Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj NovelR50730 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode09
No Download Link
634K
18
Rate this Novel
Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode01 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode02 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode03 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode04 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode05 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode06 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode07 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode08 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode09 (Watching)Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode10 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode11 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode12 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode13 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode14 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode15 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode16 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode17 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Last Episode
Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode09
Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode09
ایمان کے جانے سے ایک مستقل اداسی نے جیسے گھر کا راستہ ہیدیکھ لیا تھا۔ہر دم اسے ایمان کی کمی محسوس ہوتی۔اسے گئے دودن ہو چکے تھے۔گھر کے ہر کونے میں اس کا احساس اجاگر ہوتا۔غزنوی کا دل جیسے ہر ایک شے سے اچاٹ ہو گیا۔صبح آفس کے لئےنکلتا تو رات گئے تک واپسی ہوتی۔۔
ایک دو بار اس نے گھر فون کیا اور دونوں بار اسکی بات شمائلہ بیگمسے ہوئی۔انہوں نے اس سے کسی قسم کی کوئی بات نہیں کی تھی لیکن ان کے لہجے سے چھلکتی سنجیدگی اسے اس بات کا یقین دے رہی تھی کہ ان سے کچھ چھپایا نہیں گیا۔اس نے ڈھکے چھپے الفاظ میں ایمان کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بزی ہے کہہ کر اسکی بات نہیں کروائی۔وہ ایمان سے بات کرنا چاہتا تھا۔۔اس سے اپنی کی گئی زیادتی کی معافی مانگنا چاہتا تھا مگر اسکی بات ہی نہیں ہو پا رہی تھی۔
آج بھی آفس میں لنچ بریک کے بعد اس نے گھر کے لینڈ لائن پہ فون کیا تو خیرن بوا کی آواز سن کر اس نے کوئی بات نہیں کی اور کال کاٹ دی۔
اچانک ایک خیال بجلی کیطرح اس کے ذہن میں آیا اور اپنی بیوقوفی پہ خود کو خوب صلواتیں سنائیں۔اس نے فوراً ملائکہ کو فون کیا۔وہ بےقراری سے اس کے کال پک کرنے کا منتظر تھا۔چوتھی بیل پہ فون اٹھا لیا گیا۔
“السلام علیکم بھائی۔۔!!”
وہ اس وقت لاریب کے ساتھ اسکے روم میں بیٹھی اسکی شاپنگ دیکھ رہی تھی کہ موبائل اسکرین پہ بلنک کرتا بھائی دیکھ کر اس نے فورا فون ریسیو کیا۔
“وعلیکم السلام۔۔!! کیسی ہو ملائکہ اور باقی سب کیسے ہیں؟”
غزنوی نے پیون کے ہاتھ سے فائل لی اور اسے جانے کا اشارہ کرتے ہوئے بولا۔
“الحمداللہ بھائی سب ٹھیک ہیں۔۔آپ کیسے ہیں؟”
ملائکہ نے طے کیا ہوا ڈریس کھولا۔
“میں بھی ٹھیک ہوں۔۔ملائکہ ایمان سے بات کروانا۔”
غزنوی بناء جھجکے کہا۔
“بھائی ابھی تو میں لاریب کیطرف آئی ہوں۔۔تھوڑی دیر تک واپس جا کر بات کرواتی ہوں۔”
اس نے لاریب کو دیکھا۔
“نہیں مجھے ابھی بات کرنی ہے۔۔ابھی جاو۔۔میں پانچ منٹ بعد فون کرتا ہوں۔”
اس سے پہلے کہ وہ فون بند کرتی غزنوی فورا بولا۔
“لیکن بھائی۔۔۔تھوڑی دیر بعد۔۔۔”
“میں نے کہا نا مجھے ابھی بات کرنی ہے۔۔”
حسب معمول وہ بھڑک گیا۔
“جی اچھا۔۔”
وہ دھیرے سے بولی اور بیڈ سے اتری۔دوسری جانب غزنوی کال کاٹ چکا تھا۔ملائکہ گھر آئی تو لاونج لیکن کوئی بھی نہیں تھا۔وہ سیدھی کچن میں آئی۔
“امی۔۔!! ایمان کہاں ہے؟”
کچن میں ایمان کو موجود نہ پا کر اس نے شمائلہ بیگم سے پوچھا۔
“وہ اپنے روم میں ہے۔۔طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی اسکی۔”
انہوں نے بتایا تو وہ پلٹ کر جانے لگی۔
“ملائکہ یہ جوس بھی لے جاو اسکے لئے۔”
شمائلہ بیگم نے ٹرے اسکی طرف بڑھایا۔ملائکہ نے ان کے ہاتھ سے ٹرے لی اور کچن سے نکل آئی۔ایمان کے کمرے کا دروازہ بند تھا۔وہ بناء دستک دیئے کمرے میں داخل ہو گئی۔ایمان بیڈ پہ لیٹی تھی۔ملائکہ کو اندر آتا دیکھ کر اٹھ بیٹھی۔
“تم اتنی جلدی آ گئیں؟”
اس نے ملائکہ کو ٹرے ٹیبل پہ رکھتے دیکھ کر پوچھا۔
“ہاں۔۔۔چلو یہ لو جوس پیو اور کیا ہوا ہے تمھیں؟”
ملائکہ نے گلاس اسکی طرف بڑھایا جو ایمان نے تھام لیا۔
“کچھ نہیں۔۔میں ٹھیک ہوں۔”
ایمان نے جوس کا گلاس لبوں سے لگایا۔
“ٹھیک لگ تو نہیں رہیں۔۔آئینے میں چہرہ دیکھا ہے اپنا۔۔”
ملائکہ اسکے پاس ہی بیٹھ گئی اور اسکے سرخ چہرے کو بغور دیکھتے ہوئے کہا۔اسکی بات سن کر اس نے کوئی جواب نہیں دیا اور خاموشی سے جوس پینے لگی۔اسی دوران موبائل فون کی رنگ ٹون نے کمرے میں گونجتی خاموشی کو توڑا۔ملائکہ نے ہاتھ میں پکڑے موبائل فون کو دیکھا۔
“جی بھائی۔۔۔یہ لیں بات کریں۔”
اس سے پہلے کہ وہ کچھ سمجھتی، ملائکہ نے فون اسکی طرف بڑھایا اور خود برق رفتاری سے کمرے سے نکل گئی۔غزنوی کی ہیلو ہیلو کرتی آواز واضح سنائی دے رہی تھی۔اس نے گلاس سائیڈ ٹیبل پہ رکھا اور فون کان سے لگایا۔
“ہیلو۔۔۔!! ایمان۔۔!”
دوسری جانب بیتابی سے پکارا گیا۔
“السلام و علیکم۔۔!!”
اس نے سلام کیا۔
“وعلیکم السلام۔۔!! کیسی ہو؟”
ایمان کی آواز سن کر اسے لگا جیسے تپتے صحرا سے وہ نخلستان میں آ گیا ہو۔دل کو ایک سکون نے اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔
“ٹھیک۔۔۔آپ کیسے ہیں؟”
آنکھوں میں ڈولتی میں ملکوں کی باڑ کو پار کیا۔
“میں ٹھیک ہوں۔”
وہ اسکے خاموشی سے بہتے آنسوؤں سے بےخبر بولا۔دوسری جانب وہ بالکل خاموش رہی۔
“ایمان۔۔۔اس دن جو کچھ بھی ہوا، وہ ایک غیر ارادی فعل تھا۔میں بہت شر۔۔۔۔”
“مجھے اس بارے میں کوئی بات نہیں کرنی۔۔میں جانتی ہوں کہ آپکی نظر میں میری کیا وقعت ہے۔غلطی میری ہی تھی۔”
اس سے پہلے کہ وہ اپنی بات مکمل کرتا۔۔وہ جھٹ بولی۔اسکے لہجے کی سختی غزنوی کو سُن کر گئی۔وہ آگے کچھ بھی نہ بول سکا۔
“اب اگر آپ نے مزید کچھ نہیں کہنا تو میں فون رکھوں؟”
کچھ پل یونہی خاموشی کے ساتھ گزرے تو ایمان نے پوچھا۔غزنوی جو اس کے اسکے الفاظ کی سختی کی گہرائی کو ناپنے میں لگا تھا، ہوش میں آیا۔
“آئی ایم ایکسٹریملی۔۔۔”
“میں نے کہا نا مجھے اس بارے میں کوئی بات نہیں کرنی اور نا ہی مجھے آپ کی معافی تلافی کی ضرورت نہیں ہے۔”
ایمان کی سرد آواز اسکے کانوں سے ٹکرائی۔وہ خاموش ہو گیا۔
“اچھا میں گل خان کو بھیج رہا ہوں۔۔تم واپس آ جاو۔۔رمضان شروع ہونے والا ہے۔۔میں اکیلا کیسے گزاروں گا۔”
غزنوی نے اسکی سختی کے جواب میں نہایت نرمی سے کہا۔۔وہ جواب میں کچھ نہ بولی۔
“ایمان میں کچھ کہہ رہا ہوں۔”
غزنوی کو اسکی خاموشی کھٹکنے لگی۔
“جی۔۔۔۔”
ایمان سے کچھ اور نہ بن پڑا تو دھیرے سے بولی۔
“گڈ۔۔۔اور سنو۔۔اگر شاہ گل تمھیں روکنا بھی چاہیں تو مت رکنا۔۔میں ابھی بھیجتا ہوں گل خان کو۔۔تم اپنی پیکنگ کر لو۔۔اللہ حافظ۔۔!!”
