہ بیٹی کی شادی برادری سے باہر نہیں کرے گا۔اب یہ کوئی بات ہے بھلا۔۔وہ بھی اسی کی بہن ہے۔۔زات برادری کے چکر میں پڑ کر اتنے اچھے رشتے کو ٹھکرا رہا ہے۔”
عقیلہ بیگم نے افسوس سے کہا۔
“شاہ گل۔۔۔یہ مرد کی کون سی قسم ہے۔۔کبھی باپ بن کر ظالم بن جاتا ہے تو کبھی شوہر۔۔۔تو کبھی بھائی بن کر اپنے غصے کی بھینٹ چڑھا دیتا ہے۔۔یہ کیوں اپنی نام نہاد انا کو ہمارا خون پلاتے رہتے ہیں۔کیوں عزت عزت کہہ کر ہمارے ماتھے پہ بےعزتی کا داغ لگا دیتے ہیں۔۔کیا سکون ملتا ہے انہیں معصوم چہروں کو تاریکی کی چادر میں چھپا کر۔۔۔کیوں نہیں سمجھتے کہ ہم عورتیں بھی انسان ہیں، نرم احساسات رکھنے والی مخلوق۔۔۔تیز لہجوں سے مر جانے والی۔۔۔یہ مرد کیوں ایسا کرتا ہے؟”
عقیلہ بیگم کی بات سن کر اسکے زخم ہرے ہو گئے تھے۔
“سب ایک جیسے نہیں ہوتے بیٹا۔۔۔اچھے برے لوگ ہر جگہ پائے جاتے ہیں۔۔کہیں عورتیں سمجھنے سے قاصر ہو جاتی ہیں تو کہیں مرد سمجھ کر بھی نہیں سمجھنا چاہتا۔”
وہ اسکی طرف پیار سے دیکھتے ہوئے بولیں۔
“مگر سزا کی حقدار ہمیشہ عورت ہی ٹھہرتی ہے۔۔میں نے تو ایسا ہی دیکھا ہے شاہ گل۔”
وہ شاید اس اندیکھی گرہ کو کھولنا چاہتی تھی جو اس کے دل و دماغ میں بندھی تھی۔
“ایسا تھوڑی ہے۔۔کبھی کبھی عورت بھی مرد کو سزا دیتی ہے۔۔خاموشی کی سزا۔۔”
انہوں نے اسکی آنکھوں میں جھانکا تو وہ ان کی بات سمجھ کر نظریں جھکا گئی۔
“میں نے کب سزا دی ہے۔”
ان کا مطلب سمجھ کر وہ نروٹھے لہجے میں بولی۔
“کیا تمھیں غزنوی کے لہجے میں نرمی اپنا احساس نہیں دلاتی۔۔؟ بولو۔۔۔۔”
انہوں نے اسکے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لئے۔
“اس میں بدلاؤ میں محسوس کر رہی ہوں تو یقیناً تم بھی محسوس کر رہی ہو گی۔۔اس لئے اب جب کہ وہ اپنی انا کے خول سے نکل آیا ہے تو تم بھی اس خاموشی کو توڑ دو۔۔۔”
عقیلہ بیگم نے اسکا چہرہ اونچا کیا۔۔وہ خاموشی سے ان کی آنکھوں میں دیکھتی رہی اور پھر نظریں جھکا گئی۔
“ظہر کا وقت ہو گیا ہے میں نماز پڑھ لوں۔”
وہ اسکے سر پہ ہاتھ رکھتیں کمرے سے نکل گئیں۔
“اتنی آسانی سے تو نہیں۔۔۔جب تک چیخ چیخ کر نہیں کہے گا تب تک تو نہیں۔”
ایمان کی آنکھوں میں چمک اور لبوں پہ دبی دبی مسکراہٹ تھی۔۔یقیناً وہ بھی غزنوی کی نگاہوں میں چھپے راز کو پا چکی تھی۔ _____________________________________________
وہ عشاء کی نماز اور تراویح پڑھ کر فارغ ہوئی تو کمرے سے باہر آ گئی۔لاؤنج میں مکمل سناٹا تھا۔شاہ گل بھی اپنے کمرے میں تھیں۔رشید خان ابھی وہیں تھا۔اُس نے کئی بار اپنے گھر جانے کا ارادہ ظاہر کیا مگر اعظم احمد نے اسے روک لیا تھا۔
وہ تینوں عشاء اور تراویح پڑھنے کے بعد حویلی کے مردان خانے میں ہوتے تھے کچھ دیر وہاں گزار کر واپس آتے۔۔۔وہ باہر لان میں آ گئی۔
شاہ گل نے پھر دوبارہ اس سے غزنوی کے بارے میں بات نہیں کی تھی۔لیکن کسی نہ کسی بات کو یہی پیراہن پہنا کر اس کے سامنے کر دیتی تھیں۔وہ بھی جانتی تھی کہ برف پگھلنے لگی ہے مگر وہ چاہتی تھیں کہ ایمان خود فیصلہ لے۔انہوں نے اسے آج صبح ہی بتایا تھا کہ اعظم احمد نے طلاق کے پیپرز تیار کروا لئے ہیں اور یہ کہ وہ اسکے فیصلے کو عزت دینا چاہتے ہیں۔
یہ سن کر وہ خاموش رہ گئی تھی۔عقیلہ بیگم نے اسے فیصلہ کرنے کے لئے کہا تھا۔وہ تب سے سوچ رہی تھی کہ کیا کرے۔۔
اب بھی وہ اسی ایک بات کو لئے خیالوں میں گم تھی کہ کسی نے اسکی آنکھوں کے آگے چٹکی بجائی۔
اس نے چونک کر اپنے سامنے کھڑے غزنوی کو دیکھا۔
“کیا میرے بارے میں سوچ رہی تھی؟”
وہ مسکرایا۔
“بالکل بھی نہیں۔”
وہ اٹھ کر جانے لگی۔
“مجھ سے بھاگنا چھوڑ دو۔”
