Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode16

Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode16

“اے لو تم تو کہہ رہی تھی کہ غزنوی سو رہا ہے؟”
خیرن بوا ٹھوڑی پہ انگلی جمائے سوالیہ نظروں سے ایمان کی طرف یوں دیکھ رہی تھیں جیسے اسکا جھوٹ پکڑ لیا ہو۔وہ سٹپٹا گئی۔
“چھوڑیں نا بوا یہ خود چلتے پھرتے سوئی رہتی ہے۔”
غزنوی نے کنکھیوں سے ایمان کی جانب دیکھا۔خیرن بوا ہنسنے لگیں جبکہ ایمان کڑے تیور لیے اسکی جانب دیکھ رہی تھی، غزنوی ہنسی دبائے خود کو سنجیدہ ظاہر کرنے کوشش میں تھا۔
“مرتضیٰ کی ہوا لگ گئی ہے تمھیں بھی۔”
خیرن بوا نے ہلکی سی دھپ اسکے شانے پہ رسید کی۔
“نہیں کسی کی نظر لگ گئی ہے۔”
وہ مسلسل اسے نشانہ بنائے ہوئے تھا۔
“اللہ میرے بچے کو نظر بد سے بچائے اور جلنے والوں کا منہ کالا ہو۔”
خیرن بوا کھڑے کھڑے تھکنے لگیں تھیں اس لیے صوفے کی جانب بڑھ گئیں۔
“آمین آمین۔۔! آپ بتائیے، کچھ کام تھا کیا؟”
غزنوی نے یاد آنے پر پوچھا۔
“ہاں تمھاری اماں بتا رہی تھیں کہ تم آج کل میں اسلام آباد جاؤ گے، تو میں سوچ رہی تھی کہ مجھے بھی ساتھ لے جانا۔بلقیس اور رقیہ بہت یاد آ رہی ہیں، سوچا مل آؤں، پھر تمھارے ساتھ ہی لوٹ آؤں گی۔”
انہوں نے کہا۔
“ٹھیک ہے تو کل تیار رہیئے گا۔”
غزنوی ان کے پاس آ بیٹھا۔
“ٹھیک ہے بیٹا۔۔اللہ تمھیں خوش رکھے، ڈھیروں ترقی سمیٹو۔”
خیرن بوا نے اسکے سر پہ ہاتھ رکھا۔
“آمین۔۔!”
غزنوی اٹھ کھڑا ہوا۔
“ایمان بھی جائے گی؟”
خیرن بوا نے خاموش کھڑی ایمان کی طرف دیکھا۔
“نہیں بوا۔۔میں کہہ تو رہا ہوں کہ چلے میرے ساتھ، لیکن۔۔۔”
ایمان نے کچھ کہنے کے لئے منہ کھولا ہی تھا کہ غزنوی بول پڑا۔
“ائے کیوں۔۔؟”
عینک کے پیچھے سے دو تجربہ کار نگاہیں ایمان پہ جم گئیں۔
“بوا صرف دو دن کے لئے ہی تو جا رہے ہیں، میں جا کر کیا کروں گی۔”
وہ منمنائی۔
“ائے یہ کیا بات ہوئی بھلا۔۔تم بھی ساتھ چلنا۔”
خیرن بوا نے اسے نظروں سے تولنے کی کوشش کی۔
“جی۔”
وہ اتنا ہی کہہ پائی جبکہ غزنوی اپنا کام ہوتے دیکھ کر وہاں سے کھسک لیا۔غزنوی کے جانے کے بعد خیرن بوا نے شوہر کی منشاء کا خیال رکھنے پہ اسے ایک لمبا چوڑا لیکچر جو دینا شروع کیا تو پھر خاموش ہونے کا نام نہ لیا جبکہ ایمان نے لیکچر سنتے ہوئے دل ہی دل میں غزنوی کو خوب صلواتیں سنائیں۔
___________________________________
آدھا گھنٹہ ہو گیا تھا انہیں اسلام آباد آئے۔خیرن بوا صوفے پہ براجمان لاؤنج کا جائزہ لینے میں مگن تھیں۔ایمان کچن میں تھی اور غزنوی آتے ہی اپنے روم میں بند ہو گیا تھا۔ایمان نے چائے بنا کر پہلے خیرن بوا کو دی اور غزنوی کو دینے کے لئے روم میں آئی۔وہ واش روم میں تھا۔اس نے ہاتھ میں پکڑی ٹرے ٹیبل پہ رکھ دی اور نیچے آ گئی۔بلقیس بیگم اور رقیہ کو لاؤنج میں موجود پا کر وہ نہایت گرم جوشی سے ان کی طرف بڑھی۔
“کیسے مزاج ہیں خالہ۔۔! احمد بھائی اور بھابھی اور وہ شرارتی ٹیپو کیسا ہے؟”
ایمان دونوں سے ملتی خیرن بوا کے پاس آ بیٹھی۔
“شکر ہے اللہ ہے، ہمارے مزاج بالکل بخیر ہیں۔تم سناو، عقیلہ بیگم اور باقی سب کیسے ہیں؟”
بلقیس بیگم بڑی محبت سے اسکی جانب دیکھ رہی تھیں۔
“الحمداللہ۔۔! سب ٹھیک ہیں۔شاہ گل اور امی آپ کو سلام دے رہی تھیں۔”
ایمان نے باری باری دونوں کیطرف دیکھا۔
“واعلیکم السلام۔۔اللہ صحت و تندرستی عطا کرے، آمین۔۔غزنوی دکھائی نہیں دے رہا۔”
بلقیس بیگم نے اردگرد نظر ڈالتے ہوئے غزنوی کے مطلق پوچھا۔
“وہ کمرے میں ہیں، آپ کے چائے لاؤں یا ٹھنڈا؟”
ایمان اٹھ کھڑی ہوئی۔
“ارے نہیں بیٹا۔۔اس وقت میں چائے نہیں پیتی، بس اب گھر جا کر کھانا کھاوں گی۔یہ تو گل خان نے آ کر خیرن اور تم لوگوں کی آمد کا بتایا تو رہا نہیں گیا، دوڑی چلی آئی۔حالانکہ رقیہ کہتی رہی کہ وہ لوگ ابھی آئے ہیں، لمبا سفر تھا۔۔تھک گئے ہونگے، صبح مل لیجیئے گا مگر مجھ سے کہاں صبح تک صبر ہونا تھا، اس لئے چلی آئی ملنے۔”
بلقیس بیگم نے اسے روکا تو وہ واپس بیٹھ گئی۔
“بہت اچھا کیا آپ نے، اب کھانا ہمارے ساتھ کھائیے گا۔کیوں بوا؟
ایمان نے خاموش بیٹھی بوا سے پوچھا۔
“ہاں ہاں کیوں نہیں۔”
خیرن بوا نے تسبیح گود میں رکھی اور بلقیس بیگم کی جانب دیکھا۔
“ارے نہیں، کھانا گھر میں ہی کھائیں گے اور تم بھی تھکی ہوئی ہو میں بھجوا دوں گی کھانا، آج رقیہ نے کریلے گوشت بنائے ہیں۔تم تھک گئی ہوگی۔”
بلقیس بیگم نے محبت سے اسکی جانب دیکھا۔
“خالہ آپ لوگوں کو ناحق تکلیف ہو گی۔میں بنا لوں گی۔”
ایمان نے کہا۔
“کوئی تکلیف نہیں ہو گی۔”
بلقیس بیگم نے کہا تو وہ مسکرا دی۔کچھ دیر ادھر ادھر کی گفتگو کرنے کے بعد ایمان رقیہ کو اشارہ کرتی باورچی خانے میں آ گئی۔فریج سے ٹماٹر نکال کر سلیب پہ رکھے اور برنر آن کرنے لگی۔
“بھابھی آپ رہنے دیتیں، کھانا میں بھجوا دوں گی۔اگر کریلے نہیں پسند تو کچھ اور بنا لوں گی۔”
رقیہ نے کچن میں داخل ہوتے ہی اسے کھانے کی تیاری کرتے دیکھ کر کہا۔