غزنوی نے اپنی بات ختم کرنے کے ساتھ ہی فون بند کر دیا۔وہ اسے کچھ کہنا چاہتی تھی مگر کہہ نہیں پائی۔وہ اسے روکنا چاہتی تھی کیونکہ اسے معلوم تھا کہ اب عقیلہ بیگم اسے نہیں جانے دیں گی۔
فون بند ہو چکا تھا مگر اسکی آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب رواں ہو چکا تھا۔ملائکہ کمرے میں آئی تو وہ چہرہ ہاتھوں میں چھپائے ہچکیوں سے رو رہی تھی۔
“ایمان۔۔۔کیا ہوا۔۔؟ کیا بھائی نے پھر کچھ کہہ دیا ہے؟”
وہ اسے یوں روتا دیکھ کر اس کے پاس آئی اور اسکے چہرے سے ہاتھوں کو ہٹایا۔اسطرح رونے سے چہرہ بےتحاشا سرخ ہو رہا تھا۔ملائکہ نے اسے گلے سے لگایا اور اسی پیٹھ سہلاتے ہوئے اسے چپ کرانے لگی۔
“آخر پتہ تو چلے۔۔۔کیا کہا ہے بھائی نے؟”
کافی دیر بعد جب اسکے رونے میں کمی آئی تو ملائکہ نے اسے خود سے الگ کیا۔
“وہ گل خان کو مجھے لینے بھیج رہے ہیں۔”
وہ روتے ہوئے بولی۔
“اف۔۔۔یہ بھائی بھی نا۔۔۔تو تم کیوں رو رہی ہو۔۔شاہ گل نے تم سے وعدہ کیا ہے نا کہ اب وہ تمھارے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہونے دیں گی تو پھر کیوں پریشان ہوتی ہو۔۔۔بھائی اگر گل خان کاکا کو بھیجتے ہیں تو بھیجتے رہیں۔۔شاہ گل تمھیں ان کے ساتھ نہیں جانے دیں گی۔”
ملائکہ نے اسکے آنسو پونچھے۔
اب وہ اسے کیا بتاتی کہ وہ کیوں رو رہی ہے۔۔کیوں اسکا دل درد سے پھٹا جا رہا ہے۔
“اور ہاں ابھی وکیل صاحب بھی آئے ہوئے ہیں، داجی اور شاہ گل نے بلایا ہے انہیں۔۔داجی کے کمرے میں بیٹھیے ہیں۔۔۔بابا بھی وہیں ہیں۔”
ملائکہ نے بتایا تو وہ رونا بھول کر اسے دیکھنے لگی۔
“اسکا مطلب ہے۔۔۔”
اسکے ہاتھ سے فون گود میں جا گرا۔
“اسکا مطلب ہے کہ شاہ گل فیصلہ کر چکی ہیں اور اب تو انھیں داجی اور بابا کی حمایت بھی حاصل ہے۔جبکہ امی کو ان کا یہ فیصلہ بالکل پسند نہیں آیا، ان کا کہنا ہے کہ اس بارے میں غزنوی سے بات کی جا سکتی ہے۔اسے سدھرنے کا ایک موقع دینا چاہیئے۔۔لیکن شاہ گل اپنے فیصلے سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہو رہی ہیں۔ابھی امی نے مجھے بتایا کہ۔۔۔۔”
“ایمان۔۔!! بیٹا تمھیں داجی بلا رہے ہیں۔”
ملائکہ اسے بتا ہی رہی تھی کہ شمائلہ بیگم کمرے میں داخل ہوئی اور ایمان کو مخاطب کیا۔
“مم۔۔۔مجھے۔۔کیوں۔۔؟”
ایمان کا چہرہ سفید پڑا تھا۔
“ملائکہ زرا تم کچن میں جاؤ۔۔شگفتہ سے کہو اگر چائے تیار ہے تو داجی کے کمرے میں دے آئے۔”
شمائلہ بیگم نے ملائکہ کو منظر سے ہٹانا چاہا۔۔وہ سر ہلاتی وہاں سے چلی گئی۔
“میرے بہت منع کرنے کے باوجود شاہ گل، داجی اور تمھارے بابا نے خلع کے پیپرز بنوا لیے ہیں۔”
انہوں نے اسکے سر پہ بم پھوڑا۔۔۔انکی بات سن کر اسکا دل جیسے دھڑکنا بھول گیا۔وہ منہ کھولے انھیں دیکھ رہی تھی۔اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ شاہ گل اسکے لئے یہ فیصلہ کیے بیٹھیں ہیں۔آنسو پھر ایک تواتر سے اسکی آنکھوں سے بہنے لگے تھے۔
“اب فیصلہ تمھارے ہاتھ میں ہے بیٹا۔۔۔تم بہت اچھی اور صابر بچی ہو۔۔تم مجھے ویسے ہی عزیز ہو جیسے ملائکہ۔۔خدا گواہ ہے میں نے کبھی تمھیں اپنی بہو نہیں بلکہ بیٹی مانا ہے۔مجھے یقین ہے کہ وہ تمھاری طرف ضرور راغب ہو گا۔۔بس تھوڑا سا صبر اور انتظار۔۔۔”
وہ اسکا ہاتھ ہاتھوں میں لیے اسے سمجھا رہی تھیں۔
“امی یہ انتظار لاحاصل ہے۔۔مجھے نہیں لگتا کہ وہ میرے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔۔میں اگر انتظار کر بھی لوں تو پھر آگے ایک سوالیہ نشان مجھے صاف دکھائی دیتا ہے۔میں رہی ہوں وہاں ان کے ساتھ۔۔وہ مجھ بات تک نہیں کرنا پسند نہیں کرتے۔مجھے اپنا آپ وہاں ایک ایسے سامان کیطرح لگتا ہے جسکی ضرورت کسی کو نہیں۔وہ نہیں رہنا چاہتے میرے ساتھ۔۔”
وہ بلک بلک کر رو دی۔
“میں مانتی ہوں کہ وہ تھوڑا غصیلہ ہے، ضدی ہے۔۔۔مگر ایمان میں نے اسکی آنکھوں میں تمھارے لیے چاہ دیکھی ہے۔وہ اظہار نہیں کر پاتا کیونکہ اپنی نام نہاد ضد اور انا کے آگے گھٹنے ٹیکنا اس جیسے مرد کے لئے آسان نہیں جس کے آگے اپنے فیصلے اہمیت رکھتے ہوں۔جو صرف اپنے بنائے گئے راستے پر چلنا چاہتا ہو۔تم اسے وقت دو، مجھے یقین ہے کہ تم جو اس سے پیچھے رہ گئی ہو، وہ تمھیں ساتھ لے جانے کے لئے لوٹ آئے گا۔”
وہ اسکا حوصلہ بڑھا رہی تھیں۔۔اسے مستقبل کے حسین خواب دکھا رہی تھیں۔
“ایسا کچھ بھی نہیں۔۔۔وہ مجھ سے صرف صرف نفرت کرتے ہیں۔میں کیسے اس انتظار میں کھڑی رہوں کہ وہ میری جانب پلٹیں گے۔میرے پاؤں پہلے ہی اس خاردار راستے پہ چل چل کر چھلنی ہو چکے ہیں۔میں تنہا سفر کرتے کرتے بہت تھک گئی ہوں۔”
وہ ان کے ہاتھوں کو آنکھوں سے لگا کر رو دی۔
“تو تمھارا بھی وہی فیصلہ ہے جو باقی سب کا ہے؟”
انہوں نے اسکی آنکھوں میں جھانکنا چاہا، مگر وہ نظریں جھکا گئی۔
“اچھا جاؤ۔۔۔۔لیکن میری ایک بات یاد رکھنا کہ تمھارے ہر فیصلے میں، میں تمھارے ساتھ ہوں۔”
شمائلہ بیگم نے اسکا چہرہ اونچا کیا۔
“مجھے بھروسہ ہے آپ پر۔۔۔”
وہ آنکھوں میں محبت و عقیدت لئے انہیں دیکھ رہی تھی۔شمائلہ بیگم نے اس کا ماتھا چُوما اور اسے لئے کمرے سے نکل آئیں۔
“ایمان بی بی۔۔۔داجی آپکو بلا رہے ہیں۔”
وہ شمائلہ بیگم کے ساتھ داجی کے کمرے کے پاس پہنچی ہی تھی کہ شگفتہ کمرے سے باہر آئی اور اسے وہیں کھڑے دیکھ کر کہا۔
“جاؤ تم۔۔”
شمائلہ بیگم اسے اندر جانے کا کہتیں شگفتہ کے ساتھ وہیں سے پلٹ گئیں۔ایمان کچھ دیر وہیں کھڑی رہی پھر دروازے پہ دستک دی۔اندر سے اجازت ملتے ہی وہ دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی۔
“السلام و علیکم۔۔!!”
