Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj NovelR50730 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode01
No Download Link
634K
18
Rate this Novel
Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode01 (Watching)Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode02 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode03 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode04 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode05 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode06 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode07 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode08 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode09 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode10 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode11 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode12 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode13 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode14 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode15 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode16 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode17 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Last Episode
Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode01
Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode01
وہ جس رفتار سے گاڑی چلا رہا تھا اسے لگ رہا تھا کہ وہ کہیں اور پہنچے نہ پہنچے ہسپتال ضرور پہنچ جائے گی۔وہ پچھلی سیٹ پر یوں بیٹھی تھی جیسے کسی نے سیٹ پہ گلو لگا کر اسے بٹھایا ہو۔دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو آپس میں پھنسائے اسکی نظر گاڑی چلانے والے کی کمان کی طرح تنی ابروؤں پہ تھی جو ریرویو مرر سے دکھائی دے رہی تھیں۔۔۔نہ بھی دکھائی دیتیں تو گاڑی میں بیٹھنے سے پہلے ہی وہ اس شخص کے غصیلے انداز سے اسکی کٹھور طبیعت کا اندازہ لگا چکی تھی۔اچانک اسپیڈ بریکر کی وجہ سے گاڑی اچھل کر جھٹکے سے بند ہو گئی۔وہ بھی اپنی جگہ سے کھسک گئی تھی۔
“یااللہ خیر۔۔۔۔”
گاڑی کے رکنے پہ اس نے گھبرا کر اسے دیکھا۔۔وہ دروازہ کھول کر جھٹکے سے باہر نکلا اور دروازہ بند کیے بغیر چہرے پہ گلیشئیر جیسے تاثرات لئے گاڑی کا بونٹ کھول کر اس کی نظروں سے اوجھل ہو گیا۔وہ اپنی کالی شال جو بار بار دُھلنے کی وجہ سے اپنی رنگت کھو چکی تھی، بےوجہ ہی کھول کر ایک بار پھر سے اپنے گرد لپیٹنے لگی۔سردی اتنی نہیں تھی مگر اسے بہت لگ رہی تھی۔ہاتھ پیر ٹھنڈے برف ہو رہے تھے۔
“یا اللہ یہ تو وہی محاورہ ہو گیا کہ آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا۔۔اب مجھے اسے کانٹے دار کھجور کے درخت سے کون بچائے گا۔آسمان سے زمین پہ آنے سے تو اس کھجور کے درخت نے بچا لیا تھا مگر اب اس سے کیسے بچوں گی۔”
وہ بونٹ پہ نظریں جمائے سوچ رہی تھی۔۔جس کے پیچھے وہ نظروں سے اوجھل تھا۔کچھ دیر بعد وہ تیزی سے اسے اپنی طرف آتا دکھائی دیا۔
“یا اللہ۔۔مجھے بچا لے۔”
ایمان نے اُسے کڑے تیور لئے اپنی طرف آتا دیکھ کر آنکھیں سختی سے میچ لیں۔
“جلِ جلال تُو آئی بلا کو ٹال تُو۔۔۔”
آنکھیں بند کیے وہ دل ہی دل میں ورد کر رہی تھی کہ اسے ڈگی کھلنے کی آواز آئی۔اس نے دائیں آنکھ کو زرا سے کھول کر دیکھا۔سامنے کوئی ہوتا تو دکھائی دیتا۔۔۔آواز پیچھے سے آ رہی تھی۔اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا جہاں وہ شاید کچھ ڈھونڈنے کی کوشش کر رہا تھا۔ڈگی بند کر کے وہ آگے آیا۔۔شاید اسے اسکی مطلوبہ چیز مل چکی تھی۔۔اس کے ہاتھ میں پانی کی بوتل تھی۔ایک بار پھر وہ بونٹ کے پیچھے غائب ہو چکا تھا۔
“یا اللہ گاڑی جلدی سے ٹھیک ہو جائے ورنہ یہ چنگیزخان مجھے یہیں کہیں زندہ گاڑ کر خود چلا جائے۔”
ممکنہ خدشے کے پیشِ نظر وہ آنکھیں بند کیے گاڑی ٹھیک ہونے کی دعا کر رہی تھی۔چہرے پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے اس نے بونٹ کے بند ہونے کی آواز سنی تو پٹ سے آنکھیں کھول دیں۔وہ تیزی سے آ کر گاڑی میں بیٹھا اور ہاتھ میں پکڑی خالی بوتل ڈیش بورڈ پہ پھینکی جو ڈیش بورڈ سے ٹکرا کر نیچے آ رہی تھی۔اس نے اگنیشن میں چابی گھمائی۔گاڑی اسٹارٹ ہوئی اور ایک جھٹکے سے آگے بڑھی۔اب پھر سے وہی رفتار تھی اور وہ تھا۔
“اِس کا بس چلے تو گاڑی کو پلین بنا کر اڑا لے جائے۔۔۔ہونہہ نام محمود غزنوی اور حرکتیں چنگیز خان جیسی۔”
اس نے کنکھیوں سے اسکے گھنے بالوں والے سر کو دیکھا۔
“میری بلا سے جہنم میں جائے۔۔”
وہ منہ ہی منہ میں بڑبڑاتے ہوئے ریلکیس انداز میں سیٹ کی پشت سے ٹیک لگا گئی۔نیند تو آنکھوں سے کوسوں دور تھی مگر طویل سفر نے اس پہ سستی طاری کر دی تھی۔آنکھیں بند ہونے کی خواہش مند تھیں لیکن وہ سو کر سب کچھ کھونا نہیں چاہتی تھی۔
“ایمان تمھیں جاگنا ہے ورنہ یہ سڑیل کریلا تمھیں یہیں کہیں پھینک کر خود چلا جائے گا۔۔۔تمھیں اس لمبو پہ نظر رکھنی ہے۔”
وہ دونوں ہتھیلیوں سے آنکھیں مسلتے ہوئے بڑبڑائی تھی۔نیم خوابیدہ آنکھیں اس ظلم پہ دہائیاں دے رہی تھیں مگر وہ ان کی ایک سننے کو تیار نہیں تھی۔۔
“میری بھولی۔۔پیاری اور معصوم آنکھوں۔۔۔ہوش میں آؤ۔”
وہ انگلیوں سے بند آنکھوں کو پیار سے تھپتھپاتے ہوئے دل میں بولی تھی مگر اس لڑائی میں بِلاآخر نیند سے بھری آنکھوں نے اسے مات دے ہی دی تھی۔
“اٹھو۔۔۔۔”
کسی کے غصیلے انداز نے اسے آنکھیں کھولنے پہ مجبور کیا۔وہی چنگیزخان اس کے سر پہ کھڑا کڑے تیوروں سے اسے گھور رہا تھا۔
“افففف۔۔۔کیا مصیبت ہے۔۔۔اٹھو۔۔گھوڑے بیچنے کا وقت گیا۔”
وہ دوبارہ آنکھیں بند کرنے کے چکروں میں تھی کہ اُس چنگیزخان نے اسے بازو سے پکڑ کر اپنی چنگیز خانی دکھائی۔وہ آنکھیں مسلتے ہوئے گاڑی سے اتری۔دن کے اجالے نے اسکی آنکھوں کو چندھیا دیا تھا۔صبح ہو چکی تھی۔سورج کی نرم گرم کرنیں اس پہ پڑیں تو اسے نجانے کیوں سکون کا احساس ہوا۔اس کے باہر نکلتے ہی غزنوی نے گاڑی کا دروازہ دھاڑ کی آواز کے ساتھ بند کیا جس کی آواز یقیناً اندر تک گئی ہو گی کیونکہ چند لمحوں بعد اندر سے ایک بزرگ خاتون آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی برآمد ہوئیں۔ان کے ساتھ شاید ایک ملازمہ بھی تھی۔اس کی نظریں ان بزرگ خاتون پر تھیں کہ اچانک اسکے پیروں کے قریب کوئی چیز گری۔وہ ڈر کر ایک قدم پیچھے ہوئی۔یہ اسکا چھوٹا سا سفری بیگ تھا۔اس نے کھا جانے والی نظروں سے اُس چنگیز خان کی پشت کو گھورا اور پھر جھک کر اپنا بیگ اٹھا لیا۔سامنے دیکھا تو وہ ان بزرگ خاتون کے گلے لگا ہوا تھا۔اس کے چہرے پہ ہلکی سی مسکراہٹ اسے خود پہ ہوا ظلم یاد کروا گئی۔وہ لکڑی کے خوبصورت نقش و نگار والے دروازے سے اندر چلا گیا جبکہ اب وہ بزرگ خاتون اس کے قریب آ رہی تھیں۔وہ اپنا چھوٹا سا بیگ سینے سے لگائے وہیں کھڑی تھی۔
“السلام وعلیکم۔۔!!”
ان کے قریب آنے پہ اس نے سلام کیا۔
“وعلیکم السلام۔۔۔جیتی رہو۔۔دیکھو شگفتہ کیسی موہنی صورت ہے میرے غزنوی کی دلہن کی۔”
انہوں نے اسے ساتھ لگا کر سامنے کھڑی شگفتہ سے کہا۔
“جی شاہ گل۔۔بہت پیاری ہے ماشاءاللہ۔۔سورج چاند کی جوڑی ہے۔اللہ جوڑی سلامت رکھے۔”
شگفتہ نے اس کے سر پہ ہاتھ رکھا۔اسے ڈر تھا کہ نجانے باقی گھر والوں کا رویہ کیسا ہوگا مگر ان دونوں خواتین سے مل کر اسے تھوڑا سکون ہوا۔
“آ جاؤ بیٹا اندر چلیں تم تھک گئی ہو گی۔۔تھوڑا آرام کر لو تب تک باقی گھر والے بھی جاگ جائیں گے ابھی تو سب سو رہے ہیں ورنہ رات گئے تک تمہارے انتظار میں بیٹھے رہے تھے۔میں نے ہی زبردستی سب کو بھیجا۔غزنوی نے فون کر کے بتا دیا تھا کہ تم لوگ صبح پہنچو گے۔وہ سب تو صبح تک تم دونوں کا انتظار کرنا چاہتے تھے مگر۔۔۔۔۔چلو خیر تھوڑی دیر تک مل ہی لو گی سب سے۔۔”
وہ اسے ساتھ لیے ایک کمرے کی طرف بڑھیں۔لاؤنج میں داخل ہوتے ہیں شگفتہ نے اُس سے اُس کا بیگ لے لیا تھا۔
“شگفتہ تم میرے لئے اور میری بیٹی کے لیے چائے بنا کر لاؤ۔۔ناشتہ ہم باقی سب کے ساتھ کریں گے۔”
کمرے میں داخل ہونے سے پہلے شاہ گل نے شگفتہ سے کہا۔وہ سر ہلا کر وہیں سے پلٹ گئی۔وہ دونوں کمرے میں داخل ہو گئیں۔یہ کمرہ شاید انہی کا تھا۔کمرہ بہت کھلا اور صاف ستھرا تھا۔ضرورت کی ہر چیز وہاں موجود تھی۔کمرے کی ڈیکوریشن میں سادگی کا خاص دھیان رکھا گیا تھا۔
“تمھارے داجی آئیں گے تو ہم ولیمے کا فنکشن کریں گے اور یہ غزنی کو دیکھو وہاں سے کیسے بھاگ گیا۔۔شرما گیا تھا میرا بچہ۔۔تم خفا مت ہونا اچانک سے یہ سب ہو گیا نا اس لئے ایسا کیا اس نے ورنہ تو میرا بچہ بہت خیال رکھنے والا ہے۔”
وہ اسے ساتھ لیے صوفے تک آئیں اور اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔وہ شاید اس خِفت کو مٹانے کے لئے اس کے سامنے یہ سب کہہ رہی تھیں جو انہوں نے غزنوی کے یوں وہاں سے جانے پہ محسوس کی تھی۔وہ اس کے پاس بیٹھ کر اسکے گھر والوں کے بارے میں پوچھنے لگیں تھیں۔تھوڑی دیر بعد شگفتہ چائے لئے کمرے میں داخل ہوئی۔ٹرے اس نے ٹیبل پہ رکھا اور پھر باہر سے اسکا سفری بیگ بھی لے آئی۔
“ایک کپ غزنوی کو بھی دے آتی۔۔”
انھوں نے شگفتہ کے ہاتھ سے کپ لیتے ہوئے کہا۔
“میں نے پوچھا تھا لیکن کوئی آواز نہیں دی۔”
شگفتہ نے کپ ایمان کی طرف بڑھاتے ہوئے ان سے کہا۔
“ہاں سو گیا ہو گا۔۔نیند کا شیدائی ہے۔”
آخری جملہ انھوں نے ایمان کو دیکھتے ہوئے کہا اور ہنس دیں۔ایمان بھی سر ہلا کر دھیرے دھیرے چائے کی چسکیاں لینے لگی۔پہلے تو اس دلدل سے نکل جانے کی خوشی نے اسے کچھ سمجھنے نہیں دیا تھا۔وہ یہی سمجھ رہی تھی کہ اچانک سے یہ سب ہونے کی وجہ سے وہ غصے میں ہے مگر یہاں آنے کے بعد کے رویے نے اب اسے پریشان کر دیا تھا۔شاہ گل بھی اسے بغور دیکھتے ہوئے غزنوی کے متعلق ہی سوچ رہی تھیں۔انھیں اعظم احمد(داجی) نے فون پہ سب بتا دیا تھا کہ کن حالات میں انھیں غزنوی اور ایمان کا نکاح کرنا پڑا اور یہ بھی کہ غزنوی اس نکاح کے لئے راضی نہیں تھا۔۔انہوں نے اسے اس نکاح کے لئے مجبور کیا ہے۔انہوں نے ان سے کہا کہ وہ ان کے فون بند کرنے بعد سب گھر والوں کو اکٹھا کر کے اس نکاح کے متعلق بتائیں اور یہ بھی بتائیں کہ ایمان غزنوی کے ساتھ ہی آئے گی۔ایک دو دن میں وہ خود بھی واپس آ جائیں گے پھر ولیمے کی تقریب رکھی جائے گی۔
“ایمان بیٹا۔۔۔اگر نیند آ رہی ہے تو تم آرام کر لو۔۔”
انہوں نے اس کی سرخ آنکھوں کو دیکھتے ہوئے کہا۔
“جی۔۔۔”
وہ فوراً اٹھ کر بیڈ کی سمت بڑھ گئی۔شاہ گل حکم کی اس تعمیل پہ مسکرا دی تھیں۔
________________________________________
اسکی آنکھ کھلی تو وہی ملازمہ اسے آواز دے رہی تھی۔۔کچھ دیر تو وہ اسے گھورتی رہی پھر جب آنکھیں اس ماحول سے مانوس ہوئیں تو اسے اندازہ ہوا کہ وہ اس وقت کہاں ہے۔
“تم۔۔۔۔”
اس نے دونوں ہاتھوں سے آنکھوں کو بچوں کے سے انداز میں رگڑتے ہوئے پوچھا۔
“جی میں شگفتہ۔۔۔شاہ گل کہہ رہی ہیں کہ آپ جلدی سے فریش ہو کر نیچے آ جائیں۔۔وہاں سب ڈائننگ ہال میں آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔”
شگفتہ فُل اسپیڈ میں بولی تھی۔۔۔اس کی بات سن کر وہ سر ہلا کر تکیے سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی۔
“او جی اٹھ بھی جائیں۔۔میں نے آپکے کپڑے واش روم میں لٹکا دئیے ہیں۔”
شگفتہ اسے سستی سے بیٹھے دیکھکر اپنی چادر کا پلّو مروڑتے ہوئے بولی تھی۔
“اچھا نا اٹھتی ہوں۔”
وہ وقفے وقفے سے آتی اباسیوں کو ہاتھ سے روکتے ہوئے بیڈ سے اتر کر واش روم کی طرف بڑھ گئی۔
“آپ نے تو کہا تھا کہ کپڑے واش روم میں لٹکائے ہیں مگر یہاں تو میرے کپڑے نہیں ہیں۔”
وہ واش روم کے دروازے میں کھڑی شگفتہ سے پوچھ رہی تھی۔
“او ہو۔۔۔۔ٹھہریں میں آتی ہوں۔”
وہ ماتھے پہ ہاتھ مارتی اس کے پاس آئی اور واش روم کی الماری میں سے اسے ڈریس نکال کر ایمان کی طرف بڑھایا۔
“یہ تو میرا نہیں ہے۔”
اس نے شاکنگ پنک کلر کے سادہ مگر خوبصورت ڈریس کی طرف ہاتھ بڑھانے سے احتراز برتا۔
“بی بی یہ آپکا ہی ہے۔۔شاہ گل نے دیا ہے مجھے کہ آپکو دے دوں۔”
شگفتہ نے ڈریس اسکے ہاتھ میں دیا اور واش روم سے باہر نکل گئی۔اس نے ایک نظر ہاتھ میں پکڑے لباس کو دیکھا اور پھر شگفتہ کو جو اس کے انتظار میں صوفے پہ بیٹھ گئی تھی۔تھوڑی دیر بعد وہ فریش ہو کر باہر آئی۔ایک نظر آئینے میں خود پہ ڈالی۔۔یوں لگ رہا تھا جیسے یہ لباس خاص اسی کے لئے بنایا گیا ہو۔اسکی دودھیا رنگت پہ لباس بہت اٹھ رہا تھا۔اس نے کبھی اسقدر ڈارک کلر نہیں پہنا تھا۔اسکے پاس تو گنتی کے چار پانچ جوڑے تھے جنھیں وہ ساتھ لے آئی تھی حالانکہ ان میں سے تو کچھ اپنی اصلی رنگت بھی کھو چکے تھے۔ایک تسلی بخش نظر اس نے اپنے عکس پہ ڈالی اور گیلے بالوں میں برش کرنے لگی۔
“ماشاءاللہ جی۔۔آپ تو کتنی پیاری لگ رہی ہیں۔”
شگفتہ اسکے پاس آ کھڑی ہوئی تھی۔
“بہت شکریہ۔۔”
اس نے مسکرا کر اسکا شکریہ ادا کیا اور گیلے بالوں کا ہی ہلکا سا جُوڑا بنا کر کیچر لگا لیا۔بیڈ پہ دھرا ڈوپٹہ اٹھا کر اچھے سے پھیلا کر اوڑھا۔
“چلیں چلتے ہیں۔۔سب انتظار کر رہے ہوں گے۔”
شگفتہ دروازے کی طرف بڑھی مگر ایمان وہیں کھڑی رہی۔وہ گھبراہٹ کا شکار ہو رہی تھی مگر جانا تو تھا۔۔آج نہیں تو کل سب کا سامنا کرنا ہی تھا۔
“آپ رک کیوں گئیں۔۔چلیں نا۔۔”
شگفتہ نے دروازہ کھول کر پیچھے دیکھا تو وہ وہیں کھڑی انگلیاں چٹخا رہی تھی۔
“جی۔۔آ رہی ہوں۔”
اس نے اچھے خاصے ٹھیک دوپٹے کو ایک بار پھر سر پہ اچھے سے جمایا اور قدم بڑھائے۔دھڑکتا دل لیے وہ شگفتہ کے پیچھے پیچھے ڈائننگ ہال میں داخل ہوئی تھی۔جھکی نظروں کے باوجود وہ خود پہ اٹھتی نظروں کو محسوس کر سکتی تھی۔اٹھتے قدموں کے ساتھ ساتھ اسکی دھڑکن بھی بڑھ رہی تھی۔
“وہ دیکھو۔۔۔میری بیٹی بھی آ گئی۔”
شاہ گل نے اسے آتے دیکھا تو “میری بیٹی” کہہ کر اسکا حوصلہ بڑھایا۔وہ مسکراتے ہوئے ان کی طرف بڑھی۔
“یہاں آؤ میرے پاس۔۔۔”
انھوں نے اپنی قریبی کرسی پہ ہاتھ رکھا۔
“السلام وعلیکم۔۔!!”
اس نے گھبراہٹ سے خشک پڑتے لبوں پہ زبان پھیری اور وہاں بیٹھے سبھی لوگوں کو سلام کیا۔وہ سب اسے حیران نظروں اور مسکراتے لبوں سے دیکھ رہے تھے۔
“وعلیکم السلام۔۔”
سبھی نے ایک آواز میں اسکے سلام کا جواب دیا تھا۔
“یہاں بیٹھو میرے پاس۔”
شاہ گل نے اپنے پاس والی کرسی کے ہینڈل پہ ہاتھ رکھا۔وہ دھیرے دھیرے چلتی ان کے پاس والی کرسی پر بیٹھ گئی تھی۔جہاں سب کی حیران نظریں اسے کنفیوز کر رہی تھیں وہیں ان کے مسکراتے لبوں نے اسے کچھ حوصلہ بھی دیا تھا۔اس وقت یہاں صرف گھر کے بڑے موجود تھے۔
“یہ غزنوی کے والد اور تمھارے سُسر مکرم احمد۔۔تمھاری ساس شمائلہ، میرے سب سے بڑے بیٹے معظم احمد اور شریک حیات صدیقہ اور ان کے ساتھ غزنوی کے چھوٹے چچا مظفر احمد اور غزنوی کی چچی صائمہ ہیں۔”
عقیلہ بیگم نے سب سے تعارف کروایا۔سبھی نے مسکراتے ہوئے اسے خوش آمدید کہا تھا۔۔کچھ دیر بعد وہ سب اس سے یوں باتیں کر رہے تھے جیسے وہ انہی کی فیملی کا حصہ ہو۔۔خاص طور پر غزنوی کے والد اور والدہ اس سے بہت محبت سے پیش آ رہے تھے۔شاہ گل نے بھی ان سب کے رویوں کو دیکھ کر خدا کا شکر ادا کیا۔حالانکہ جب شمائلہ کو معلوم ہوا تھا تو وہ خاموش ہو گئیں تھیں مگر اب ان کے چہرے کے سکون نے شاہ گل کو بھی پرسکون کر دیا تھا۔شمائلہ بیگم کو یہ نازک سی موہنی صورت والی لڑکی بہت پسند آئی تھیں۔گھر کے بڑوں کو عقیلہ بیگم نے ایمان کو درپیش حالات کے بارے میں بتا دیا تھا اور یہ بھی کہ کن وجوہات کی بناء پر انھیں یہ نکاح کروانا پڑا تھا۔شمائلہ بیگم ایک بہت نرم دل کی مالک خاتون تھیں مگر بیٹے کے مزاج اور پسند ناپسند سے اچھی طرح سے واقف بھی تھیں۔ اپنی نرم طبیعت کے باعث انھیں ایمان سے ہمدردی محسوس ہو رہی تھی۔
“ریلیکس ہو کر بیٹھو ایمان بیٹا۔۔اسے اپنا گھر ہی سمجھو۔”
مکرم احمد نے ایمان کی ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہوئے اس سے کہا۔وہ ان کی طرف شکریہ ادا کرتی نظروں سے دیکھ کر مسکرا دی۔خوش گپیوں کے دوران بہت خوشگوار ماحول میں ناشتہ کیا گیا۔ناشتے کے بعد شمائلہ بیگم اسے اپنے کمرے میں لے آئیں اور اس سے اِدھر اُدھر کی باتیں کرنے لگیں۔اس سے اسکے خاندان اور تعلیم کے بارے میں پوچھتی رہیں۔ابھی وہ اس سے باتیں کر ہی رہی تھیں کہ دھڑام سے دروازہ کھلا اور ہنستی کھلکھلاتی لڑکیوں کا ایک جمِ غفیر اندر داخل ہوا۔شمائلہ بیگم ان سب کی اس قدر دھانسو انٹری پہ ہنسنے لگی تھیں۔ایمان حیرانی سے سبھی کو دیکھ رہی تھی۔شمائلہ بیگم اور ایمان صوفے پہ بیٹھی تھیں تو وہ سب ان کے سامنے نیچے کارپٹ پہ پُھسکڑا مار کر بیٹھ گئیں۔ملی جُلی آوازوں سے کمرے میں ہلکا سا شور پیدا ہو گیا تھا۔
“ایمان یہ سب تمھاری نندیں ہیں اور یہ سبھی تمھاری آمد اور تم سے ملنے کے لئے بےقرار تھیں۔دیکھو ان سے صبر نہیں ہو رہا تھا۔
شمائلہ بیگم نے ہنستے ہوئے اسے بتایا۔ایمان مسکرا دی۔
“چلیئے تائی امی ہمارا تعارف کروائیے۔”
سحرش نے کشن اٹھا کر گود میں رکھا اور اسکے گرد بازو لپیٹتے ہوئے کہا۔
“ہاں ممانی جلدی جلدی بتائیے۔۔میرے پاس وقت کی بہت کمی ہے۔”
ارفع نے اپنی چھوٹی سی ناک سکوڑ کر کہا۔
“ارے بھئی تم لوگ خاموش ہو گی تو تعارف کرواؤں گی نا۔”
شمائلہ بیگم نے کہا اور پھر ایمان کیطرف دیکھا۔وہ سب اپنا تعارف ہونے کے لئے بہت بےقرار تھیں اور منتظر نگاہوں سے کبھی ایمان کو دیکھتی تو کبھی شمائلہ بیگم کو۔
“ایمان یہ تم اتنی ساری لڑکیوں کو دیکھ رہی ہو نا یہ سب تمھاری۔۔۔۔”
“ٹھہریں ممانی میں اپنا تعارف خود کرواوں گی۔”
عنادل ایک دم سے کھڑی ہوئی اور سب کی طرف دیکھتے ہوئے فرضی کالر کھڑے کیے۔
“ارے پہلے اپنے کرتوت تو بتا دو پھر کالر کھڑے کرنا۔”
ارفع نے عنادل سے کہا۔اس کی بات پہ قہقہہ پھوٹ پڑا۔
“خاموش۔۔۔۔گستاخ لڑکی۔۔۔ملکہ عالیہ کا اقبال بلند ہو۔۔”
عنادل نے ارفع کی طرف نروٹھے پن سے دیکھ کر مغرور انداز اپنایا اور اپنی ننھی سی ناک پھلائی۔۔ساتھ ہی ساتھ اپنا اقبال خود بلند کرنا نہ بھولی۔
“ہاں ہاں۔۔۔۔ملکہ عنادل کی شادی اقبال خاکروب سے جلد ہو۔۔”
ملائکہ کے ٹکڑا لگانے پہ یہ چھوٹی سی محفل ایک بار پھر ذعفران زار ہو گئی۔
“ملائکہ۔۔۔بری بات عنادل بڑی ہے تم سے۔۔”
شمائلہ بیگم نے ملائکہ کو گھرکا۔
“ایمان یہ ہماری برتن دھونے والی ماسی ہے۔”
لاریب کہاں پیچھے رہنے والی تھی۔۔اس نے اپنی طرف سے چٹکلا چھوڑا۔جسے سن کر ہنسی کا فوارہ پھوٹ پڑا۔
“حد ادب۔۔۔گستاخی لڑکی۔۔۔”
عنادل اپنے کریکٹر سے باہر آنے کے لئے قطعی تیار نہیں تھی۔
“تم کون سی مہارانی ہو۔۔۔تمھارا بھی تو یہی کام ہے۔”
عنادل کو لاریب کا بیچ میں بولنا ایک آنکھ نہ بھایا۔
ایمان ان کی شرارتوں اور نوک جھونک کو انجوائے کر رہی تھی۔
“او ہو۔۔۔چپ کرو تم دونوں۔۔۔چچی جلدی سے تعارف کروائیں نا۔”
سدا کی بےصبری پرخہ نے چپ کا کفل توڑا۔
“اسکا نام زنبوری ہے۔۔۔”
یہ لطیفہ فائقہ نے سنایا تھا۔پورا کمرا ایک مرتبہ پھر قہقہوں سے گونج اٹھا۔اس بار ایمان بھی ہنس دی تھی۔
“فائقہ۔۔۔!!”
شمائلہ بیگم نے فائقہ کو تنبیہی نگاہوں سے دیکھا جبکہ لبوں پہ سجی مسکراہٹ بتا رہی تھی کہ وہ بھی ان سبھی کی نوک جھونک سے لطف اندوز ہو رہی ہیں۔پھر اسی ہنسی مذاق میں شمائلہ بیگم نے ان سب کا تعارف کروایا۔ایمان ان سے اور وہ سبھی ایمان سے مل کر بہت خوش ہوئیں۔تعارف کا مرحلہ گزرنے کے بعد شمائلہ بیگم تو کام کی غرض سے کمرے سے چلی گئیں۔ان کے جانے کے بعد سبھی نے ایمان کو اپنے گھیرے میں لے لیا اور اس پہ سوالات کی بوچھاڑ کر دی۔وہ بھی مسکراتی، گھبراتی ان کے اُوٹ پٹانگ سوالوں کے جواب دیتی رہی۔
“ایمان تم تو اتنی چھوٹی سی ہو۔۔۔ہم۔تمھیں بھابھی نہیں کہیں گے۔”
پرخہ اس کے قریب کھسک آئی۔
“مجھے کوئی اعتراض نہیں پرخہ آپی۔”
ایمان نے مسکراتے ہوئے کہا۔
“اچھا یہ بتاو کہ تمھیں غزنوی بھائی کیسے لگے۔”
ارفع نے اپنی چھوٹی سی ناک پہ پھسلتی عینک کو درست کیا۔غزنوی کے ذکر پہ ایمان کو سرخ گھورتی آنکھیں اور قہر بھرا لہجہ یاد آ گیا۔
“وہ یقینا بڑے زور سے لگے ہونگے۔”
ملائکہ نے اس کی جھکتی نظروں کو فوکس کرتے ہوئے کہا۔
“ہاں ایمان۔۔وہ تو ہمیں بھی کبھی کبھی بڑے زور سے لگ جاتے ہیں۔کیا تمھیں بھی لگے ہیں۔۔زور سے۔۔۔؟؟”
فائقہ شرارتی نگاہوں سے اسے بغور دیکھ رہی تھی۔
“ہاں مجھے بھی بہت زور سے لگے ہیں۔”
ایمان نے ان سے رازداری سے کہا تو سبھی کا قہقہہ گونج اٹھا۔
“اور یہ تو بڑی اسپیشل ہیں انہیں تو ٹھاہ ٹھاہ کر کے لگنے چاہئیے۔”
پرخہ نے چہرے پہ سنجیدگی طاری کرتے ہوئے کہا۔پرخہ کے سنجیدہ انداز کے باوجود وہ سبھی ہنس دیں۔
“کیوں نہیں میرے بھائی تو ہیں ہی بہت زبردست۔۔”
ملائکہ نے انگوٹھا اٹھا کر ایمان کو تھمزاپ کیا۔
“میرا بھی تو ہے۔۔۔”
لاریب بھی آگے آئی۔
“میرے بھی تو ہیں۔”
عنادل اچھل کر صوفے پہ چڑھی تھی۔۔وہ ان سب کے ساتھ یوں گھل مل گئی جیسے ان سب سے برسوں کی شناسائی ہو۔ان سب کے بیچ اسے اجنبیت کا احساس ہی نہیں ہوا اور جو تھوڑی بہت ہچکچاہٹ تھی وہ بھی جاتی رہی۔ایمان گھر کے بزرگوں کے ساتھ ساتھ اس مسخروں کی ٹولی کے اخلاق سے بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکی۔
________________________________________
“یہ سب کیا ہو رہا ہے؟”
اعظم احمد مردان خانے میں داخل ہوئے۔وہ کل ہی گاؤں آئے تھے۔زمینوں کے کچھ معاملات کے حل کیلئے ان کا آنا ضروری تھا۔حالانکہ شاہ گل نے انھیں اکیلے جانے سے منع بھی کیا تھا مگر وہ ناساز طبیعت کے باوجود اکرم علی کو ساتھ لئے حویلی آ گئے تھے۔ان کا دل تو یہاں گاؤں میں ہی رہنے کو چاہتا تھا لیکن بچوں کی پڑھائی کے باعث وہ شہر آ بسے تھے۔بچے پڑھ لکھ گئے اور شہر میں ہی سیٹلڈ ہو گئے۔اب تو بچوں کے بھی بچے جوان ہو گئے تھے۔زمینوں کی دیکھ بھال کے لئے اعتباری لوگ رکھ کر وہ گاؤں سے بےغم ہو گئے تھے۔بس کبھی کبھی گاؤں کا چکر لگا لیتے تھے۔ایک دو دن تمام معاملات دیکھ کر واپس شہر ہو لیتے۔
“میں کچھ پوچھ رہا ہوں۔”
انکی بارعب آواز سن کر حاضرین محفل پہ سکوت چھا گیا تھا۔کسی نے جواب نہیں دیا تو انھوں نے دوبارہ پوچھا تھا۔جب بھی وہ گاؤں آتے تو انھیں ہر چھوٹے بڑے معاملے میں شامل کیا جاتا تھا۔ان سے مشورہ لیے بنا کوئی فیصلہ تکمیل نہیں پاتا تھا۔وہاں موجود لوگ انھیں دیکھ کر بیک وقت خوش اور حیران ہو گئے تھے۔
“ارے داجی آپ کب آئے۔۔ہمیں اطلاع بھی نہیں دی۔”
بادشاہ خان انھیں دیکھ کر فوراً ان کے پاس آیا تھا۔
“اب تو آ گیا ہوں نا۔۔۔تم یہ بتاؤ کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے اور سب لوگ یہاں کس لئے اکٹھے ہوئے ہیں؟”
وہ بڑے بڑے قدم اٹھاتے چارپائی کی طرف آئے تھے۔اکرم علی بھی ان کے ساتھ تھا۔
“کچھ نہیں داجی۔۔۔بس یونہی گپ شپ۔۔۔۔کوئی خاص بات نہیں ہے۔
بادشاہ خان ان کی جائزہ لیتی نگاہوں کو خود پہ گڑے دیکھ کر بغلیں جھانکنے لگا تھا۔اعظم احمد اچھی طرح جانتے تھے کہ کچھ وقت سے بادشاہ خان علاقے کے ہر معاملے میں اپنی ٹانگ اڑانے کی کوشش کرتا تھا۔وقفے وقفے سے کوئی نہ کوئی انھیں گاؤں کے حالات سے مطلع کرتا رہتا تھا۔ان کا آنا اس لئے بھی ناگزیر ہو گیا تھا کہ بادشاہ خان نے اپنی حکمرانی قائم کرنی شروع کر دی تھی۔اگر وہ ہر معاملے کو طریقے اور انصاف سے سلجھانے کی کوشش کرتا تو وہ خود اسے اجازت دے دیتے مگر وہ تو جہاں پلڑا بھاری ہوتا وہاں فیصلہ کر دیتا تھا۔
“ادھر میری طرف دیکھ کر بات کرو۔۔یہاں وہاں کیوں نظریں گھما رہے ہو۔تمھارے مردان خانے میں لوگ گپ شپ کے لئے کب سے اکٹھے ہونے لگے ہیں۔جہاں تک میرا خیال ہے تم تو نچلے طبقے کے لوگوں کے ساتھ پانی پینے تک کے روادار نہیں کہاں یہ گپ شپ لگانا۔۔۔بات کچھ ہضم نہیں ہو رہی کہ یہ تبدیلی کیونکر رُونما ہوئی۔”
ان کی بارعب آواز میں کہی گئی باتیں ارد گرد موجود لوگوں کے چہروں پہ دبی دبی مسکراہٹ لے آئی تھی۔
“خیر چھوڑو۔۔یہ باتیں پھر کبھی سہی۔۔جوہر خان تم بتاؤ کیا معاملہ ہے؟”
انہوں نے گاؤ تکیے سے ٹیک لگاتے ہوئے جوہر خان سے پوچھا۔
“داجی۔۔رشید خان کو تو آپ جانتے ہیں۔۔وہ نشئی اور جواری۔”
جوہر خان اعظم احمد کے پوچھنے پہ ان کے قریب آ کر بیٹھ گیا۔
“ہاں ہاں بالکل جانتا ہوں۔۔۔کیا کیا ہے اس نے؟”
اعظم احمد سیدھے ہو بیٹھے۔
“داجی اس نے بادشاہ خان سے ایک لاکھ روپے قرض لئے تھے کہ ایک مہینے تک واپس کر دے گا۔بادشاہ خان کو اچھی طرح معلوم تھا کہ رشید خان واپسی نہیں دے پائے گا مگر پھر بھی اس نے اسے اتنے پیسے قرض دیئے۔سارا گاؤں جانتا ہے کہ رشید خان جُوا کھیلتا ہے اور نشے کی لت اسے ایسی لگی ہے کہ اچھے بُرے کی تمیز ہی بھول بیٹھا ہے۔”
جوہر خان انھیں بتانے لگا جبکہ بادشاہ خان چہرے پہ کرختگی لئے جوہر خان کو دیکھ رہا تھا اور رشید خان سر جھکائے اپنی تعریفیں سُن رہا تھا۔
“ہاں بالکل نشہ ایک لعنت ہے اور رشید خان جوان اکلوتی بیٹی کے باپ ہو۔۔تمھیں شرم نہیں آتی یہ سب کرتے ہوئے۔”
اعظم احمد رشید خان کیطرف افسوس بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے۔
“بیٹی کا ہی تو مسئلہ ہے داجی۔۔۔”
جوہر خان نے ان پہ واضح کرنا چاہا۔
“کیا مطلب جوہر خان۔۔؟”
اعظم احمد نے جوہر خان سے پوچھا۔
“داجی۔۔۔ایسی کوئی بات نہیں ہے۔۔یہاں لوگ ہر چھوٹی چھوٹی بات پہ میرے خلاف محاذ کھول کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔مجھے کیا پتہ تھا کہ رشید خان سارا پیسہ جُوے میں ہار جائے گا۔میں تو سمجھا کہ کاروبار کرنا چاہتا ہے اس لئے پیسے مانگ رہا ہے۔”
اس پہلے کہ جوہر خان سارا کچا چٹھا کھولتا بادشاہ خان بول پڑا۔
“ہاں ہاں اور وہ کاغذ کیسا ہے جس پہ تم نے بغیر رشید خان پہ واضح کیے اس سے انگوٹھا لگوایا ہے۔جسے تم لئے پھر رہے ہو اور جس کی بنیاد پہ تم اس کی بیٹی سے جو تمھاری بیٹی کی عمر کی ہے شادی کر سکتے ہو۔بولو کیا میں جھوٹ بول رہا ہوں۔۔؟ اور جس کاغذ کو ہمارے سامنے رکھنے کے لئے تم نے ہمیں یہاں جمع ہونے کے لئے کہا تھا۔۔لگتا ہے یاداشت کمزور ہو گئی ہے تمھاری۔”
جوہر خان کو اس کی حرکتوں پہ بہت غصہ تھا۔۔وہ گاؤں میں لوگوں کو سود پہ قرض دیتا تھا اور جو قرض واپس نہیں کر پاتے تھے ان کی زمین یا گھر ان سے ہتھیا لیتا تھا۔بیچارے غریب لوگ اس کی ان چالاکیوں کو سمجھ نہیں پاتے تھے اور اس کے جھانسے میں آ کر اپنا سب کچھ گنوا دیتے تھے۔اس بار اس نے نہایت گری ہوئی حرکت کی تھی جس پہ جوہر خان کا خون کھول رہا تھا۔اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ ان حرکتوں پہ وہ اسے جیل میں ڈال دیتا۔
“بادشاہ خان کیا جوہر خان ٹھیک کہہ رہا ہے؟”
اعظم احمد نے غصیلے لہجے میں بادشاہ خان کی طرف دیکھ کر پوچھا۔
“یہ جھوٹ ہے داجی۔۔۔یہ میرے خلاف اس جوہر خان کی سازش ہے۔”
بادشاہ خان نے ساری بات جوہر خان پہ ڈالنی چاہی۔
“مجھے کیا فائدہ یہ سب کر کے۔۔۔۔اپنی غلطیوں پہ پردہ مت ڈالو بادشاہ خان۔۔سارا گاؤں واقف ہے کہ تم کس قماش کے آدمی ہو۔”
جوہر خان غصے سے کھڑا ہو گیا۔
“بیٹھ جاؤ جوہر خان۔۔۔میں بات کرتا ہوں۔۔۔ہاں تم بولو رشید خان۔۔کیا جوہر خان سچ کہہ رہا ہے؟”
اعظم احمد نے جوہر خان کو بازو سے پکڑ کر اپنے قریب بٹھایا اور سر جھکائے بیٹھے رشید خان سے پوچھا۔
“داجی میں اپنی بیٹی کی شادی بادشاہ خان سے کروانے کے لئے تیار ہوں۔۔اس نے رشتہ دیا تھا جس پہ میں راضی ہوں۔۔بادشاہ خان پیسے والا ہے میری بیٹی کو خوش رکھے گا۔جہاں تک قرض کی بات ہے تو وہ اتار دوں گا۔جوہر خان خواہ مخواہ اس بات کو بڑھا رہا ہے۔”
رشید خان کی بات سن کر سب کو سانپ سونگھ گیا۔انھیں یقین نہیں آ رہا تھا کہ رشید خان اس طرح پینترا بدلے گا۔
“داجی دیکھ لیا آپ نے اسے کوئی اعتراض نہیں اور یہ جوہر خان یونہی میرے پیچھے پڑا ہے۔”
رشید خان کی بات نے جیسے بادشاہ خان کو ہمت دی۔وہ تیزی سے بولا تھا۔
“رشید خان تمھیں بادشاہ خان سے ڈرنے کی قطعی ضرورت نہیں ہے۔میں تمھارے ساتھ ہوں۔تمھاری بیٹی سارے گاؤں کی بیٹی ہے۔۔میری بیٹی ہے اور اپنی بیٹی کی شادی میں خود کرواؤں گا۔”
اعظم احمد نے رشید خان کو مضبوط کرنا چاہا۔
“داجی میرے جیسے نشئی اور جواری کی بیٹی سے کون شادی کرے گا۔۔میں جہیز میں ایک پھوٹی کوڑی تک نہیں دے سکتا اپنی بیٹی کو۔۔کون کرے گا اس سے شادی۔”
رشید آنسو پونچھتے ہوئے بولا تھا۔
“لیکن رشید خان کیا تمھیں اپنی بیٹی اور بادشاہ خان کی عمروں میں زمین آسمان کا فرق دکھائی نہیں دیتا۔ایسا بھی کیا ہے کہ تم آنکھوں دیکھی مکھی نگلنے کو تیار ہو۔رشید خان بیٹی کے باپ کو اتنا کمزور نہیں ہونا چاہیئے۔”
اعظم احمد کو اسکا رونا دُکھی کر گیا تھا۔
“کون مجھ غریب کی بیٹی سے شادی کرے گا۔۔کوئی نہیں ہے۔”
رشید خان نے بادشاہ خان کو دیکھا جو قہر بھری نظروں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
“ہاں تو اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ تم اسے بادشاہ خان سے بیاہ دو۔۔یہ تو ظلم ہے۔”
“داجی بالکل درست کہہ رہے ہیں رشید خان۔”
اعظم احمد کی بات کی وہاں بیٹھے سبھی لوگوں نے تائید کی۔
“کون کرے گا پھر۔۔؟”
رشید خان نے سبھی سے سوال کیا۔
“داجی کے ماشاءاللہ سے جوان پوتے ہیں۔۔کسی ایک سے نکاح کروا لیں۔”
بادشاہ خان کی اچانک کی گئی بات سُن کر اعظم احمد سمیت سبھی لوگ حیران رہ گئے۔
“یہ کیا کہہ رہے ہو بادشاہ خان۔۔۔ہوش میں تو ہو تم۔۔بھلا داجی اور رشید خان کا کیا مقابلہ۔۔۔اور وہ سبھی ماشاءاللہ پڑھے لکھے نوجوان ہیں۔ان کا رشید خان کی بیٹی سے کیا جوڑ۔۔۔”
جوہر خان کھڑا ہوا۔
“نہیں جوہر خان ایسا مت کہو۔۔۔اللہ کو یہ بات پسند نہیں۔۔میرے نزدیک یہ فرق معنی نہیں رکھتا۔۔مجھے منظور ہے اگر رشید خان ہاں کر دے تو۔۔کیوں رشید خان تم کیا کہتے ہو۔۔کیا تم میرے پوتے غزنوی احمد کو اپنی فرزندگی میں لینا چاہو گے۔۔؟؟”
اعظم احمد نے رشید خان کو دیکھا جس کی آنکھوں سے ایک بار پھر آنسو چھلک پڑے تھے۔
“یہ تو میری اور میری بیٹی کی خوش قسمتی ہو گی داجی۔۔۔میں آپکا یہ احسان ساری عمر نہیں بُھولوں گا۔”
رشید خان نے اعظم احمد کے ہاتھ تھام کر آنکھوں سے لگا لئے۔
“تو بس ٹھیک ہے یہ نکاح کل ہی ہو گا۔۔اکرم علی تم غزنوی کو فون کرو اور اسے کہو جلد سے جلد گاؤں پہنچے۔۔نیک کام میں دیر نہیں ہونی چاہئیے۔”
اعظم احمد اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہوئے اور اکرم علی سے کہا۔اکرم علی ہاتھ میں فون لے کر فوراً باہر چلا گیا اور باقی سبھی اعظم احمد اور رشید خان کو مبارکباد دینے لگے جبکہ بادشاہ خان اتنا اچھا موقع ہاتھ سے جانے پہ افسوس سے ہاتھ ملتا رہ گیا۔وہ سمجھ رہا تھا کہ اعظم احمد اِس کے لئے راضی نہیں ہوں گے تو پیچھے وہی رہ جائے گا۔پھر اعظم احمد کے چلے جانے کے بعد وہ رشید خان کو منا لے گا مگر بازی اُلٹی ہو گئی تھی۔اس کے ہاتھ کچھ نہیں آیا تھا۔
________________________________________
وہ آ تو گیا تھا مگر سارا راستہ پریشان رہا تھا۔نجانے ایسی کیا بات تھی کہ داجی نے اسے فوراً بلایا تھا۔گاؤں کے لیے نکلتے وقت ان کی طبیعت بھی ٹھیک نہیں تھی۔آفس میں ایک بہت اہم میٹنگ کی وجہ سے وہ ان کے ساتھ نہیں آ سکا تھا ورنہ وہ ان کے اکیلے جانے کے حق میں نہیں تھا۔لیکن وہ اکرم علی کو ساتھ لئے گاؤں کے لئے روانہ ہو گئے تھے اور اب ان کے اچانک بلانے پہ وہ پریشان تھا۔
اس وقت وہ اپنے کمرے میں موجود تھا گاؤں آئے اسے بیس منٹ سے زیادہ کا وقت ہو گیا تھا مگر یہاں کوئی موجود نہیں تھا سوائے دو تین ملازماؤں کے۔۔جنھیں کچھ بھی معلوم نہیں تھا۔اس کے داجی کے متعلق پوچھنے پہ انھوں نے اسے بتایا تھا کہ داجی بالکل ٹھیک ہیں اور اکرم علی کے ساتھ کہیں باہر گئے ہیں۔اعظم احمد کی طبیعت کا سن کر وہ پرسکون ہو گیا تھا اور اپنے کمرے میں ان کا انتظار کر رہا تھا۔سفر کی تھکان تھی اس لئے کچھ دیر آرام کی غرض سے وہ لیٹ گیا تھا۔آنکھ کھلی تو گھڑی کی سوئیاں تین بجے کا وقت بتا رہی تھیں۔وہ بیڈ سے اتر کر واش روم کی طرف بڑھ گیا۔شاور لینے کے بعد وہ کمرے سے باہر آیا تو ملازمہ نے اسے داجی کا پیغام دیا۔وہ ان کے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔
“ارے آؤ آؤ۔۔۔”
اعظم احمد نے اسے کمرے میں داخل ہوتے دیکھا تو اس سے ملنے کے لئے اپنی جگہ سے کھڑے ہو گئے تھے۔وہ آگے بڑھ کر ان سے بغلگیر ہوا۔
“داجی آپ آ گئے تھے تو مجھے جگا دیتے۔آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے نا۔۔اتنی ایمرجنسی میں آپ نے بلایا۔۔میں تو پریشان ہو رہا تھا۔”
“الحمداللہ۔۔!! میں بالکل ٹھیک ہوں۔سفر کی تھکان ہو گی اس لئے میں نے سوچا تم آرام کر لو۔اس لئے تمھیں جگایا نہیں۔”
وہ اسے ساتھ لے کر صوفے کی طرف بڑھے۔
“خیریت تو ہے نا داجی۔۔؟”
غزنوی بغور ان کا جائزہ لیتے ہوئے بولا۔
“ہاں ہاں بیٹا سب خیریت ہے۔۔تمھارا ساتھ چاہئیے تھا اس لئے تمھیں بلا لیا۔ایک کام تھا۔۔کیا تم میری مدد کرو گے؟”
غزنوی نے دیکھا وہ اسے اعتماد بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے۔
“داجی یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے۔۔آپ حکم کیجیئے۔”
غزنوی نے ان کا ہاتھ تھام کر انھیں اپنے ساتھ کا احساس دلایا۔اعظم احمد مسکرا دئیے اور پھر جو کچھ انھوں نے بتایا وہ اسکے چودہ طبق روشن کرنے کے لئے کافی تھا۔ان کا فیصلہ اسے قبول نہیں تھا مگر اس کے لئے انکار کرنا بھی بہت مشکل تھا۔وہ اس کے سامنے سوال رکھ کر اب اسکے جواب کے لئے منتظر نگاہوں سے اسے دیکھ رہے تھے۔اسے سمجھ نہیں آیا کہ وہ کیا جواب دے۔
“مگر اسطرح داجی۔۔۔”
وہ صرف اتنا ہی کہہ سکا۔
“غزنوی مجھے پتہ ہے اچانک اتنا بڑا فیصلہ وہ بھی تمھاری زندگی کا جو تمھارے لئے بہت اہمیت رکھتا ہے تمھارے لئے قبول کرنا مشکل ہے اور مجھے بھی کوئی حق نہیں پہنچتا کہ پہلے تو میں تمھاری مرضی کے خلاف کوئی فیصلہ کروں اور پھر تمھیں پابند بھی کروں۔۔اگر تم مان جاؤ گے تو میرا مان رہ جائے گا اور اگر تمھاری طرف سے انکار ہے تو میں تم پہ زبردستی نہیں کروں گا۔۔میرے لئے زبان سے زیادہ تمھاری رضامندی معنی رکھتی ہے۔”
انھوں نے اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھا۔
“داجی مجھے منظور ہے۔۔میرے لئے آپکی زبان اہمیت رکھتی ہے۔”
اس نے ایک پل کے لئے ان کی آنکھوں میں دیکھا تھا جن میں التجاوں کا ایک سمندر موجزن تھا۔اسے ایک پل لگا فیصلہ کرنے میں اور وہ ایک انجان لڑکی کو اپنی زندگی میں شامل کرنے پہ رضامند ہو گیا تھا جس کے نام تک سے وہ انجان تھا۔
اس کے ہاں کرنے پہ داجی کے چہرے پہ جو خوشی دکھائی دی تھی اسے دیکھ کر وہ ایک پل کو وہ اپنی خوشی بھول گیا۔انھوں نے اسے سینے سے لگایا۔
“مجھے فخر ہے تم پہ۔۔۔”
وہ اسے کندھوں سے تھامے مسکرا رہے تھے۔
پھر انا فانا نکاح کے انتظامات کیے گئے۔داجی نے رشید خان کو پیسے بھی دئیے تاکہ وہ بادشاہ خان کو دے دے اور اس سے کہا کہ اگر وہ چاہے تو تھوڑے تھوڑے کر کے یہ پیسے منشی احمد گل کو دیتا جائے اور اسے زمینوں پہ کام کرنے کے لئے بھی رکھ لیا۔رشید خان کے پاس الفاظ نہیں تھے کہ ان کا شکریہ ادا کرتا۔
“چلیں داجی۔۔میں گاڑی میں آپکا انتظار کر رہا ہوں آپ آ جائیں۔”
نکاح کے کچھ دیر بعد جب سب مہمان چلے گئے تو وہ ان کے پاس آیا۔
“ہاں بیٹا وقت پہ نکلو۔۔۔سفر لمبا ہے تاکہ وقت پہ پہنچ جاؤ اور ہاں گھر پہنچتے ہی مجھے اطلاع دے دینا۔”
وہ اسے لے کر حویلی کے اندرونی حصے کی طرف بڑھے۔
“کیا مطلب داجی۔۔۔کیا آپ میرے ساتھ نہیں جا رہے؟”
وہ چلتے چلتے رک گیا۔
“نہیں بیٹا میں ابھی نہیں جا سکتا۔۔یہاں کچھ کام ہیں اور ابھی کل ہی تو میں آیا ہوں۔۔پھر سفر کی تھکان کی وجہ سے زمینوں پر بھی نہیں جا سکا۔اس لئے ابھی میں یہیں رہوں گا۔”
انھوں نے اسے اس کے ساتھ نہ جانے کی وجہ بتائی۔
“ٹھیک ہے داجی پھر میں نکلتا ہوں۔”
وہ ان سے بغلگیر ہوا۔
“شفیقہ بی بی دلہن کو لے آؤ غزنوی جا رہا ہے۔”
اعظم احمد نے دروازے کی چوکھٹ پہ کھڑی ملازمہ سے کہا۔غزنوی جو ان سے ملکر جانے ہی والا تھا ان کی بات سن کر رک گیا۔
“داجی وہ آپ کے ساتھ یہاں رہے کچھ دن۔۔پھر جب آپ آئیں تو ساتھ لے آئیے گا۔”
وہ ان سے بولا۔۔چہرے کے تاثرات نارمل رکھے تھے مگر اندر ہی اندر ناپسندیدگی کا جوار بھاٹا ابلنے لگا تھا۔
“نہیں بیٹا میں نے گھر میں بتا دیا ہے کہ ایمان تمھارے ساتھ ہی آئے گی۔وہ تمھاری ذمہ داری ہے اور پھر ہمیں تو یہاں کچھ وقت لگ جائے گا۔وہاں سب اسکے انتظار میں ہیں۔ایمان تمھارے ساتھ ہی جائے گی۔”
انھوں نے اسے تذبذب شکار دیکھ کر سمجھایا۔
“جی۔۔۔میں گاڑی میں۔۔۔”
“جی داجی آپ نے بلایا۔”
وہ بات کر ہی رہا تھا کہ اپنے عقب سے آتی آواز کی سمت مڑا۔ہلکے سرخ رنگ کے پرنٹڈ سوٹ میں بلیک چادر اوڑھے وہ داجی کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھ رہی تھی اور غزنوی اسے دیکھ رہا تھا۔سیاہ چادر میں اسکی سپید رنگت اور بھی واضح ہو رہی تھی۔ان دونوں کے بیچ فاصلہ اتنا نہیں تھا کہ وہ اسکے تیکھے نقوش نہ دیکھ پاتا۔
“جی میں نے بلایا ہے۔۔آپ اپنا سامان لے آئیں۔آپ غزنوی کے ساتھ جائیں گی۔”
انھوں نے قریب آ کر پدرانہ شفقت سے اس کے سر پہ ہاتھ رکھا۔
“جی داجی۔۔۔”
ان کے کہنے پہ وہ سر ہلا کر واپس پلٹ گئی۔غزنوی نے غور کیا کہ جتنی دیر وہ وہاں موجود رہی اس نے ایک بار بھی اس کی جانب نہیں دیکھا تھا جبکہ وہ اسی کو دیکھ رہا تھا۔
“جاو بیٹا تم گاڑی نکالو۔۔۔دلہن آتی ہے۔”
اعظم احمد اس کی طرف پلٹے۔وہ سر ہلا کر گاڑی کی طرف بڑھ گیا۔چوکیدار سے کہہ کر پانی کی بوتل منگوائی اور خود گاڑی میں بیٹھ کر انتظار کرنے لگا۔
“کیا مصیبت گلے پڑ گئی۔”
وہ غصے اور کوفت سے اسٹیئرنگ پہ مکا مارتے ہوئے خود سے بولا۔
“جی چھوٹے صاحب۔۔مجھ سے کچھ کہا۔”
چوکیدار بوتل ہاتھ میں لئے اس کی جانب قدرے جھک کر بولا۔
“نہیں۔۔۔یہ بوتل ڈگی میں رکھ دو۔”
وہ کوفت سے بولا۔
“جی صاحب۔۔۔”
چوکیدار ڈگی کی طرف بڑا۔تھوڑی دیر بعد وہ اسے دروازے سے برآمد ہوتی دکھائی دی۔داجی جو کہ وہیں کھڑے تھے اس کی طرف بڑھے اور پھر اسے لئے دھیرے دھیرے قدم اٹھاتے گاڑی کی طرف آنے لگے۔
“غزنوی ایمان میری بیٹی ہے۔۔دھیان رہے اسے کوئی تکلیف نہ ہو۔”
وہ ایمان کے لئے گاڑی کا فرنٹ ڈور کھولے ایمان کو بیٹھنے کا کہتے غزنوی کی طرف دیکھنے لگے۔جس کا چہرہ اس وقت کسی بھی قسم کے تاثرات سے عاری تھا۔غزنوی نے ان کی بات پہ صرف سر ہلانے پہ اکتفاء کیا۔ان کے خداحافظ کہتے ہی غزنوی نے اگنیشن میں چابی گھما کر گاڑی اسٹارٹ کی۔ایمان اپنے دائیں جانب تیر کی سیدھ میں بیٹھے شخص کو دیکھنے کی ہمت خود میں نہیں پا رہی تھی۔آہستہ رفتار سے چلتی گاڑی لوہے کے گیٹ سے باہر نکلی۔ان کے نکلتے ہی چوکیدار نے گیٹ بند کیا۔گاڑی ایک جھٹکے سے آگے بڑھی اور اسکے اگلے ہی لمحے گاڑی ہوا سے باتیں کرتی آگے بڑھ رہی تھی۔وہ اس کی جانب دیکھ تو نہیں رہی تھی مگر اندازہ لگا سکتی تھی کہ اسقدر شرافت کا مظاہرہ گیٹ کے بند ہونے تک تھا۔ابھی وہ کچھ سوچ ہی نہیں پائی تھی کہ اچانک گاڑی ایک جھٹکے سے رکی۔ایمان نے اپنے ساتھ بیٹھے شخص کو کنکھیوں سے دیکھا۔
“نکلو گاڑی سے۔۔۔”
وہ دھاڑا۔۔ایمان اچھل کر پیچھے ہوئی۔
“جی۔۔۔؟؟”
اس نے حیرانی سے اپنے مجازی خدا کو دیکھا جو اسے کڑے تیور لئے گھور رہا تھا۔خون چھلکاتی آنکھیں ایمان کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ دوڑا گئیں۔۔وہ وہیں جمی رہی۔
“کیا جی جی۔۔۔نکلو گاڑی سے۔۔۔اور پیچھے جا کر بیٹھو۔”
غزنوی کا جی چاہا ایک لمحہ ضائع کیے بغیر اسے اٹھا کر باہر پھینک دے۔وہ ڈھیٹ بنی بیٹھی رہی۔پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھتی وہ اسکی بات کو سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی۔وہ اسے گاڑی سے نکلنے کو کہہ رہا تھا اسے اتنا ہی سمجھ آ رہا تھا۔اسکی اگلی بات پہ اس نے دھیان ہی نہیں دیا تھا۔ایمان کی بھوری آنکھیں پانیوں سے بھر گئیں۔غزنوی کا ہاتھ اسٹیئرنگ سے پھسلا تھا۔
“سُنا نہیں کیا۔۔۔نکلو۔۔۔”
اس بار آواز مدھم تھی مگر الفاظ میں سختی موجود تھی۔اس سے پہلے کہ اسکی آنکھیں چھلک پڑتیں وہ فوراً گاڑی سے نکلی اور دروازہ بند کیے بغیر پچھلا دروازہ کھول کر بیٹھ گئی اور اتنی ہی تیزی سے اپنی چادر سے آنکھیں رگڑ ڈالیں۔
“یہ کیا طریقہ ہے۔۔۔؟؟”
غزنوی نے اس کی اس حرکت پہ غصے سے اسکی طرف پلٹ کر دیکھا۔لمبی لمبی خمدار پلکیں سرخ چہرے پہ سایٔہ فگن تھیں۔اس نے غصہ ضبط کرتے ہوئے دروازے کی طرف ہاتھ بڑھا کر دروازہ بند کیا۔
“اب نجانے کب تک گلے میں پڑے اس زبردستی کے ڈھول کو بجانا پڑے گا۔”
بلند آواز میں کہتے ہوئے اس نے گاڑی اسٹارٹ کی یہ جانے بغیر کہ اس کے اتنے تحقیر بھرے الفاظ نے ایک نازک سے دل کو چھلنی کر دیا تھا۔
________________________________________
اعظم احمد اور عقیلہ بیگم نے اپنے خاندان کو بہت محبت سے سینچا تھا۔وہ دونوں ہی بہت نرم مزاج اور سادہ طبیعت کے مالک تھا۔اپنی نرم اور محبت سے بھرپور گرفت میں انھوں نے اپنے چاروں بچوں کو پالا تھا۔جب تک بچے چھوٹے تھے وہ بچوں کے ساتھ اپنے آبائی گھر میں ہی رہتے تھے مگر بچوں کی بہتر تعلیم کے لئے شہر میں آ بسے تھے۔ان کے بچوں میں بالترتیب معظم احمد، مکرم احمد، مظفر احمد اور طاہرہ احمد تھے۔سبھی بچے مزاجاً اپنے ماں باپ کا پرتو تھے۔پُرخلوص اور ملنسار۔۔۔
اعظم احمد نے شہر میں ایک چھوٹا سا کاروبار شروع کیا۔۔جسے ان کے تینوں بیٹوں نے مل کر ترقی دی اور کاروبار کی دنیا اپنا نام بنایا۔تینوں اپنے باپ کے ساتھ شانہ بشانہ رہے۔بچوں کی شادیوں کے بعد انھوں نے اپنے بیٹوں کو الگ الگ پورشنز بنا کر دئیے مگر الگ الگ رہنے کے باوجود ان کے دل جڑے ہوئے تھے۔ان کے بیٹے ہر فیصلے میں اپنے ماں باپ کو شامل رکھتے تھے۔اب تو ان کے پوتے پوتیاں، نواسا نواسیاں بھی جوان تھے۔معظم احمد اور صدیقہ بیگم کے پانچ بچے تھے۔مصطفی،احد اور فائقہ۔۔مکرم احمد اور شمائلہ بیگم کے چار۔۔۔غزنوی، مرتضی، عائشہ اور ملائکہ۔۔پھر تھے مظفر احمد اور صائمہ بیگم۔۔جن کی اولاد بالترتیب پرخہ، طہٰ، ولی، حیا اور لاریب تھیں۔۔۔طاہرہ آفریدی کی شادی رضوان علی سے ہوئی تھی۔ان کے تین بچے تھے۔۔ارفع، عنادل اور فروز علی۔۔۔
جسطرح گھر کے بڑے محبت کی ڈور سے ایک دوسرے سے بندھے ہوئے تھے اسی طرح ان کے بچے بھی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے۔اس وقت مصطفی اور غزنوی پڑھائی ختم کرنے کے بعد فیملی بزنس سنبھال رہے تھے۔ہادی کی تعلیم بھی مکمل ہو چکی تھی اور باقی سب بھی کالج اور یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹس تھے۔زندگی پرسکون انداز میں اپنی ڈگر پہ چل رہی تھی۔ان کی پرسکون زندگی میں ہلچل ایمان کے ان کے خاندان کا حصہ بننے سے پیدا ہوئی۔باقی سبھی نے خوشی خوشی اسے قبول کر لیا تھا سوائے غزنوی کے۔۔۔جس کے لئے یہ ایک زبردستی کا بندھن تھا اور جسے نبھانے کے لئے وہ نہ تیار تھا اور نا ہی رضامند۔۔۔غزنوی کے روکھے رویے نے چنچل سی ایمان کو اداسیوں میں دھکیل دیا تھا۔وہ خاموشی سے اس بندھن کو نبھانے کی کوشش کر رہی تھی۔ہر رات وہ طے کرتی کہ جیسے بھی ہو وہ اس رشتے کو نبھائے گی مگر ہر صبح وہ خود کو مزید تھکا ہوا محسوس کرتی تھی۔
________________________________________
“شمائلہ غزنوی نہیں اٹھا ابھی تک۔۔”
شاہ گل نے شمائلہ بیگم سے پوچھا جو الماری کھولے کچھ ڈھونڈنے میں مگن تھیں۔
“اماں میں صبح سے تین چار مرتبہ آواز دے چکی ہوں۔دروازہ بھی اندر سے بند کر رکھا ہے۔”
شمائلہ بیگم نے الماری کے پٹ بند کیے اور ان کے پاس آ کر بیٹھ گئیں۔ایمان بھی ان کے پاس ہی بیٹھی تھی۔غزنوی کا نام سن کر پریشانی اسکے چہرے پہ چھا گئی تھی۔جب سے وہ ایمان کو لے کر آیا تھا اپنے کمرے میں بند تھا۔اس سے دوبارہ سامنا نہیں ہوا تھا مگر وہ اپنے روکھے رویے سے اس پہ اپنی دھاک بٹھا چکا تھا۔
“وہ تو اتوار کے دن بھی کبھی اتنی دیر تک نہیں سوتا۔۔ایمان بھی کبھی اِدھر کبھی اُدھر بیٹھ رہی ہے۔اسے کمرے میں لے جاتیں۔۔تھوڑا آرام ہی کر لیتی بچی۔”
شاہ گل کی سنجیدہ گفتگو سن کر تمام لڑکیاں کمرے میں داخل ہونے لگی تھیں ان کی بات سن کر واپس کھسک لیں۔وہ سب بھی جانتی تھیں کہ غزنوی کو داجی کا فیصلہ پسند نہیں آیا تھا۔غزنوی کی اپنی ترجیحات تھیں۔۔اپنی پسند تھی اور اوپر سے وہ اپنی ضد کا پکا تھا۔ہر کام اپنی مرضی کے مطابق کرنے کا عادی تھا۔اسکے ساتھ کے باقی لڑکے اس سے قدرے مختلف اور مزاج میں لچک رکھتے تھے مگر غزنوی احمد ان سے بہت مختلف تھا۔
“اماں آپ جانتی تو ہیں اسکے مزاج کو۔۔۔اور اماں میری بات پہ خفا مت ہوئیے گا آپ کے اور داجی کے لاڈ پیار نے ہی اسے بگاڑا ہے۔”
“ارے بہو۔۔۔تم نے بھی خُوب کہی۔۔۔لاڈ پیار ہم نے سبھی بچوں سے کیا ہے۔ مگر غزنوی زرا اَتھرے مزاج کا ہے۔آج تک اپنا ہر فیصلہ وہ اپنی مرضی سے کرتا آیا ہے۔اب شادی جیسا اتنا بڑا فیصلہ ہم نے اس پہ تھوپ دیا ہے تو اتنی ناراضگی تو بنتی ہے نا بچے کی۔خیر۔۔۔۔کچھ دن تک خود ہی اس حقیقت کو تسلیم کر لے گا۔تم ایسا کرو بچی کو تو لے جاؤ کمرے میں۔”
عقیلہ بیگم نے شمائلہ بیگم سے کہہ کر ایمان کے سر پہ ہاتھ رکھا۔جو دل ہی دل میں جلِ جلال تُو کا ورد کرنے لگی تھی۔وہ بھی تو اسکے مزاج کی تمام کڑیوں واقف ہو چکی تھی۔
“آؤ ایمان۔۔۔”
شمائلہ بیگم ایمان سے کہتی کمرے سے نکل گئیں۔
“جاؤ بیٹا۔۔گھبراؤ نہیں۔۔میں مانتی ہوں کہ غزنوی کا مزاج زرا اوکھا ہے۔۔مگر وہ دل کا بہت اچھا ہے۔۔بہت خیال رکھنے والا۔۔مجھے یقین ہے تم اپنی نرم طبیعت سے اسکا دل جیت لو گی۔”
عقیلہ بیگم نے اسکا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر تھپتھپایا۔
“جیت ہی نہ لوں میں اس چنگیز خان کا دل۔۔”
دل ہی دل میں سوچتی اس نے صرف مسکرانے پہ اکتفاء کیا اور کمرے سے نکل آئی۔شمائلہ بیگم سیڑھیاں چڑھ رہی تھیں۔وہ تیز تیز قدم اٹھاتی ان کے پیچھے آئی۔انھوں نے پیچھے مڑ کر ایمان کو دیکھا۔۔اس کے چہرے پہ گھبراہٹ کے آثار نمایاں تھے۔وہ واپس پلٹ گئیں۔راہداری سے گزرتے ہوئے اس کے دل کی اُتھل پُتھل میں اضافہ ہوا تھا۔دیوار پہ لگی خوبصورت فریمز میں سجی تصویریں اس کی توجہ کا مرکز بنی تھیں۔وہ ہر ایک تصویر پہ نظر ڈالتی آگے بڑھ رہی تھی۔ایک تصویر کے سامنے اس کے قدم رک گئے۔تصویر میں غزنوی اور داجی ایک دوسرے کے کندھے پہ بازو پھیلائے مسکرا رہے تھے۔یوں لگ رہا تھا جیسے اس کی جانب دیکھ کر مسکرا رہے ہوں۔
“کھڑوس۔۔۔ہنستے ہوئے اچھا لگ رہا ہے۔”
وہ دھیرے سے بڑبڑائی اور تصویر پہ ایک آخری بھرپور نظر ڈال کر آگے بڑھ گئی.شمائلہ بیگم دروازے پہ دستک دینے کے ساتھ اسے پکار بھی رہی تھیں۔وہ ان کے ایک جانب کھڑی ہوئی تاکہ دروازہ کھلنے پہ وہ سامنے دکھائی نہ دے۔تیسری بار پکارنے پہ دروازہ کھلا تھا۔
“غزنوی۔۔۔! بیٹا یہ کیا طریقہ ہے؟”
وہ دروازہ کھول کر پلٹ گیا تھا۔شمائلہ بیگم ایمان کو اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کرتی اندر داخل ہوئیں۔کمرے کی ابتر حالت کو شمائلہ بیگم حیرانی سے دیکھ رہی تھیں۔یہ ان کے اس بیٹے کا کمرہ تھا جو اپنی ہر چیز ترتیب سے رکھنے کا عادی تھا۔کبھی جو صفائی کے دوران چیزیں اپنی جگہ سے ادھر ادھر ہو جاتی تھیں تو پورا گھر سر پہ اٹھا لیتا تھا۔غصہ تو ہمیشہ اسکی ناک پہ دھرا رہتا تھا۔
“غزنوی۔۔۔یہ کیا حال بنا رکھا ہے۔۔یا اللہ۔۔۔یہ بےترتیبی تمھاری مزاج کا حصہ تو نہیں تھی۔”
شمائلہ بیگم نے پیروں کے قریب پڑا کشن اٹھایا۔
“اور میری زندگی کو جو بےترتیب کر دیا گیا ہے وہ دکھائی نہیں دیتا آپکو۔”
وہ پلٹا۔۔اس وقت وہ خود بھی اپنے کمرے کی ہی طرح بکھرا ہوا لگ رہا تھا۔اس کی نظر ان سے پیچھے کھڑی ایمان پہ گئی۔وہ ایک ناراض نظر ماں پہ ڈالتا الماری کیطرف بڑھا۔اپنے کپڑے لئے اور تیز آواز سے الماری بند بند کی۔
“تمھاری زندگی کو کیا ہوا ہے۔۔اچھی بھلی تو ہے۔۔تم یونہی بات کو کہاں سے کہاں لے جا رہے ہو۔”
ایمان کو دیکھ کر غزنوی کے چہرے پر جو تناؤ پھیلا تھا وہ ان کی نگاہوں سے مخفی نہ رہ سکا۔
“ایمان۔۔بیٹھو تم۔۔اب یہ تمھارا بھی کمرہ ہے۔میں شگفتہ کے ہاتھ تمھارا سامان بھجواتی ہوں۔اپنے کپڑے الماری میں لگا لینا۔”
ان کی بات سن کر غزنوی نے پلٹ کر دیکھا۔اس نے اورنج کلر کا خوبصورت سا لباس زیب تن کر رکھا تھا۔گھبراہٹ میں لپٹا چہرہ ہر قسم کے میک اپ سے عاری تھا۔وہ نظریں جھکائے صوفے پہ بیٹھی تھی۔وہ ایک سرسری سی نظر اس پہ ڈال کر واش روم میں گھس گیا۔
“میں ناشتہ بھجواتی ہوں تمھارے لیے۔۔جلدی فریش ہو کر باہر آؤ۔”
شمائلہ بیگم واش روم کے بند دروازے کو گھورتی کمرے سے چلی گئیں۔
انھوں نے اس سے پوچھا۔ایمان کمرے کا جائزہ لینے میں مگن ہوگئی۔واش روم سے چیزوں کی اُٹھک پَھٹک کی آوازیں آ رہی تھیں۔وہ گہرا سانس لیتی اٹھ کھڑی ہوئی اور اِدھر اُدھر بکھری چیزوں کو ترتیب سے رکھنے لگی۔یہ کام کرتے ہوئے اس کی نظر واش روم کے بند دروازے پر بھی تھیں۔دل کی بڑھتی دھڑکن کے ساتھ ساتھ ہاتھوں کی کپکپاہٹ میں بھی اضافہ ہو رہا تھا۔وہ بیڈ کی چادر ٹھیک کرنے کے لیے آگے بڑھی ہی تھی کہ واش روم کا دروازہ کھلنے کی آواز پہ وہ جلدی سے واپس صوفے کی طرف آ گئی۔غزنوی باہر آیا تو وہ دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو آپس میں پھنسائے، نظریں ہاتھوں پہ جمائے بیٹھی تھی۔غزنوی نے بال خشک کئے اور تولیہ بیڈ پہ پھینک دیا۔منہ کا زاویہ یوں ٹیڑھا کر رکھا تھا جیسے کوئی کڑوی کسیلی گولی منہ میں ڈالے ہوئے ہو۔ڈریسنگ ٹیبل سے برش اٹھا کر بال برش کرنے لگا۔اسی اثناء میں شگفتہ ناشتے کی ٹرے لئے کمرے میں داخل ہوئی۔بغیر اِدھر اُدھر دیکھے شگفتہ نے ٹرے ٹیبل پہ رکھی اور واپس پلٹ گئی۔وہ برش ڈریسنگ ٹیبل پہ پھینکتا صوفے پر آ بیٹھا۔خاموشی سے ٹرے اپنی جانب کھسکائی اور ناشتہ کرنے لگا۔وہ یوں ظاہر کر رہا تھا جیسے اس کے علاؤہ وہاں کوئی اور موجود نہیں۔ایمان کی تو ہمت ہی نہیں پڑ رہی تھی کہ نظریں اٹھا کر اپنا مطالعہ کرتی نگاہوں کا مقابلہ کرتی۔
“اب کیا یونہی میرے سر پر سوار رہو گی؟”
وہ کپ ٹرے میں تقریباً پٹختے ہوئے بولا جبکہ وہ گھبرا کر کھڑی ہو گئی اور اس سے پہلے کہ وہ اسے مزید کچھ کہتا وہ کمرے سے نکل گئی۔غزنوی نجانے کیوں تادیر بند دروازے کو دیکھتا رہا جہاں سے وہ گئی تھی۔
________________________________________
“چلو لڑکیو۔۔!! جان چھوڑو بچی کی۔۔ائے ہائے غضب خدا کا ایسے بچی کو گھیرے بیٹھی ہو جسے کل قیامت ہو۔۔آئے ہٹو۔۔ذرا مجھے ملنے دو بچی سے۔”
خیرن بوا اونچا اونچا بولتی کمرے میں داخل ہوئیں۔وہ سب اس وقت لاونج میں بیٹھی تھیں کہ وہ ان کے بیچ آ کر بیٹھ گئیں۔۔خیرن بوا اس گھر کی پرانی ملازمہ تھیں بلکہ اس گھر کا ایک حصہ تھیں۔کچھ دن وہ گاؤں اپنے بیٹے کے پاس رہنے گئی تھیں۔آج آئیں تو عقیلہ بیگم نے انھیں ایمان کے بارے میں بتایا اور اب وہ ان کے بیچ بیٹھی ایمان کو سر تا پیر گھور رہی تھیں۔ایمان خیرن بوا کی عقاب جیسی آنکھوں کو خود کے آر پار ہوتے محسوس کر کے کنفیوز ہو رہی تھی۔
“خیرن بوا۔۔۔آپ کب آئیں؟”
پرخہ نے انھیں اپنی طرف متوجہ کیا۔
“آئے میں تو صبح ہی آ گئی تھی لیکن سفر کی تھکاوٹ نے نیند کی وادیوں میں وہ جھولے جھلائے کہ اللہ کی پناہ۔”
پرخہ ان کا دھیان ایمان سے ہٹانے میں کامیاب ہو گئی تھی۔
“اور بوا آپ کے گھٹنوں کا درد کیسا ہے؟”
عنادل نے اپنے ہونٹوں پہ آتی مسکراہٹ کو دباتے ہوئے پوچھا۔ایمان نے اسے اور پرخہ کو شکریہ ادا کرتی نظروں سے دیکھا۔
“ائے ہائے بٹیا کیا بتاؤں کمبخت جان سے چمٹ گیا ہے اور مجال ہے کسی بھی موئے ڈاکٹر کی وہ نیلی پیلی گولیاں جو اثر کرتی ہوں اور اس بار جو ڈاکٹر کے گئی تھی تو کمبخت مارا کہنے لگا اماں بیڈ ریسٹ کرو۔”
خیرن بوا نے گھٹنوں کو ہلکے ہلکے دباتے ہوئے کہا۔
“تو بُوا پھر آپ نے کیا کہا؟”
لاریب بھی درمیان میں کُود پڑی۔۔وہ سبھی اپنی مسکراہٹ بڑی مشکل سے روکے ہوئے تھیں۔جانتی تھیں کہ اگر غلطی سے بھی ہنس دی تو خیرن بوا ہاتھ منہ دھو کر ان کے پیچھے پڑ جائیں گی مگر پھر بھی اُن سے چھیڑ خانی کرنا ان سب کا پسندیدہ مشغلہ تھا۔
“ائے میرا کیا کُچھ ہونے والا ہے جو پلنگ توڑنے بیٹھ جاؤں۔۔موئے کا دماغ خراب تھا جو مجھے الٹے سیدھے مشورے دے رہا تھا۔”
خیرن بوا نے جی بھر کر ڈاکٹر کو صلواتیں سنائیں۔
“سہی کہا بوا۔۔۔اس موئے کو وہیں ٹھیک کر دیتیں۔”
ارفع نے بھی انھیں چھڑنا اپنا فرض سمجھا۔
“ائے دفع کرو۔۔۔یہ لونڈے کہاں ہیں؟
وہ ایک بار پھر ایمان کی طرف مڑیں۔ایمان نے مدد طلب نظروں سے سحرش کی جانب دیکھا۔
“بُوا سارے لونڈے۔۔۔۔سیر سپاٹا کرنے گئے ہیں۔صرف مصطفیٰ بھائی اور غزنوی بھائی ہی گھر پہ ہیں۔”
سحرش کی بجائے فائقہ نے جواب دیا۔
“کیا ہو رہا ہے بھئی۔۔؟”
عقیلہ بیگم بھی ان کے پاس آ کر بیٹھ گئیں۔
“کچھ نہیں شاہ گل ہم تو بس بُوا سے باتیں کر رہے تھے۔”
سحرش نے شاہ گل سے کہا۔
“اور خیرن گاؤں میں سب ٹھیک تھا؟
شاہ گل نے خیرن بُوا سے پوچھا۔
“جی عقیلہ بیگم اللہ کا شکر ہے سب ٹھیک تھا۔اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے جو اس نے ہمیں یہ خوشی کا دن دکھایا۔”
خیرن نے آسمان کی طرف نظر اٹھائی۔
“الحمدللہ۔۔! اللہ اور بھی خوشیاں دے اور بچے کے نصیب اچھے کرے۔”
عقیلہ بیگم نے دعا دی۔
“آمین آمین۔۔!! آپ کو بھی غزنوی میاں کی دلہن کی مبارک باد۔۔ماشاءاللہ بہت پیاری بچی ہے۔”
خیرن بُوا نے ایمان کی طرف دیکھا۔پھر خاموشی سے گھٹنوں پہ ہاتھ رکھتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئیں اور اپنے سفید کرتے کی جیب سے پانچ سو کا نوٹ نکال کر ایمان کی مٹھی میں دبا دیا۔
“خیرن بُوا۔۔۔یہ۔۔۔”
ایمان خیرن بُوا سے پیسے نہیں لینا چاہ رہی تھی۔۔اسکی نظریں شاہ گل پہ تھیں جو اسے پیسے لے لینے کا اشارہ کر رہی تھیں۔
“ائے دلہن رکھ لو۔۔”
خیرن بُوا نے پیسے واپس سے اسکی مُٹھی میں دبا دئیے۔اس نے شکریہ کہہ کر پیسے رکھ لیے۔
“ٹھیک ہے امی میں جا رہی ہوں۔۔چلو ارفع، عنادل۔۔”
طاہرہ بیگم چادر اوڑھتے ہوئے لاؤنج میں داخل ہوئیں۔عنادل اور ارفع بھی اٹھ گئیں۔
“طاہرہ رک جاتی بیٹا۔۔۔بچے بھی کل آ جائیں گے۔۔کل چلی جاتیں۔”
شاہ گل نے بیٹی کو گھر کی طرف رخت سفر باندھتے دیکھ کر کہا۔فروز بھی گھر کے باقی لڑکوں کے ساتھ مری گیا ہوا تھا۔
“نہیں امی رضوان اکیلے ہوں گے۔آپ کو تو پتہ ہے ان کے مزاج کا۔۔۔اور ویسے بھی شادی کی تیاری بھی تو کرنی ہے۔”
طاہرہ بیگم ان سے معانقہ کرنے کے لئے آگے بڑھیں۔
“چلو جیسی تمھاری مرضی۔۔”
عقیلہ بیگم نے ان کا ماتھا چوما۔
“امی آپ آئیے گا نا بچیوں کو لے کر اور میں ایمان اور غزنوی کو ڈنر پہ انوائٹ کرنا چاہتی ہوں۔”
طاہرہ بیگم عقیلہ بیگم سے ملکر ایمان کی جانب آئیں اور اسے پیار سے گلے لگایا۔
“اچھا ٹھیک ہے۔۔۔زرا یہ لڑکے آ جائیں پھر ہم سب آئیں گے۔”
عقیلہ بیگم نے عنادل اور ارفع سے ملتے ہوئے کہا۔
“جی ٹھیک ہے۔۔اپنا خیال رکھیئے گا اللہ حافظ۔۔۔”
وہ دونوں کو لئے لاؤنج سے باہر نکل گئیں۔ان کے جانے کے بعد باقی سب بھی اپنے اپنے کام سے اٹھ گئیں۔
جاری ہے۔۔۔