سنجیدگی میں لپٹی گھمبیر آواز ایمان کے کانوں سے ٹکرائی۔اس نے پلٹ کر غزنوی کو دیکھا۔
“خوش فہمی ہے آپکی۔”
وہ مسکراہٹ روک کر بولی۔
“اچھا۔۔۔تمھیں کس نے کہا کہ مجھے خوش فہمی ہے۔۔مجھے تو پورا یقین ہے کہ تم میرے بارے میں ہی سوچ رہی تھی۔”
غزنوی نے اسکی آنکھوں میں جھانکا۔
“اور بھی اہم کام ہیں میرے پاس۔”
وہ اسکے اتنے صحیح اندازے پہ حیران ہوئی تھی مگر اپنے تاثرات چھپا گئی۔
“یہاں دیکھو میری طرف۔۔۔”
وہ اسکے نگاہیں پھیر لینے پر اس کے سامنے آیا۔
“بتاؤ اب۔۔۔”
وہ دونوں ہاتھ اسکے کندھے پہ رکھتے ہوئے تھوڑا سا جھکا۔۔ایمان نے اسکی آنکھوں میں انتظار کو ٹھہرتے دیکھا۔
“اتنی آسانی سے تو نہیں۔۔۔”
ایمان نے دل ہی دل سوچا اور یہ سوچتے ہی اسکے دل میں شگوفے پھوٹنے لگے تھے مگر اس نے اپنے چہرے سے کچھ بھی ظاہر ہونے نہیں دیا۔
“ہاں میں آپ ہی کے بارے میں سوچ رہی تھی۔”
اس نے سنجیدگی سے کہا۔
“کیا۔۔۔۔؟”
غزنوی کے لب مسکرائے تھے۔
“یہی کہ آپ سے چھٹکارا کب ملے گا۔”
اس نے غزنوی کی آنکھوں میں جھانک کر بےرحمی سے کہا۔غزنوی کے لبوں کی مسکراہٹ پل میں غائب ہوئی تھی۔ایمان اسی سنجیدگی سے اسکی طرف دیکھ رہی تھی۔ایک پل کو بھی نگاہیں نہیں پھیریں تھی۔
“مجھ سے چھٹکارا تو تمھیں مر کر ہی ملے گا۔”
یہ کہہ کر وہ رکا نہیں تھا جبکہ ایمان اسے نگاہوں سے اوجھل ہونے تک دیکھتی رہی۔ __________________________________________
“آپ نے مجھے بلایا داجی۔۔۔!”
وہ کمرے میں داخل ہوئی تو وہ صوفے پہ بیٹھے اسی کا انتظار کر رہے تھے۔انہوں نے سر کے اشارے سے اسے اجازت دی۔وہ اندر آئی تو سائیڈ والے صوفے پہ عقیلہ بیگم اور غزنوی بیٹھے تھے۔
“جی داجی۔۔؟”
وہ ان کے پاس آ کر بیٹھ گئی۔
“بیٹا اب تمھارے والد صحت یاب ہو گئے ہیں اور اپنے گھر جانا چاہتے ہیں۔میں اور تمھاری شاہ گل بھی تھوڑی دیر تک واپس چلے جائیں گے۔میرا خیال ہے کہ تم بھی ہمارے ساتھ چلو۔۔۔یہ کچھ آخری روزے ہیں، ہمارے ساتھ گزار لو۔۔”
اعظم احمد نے ہاتھ میں پکڑی تسبیح ایک جانب رکھتے ہوئے کہا۔
“جی داجی۔۔۔بابا مجھ سے بھی کہہ رہے تھے کہ وہ گھر جانا چاہتے ہیں۔میں تو سوچ رہی تھی کہ کچھ دن ان کی دیکھ بھال کے لئے انکے پاس رک جاتی ہوں مگر ان کا کہنا ہے کہ وہ اب بالکل ٹھیک ہیں اور مجھے اپنے گھر جانا چاہیئے۔”
ایمان نے بھی رشید خان سے ہوئی بات ان کے گوش گزار کر دی۔
“ٹھیک ہے۔۔۔گل شیر لے جائے گا اسے۔۔۔لیکن میرا اور تمھاری شاہ گل کا خیال ہے تم ہمارے ساتھ چلو۔۔کچھ دن بعد غزنوی بھی آ جائے گا۔”
اعظم احمد نے اسے اپنے ساتھ چلنے کے لئے کہا۔ایمان نے شاہ گل کیطرف دیکھا جو اس کے جواب کی منتظر تھیں۔
“ٹھیک ہے داجی میں آپ لوگوں کے ساتھ جاؤں گی۔ویسے بھی میں نے تو آنا ہی تھا۔شاہ گل سے کہا تھا کہ وہ مصطفیٰ بھائی کو بھیج دیں جب انہوں نے بابا کے بارے میں بتانے کے لیے فون کیا تھا۔”
وہ شاہ گل کیطرف ہی دیکھ رہی تھی۔
“لیکن غزنوی چاہتا ہے کہ تم اسکے ساتھ اسلام آباد چلو۔۔”
شاہ گل نے ساتھ بیٹھے غزنوی کی طرف دیکھا۔
“نہیں شاہ گل میں اسلام آباد نہیں جاننا چاہتی۔”
ایمان نے انکار کیا۔
“اچھا ٹھیک ہے۔۔تو ہم تھوڑی دیر میں نکل رہے ہیں۔۔تم اپنا سامان رکھ لو۔”
اعظم احمد نے اس سے کہا تو وہ سر ہلاتی اٹھ کھڑی ہوئی۔وہاں سے اپنے روم میں آئی اور الماری میں سے اپنے کپڑے نکال کر اپنے سفری بیگ میں ڈالنے لگی۔اپنا سامان رکھنے کے بعد اس نے سوچا کہ غزنوی کا سامان بھی پیک کر دیتی ہے اس لئے وہ غزنوی کے کپڑے الماری سے نکالنے لگی۔ابھی وہ کپڑے نکال کر سوٹ کیس میں ڈال ہی رہی تھی کہ غزنوی تن فن کرتا کمرے میں داخل ہوا۔