اس نے اندر بیٹھے افراد کو سلام کیا۔
“وعلیکم السلام۔۔! ایمان یہاں آؤ بیٹا۔۔”
اعظم احمد اسے دیکھ کر اپنی جگہ سے کھڑے ہو گئے اور اسے اپنے پاس بلایا۔وہ دھیرے دھیرے قدم اٹھاتی ان کے پاس آئی۔انہوں نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا اور خود بھی بیٹھ گئے۔
“بیٹا۔۔!! مجھے بہت افسوس ہے کہ میں تمھارے والد اور جرگے کے بڑوں سے کیا ہوا وعدہ نہیں نبھا پایا۔تمھیں اس گھر میں جو مقام ملنا چاہیئے تھا ہم سب وہ بھی نہیں دے پائے۔میں جانتا ہوں کہ تمھارے ساتھ ساتھ میں نے غزنوی کی زندگی بھی خراب کی۔تم دونوں ایک دوسرے کے ساتھ خوش نہیں ہو یہ جان کر مجھے اس قدر تکلیف ہوئی ہے کہ بتا نہیں سکتا۔میں تو تم دونوں کو ہنستا بستا دیکھنا چاہتا تھا۔اسی لئے میں نے غزنوی کو دوسرے شہر میں بزنس کرنے دیا تاکہ تم دونوں کو ایک دوسرے کو سمجھنے کا موقع ملے۔مگر تمھاری شاہ گل نے جو کچھ مجھے بتایا اس کے لئے میں تم سے بہت شرمندہ ہوں۔مجھے پتہ تھا کہ وہ ضدی ہے، غصے کا تھوڑا تیز ہے مگر پھر بھی میں نے تمھارے لئے اس کا انتخاب کیا۔اس نے جو کچھ کیا اس کے لیے میں تم سے معافی مانگتا ہوں۔”
وہ سر جھکائے بولے۔
“داجی یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں۔۔مجھے آپ سے کوئی شکایت نہیں ہے۔آپ نے جو بھی فیصلہ کیا تھا وہ میرے لئے بہت قابلِ احترام ہے۔اپ نے مجھے جو عزت دی، جو پیار اور عزت مجھے یہاں سے ملی، یہ میری خوش قسمتی ہے۔۔کمی شاید مجھ میں ہی تھی۔۔میں ہی اس رشتے کو نہیں نبھا پائی۔آپ سب نے مجھے جو عزت اور محبت دی ہے، اس کا احسان تو میں زندگی بھر نہیں اتار سکتی۔”
ایمان کو اعظم احمد کا شرمندہ ہونا تکلیف دے رہا تھا۔
“احسان مت کہو اسے بیٹا۔۔۔تم مجھے بہت عزیز ہو۔اسی محبت اور احترام کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے اور تمھاری شاہ گل نے تمھارے لئے ایک فیصلہ کیا ہے۔ہم نے تمھیں اسی لئے یہاں بلایا ہے۔۔لیکن اس سے پہلے کہ میں تمھیں ہمارا فیصلہ بتاوں، میں تم سے جاننا چاہتا ہوں کہ تم کیا چاہتی ہو۔میں اس بار اپنا فیصلہ تم پر تھوپنا نہیں چاہتا۔تمھیں یقین دلاتا ہوں کہ جو فیصلہ تمھارا ہو گا، وہی ہمارا فیصلہ ہو گا۔”
اعظم احمد نے اسکے سر پہ ہاتھ رکھا۔
ایمان نے ایک نظر عقیلہ بیگم کو دیکھا۔انہوں نے آنکھوں ہی آنکھوں میں اسے اشارہ کیا۔
“ایمان۔۔!! بیٹا جو دل میں ہے وہ کہو۔۔کوئی زبردستی یا زیادتی نہیں ہو گی تمھارے ساتھ۔”
عقیلہ بیگم نے اسکی بےچینی محسوس کرتے ہوئے کہا۔
“داجی۔۔!! آپ سب میرے لئے بہت محترم ہیں۔پہلے بھی آپکے فیصلے پہ مجھے کوئی اعتراض نہیں تھا اور اب بھی آپ جو فیصلہ کریں گے، میرا بھی وہی فیصلہ ہو گا۔”
وہ عقیلہ بیگم کی طرف دیکھتے ہوئے بولی۔
“ہم نے ایک فیصلہ کیا ہے تمھارے لئے اور میں امید کرتا ہوں کہ یہ فیصلہ تمھارے حق میں بہتر ہو۔”
اعظم احمد نے یہ کہتے ہی سامنے بیٹھے وکیل صاحب کو اشارہ کیا۔وکیل صاحب نے ٹیبل پر سے کچھ پیپرز اٹھا کر ایمان کیطرف بڑھائے۔ایمان نے داجی کیطرف سوالیہ نظروں سے دیکھا۔۔پھر ان کے اشارہ کرنے پر اس نے پیپرز تھام لئے۔اس تمام عرصے میں غزنوی کے والد بالکل خاموش بیٹھے اس کی جانب دیکھ رہے تھے۔
“یہ کیا ہے؟”
ایمان نے اعظم احمد کی جانب دیکھا۔
“ہم نے فیصلہ کیا ہے تمھارے اور غزنوی کے مابین جو یہ رشتہ ہے اسے ختم کر دیا جائے۔”
انہوں نے بناء لگی لپٹی رکھے کہا۔
“داجی میں سمجھی نہیں۔”
وہ یا تو سچ میں ان کی بات کا مطلب نہیں سمجھی تھی یا پھر جو وہ کہہ رہے تھے وہ سمجھنا نہیں چاہتی تھی۔
“میں نے اور تمھارے داجی نے تمھاری اور غزنوی کی علیحدگی کا فیصلہ کیا ہے۔تم دونوں خوش نہیں ہو تو پھر اس رشتے کی سوکھی بیل کو پانی دے کر پروان چڑھانے کی جدوجہد کیوں۔۔۔سوکھی بیلیں کبھی پروان نہیں چڑھتیں۔میں نہیں چاہوں گی کہ تمھاری ساری زندگی اس سوکھے کو سرسبز کرنے میں گزرے۔”
عقیلہ بیگم کے لہجے میں دکھ بول رہا تھا۔
وہ سر جھکائے ہاتھ میں اس نے ان کے لہجے کی اداسی کو پا لیا تھا۔
“ہم نے یہ فیصلہ دل پہ پتھر رکھ کر کیا ہے۔۔تم دونوں ہی ہمیں بہت عزیز ہو اور میں نہیں چاہتی کہ تم یہ سوچو کہ ہم غزنوی کا ساتھ دے رہے ہیں۔وہ غلطی پر ہے اور ہم اسکی غلطیوں پر پردہ نہیں ڈال سکتے۔وہ ہماری وجہ سے زبردستی اس رشتے کو نبھا رہا ہے۔”
وہ مزید بولیں۔
“داجی۔۔۔آپ ایک بار مجھے غزنوی سے بات تو کرنے دیں۔۔میں اسکے ہوش ٹھکانے لگا دوں گا۔۔ہم یہ فیصلہ بہت جلدی میں کر رہے ہیں۔۔ہو سکتا ہے کہ وہ ایسا نہ چاہتا ہو۔اس سے ایک بار بات کر لی جائے تو۔۔۔۔”
“سب بتا تو دیا ہے بیٹا تمھیں۔۔۔وہ چاہتا تو اب تک سب ٹھیک ہو جاتا۔جب سے ایمان اس گھر میں آئی ہے میں نے اسکے چہرے پہ حقیقی خوشی نہیں دیکھی۔مجھے نہیں لگتا بات کرنے کا کوئی فائدہ ہو گا۔۔بہتر ہو گا کہ اس قصے کو ختم کیا جائے۔۔”
عقیلہ بیگم نے مکرم احمد کی طرف دیکھا۔وہ بھی ماں کی بات سن کر خاموش ہو گئے کیونکہ وہ ٹھیک کہہ رہی تھیں۔
“ایمان یہ خلع کے کاغذات ہیں۔۔اس پہ تمھارے دستخط چاہیئے تاکہ ہم غزنوی کو بھجوا دیں۔”
اعظم احمد نے کہا تو ایمان کو ایسا لگا جیسے آگ کا ایک بھڑکتا شعلہ اس کے ہاتھ میں ہے جس سے اسکا پورا وجود جلنے لگا ہے۔اس نے پیپرز فوراً ٹیبل پر یوں پھینکے جیسے وہ کوئی اچھوت چیز ہوں اور کھڑی ہو گئی۔اس کا یہ رویہ دیکھکر اعظم احمد اور عقیلہ بیگم نے ایک دوسرے کی جانب دیکھا۔
“ایمان۔۔!! بیٹا ہم نے بہت سوچ سمجھ کر یہ فیصلہ کیا ہے۔تم ہم پہ بھروسہ کرو۔۔ہم تمھیں اکیلا نہیں چھوڑیں گے۔”
اعظم احمد اسکے پاس آئے اور اسکے سر پہ ہاتھ رکھا۔
“مجھے کچھ وقت چاہیئے۔”
اس نے ان کی جانب دیکھے بغیر کہا۔بھوری کانچ جیسی آنکھوں میں ڈولتا پانی باہر آنے کو بیتاب ہونے لگا۔
“ٹھیک ہے۔۔۔لیکن یہ پیپرز لے جاؤ اور اگر ہم سے متفق ہو تو سائن کر دینا ورنہ جو تمھارا فیصلہ ہو گا وہی ہمارا فیصلہ ہو گا اور یہ مت سوچنا کہ ہم تمھیں مجبور کر رہے ہیں۔ہم صرف تمھارا بھلا چاہتے ہیں۔۔لیکن یہ طے ہے کہ تم اب یہیں رہو گی۔”
اعظم احمد نے پیپرز اس کی طرف بڑھائے، جو اس نے کپکپاتے ہاتھوں سے تھام لئے اور پھر کسی کی جانب دیکھے بغیر وہاں سے چلی گئی۔ایک بار پھر اسے اپنا وجود آگ کے شعلوں میں خاکستر ہوتا محسوس ہوا تھا۔
“مجھے لگتا ہے ایمان اس کے لئے تیار نہیں ہے۔۔”