“میں تو بہت شوق سے کھاتی ہوں، میری اماں بھی بہت مزے کے کریلے گوشت بنایا کرتی تھیں۔لیکن یہ تمھارے غزنوی بھائی جو ہیں نا، وہ ہیں تو اسی سبزی جیسے لیکن یہ کھانی انہیں پسند نہیں اور پھر میں چاول بھی بھگو چکی تھی۔تم بتاو شادی کی ڈیٹ فکس ہو گئی؟”
ایمان نے اس سے پوچھا۔
“نہیں ابھی نہیں، دراصل کمیل کی بڑی بہن بیرون ملک رہائش پذیر ہیں اور ایک دو مہینے تک وہ پاکستان آ رہی ہیں۔ان کے آنے کے بعد کی تاریخ رکھی جائے گی۔”
رقیہ نے بتایا تو ایمان نے بغور اسکی جانب دیکھا۔رقیہ کے چہرے پہ ایک چمک سی تھی اور لبوں پہ کھلی کھلی مسکراہٹ۔۔ایمان نے بےاختیار اسکی خوشیوں کے دائمی ہونے کی دعا کی۔
“چلو اچھا ہے۔مجھے بلاو گی نا اپنی شادی میں؟”
ایمان نے شرارتی انداز میں پوچھا۔
“بھابھی آپ کیسی بات کر رہی ہیں، بھلا یہ بھی ممکن ہے کہ ہم آپ کو نہ بلائیں۔
رقیہ اسکے قریب آئی۔
“جانتی ہوں بھئی، میں تو یونہی کہہ رہی تھی۔”
ایمان پیاز کاٹنے لگی۔
“لائیے میں آپ کی مدد کر دوں۔”
رقیہ نے اسکی آنکھوں میں پانی جمع ہوتے دیکھ کر اسکے ہاتھ سے پیاز اور چھری لے لی۔ایمان شُوں شُوں کرتی مسکرا دی۔
“رہنے دو تم میں کر لیتی۔”
ایمان نے اپنے ڈوپٹے سے آنکھیں رگڑ ڈالیں جن میں پیاز کاٹنے سے جلن شروع ہو گئی تھی۔
“ویسے میں نے سنا ہے کہ پیاز کاٹتے ہوئے اگر آنسو نکلیں تو اس لڑکی کی ساس اس سے بہت محبت کرتی ہے حالانکہ مجھے بالکل یقین نہیں ہے اس بات پہ۔۔لیکن آپ کی ساس تو آپ سے محبت کرتی ہیں۔میں نے انھیں آپ کی فکر کرتے اور آپ کا خیال رکھتے دیکھا ہے۔”
رقیہ نے پیاز کاٹتے ہوئے ایمان کی طرف دیکھا۔
“میں بھی نہیں مانتی، لیکن ہاں یہ تو ہے کہ امی میرا بہت خیال رکھتی ہیں۔”
ایمان شمائلہ بیگم کو یاد کرتی مسکرا دی۔
“لیکن اب اس بارے میں تمھارا کیا خیال ہے؟”
ایمان رقیہ کی آنکھ سے بہتا پانی صاف کرتے ہوئے ہنس دی۔رقیہ بھی پانی سے بھری آنکھوں کے ساتھ ہنس دی تھی اور پیاز کی پلیٹ اسکی طرف بڑھائی۔
“ویسے آپ لوگ تو ابھی آئے ہیں اور فریج تازہ سبزی رکھی ہوئی ہے۔”
رقیہ نے فریج سے پانی کی بوتل نکالتے ہوئے پوچھا۔
“دراصل آنے سے پہلے غزنوی نے گل خان کاکا کو اطلاع دے دی تھی۔غزنوی نے ہی ان سے کہا تھا۔”
ایمان کے بتانے پہ اس نے سر ہلایا اور پھر کھانا بنانے میں ایمان کی مدد کرنے لگی۔
_______________________________
رات کو وہ سفر کی شدید تھکان کے باعث وقت پہ سو گیا تھا۔کھانا کھانے کے فورا بعد وہ روم میں آیا تو نیند نے مزید جاگنے کی مہلت نہیں دی۔جب ایمان کچن سمیٹ کر کمرے میں آئی تو وہ سو چکا تھا۔اس نے ایک بھرپور نظر گہری نیند سوئے ہوئے غزنوی پہ ڈالی۔وہ بھی ہلکا پھلکا لباس زیب تن کرتی بیڈ پہ آ گئی۔کافی دیر کروٹ پہ کروٹ لیتی رہی۔کمرے میں نائٹ بلب جل رہا تھا۔روم میں مدھم روشنی ہونے کے باوجود غزنوی کے چہرے کا ایک ایک نقش اس کے سامنے تھا۔کمان کی طرح تنے ہوئے ابرو جن کی ہی وجہ سے وہ بہت اکھڑ نا صرف دکھتا تھا بلکہ اکھڑ تھا بھی، چہرے پہ سجی مونچھیں۔۔۔
“مونچھیں دیکھو ذرا اس کھڑوس کی۔”
یہ سوچ ایمان کے لبوں پہ مسکراہٹ لے آئی۔اسے اس بات سے انکار نہیں تھا کہ وہ اوپر سے جتنا بھی اس سے لاپرواہی برتتی وہ اس سے کہیں زیادہ اس کے دل میں بسا تھا۔وہ لاکھ کوشش کرتی کہ غزنوی کا خیال اس پہ مسلط نہ ہو مگر وہ اس سے دُور رہ کر بھی اس کے سر پہ تنے نیلے آسمان جیسا تھا جسکا سایہ اس پہ قدرت نے مقرر کیا تھا۔وہ اسے اپنے والد کی موت کا زمہ دار ٹھہراتی تھی لیکن حقیقت تو اس کے بالکل برعکس تھی۔غزنوی نے کتنی کوشش کی تھی اسے منانے کی مگر وہ اسے ایک موقع تک نہیں دے رہی تھی۔
غزنوی کے ساتھ کی انہی میٹھی اور کڑوی یادوں کو سوچتے نجانے کس پہر اسکی آنکھ لگ گئی۔
_______________________________
صبح فجر کے وقت اسکی آنکھ کھلی تھی۔نماز پڑھ کر وہ روم سے باہر آئی۔خیرن بوا کے کمرے کا دروازہ کھول کر اندر جھانکا تو وہ نماز کے بعد تلاوت میں مصروف تھیں۔اس نے انھیں ڈسٹرب نہ کیا اور خاموشی سے پلٹ آئی۔اپنے لئے چائے بنانے کے لئے وہ کچن میں آئی، پانی ابلنے کے لئے رکھنے کے دوران اسے یاد آیا کہ وہ کل سے آئے ہیں اور اس نے ایک بار بھی رشیدہ کو نہیں دیکھا۔آنچ دھیمی کرتی وہ باہر آئی۔اسکا رخ سرونٹ کوارٹر کی جانب تھا۔گھر کی دائیں دیوار سے ملحق قدیم طرز کے لکڑی کے دروازے کے باہر کھڑی وہ سوچ رہی تھی کہ دستک دے یا وہاں سے واپس چلی جائے۔ابھی اندھیرا پوری طرح سے چھٹا نہیں تھا۔اس لئے اس نے پلٹ جانا ہی مناسب سمجھا اور لان میں آ گئی۔کچھ دیر تازہ فضاء میں چہل قدمی کرتی رہی۔اسکے ذہہن سے نکل گیا کہ وہ کچن میں چائے کا پانی چڑھا کر آئی ہے۔
“ہائے باجی آپ کو دیکھکر مجھے کتنی خوشی ہو رہی ہے۔”
وہ چہل قدمی کرتے کرتے گلاب کے پھولوں کے پاس آ کر رک گئی اور ایک ایک پھول کو نرمی سے چھو رہی تھی کہ پیچھے سے رشیدہ کی خوشی سے چہکتی آواز پہ پلٹی۔
“السلام و علیکم رشیدہ۔۔!”