“تم نے یہ کیوں کہا کہ تمھیں ان کے ساتھ جانا ہے جبکہ تم میرے ساتھ جاؤ گی۔”
غزنوی نے اسکے ہاتھ سے جھٹکے سے اپنی شرٹ کھینچی جو وہ ابھی سوٹ کیس میں رکھنے جا رہی تھی۔ایمان کو معلوم تھا کہ وہ ابھی اس سے سوال و جواب کرنے آئے گا۔اس لئے وہ پرسکون دکھائی دے رہی تھی۔وہ بہت جلد اپنا ٹیمپر لوز کر لیتا ہے اوپر سے وہ مسلسل اسکی ذات کی نفی کر رہی تھی۔اسکے ساتھ وہی رویہ اپنائے ہوئے تھی جو اس نے اسکے ساتھ شروعات میں روا رکھا تھا۔
“میں آپ کے ساتھ نہیں جا رہی۔۔اسی لئے تو انہیں کہا۔”
ایمان نے اسکے ہاتھ سے شرٹ کھینچی۔
“تم میری نرمی سے ناجائز فائدہ اٹھا رہی ہو، میں تمھیں کچھ کہہ نہیں رہا تو اسکا یہ مطلب نہیں کہ تم میرے سر پہ چڑھ جاؤ۔۔میں نے کہہ دیا ہے کہ تم میرے ساتھ اسلام آباد جا رہی ہو اینڈ ڈیٹس اِٹ۔”
غزنوی نے اسے بازو سے پکڑ کر جھٹکے سے چھوڑا۔۔وہ اسکا ٹھنڈا ٹھار رویہ دیکھ کر وہ مزید تپ گیا تھا اور اپنے غصے پہ قابو نہ رکھ سکا۔
“میں ان کے ساتھ جاؤں گی اور آپ مجھے نہیں روک سکتے۔”
وہ بیگ کی زپ بند کرتے ہوئے ضدی لہجے میں بولی۔
“کیا ایک بات سمجھ میں نہیں آ رہی؟”
غزنوی بغور اسکا جائزہ لیتے ہوئے بولا۔
“آپ پلیز جائیں یہاں سے اور مجھے میرا کام کرنے دیں۔”
ایمان نے اس کے غصے کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے کہا۔۔
“ٹھیک ہے جاؤ۔۔۔”
وہ سنجیدگی سے کہتا کمرے سے نکل گیا۔ایمان اسکے جانے کے بعد سر جھٹک کر واش روم کی جانب بڑھ گئی۔
پھر غزنوی نے اسے روکنے کی کوشش نہیں کی اور وہ اعظم احمد اور عقیلہ بیگم کے ساتھ اعظم ولاء آ گئی۔ _______________________________________
اعظم ولاء میں سبھی اسے ان کے ساتھ دیکھ کر بہت خوش ہوئے تھے۔شمائلہ بیگم اسے بہت سنجیدگی سے دیکھ رہی تھی۔وہ ان کی جانب دیکھنے سے کترا رہی تھی کیونکہ انکی آنکھیں جو سوال اس سے پوچھ رہی تھیں انکا جواب اسکے پاس نہیں تھا۔خیرن بوا نے خلاف مزاج اسے گلے سے لگا کر اسکا شکریہ ادا کیا تھا کہ اس نے ان کی بہن اور بھانجی کا خیال رکھا۔اس وقت وہ اپنے کمرے میں اپنے کپڑے ترتیب سے الماری میں لگا رہی تھی۔روم میں آنے کے فوراً بعد اس نے حویلی فون کر کے ملازمہ سے غزنوی کے بارے میں پوچھا تھا۔ حویلی کی ملازمہ نے اسے بتایا کہ وہ ان کے نکلنے کے آدھے گھنٹے بعد اسلام آباد کے لیے روانہ ہوا تھا۔انھیں یہاں پہنچے تقریباً پینتالیس منٹ ہو گئے تھے۔وہ بار بار گھڑی پہ نظر ڈال رہی تھی۔
ابھی غزنوی کے اسلام آباد پہنچنے میں وقت تھا۔اس لئے وہ سر جھٹک کر اپنے کام میں مصروف ہو گئی۔
“ایمان کیا کر رہی ہو بیٹا۔۔ارے رہنے دیتی۔۔شگفتہ کر لیتی یہ کام۔”
شمائلہ بیگم کمرے میں آئیں اور بیڈ پہ بیٹھتے ہوئے بولیں۔
“کوئی بات نہیں امی۔۔۔میں کر لوں گی۔”
وہ الماری بند کرتی ان کے پاس آ کر بیٹھ گئی۔
“غزنوی کے ساتھ کیوں نہیں گئی تم؟”
شمائلہ بیگم نے اسے بغور دیکھا۔
“یونہی۔۔۔۔”
اس سے اور کوئی جواب نہ بن پڑا۔
“یونہی۔۔۔۔؟؟ اس کا مطلب ہے کہ تم ابھی بھی اپنے فیصلے پر قائم ہو؟”
شمائلہ بیگم کے الفاظ میں ناراضگی صاف چھلک رہی تھی۔ایمان خاموشی سے انہیں دیکھے گئی۔
“ابھی میں داجی کی بات سن کر آ رہی ہوں۔انہوں نے تمھارے لئے کہیں رشتے کی بات بھی کر رکھی ہے اور عید کے بعد اس کام کو انجام دینے کا سوچ رہے ہیں۔ان کے خیال میں اگر تم نے اپنا فیصلہ بدلنا ہوتا تو تم ان کے ساتھ یہاں نہ آتی بلکہ غزنوی کے ساتھ جاتی جبکہ وہ چاہتا بھی تھا کہ تم اس کے ساتھ جاؤ۔مجھے تم سے یہ امید نہیں تھی ایمان۔۔”
وہ اسکی جانب سے رخ پھیر گئیں۔
“میں اپنا فیصلہ بدل چکی ہوں امی، اور جہاں تک کسی اور سے رشتے کی بات ہے تو میں غزنوی کے علاؤہ کسی اور کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی۔”
ایمان نے ان کی ناراضگی ظاہر کرنے کے انداز پہ مسکراہٹ دباتے ہوئے کہا۔شمائلہ بیگم نے فوراً اس کی جانب پلٹ کر دیکھا۔وہ اسے بےیقین نظروں سے دیکھ رہی تھیں۔
“سچ کہہ رہی ہوں۔۔میں یہاں آئی ہی اس لئے ہوں کہ داجی سے بات کر کے اس بات کو ختم کر دوں۔۔میں جانتی ہوں کہ ناصرف آپ بلکہ کوئی بھی نہیں چاہتا کہ یہ رشتہ ختم ہو۔سچ پوچھیں تو اسلام آباد جانے سے پہلے میں اپنے فیصلے پر قائم تھی اور اپنے فیصلے پر قائم بھی رہتی اگر میں وہاں غزنوی کے بدلے ہوئے رویے کو محسوس نہ کر لیتی۔وہ بالکل بدل گئے ہیں۔۔میرے ساتھ بالکل مختلف رویہ اختیار کر رکھا انہوں نے۔۔شروعات میں تو میں اسے ان کا ڈرامہ سمجھتی رہی کہ شاید وہ سب کی موجودگی کے باعث ایسا رویہ اپنائے ہوئے ہیں مگر سب کے جانے کے بعد بھی وہ ویسے ہی تھے۔اس لئے میں نے سوچا کہ انھیں ایک اور موقع دے دوں۔۔اور اپنا بدلہ بھی لے لوں۔”
آخر میں وہ ہنستے ہوئے بولی۔
“شرارتی لڑکی۔۔۔اب تم میرے بیٹے سے بدلہ لو گی۔”
شمائلہ بیگم نے اسکا کان نرمی سے پکڑا۔۔
“اتنا تو میرا بھی حق بنتا ہے۔”
وہ شرارت سے بولی۔۔شمائلہ بیگم اسکے کھلے کھلے چہرے کو دیکھکر مسکرا دیں۔
“ویسے تم کہو تو یہ خوشخبری میں خود دے آؤں داجی اور شاہ گل کو۔”
شمائلہ بیگم کھڑے ہوتے ہوئے بولیں۔
“جی۔۔۔”
وہ انہیں اجازت دیتی اپنے باقی کپڑے الماری میں ہینگ کرنے لگی اور شمائلہ بیگم خوشی خوشی شاہ گل کو بتانے چلدیں۔ _________________________________________
پھر جب شمائلہ بیگم نے سب کو بتایا تو سبھی یہ جان کر بہت خوش ہوئے کہ ایمان نے اپنا فیصلہ بدل لیا ہے اور اب وہ سبھی اسکے سر ہو رہی تھیں۔
“اوئے ہوئے۔۔۔یہ کرشمہ کب ہوا؟”
لاریب نے اسکے کندھے سے کندھا ٹکرایا۔
“کرشمہ ہوا نہیں ہوئی۔۔”
ملائکہ نے ہنستے ہوئے کہا۔وہ ایمان کے فیصلے سے بہت خوش تھی۔جب سے اسے پتہ چلا تھا کہ ایمان نے اپنا فیصلہ بدل دیا ہے تو اسے یقین ہی نہیں آ رہا تھا۔
“یہ کیا تم لوگ ہوا، ہوئی لگائے بیٹھے ہو۔۔ہٹو مجھے بات کرنے دو۔”
سحرش نے لاریب اور ملائکہ کو ہٹایا جو ایمان کو گھیرے بیٹھی تھیں۔
“ہمارے پلان نے آخر اپنا کمال کر ہی دیا۔”
فائقہ نے شرارتی انداز سے پہلے سحرش اور پھر فائقہ کو دیکھا۔جو اب وہی پیٹ دُکھنے والی ایکٹنگ کر کے سب کو بتا رہی تھی اور ان سب سے اپنی ہنسی روکنا محال ہو رہا تھا جبکہ ایمان ہونقوں کی طرح ان سب کے چہرے دیکھ رہی تھی۔
“ارے ہماری بہو رانی۔۔۔کچھ سمجھ آیا یا نہیں؟”
فائقہ پیٹ پہ ہاتھ رکھے ایمان کے قریب آئی۔
“تو کیا وہ سب۔۔۔ڈرامہ۔۔”
ایمان نے حیرت بھری نظروں سے اسے دیکھا۔
“تو اور کیا۔۔ورنہ تم کس کے قابو کی تھی۔۔۔یہ میری لاجواب اداکاری ہی تھی جس نے آج ہمیں یہ دن دکھایا۔”
فائقہ نے اپنے فرضی کالر کھڑے کیے۔
“تم نے تو صرف ایکٹنگ کی تھی جبکہ پلان تو پریشے اور سحرش آپی کا تھا۔”
لاریب نے مزید پول کھولی۔
“لیکن یہ تو مانو گی نا کہ کیا زبردست ایکٹنگ کی تھی میں نے۔۔”
فائقہ نے ایمان کے چہرے کو فوکس کرتے ہوئے کہا۔
“تو کیا ہمارا مری جانا اور مری سے اسلام آباد جانا۔۔۔وہ سب ایک پلان تھا؟”
ایمان پہ حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے تھے۔اسے اب بھی یقین نہیں آ رہا تھا کہ وہ سب پلاننگ تھی۔
“جی۔۔۔۔بالکل پلان تھا۔۔”
ارفع بھی میدان میں آئی۔
“یار حد ہے چالاکی کی۔۔۔تم لوگوں نے مجھے بَھنک تک نہیں لگنے دی۔”
ایمان کو اپنی بیوقوفی پہ ہنسی آنے لگی۔
“اور لڑکیوں پلان کامیاب ہونے پر ایک ٹریٹ تو ہونی چاہیئے ایمان کیطرف سے۔۔کیا خیال ہے؟”
عنادل نے کہا تو سب ہی ایمان کے سر ہو گئیں۔
“ارے بھئی روزہ ہے۔۔”
ایمان نے جان بچانی چاہی۔
“افطاری کے بعد تم ہمیں آئس کریم کھلاؤ گی۔”
ارفع جو آئس کریم کی دیوانی تھی جھٹ بولی۔۔باقی سبھی نے بھی اسکا ساتھ دیا۔
“اچھا بھئی ٹھیک ہے۔۔۔لیکن غزنوی۔۔۔۔کیا غزنوی بھی اس پلان میں تم لوگوں کے ساتھ۔۔۔۔”
دل میں آئی بات وہ لبوں تک لائی۔
“نہیں۔۔۔غزنوی کو نہیں معلوم تھا۔۔ہاں لیکن وہ بھی چاہتا تھا کہ تم وہیں رک جاؤ اسکے ساتھ۔۔وہ تم سے بہت محبت کرتا ہے ایمان۔۔میں نے اس آنکھوں میں تمھارے لئے عزت، پیار۔۔سب دیکھا ہے۔۔وہ اپنے پچھلے رویے پہ شرمندہ تھا اور تمھیں وہیں روک کر اپنی طرف سے دی گئی ہر تکلیف کا ازالہ کرنے کا خواہشمند تھا۔”
سحرش اسکے قریب آئی تھی۔
“ٹھیک ہے۔۔اب صبح کا بھولا جب گھر آ ہی گیا ہے تو میں اسے بھولا نہیں کہوں گی۔”
ایمان مسکراتے ہوئے بولی تو پہلے تو وہ سبھی ہنس دیں اور پھر اسکے پیچھے پڑ گئیں کہ اس نے ان کے بھائی کو بھولا کیوں کہا۔
“ارے ارے بھئی۔۔میں نے محاورہ بولا ہے۔”
وہ روہانسی ہونے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے بولی۔۔۔
“اتنی جلدی تم سب اپنے بھائی کی سائیڈ ہو گئیں۔۔جاؤ۔۔۔اپنے بھائی سے ہی کہنا کہ آئسکریم کھلائے تم لوگوں کو۔”
وہ دروازے کیطرف بڑھی اور اس سے پہلے کہ ان میں سے ایک بھی اسے پکڑتی وہ کمرے سے نکل گئی۔
“چلو شکر ہے۔۔لوٹ کر بُدھو گھر کو آئے۔”
پرخہ نے ان سب کی طرف دیکھا تو سبھی ایک بلند بانگ قہقہ فضا میں بلند ہوا جو باہر دروازے سے لگی ایمان تک بھی پہنچ گیا تھا۔
“کیا کہا۔۔۔؟؟”
اب وہ دروازہ کھولے اندر جھانک رہی تھی۔۔چہرے پہ چھایا بناوٹی غصہ ان سے چھپ نہ سکا۔
“آ۔۔۔میں کہہ رہی تھی شکر ہے سب اچھے سے ہو گیا۔”
پرخہ نے چہرے پہ سنجیدگی سجائے کہا۔
“ویسے کتنی اچھی جوڑی ہے نا۔۔ایک بھولا اور دوسرا بُدھو۔۔۔”
فائقہ چٹکلہ چھوڑنے سے باز نہ رہ سکی۔۔اس کی بات سن کر کمرہ ایک بار پھر زعفران زار ہو گیا لیکن اس بار ان کے ساتھ ایمان بھی شامل تھی۔ ___________________________________________
رمضان کا آخری عشرہ چل رہا تھا۔سبھی عبادتوں میں مشغول تھے۔ایمان نے ایک دو بار غزنوی کو کال کرنے کی کوشش کی تھی مگر وہ اس شدید ناراضگی ظاہر کر رہا تھا۔اسکی کال پک نہیں کر رہا تھا۔عقیلہ بیگم اور شمائلہ بیگم نے کئی مرتبہ اسے بلایا مگر وہ کام کا بہانا بنا کر ان کی بات ٹال جاتا۔
آج بھی افطاری کے بعد جب ایمان نے اسے کال کی تو اس نے کال پک نہیں کی۔ایمان نے فون بند کر کے ڈراور میں ڈال دیا۔
پھر کچھ دیر بعد وہ عقیلہ بیگم کے لئے چائے لے کر ان کے کمرے میں آئی تو وہ غزنوی سے ہی بات کر رہی تھیں۔شمائلہ بیگم بھی وہیں موجود تھیں۔اسے شدت سے اس بات کا احساس ہوا کہ وہ اس سے بات نہیں کرنا چاہتا۔
“بس اب کتنے کم دن رہ گئے ہیں۔۔اب بھی تمھیں کام کی ہی پڑی ہے۔”
عقیلہ بیگم اسکے بار بار انکار پہ ناراضگی ظاہر کرتی بولیں۔
“دو تین دن پہلے آ جاؤں گا شاہ گل۔۔ایک بہت ضروری کام نبٹا رہا ہوں۔۔جیسے ہی ختم ہو گا میں آپکے پاس ہوں گا۔”
وہ فوراً بولا۔
“لائیں شاہ گل مجھے دیں میں بات کرتی ہوں۔”
شمائلہ بیگم نے فون کیطرف ہاتھ بڑھایا۔
“ہاں یہ لو۔۔۔تمھاری ماں بات کرنا چاہ رہی ہے۔”
عقیلہ بیگم نے غزنوی سے بات کر کے فون شمائلہ بیگم کیطرف بڑھا دیا۔شمائلہ بیگم نے فون ان کے ہاتھ سے لے لیا اور ایک نظر دروازے کے بیچوں بیچ کھڑی ایمان کو دیکھا۔وہ ٹرے ہاتھ میں لئے دھیرے دھیرے چلتی ان کے قریب آئی۔وہ دونوں بیڈ پہ آمنے سامنے بیٹھی تھیں۔ایمان نے ٹرے ان دونوں کے بیچ رکھ دی۔
“ایمان۔۔۔!! بیٹا تمھارے داجی آ گئے ہیں؟”
عقیلہ بیگم نے اس سے پوچھا۔غزنوی کے کانوں تک بھی ان کا جملہ پہنچ گیا تھا۔
“نہیں۔۔ابھی تک نہیں آئے۔۔آپکو کچھ اور چاہیئے؟”
اس نے ان سے پوچھا اور پھر ان کے نفی میں سر ہلانے پر دروازے کیطرف بڑھ گئی۔
“کب آ رہے ہو تم۔۔۔سیدھے سیدھے دو دن میں واپس آؤ۔۔ایک تو اتنی دور جا کر بزنس شروع کرنے کی کیا تُک تھی۔۔شکل دیکھنے کو ترس گئی ہوں تمھاری اور تمھیں ماں کی کوئی پرواہ ہی نہیں ہے۔ماں کو ستانے کا اچھا طریقہ ڈھونڈا ہے تم نے۔”
شمائلہ بیگم روہانسی ہو گئیں۔
“ٹھیک ہے صرف دو دن۔۔۔اللہ حافظ۔”
پھر اس نے روم سے نکلتے نکلتے شمائلہ بیگم کو کہتے سنا تھا۔
“کیا کہہ رہا تھا؟”
عقیلہ بیگم اب شمائلہ بیگم کیطرف متوجہ تھیں۔
“کہہ رہا تھا کہ پرسوں آ جائے گا۔”
شمائلہ بیگم نے فون دائیں جانب رکھا اور چائے کا کپ اٹھا کر لبوں سے لگایا۔عقیلہ بیگم نے بھی ان کی تقلید کی تھی جبکہ دروازے سے کان لگائے ایمان کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔۔
________________________________________
پھر وہ واقعی ہی دو دن بعد آ گیا۔۔اس وقت وہ سبھی لان میں بیٹھی چائے کا انتظار کر رہی تھیں۔موسم صبح ہی سے ابر آلود تھا۔کالے بادلوں نے پورے آسمان کو ڈھک رکھا تھا اور سارا دن وقفے وقفے سے بارش ہوتی رہی تھی۔شمائلہ بیگم نے سب کو آج اپنے ہاں افطاری پہ انوائیٹ کیا تھا۔بڑے تو افطاری کے بعد ہال کمرے میں جمع ہو گئے تھے جبکہ وہ ساری لان میں آ گئی تھیں۔ایمان ان کے لئے چائے بنا رہی تھی۔سب سے پہلے اس نے چائے بنا کر شگفتہ کے ہاتھ ہال کمرے میں بھجوائی اور پھر ان کے لئے چائے لئے لان میں آ گئی۔وہ ساری خوش گپیوں میں مصروف تھیں۔آجکل انکی باتوں کی تان عید اور عید کی شاپنگ پہ آ کر ٹوٹتی تھی۔ابھی بھی سب اپنے اپنے ڈریسز ڈسکس کر رہی تھیں اور ساتھ ہی ساتھ فائقہ کو چھیڑنے میں مگن تھیں کیونکہ اسکا ایک بہت اچھا رشتہ آیا تھا اور گھر کے بزرگوں کا ارادہ تھا کہ عید کے بعد بات فائنل کی جائے گی۔
“ارے بھئی تم سب اسے کیوں چھیڑ رہی ہو؟”
ایمان ان پاس آ کر بیٹھ گئی۔
“چائے کہاں ہے بہو رانی۔۔۔”
پرخہ اس کو اب اسی طرح پکارتی تھی۔
“آ رہی ہے۔۔۔”
وہ ہنسی۔
“کیسے آ رہی ہے۔۔۔خود چل کر۔۔؟”
عنادل نے غیر سنجیدگی سے کہا۔
“شگفتہ لا رہی نا۔”
ایمان نے اسکے گالوں پہ چٹکی کاٹی۔
“ویسے کیا خیال ہے آپکو چھیڑ لیا جائے۔”
لاریب نے ایمان کی آنکھوں میں جھانکا۔
“خبردار۔۔۔۔۔”
ایمان نے شہادت کی انگلی اٹھا کر وارن کیا۔
“لاریب۔۔۔بس یہ بچپنا چھوڑ دو۔”
پرخہ نے لاریب کو ٹوکا۔۔جس نے آج کل یہ وطیرہ اپنایا ہوا تھا کہ جہاں کہیں ایمان کو دیکھتی غزنوی کا نام لے لے کر اسکے ناک میں دم کیے رہتی۔
“اچھا۔۔۔۔”
لاریب نے منہ پر انگلی رکھی۔
“لکھ دے کہ سانوریا کیا بیقرار ہے
انکھیوں میں بھیگے بھیگے کجرے کی دھار ہے۔۔
ہوتی نہیں صبح سے شام لکھ دے۔۔
چٹھی زرا سیاں جی کے نام لکھ دے۔۔
حال میرے دل کا تمام لکھ دے۔۔”
منہ پہ انگلی ہونے کے باوجود وہ گنگنا رہی تھی۔۔اسکی آنکھوں میں رچی شرارت دیکھ کر ایمان نے پیر سے جوتا نکالا۔۔جسے دیکھ کر لاریب فوراً سے پیشتر دور ہٹی۔
اسی دوران گاڑی کے ہارن پہ سب کی نظریں گیٹ کی طرف اٹھیں۔گیٹ کھلتے ہی غزنوی کی گاڑی پورچ میں جا رکی۔۔سب کے ساتھ ساتھ ایمان کی نظریں بھی وہیں ٹکیں تھیں اور ساکت نظروں کیطرح اسکے دل کی دھڑکن بھی رک رک کر چل رہی تھی۔۔
ڈارک بلیو ڈریس شرٹ پہ بلیک ٹائی لگائے ہوئے تھا۔۔۔وہ گاڑی سے نکلا۔۔۔سن گلاسز اب ہاتھ میں پکڑے وہ ان سب کی طرف آ رہا تھا۔
“السلام و علیکم بھائی۔۔!!”
ملائکہ دوڑی گئی بھائی کے پاس۔۔
“کیسے ہیں بھائی۔۔؟”
ملائکہ اسکے سینے سے لگی پوچھ رہی تھی۔
“میں بالکل ٹھیک ہوں۔۔تم سب ٹھیک ہو؟
غزنوی نے کنکھیوں سے ایمان کی طرف دیکھکر نگاہ پھیر لی۔وہ بھی اسی کیطرف دیکھ رہی تھی۔
“الحمداللہ۔۔۔!! ہم سب بھی ٹھیک ہیں۔”
پرخہ آگے آئی۔
“تم لوگ آج یہاں کیوں ڈیرا جمائے ہوئے ہو۔۔”
غزنوی نے چیئر پہ بیٹھتے ہوئے شرارتی انداز میں کہا۔
“کیا مطلب ہے غزنوی بھائی۔۔”
عنادل نروٹھے انداز اسکے سامنے بیٹھتی ہوئی بولی۔وہ ہنسنے لگا۔
“ارے بھئی مذاق کر رہا تھا۔۔چلو تم سب اپنی چائے چائے انجوائے کرو۔۔”
وہ اٹھ کھڑا ہوا اور اندر کیطرف بڑھ گیا۔
“آپی۔۔۔ذرا شگفتہ سے کہہ کر ایک کپ چائے میرے روم میں بھیج دیں۔۔”
وہ جاتے جاتے پلٹ کر پریشے سے بولا۔
“اچھا۔۔۔”
پرخہ نے اثبات میں سر ہلایا۔
“ہمممم۔۔۔۔بلم تو بڑے ناراض لگ رہے ہیں۔”
سحرش نے ایمان کی طرف دیکھا۔۔انداز “اب سنبھالو” والا تھا۔ایمان ایک گہری سانس بھر کر کندھے اچکاتی چائے پینے لگی۔
“ایمان جاؤ چائے بنا کر لے جاؤ۔”
پرخہ نے ایمان کو دیکھا تو وہ کپ ٹیبل پہ رکھتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی۔
“نجانے کب ان دونوں کے بیچ سب ٹھیک ہو گا۔”
سحرش نے دور جاتی ایمان کو دیکھتے ہوئے پریشانی سے کہا۔
“ہاں۔۔۔مجھے بھی انتظار ہے اس وقت کا جب یہ دونوں کسی ناول کے ہیرو اور ہیروئین کیطرح ایک دوسرے کو مسکرا کر دیکھ رہے ہونگے۔”
لاریب نے سحرش کی طرف دیکھا۔
“تم تو نا بس رہنے ہی دو۔”
فائقہ نے لاریب کے سر پہ ایک چپت رسید کی۔
“ناولز کی دنیا سے نکل آؤ لڑکی۔۔۔ناولز کے ہیرو ہیروئن بیچارے ورائٹر کے ہاتھوں مجبور ہوتے ہیں ورنہ حقیقت میں ایسے ہی ہوں۔۔نخریلے اور اکھڑ۔۔۔”
پرخہ کچھ سوچتے ہوئے بولی جبکہ سحرش اسے دیکھ کر رہ گئی۔ __________________________________________
ایمان نے جھٹ پٹ چائے بنائی۔پہلے تو اس نے سوچا کہ جسطرح اس نے اسے اگنور کیا تھا وہ بھی اگنور کرے مگر پھر چائے کی ٹرے شگفتہ کو دینے کی بجائے خود کمرے کی جانب آ گئی۔
دروازے میں دستک دیئے بنا وہ اندر داخل ہو گئی۔کمرے میں خاموشی تھی۔وہ پورے کمرے پہ طائرانہ نظر ڈالتی ٹیبل کیطرف آئی۔واش روم سے پانی گرنے کی آواز آ رہی تھی۔وہ یقینا واش روم میں تھا۔وہ ڈریسنگ کے سامنے آئی۔ایک اچٹتی سی نظر خود پہ ڈالی۔۔ہلکے آسمانی رنگ کے پرینٹڈ سوٹ پہ کئی کئی سلوٹیں موجود تھیں۔صبح سے وہ اسی لباس میں تھی۔اس نے ہاتھ پھیر کر سلوٹیں دور کرنے کی کوشش کی اور چہرے کے گرد بکھری لٹوں کو سنوارا۔اسی دوران کھٹکے کی آواز نے اسے الرٹ کیا۔اس نے نہایت پھرتی دکھاتے ہوئے ٹرے ہاتھ میں اٹھائی۔غزنوی باہر آیا تو وہ ٹرے لئے کھڑی تھی۔وہ لاپروائی ظاہر کرتا ڈریسنگ کیطرف آیا اور بال برش کرنے لگا۔
“چائے۔۔۔۔”
ایمان نے اسکی لاپروائی پہ کُڑتے ہوئے کہا۔
“ہاں تو رکھ دو۔۔۔”
غزنوی کی بےپروائی عروج پہ تھی۔۔اس نے بھی دو حرف بھیجتے ہوئے ٹرے ٹیبل پہ رکھی اور باہر نکل گئی۔غزنوی برش ٹیبل پر رکھا اور چائے کا کپ اٹھا کر ایک گھونٹ بھرا۔
“میری محترمہ۔۔۔کچھ بدلی بدلی سی لگ رہی ہیں۔”
خود سے کہتا وہ مسکرا دیا تھا۔
چائے ختم کرتا وہ اسکی تلاش میں باہر آیا تھا۔۔لاونج میں عقیلہ بیگم اور شمائلہ بیگم بیٹھی تھی۔فائقہ کی شادی زیرِ بحث تھی۔ابھی جب وہ ان سے ملنے ہال کمرے میں گیا تھا تو وہاں بھی یہی موضوع زیرِ بحث تھا۔اسے بھی یہ جان کر بہت خوشی ہوئی تھی۔
“امی۔۔۔بھوک لگی ہے کچھ کھانے کو ملے گا۔۔افطاری میں ایک سینڈوچ ہی کھا پایا تھا۔”
وہ شمائلہ بیگم اور عقیلہ بیگم کے درمیان آ کر بیٹھ گیا تھا۔
“اچھا۔۔۔میں لے کر آتی ہوں کچھ۔”
شمائلہ بیگم اٹھ کر باورچی خانے کی طرف بڑھ گئیں۔
“تمھارے داجی کہہ رہے تھے کہ تم بزنس یہاں شفٹ کر رہے ہو۔”
عقیلہ بیگم کے لہجے میں چھلکتی خوشی پہ وہ مسکرا دیا۔
“جی شاہ گل۔۔۔میری بیگم مجھ سے زیادہ آپ لوگوں کے پاس رہنا پسند کرتی ہے اور جب دیکھو آپ لوگ ظالم سماج بن کر میرے اور میری بیوی کے بیچ آ جاتے ہیں۔”
وہ شرارت کرنے سے باز نہ آیا۔
“ائے لو۔۔۔یہ لڑکا کیا کہہ رہا ہے۔”
اس سے پہلے کہ عقیلہ بیگم کچھ کہتیں خیرن بوا گھٹنوں پہ ہاتھ رکھتی ان کے پاس آ کر بیٹھ گئیں۔غزنوی کے ساتھ ساتھ عقیلہ بیگم بھی ہنس دیں۔
“اور کیا بوا۔۔۔شرافت کا تو زمانہ ہی نہیں ہے۔۔اور وہ آپکی بہو۔۔۔جن کے دل میں سارے جہاں کا درد تو سمایا ہے لیکن شوہر کا درد ان کے نزدیک کوئی اہمیت ہی نہیں رکھتا۔”
غزنوی نے ایمان کو آتے دیکھکر شرارت پہ آمادہ دکھائی دیا۔
“ہائے۔۔۔یہ میں کیا سن رہی ہوں۔۔اے بہو ذرا ادھر آنا۔”
خیرن بوا نے بھی ایمان کو لاؤنج میں آتے دیکھ لیا تھا۔ایمان نے ایک غصیلی نظر غزنوی پہ ڈالی اور عقیلہ بیگم کے پاس آ کر بیٹھ گئی۔
“جی بوا۔۔”
ایمان نے یہ ظاہر کیا کہ اس نے کچھ سنا ہی نہیں ورنہ غزنوی کی فلک پھاڑ آواز اسکے کانوں تک پہنچ گئی تھی۔
“خیرن شرارت کر رہا ہے۔”
عقیلہ بیگم ہنستے ہوئے بولیں۔
“ہاں بھئی یہ کل کے چھورے اب ہم سے شرارت کریں گے۔۔ائے یہ ہنسی ٹھٹھول اپنی بیوی سے کیا کرو۔بیوی کے سامنے تو ان کی گھگھی بندھ جاتی ہے اور ہمارے سامنے زبان کسی بڑوے کیطرح چلنے لگتی ہے۔”
خیرن بوا کی توپوں کا رخ اب غزنوی کی جانب ہو چکا تھا جبکہ ایمان سے ہنسی ضبط کرنا مشکل ہو گیا۔
“یہ کیا بوا۔۔۔میں اپنا کیس آپکے پاس لے کر آیا ہوں اور آپ مجھ پہ ہی۔۔۔”
وہ اٹھ کھڑا ہوا۔۔جانتا تھا بوا کے چُنگل سے خود کو چھڑانا مشکل ہو جائیگا۔
“اے لو۔۔۔اے بیٹا۔۔پردہ پوشی درست است۔۔(پردہ پوشی اچھی ہوتی ہے)۔”
وہ اپنی پھسلتی ہوئی عینک کو واپس اپنی چھوٹی سی گول ناک پہ جماتے ہوئے بولیں تو غزنوی سر کھجانے لگا۔
“ائے کو میں تو بھول ہی گئی۔۔کس کام سے آئی تھی اور کیا کر بیٹھی۔۔ائے تمھاری ماں باورچی خانے میں بلا رہی ہیں تمھیں۔۔”
وہ پیشانی پہ ہاتھ مارتی ہوئی غزنوی سے بولیں۔
“جی بوا۔۔۔”
اندھا کیا جانے دو آنکھیں کے مصداق وہ کچن کیطرف بڑھا۔
“بوا مجھے آپ سے اور شاہ گل سے ایک بہت ضروری بات کرنی ہے۔”
ایمان اپنا موبائل فون گود میں رکھتے ہوئی ان کے قریب ہوئی۔
“ہاں ہاں کہو۔۔۔خیر تو ہے نا۔۔؟”
خیرن بوا اور عقیلہ بیگم کے چہرے پہ حیرانی کے ساتھ ساتھ پریشانی کے رنگ بھی نمایاں ہوئے۔ایمان کبھی اسطرح بات کی نہیں تھی اس لئے وہ پریشان ہو گئی تھیں۔
“ارے بوا۔۔۔سب خیر ہے۔۔آپکو اگر یاد ہو تو شادی میں غزنوی کا ایک دوست آیا تھا۔وہ اونچا لمبا سا۔۔”
ایمان نے انہیں یاد دلانے کی کوشش کی۔
“ائے ہاں۔۔۔وہ نٹ کھٹ سا۔۔ہاں ہاں یاد ہے۔”
خیرن بوا یاد آتے ہی بولیں تھیں۔
“کمیل کی بات کر رہی ہو؟”
عقیلہ بیگم نے کہا تو ایمان نے اثبات میں سر ہلایا۔
“ابھی کچھ دیر پہلے کمیل کی والدہ کا فون آیا تھا مجھے۔۔شاید غزنوی نے ان کو میرا نمبر دیا ہو گا۔دراصل وہ اپنے بیٹے کمیل کے لئے آپکی بھانجی رقیہ کا رشتہ مانگا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر بلقیس خالہ راضی ہوں تو وہ باقاعدہ رشتہ لے کر آئیں گی۔میں نے سوچا کہ پہلے آپ سے بات کر لوں پھر یہ خوشخبری بلقیس خالہ کو بھی دے دوں گی۔ویسے تو کمیل بہت اچھا لڑکا ہے لیکن آپ غزنوی سے اسکے متعلق پوچھ سکتی ہیں۔”
ایمان نے تفصیل سے انہیں بتایا۔۔یہ سن کر تو خیرن بوا کے چہرے پہ خوشی کے رنگ چَھلکے پڑ رہے تھے۔
“اے بہو۔۔۔تم نے کتنی بڑی خوشی کی خبر سنائی ہے۔۔اللہ تمھیں خوشیاں دے۔سدا اپنے میاں کے دل پہ راج کرو۔”
خیرن بوا نے اسے اپنے سینے میں بھینچ لیا۔
“خیرن یہ تو بہت بڑی خوشخبری ہے۔۔کمیل بہت اچھا اور شریف لڑکا ہے اور پھر سب سے بڑھ کر ہمارے غزنوی کا دوست ہے۔میں تو کہتی ہوں کہ دیر نہ کرو۔۔آج ہی بلقیس بہن سے بات کرو۔”
عقیلہ بیگم بھی یہ سن کر بہت خوش ہوئی تھیں۔
“ائے ہاں۔۔ابھی بات کرتی ہوں۔۔ٹھہرو زرا میں نمبر لے کر آتی ہوں۔نیک کام میں دیر نہیں کرنی چاہیئے۔”
وہ اٹھ کھڑی ہوئیں۔۔
“ارے خیرن تم بیٹھو۔۔۔جاؤ ایمان تم لے آؤ بوا کی ڈائری۔۔”
ایمان اٹھ کر تیز تیز قدموں سے لاؤنج سے باہر چلی گئی۔اسے پتہ تھا کہ بوا کے پاس ایک چھوٹی سی ڈائری ہے جس سارے رشتے داروں کے نمبر انہوں نے فائقہ سے لکھوا رکھے تھے۔وہ جلدی سے ڈائری کے آئی اور بلقیس بیگم کے بیٹے احمد کا نمبر ڈائل کیا۔پہلے رقیہ کے پاس بھی موبائل تھا لیکن پھر بہو کی شکی طبیعت کے باعث انہوں نے اس سے موبائل کے کر بیٹے کو دے دیا تھا۔
ایمان نمبر ڈائل کر رہی تھی جبکہ وہ دونوں نہایت اشتیاق سے اسے دیکھ رہی تھیں۔
جاری ہے۔۔