ایمان کے جاتے ہی مکرم احمد بھی اٹھ کھڑے ہوئے اور عقیلہ بیگم کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔عقیلہ بیگم بیٹے کی بات سن کر خاموش رہیں مگر ان کے ماتھے پہ سوچ کی لکیریں ابھری ہوئی تھیں۔ایمان کا یہ طرزِ عمل ان کے لئے حیران کن تھا۔
“عقیلہ بیگم۔۔!! آپ اب اس بارے میں ایمان سے کوئی بات نہیں کریں گی۔اسے یہ فیصلہ خود کرنے دیں اور مکرم تم بھی شمائلہ بہو سے بات کرو کہ وہ بھی اس بارے میں اسے مجبور نہ کرے۔وہ نہیں چاہتی کہ یہ علیحدگی ہو۔اس لئے وہ ضرور ایمان کو منع کرے گی دستخط کرنے سے۔”
اعظم احمد نے مکرم احمد کی جانب دیکھا جو دروازہ کھولے کھڑے تھے۔انہوں نے پلٹ کر دونوں کی طرف دیکھا اور اثبات میں سر ہلاتے وہاں سے چلے گئے۔
“ظہر کا وقت ہو گیا ہے۔۔۔آپ بھی نماز پڑھ لیجئیے۔۔اللہ نے چاہا تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔”
عقیلہ بیگم گھٹنوں پہ ہاتھ رکھتی اٹھ کھڑی ہوئیں۔
“مجھے بہت افسوس ہے کہ میں نے ایک غلط فیصلہ کیا اور ایک معصوم لڑکی زندگی کو مشکلات سے نکالنے کی بجائے اسے مزید کٹھنائیوں میں دھکیل دیا۔ساری زندگی میری کانٹوں پہ گزرے گی اگر میں ایمان کو انصاف نہ دلا سکا۔”
وہ وہیں صوفے پر ڈھے سے گئے۔
“اللہ سب بہتر کرے گا۔۔آپ اپنے آپ کو الزام مت دیں۔۔آپ نے تو اسکا بھلا ہی سوچ کر فیصلہ کیا تھا۔”
عقیلہ بیگم نے ان کے کندھے پہ ہاتھ رکھ کر انہیں حوصلہ دیا۔
“میں غزنوی کو کبھی معاف نہیں کروں گا۔”
وہ نہایت دکھ سے بولے۔انہیں غزنوی سے ایسی بے اعتنائی کی امید نہیں تھا۔وہ تو ان کا بہت لاڈلا تھا۔انہیں بہت مان تھا اس پہ کہ وہ کبھی انہیں شرمسار نہیں کرے گا مگر اس نے تو انہیں ایک گہری کھائی میں پھینک دیا تھا جہاں انہیں صرف اندھیرا ہی دکھ رہا تھا اور اس گہرے اندھیرے میں بھی انہیں دو آنکھیں دکھائی دے رہی تھیں۔۔۔ایمان کی اداس اور سوال کرتی نگاہیں۔۔۔جن میں آج انھیں دکھ ہلکورے لیتا دکھائی دیا تھا۔
“پریشان نہ ہوں۔۔”
وہ ایک گہری سانس خارج کرتی بولیں۔
“یہ معاملہ جتنی جلدی ہو سکے نبٹ جائے تو اچھا ہے۔”
انہوں نے عقیلہ بیگم کو دیکھا۔
“نجانے ایمان کیا فیصلہ کرے گی۔”
ان کے چہرے پہ پریشانی نے اپنا جال بچھا رکھا تھا۔
“وہ ابھی معصوم ہے، ناسمجھ ہے۔۔خیر۔۔!! اللہ کے حضور دعا ہی کر سکتے ہیں۔”
وہ اٹھ کر واش روم کی طرف بڑھ گئے۔
وہ اس وقت بیڈ پہ بیٹھی اپنے سامنے پڑے خاکی رنگ کے لفافے کو دیکھ رہی تھی، جس میں موجود پیپرز نے اسکی سانسیں روک رکھی تھیں۔حالانکہ کچھ دیر پہلے شمائلہ بیگم نے اسے ان کاغذوں میں چھپے مفہوم کے بارے بتا دیا تھا۔لیکن وہ سمجھ کر بھی نہیں سمجھ پائی تھی اور اب وہی اژدھا اس کے سامنے منہ کھولے کھڑا تھا۔اسے کہا گیا تھا کہ فیصلہ وہ کرے۔۔۔
“کیا مجھ میں اتنی ہمت ہے جس کے بَل پر میں کوئی فیصلہ کر سکوں۔میں کیا فیصلہ کروں گی۔۔میں تو خود ایک ایسی بند گلی میں کھڑی ہوں جس کے دونوں راستے بند ہوں۔”
اپنی بیچارگی پہ اسکا جی چاہا کہ پھوٹ پھوٹ کر رو دے۔اسے وہ خاکی لفافہ اپنی بےبسی کا مذاق اڑاتا محسوس ہو رہا تھا۔
“یا اللہ۔۔۔تُو رحیم و کریم ہو۔۔جہاں سب دروازے بند ہو جاتے ہیں وہاں ایک تیرا در کھلا رہتا ہے۔تُو مجھے ہمت دے کہ میں اس خاردار جنگل سے نکل سکوں۔”
تکیہ تیزی سے اسکے آنسوؤں سے بھیگنے لگا تھا۔
“ایمان۔۔۔کیا ہوا ہے۔۔ایسے کیوں رو رہی ہو؟”
اس نے ایک مانوس آواز سن کر سر اٹھایا۔اس کے بالکل قریب عائشہ کھڑی تھی اور اس سے کچھ ہی فاصلے پر ملائکہ ٹیپو کو اٹھائے کھڑی تھی۔جو گہری نیند میں تھا۔ایمان جلدی سے اٹھ بیٹھی اور اپنے آنسوؤں سے دھلا چہرہ صاف کیا۔ملائکہ کی شرمندگی سے بھری نگاہیں ایمان پہ تکیہ ہوئی تھیں۔وہ جانتی تھی کہ وہ کیوں رو رہی ہے۔
“ارے عائشہ آپی۔۔آپ کب آئیں؟”
وہ بمشکل مسکراتے چہرے کے ساتھ عائشہ کے پاس آئی۔
“ابھی کچھ دیر ہی ہوئی ہے۔۔۔لیکن تم کیوں رو رہی تھی؟”
عائشہ نے اسے یوں ہلکان ہوتے پہلی بار دیکھا تھا۔
“کچھ نہیں۔۔۔وہ بس بابا کی یاد آ رہی تھی تو دل بھر آیا۔آپ کھڑی کیوں ہیں آئیں بیٹھیں۔”
ایمان نے اسے اپنے پاس بٹھایا۔عائشہ اس کے جواب سے مطمئن نہیں ہوئی تھی۔
“ملائکہ۔۔۔!! تم بتاؤ۔۔۔کیا چل رہا ہے۔۔ایمان کس کے ساتھ اسلام آباد سے آئی اور غزنوی کہاں ہے؟”
عائشہ ملائکہ کی جانب مڑی۔۔۔جس کے چہرے پہ صاف لکھا تھا کہ وہ جانتی ہے ایمان کیوں رو رہی ہے۔
“آ۔۔۔آ۔۔آپی۔۔۔پتہ نہیں۔۔۔میں تو نیچے تھی۔”
ملائکہ نے ایمان کی جانب دیکھا جو اسے آنکھوں ہی آنکھوں میں منع کر رہی تھی بتانے سے۔
“کمال ہے۔۔۔مجھے کوئی بتائے گا کہ یہاں کیا ہو رہا ہے۔۔ایمان۔۔۔!! سچ بتاؤ، تمھارے اور غزنوی کے بیچ سب ٹھیک ہے نا۔۔۔اور یہ کیا ہے؟”
اس کا رخ اب پھر سے ایمان کی جانب تھا کہ اچانک اسکی نظر بیڈ پہ ایک جانب پڑے خاکی لفافے پر پڑی اور اس سے پہلے کہ ایمان اسے اٹھاتی، عائشہ نے اٹھا لیا۔
“یہ۔۔۔۔۔۔؟؟”
وہ لفافے کے اندر رکھے پیپرز نکال چکی تھی جبھی پھٹی پھٹی آنکھوں سے ایمان کو دیکھ رہی تھی جبکہ ایمان نے سر جھکا لیا۔عائشہ نے پلٹ کر ملائکہ کو دیکھا جو ٹیپو کو بیڈ پر لٹا رہی تھی۔پھر ملائکہ نے عائشہ سے کچھ بھی نہیں چھپایا۔اسلام آباد جانے اور وہاں سے واپس آنے کی ساری روداد کہہ سنائی۔سب سن کر عائشہ افسوس سے ایمان کو دیکھا۔جو سر جھکائے بیٹھی تھی اور اسکےبےآواز آنسو اسکے گود میں رکھے ہاتھوں پر گر رہے تھے۔وہ ایک گہری سانس خارج کرتی ایمان کے قریب ہوئی اور اسکا چہرہ اونچا کیا۔
“تم کیا چاہتی ہو۔۔؟”
عائشہ نے پوچھا۔
“میں۔۔۔؟؟ میں تھک گئی ہوں آپی۔۔”
وہ عائشہ کے گلے لگ کر رو دی۔عائشہ نے اسکے بکھرے وجود کو سنبھالا۔
“دیکھو ایمان۔۔۔یہ تمھاری زندگی ہے اور کسی کو کوئی حق نہیں اس سے کھیلنے کا۔۔غزنوی کا رویہ میں نے دیکھا ہے وہ تمھارے بارے میں کیا سوچتا ہے یہ اس نے بارہا اپنے رویے سے سب کو بتایا ہے۔میں پہلے ہی تم سے بات کرنا چاہتی تھی مگر پھر سوچا کہ شاید تم لوگوں کو تھوڑا وقت درکار ہے ایک دوسرے کو سمجھنے کے لئے۔۔تم اسکے اسلام آباد چلی گئیں تو میں اس خوش فہمی میں مبتلا تھی کہ تم دونوں ایک دوسرے کے قریب آ جاؤ گے مگر یہاں تو سب الٹا ہو گیا۔”
عائشہ نے اسے خود سے الگ کرتے ہوئے کہا۔
“آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں آپی۔۔۔انہوں نے سب کی نظروں میں میری حیثیت دو کوڑی کی کر دی ہے۔۔میں پہلے بھی کیا تھی مگر اب تو خاک ہو گئی ہوں۔”
اسکی آنکھوں سے بہتے آنسو عائشہ کو تکلیف دے رہے تھے۔
“ایسے نہ کہو۔۔۔تمھاری قدر نہیں ہے اسے اور اسے اس بات کا احساس بہت جلد ہو گا کہ وہ کیا کھونے جا رہا ہے۔”
عائشہ نے اسکے آنسو پونچھے۔
“ایسا کبھی نہیں ہوگا۔۔انہیں تو موقع چاہیئے مجھ سے الگ ہونے کا اور آپ دیکھیئے گا وہ ایک منٹ بھی نہیں لگائیں گے مجھے خود سے دور کرنے میں۔”
اس نے اپنے دل کے ڈر کو زبان دی۔
“ایمان بھائی کو ایک موقع تو ملنا چاہیئے۔۔۔کیا پتہ جیسا ہم سوچ رہے ہیں اسکے بالکل الٹ ہو۔”
ملائکہ نے غزنوی کی سائیڈ لیتے ہوئے کہا۔
“تمھیں اب بھی لگتا ہے کہ ہمیں اسے وقت دینا چاہیئے۔۔ملائکہ میں اپنے کانوں سے سنا ہے اسکو ایمان کو ڈی گریڈ کرتے ہوئے۔۔وہ اس کی بےعزتی کرتے وقت یہ بھی نہیں دیکھتا کہ آس پاس کون ہے اور وہ کہاں کھڑا ہے۔یہ تو ایمان نے اس پہ پردہ ڈال دیا ورنہ میں تب ہی یہ مسئلہ سب بڑوں کے سامنے رکھ دیتی اور اب سوچتی ہوں تو مجھے یہ بات پہلے کر لینی چاہیئے تھی تو آج یہ وقت نہ آتا اور دور کیوں جاتی ہو خود اپنی آنکھوں سے ایمان کے ساتھ اسکا سلوک دیکھ چکی ہو۔”
عائشہ ملائکہ کی بات سن کر غصے سے بولی۔ملائکہ خاموش ہو گئی اور روم سے چلی گئی۔
“ایمان میرا خیال ہے تمھیں غزنوی سے علیحدہ ہو جانا چاہئیے۔اس بار فیصلہ تم کرو۔۔تم بالکل کمزور نہیں ہو۔ہم سب تمھارے ساتھ ہیں۔”
عائشہ نے اسکے ہاتھ تھام کر اسے ہمت دلائی۔
“میں اس محبت کا کیا کروں آپی۔۔جسکی جڑیں میرے اندر مضبوط ہو چکی ہیں۔میں ان سے الگ ہو کر خالی ہو جاوں گی۔۔ختم ہو جاوں گی۔”
ایمان کی آنکھوں سے سیلِ رواں جاری تھا۔
“کیا کرنا ایسی محبت کا جسکی جڑوں کو تم اپنے خون سے سینچ رہی ہو۔اسے تمھاری ذرا پرواہ نہیں۔جب سے آئی ہو۔۔کال کی اس نے؟”
عائشہ نے پوچھا۔
“جی۔۔آج کال کی تھی۔۔کہا کہ گل خان کاکا کو بھیج رہے ہیں مجھے لینے۔”
ایمان نے آنسووں کے بیچ بتایا۔
“ہیم۔۔۔خود نہیں آئے گا لینے۔۔واہ بھئی۔۔”
عائشہ اٹھ کھڑی ہوئی۔ایمان خاموش رہی۔۔اسے اسکے لہجے میں رچی دھونس یاد آئی۔۔
“بےمہر انسان۔۔”
وہ صرف سوچ کر رہ گئی۔
کیا ہوتا اگر یہ دھونس پیار بھری ہوتی تو وہ ایک پل یہاں نہ رکتی۔۔لیکن وہ یہ صرف سوچ کر ہی رہ گئی۔
“تم سمجھدار ہو۔۔۔اپنے لئے بہتر فیصلہ کر سکتی ہو۔اپنے مستقبل کو اندھیری کھائی میں مت گم ہونے دو۔ایسے راستے پر مت چلو جس پہ چھائی کہر میں منزل دکھائی نہ دے۔”
عائشہ نے اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھا اور ٹیپو کو اٹھاتی کمرے سے نکل گئی۔
“آپ ٹھیک کہتی ہیں آپی۔۔۔اگر وہ مجھ سے الگ ہو کر خوش رہتا ہے تو میں کیوں روکاوٹ بنوں۔”
وہ سامنے رکھے کاغذ کو اٹھاتے ہوئے خود سے بولی۔اسکے ہاتھ کپکپا رہے تھے۔اسے خوف نے آ لیا تھا۔محبت ترک کرنے سے کب ترک ہوتی ہے مگر یہ فیصلہ اسے کرنا تھا۔محبت کو چھوڑنے کا فیصلہ۔۔۔
“داجی۔۔۔باہر گل خان آیا ہے۔۔کہہ رہا ہے کہ چھوٹے صاحب نے ایمان بی بی کو لینے بھیجا ہے۔”
چوکیدار ان کے سلام پھیرنے کا منتظر کھڑا تھا اور اس سے پہلے کہ وہ دوبارہ نیت باندھتے،وہ فورا بولا۔
“اسے چائے پانی پوچھو، میں آتا ہوں۔”
وہ اس سے کہہ کر نیت باندھ چکے تھے۔چوکیدار واپس پلٹ آیا اور گل خان کو ان کا پیغام دیا۔تقریبا بیس منٹ بعد اعظم احمد لاونج میں آئے اور شگفتہ وہیں لاونج میں موجود تھی۔انہوں نے اسے گل خان کو بلانے کا کہا۔شگفتہ سر ہلاتی لاونج سے چلی گئی۔کچھ دیر بعد وہ گل خان کے ساتھ لاؤنج میں داخل ہوئی۔
“السلام علیکم داجی۔۔!!”
گل خان ان کیطرف دیکھتے ہوئے بولا۔ان کے چہرے کے سنجیدہ تاثرات کو وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا۔اعظم احمد نے سر کے اشارے سے سلام کا جواب دیا تھا۔
“داجی۔۔۔مجھے چھوٹے صاحب نے ایمان بی بی کو لینے بھیجا ہے۔”
کچھ پل خاموشی سے گزرنے کے بعد اس نے دوبارہ اپنے آنے کا مقصد بتایا۔اتنی سی بات کے اتنی سوچ بچار۔۔۔اسے کچھ عجیب لگا۔
“گل خان۔۔ایمان اب یہیں رہے گی۔۔دو دن ہوئے یہاں آئے۔رمضان وہ ہمارے ساتھ گزارے گی۔غزنوی سے کہنا کہ وہ بھی یہاں آ جائے اور رمضان ہمارے ساتھ گزارے۔جہاں تک بزنس کی بات ہے تو ہم ظہور صاحب کو بھیج دیں گے۔ویسے بھی ان کی فیملی رمضان میں اسلام آباد شفٹ ہو رہی ہے۔وہ بہت قابل بھروسہ اور سمجھدار ہیں۔اچھی طرح سنبھال لیں گے تمام معاملات۔۔”
اتنا کہنے کے بعد وہ اٹھ کھڑے ہوئے۔
“جی جناب۔۔۔”
وہ پلٹ کر جانے لگا۔۔حالانکہ غزنوی نے اسے ایمان کو ضرور اپنے ساتھ لانے کی ہدایت کی تھی بلکہ یہاں تک کہا تھا کہ اسے لئے بنا وہ واپس نہ آئے۔لیکن اب وہ داجی سے تو بحث کرنے سے رہا اس لئے خاموشی سے باہر کا رخ کیا۔
“اور ہاں۔۔۔کھانا کھائے بنا مت جانا۔۔کچھ دیر آرام کرو۔۔پھر چلے جانا۔”
وہ پلٹ کر بولے اور پھر سیڑھیوں کی جانب بڑھ گئے۔گل خان بھی لاونج سے نکل گیا۔
باہر آ کر اس نے جیب سے موبائل فون نکالا اور کال ریکارڈز میں غزنوی کا نمبر نکال کر بٹن پُش کیا۔اگلی بیل پر کال ریسیو کر لی گئی تھی۔
“جی کاکا۔۔۔کہیئے۔۔۔”
غزنوی مصروف انداز میں بولا۔
“چھوٹے صاحب۔۔ایمان بی بی نہیں آ رہی ہیں۔داجی نے کہا ہے کہ وہ وہیں رہیں گی اور آپ کو بھی بلایا ہے۔”
گل خان نے اسے داجی کا پیغام دیا۔
“ایسا داجی نے کہا ہے؟”
اس کی بات سن کر غزنوی کا ماتھا ٹھنکا۔اسے معاملات سنجیدہ نوعیت کی جانب جاتے دکھائی دیئے۔
“جی صاحب۔۔۔”
وہ مختصرا بولا۔
“ٹھیک ہے۔۔۔میں خود بات کرتا ہوں۔”
غزنوی نے کال کاٹ کر داجی کا نمبر ملایا مگر ان کی جانب سے خاموشی تھی۔اسے لگا جیسے وہ جان بوجھ کر اسکی کال ریسیو نہیں کر رہے ہیں ورنہ وہ خود اسے کالز کیا کرتے تھے اگر وہ ان کی نظروں کے سامنے نہ ہوتا تو۔۔۔لیکن اب اسکے کانوں میں گونجتی ٹوں ٹوں کی آواز اسکا منہ چڑا رہی تھی۔اس نے دوبارہ کال ملائی مگر وہی خاموشی۔۔۔پھر کچھ سوچ کر اس نے ملائکہ کو کال کی۔
“ملائکہ۔۔۔ایمان کہاں ہے۔۔میری بات کراو اس سے۔”
کال ریسیو ہوتے ہی اس نے ملائکہ سے ایمان کے متعلق پوچھا۔
“بھائی وہ تو اپنے روم میں ہیں۔۔”
ملائکہ جو الماری کھولے کھڑی تھی، بند کرتے ہوئے بولی۔
“داجی نے گل خان کو ایمان کو لے جانے سے کیوں منع کیا ہے۔۔میں نے کہا تھا کہ ہم عید پہ آئیں گے مگر پھر بھی میری بات کسی کو سمجھ نہیں آ رہی۔اب میں انھیں کال بھی کر رہا ہوں تو وہ ریسیو نہیں کر رہے ہیں۔۔کیا وہ گھر پہ نہیں ہیں؟”
غزنوی نے اس سے پوچھا۔
“نہیں۔۔وہ تو گھر پہ ہی ہیں۔۔شاید سو رہے ہوں۔”
ملائکہ سمجھ گئی تھی کہ انہوں نے جان بوجھ کر کال ریسیو نہیں کی ہو گی ورنہ عموما ایسا ہوتا نہیں تھا۔
“اس وقت۔۔۔”
غزنوی نے اپنے ہاتھ پہ بندھی گھڑی کی جانب دیکھا۔
“بھائی آپ بھی آ جائیں۔۔”
ملائکہ نے بات بدلی۔
“یہاں بہت کام ہے۔۔۔میں فلحال نہیں آ سکتا۔”
غزنوی نے سامنے پڑی فائل بند کی۔
“بھائی مجھے آپکو کچھ بتانا تھا۔۔۔شاہ گل نے داجی کو سب بتا دیا ہے۔داجی بہت خفا ہو رہے تھے بلکہ انہوں نے ایک فیصلہ بھی کر ڈالا ہے۔”
وہ ڈرتے ڈرتے بولی کیوں کہ وہ جانتی تھی کہ غصہ تو غزنوی کا بھی ناک پہ دھرا رہتا ہے۔
“کیسا فیصلہ۔۔۔۔؟”
اسے ملائکہ کے لہجے سے بات کی سنجیدگی کا اندازہ ہوا۔
“بھائی۔۔۔۔۔وہ۔۔۔۔”
ملائکہ کچھ کہتے کہتے رک گئی۔
“کیا وہ وہ۔۔۔۔اب بتا بھی چکو۔۔۔کیسا فیصلہ۔۔؟”
وہ اس کے اسطرح رکنے پر چڑتے ہوئے بولا۔
“بھائی داجی نے خلع کے پیپرز تیار کروا لئے ہیں۔”
وہ جلدی سے بولی۔
“ملائکہ کیا پہیلیاں بُھجوا رہی ہو۔۔۔ٹھیک سے بتاو۔۔کس کی خلع کے پیپرز تیار کروا لئے ہیں؟”
غزنوی کی آواز میں دبے دبے غصے کے ساتھ پریشانی بھی تھی۔
“آپکی اور ایمان کی۔۔۔۔”
آخر اس نے کہہ ہی دیا۔
“کیا بکواس کر رہی ہو؟”
وہ گرجدار آواز میں بولا۔
“میں سچ کہہ رہی ہوں بھائی۔۔۔انہوں نے وہ کاغذات ایمان کو سائن کرنے کے لئے بھی دے دیئے ہیں۔امی نے بہت سمجھایا، سبھی نے اس فیصلے کی مخالفت کی مگر وہ اپنے فیصلے سے ایک انچ بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہیں۔شاہ گل تو اس بارے میں امی کی بھی نہیں سن رہی ہیں۔آپ آ جائیں پلیز۔۔۔”
وہ کہتے کہتے رو دی۔۔اسے اس رشتے کا انجام دیکھ کر بہت دکھ ہو رہا تھا۔ایمان اسے بہت عزیز تھی۔وہ غزنوی کے رویے کے بھی مخالف تھی مگر ایسا بھی نہیں چاہتی تھی کہ وہ دونوں الگ ہو جائیں۔
دوسری جانب غزنوی کو یقین نہیں آ رہا تھا کہ داجی ایسا فیصلہ کریں گے اور وہ بھی اس سے کچھ پوچھے یا اسکی سنے بغیر۔۔وہ مانتا تھا اس سے غلطی ہوئی تھی۔اسے ایمان کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کرنا چاہیئے تھا۔وہ شرمندہ تھا اپنے کیے ہوئے فعل پہ۔۔۔
مگر اب کیا۔۔۔؟؟
ایک بڑا سا سوالیہ نشان اسکی نظروں کے سامنے تھا۔
“اور ایمان۔۔۔۔؟؟”
اس نے دھیرے سے پوچھا۔۔
“بھائی آپ آ جائیں۔۔اس سے پہلے کہ سب ختم ہو جائے۔۔آپ کو اسے منا لینا چاہیئے ورنہ کچھ بھی باقی نہیں رہے گا۔۔اگر ایمان آپکو اپنی لائف میں چاہیئے تو جلدی آ جائیں بلکہ ابھی آ جائیں۔۔آپ کے اسکے بیچ غلط فہمیوں کی ایک مضبوط دیوار کھڑی ہے جسے صرف آپ ہی پاٹ کر سکتے ہو ایمان نہیں۔۔۔اور اگر آپکے دل میں اسکے لئے ذرا برابر بھی گنجائش نہیں ہے تو پھر خوش ہو جائیں بھائی۔۔۔وہ جلد سائن کر دے گی۔”
یہ کہہ کر اس نے تو فون بند کر دیا تھا مگر ادھر غزنوی کے آس پاس جیسے دھماکے سے ہونے لگے تھے۔
وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ایسا ہو جائے گا۔وہ بالکل ساکت بیٹھا رہ گیا تھا اور اسکے کان میں صرف ایک ہی جملہ گونج رہا تھا۔۔” خوش ہو جائیں بھائی۔۔وہ جلد سائن کر دے گی۔”
کچھ پل یونہی خاموشی کی نظر ہو گئے پھر اچانک ایک خیال بجلی کی سی تیزی سے اسکے ذہہن میں کُودا۔وہ ایمان سے بات کر کے اسے اعتماد میں لے سکتا تھا۔اسے بتا سکتا تھا کہ وہ اسکے لئے کیا ہے۔۔اسکا ساتھ اسکی زندگی کے لئے اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ سانس لینا۔اس نے جلدی سے دوبارہ نمبر ڈائل کیا مگر ملائکہ فون نہیں اٹھا رہی تھی۔اس نے بار بار ٹرائی کیا مگر۔۔۔۔وہی خاموشی۔۔۔
اس نے فون تقریبا پٹخ دیا۔۔۔وہ بھول گیا تھا تھوڑی دیر بعد اسکی ایک بہت اہم میٹنگ ہے۔
“مجھے واپس جانا ہو گا۔۔۔ورنہ میں خالی ہاتھ رہ جاوں گا۔۔کچھ نہیں بچے گا۔۔۔”
وہ اٹھا اور گاڑی چابی، والٹ پاکٹ میں ڈالا اور تیزی سے اپنے کیبن سے نکلا۔
“ایکسکیوزمی سر۔۔۔!! مسٹر کامران باقی اسٹاف کے ساتھ میٹنگ روم میں کب سے آپکے منتظر ہیں۔میں بھی یہ فائل لینے اور آپکو بلانے آیا تھا۔”
ابھی وہ کیبن سے نکلا ہی تھا کہ مینیجر اشفاق احمد نے اسے روکا۔
“پلیز اشفاق صاحب۔۔۔آج کی یہ میٹنگ کینسل کر دیجیئے۔۔مجھے ایک بہت ضروری کام سے پشاور جانا ہے۔۔آپ پلیز سنبھال لیں۔۔”
وہ پریشانی سے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا۔
“لیکن سر۔۔۔آج رات ہی مسٹر کامران بھی جرمنی فلائی کر جائیں گے۔۔اگر آج نہ ہوئی تو پھر کبھی یہ ڈیل نہیں ہو پائے گی۔۔ہم ایک نقصان پہلے بھی اٹھا چکے ہیں۔اب مزید کی گنجائش نہیں ہے۔کمپنی ڈوب جائے گی۔”
ان کی بات سن کر وہ مزید پریشان ہو گیا۔
اس نے سوچا کہ میٹنگ ختم ہونے کے بعد وہ کال پہ بات کرے گا ایمان سے اور خود کل صبح ہی روانہ ہو جائے گا۔
یہ سوچ کر وہ سر ہلاتا اشفاق صاحب کے ساتھ میٹنگ روم کی جانب بڑھ گیا۔
“ملائکہ بی بی۔۔۔؟؟”
وہ کچن میں تھی جب شگفتہ اسے پکارتی ہوئی کچن میں آئی۔ایمان بھی وہیں موجود تھی۔اس نے بھی شگفتہ کے پکارنے پر اسے پلٹ کر دیکھا تھا۔
“کیا ہوا۔۔؟”
ملائکہ نے برنر سلو کیا۔
“وہ جی غزنوی صاحب کا فون ہے۔۔آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں۔”
شگفتہ نے کہا تو انکی نظریں بہ یک وقت ملیں۔۔غزنوی کا نام سن کر ایمان کے دل کی دھڑکن بڑھی تھی۔
“اچھا آؤ تم یہاں۔۔یہ چائے تیار ہے داجی اور شاہ گل کو دے دو۔”
ملائکہ نے اس سے کہا اور خود کچن سے نکل گئی۔وہ لاونج میں رکھے فون اسٹینڈ کی جانب آئی اور فون اٹھا کر کان سے لگایا۔شاہ گل بھی وہیں صوفے پہ ہاتھ میں تسبیح لئے بیٹھی تھیں۔اس نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر ہچکچاتے ہوئے فون اٹھایا۔
“السلام و علیکم۔۔۔!!”
ملائکہ نے عقیلہ بیگم کی جانب کنکھیوں سے دیکھا تھا۔
“ملائکہ ابھی اور اسی وقت میری بات ایمان سے کرواؤ۔”
وہ سلام کا جواب دے کر فوراً بولا۔
“بھائی۔۔۔وہ۔۔۔وہ اس وقت ایمان یہاں موجود نہیں ہے۔”
ملائکہ رک رک کر بولی۔۔خود پہ گڑی عقیلہ بیگم کی نظریں وہ محسوس کر رہی تھی۔عقیلہ بیگم بھی جانتی تھیں کہ وہ کس بارے میں بات کر رہا ہے۔
“میں رات کو بھی کافی دیر تک تمھارے موبائل پہ کالز کرتا رہا مگر تم نے میری کال ریسیو نہیں کی۔
اب کی بار وہ غضبناک انداز میں بولا۔
“جی بھائی۔۔۔اللہ حافظ۔۔۔!!”
وہ عقیلہ بیگم کے سامنے اس بارے میں بات نہیں کرنا چاہتی تھی اس لئے فون رکھنے لگی۔دوسری جانب غزنوی کا غصہ سوا نیزے پر پہنچ گیا تھا۔اسکا جی چاہا کہ ابھی وہاں جا کر سب کا مزاج ٹھکانے لگا دے کہ اسکی بات کو اہمیت ہی نہیں دی جا رہی تھی۔
“ادھر لاؤ۔۔۔میری بات کرواؤ۔۔”
ملائکہ کو فون رکھتے دیکھکر عقیلہ بیگم نے فون کیطرف ہاتھ بڑھایا۔وہ اس بارے میں ان کے سامنے مزید بات نہیں کر پا رہی تھی تھی اسلئے فون رکھ رہی تھی۔۔لیکن اب اس نے ان کے کہنے پر فون ان کی طرف بڑھا دیا۔دوسری جانب غزنوی اکیلا بیگم کی آواز سن کر خاموش ہو رہا۔
“کیا بات ہے غزنوی۔۔۔بار بار کالز کر رہے ہو۔۔خیر تو ہے نا۔۔۔؟؟ کام سے فرصت میرے بیٹے کو۔۔؟؟”
عقیلہ بیگم کے لہجے میں چھپا طنز اس سے مخفی نہ رہ سکا۔
“السلام و علیکم شاہ گل۔۔۔کیسی ہیں آپ؟”
اسے سمجھ نہ آئی کہ کیا کہے۔۔۔
“وعلیکم السلام۔۔۔!! میں بالکل ٹھیک ہوں تم کیسے ہو؟”
اسکی آواز سن کر ان کا دل پگھلا تھا۔۔وہ ان کا بہت لاڈلا تھا۔۔دل و جان سے عزیز تھا۔۔وہ اپنے لہجے کو سخت نہیں رکھ پائیں۔یہ خیال انہیں مزید بےچین کر گیا کہ ایمان کے ساتھ ساتھ ذیادتی غزنوی کے ساتھ ہوئی ہے۔ان کے فیصلے نے دونوں کی زندگی کا اتنا بڑا فیصلہ انجام سوچے بغیر کر دیا۔جس کا نتیجہ اب ان کی نیندیں اڑائے دے رہا تھا۔
“میں ٹھیک ہوں شاہ گل۔۔۔”
ان کا نرم لہجہ محسوس کر کے اسکی ہمت بڑھی۔۔۔وہ شرمندہ تھا۔
“کب آ رہے ہو؟”
انہوں نے پوچھا۔
“آج شام روانہ ہوں گا۔۔۔شاہ گل مجھے آپ سے بہت ضروری بات کرنی ہے۔”
اس نے ابھی ان سے بات کرنے کی ٹھانی۔۔۔وہ انہیں اعتماد میں لے سکتا تھا۔
“مجھے بھی بہت ضروری بات کرنی ہے۔۔لیکن جب تم آؤ گے تب بات ہو گی۔”
انہوں نے پاس ہی کھڑی ملائکہ کو جانے کا اشارہ کیا جسکے کان انہی کی طرف تھے۔ملائکہ وہاں سے چلی گئی۔
“شاہ گل۔۔۔مجھے ابھی بات کرنی ہے۔۔آپ لوگ مجھ سے پوچھے بغیر اتنا بڑا فیصلہ۔۔”
“یہ باتیں فون پر کرنے کی نہیں ہیں۔۔آؤ تو بات ہو گی۔۔اللہ حافظ۔۔!!”
اس سے پہلے کہ وہ بات مکمل کر پاتا انہوں نے مزید کوئی بات سنے بغیر کہا اور فون رکھ دیا۔ان کا ٹھہرا انداز اسے بہت کچھ سمجھا گیا تھا۔کال ڈسکنیکٹ ہونے کے بعد اس نے نمبر ملایا۔اس بار وہ ملائکہ کے پرسنل نمبر پہ کال کر رہا تھا۔
ملائکہ ایمان کے روم میں اسکا انتظار کر رہی تھی کہ موبائل کی رنگ ٹون نے اسے متوجہ کیا۔
“ہیلو۔۔۔!!”
اس نے کال ریسیو کی۔
“میرا فون کل کیوں ریسیو نہیں کیا تھا۔”
غزنوی نے اس سے پوچھا۔
“بھائی میں اس وقت باہر تھی روم سے اور موبائل روم میں ہی رہ گیا تھا۔جب واپس آئی تو آپکی کالز دیکھ کر ایمان کے پاس گئی تھی اس سے بات کروانے مگر وہ سو گئی تھی۔”
اس سے پہلے کہ وہ پھر غصے میں آتا وہ فورا بولی۔
“ٹھیک ہے ابھی بات کرواؤ۔۔۔”
اس نے وجہ بتائی تو وہ بولا۔
“وہ تو۔۔۔۔۔جی یہ لیں بات کریں۔”
وہ بیڈ سے اتر کر کمرے میں داخل ہوتی ایمان کیطرف بڑھی اور اسکی سوالیہ نظروں کی پرواہ کیے بغیر فون اسکے ہاتھ میں دے کر کمرے سے نکل گئی۔ایمان نے فون کان سے لگایا۔۔
“ہیلو۔۔!!”
“ایمان۔۔۔!!”
اسکی آواز سن کر غزنوی کے جلتے دل کو کچھ ڈھارس بندھی۔
“السلام و علیکم۔۔!!”
وہ دھیرے سے بولی۔۔
“یہ میں کیا سن رہا ہوں؟”
ایمان کی آواز سن کر اسکے بےقرار دل کو کچھ سکون ہوا تھا۔اسکا جی چاہا کہ اپنا دل کھول کر اس لڑکی کے سامنے رکھ دے مگر وہ اپنی بے قراری پر حتی الامکان قابو پاتے ہوئے بولا۔۔
“کیا سنا ہے آپ نے۔۔؟”
ایمان کا دل بھی اسکی آواز سن کر تیزی سے دھڑک رہا تھا۔غزنوی کو محسوس ہوا کہ اسکا لہجہ کسی بھی قسم کے احساس سے عاری تھا۔
“یہی کہ داجی نے خلع کے پیپرز تیار کروا لئے ہیں اور تم سے ان پر دستخط کرنے کو کہا ہے۔ایمان۔۔۔!! یہ ہمارے بیچ کا مسئلہ ہے۔اسے میں اور تم مل کر سارٹ آوٹ کر لیں گے پھر باقی سب کیوں یہ فیصلہ کریں کہ ہمیں ساتھ رہنا ہے یا نہیں۔”
غزنوی کو یہ سوچ کر ہی بہت غصہ آ رہا تھا کہ وہ ان کی بات کیوں مان رہی ہے مگر اب وہ بات کو مزید بگاڑنا نہیں چاہتا تھا اس لئے اس نے اپنے لہجے کو نرم رکھا۔
“اب یہ معاملہ ہمارے بیچ تک کا کب رہا۔۔آپ بھول گئے ہیں شاید۔۔آپ ہی کی بدولت بات اس نہج تک پہنچ گئی ہے اور مجھے بھی لگتا ہے کہ اب ہمارے بیچ ایسا کچھ نہیں رہا جس پہ بات کی جائے بلکہ یہ بہت پہلے ہی ہو جانا چاہئیے تھا۔۔لیکن خیر۔۔۔۔!! اب بھی کچھ نہیں بگڑا۔۔”
وہ ایک گہری سانس خارج کرتے ہوئے بولی تو غزنوی کو معاملے کی سنجیدگی کا احساس ہوا۔وہ تو سمجھ رہا تھا کہ وہ سب سنبھال لے گا۔ایمان سے بات کرے گا اور سب ٹھیک ہو جائے گا مگر یہاں تو حالات سمندر کی منہ زور لہروں کی طرح بگڑ چکے تھے۔۔لیکن وہ کنارے پہ کھڑا ہو کر ان منہ ذور لہروں میں اپنے دل کو ڈوبتا دیکھ نہیں سکتا تھا۔
“تم ٹھیک کہہ رہی ہو۔۔۔ابھی بھی کچھ نہیں بگڑا۔”
وہ آخری جملے پہ ذور دیتے ہوئے بولا۔وہ دھیان دیتی تو غزنوی کے آخری جملے میں اسکے دل کی کیفیت میں چھپے جذبوں کو محسوس کر سکتی تھی۔۔وہ جذبے جن میں پوشیدہ محبت کی خوشبو تھی۔۔۔خوش آئیند زندگی کی نوید تھی۔۔مگر اسکے دل کا درد اسقدر بڑھ گیا تھا کہ اس خوشبو کو وہ محسوس نہ کر سکی۔
“مجھے بہت افسوس ہے کہ میں آپکی تکلیف کا سامان بنی۔۔آپ پر ذبردستی مسلط کی گئی۔مجھے یہ سمجھتے ہوئے بہت دیر ہو گئی کہ ہمارا رشتہ ندی کے کناروں کیطرح ہے جو ساتھ ساتھ تو چلتی ہیں مگر کبھی ملتی نہیں ہیں۔آج تک میری کوئی بھی بات آپکو بُری لگی ہو یا میرا کوئی بھی عمل کسی تکلیف کا باعث بنا ہو تو مجھے معاف کر دیجیئے گا۔”
آنسوؤں کا گولا سا اسکے حلق میں اٹک گیا تھا۔
“میں شام تک پہنچ جاوں گا۔۔ہم اس بارے میں مل کر بات کریں گے۔”
وہ جانتا تھا کہ ایمان اسکی طرف سے بہت بڑی غلط فہمی کا شکار ہے جسے صرف اور صرف مل کر ہی دور کیا جا سکتا ہے۔
“آپ بزی ہیں یہ میں جانتی ہوں اور اب جلتی ہوئی راکھ میں کوئی چنگاری بھی نہیں بچی۔۔پیپرز آپکو صبح تک مل جائیں گے۔۔میں دستخط کر چکی ہوں۔۔فی امان اللہ۔۔۔”
اس سے آگے بولنے کی ہمت وہ خود میں نہیں پا رہی تھی اس لئے اس نے الوادعی کلمات ادا کر کے کال ڈسکنیکٹ کر دی جبکہ دوسری جانب غزنوی اس کے الفاظ سن کر ساکت رہ گیا۔
“کیا اس نے آپ سے کہا تھا کہ وہ آ رہا ہے؟”
اعظم احمد نے عقیلہ بیگم سے پوچھا جو ابھی عشاء پڑھ کر فارغ ہوئیں تھیں۔وہ ہاتھ میں پکڑی تسبیح کے دانے گراتی ان کے پاس آ کر بیٹھ گئیں۔وہیں کچھ فاصلے پر گل خان بھی کھڑا تھا۔عقیلہ بیگم کی جانب سے اشارہ ملتے ہی انہوں نے گل خان سے جانے کا کہا اور پیپرز عقیلہ بیگم کی طرف بڑھائے۔
“ٹھیک ہے تو پھر آپ یہ رکھ لیجیئے۔۔۔وہ آئے تو اسے دیجیئے گا کہ دستخط کر دے۔”
عقیلہ بیگم نے لفافہ ان کے ہاتھ سے لے لیا جبکہ وہ خود اٹھ کر بیڈ کی طرف بڑھ گئے۔
“ویسے وقت تو کافی ہو گیا ہے۔۔۔اب تک تو اسے آ جانا چاہیئے تھا۔”
اعظم احمد نے گھڑی کی جانب دیکھا۔
“اگر اس نے کہا ہے کہ آئے گا تو آپ کو بھی پتہ ہے کہ وہ آپ کا پوتا ہے۔”
وہ پیپرز ایک جانب رکھتے ہوئے بولیں تو وہ مسکرا دیئے۔
“کہہ تو آپ ٹھیک رہی ہیں۔”
وہ یہ کہہ کر ان کی جانب سے رخ پھیر کر لیٹ گئے۔عقیلہ بیگم جانتی تھیں کہ وہ بہت دکھی ہیں۔۔ایمان کے سائن کرنے کے بعد انہوں نے کسی طرح کوشش کر کے گاؤں ایمان کے والد رشید خان سے بات کی اور انہیں شہر آنے کو کہا۔رشید خان بھی ان کے اسطرح اچانک بلانے پہ پریشان ہو گیا تھا۔
“رشید خان کل آئے گا؟”
عقیلہ بیگم نے کچھ سوچ کر پوچھا۔
“ہیم۔۔۔۔”
ان کی آواز بہت دھیمی تھی مگر پھر بھی عقیلہ بیگم کو سنائی دے گئی۔
“اگر آپ غزنوی کو ایک موقع دینا چاہتے ہیں تو ہم اس فیصلے کو ملتوی کر سکتے ہیں۔”
عقیلہ بیگم کے دل میں کلبلاتا سوال زبان پہ آیا۔
“نہیں۔۔۔اگر ایمان نے فیصلہ کر ہی لیا ہے تو پھر ہم کیوں پیچھے ہٹیں۔۔”
وہ بناء ان کی جانب رخ کیے بولے۔
“پتہ نہیں مجھے ایک موہوم سی امید تھی کہ شاید ایمان اس پہ دستخط نہ کرے۔۔اسکی آنکھوں میں مجھے ہمیشہ غزنوی کے لئے چمکتے جذبے دِکھے ہیں۔”
عقیلہ بیگم کے لہجے میں دکھ بول رہا تھا۔
“تمھیں یہ امید تھی یا پھر تم ایسا نہیں چاہتی تھیں کہ ایمان دستخط کرے۔۔۔اگر اس نے ہمارے فیصلے کو آگے بڑھایا ہے تو اس کے پیچھے ضرور کوئی ٹھوس وجہ ہو گی۔۔کیا تم ایسا نہیں چاہتیں؟”
وہ اٹھ کر بیٹھ گئے اور عقیلہ بیگم کو بغور دیکھتے ہوئے سوال کیا۔
“ایمان کو دکھی دیکھنا۔۔۔یہ سب مجھے بہت تکلیف دے رہا ہے حالانکہ یہ فیصلہ میرا اپنا تھا۔”
ان کی آنکھوں سے گرم سیال بہنے لگا۔اعظم احمد اٹھ کر ان کے پاس آئے۔
“تم دیکھنا میں اپنی بیٹی کی شادی کتنے اچھے لڑکے سے کروں گا۔۔غزنوی سے بھی اچھا۔۔۔”
وہ ان کے کندھے پہ ہاتھ رکھتے ہوئے بولے۔
“غزنوی سے اچھا ایمان کے لئے آپکو چراغ لے کر بھی ڈھونڈنے سے نہیں ملے گا۔یہ آپ مجھ سے لکھوا لیں۔”
دروازہ کھول کر غزنوی اندر آیا تھا۔وہ دونوں اسے اپنے سامنے کھڑے دیکھ کر حیران رہ گئے تھے۔
“السلام و علیکم۔۔!!”
وہ ان دونوں کے درمیان میں آ کر بیٹھ گیا۔چہرے سے تھکن صاف ظاہر تھی مگر لہجہ ہشاش بشاش تھا۔
“وعلیکم السلام۔۔۔”
عقیلہ بیگم نے اس کے لئے بازو وا کیے جبکہ اعظم احمد خفگی ظاہر کرتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے۔وہ مسکراتے ہوئے عقیلہ بیگم سے ملا۔
“داجی۔۔۔ایمان نے آپکو مجھ سے چھین لیا ہے۔۔اس کے لئے اب آپ مجھ سے بات تک نہیں کریں گے؟”
وہ فوراً ان کے راستے میں آ کھڑا ہوا۔
“خبردار جو میری بیٹی کے متعلق ایک لفظ بھی کہا تو۔۔۔۔مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا۔”
اعظم احمد نے شہادت کی انگلی اٹھا کر اسے وارننگ دی۔
“اچھا اچھا۔۔۔نہیں کرتا گستاخی آپکی بیٹی کی شان میں۔۔آپ لوگ آرام کریں۔۔کل ملاقات ہو گی۔۔شب بخیر۔۔!!”
وہ اعظم احمد سے کہتا اور عقیلہ بیگم کے ماتھے کا بوسہ لیتا کمرے سے نکل گیا۔وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر رہ گئے۔
محبت کی نہیں تم نے۔۔۔
اگر تم کو محبت تھی
تو تم نے راستوں سے جا کے پوچھا کیوں نہیں منزل کے بارے میں
ہواؤں پر کوئی پیغام تم نے لکھ دیا ہوتا۔۔۔
درختوں پر لکھا وہ نام، تم نے کیوں نہیں ڈھونڈا؟
وہ ٹھنڈی اوس میں بھیگا، مہکتا سا گُلاب اور میں
مرے دھانی سے آنچل کو تمھارا بڑھ کے چھو لینا
چُرانا رنگ تتلی کے، کبھی جگنو کی لو پانا
کبھی کاغذ کی کشتی پر بنانا دل کی صورت اور اس پر خواب لکھ جانا
کبھی بھنورے کی شوخی اور کلیوں کا وہ اِٹھلانا
تمھیں بھی یاد تو ہوگا۔۔۔۔؟
اگر تم کو محبت تھی، تو تم یہ ساری باتیں بھول سکتے تھے؟
نہیں جاناں!
محبت تم نے دیکھی ہے، محبت تم نے پائی ہے۔۔
محبت کی نہیں تم نے۔۔۔
وہ دبے پاؤں کمرے میں داخل ہوا تو وہ بالکل سامنے ہی بیٹھی تھی۔۔وہ دروازے کی جانب کمر کر کے بیٹھی کسی گہری سوچ میں گم تھی۔وہ بناء آہٹ قدم اٹھاتا اس پاس آیا تھا۔وہ آنکھیں موندے ہوئے تھی۔۔وہ اندازہ نہیں لگا پایا کہ وہ سو رہی ہے یا جاگ رہی ہے۔آوارہ لٹیں چہرے کے اردگرد سایہ فگن تھیں۔گلابی لب سختی سے باہم ملے ہوئے تھے اور گھنیری پلکیں میں ہلکی سی لرزش بغور دیکھنے سے محسوس ہوتی تھی۔
وہ چہرہ اسکے چہرے کے قریب لے آیا۔ایمان کو اپنے اردگرد کسی کی موجودگی کا احساس ہوا تو اس نے فوراً آنکھیں کھول دیں اور اپنے سامنے، بالکل قریب اس دشمن جاں کو مسکراتا پایا۔جس نے اسکے وجود میں محبت کا شجر اگایا تھا۔۔جس کی خوشبو سے اس کا تن من معطر رہتا تھا۔
“آپ۔۔۔۔؟؟”
وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔
“جی۔۔۔کوئی اعتراض۔۔۔؟؟”
وہ اسکی آنکھوں میں جھانکتا بولا۔اسکے لبوں کی مسکراہٹ ایمان کو اپنا مذاق اڑاتی محسوس ہوئی۔اس نے نظروں کا رخ پھیر لیا۔غزنوی نے بھی اسکی نظروں میں چھپی ناپسندیدگی کو پا لیا تھا۔
غزنوی نے اپنے اور اسکے بیچ فاصلے کو کم کیا۔
“پیچھے رہ کر بات کیجئے۔۔”
وہ اسکے بڑھتے قدموں سے گھبرائی تھی۔
“اور اگر میں قریب آ کر بات کرنا چاہوں تو۔۔۔؟”
وہ مزید قریب ہوا۔
“ہمارے بیچ اب ایسا کچھ نہیں جسے آپ بنیاد بنا کر میرے اور اپنے بیچ کے اس فاصلے کو مٹا سکو۔۔لہذاء اپنے حواسوں میں رہیئے۔”
اس نے تلخ لہجے میں کہا اور باہر کی جانب قدم بڑھائے مگر غزنوی نے اسکا راستہ روک لیا۔
“اتنے دنوں بعد دیکھ رہا ہوں۔۔۔تھوڑا قریب سے تو دیکھنے دو۔۔”
غزنوی نے اچانک اسکی کمر میں بازو ڈال کر اسے قریب کیا۔.اسکی اس حرکت پہ ایمان نے اسے غصے سے دیکھا اور دونوں ہاتھ اسکے سینے پہ ہاتھ رکھ کر اسے پیچھے کیا۔غزنوی کی گرفت کمزور تھی اس لئے انکے بیچ کا فاصلہ بڑھ گیا۔
“میرے اور آپکے بیچ جو فاصلہ ہے وہ اس فاصلے سے کئی زیادہ ہے۔جسے پار کرنا آپکے بس کی بات نہیں اور نا ہی کبھی ایسی کوشش کیجیئے گا۔”
وہ اسے وارننگ دیتی کمرے سے نکل گئی جبکہ غزنوی چہرے پہ مسکراہٹ مگر آنکھوں میں فکروں کا جال لئے کھڑا رہ گیا۔
جاری ہے۔۔۔۔۔