ایمان نے سلام پہ زور دیتے ہوئے اسے یاد دلانا چاہا۔
“واعلیکم السلام باجی۔۔!!”
رشیدہ کے نہایت معصومیت سے جواب دینے پر وہ مسکرا دی۔
“کیسی ہیں آپ باجی؟”
رشیدہ کا جوش ختم ہونے میں نہیں آ رہا تھا۔
“میں بالکل ٹھیک ہوں۔تم کیسی ہو اور بچے؟”
ایمان کرسیوں کی طرف آ گئی۔
“اللہ کا شکر ہے باجی، سچی باجی مجھے جب پتہ چلا کہ صاحب یہ گھر بیچ رہے ہیں تو میرا تو رو رو کر برا حال ہو گیا تھا، لیکن اب آپ کو دیکھ دل خوش ہو گیا ہے۔”
رشیدہ ڈوپٹہ کانوں کے پیچھے اڑستی بولی تھی۔چہرے کے تاثرات بھی بات کی مناسبت سے تبدیل ہو رہے تھے۔
“اس بارے میں تو مجھے پتہ نہیں ہے، لیکن ہم یہاں سے مستقل جا رہے ہیں۔وہیں سب کے ساتھ ہی رہیں گی۔بس کچھ قانونی کاروائی تھی جس کے یہاں آئے ہیں۔لیکن تم لوگ پریشان نہ ہو، تمھارے صاحب نے کچھ سوچ رکھا ہو گا اور اگر نہیں سوچا ہو گا تو میں بات کر لوں گی۔”
ایمان نے اسکی پریشانی سمجھتے ہوئے کہا۔
“اللہ آپ کو اور صاحب کو ہمیشہ ہنستا بستا اور خوشحال رکھے، ہمارا اتنا خیال رکھا، کبھی نوکر نہیں سمجھا ہمیں۔آپ مجھے بہت یاد آئیں گی۔”
رشیدہ نے منہ بسورتے ہوئے کہا۔
“مجھے بھی۔۔۔کل کہاں تھیں تم، آئیں ہی نہیں۔”
ایمان نے گل خان کو دیکھتے ہوئے رشیدہ سے پوچھا، جو اپنے کمرے سے نکل کر گیٹ کھول کر باہر نکل گیا تھا۔
“وہ باجی ہم گاوں گئے تھے، میری ساس کی طبیعت اچانک بگڑ گئی تھی، بس اچانک جانا پڑ گیا۔آج صبح ہی آئے ہیں۔گل خان نے بتایا تھا کہ صاحب آئے ہیں میں سمجھی وہ صرف اکیلے آئے ہیں۔آپ نے اچھا کیا جو آپ بھی آ گئیں۔میں آپ کے چائے بنا کر لاتی ہوں۔”
رشیدہ اٹھ کھڑی ہوئی۔اس کے چائے کا نام لینے پر ایمان کو یاد آیا کہ اس نے چولھے پر چائے کا پانی رکھا تھا۔
“اوہ۔۔۔!! مجھے بھول ہی گیا کہ چائے کا پانی رکھ کر آئی تھی۔اب تک تو بھاپ بن گیا ہو گا۔جاو ذرا جا کر دیکھو۔”
ایمان نے جلدی جلدی کہا۔
“جی جاتی ہوں۔”
رشیدہ تیزی سے مڑی۔
“اور سنو۔۔! چائے دو کپ بنانا، ایک کپ اوپر کمرے میں خیرن بوا کو دے آنا۔”
ایمان نے قدرے بلند آواز میں کہا۔
“کیا۔۔۔؟؟ بوا بھی آئیں ہیں آپ کے ساتھ؟”
خیرن بوا کا سن کر رشیدہ کے ہاتھوں کے طوطے اڑے، خیرن بوا اسکے ہر کام میں کوئی نہ کوئی نقص نکال ہی لیتی تھیں اور پھر جو اسکی شامت آتی تھی یہ ایمان کو بھی معلوم تھا۔ایمان نے اسکی اڑی رنگت پہ لبوں پہ نمودار ہوتی ہنسی کو روکا۔
“چائے دے آنا انہیں۔”
ایمان نے زور دے کر کہا۔
“جی۔”
رشیدہ کے منہ کے بگڑے زاویے ایمان کو ہنسنے پر مجبور کر گئے تھے۔
______________________________
غزنوی ناشتہ کر کے جا چکا تھا۔خیرن بوا لاؤنج موجود تھیں اور رشیدہ سے اپنی نگرانی میں صفائی کروا رہی تھیں۔ایمان کچن میں تھی۔اسے لاونج میں ہوتی پریڈ کی آواز بالکل صاف سنائی دے رہی تھی۔
“ائے ہائے۔۔ستیا ناس مار دیا ہے پورے گھر کا، ہر چیز دھول مٹی سے اٹی پڑی ہے۔ائے بی بی۔۔! کیا تم نے گھر کو کباڑ خانہ سمجھ رکھا تھا۔”
خیرن بوا نے رشیدہ کو بے دلی سے جھاڑ پونچھ کرتے دیکھ کر کہا۔
“بوا میں روز صفائی کرتی تھی۔”
رشیدہ نے منہ بسورا۔
“ہاں ہاں دکھ رہا ہے۔۔کتنی صفائی کر رہی تھی تم، ایسے ہی کرتی ہو گی جیسے ابھی ٹوٹے ہاتھوں سے لگی ہو۔ائے کیا دم نہیں ہاتھوں میں، کھاتے پیتے یہ حال ہے۔ائے ایک ہم تھے ایک ایک چیز کو رگڑ رگڑ کر یوں صاف کرتے تھے کہ اپنی شکل دکھائی دینے لگتی تھی۔اللہ بخشے ہماری اماں کو یوں صفائی کرتی تھیں کہ دودھ پھینکو اور اٹھا لو اور ہمیں بھی یہی سکھایا اور آج کل ملازمائیں بس پیسوں سے مطلب، جان چھڑاتی ہیں کام سے۔”
خیرن بوا کسی غیر مرئی نقطے پہ نظریں جمائے بولیں۔
“بوا دودھ کیسے اٹھاتی تھیں وہ؟”
رشیدہ نے ان کی بات کو اپنے دماغ کے ترازو میں تولتے ہوئے پوچھا۔
“اے لو بی بی سے بک بک کرا لو۔دھیان لگا کر صاف کر۔”
خیرن بوا نے تیز نگاہوں سے اسے گھورا۔
“ائے کیا بول رہی ہے؟ ذرا اونچا بول۔”
خیرن بوا نے رشیدہ کو منہ ہی منہ بڑبڑاتے دیکھ کر پوچھا۔
“کچھ نہیں بوا، وظیفہ پڑھ رہی ہوں۔”
رشیدہ جل کر بولی۔
“ائے تُو بڑی آ گئی، ملانی بیگم۔۔۔جو وظیفے پڑھ رہی ہے۔”
خیرن بوا کو اسکی بات پہ تو جیسے تپ چڑھ گئی۔
“رشیدہ۔۔۔بوا سے بحث مت کرو اور تم یہ رہنے دو، میں کر لوں گی۔تم ذرا بیگ سے کپڑے نکال کر الماری میں لگا دو اور دو شلوار سوٹ بیڈ پہ رکھے ہیں، انہیں استری کر دینا۔”
ایمان لاؤنج میں آئی اور رشیدہ کی رونے بدتر صورت دیکھکر اسے وہاں سے بھیجا اور رشیدہ اندھا کیا چاہے دو آنکھوں کے مصداق وہاں سے یوں بھاگی جیسے کسی نے جادو کی چھڑی گھما کر اسے غائب کر دیا ہوا۔
“بوا ذرا یہ لہسن چھیل دیں، تاکہ میں پیسٹ بنا کر رکھ لوں۔”
ایمان نے ہاتھ میں پکڑی نیلی ٹوکری خیرن بوا کی طرف بڑھائی۔
“اچھا، ذرا اس کام چور پر بھی نظر رکھا کرو۔ہاتھوں سے کم اور آنکھوں سے صفائی زیادہ کرتی ہے۔”
انہوں نے ناک چڑھاتے ہوئے اس کے ہاتھ سے باسکٹ لی۔
“آپ کے قہوہ بنا دوں بُوا؟”
ایمان نے ان سے پوچھا۔
“ائے ہاں بیٹا، گلا سوکھ گیا ہے میرا۔”
ان کے کہنے پہ ایمان سر ہلاتی کچن میں چلی گئی۔کچھ دیر بعد وہ دو کپ اٹھائے واپس آئی۔
“یہ لیں۔”
ایمان نے کپ ان کے سامنے ٹیبل پہ رکھ دیا اور خود بھی ساتھ ہی بیٹھ گئی۔
“بوا باقی میں کر لوں گی، آپ تھک گئی ہونگی۔”
ایمان نے ان کے لہسن چھیلتے ہاتھوں کو دیکھتے ہوئے کہا، جن میں ہلکی سی لرزش سے محسوس ہو رہی تھی۔
“ائے نہیں بیٹا۔۔میں کون ایک جوا چھیلنے کے لئے پہاڑ پہ چڑھتی ہوں اور پھر دوسرا جوا لینے کے لئے پہاڑ سے نیچے آتی ہوں جو تھک جاوں گی۔”
وہ ہنستے ہوئے بولیں تو ایمان مسکرا دی۔
“اچھا پہلے قہوہ پی لیں، ٹھنڈا ہو جائے گا۔”
ایمان نے کپ اٹھا کر ان کی طرف بڑھایا جو انہوں نے تھام لیا۔
“گھنٹہ ہو گیا ہے اس رشیدہ کو اوپر کمرے میں گئے۔”
خیرن بوا کی نظر وال کلاک پر پڑی تو اس کی طرف دیکھکر بولیں۔
“جی میں دیکھتی ہوں جا کر۔”
ایمان نے کپ ٹیبل پہ رکھا اور سیڑھیوں کی طرف بڑھ گئی۔ ___________________________________________
رات وہ روم میں آئی تو غزنوی جاگ رہا تھا۔غزنوی نے ایک پل کو لیپ ٹاپ سے نظر ہٹا کر اسکی طرف دیکھا تھا۔وہ صوفے کیطرف بڑھ گئی۔ان کے بیچ دوری کی یہ ڈور ٹوٹنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔اوپر اوپر سے “سب اچھا ہے” کا سائن بورڈ لگائے دونوں زندگی گزار رہے تھے۔۔۔نہ غزنوی اپنی انا کا بوجھ اٹھانے سے تھک رہا تھا نا وہ ہار مان رہی تھی۔دو دن ہو گئے تھے انہیں اسلام آباد آئے۔ یہاں آ کر غزنوی بہت مصروف ہو گیا تھا۔
“بوا کہاں ہیں؟”
اس نے مصروف انداز میں ایمان سے پوچھا۔
“آج بلقیس خالہ نے لنچ پہ بلایا تھا۔آپ تو مصروف تھے اس لئے ہم چلے گئے۔یہی بتانے کے لئے میں نے دوبار آپ کو کال بھی کی تھی لیکن آپ نے ریسیو نہیں کی۔خالہ نے انہیں آج اپنی طرف روک لیا۔”
ایمان نے بناء اسکی طرف دیکھے بتایا۔غزنوی نے کوئی جواب نہیں دیا اور اپنے کام میں مصروف رہا۔
“ہم واپس کب جا رہے ہیں، دو دن کا کہا تھا آپ نے؟”
ایمان نے اسے مصروف دیکھکر پوچھا۔
“ابھی کچھ کہہ نہیں سکتا کہ کب واپسی ہو گی کیونکہ یہاں کچھ کام پینڈنگ ہیں۔”
غزنوی لیپ ٹاپ بند کرتے ہوئے بولا۔
“آپ یہ گھر بیچ رہے ہیں؟ رشیدہ کے بارے میں کیا سوچا؟”
وہ دھیرے دھیرے قدم اٹھاتی قریب آئی تھی۔
“ہاں جب ہم یہاں رہیں گے نہیں تو کیا کرنا ہے اس گھر کا، جہاں تک رشیدہ کا معاملہ ہے تو اس بارے میں میں نے سوچ رکھا ہے۔وہ یہیں رہیں گے۔”
غزنوی نے لیپ ٹاپ اسکی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔ایمان نے لیپ ٹاپ ٹیبل پہ رکھ کر دیا۔
“لائٹ آف کر دو۔”
وہ ٹیبل لیمپ آن کرتا بولا اور آنکھوں پہ بازو رکھتا لیٹ گیا۔اس نے اٹھ کر لائٹ آف کی اور واپس آ کر اپنی جگہ پہ لیٹ گئی۔نیند ابھی اسکی آنکھوں میں بسنے سے انکاری تھی۔
“میں تھک گیا ہوں اور تم وہ درخت ہو جسکے سائے میں میں اپنی تھکن اتارنا چاہتا ہوں۔”
غزنوی نے ہاتھ بڑھا کر اسے قریب کیا تھا۔تھکاوٹ تو اسکے بھی روم روم میں بسی ہوئی تھی۔غزنوی کا وجود تو اسکے لیے بھی چھاؤں جیسا ہی تھا لیکن اسکا رخ اب بھی مخالف سمت میں تھا۔
“ایمان۔۔۔”
ان کے بیچ وقت خاموشی سے سرکنے لگا تھا کہ غزنوی نے اسے پکارا تھا۔ایمان نے کوئی جواب نہیں دیا مگر اسکی خاموشی نے غزنوی کا حوصلہ بڑھایا تھا۔اس نے ایمان کے بالوں میں اپنا چہرہ چھپا کر آنکھیں موند لیں۔ ________________________________________________
ایمان کی آنکھ کھلی تو کمرے میں گھپ اندھیرا تھا۔پہلے تو اسے کچھ سجھائی نہیں دیا لیکن جب ذہہن نے بیداری کی سرحد پار کی تو اپنے بالکل پیچھے کسی کے وجود کا احساس اسے سیکنڈز میں ہوش میں لایا۔وہ ابھی بھی اسی کے تکیے پہ سر رکھے لیٹا سو رہا تھا۔اسکی نیند میں گھلی سانسوں کی آواز ایمان کو اپنے کانوں کے بالکل پاس سنائی دے رہی تھی۔اسکا دل تیزی سے دھڑک اٹھا۔غزنوی کا بازو اسکے گرد کسی قلعے کی مضبوط فصیل کی طرح اسے اپنے حصار میں لیے ہوئے تھا۔یہ بات اسکی دھڑکنیں بےترتیب کرنے کے لئے کافی تھی کہ اس نے ساری رات اسی حصار میں گزار دی تھی۔رات جب وہ اس سے قریب ہوا تھا تو کسی اندیکھی قوت نے اسکے جیتے جاگتے حواسوں کو سلب کر لیا تھا جس کے باعث وہ خود سپردگی کے عالم میں خود کو غزنوی سے الگ نہیں کر پائی تھی۔ماتھے پہ پھوٹتے پسینے کے ننھے ننھے قطروں کو اس نے سائیڈ پہ رکھے ڈوپٹے سے یوں آہستگی سے پونچھا کہ کہیں اسکی زرا سی بھی حرکت سے غزنوی کی نیند نہ کھل جائے۔پھر اسی آہستگی سے اس نے خود کو اسکی قید سے آزاد کیا اور بنا اسکی طرف دیکھے کمرے سے باہر آئی لیکن دروازہ بند کرنے سے پہلے اس نے ایک بار غزنوی کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا تھا۔وہ اسی پوزیشن میں سویا ہوا تھا۔وہ شکر کا کلمہ پڑھتی خیرن بوا کے روم میں آ گئی جو کل بلقیس بیگم کی طرف رک گئی تھیں۔
کچھ پل اسے اپنی دھڑکنوں کی لگامیں تھامنے میں لگے تھے پھر وضو بنانے کے لئے اٹھ کھڑی ہوئی۔نماز پڑھنے کے بعد اس نے تلاوت کی۔دل کی بے چینی کو کچھ قرار ہوا تو وہ وہیں بیڈ پہ لیٹ گئی۔ابھی غزنوی کے اٹھنے میں کافی وقت تھا۔نیند تو آنی نہیں تھی اس لئے لایعنی سوچیں پھر سے اس پہ حاوی ہونے لگیں۔رہ رہ کر اسے یہی بات کھائے جا رہی تھی کہ غزنوی اسکے متعلق کیا سوچتا ہو گا۔دماغ مسلسل کچوکے لگاتا رہا تو دل بھی تاویلیں پیش کرتا رہا۔دل و دماغ میں چھڑی جنگ نے اسکی بے چینی میں اضافہ کیا تو وہ کمرے سے نکل آئی۔انہی سوچوں سے بچنے کے لئے وہ کچن میں آ گئی۔رات کا اندھیرا اب چھٹ چکا تھا۔اس نے اپنے لئے ایک کپ چائے بنائی اور لاؤنج میں آ گئی۔اسی دوران فون کی گھنٹی نے ماحول بھی رچی خاموشی کو چیر ڈالا۔وہ کپ ٹیبل پہ رکھتی فون اسٹینڈ کی جانب آئی اور فون اٹھایا۔
“ہیلو۔۔!!”
وہ ٹیلی فون اسٹینڈ کے قریب رکھی کرسی پہ بیٹھ گئی۔
“السلام و علیکم ایمان بی بی۔۔!”
شگفتہ کی کانوں کو چیرتی آواز سنائی دی۔
“وعلیکم السلام شگفتہ۔۔! کیسی ہو تم اور گھر میں سب کیسے ہیں؟”
ایمان کو اتنی صبح صبح اسکی آواز سن کر خوشگوار حیرت ہوئی۔
“جی بی بی یہاں سب ٹھیک ہے۔آپ کیسی ہیں؟”
“تھوڑا آہستہ بولو شگفتہ، کان کے پردے پھاڑ دیئے تم نے تو۔”
عقیلہ بیگم کی ڈانٹ بھری آواز ایمان کے کانوں میں پڑی تو وہ مسکرا دی۔
“لیں آپ شاہ گل سے بات کریں۔”
شگفتہ کی آواز اب تھوڑی دھیمی ہوئی تھی۔
“کیسی ہو بیٹا۔۔تم لوگ تو دو دن کا کہہ کر گئے تھے، ایک ہفتہ ہونے کو آیا ہے۔”
رسمی سلام دعا کے بعد عقیلہ بیگم نے اس سے پوچھا۔
“جی۔۔بس ابھی غزنوی کا کام مکمل نہیں ہوا ہے اس لئے نہیں آ سکے۔”
ایمان نے وجہ بتائی۔
“اچھا۔۔غزنوی تو سویا ہو گا؟”
انہوں نے پوچھا۔
“جی۔۔خیرن بوا بھی بلقیس خالہ کی طرف ہیں۔کل ہم گئے تھے ان کی طرف، میں تو واپس آ گئی لیکن خالہ نے انہیں وہیں روک لیا۔”
ایمان نے بتایا۔
“اچھا کیا، ویسے کب ہے شادی،کوئی تاریخ رکھی؟”
عقیلہ بیگم نے پوچھا۔
“نہیں ابھی تو نہیں، لیکن خالہ کہہ رہی تھیں کہ نومبر یا دسمبر میں شادی کریں گے۔”
ایمان نے چائے کا کپ اٹھا کر لبوں سے لگایا۔
“اتنی لیٹ کیوں، وہ تو جلد سے جلد رقیہ کو بیاہنا چاہتی تھی۔”
عقیلہ بیگم نے اپنی حیرت نہ چھپائی۔
“وہ تو جلد ہی کرنا چاہتی تھیں لیکن کمیل کی بڑی بہن بیرون ملک مقیم ہیں۔وہ آئیں گی تب ہی تاریخ رکھی جائے گی۔”
ایمان نے وجہ بتائی۔
“چلو اللہ نصیب اچھے کرے بچی کے۔”
عقیلہ بیگم نے دعا دی تو ایمان نے آمین کہا۔پھر کچھ دیر ادھر ادھر کی گفتگو کے بعد اس نے انہیں خدا حافظ کہہ کر فون رکھ دیا۔ان سے بات کر کے ذہہن کچھ حد تک بٹ گیا تھا۔وہ کپ اٹھا کر کچن کی طرف جا ہی رہی تھی کہ رشیدہ مٹک مٹک کر چلتی لاؤنج میں داخل ہوئی۔
“یہ کسطرح چل رہی ہو؟ کیا ٹانگ میں درد ہو رہا ہے؟”
رشیدہ اسکی آواز پہ چونک گئی تھی۔
“ہائے باجی آپ نے تو مجھے ڈرا ہی دیا۔”
رشیدہ سینے پہ ہاتھ رکھ کر بولی۔
“ارے تم ڈرتی بھی ہو۔”
ایمان نے اسکے چہرے کو بغور دیکھا۔
“سچی باجی آپ نے تو میرا تراہ ہی نکال دیا ہے۔”
وہ ہولنے کے بھرپور ایکٹنگ کرتی پاس آئی۔چلنے کا انداز ویسا ہی تھا۔
“یہ کیسے چل رہی ہو؟”
ایمان کو اسکا انداز دیکھکر الجھن ہونے لگی۔
“ہائے باجی۔۔”
رشیدہ ڈوپٹہ منہ پر رکھے پہلے تو کھی کھی کرتی رہی پھر بولی۔
“لگتا ہے نیند پوری نہیں ہوئی تمھاری۔”
ایمان نے اسکے دنداسے سے سرخ ہوئے ہونٹوں اور مسوڑوں کو دیکھتے ہوئے کہا۔
“نہ جی۔۔میں تو بالکل بھلی چنگی ہوں۔”
رشیدہ نے اس بار چھوٹی چھوٹی سرمے سے بھری آنکھوں کو پٹپٹاتے ہوئے کہا۔ایمان کو ہنسی تو بہت آئی مگر اسکی دل آزاری نہ ہو اس لئے منہ پھیر گئی۔
“اچھا تو پھر یہی بتا دو کہ آج سورج کہا سے نکلا ہے؟”
ایمان کچن کی طرف جاتے ہوئے بولی۔رشیدہ بھی اسکے پیچھے پیچھے آ رہی تھی۔
“وہ تو وہیں سے نکلا ہے جہاں سے روز نکلتا ہے۔آپ بتائیں کہ میں کیسی لگ رہی ہوں؟”
وہ کچن میں داخل ہونے ہی والی تھی کہ رشیدہ تیزی سے اسکے سامنے آ کر اسکا راستہ روک گئی اور کچھ شرماتے لجاتے ہوئے اس سے پوچھا۔
“بہت اچھی لگ رہی ہو، لیکن تم نے پہلے تو کبھی ایسا “میک اپ” نہیں کیا۔
ایمان نے مسکراتے ہوئے کہا۔
“ہائے باجی وہ ہمارے پنڈ میں ایک لڑکی ہے، مکاراں سی۔۔وہ نا ایسے ہی آنکھوں میں ڈھیروں ڈھیر سرمہ لگا کر یونہی چلتی ہے۔کمبخت ماری کو سارا گاوں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھتا ہے۔جیسے کوئی ہیروئین ہو اور اوپر سے اسکا نخرہ توبہ توبہ باجی۔۔۔کیا بتاوں۔”
رشیدہ نے آج کی اپنی اس کارگزاری کی پول کھولی۔
“تو تم بھی ویسی بننا چاہتی ہو، جیسی وہ ہے، تاکہ تمھیں بھی سارا گاوں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھے۔”
ایمان کے الفاظ تو سادہ تھے مگر اس میں طنز کی آمیزش بھی بہت آسانی سے محسوس کی جا سکتی تھی۔
“نہیں باجی بس۔۔رات کو میرے شوہر نے جو اسکا ذکر کیا تو پہلے تو مجھے تپ چڑھ گئی لیکن پھر میں نے سوچا کہ جیسی وہ ہے ویسی تو میں بھی بن سکتی ہوں۔اس لئے آج صبح یہ تیاری کی۔۔ہائے جب کاکے کا ابا مجھے دیکھے گا تو اس کی کیا حالت ہونی۔۔۔رج کے مزا آنا ہے۔”
وہ پھر کھی کھی کرتی ہنسنے لگی۔
“اور اگر اسے یہ سب اچھا نہ لگا تو؟”
ایمان کے سوال پہ وہ سوچ میں پڑ گئی۔
“تو کیا۔۔۔جا کے منہ دھو لوں گی۔”
رشیدہ نے آسان حل بتایا۔
“کسی کے پیچھے اندھا دھند بھاگنے سے راستے کے گڑھے نظروں سے محو ہو جاتے ہیں۔سوچ سمجھ کر قدم اٹھانا ہی ان کھائیوں سے بچا سکتا ہے جن میں گر کر انسان اپنا آپ گنوا بیٹھتا ہے۔”
ایمان نے اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھا۔
“ہائے باجی کیسی مشکل مشکل باتیں کر رہی ہیں آپ، میرے تو کج پلے نہ پڑا۔”
رشیدہ نے اسکے ہاتھ سے کیتلی لے کر چولھے پہ رکھی۔
“میرا مطلب ہے کہ جیسی تم ہو ویسی ہی اچھی لگتی ہو۔یہ سرمے کا ٹرک تھوڑا صاف کر آؤ، اگر بوا نے تمھیں ایسے دیکھ لیا نا تو “بھوتنی” کہنے سے کم پہ راضی نہیں ہونگی۔”
ایمان نے مسکراتے ہوئے اسکی آنکھوں سے بہتے سرمے کو دیکھا۔
“ہا۔۔۔۔اچھا کیا جو بتا دیا۔۔ابھی صاف کر کے آتی ہوں۔”
رشیدہ اپنے سیاہ ڈوپٹے سے آنکھیں رگڑتی باہر نکل گئی جبکہ ایمان ہنستے ہوئے ناشتہ بنانے لگی۔
______________________________________
غزنوی نے کمرے میں ہی ناشتہ منگوایا تھا۔اس نے خود جانے کی بجائے ناشتے کی ٹرے بنا کر رشیدہ کو دی اور خود خیرن بوا کے کمرے میں آ گئی۔وہ غزنوی کا سامنا کرنے سے کترا رہی تھی۔اس لئے جب تک وہ گھر میں تھا وہ اسکی نظروں سے اوجھل رہنا چاہتی تھی۔وہ وہیں کمرے میں رہ کر غزنوی کے جانے کا انتظار کرنے لگی۔
بار بار گھڑی پہ نظر ڈالتی وہ کمرے میں یہاں سے وہاں ٹہل رہی تھی کہ دروازے پہ دستک ہوئی اور غزنوی روم میں داخل ہوا۔
“تم یہاں کیا کر رہی ہو؟”
وہ پینٹ کی پاکٹس میں ہاتھ ڈالتا قریب آیا۔
“وہ۔۔۔مم۔۔میں یہاں اپنا فون ڈھونڈنے آئی تھی۔”
غزنوی کو یوں اپنے سامنے دیکھ کر وہ گھبرا گئی۔
“یوں؟؟ ٹہل ٹہل کر۔۔۔اسطرح ٹہلنے سے اگر چیزیں مل جاتی ہیں تو میری بھی ایک شے کھو گئی ہے۔جب تک میں آفس سے آوں گا تب تک تم ڈھونڈ دو۔”
وہ نہایت سنجیدگی سے کہتا اسکی آنکھوں میں دیکھنے لگا۔ایمان نے اسکی پوسٹ مارٹم کرتی نگاہوں سے گھبرا کر نگاہیں پھیریں۔
“کون سی چیز؟ میں نے تو آپکی ضرورت کی ساری چیزیں ٹیبل پہ رکھ دیں تھیں۔”
ایمان نے ذہہن پہ ذور ڈالتے ہوئے پوچھا۔
“وہ سب تو مل گئی ہیں لیکن ایک سب سے اہم چیز وہاں موجود نہیں تھی تو میں اسے ڈھونڈتے ہوئے یہاں آ گیا۔”
غزنوی نے اسکا چہرہ اپنی طرف کیا۔
“کیا؟”
ایمان اپنے بھولپن میں پوچھ گئی۔
“آپ۔۔۔”
غزنوی نے مسکراہٹ لبوں پہ سجاتے ہوئے اسکی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے قریب کیا۔ایمان نے اسکی گہری سیاہ آنکھوں کو خود پہ محسوس کیا تو دھڑکنیں پھر سے اس سے دغا کر گئیں۔وہ نظریں جھکائے ہوئے تھی۔
“میں تو یہیں ہوں۔”
ایمان نے پیچھے ہٹنا چاہا لیکن غزنوی کی اسکی اس کوشش کو ناکام کیا۔
“کہاں ہو؟”
وہ گھمبیر لہجے میں کہتا اس کے چہرے پہ جھکا تھا۔ایمان کا سر اپنے سینے سے جا لگا تھا۔غزنوی نے اپنے سر کو اسکے سر سے ہلکے سے ٹکرایا۔
“آج شام ہم واپس چلیں گے، میں جلدی واپس آ جاوں گا۔”
پھر وہ اسکی پیشانی پہ اپنی محبت کی مہر ثبت کرتا کمرے سے نکل گیا۔
ایمان نے سر اٹھا کر اسے کمرے سے نکلتے دیکھا تھا۔اس نے نرمی سے اپنی پیشانی کو چھوا تھا بالکل وہیں جہاں وہ اپنا لمس چھوڑ گیا تھا۔
_______________________________________
پھر سارا دن انہی رنگوں کی نظر ہو گیا جو وہ محبت کے لبادے میں سمو کر اس پہ بکھرا گیا تھا۔اس ایک لمس میں۔۔محبت، احترام۔۔وہ سب تھا جو اسے چاہیئے تھا۔اب اسے انتظار تھا اسکے آنے کا، اس لئے اسکی بےچین نظریں بار بار دروازے تک جا کر لوٹ آتیں یا وہیں کہیں ٹھہر جاتیں۔اس نے رشیدہ کو خیرن بوا کو بلانے بھیج دیا تھا۔کچھ دیر بعد خیرن بوا رشیدہ کے ساتھ قدم بہ قدم چلتیں لاؤنج میں داخل ہوئیں۔
خیرن بوا کے چہرے پہ مسکراہٹ بکھری ہوئی تھی، جو رشیدہ کو دیکھ کر مزید گہری ہو جاتی تھی۔
“کیا بات ہے بوا، بہت خوش دکھائی دے رہی ہیں۔”
ایمان بوا کے پاس آئی اور ان کا ہاتھ تھام کر انہیں صوفے تک لے آئی۔بوا نے کوئی بھی جواب نہیں دیا بس ہنسے جا رہی تھیں۔
“باجی بوا مجھ پہ ہنس رہی ہیں۔”
رشیدہ منہ بنا کر بولی۔اس کا یہ کہنا نہیں تھا کہ خیرن بوا ہنسنے لگیں۔
“ائے میں کیوں ہنسوں گی تم پہ؟”
بوا نے ٹھوڑی پہ انگلی رکھی۔
“نہیں بوا جی۔۔میں کوئی بچی تھوڑی نا ہوں۔”
رشیدہ کا انداز نروٹھا تھا۔
“جاو میرے لئے ایک گلاس پانی لاو۔”
خیرن بوا کے مسکراتے چہرہ سنجیدگی کا لبادہ اوڑھ گیا۔رشیدہ ناک پُھلاتی کچن میں چلی گئی۔
“بوا آج ہم نے واپس لوٹنا ہے۔اگر آپ رکنا چاہتی ہیں تو رک سکتی ہیں۔”
ایمان ان کے پاس ہی بیٹھ گئی۔
“ہاں بلقیس بھی کہہ رہی تھی کہ رک جاو کچھ دن، پھر احمد لے جائے گا۔میرا بھی جی چاہ رہا ہے۔”
خیرن بوا نے کہا۔
“ٹھیک ہے بوا، میں آپکا سامان رکھ دیتی ہوں۔”
وہ اٹھتے ہوئے بولی۔
“ارے نہیں تم بیٹھو میرے پاس، رشیدہ کر لے گی۔جاو رشیدہ میرے کپڑے الماری سے نکال کر میرے اٹیچی میں ڈال دو۔”
انہوں نے رشیدہ کے ہاتھ سے پانی کا گلاس لیتے ہوئے اس سے کہا۔وہ سر اثبات میں ہلاتی واپس پلٹ گئی جبکہ ایمان انھیں عقیلہ بیگم کی کال کے بارے میں بتانے لگی۔
______________________________________
غزنوی عصر سے کچھ دیر پہلے آیا تھا۔خیرن بوا دونوں سے مل کر واپس چلی گئی تھیں۔گل خان ان کے ساتھ ان کا سامان لے گیا تھا۔غزنوی نے اپنا اور ایمان کا سوٹ کیس بھی گاڑی میں رکھوا دیا تھا۔
“رشیدہ تم بالکل پریشان مت ہو۔غزنوی کہہ رہے تھے کہ رضا صاحب کی فیملی بہت اچھی ہے۔تمھیں یہاں کوئی مسئلہ نہیں ہو گا۔”
ایمان نے رشیدہ کا پریشان اور اُترا ہوا چہرہ دیکھ کر اسے تسلی دی۔
“پر باجی آپ مجھے بہت یاد آئیں گی۔پتہ نہیں وہ لوگ میرا کام پسند کریں گے بھی یا نہیں۔”
رشیدہ کی پریشانی اسکے تسلی دینے کے باوجود جوں کی تُوں تھی۔
“ایسا کچھ نہیں ہو گا اور پھر تم تو بہت اچھے سے سب سنبھال لیتی ہو، انہیں تمھارا کام ضرور پسند آئے گا اور ویسے بھی وہ کوئی اتنی بڑی فیملی نہیں ہے۔دو میاں بیوی، ایک بوڑھی ماں اور تین بچے۔۔۔کتنی چہل پہل ہو گی۔تمھارا دل لگ جائے گا۔”
ایمان نے اسے ساتھ لگایا۔
“اللہ کرے ایسا ہی ہو۔”
رشیدہ نے کہا۔
“ایسا ہی ہو گا، اچھا دیکھو بُوا ابھی یہیں ہیں۔تم ان سے ملنے جاتی رہنا۔”
ایمان اسے خیرن بوا کا خیال رکھنے کی ہدایت کرتی باہر آ گئی۔غزنوی ابھی کچھ لمحے پہلے اسے چلنے کا اشارہ کرتا وہاں سے نکل کر باہر گیا تھا۔
“آپ بھی اپنا خیال رکھنا۔”
رشیدہ اسکے ساتھ باہر تک آئی۔
“تم بھی۔۔۔اللہ حافظ۔۔!”
ایمان اس سے معانقہ کرتی گاڑی میں آ بیٹھی۔اسکے بیٹھتے ہی غزنوی نے گاڑی اسٹارٹ کی۔
“وہ لفافہ رشیدہ کو دے دیا تم نے؟”
گاڑی مین روڈ پہ ڈالتے ہوئے غزنوی نے اسکی طرف دیکھا۔
“جی۔۔”
وہ مختصرا جواب دیتی تیزی سے گزرتے منظر میں کھو۔اسے صحیح معنوں میں یہاں سے جانے کا دکھ ہو رہا تھا۔اس گھر سے اسکی بہت سی اچھی بری یادیں وابستہ تھیں۔اسے اندازہ نہیں تھا کہ وہ اس گھر کے لئے اتنی اداس ہو سکتی ہے۔
“کیا بات ہے؟”
غزنوی نے اسکی اداس سی خاموشی کو محسوس کرتے ہوئے پوچھا۔
“کچھ نہیں۔”
ایمان نے اسکی طرف دیکھا۔
“لیکن تم اداس لگ رہی ہو۔”
غزنوی نے مزید کہا۔
“رشیدہ کے لئے اچھا نہیں لگ رہا۔۔”
اس نے اپنی اداسی کو کسی اور پیراہن میں ڈھالا۔
“فکر کی کوئی بات نہیں۔۔سہیل صاحب بہت ملنسار اور سلجھی طبیعت کے مالک ہیں اور میں ان کی فیملی سے بھی مل چکا ہوں، بہت اچھے لوگ ہیں اور سہیل صاحب نے مجھ سے کہا ہے کہ وہ ان کو کام سے نہیں نکالیں گے۔ہاں گل خان گاوں جانا چاہتا ہے۔حویلی میں اسکی ضرورت ہے۔وہ وہاں کام کرے گا۔”
غزنوی نے اسکی پریشانی دور کرنے کی کوشش کی تو ایمان سر سیٹ کی پشت سے ٹکائی اور نظریں دور افق پہ پھیلتے خوبصورت رنگوں پہ جما دیں۔شام کے سائے پھیلنے لگے تھے۔
گاڑی تیزی رفتاری سے اپنی منزل کی طرف بڑھ رہی تھی۔
“ایمان۔۔۔!”
غزنوی کے پکارنے پر ایمان نے آسمان سے نظریں ہٹا کر اسکی طرف دیکھا۔
“گل خان تمھارا گاوں والا گھر خریدنا چاہتا ہے۔وہ خود تم سے بات کرنا چاہتا تھا مگر ہچکچاہٹ کا شکار تھا کہ کہیں تمھیں برا نہ لگے۔آتے ہوئے اس نے مجھے پھر سے یاد دلایا ہے کہ میں اس بارے میں تم سے بات کروں۔”
غزنوی نے یاد آنے پر کہا۔
“مجھے نہیں بیچنا اس گھر کو، وہاں اماں کی اور میرے بچپن کی یادیں ہیں۔میں کیسے ان یادوں کو بیچ سکتی ہوں۔ہاں اگر وہ وہاں رہنا چاہتے ہیں تو رہ سکتے ہیں۔چابی وہاں حویلی میں ہی ہے شفیقہ کے پاس۔”
ایمان نے گھر بیچنے سے انکار کیا۔
“میں نے بھی کہا تھا مگر وہ۔۔۔”
“میں نہیں بیچنا چاہتی۔”
ایمان اسکے بات مکمل کرنے سے پہلے ہی بول پڑی۔
“ٹھیک ہے جیسی تمھاری مرضی۔”
ایمان کے دو ٹوک انکار پہ غزنوی نے مزید کچھ نہ کہا اور اپنی توجہ ڈرائیونگ کی طرف مرکوز کر دی۔
_______________________________________
جب وہ گھر پہنچے تو رات کے ساڑھے آٹھ بج رہے تھے۔غزنوی تو سب سے مل کر اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا تھا جبکہ باقی سب کے ساتھ لاؤنج میں ہی تھی۔عنادل اور ارفع کے علاوہ سبھی موجود تھے۔
“جاو بیٹا آرام کرو۔۔”
عقیلہ بیگم نے ایمان کے تھکن زدہ چہرے کو دیکھتے ہوئے کہا۔وہ بھی تھک گئی تھی اس لئے کمرے میں آ گئی۔غزنوی آنکھوں پہ بازو رکھے لیٹا ہوا تھا۔ایمان واش روم کی طرف بڑھ گئی۔کچھ دیر بعد وہ فریش ہو کر باہر آئی تو غزنوی دونوں ہاتھوں کی انگلیوں سے اپنی کنپٹی کو دبا رہا تھا۔
“میں دبا دوں سر؟”
ایمان نے بیڈ پہ بیٹھتے ہوئے پوچھا اور پھر اسکے ہاں یا ناں کہنے سے پہلے وہ اسکے قریب کھسک آئی اور اسکی گرم پیشانی پہ ہاتھ رکھا اور ہلکے ہاتھوں سے دبانے لگی۔غزنوی نے آنکھیں کھول کر اسکی طرف دیکھا اور پھر آنکھیں موند لیں۔غزنوی نے اسکے ہاتھوں پہ اپنا ہاتھ رکھ کر دباؤ بڑھایا۔ایمان کے ہاتھوں کی نرماہٹ اور ٹھنڈک اسے اپنے خون میں رچتی محسوس ہوئی۔غیر ارادی طور پر غزنوی نے اسکی گود میں سر رکھ دیا۔ایمان کا ہاتھ تھم گیا۔
جاری ہے۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *