Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj NovelR50730 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode06
No Download Link
634K
18
Rate this Novel
Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode01 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode02 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode03 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode04 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode05 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode06 (Watching)Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode07 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode08 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode09 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode10 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode11 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode12 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode13 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode14 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode15 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode16 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode17 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Last Episode
Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode06
Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode06
وہ غصے میں بڑبڑاتا، دھڑام سے دروازہ کھولتا کمرے میں داخل ہوا۔ایمان الماری کے پاس کھڑی تھی۔اسکے ہاتھ میں غزنوی کی شرٹس تھیں۔ایمان نے اسکے غصے کی پرواہ کیے بغیر ہاتھ میں پکڑی شرٹس بیڈ پہ رکھیں اور پھر غزنوی کے سفری بیگ میں ترتیب سے رکھنے لگی۔غزنوی نے تیز آواز سے دروازہ بند کیا اور تن فن کرتا اس کے سر پہ جا پہنچا۔
“کیا ضرورت تھی داجی کے سامنے شریفاں بی بی بننے کی۔”
وہ کڑے تیور لیے اسکی طرف دیکھ رہا تھا۔
“کیا مطلب۔۔؟”
ایمان نے بلیک شرٹ کو تہہ لگاتے ہوئے پوچھا۔
“مطلب یہ کہ تم ان کے سامنے خود کو حد درجہ معصوم اور مجھے ظالم بنا کر آ رہی ہو۔۔۔اس کے پیچھے مقصد کیا تھا۔۔؟”
غزنوی نے اسکی لاپروائی محسوس کی تو اسے بازو سے پکڑ کر اپنے سامنے کیا۔
“میں نے ایسا کچھ نہیں کیا۔۔۔آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔”
وہ اپنا ہاتھ اسکی گرفت سے آزاد کراتے ہوئے بولی۔۔اسکا ماتھا شکن زدہ تھا۔غزنوی نے دائیں آبرو اٹھائی۔
“آپ جو چاہتے تھے میں وہی کر کے آئی ہوں۔”
وہ مزید بولی۔
“نہایت بدتمیزی سے پیش آئی ہو تم ان کے سامنے۔”
دھیما لہجہ سختی لیے ہوئے تھا۔
“میں نے کوئی بدتمیزی نہیں کی۔”
وہ الماری کی طرف بڑھی۔۔
“بدتمیزی کی ہے تم نے۔۔اُس رات بھی نے نہایت بدتمیزی سے بات کی تھی مجھ سے۔۔”
ایمان کے اس لاپرواہ رویے پہ غزنوی کا جی چاہا اسے باہر پھینک دے۔وہ جتنا اس سے تنگ کرنا چاہتا تھا وہ اتنی ہی لاپروائی ظاہر کر رہی تھی۔
“میں پہلے بھی بتا چکی ہوں۔۔وہ تو آپکے ایکشن کا ری۔ایکشن تھا۔”
ایمان اب بھی اسکی جانب نہیں دیکھ رہی تھی۔
“ویسے ایک بات تو بتاؤ۔۔یہ سب کون سکھا رہا ہے تمھیں۔”
غزنوی اسکے چہرے کو فوکس کرتے ہوئے بولا۔
“کیا مطلب۔۔۔میں سمجھی نہیں۔۔”
ایمان نے ناسمجھی سے اسکی جانب دیکھا۔
“بھولی بننے کی اچھی خاصی ایکٹنگ کر لیتی ہو۔”
غزنوی کی آنکھوں میں دِکھتا احساس نرم مگر لہجہ سختی لیے ہوئے تھا جبکہ ایمان اسکی بات کا کوئی جواب نہ دیتی ہوئی الماری کی طرف بڑھ گئی۔
“تم میرے ساتھ جا رہی ہو۔۔۔اسلام آباد۔۔۔۔سامان پیک کر لو۔۔”
غزنوی نے کہا تو ایمان نے فوراً پلٹ کر اسے دیکھا۔اس کے چہرے پہ ہوائیاں اڑنے لگیں جو غزنوی سے چُھپی نہ رہ سکیں۔وہ اپنے ہونٹوں پر در آنے والی مسکراہٹ کو دبا گیا۔
“وہاں مجھے اپنی خدمت کے لئے بھی تو کسی کی ضرورت پڑے گی اور تم سے بہتر کون ہو گا اس کام کے لئے۔”
وہ طنزیہ انداز میں کہتا کمرے سے نکل گیا جبکہ ایمان نے ہاتھ میں پکڑی شرٹس غصے سے زمین پر پٹخ دیں اور سر پکڑ کر وہیں بیٹھ گئی۔
پھر اس نے بڑی کوشش کی۔۔بڑے ہاتھ پیر مار کر دیکھ لئے۔۔لیکن نتیجہ دھاک کے وہی تین پات۔۔اوپر سے خیرن بوا سے اسے جو ڈانٹ پڑی وہ الگ۔۔
“بُوا مجھے آپ لوگ یاد آؤ گے۔۔میں کہاں عادی ہوں۔”
اس نے رونی صورت بنا کر خیرن بوا کو دیکھا۔
“اے لو۔۔۔!! پاگل ہوئی ہے۔۔ائے اکیلی کہاں ہو۔۔یہ ہمارا پتر ساتھ ہو گا نا۔”
بوا چاول صاف کرتے ہوئے بولیں۔
“لیکن بوا۔۔۔۔۔اچھا آپ میرے ساتھ چلیں۔”
ایمان نے ان کا ہاتھ تھام لیا۔۔جبکہ شمائلہ بیگم افسوس سے سر دائیں بائیں ہلاتیں کچن کی جانب بڑھ گئیں۔
“ائے شمائلہ۔۔۔یہ لڑکی تو بالکل باؤلی ہو گئی ہے۔کب سے اُول جلول بولے جا رہی ہے۔اۓ ہئے۔۔تم تو کوئی انوکھی لگی ہو یہ کہتے ہوئے۔۔۔ائے لڑکیاں اپنے میاں کے پیچھے پیچھے رہتی ہیں اور ایک تم ہو۔۔میاں سے کوسوں دور رہنے پہ تُلی ہو۔آجکل کی لڑکیاں تو بس خَسم کے ساتھ رہنا چاہتی ہیں باقی سب جائیں بھاڑ میں۔”
وہ ایمان کی طرف حیرانی سے دیکھنے لگیں۔
“بوا۔۔۔یہ تو سارا دن باہر ہوں گے۔۔اپنے کام میں مصروف۔۔میں اکیلی ہی تو ہوں گی۔آپ میرے ساتھ چلیں گی تو مجھے تنہائی تو محسوس نہیں ہو گی۔”
اس نے ابھی تک ان کا ہاتھ تھام رکھا تھا۔
“ائے بی بی۔۔مجھے تو معاف ہی رکھو۔”
خیرن بوا بھی ہاتھ چھڑاتیں کچن میں چلی گئیں۔
خیرن بوا اور شمائلہ بیگم نے جب اسکی بات پہ دھیان نہیں دیا تو ایمان ایک آخری مرتبہ عقیلہ بیگم سے بات کرنے کے لئے ان کے روم میں آ گئی۔وہ آج طبیعت کی خرابی کے باعث اپنے کمرے میں ہی تھیں۔ایک آخری کوشش کرنے وہ ان کے روم میں ان کے سامنے بیٹھی تھی۔
“یہ تو ایک اچھا موقع ہے تمھارے پاس۔۔اپنا آپ منوانے کا۔۔اور تم ویسے ہی اس سے گھبرا رہی ہو۔۔”
پہلے تو عقیلہ بیگم اس کی بات سن کر سر پکڑ کر رہ گئیں۔۔پھر اسے سمجھانے لگیں۔انہیں اعظم احمد نے بتا دیا تھا کہ ایمان کا غزنوی کے ساتھ جانے والا فیصلہ ان کا تھا۔غزنوی بھی مشکل سے مانا ہے۔
“شاہ گل مجھے نہیں جانا۔۔میں بابا سے ملنے جانا چاہتی ہوں۔۔آپ پلیز روک لیں مجھے۔۔”
ایمان نے انہیں راضی کرنے کی کوشش کی۔
“بیٹا غزنوی نے کہا ہے نا کہ وہ فارغ ہوتے ہی لے جائے گا۔تب تک تم بھی اپنا گھر بار سنبھال لو گی۔”
عقیلہ بیگم بھی اسے سمجھانے لگیں۔
“ٹھیک ہے تو پھر آپ بھی چلئیے میرے ساتھ۔۔”
ایمان اب بھی ضد پہ اڑی ہوئی تھی۔درحقیت وہ غزنوی کے غصے سے ڈری ہوئی تھی۔یہاں سب کی موجودگی میں تو وہ تھوڑا بہت لحاظ کرتا تھا مگر وہاں وہ اسکے آسرے پر اکیلی ہو گی۔۔اسی دوران خیرن بوا ہاتھ میں چھوٹی سی ٹرے جس میں جوس کا گلاس رکھا تھا، لیے کمرے میں داخل ہوئیں۔ایمان کو وہاں بیٹھے دیکھکر ان کی تیوری چڑھ گئی اور تو اور اس کے الفاظ بھی انکے کانوں تک پہنچ گئے تھے۔
“ائے یہ لڑکی تو بالکل ہی باؤلی ہوئی بیٹھی ہے۔”
بوا نے ٹرے سائیڈ ٹیبل پر رکھا اور گلاس عقیلہ بیگم کی طرف بڑھایا جو انہوں نے فوراً تھام لیا۔
“میں بھی اسے کب سے یہی سمجھا رہی ہوں۔”
عقیلہ بیگم نے خیرن بوا کو دیکھا جبکہ وہ افسوس سے اسکی طرف دیکھتیں کمرے سے چلی گئیں۔
“دیکھو بیٹا۔۔۔غزنوی تمھارا شوہر ہے۔اسطرح اس سے بھاگنے کے درپے رہو گی تو کیسے چلے گا۔یوں سب کے سامنے اپنا اور اپنے رشتے کا تماشا مت بناو۔تمھارے اس طرح کھلے عام انکار کرنے سے یہ سب کیا سوچیں گے۔”
عقیلہ بیگم کے لہجے میں اب کے سختی نمایاں تھی۔ایمان خاموش رہی۔۔عقیلہ بیگم کچھ لمحے اسے دیکھتی رہیں پھر گہری سانس خارج کرتیں مزید بولیں۔
“ابھی تم چلی جاؤ۔۔۔میں بھی آ جاؤں گی تم سے ملنے۔۔۔اور وہاں خیرن بوا کی بہن وہ کیا نام تھا ان کا۔۔”
وہ سوچ میں پڑ گئیں۔۔ایمان اسی طرح نروٹھے انداز میں بیٹھی رہی۔
“ہاں یاد آیا۔۔۔بلقیس۔۔۔۔غزنوی کی پڑوسن ہیں وہ۔۔میں خود ان سے کہہ دوں گی کہ تمھارا خیال رکھیں۔”
انہوں نے اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھتے ہوئے اسے تسلی دی۔ایمان مزید کوئی راہ نہ پا کر اپنی رضامندی ظاہر کرتی وہاں سے اٹھ آئی۔
جیسے تیسے اس نے اپنی پیکنگ کی۔غزنوی کسی کام سے گھر سے باہر تھا اور اس سے کہہ کر گیا تھا کہ شام تک نکلیں گے۔وہ سوٹ کیس ریڈی کیے منہ پُھلائے بیٹھی تھی۔موڈ سخت خراب تھا۔جیسے جیسے وقت قریب آ رہا تھا دل کی حالت عجیب سے ہو رہی تھی۔
“تم تو یوں سر پکڑ کر بیٹھی ہو جیسے میرے ساتھ نہیں کسی جنگی محاذ پر جا رہی ہو۔”
غزنوی کمرے میں آیا تو وہ بیڈ پہ بیٹھی تھی۔پاس ہی براؤن کلر کر سوٹ کیس تیار پڑا ہوا تھا۔ایمان کی صورتحال دیکھ کر غزنوی کو ہنسی آ گئی مگر اس کے سامنے ہنسنے سے گریز کیا۔۔لیکن بولنے سے خود کو روک نہ سکا۔ایمان نے نہایت غصیلے انداز میں اسے دیکھا۔غزنوی کی نظر اس کی بھوری آنکھوں میں اٹک گئی۔
“مجھے آپ کے ساتھ نہیں جانا۔۔”
وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔
“تو میں کون سا تمھیں ساتھ لے جانے کے لئے مر رہا ہوں۔۔۔مت جاؤ۔۔”
غزنوی نے بیڈ سے سوٹ کیس اتار کر نیچے رکھا اور وہیں بیٹھ گیا۔ایمان کا طرز عمل دیکھ کر اسکا موڈ بگڑا تھا تو اس نے بھی لاپروائی کا مظاہرہ کیا تھا۔یہ دیکھ کر ایمان کڑھ کر رہ گئی۔
“یہ شخص بہت ہی پھیل رہا ہے۔”
اس نے دل میں سوچا۔
“تو آپ جائیں اور داجی سے کہہ دیں کہ آپ مجھے ساتھ نہیں لے جا سکتے اور یہ کہ وہ مجھے ڈرائیور کے ساتھ گاوں بھیج دیں۔”
ایمان پہلی بار اس سے یوں ہمکلام تھی۔۔ورنہ اس سے پہلے تو کبھی اس نے غزنوی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات نہیں کی تھی۔۔غزنوی بھی کب اسکی ذات کے ان پہلوؤں سے واقف تھا اور نہ کبھی ایسا سوچا تھا کہ وہ یوں اس کے سامنے آ کھڑی ہو گی۔وہ تو اسے دبو سی لڑکی سمجھتا آیا تھا۔
“میں کیوں کہوں۔۔۔خود جاؤ اور داجی سے کہہ دو۔۔پہلے ہی تمھاری وجہ سے مجھے امی اور شاہ گل کی باتیں سننی پڑتیں ہیں۔”
وہ اس کی سچویشن سے لطف اٹھا رہا تھا۔
“میں نہیں کہہ سکتی۔۔”
وہ ہار مانتے ہوئے بولی۔غزنوی کو اس پل وہ دل سے بےحد قریب لگی۔دل کیا مزید اسے تنگ کرنا ترک کر دے مگر دل کی نرمی پہ سختی جمانا اب اس کے لئے آسان ہو گیا تھا۔
“تو ٹھیک ہے۔۔زیادہ نخرے کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔میں نیچے گاڑی میں انتظار کر رہا ہوں۔”
وہ سوٹ کیس اٹھانے کے لئے بڑھا۔۔اپنا سامان تو وہ گاڑی میں رکھوا چکا تھا۔
“مہارانی کا سامان میں کیوں اٹھاؤں۔۔نوکر نہیں ہوں اسکا۔”
یہ سوچ کر سوٹ کیس کی طرف بڑھتا اسکا ہاتھ وہیں رک گیا۔وہ اسے وہیں چھوڑ کر کمرے سے نکل گیا۔غزنوی کے جانے کے کچھ دیر بعد چوکیدار رؤف اسکا سامان لینے کمرے میں آیا۔ایمان وہیں مجسمے کی صورت کھڑی تھی۔
“بی بی۔۔۔صاحب کہہ رہے ہیں جلدی آئیں۔”
چوکیدار اسے وہیں جمے دیکھ کر بولا اور پھر سامان اٹھاتا کمرے سے نکل گیا۔
“آتی ہوں صاحب کے چمچے۔۔”
وہ بھی دانت پیستی کمرے سے نکل آئی۔لاؤنج میں سبھی موجود تھے اسے سی۔آف کرنے کے لئے۔۔۔سوائے غزنوی کے۔۔شاید وہ ان سے ملکر جا چکا تھا۔باری باری سب سے ملنے کے بعد وہ آخر میں عقیلہ بیگم کے پاس آئی۔
“اپنا اور غزنوی کا خیال رکھنا۔”
عقیلہ بیگم اس کی آنکھوں کے بجھے دیوں سے نگاہ چرا کر بولیں۔وہ سر ہلاتی باہر نکل گئی۔وہ ان سے کچھ کہنا چاہتی تھی۔۔ان سے وعدہ لینا چاہتی تھی کہ وہ اس کے پاس اسلام آباد آئیں گی۔۔مگر غزنوی ہارن پہ ہارن دئیے جا رہا تھا۔وہ باہر آئی تو چوکیدار رؤف نے اسے دیکھ کر گاڑی کا فرنٹ ڈور کھول دیا۔وہ غزنوی کی جانب دیکھے بغیر بیٹھ گئی۔گیٹ کھلا تھا۔۔اسکے بیٹھتے ہی غزنوی نے گاڑی اسٹارٹ کی۔گاڑی جیسے ہی مین روڈ پہ آئی چوکیدار نے گیٹ بند کر دیا۔گیٹ بند ہونے کے اگلے ہی پل گاڑی ہوا سے باتیں کرتی آگے بڑھنے لگی۔ایمان کو اپنا پہلا سفر یاد آ گیا۔فرق صرف اتنا تھا کہ آج غزنوی نے اسے پیچھے بیٹھنے کے لیے نہیں کہا تھا۔وہ خاموشی سے ڈرائیو کر رہا جبکہ وہ کھڑکی سے باہر بھاگتے دوڑتے مناظر میں کھو گئی۔رات کے آٹھ بجے تھے جب وہ لوگ اسلام آباد پہنچے۔راستے بھر گاڑی میں خاموشی رہی تھی۔دونوں نے آپس میں کوئی بات نہیں کی۔جس رفتار سے غزنوی نے گاڑی چلائی تھی وہ جلد ہی اسلام آباد پہنچ گئے تھے۔گاڑی ایک پوش ایریا میں داخل ہوئی تو ایمان جو کہ ریلیکس انداز میں بیٹھی ہوئی تھی سیدھی ہو بیٹھی تھی۔کچھ دیر مزید سفر کے بعد گاڑی ایک چھوٹے مگر بہت ہی خوبصورت بنگلے کے پاس آ رکی۔غزنوی نے ہارن دیا تو گیٹ کھول دیا گیا۔
وہاں خاموشی اس قدر تھی کہ ہارن کی آواز فضا کو چیرتی ہوئی سی محسوس ہوئی تھی۔ہارن دینے کے دو منٹ بعد نہایت پُھرتی سےگیٹ کھول دیا گیا۔گاڑی تیزی سے اندر داخل ہوئی۔ایمان نے دیکھا کہ ایک شخص سیاہ کپڑوں میں ملبوس، کندھے پہ بندوق لٹکائے گیٹ کے قریب کھڑا تھا۔وہ یقینا چوکیدار تھا۔عمر سے تقریبا چالیس سے پینتالیس کا لگ رہا تھا۔گاڑی پورچ میں آ کھڑی ہوئی۔گاڑی کا انجن بند ہوتے ہی وہ دونوں ایک ساتھ ہی گاڑی سے نکلے تھے۔
“السلام علیکم کاکا۔۔”
غزنوی نے چوکیدار کو سلام کیا اور گاڑی کی چابی اس کے ہاتھ میں دے دی۔چوکیدار نے مسکراتے ہوئے غزنوی کو سلام کا جواب دیا۔
“گاؤں سے کب آئے کاکا۔۔۔۔؟”
غزنوی نے سلام کے بعد پوچھا جبکہ چوکیدار کی سوالیہ نظریں ایمان کی جانب اٹھی ہوئیں تھیں۔
“کاکا یہ میری بیوی ہے اور ایمان یہ گل خان کاکا ہیں۔یہ بھی ہمارے گاؤں سے ہیں۔یہاں چوکیدار کی حیثیت سے ملازم ہیں۔”
غزنوی نے ان دونوں کا تعارف کروایا۔ایمان نے سر کے اشارے سے گل خان کو سلام کیا۔یہ جان کر اسے بہت خوشی ہوئی کہ گل خان کا تعلق انہی کے گاؤں سے ہے۔گل خان نے پدرانہ شفقت کے ساتھ اس کے سر پر ہاتھ رکھا تھا۔
“کاکا۔۔۔۔گاڑی سے سامان لے آئیں۔”
وہ گل خان سے کہتا راہداری سے ہوتا ہوا اندر کی طرف بڑھ گیا۔ایمان بھی اس کے پیچھے آئی تھی۔اندر جاتے ہوئے اس نے چاروں اطراف نظر ڈالی، بنگلہ مختلف پھول پودوں سے ڈھکا ہوا تھا۔دیوار پر گلابی اور سفید بوگن ویلیا عجب بہار دکھا رہا تھا۔چھوٹا سا لان رنگ برنگی پھولوں سے سجا ہوا تھا۔وہ توصیفی نظر ڈالتی اندرونی دروازے سے اندر داخل ہو گئی۔لاؤنج میں آئی تو غزنوی وہاں نہیں تھا۔
“اب کہاں غائب ہو گیا۔۔۔؟”
اس نے ارد گرد نظر دوڑاتے ہوئے سوچا اور کچھ دیر سستانے کے لئے صوفے کی جانب آ گئی۔صوفے کی بیک سے سر ٹکا کر وہ آنکھیں موند گئی تھی۔
“بی بی یہ سامان کہاں رکھوں۔۔؟”
چوکیدار کی آواز پہ اس نے آنکھیں کھول دیں۔وہ دونوں سوٹ کیس اپنے پیروں کے قریب رکھے اسکی جانب دیکھ رہا تھا۔
“صاحب کے کمرے میں پہنچا دو۔۔لیکن صرف ان کا سامان۔۔یہ براؤن کلر والا سوٹ کیس دوسرے کمرے میں رکھ دو۔”
وہ پرسکون انداز میں بولی۔
“یہاں تو میں اس شخص کی غلامی نہیں کروں گی۔”
“جی بی بی آپ نے کچھ کہا؟”
ایمان کو منہ ہی منہ میں بڑبڑاتے دیکھ کر چوکیدار نے پوچھا۔
“نہیں کچھ نہیں۔۔تم جاؤ یہ سامان صاحب کے کمرے میں رکھ آؤ۔۔بعد میں میں خود دیکھ لوں گی۔”
گل خان کے چہرے پر تذبذب کے آثار دیکھتے ہوئے اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا۔اس نے اپنے الفاظ کو بہانے کی چادر میں لپیٹا۔
“جی ٹھیک ہے۔۔”
وہ دونوں سوٹ کیس اٹھا کر دائیں جانب والے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔کچھ دیر بعد وہ سامان رکھ کر کمرے سے باہر آ گیا۔
“بی بی۔۔۔!! میں رشیدہ کو بھیج دیتا ہوں وہ آپ کی مدد کر دے گی۔”
گل خان اس کے پاس آ کر بولا۔
“کون رشیدہ۔۔۔؟”
ایمان نے پوچھا۔
“جی وہ یہاں ملازمہ ہے۔”
گل خان کے بتانے پر ایمان نے سر ہلا کر اسے جانے کو کہا۔وہ پلٹ کر لاؤنج سے نکل گیا۔
“پتہ نہیں یہ کھڑوس غزنوی اتنی دیر سے کمرے میں کیا کر رہا ہے۔”
ایمان نے بند کمرے کے دروازے کو گُھورا۔
“خیر۔۔۔مجھے کیا۔۔”
وہ دل پر پتھر رکھتی پاؤں پسار کر پرسکون انداز میں بیٹھ گئی۔سفر کی تھکان سے اسکی آنکھیں بند ہونے لگیں تھیں۔
“السلام علیکم بی بی۔۔!”
کسی کے سلام کرنے پر اس نے چونک کر آنکھیں کھول دیں۔ایک سانولی رنگت والی عورت اسکے سامنے کھڑی اسے تجسّس بھری نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
“کون ہو تم۔۔۔؟”
ایمان سیدھی ہو بیٹھی اور اسے سر سے پیر تک دیکھا۔۔حلیے سے تو وہ ملازمہ لگ رہی تھی۔
“بی بی میں رشیدہ۔۔۔ادھر کام کرتی ہوں اور یہیں سرونٹ کوارٹر میں رہتی ہوں۔میرا مرد یہاں مالی کا کام کرتا ہے جی۔۔”
وہ اپنے ڈوپٹے سے منہ پونچتی نیچے کارپٹ پہ آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئی۔
“اچھا۔۔۔ایسا کرو کہ ایک کپ چائے بنا دو اسٹرانگ سی۔۔”
وہ واپس صوفے سے کمر ٹکا گئی۔رشیدہ اٹھ کر کچن میں چلی گئی جبکہ ایمان نے ایک بار پھر بند دروازے کو گُھوری سے نوازا۔
رات کے نو بجنے والے تھے۔وہ ابھی تک صوفے پہ ہی براجمان تھی۔تمنا اپنا سارا کام ختم کر کے جا چکی تھی۔غزنوی بھی کمرے سے باہر نہیں آیا تھا۔اتنی دیر ہو گئی تھی انھیں یہاں آئے ہوئے۔اب تو بھوک سے پیٹ میں چوہے دوڑنے لگے تھے۔یہاں آنے کی پریشانی میں اس نے دوپہر میں بھی کچھ نہیں کھایا تھا اور یہاں آنے کے بعد تھکاوٹ کے باعث صرف چائے کی ہی طلب ہوئی تھی۔اسی لئے صرف چائے ہی پی تھی۔اب زرا تھکاوٹ دور ہوئی تو بھوک نے آ جکڑا تھا۔اسے اندازہ لگانے میں دیر نہ لگی کہ غزنوی سو گیا ہو گا۔وہ اٹھ کر اسکے کمرے کی طرف بڑھی۔دروازے کے قریب پہنچ کر وہ ششں و پنج میں مبتلا تھی کہ اندر جائے یا نہیں مگر پھر کچھ سوچ کر سامان کے بہانے دستک دے ڈالی۔اندر سے کوئی آواز نہ آئی۔ایک بار دو بار مسلسل تین بار دستک دینے کے بعد بھی جب کوئی جواب نہ ملا تو اس نے دھیرے سے ناب گھمائی۔دروازہ لاکڈ نہیں تھا۔وہ محتاط انداز میں دروازہ کھول کر اندر داخل ہو گئی۔کمرے میں اندھیرا تھا۔اس نے سوئچ بورڈ ڈھونڈ کر لائٹ آن کی۔کمرہ روشن ہوتے ہی اسکی نظر بیڈ پہ آڑھے ترچھے سوئے غزنوی پر پڑی۔وہ گہری نیند میں تھا اسی لئے تو لائٹ آن ہونے کے بعد بھی اسکی نیند میں کوئی خلل نہیں آیا۔پہلے تو اسکا جی چاہا کہ ہاتھ بڑھا کر اسے جگا دے مگر پھر اپنا ارادہ ملتوی کر دیا اور وہ جس خاموشی سے آئی تھی اسی خاموشی سے کمرے سے نکل آئی مگر آنے سے پہلے وہ غزنوی پہ پڑا کمبل درست کرنا نہ بھولی تھی۔
وہاں سے وہ سیدھے کچن میں آئی تھی۔اپنے لئے کھانا گرم کیا اور وہیں کچن میں بیٹھ کر کھانا کھایا۔کھانا کھانے کے بعد اس نے برتن دھوئے اور لائٹس آف کرتی کچن سے باہر آئی۔روم میں جانے سے پہلے اس نے لاؤنج کا دروازہ اندر سے بند کیا مگر لائٹس آن رہنے دیں تاکہ اگر غزنوی اٹھے تو باہر آنے پہ اسے اندھیرے کا سامنا نہ کرنا پڑے۔وہ غزنوی کے روم کے ساتھ والے روم میں آ گئی۔۔یہ بھی بیڈ روم تھا۔۔اردگرد نظر دوڑا کر اس نے دروازہ اندر سے بند کیا اور خود بیڈ پہ آ گئی۔تکیے پہ سر رکھتے ہی اسے نیند نے اپنے بازوؤں میں جکڑ لیا تھا۔
اسکی آنکھ کھلی تو رات کے گیارہ بج رہے تھے۔کمرے میں نائٹ بلب جل رہا تھا۔اسے اپنی اتنی بےخبری والی نیند پر حیرانی ہوئی تھی۔اچانک کچھ یاد آنے پہ صوفے پہ نظر گئی لیکن وہاں ایمان نہیں تھی۔صوفہ بھی سنگل تھا۔کمرے میں اسکے علاوہ کسی اور کے موجود ہونے کے آثار بھی نہیں لگ رہے تھے۔
“یہ اب تک روم میں کیوں نہیں آئی۔”
اس نے کلاک کی طرف دیکھتے ہوئے حیرانی سے سوچا۔
وہ بیڈ سے اتر آیا۔لائٹس آن کیں اور پھر روم سے باہر آ گیا۔لاؤنج کی تمام لائٹس آن تھیں۔وہ یہاں بھی نہیں تھی۔گھر کا میں ڈور بھی بند تھا۔وہ اپنے روم کے ساتھ والے روم کی جانب آیا۔اس نے بناء دستک کے دروازہ کھولنا چاہا مگر دروازہ اندر سے لاکڈ تھا۔وہ واپس لاؤنج میں آ گیا اور صوفے پہ بیٹھ گیا۔بھرپور نیند لینے کے بعد اب اسے بھوک ستا رہی تھی۔وہ کچن کیطرف آ گیا۔فریج سے ترکاری کا باول نکال کر اون میں گرم کرنے لئے رکھ دیا۔کھانا گرم ہوا تو اس نے وہیں بیٹھ کر کھانا کھایا اور گندے برتن سنک میں رکھ کر لائٹس آف کرتا کچھ سے نکل آیا۔۔اب اس ٹائم کچھ اور تو تھا نہیں کرنے کو اس لئے لاؤنج کی بھی لائٹس بند کرتا اپنے روم میں آ گیا۔
اگلے دن وہ ٹائم سے اٹھ گیا تھا۔فریش ہو کر کچن میں آیا تو وہاں خاموشی تھی۔ایمان ابھی تک روم سے باہر نہیں آئی تھی۔
“یہ رشیدہ بی بی بھی تشریف نہیں لائی اب تک۔”
اس نے فریج سے پانی کی بوتل نکال کر گلاس میں پانی ڈالا۔پانی پینے کہ بعد وہ کچن سے نکل آیا۔اپنے روم کی طرف جا ہی رہا تھا کہ دروازے پہ دستک ہوئی۔وہ دروازے کی طرف بڑھا جسے اب کوئی تقریبا پیٹ رہا تھا۔
“صاحب جی۔۔۔بی بی صاحب۔۔۔”
دستک کے ساتھ ساتھ فل والیوم میں پکارا بھی جا رہا تھا۔آواز رشیدہ کی تھی۔اس سے پہلے کہ دروازہ توڑ دیا جاتا غزنوی نے دروازہ کھول دیا۔
“کیا دروازہ توڑو گی اب۔۔”
وہ غصیلے لہجے میں بولا۔
“ہائے صاحب۔۔۔میں بھلا دروازہ کیوں توڑوں گی۔۔جھلی تو نہیں ہوں۔”
وہ ڈوپٹہ منہ پہ رکھ کر کھی کھی کرنے لگی۔
“اسکی کمی تھی۔۔”
وہ بڑبڑایا۔
“کیا صاحب۔۔؟”
رشیدہ نے اسے غصے سے اپنی طرف دیکھتا پا کر پوچھا۔
“کچھ نہیں میرے لئے ناشتہ بناؤ۔۔جلدی نکلنا ہے مجھے۔”
وہ پلٹ گیا۔
“جی صاحب۔۔پَر دروازہ کیوں بند کیا تھا۔۔میں صبح سے دو بار آئی تھی۔۔روز تو بند نہیں ہوتا۔۔”
وہ مزید سوال کرنے کے موڈ میں تھی۔اس کے سوال پہ غزنوی نے پلٹ کر اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا تو وہ سیدھی سیدھی کچن میں چلی گئی۔جلدی جلدی ناشتہ تیار کیا اور ٹرے لئے کمرے میں آئی۔روز وہ اپنے روم میں ہی ناشتہ کرتا تھا۔
“صاحب وہ بی بی صاحب کدھر ہیں۔۔؟”
رشیدہ نے پورے کمرے پہ نظر دوڑائی۔باتھ روم کا دروازہ بھی کھلا ہوا تھا اور وہاں سے کوئی آواز بھی نہیں آ رہی تھی۔
“ناشتہ یہاں رکھو اور جاؤ۔۔۔”
وہ ٹرے اپنی جانب کھینچتے ہوئے بولا۔رشیدہ کمرے سے نکل گئی۔غزنوی نے جلدی جلدی ناشتہ کیا اور پھر آفس کے لئے نکل گیا۔
رشیدہ نے کچن کا کام نمٹایا۔۔وہ برتن دھو کر کر نل بند کرتی واپس مڑی تو اسکی نظر کچن میں داخل ہوتی ایمان پہ پڑی۔
“ارے بی بی۔۔۔آپ جاگ گئیں۔۔ناشتہ بناؤں آپ کے لئے۔۔؟”
رشیدہ نے اس نے پوچھا۔
“نہیں تم ایسا کرو کہ باقی کے کام دیکھ لو۔۔۔ناشتہ میں خود بنا لوں گی۔صاحب چلے گئے۔۔؟؟”
اس نے فریج کی طرف آتے ہوئے اس سے پوچھا۔
“جی بی بی صاحب۔۔۔”
رشیدہ ہاتھ پونچتی کچن سے نکل گئی۔ایمان نے اپنے لئے ناشتہ بنایا۔ناشتے کے بعد وہ لاونج میں آ گئی۔رشیدہ وہیں موجود جھاڑ پونچھ کر رہی تھی۔
“بی بی صاحب۔۔۔!! آج کھانے میں کیا بناؤں۔۔؟”
رشیدہ نے اسے بیٹھتے دیکھ کر پوچھا۔
“بریانی بنا لو اور ساتھ میں رائتہ۔۔۔”
ایمان سادہ سے لہجے میں بولتی ٹیبل پہ پڑا اخبار اٹھا کر دیکھنے لگی۔کچھ دیر میں ہی بور ہو کر اخبار اپنی جگہ پر رکھتی کچن میں آ گئی۔
“لاؤ میں بھی تمھاری مدد کر دوں۔”
ایمان نے اسکے ہاتھ سے چھری لینے کے لیے ہاتھ بڑھایا۔رشیدہ اس وقت پیاز کاٹ رہی تھی۔
“ارے نہیں بی بی۔۔۔میں کر لوں گی۔۔”
رشیدہ نے مسکراتے ہوئے اسے دیکھا۔
“اچھا ٹھیک ہے پھر میں اپنے روم میں ہوں۔”
وہ اس سے کہتی غزنوی کے روم میں آ گئی۔۔گرے اور پرپل کلر پورے کمرے میں نمایاں تھا۔رات کو اسے موقع نہیں ملا تھا کمرہ دیکھنے کا۔بیڈ کی پچھلی دیوار پرپل پینٹ کی وجہ سے پورے کمرے میں سب سے نمایاں تھی۔کمرے میں موجود ہر چیز میں انہی دونوں رنگوں کا استعمال کیا گیا تھا۔وہ توصیفی نظروں سے دیکھتی ہر چیز کو چھو کر محسوس کر رہی تھی۔یہ کمرہ پورے گھر سے مختلف تھا۔یوں لگ رہا تھا جیسے اس کمرے کی دنیا الگ اور اس سے باہر الگ دنیا بسی ہے۔ہر چیز نفاست سے اپنی جگہ پہ موجود تھی۔کمرے میں غزنوی کے پرفیوم کی مہک کمرے میں موجود ہر چیز سے لپٹی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔وہ ہر چیز کا باریک بینی سے جائزہ لیتی الماری کے قریب پڑے سوٹ کیس کے طرف آئی۔اس نے پہلے غزنوی کا سفری بیگ کھولا۔اس کے کپڑے اور ضرورت کی تمام چیزیں اپنی اپنی جگہ پہ رکھیں۔اپنا سوٹ کیس کھول کر اس میں سے اپنا ایک ڈریس نکالا اور واش روم میں گھس گئی۔فریش ہو کر باہر آئی تو اپنا سامان کسی اور وقت پہ درست کرنے کا ارادہ کرتی روم سے باہر آ گئی۔ویسے بھی وہ جانتی تھی کہ اسے اس کمرے میں ایک صوفے تک پہ جگہ نہیں ملنے والی اس لئے کچن میں آ گئی۔رشیدہ کچن میں ہی تھی۔
“بی بی صاحب۔۔۔چاول دم پہ رکھ دئیے ہیں بس صرف رائتہ بنانا رہ گیا ہے۔”
رشیدہ نے اسے آتے دیکھ کر کہا۔
“ٹھیک ہے تم رہنے دو۔۔۔رائتہ میں خود بنا لوں گی۔”
ایمان نے آنچ دھیمی کی۔
“جی۔۔۔”
تمنا ہاتھ دھونے کے لیے سنک کی طرف بڑھ گئی۔
“سنو۔۔۔!! تم نے وہ دوسرے والے بیڈ روم کی صفائی کر دی ہے یا نہیں۔”
یاد آنے پر اس نے کچن سے باہر نکلتی رشیدہ سے پوچھا۔
“جی بی بی صاحب کر دی تھی۔اس کے لئے علاوہ کوئی اور کام ہو تو بتا دیں۔۔آپ کا سامان ترتیب سے رکھ دوں؟”
اس کی بات سن کر فریج کی طرف بڑھتی ایمان نے ذہہن میں ایک چنگاری سی جلی۔۔
“ہاں کر دو۔۔صاحب کے کپڑے تو میں نے لگا دیئے ہیں تم میرے کپڑے الماری میں ترتیب سے لگا دو۔”
ایمان نے لبوں پہ در آنے والی شرارتی مسکراہٹ کو روکتے ہوئے رشیدہ کی طرف دیکھا۔
“ابھی کر دیتی ہوں۔۔”
وہ کچن سے نکل گئی۔۔جبکہ ایمان رائتہ بنانے لگی۔
“الماری میں اپنے کپڑوں کے ساتھ ساتھ میرے کپڑے دیکھ کر صاحب بہادر کی شکل دیکھنے والی ہو گی۔”
وہ دل ہی دل میں سوچتی مسکرا رہی تھی۔
“اب اتنا تنگ کرنا تو میرا بھی حق بنتا ہے۔”
وہ بڑبڑائی تھی۔۔
شام کے ساڑھے سات بج رہے تھے جب وہ تھکاوٹ سے چُور گھر میں داخل ہوا۔سستی سے چلتا وہ لاؤنج میں صوفے پہ ڈھے گیا۔ہاتھ میں پکڑی فائلز اور اپنا لیپ ٹاپ اس نے ٹیبل پہ رکھ دیا۔کچن سے آتی کھٹ پٹ کی آوازیں اس کے کانوں تک بھی پہنچ رہی تھیں۔
“شاہدہ بی بی۔۔ایک گلاس پانی لانا۔”
اس نے وہیں سے بلند آواز میں شاہدہ کو پکارا۔
“یہ لیں۔۔۔”
ایک مانوس سے آواز اسکے کانوں سے ٹکرائی۔وہ جو آنکھیں بند کیے بیٹھا تھا، پٹ سے آنکھیں کھول کر اسے دیکھا۔ایمان پانی کا گلاس ہاتھ لئے اسکی جانب دیکھ رہی تھی۔آج کے اس قدر ٹف دن کے باعث وہ اسے بھول ہی گیا تھا۔کل شام یہاں آنے کے بعد سے وہ اسے اب دیکھ رہا تھا۔اسے یاد آیا کہ رات وہ روم میں بھی نہیں تھی۔یک ٹک اسے اپنی جانب دیکھتا پا کر ایمان کنفیوز ہو گئی۔
“پانی۔۔۔۔”
ایمان نے گلاس اسکی آنکھوں کے آگے کیا تاکہ غزنوی کی توجہ اس سے ہٹے اور ایسا ہی ہوا۔۔غزنوی نے خاموشی سے گلاس اسکے ہاتھ سے لے لیا۔جب تک اس نے پانی پیا وہ وہیں کھڑی رہی۔
“کچھ اور لیں گے آپ۔۔؟؟ چائے بنا دوں۔۔؟”
ایمان نے خالی گلاس لینے کے لیے ہاتھ بڑھاتے ہوئے ہوچھا۔
“اِسے کیا ہو گیا۔۔جادوگرنی جادو کی ڈوز بڑھانے والی ہے کیا۔”
غزنوی سیدھا ہو بیٹھا۔
“شاہدہ بی بی کہاں ہے۔۔؟”
غزنوی نے آس پاس نظر دوڑاتے ہوئے پوچھا۔
“وہ کچن میں ہے۔”
وہ مختصر جواب دے کر پلٹ گئی۔۔اس کے جانے کے بعد وہ ایک گہری سانس خارج کرتا اٹھ کھڑا ہوا۔اپنے کمرے کی طرف اسکے بڑھتے قدم کچھ سوچ کر وہیں تھم گئے۔وہ پلٹ کر کچن کیطرف آیا۔ایمان کچن میں ہی تھی۔
“ایمان۔۔۔!!”
غزنوی کچن کے دروازے میں کھڑا تھا۔ایمان جو برنر کے پاس کھڑی تھی، پلٹ کر دروازے کی سمت دیکھا۔
“جی۔۔۔؟؟”
ایمان کے لہجے اور نگاہوں میں حیرت نمایاں تھی۔غزنوی نے کبھی اسے اس طرح نہیں پکارا تھا بلکہ وہ تو ایمان کو مخاطب کرنے سے بھی گریز کرتا تھا۔
“ایک کپ چائے روم میں بھجوا دو۔۔میں روم میں ہوں۔۔”
ایمان کی آنکھوں میں دِکھتی حیرت بھانپ کر وہ پلٹ گیا۔اس کے جانے کے بعد ایمان نے چائے کا پانی رکھا۔
“بی بی صاحب۔۔!! میرا کام ختم ہو گیا ہے۔۔اگر کوئی اور کام نہیں ہے تو میں چلی جاؤں۔۔؟؟”
رشیدہ نے چائے کی پتی اسکے سامنے سلیب پہ رکھتے ہوئے پوچھا۔
“ہاں چلی جاو۔۔۔مگر جانے سے پہلے زرا مجھے وہ گرین باول پکڑانا۔”
ایمان نے کھولتے پانی میں چائے کی پتی ڈالی۔رشیدہ سر ہلاتی باول لے آئی۔
“یہ لیں۔۔۔”
اس نے باول ایمان کی طرف بڑھایا۔تب تک وہ چائے بنا چکی تھی۔ایمان نے اسکے ہاتھ سے باول لے لیا۔چولھا بند کر کے اس نے باول میں بریانی نکالی۔
“یہ تمھارے لئے۔۔۔”
ایمان نے باول پہ ڈھکن لگا کر باول رشیدہ کی طرف بڑھایا۔
“بہت شکریہ بی بی۔۔”
رشیدہ نے شکریہ ادا کرتے ہوئے باول اسکے ہاتھ سے لے لیا اور دعائیں دیتی وہاں سے چلی گئی۔اس کے جانے کے بعد ایمان نے کپ میں چائے ڈالی اور غزنوی کے کمرے میں آ گئی۔
“یہ تمھارے کپڑے میری الماری میں کیا کر رہے ہیں۔”
وہ جیسے ہی کمرے میں داخل ہوئی غزنوی اس پہ برس پڑا۔ایمان نے دیکھا کہ بیڈ پہ اسکے کپڑوں کا ڈھیر پڑا ہے۔
“یعنی وقت آ گیا، جس کا وہ انتظار کر رہی تھی۔”
ایمان نے لبوں پہ کِھلنے والی مسکراہٹ کو دبا کر سوچا۔اسے تنگ کرنے اور چڑانے کا ایک موقع آج اسے بھی ملا تھا تو اس موقع کو وہ ہاتھ سے کیسے جانے دیتی۔وہ اسے ذبردستی اپنے ساتھ اسلام آباد لے آیا تھا جبکہ وہ گاوں جانا چاہتی تھی۔جانتی تھی کہ اپنی الماری میں اسکے کپڑے دیکھ کر وہ بھڑک جائے گا اور ایسا ہی ہوا تھا مگر اسے اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ وہ اسکی چیزوں کا یہ حال کرے گا۔۔یہ دیکھ کر اسے بہت دکھ ہوا تھا۔بات کپڑوں کی حد تک ہوتی تو ٹھیک تھا مگر وہ اسکی ذات سے اسقدر نفرت کرتا تھا کہ اسکی چیزیں بھی اسکی برداشت سے باہر تھیں۔
“یہ کیا کیا آپ نے۔۔۔میرے سارے کپڑے خراب کر دیئے۔”
وہ ٹرے ٹیبل پہ رکھتی بیڈ کیطرف آئی اور سب سے اوپر پڑا سوٹ اٹھا کر ٹھیک سے بیڈ پہ رکھا۔ایک ایک کر کے باقی بھی اٹھانے لگی تھی۔
“تمھاری ہمت کیسے ہوئی اور کس سے پوچھ کر تم نے اپنے کپڑے میری الماری میں رکھے۔”
وہ اسکی بات کو اگنور کرتے ہوئے غصیلے لہجے میں کہتا اسکے قریب آیا۔
“یہ صرف آپ کا کمرہ نہیں ہے۔۔میرا بھی ہے۔”
ایمان نے سنجیدہ لہجے میں کہا۔
“اوہ۔۔۔!! کس حق سے۔۔؟”
وہ دونوں ہاتھ کمر پہ رکھے اسکے سامنے آ کھڑا ہوا۔
“میں بیوی ہوں آپکی۔۔اس کمرے پہ اور یہاں موجود ہر اک شے پہ میرا بھی اتنا ہی حق ہے جتنا کہ آپکا۔۔پھر یہ سوال۔۔چِہ معنی۔۔؟؟”
ایمان نے جوابی وار کیا۔اسکی بات سے غزنوی کی آنکھیں حیرانی سے مزید پھیل گئیں۔
“آہاں۔۔۔!! بیوی ہو میری۔۔؟؟ محترمہ بیوی صاحبہ بیوی ہونے کے کون سے فرائض آپ نے نبھائے ہیں؟”
وہ اسکی آنکھوں میں جھانکتا معنی خیز سوال کر گیا۔ایمان نے اس کی آنکھوں میں دکھتے سوال کا مفہوم جان کر نظریں پھیر لیں۔
“یوں نظریں پھیر لینے سے میرے سوال کا جواب نہیں مل جائے گا۔۔بتانا پسند کریں گی کہ کون سے فرائض پورے کیے ہیں آپ نے۔۔؟”
غزنوی نے اپنے اور اسکے درمیان موجود فاصلے کو مزید کم کیا۔تھوڑی دیر پہلے وہ بےخوف ہو کر اس سے بات کر رہی تھی مگر اب اسے اسطرح سوال و جواب کرتا دیکھ کر وہ کنفیوز ہو گئی۔
“آپ کا ہر کام میں کرتی ہوں۔۔اور کیسا ہوتا ہے بیوی کا فرض۔۔۔آپکی ہر بات برداشت کرتی ہوں، خاموشی سے آپکی ہر جلی کٹی سنتی ہوں۔۔آپکی لاپروائی چپ چاپ سہتی ہوں۔۔جو کہتے ہیں مانتی اور کرتی ہوں۔کبھی آپکے رویے کی شکایت نہیں کی۔۔اور کیا کروں۔۔؟؟ اور کیا آپ نے اب تک بیوی کے فرائض پورے کیے ہیں جو مجھ سے یہ سوال کر رہے ہیں۔جب سے شادی ہوئی ہے میری ضرورتوں کا خیال تو کیا رکھنا مجھ سے ٹھیک سے بات تک نہیں کرتے آپ۔۔”
گلوں گیر لہجے میں کہتی وہ وہاں مزید نہیں رکی جبکہ غزنوی چاہ کر بھی اسے روک نہ پایا۔اسے ایمان کا رونا تکلیف دے رہا تھا۔وہ تو صرف اسے تنگ کر رہا تھا۔
“مجھے اس سے بات کرنی چاہیئے۔”
وہ خود سے کہتا دروازے کی سمت بڑھا۔
“میرا سوٹ کیس۔۔۔؟”
اس سے پہلے کہ وہ کمرے سے باہر نکلتا ایمان تیزی سے کمرے میں داخل ہوئی اور اپنا سوٹ کیس اٹھانے کے لئے آگے بڑھی جو الماری کے سائیڈ پہ دیوار کے ساتھ رکھا ہوا تھا۔غزنوی وہیں کھڑا اسکے چہرے کے تاثرات دیکھ رہا تھا۔ایمان نے سوٹ کیس اٹھایا اور جس تیزی سے کمرے میں آئی تھی اسی تیزی سے واپس چلی گئی۔غزنوی اسکے پیچھے آیا تھا۔
“یہ کیا کر رہی ہو۔۔۔؟”
ایمان کو سوٹ کیس میں اپنے کپڑے رکھتے دیکھکر غزنوی نے قریب آتے ہوئے پوچھا۔
“میں گاوں جانا چاہتی ہوں۔۔آپ مجھے گل خان کاکا کے ساتھ گاوں بھجوا دیں۔”
سادہ سے لہجے میں کہتی وہ کپڑے سوٹ کیس میں تقریبا پٹخ رہی تھی۔
“کیوں۔۔۔؟؟ جب میں نے کہا تھا کہ دو ہفتے ویٹ کرو۔۔میں لے جاوں گا تو پھر۔۔۔”
غزنوی نے اسے بغور دیکھا۔وہ گلابی رنگ کی پُھولدار قمیص اور سفید شلوار پہ سفید ڈوپٹہ سلیقے سے اوڑھے ہوئے تھی۔چہرے پہ کچھ دیر پہلے دکھنے والی مسکراہٹ کی جگہ اب سنجیدگی نے لے چکی تھی۔
“مجھے نہیں جانا آپ کے ساتھ۔۔آپ اپنا کام مکمل کیجیئے۔۔میں چلی جاوں گی۔”
سارے کپڑے سوٹ کیس میں اڑستی اس نے بیگ کی زپ بند کی۔
“ٹھیک ہے۔۔۔ابھی تو وقت نہیں ہے اور نا ہی رات کا سفر مناسب۔۔۔کل صبح گل خان کاکا لے جائے گا تمھیں۔ابھی مجھے بھوک لگی ہے۔۔تم کھانا گرم کرو، میں وہیں آ رہا ہوں۔”
غزنوی نے نرمی سے کہتے ہوئے سوٹ کیس اٹھا کر وہیں ایک طرف رکھ دیا۔ایمان نے وال کلاک پر نظر ڈالی اور خاموشی سے کمرے سے نکل گئی۔کھانا تو تقریبا گرم تھا مگر پھر بھی اس نے دھیمی آنچ پہ گرم ہونے کے لئے رکھ دیا۔اسی دوران ڈائننگ ٹیبل پہ برتن رکھے اور فریج سے ٹھنڈے پانی کی بوتل اور رائتہ نکال کر ٹیبل پہ رکھا۔پتہ نہیں وہ کیوں اسقدر غصے میں ہو گئی تھی حالانکہ تنگ کرنے کا پلان تو اسکا تھا۔جب وہ جانتی تھی کہ وہ بھڑک جائے گا تو پھر اتنا دکھ کیوں ہوا تھا۔
“شاید میں دل ہی دل میں اس شخص سے نرمی کا سلوک چاہتی تھی۔اسکی نظروں میں اپنی اہمیت ڈھونڈنا چاہتی تھی۔”
یہ سوچ کر اسے بہت دکھ ہو رہا تھا کہ جب وہ اپنی الماری میں اسکے کپڑے تک برداشت نہیں کر رہا تھا تو اپنے گھر میں اسکا وجود کیسے برداشت کر رہا ہو گا۔
“کھانا ملے گا بھی یا نہیں۔۔؟”
غزنوی کی آواز نے اسے چونکا دیا۔وہ اپنے خیالوں میں اتنی گم تھی کہ اسکے آنے کا علم ہی نہ ہو سکا۔اس نے پلٹ کر دیکھا تو وہ کرسی پہ بیٹھا ویٹ کر رہا تھا۔
غزنوی کو وہاں بیٹھے پانچ منٹ سے زیادہ ہو گئے تھے۔وہ چولھے کے پاس کھڑی تھی اس لئے وہ سمجھا کہ وہ کھانا گرم کر رہی ہے مگر جب وقت گزرنے لگا تو اسے ایمان کو متوجہ کرنا پڑا۔
“لا رہی ہوں۔۔۔”
ایمان نے جلدی سے ڈش میں بریانی نکالی اور ڈش اٹھائے ڈائننگ ٹیبل کی جانب آ گئی۔ڈش اس نے غزنوی کے سامنے رکھی اور خود پلٹ کر جانے لگی تھی کہ غزنوی نے اسے روک لیا۔
“کھانا نہیں کھانا۔۔۔؟”
وہ اسکی جانب دیکھے پوچھ رہا تھا۔ایمان کی کلائی اسکی گرفت میں تھی۔
“مجھے بھوک نہیں ہے۔۔”
جھٹکے سے رکنے کی وجہ سے ایمان کا ڈوپٹہ ڈھلک کر غزنوی کے ہاتھ پہ آ رہا تھا۔ایمان کی صراحی دار گردن اسکے سامنے تھی۔گلابی لب سختی سے باہم ملے ہوئے تھے۔بھوری آنکھوں کی سرخی بڑھ گئی تھی۔ایمان نے اسکی خود پہ بھاگتی دوڑتی نظروں کو محسوس کرتے ہوئے فورا ڈوپٹہ درست کیا۔
“بیٹھ کر کھانا کھاؤ۔۔۔ورنہ بھول جاؤ کہ میں تمھیں گاؤں جانے دوں گا۔”
غزنوی نے اسکی کلائی چھوڑ دی اور سیدھا ہو کر اپنی پلیٹ میں چاول نکالنے لگا۔اس کی دھمکی کارگر ثابت ہوئی تھی۔ایمان بھی کرسی کھینچ کر بیٹھ گئی اور تھوڑے سے چاول اپنی پلیٹ میں نکالے۔غزنوی رغبت سے کھانا کھا رہا تھا جبکہ ایمان اچاٹ دل سے کھا رہی تھی۔تھوڑی دیر بعد وہ کھانا کھا کر کمرے میں چلا گیا اور ایمان نے برتن سمیٹ کر دھوئے اور لائٹ آف کرتی اپنے کمرے کی جانب آ گئی۔غزنوی کے روم کا دروازہ بند تھا۔اس نے ساتھ والے کمرے کا دروازہ کھولنا چاہا تو دروازہ بند تھا۔اس نے ایک بار پھر کوشش کی مگر دروازہ لاکڈ تھا۔کچھ دیر ناب گھما گھما کر وہ کھولنے کی کوشش کرتی رہی مگر دروازہ کھلنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا کیونکہ دروازہ واقعی لاکڈ تھا۔وہ حیران ہونے کے ساتھ ساتھ پریشان بھی ہو گئی۔
“یہ تو اب تک کھلا ہوا تھا۔۔لاکڈ کیسے ہو گیا۔”
وہ یہ سوچنا بھی نہیں چاہتی تھی کہ یہ شرارت غزنوی کی ہے مگر سچ یہی تھا وہ دروازہ لاکڈ کر گیا تھا۔۔مگر کیوں۔۔۔یہ سوچنا بھی اسکے لیے محال ہو رہا تھا۔
وہ غزنوی کے روم میں آ گئی۔
“وہ کمرے کا دروازہ لاکڈ ہو گیا ہے۔”
وہ بیڈ پہ نیم دراز موبائل میں مصروف تھا۔
“کون سے کمرے کا۔۔؟”
غزنوی نے پوچھا۔
“ساتھ والے روم کا۔”
وہ بیڈ کے قریب آئی۔
“اچھا وہ۔۔۔میں نے لاکڈ کیا ہے۔”
غزنوی نے اسکے سر پہ بم پھوڑا۔۔
“آپ نے۔۔۔؟؟ مگر کیوں۔۔۔؟”
ایمان کا وجود زلزلوں کی زد میں تھا۔
“زیادہ سوال مت کرو۔۔۔دروازہ اور لائٹ بند کرو اور سو جاؤ میری پیاری بیوی۔”
وہ موبائل سائیڈ ٹیبل پر رکھتا اس پہ یوں نظریں جمائے ہوئے تھا کہ ایمان کی ریڑھ کی ہڈی میں کرنٹ سا دوڑ گیا۔وہ کچھ لمحے اسے یونہی دیکھتا رہا اور پھر رخ پھیر کر لیٹ گیا جبکہ ایمان یونہی کھڑی رہی۔۔اس سے ایک قدم بھی نہ لیا گیا یوں جیسے زمین نے اسکے قدموں کو مضبوطی سے جکڑ لیا ہو۔
“اب کیا یونہی میرے سر پہ کھڑی رہو گی۔۔دروازہ بند کرو اور آ کر سو جاؤ۔۔اس بارے میں صبح بات کریں گے۔”
ایمان نے پلٹ کر اسے دیکھا اور قدر سخت لہجے میں بولا۔
“میں کہاں سوؤں۔۔۔یہاں اس صوفے پر۔۔یہ تو چھوٹا ہے۔”
ایمان نے پریشان چہرہ لئے دائیں طرف رکھے سنگل صوفے کیطرف اشارہ کیا۔
“یہاں بیڈ پہ آ جاؤ۔۔۔”
وہ سادہ سے لہجے میں کہتا ایک بار پھر رخ پھیر گیا اور ایمان کا رنگ اڑ گیا۔مرتا کیا نہ کرتا کے مصادق اس دروازہ بند کیا اور لائٹ آف کرتی بیڈ کی طرف آ گئی۔نائٹ بلب کی روشنی میں اس نے غزنوی کو دوسری جانب رخ کرتے دیکھا۔
“جلاد۔۔۔”
وہ دھیرے سے بڑبڑائی اور اسے ایک اور لقب کا میڈل پہناتی آہستگی سے بیڈ کی دوسری جانب لیٹ گئی۔وہ بالکل کونے سے لگی تھی کہ اگر زرا سی بھی اور ادھر ہوتی تو نیچے گر جاتی۔نیند تو اڑ ہی چکی تھی مگر اب رات تو گزارنی تھی۔۔۔لہٰذا دل ہی دل میں آیت الکرسی کا ورد کرتی وہ آنکھیں موند گئی۔دوسری جانب کروٹ کے بل لیٹے غزنوی کو بھی سونے کی کوشش میں ناکامی کا سامنا تھا۔ساتھ لیٹا وجود اسکی نیند اڑائے دے رہا تھا۔اسکے کانوں میں ایمان کے الفاظ گونج رہے تھے اور پھر ایک پل لگا اسے فیصلہ کرنے میں۔۔۔۔اپنی نام نہاد ضد کو بالائے طاق رکھتا وہ اسے اپنی جانب کھینچ چکا تھا۔ایمان اس اچانک حملے کے لئے تیار نہیں تھی۔اس نے ایک پل کو غزنوی کی آنکھوں میں جھانکا اور اس کی گرفت سے نکلنے کی سعی کرنے لگی مگر غزنوی کے مضبوط بازؤں کے آگے اس کی نازک کوششیں دم توڑ گئیں۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔
