Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj NovelR50730 Last updated: 25 June 2026
No Download Link
343.4K
18
Rate this Novel
Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode01Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode02Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode03Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode04Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode05Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode06Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode07Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode08Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode09Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode10Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode11Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode12Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode13Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode14Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode15Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode16Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode17Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Last Episode
Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj
وہ جس رفتار سے گاڑی چلا رہا تھا اسے لگ رہا تھا کہ وہ کہیں اور پہنچے نہ پہنچے ہسپتال ضرور پہنچ جائے گی۔وہ پچھلی سیٹ پر یوں بیٹھی تھی جیسے کسی نے سیٹ پہ گلو لگا کر اسے بٹھایا ہو۔دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو آپس میں پھنسائے اسکی نظر گاڑی چلانے والے کی کمان کی طرح تنی ابروؤں پہ تھی جو ریرویو مرر سے دکھائی دے رہی تھیں۔۔۔نہ بھی دکھائی دیتیں تو گاڑی میں بیٹھنے سے پہلے ہی وہ اس شخص کے غصیلے انداز سے اسکی کٹھور طبیعت کا اندازہ لگا چکی تھی۔اچانک اسپیڈ بریکر کی وجہ سے گاڑی اچھل کر جھٹکے سے بند ہو گئی۔وہ بھی اپنی جگہ سے کھسک گئی تھی۔
"یااللہ خیر۔۔۔۔"
گاڑی کے رکنے پہ اس نے گھبرا کر اسے دیکھا۔۔وہ دروازہ کھول کر جھٹکے سے باہر نکلا اور دروازہ بند کیے بغیر چہرے پہ گلیشئیر جیسے تاثرات لئے گاڑی کا بونٹ کھول کر اس کی نظروں سے اوجھل ہو گیا۔وہ اپنی کالی شال جو بار بار دُھلنے کی وجہ سے اپنی رنگت کھو چکی تھی، بےوجہ ہی کھول کر ایک بار پھر سے اپنے گرد لپیٹنے لگی۔سردی اتنی نہیں تھی مگر اسے بہت لگ رہی تھی۔ہاتھ پیر ٹھنڈے برف ہو رہے تھے۔
"یا اللہ یہ تو وہی محاورہ ہو گیا کہ آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا۔۔اب مجھے اسے کانٹے دار کھجور کے درخت سے کون بچائے گا۔آسمان سے زمین پہ آنے سے تو اس کھجور کے درخت نے بچا لیا تھا مگر اب اس سے کیسے بچوں گی۔"
وہ بونٹ پہ نظریں جمائے سوچ رہی تھی۔۔جس کے پیچھے وہ نظروں سے اوجھل تھا۔کچھ دیر بعد وہ تیزی سے اسے اپنی طرف آتا دکھائی دیا۔
"یا اللہ۔۔مجھے بچا لے۔"
ایمان نے اُسے کڑے تیور لئے اپنی طرف آتا دیکھ کر آنکھیں سختی سے میچ لیں۔
"جلِ جلال تُو آئی بلا کو ٹال تُو۔۔۔"
آنکھیں بند کیے وہ دل ہی دل میں ورد کر رہی تھی کہ اسے ڈگی کھلنے کی آواز آئی۔اس نے دائیں آنکھ کو زرا سے کھول کر دیکھا۔سامنے کوئی ہوتا تو دکھائی دیتا۔۔۔آواز پیچھے سے آ رہی تھی۔اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا جہاں وہ شاید کچھ ڈھونڈنے کی کوشش کر رہا تھا۔ڈگی بند کر کے وہ آگے آیا۔۔شاید اسے اسکی مطلوبہ چیز مل چکی تھی۔۔اس کے ہاتھ میں پانی کی بوتل تھی۔ایک بار پھر وہ بونٹ کے پیچھے غائب ہو چکا تھا۔
"یا اللہ گاڑی جلدی سے ٹھیک ہو جائے ورنہ یہ چنگیزخان مجھے یہیں کہیں زندہ گاڑ کر خود چلا جائے۔"
ممکنہ خدشے کے پیشِ نظر وہ آنکھیں بند کیے گاڑی ٹھیک ہونے کی دعا کر رہی تھی۔چہرے پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے اس نے بونٹ کے بند ہونے کی آواز سنی تو پٹ سے آنکھیں کھول دیں۔وہ تیزی سے آ کر گاڑی میں بیٹھا اور ہاتھ میں پکڑی خالی بوتل ڈیش بورڈ پہ پھینکی جو ڈیش بورڈ سے ٹکرا کر نیچے آ رہی تھی۔اس نے اگنیشن میں چابی گھمائی۔گاڑی اسٹارٹ ہوئی اور ایک جھٹکے سے آگے بڑھی۔اب پھر سے وہی رفتار تھی اور وہ تھا۔
"اِس کا بس چلے تو گاڑی کو پلین بنا کر اڑا لے جائے۔۔۔ہونہہ نام محمود غزنوی اور حرکتیں چنگیز خان جیسی۔"
اس نے کنکھیوں سے اسکے گھنے بالوں والے سر کو دیکھا۔
"میری بلا سے جہنم میں جائے۔۔"
وہ منہ ہی منہ میں بڑبڑاتے ہوئے ریلکیس انداز میں سیٹ کی پشت سے ٹیک لگا گئی۔نیند تو آنکھوں سے کوسوں دور تھی مگر طویل سفر نے اس پہ سستی طاری کر دی تھی۔آنکھیں بند ہونے کی خواہش مند تھیں لیکن وہ سو کر سب کچھ کھونا نہیں چاہتی تھی۔
"ایمان تمھیں جاگنا ہے ورنہ یہ سڑیل کریلا تمھیں یہیں کہیں پھینک کر خود چلا جائے گا۔۔۔تمھیں اس لمبو پہ نظر رکھنی ہے۔"
وہ دونوں ہتھیلیوں سے آنکھیں مسلتے ہوئے بڑبڑائی تھی۔نیم خوابیدہ آنکھیں اس ظلم پہ دہائیاں دے رہی تھیں مگر وہ ان کی ایک سننے کو تیار نہیں تھی۔۔
"میری بھولی۔۔پیاری اور معصوم آنکھوں۔۔۔ہوش میں آؤ۔"
وہ انگلیوں سے بند آنکھوں کو پیار سے تھپتھپاتے ہوئے دل میں بولی تھی مگر اس لڑائی میں بِلاآخر نیند سے بھری آنکھوں نے اسے مات دے ہی دی تھی۔
"اٹھو۔۔۔۔"
کسی کے غصیلے انداز نے اسے آنکھیں کھولنے پہ مجبور کیا۔وہی چنگیزخان اس کے سر پہ کھڑا کڑے تیوروں سے اسے گھور رہا تھا۔
"افففف۔۔۔کیا مصیبت ہے۔۔۔اٹھو۔۔گھوڑے بیچنے کا وقت گیا۔"
