Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj NovelR50730 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode05
No Download Link
634K
18
Rate this Novel
Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode01 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode02 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode03 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode04 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode05 (Watching)Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode06 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode07 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode08 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode09 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode10 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode11 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode12 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode13 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode14 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode15 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode16 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode17 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Last Episode
Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode05
Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode05
وہ کمرے میں آئی تو غزنوی موبائل ہاتھ میں لئے بیڈ پہ نیم دراز تھا۔اس نے بنا آہٹ پیدا کیے دروازہ بند کیا۔غزنوی نے ایک لمحے کو موبائل سے نظر ہٹا کر اسکی جانب دیکھا اور پھر واپس اپنے کام میں مصروف ہو گیا۔ایمان نے اسکے چہرے پہ بیتے لمحے کی جھلک ڈھونڈنے کی کوشش کی مگر وہاں ہمیشہ کی طرح اسکا چہرہ سپاٹ تھا۔۔وہ بھی سر جھٹک کر خاموشی سے صوفے کی طرف بڑھ گئی۔صوفے پہ بیٹھ کر اس نے پیروں کو سینڈلز کی قید سے آزاد کیا۔کچھ دیر دونوں ہاتھوں سے پیروں کو دباتی رہی۔۔ہیلز کبھی پہنی نہیں تھیں اس لئے پیر دُکھنے لگے تھے۔
“یہ لائٹ آف کر دو۔۔”
غزنوی نے موبائل سائیڈ ٹیبل پر رکھا اور لیٹتے ہوئے قدرے بلند آواز میں اس سے کہا۔۔ایمان کے ہاتھ تھم گئے۔۔اسکا جی چاہا اسکی بات کو اگنور کرے اور وہیں بیٹھی رہی مگر وہ الماری کی طرف بڑھ گئی۔اپنے کپڑے لئے اور واش روم میں گھس گئی۔کچھ دیر بعد وہ واش روم سے نکلی تو کمرے میں گھپ اندھیرا تھا۔اس کے واش روم جانے کے بعد غزنوی نے اٹھ کر لائٹ آف کر دی تھی۔ایمان اندھیرے میں اندازے سے چلتی صوفے تک آئی تھی۔
کشن پہ سر رکھتے ہی ایک بار پھر سے وہ منظر اسکی آنکھوں کے آگے گھوم گیا۔وہ اٹھ بیٹھی۔۔۔اسے کمیل کا ہمدردی بھری نگاہوں سے اپنی جانب دیکھنا یاد آیا۔غصے کی ایک شدید لہر اس کے اندر اٹھی۔وہ تیزی سے صوفے سے اتری اور لائٹ آن کی۔ٹیوب لائٹ آن ہوتے ہی وہ پورا کمرہ روشنی سے بھر گیا۔غزنوی ابھی سویا نہیں تھا۔۔اس نے فوراً آنکھیں کھولیں۔
“اب اس وقت کیا پرابلم ہے۔”
اس نے ایمان کو سوئچ بورڈ کے پاس کھڑے دیکھا تو اٹھ بیٹھا اور غصیلے لہجے میں اس سے استفسار کیا۔وہ کچھ نہیں بولی بس یونہی کھڑی سنجیدہ نظروں سے غزنوی کو دیکھتی رہی۔۔اس کے چہرے اور آنکھوں کی سنجیدگی نے غزنوی کو حیران کیا۔
“ایمان لائٹ آف کرو۔۔۔مجھے نیند آ رہی ہے۔”
اس بار وہ قدرے نرم آواز میں بولا تھا۔وہ دھیرے دھیرے قدم اٹھاتی بیڈ کے قریب آئی تھی۔
“میری آپ سے ایک ریکوئسٹ ہے کہ آپ کو مجھ سے جو بھی پرابلم ہے یا مجھ پہ غصہ ہے تو اپنا ارمان یہیں اس کمرے میں پورا کر لیا کریں۔۔کسی کے بھی سامنے میری توہین کرنا۔۔۔اس کی اجازت میں قطعی آپکو نہیں دوں گی۔اگر آئیندہ آپ نے ایسا کیا تو۔۔۔۔۔۔”
ایمان کی آواز دھیمی مگر لہجہ سختی لیے ہوئے تھا۔
“تو۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟”
اپنی حیرانگی کو بالائے طاق رکھتا غزنوی بیڈ سے اتر کر اسکے سامنے آ کھڑا ہوا۔اسکی نظریں ایمان کے چہرے پہ گڑیں ہوئیں تھیں۔
“تو۔۔۔۔میں۔۔۔”
ایمان کو لگا کہ اب وہ مزید نہیں بول پائے گی جبکہ وہ اسکے جواب کا منتظر اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑا تھا۔
“اگر میں ابھی پیچھے ہٹ گئی تو یہ یونہی مجھ پہ شیر ہوتا رہے گا۔اب مجھے بھی اِسے بتانا ہے کہ مجھے بھی اِسکے ہونے نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔”
“تو میں آپ کو معاف نہیں کروں گی۔”
وہ پلٹی اور غصیلے انداز میں چلتی صوفے تک آئی۔غزنوی کی حیرانی سَوا ہوئی تھی اور وہ غصے سے اسکی جانب دیکھتا، تیزی سے اسکے پاس آیا۔
“تمھاری ہمت کیسے ہوئی مجھ سے ایسے بات کرنے کی۔۔تم ہوتی کون ہو۔۔۔؟”
غزنوی نے اسے بازو سے پکڑ کر اپنے سامنے کھڑا کیا۔ایمان نے جھٹکے سے اپنا بازو اسکی گرفت سے آزاد کیا۔
“لائٹ آف کریں۔۔۔مجھے نیند آ رہی ہے۔”
وہ غصے سے اسکے الفاظ اسی کو لوٹاتی رُخ پھیر کر لیٹ گئی۔غزنوی دونوں ہاتھ کمر پہ رکھ کر کچھ دیر وہیں کھڑا حیرانگی کے سمندر میں غوطے کھاتا رہا۔پھر مزید بات کو بڑھائے بغیر لائٹ آف کی اور بیڈ پہ آ گیا۔تکیے پہ سر رکھ کر اس نے آنکھیں بند کیں تو ایمان کا سجا سنورا چہرہ نگاہوں کے پردے پہ چھا گیا۔نجانے کیوں اس کے لب مسکرا دئیے۔نیند آنکھوں سے کوسوں دور جا کھڑی ہوئی اور ایمان کا ایک ایک روپ بند آنکھوں کے سامنے کسی فلم کی صورت چلنے لگا۔کچھ دیر پہلے والا غصہ بھی کہیں دور جا سویا تھا تو محبت اسکے سامنے کھلکھلا کر ہنس دی۔
اگلے دن جب وہ سو کر اٹھا تو ایمان کمرے میں نہیں تھی۔آج ولیمہ تھا۔تمام انتظامات دیکھنے تھے۔وہ جلدی سے فریش ہو کر نیچے آیا۔
“السلام علیکم۔۔!”
برنر کے پاس کھڑی شمائلہ بیگم کو سلام کرتا وہ کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا۔
“امی ناشتہ۔۔۔۔”
غزنوی نے جگ سے گلاس میں پانی انڈیلا۔شمائلہ بیگم جو اسی کے لئے ناشتہ بنا رہی تھیں۔انھوں نے جلدی سے اس کے لئے ڈائننگ ٹیبل پہ ناشتہ چن دیا۔
“آج تمھارا ولیمہ ہے۔”
شمائلہ بیگم نے چائے کا کپ اسکے سامنے رکھا۔
“جی جانتا ہوں۔۔کمیل اٹھ گیا یا ابھی تک سویا ہوا ہے۔”
اس سے پہلے کہ شمائلہ بیگم مزید اس بارے میں بات کرتیں، اس نے جلدی ٹاپک چینج کیا۔
“اس نے تو کب کا ناشتہ کر لیا ہے۔۔جلدی اٹھ گیا تھا۔۔اب تمھارے دادا کے ساتھ ان کے کمرے میں ہے۔”
شمائلہ بیگم بھی کرسی کھینچ کر بیٹھ گئیں اور دھیرے دھیرے چائے کی چسکیاں لینے لگیں۔غزنوی بھی خاموشی سے ناشتہ کرنے لگا۔
“امی۔۔۔وہ شاہ گل۔۔۔۔”
وہ دونوں خاموشی سے ناشتہ کرنے میں مگن تھے کہ ایمان کچن میں داخل ہوئی اور غزنوی کو شمائلہ بیگم کے ساتھ کچن میں بیٹھے دیکھ کر وہ وہیں رک گئی۔غزنوی اور شمائلہ بیگم نے بیک وقت اسکی جانب دیکھا۔بلیک کلر کے سمپل سے ڈریس پہ ریڈ کلر کا ڈوپٹہ اچھی طرح سے اوڑھ رکھا تھا۔۔دھلا دھلایا شفاف چہرہ ایک انجانی سی چمک لئے ہوئے تھا۔غزنوی نے اسکے چہرے سے بمشکل نظریں ہٹائیں اور ناشتے میں مشغول ہو گیا۔
“ہاں بولو بیٹا۔۔۔”
شمائلہ بیگم نے چائے کا کپ ٹیبل پہ رکھتے ہوئے ایمان سے پوچھا۔
“وہ شاہ گل آپ کو بلا رہی تھیں۔”
یہ کہہ کر وہ پلٹ کر جانے لگی تھی کہ شمائلہ بیگم کی پکار پہ رکی۔
“ایمان۔۔۔۔!! بیٹا تم بھی آ جاؤ۔۔۔۔غزنوی کے ساتھ ہی ناشتہ کر لو۔۔۔تم بھی صبح سے کاموں میں لگی ہوئی ہو اور وہ بھی بناء ناشتہ کیے۔۔میں ناشتہ بنا رکھا ہے تمھارے لئے۔۔”
ایمان نے غزنوی کی جانب دیکھا جو ناشتے میں یوں مگن تھا جیسے اسکے علاؤہ وہاں کوئی اور موجود نہ ہو۔
“میں نے چائے پی لی تھی شاہ گل کے ساتھ۔۔۔اور ابھی بھوک بھی نہیں ہے۔”
وہ قطعی لہجے میں بولی۔۔غزنوی اس کے انداز سے اسکا موڈ بھانپ گیا تھا۔اس نے ایک نظر اس پہ ڈالی تو وہ پلٹ کر جانے لگی۔یوں جیسے کہہ رہی ہو مجھے بھی تمھاری پرواہ نہیں ہے
اگلے دن جب وہ سو کر اٹھا تو ایمان کمرے میں نہیں تھی۔آج ولیمہ تھا۔تمام انتظامات دیکھنے تھے۔وہ جلدی سے فریش ہو کر نیچے آیا۔
“السلام علیکم۔۔!”
برنر کے پاس کھڑی شمائلہ بیگم کو سلام کرتا وہ کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا۔
“امی ناشتہ۔۔۔۔”
غزنوی نے جگ سے گلاس میں پانی انڈیلا۔شمائلہ بیگم جو اسی کے لئے ناشتہ بنا رہی تھیں۔انھوں نے جلدی سے اس کے لئے ڈائننگ ٹیبل پہ ناشتہ چن دیا۔
“آج تمھارا ولیمہ ہے۔”
شمائلہ بیگم نے چائے کا کپ اسکے سامنے رکھا۔
“جی جانتا ہوں۔۔کمیل اٹھ گیا یا ابھی تک سویا ہوا ہے۔”
اس سے پہلے کہ شمائلہ بیگم مزید اس بارے میں بات کرتیں، اس نے جلدی ٹاپک چینج کیا۔
“اس نے تو کب کا ناشتہ کر لیا ہے۔۔جلدی اٹھ گیا تھا۔۔اب تمھارے دادا کے ساتھ ان کے کمرے میں ہے۔”
شمائلہ بیگم بھی کرسی کھینچ کر بیٹھ گئیں اور دھیرے دھیرے چائے کی چسکیاں لینے لگیں۔غزنوی بھی خاموشی سے ناشتہ کرنے لگا۔
“امی۔۔۔وہ شاہ گل۔۔۔۔”
وہ دونوں خاموشی سے ناشتہ کرنے میں مگن تھے کہ ایمان کچن میں داخل ہوئی اور غزنوی کو شمائلہ بیگم کے ساتھ کچن میں بیٹھے دیکھ کر وہ وہیں رک گئی۔غزنوی اور شمائلہ بیگم نے بیک وقت اسکی جانب دیکھا۔بلیک کلر کے سمپل سے ڈریس پہ ریڈ کلر کا ڈوپٹہ اچھی طرح سے اوڑھ رکھا تھا۔۔دھلا دھلایا شفاف چہرہ ایک انجانی سی چمک لئے ہوئے تھا۔غزنوی نے اسکے چہرے سے بمشکل نظریں ہٹائیں اور ناشتے میں مشغول ہو گیا۔
“ہاں بولو بیٹا۔۔۔”
شمائلہ بیگم نے چائے کا کپ ٹیبل پہ رکھتے ہوئے ایمان سے پوچھا۔
“وہ شاہ گل آپ کو بلا رہی تھیں۔”
یہ کہہ کر وہ پلٹ کر جانے لگی تھی کہ شمائلہ بیگم کی پکار پہ رکی۔
“ایمان۔۔۔۔!! بیٹا تم بھی آ جاؤ۔۔۔۔غزنوی کے ساتھ ہی ناشتہ کر لو۔۔۔تم بھی صبح سے کاموں میں لگی ہوئی ہو اور وہ بھی بناء ناشتہ کیے۔۔میں ناشتہ بنا رکھا ہے تمھارے لئے۔۔”
ایمان نے غزنوی کی جانب دیکھا جو ناشتے میں یوں مگن تھا جیسے اسکے علاؤہ وہاں کوئی اور موجود نہ ہو۔
“میں نے چائے پی لی تھی شاہ گل کے ساتھ۔۔۔اور ابھی بھوک بھی نہیں ہے۔”
وہ قطعی لہجے میں بولی۔۔غزنوی اس کے انداز سے اسکا موڈ بھانپ گیا تھا۔اس نے ایک نظر اس پہ ڈالی تو وہ پلٹ کر جانے لگی۔یوں جیسے کہہ رہی ہو مجھے بھی تمھاری پرواہ نہیں ہے۔
ولیمے کے فنکشن کا انتظام بھی لان میں ہی کیا جانا تھا۔فنکشن چونکہ رات کو تھا اس لئے آہستہ آہستہ سب تیاریوں میں مگن تھے۔وہ سب بھی اس وقت ایک ہی روم میں اکٹھی بیٹھی گپ شپ میں مصروف تھیں۔ایمان بھی ان کے ساتھ ہی تھی لیکن تھوڑی دیر پہلے شگفتہ نے اسے شمائلہ بیگم کا پیغام دیا تو وہ اٹھ کر شمائلہ بیگم کے روم میں آ گئی۔آج چونکہ ایمان اور غزنوی کا بھی ولیمہ تھا اس لئے شمائلہ بیگم نے ایمان کو اپنے روم میں بلوایا تھا۔انھوں نے اس کے لئے ولیمے کی مناسبت سے ڈریس لے رکھا تھا جو ابھی تک انھوں نے اسے دیا نہیں تھا۔وہ کمرے میں آئی تو وہ اسی کا انتظار کر رہی تھیں۔وہ اندر آئی تو انھوں نے اسے اپنے پاس بلایا۔وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی ان کے پاس آ کر بیٹھ گئی۔اس وقت وہ روم میں اکیلی تھیں۔انھوں نے ڈریس اسکے سامنے رکھا تو وہ گم سُم انداز میں اس عروسی جوڑے کو دیکھنے لگی۔
“ایمان۔۔بیٹا کیا سوچ رہی ہو۔۔؟ کیسا ہے؟”
شمائلہ بیگم نے اس کے سامنے پستئ رنگ کی بے حد خوبصورت میکسی کو پھیلا رکھا تھا۔اس نے چونک کر انھیں دیکھا تو شمائلہ بیگم نے آنکھوں کے اشارے سے اسے متوجہ کیا۔جوڑے کی دمک آنکھوں کو خیرا کیے دے رہی تھی۔
“بہت پیارا ہے۔۔”
وہ آہستگی سے بولی۔
“اچھا یہ لے جاؤ۔۔۔آج تم بھی سحرش اور پرخہ کے ساتھ پالر سے تیار ہو گی۔ان کے ساتھ ہی چلی جانا۔یہ نا ہو کہ ادھر ادھر کے کاموں کو خود کو مصروف کر لو اور بھول جاؤ۔۔بلکہ اب اپنے کمرے میں جا کر آرام کرو۔۔آج تو میری بیٹی کا دن ہے۔”
شمائلہ بیگم نے بہت محبت سے اسکی ٹھوڑی کو چُھو کر اسکا چہرہ اونچا کیا۔
“جاؤ تم جاؤ اپنے روم میں، میں شگفتہ کے ہاتھ بھیجتی ہوں۔”
وہ ڈریس تہہ کرنے لگی تھی کہ شمائلہ ببگم نے اسے روک دیا۔وہ صبح سے اسکا تھکا تھکا سا انداز دیکھ رہی تھیں۔انھوں نے اس کا ذکر عقیلہ بیگم سے بھی کیا تھا مگر انھوں نے یہ کہہ کر انھیں تسلی دی کہ وہ گھبرا رہی ہے اور اپنے والدین کو بھی یاد کر رہی گی اس لئے صبح سے اداس ہے۔
“ایمان۔۔۔۔!!”
اس سے پہلے کہ وہ دروازہ کھول کر باہر نکلتی انھوں نے اسے روکا۔
“جی۔۔!!”
وہ پلٹی۔۔
“کیا بات ہے بیٹا۔۔۔صبح سے تم کچھ بُجھی بُجھی سی لگ رہی ہو۔”
وہ چہرے پہ پریشانی لئے اسے دیکھ رہی تھیں۔
“نہیں تو ایسی کوئی بات نہیں۔۔۔بس بابا کی یاد آ رہی تھی۔”
اسکی آنکھوں میں تیرتے آنسو انھیں بے چین کر گئے تھے۔وہ اٹھ کر اس کے پاس آئیں۔
“یہ شادی کے بھکیڑے ختم ہوں تو میں غزنوی سے کہوں گی کہ تمھیں لے جائے۔ایک دو دن رہ لینا ان کے پاس۔”
انھوں نے اس کے آنسو پونچھتے ہوئے کہا۔ایمان بھیگی آنکھوں سے مسکرا دی۔شمائلہ بیگم کو وہ بہت عزیز ہو گئی تھی۔اسکی خاموشی انھیں کَھلتی تھی اور وہ یہ بھی جانتی تھیں کہ غزنوی کا رویہ اس کے ساتھ ٹھیک نہیں ہے جسکی وجہ سے وہ اس قدر خاموش ہوتی جا رہی ہے۔ایمان کے جانے کے بعد وہ سوچ رہیں تھیں کہ ایمان کو غزنوی کے ساتھ بھیجیں گی تاکہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ کچھ وقت گزاریں اور ایک دوسرے کو سمجھیں۔وہ انھیں اسطرح نہیں رہنے دے سکتیں تھیں اور نہ ہی ساری زندگی اسطرح گزاری جا سکتی ہے۔انھیں کچھ نہ کچھ تو کرنا ہی ہو گا۔
ایمان پالر سے آ چکی تھی۔اسے شمائلہ بیگم نے اس کے کمرے میں چھوڑ گئیں تھیں تاکہ کچھ دیر وہ ریسٹ کر لے۔وہ دروازہ لاکڈ کر کے آئینے کے سامنے آ کھڑی ہوئی تھی۔پستئی رنگ میں اسکی چھب ہی نرالی تھی۔اسے یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ آئینے میں دکھتا یہ وجود اسکا ہے۔
“میری بیٹی جب دلہن بنے گی تو اتنی پیاری لگے گی کہ سارا گاؤں دیکھتا رہ جائے گا۔”
دلہن کے روپ میں خود کو دیکھ کر اسے اپنی ماں کے کہے جملے یاد آ گئے تھے۔
“جی نہیں میری گڑیا زیادہ پیاری لگ رہی ہے۔”
وہ اپنی دلہن بنی گڑیا اپنی ماں کی آنکھوں کے سامنے لہرا کر نہایت نروٹھے انداز میں بولی تھی۔اس کی بات سن کر اسکی ماں کے چہرے پہ مسکراہٹ چھا گئی تھی۔
“یہ بھی پیاری لگ رہی ہے لیکن میری گڑیا جب دلہن بنے گی تو اس سے بھی پیاری لگے گی۔اسکی آنکھوں میں چمکتے خواب ہونگے۔”
انھوں نے اسکے نرم پُھولے پُھولے گالوں کو چُومتے ہوئے کہا تھا۔
“لیکن اماں۔۔۔آپ کی گڑیا کہاں ہے؟”
اس نے معصومیت سے آنکھیں پٹپٹاتے ہوئے ماں سے پوچھا تھا۔
“میری گڑیا، میری آنکھوں کے سامنے ہے۔”
انھوں نے نہایت محبت سے اسکے بال سنوارے تھے۔
“کاش اماں آج آپ میرے پاس ہوتیں تو دیکھتیں کہ آج آپکی بیٹی دلہن تو بن گئی ہے مگر اس کی آنکھوں کے چمکتے خواب اپنی چمک کھو چکے ہیں۔اسکے چہرے پہ سجے رنگوں میں حقیقت کی روشنی مفقود ہے۔”
اس نے آنکھوں میں پھیلتی نمی کو پیچھے دھکیلا۔یہ رنگ اور یہ روپ، یہ دلکش انداز اسے کوئی خوشی نہیں دے رہے تھے۔وہ آئینے سے نظر ہٹاتی صوفے کی جانب آئی تھی۔ماں کی یاد نے اسے مزید غمگین کیا تھا اور باپ سے ملنے کے لئے دل مچلنے لگا تھا۔وہ ایک گہری سانس خارج کرتی بیٹھ گئی۔وہ شادی ختم ہونے کے فوراً بعد داجی سے کہے گی کہ اسے کچھ دنوں کے لئے گاؤں بھیج دیں۔وہ صوفے کی پشت سے ٹیک لگا کر آنکھیں موند گئی۔اسی دوران دروازے پہ دستک ہوئی۔اس نے آنکھیں کھول کر بند دروازے کو دیکھا۔کسی نے ناب کو گھمایا مگر دروازہ اندر سے لاکڈ تھا اس لئے ایک بار پھر دستک دی گئی۔
“کون۔۔۔؟”
اس نے وہیں بیٹھے بیٹھے بلند آواز میں پوچھا۔
“دروازہ کھولیے ملکہ عالیہ۔۔۔!!”
غزنوی کی شیرینی میں لپٹی آواز آئی۔وہ گھبرا کر اٹھ کھڑی ہوئی۔۔لیکن دروازے کیطرف بڑھنے کی ہمت نہ ہوئی۔۔یہ مٹھاس اسے ہضم نہیں ہوئی تھی۔۔اس کے ذہہن میں غزنوی کے الفاظ گردش کر رہے تھے۔
“آج کی تاریخ میں یہ دروازہ کھل جائے گا یا نہیں۔۔؟؟”
غزنوی کی آواز ایک بار پھر اسکے کانوں سے ٹکرائی تھی۔اب کے لہجے میں سنجیدگی نمایاں تھی۔ایمان نے آگے بڑھ کر دروازہ کھول دیا۔
“بہت شکریہ ملکہ عا۔۔۔۔۔”
ایمان کو دیکھ کر باقی کے الفاظ اسکے منہ میں ہی رہ گئے۔ایمان اسے خود کو یوں گھورتے دیکھ کر فوراً صوفے کی طرف بڑھ گئی۔
“جادوگرنی۔۔۔۔”
وہ منہ ہی منہ میں بڑبڑاتا اس سے کترا کر الماری کی جانب بڑھ گیا۔
“اب اِسکی جانب نہیں دیکھنا غزنوی احمد۔۔۔۔جادوگرنی ہے یہ۔۔”
وہ الماری کے پٹ کھولے اپنی مطلوبہ چیز دریافت کرنے لگا مگر وہ بھول گیا تھا کہ وہ کیا لینے آیا تھا۔چیزوں کو اُلٹ پُلٹ کرتے اسے خود پہ غصہ آنے لگا تھا۔
“کیا ڈھونڈ رہے ہیں؟”
وہ پیچھے کھڑی اس سے پوچھ رہی تھی۔۔غزنوی اپنے عقب سے خوشبوؤں کا ریلا خود پہ چھاتا محسوس ہوا۔وہ فورا سیدھا ہوا۔
پیچھے ہٹو۔۔۔”
غزنوی نے بھڑک کر غصے سے اسکی جانب دیکھا۔وہ فورا پیچھے ہٹی۔۔
“میں تو آپکی مدد کے لئے آئی تھی۔”
ایمان کے لہجے سے واضح تھا کہ اسے غزنوی کا انداز پسند نہیں آیا تھا۔وہ پلٹ کر جانے لگی۔پلٹ کر جاتے ہوئے ایمان کی نظر بیڈ کی سائیڈ ٹیبل پہ پڑے موبائل پر پڑی۔اس نے غزنوی کی جانب دیکھا جو دراز کھولے اس میں کچھ ٹٹول رہا تھا۔وہ فون کی طرف بڑھی۔اس نے خاموشی سے فون اٹھایا اور میکسی سنبھالتی واپس غزنوی کے پاس آئی۔
“یہ رہا آپ کا فون۔۔۔”
وہ قدرے بلند آواز میں بولی اور موبائل اسکی طرف بڑھایا۔دراز میں کچھ ڈھونڈتے غزنوی کے ہاتھ تھم گئے اور اسے یاد آیا کہ وہ روم میں موبائل لینے کی غرض سے آیا تھا۔یہ خیال آتے ہی اسکا خود پہ مزید غصہ بڑھنے لگایا۔یعنی اس پہ ایمان کا وجود اس قدر اثرانداز ہو رہا تھا کہ وہ جو چیز لینے آیا تھا وہی اسکے دماغ سے ہی نکل گئی تھی اور پھر اوپر سے بہت یاد کرنے پر بھی اسے یاد نہیں آ رہا تھا کہ وہ روم میں کیا لینے آیا تھا۔اس نے اتنی تیز آواز کے ساتھ الماری کے پٹ بند کیے کہ وہ بدک کر پیچھے ہٹی۔اس نے کچھ لمحے تو غصیلی نظروں سے ایمان کو دیکھا اور پھر جھپٹ کر موبائل اس کے ہاتھ سے کھینچ لیا۔
“میری چیزوں کو ہاتھ مت لگایا کرو۔۔”
وہ بہت ہی بدتمیزی سے کہتا کمرے سے نکل گیا جبکہ وہ حیران پریشان کھڑی اسکے اتنے غصے میں آ جانے کا سبب سوچ رہی تھی۔روم میں آنے سے پہلے تو اسکے لہجے میں غصے کا شائبہ تک نہ تھا۔پھر اچانک ایسا کیا ہوا۔۔۔
اب تو اسے غزنوی کے رویے سے چڑ ہونے لگی تھی۔وہ مسلسل اسکی عزت نفس پہ کچوکے لگا رہا تھا۔اب وہ سوچ رہی تھی کہ ایک بار گاوں چلی جائے تو واپس نہیں آئے گی۔وہ وہیں بیڈ پہ بیٹھ گئی۔تھوڑی دیر بعد شمائلہ بیگم اسے لینے آ گئیں تھیں۔کمرے سے لان تک کے راستے میں انھوں نے اسے بتایا کہ تمام مہمان بڑی شدت سے اسکے منتظر ہیں۔جب وہ لان کی انٹرنس پہ پہنچی، جسے پھولوں سے سجایا گیا تھا۔۔ وہ سبھی اس کی طرف دوڑی آئیں۔
“تم لوگ بھابھی کو لے کر آؤ۔۔”
وہ اسے ان کے حوالے کر کے خود عقیلہ بیگم کی طرف بڑھ گئیں۔وہ سبھی اسکے اطراف ہو گئیں۔ایمان ان کی سنگت میں اسٹیج کی جانب قدم بڑھائے۔سبھی مہمانوں کی ستائش بھری نظریں اس پہ ٹکی ہوئی تھیں۔ملائکہ اور لاریب کی مدد سے وہ اسٹیج پہ آ گئی۔پرخہ اور سحرش پہلے ہی سے اسٹیج پہ موجود تھیں۔اسکی آمد پر دونوں مسکراتے چہروں کے ساتھ اس کے استقبال کے لئے اٹھ کھڑی ہوئیں۔انھوں نے اسے پرخہ اور سحرش کے ساتھ بٹھا دیا۔اپنے ہاتھوں کی لرزش اور دل کی بےترتیب دھڑکنیں اسے نروس کیے دے رہی تھیں۔جیسے ہی وہ بیٹھی ہر طرف سے کیمرے کے فلیش چمکنے لگے۔ایک ہی نقطے پہ نگاہیں یوں رکی ہوئیں تھیں جیسے اٹھنا بھول گئی ہوں۔
“ایمان۔۔!! ماشاءاللہ بہت پیاری لگ رہی ہو۔”
لاریب نے اسکی جانب جھکتے ہوئے دھیرے سے کہا۔وہ سب بھی اسکی تعریف میں رطب اللسان تھیں جبکہ وہ سر جھکائے ان کی باتوں پر مسکرا دیتی۔خاندان کی خواتین اس سے ملنے اسٹیج پر آنے لگیں تو وہ ساری اسٹیج سے اتر کر پہلی نشستوں پہ بیٹھ گئیں۔خاندان کی ساری خواتین اس سے بہت محبت و اپنائیت سے ملیں۔تھوڑی دیر بعد فوٹوگرافی کا دور شروع ہو گیا۔اسی دوران مصطفیٰ، ہادی اور غزنوی بھی اپنے دوست احباب اور اعظم احمد کے ہمراہ اسٹیج کی جانب آئے۔تینوں جوڑیاں سبھی کی توجہ کا مرکز تھیں۔اعظم احمد اور عقیلہ بیگم محبت بھری نگاہوں سے اپنے بچوں کو دیکھ رہے تھے۔
“اوئے۔۔آؤ ہم سب بھی پیچھے کھڑے ہوتے ہیں۔۔کچھ پکچرز بنوا لیں۔”
عنادل نے ان سب سے کہا تو وہ سب اس کا آئیڈیاء سن کر ہنستے ہوئے اس کے ساتھ اسٹیج پہ چڑھ گئیں۔
“اوئے اوئے۔۔۔چلو اترو۔۔۔ہماری باری ہے۔۔”
انھوں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو طہ، مرتضیٰ، احد اور فروز کھڑے تھے۔مرتضی اور احد تو باقاعدہ تیوری چڑھائے انھیں دیکھ رہے تھے۔
“کیوں جی۔۔۔۔پہلے ہماری باری۔۔۔۔”
ارفع ناک پُھلاتی پیچھے جا کھڑی ہوئی۔
“یہ ناانصافی ہے۔۔۔۔تم چڑیلیں اس وقت سے بیچارے فوٹوگرافر کو گھیرے ہوئیں تھیں۔نقلی بیوٹی دیکھو ان کی۔”
فروز نے آنکھیں گھما گھما کر کہا۔
“ہاں تو۔۔۔۔تمھیں کیا تکلیف ہے۔۔۔۔؟؟”
ملائکہ بھی میدان میں اتر آئی۔
“بُری بات فروز۔۔۔۔اتنی پیاری تو لگ رہیں ہیں سب۔۔۔”
احد کی نظریں سبھی پر سے ہوتی ہوئیں صوفے کے پیچھے کھڑی ارفع پہ ٹھہر گئیں۔جبکہ وہ تو لاپروائی سے پوز بنا بنا کر تصویریں بنوا رہی تھی۔وہ مسکرا دیا۔
“ہمیں ایک دو پکچرز بنوانے دو پھر تم لوگ چاہو تو ساری رات اس فوٹو سیشن کو جاری رکھنا۔۔۔چلو چلو ایک طرف ہو جاؤ شاباش۔۔۔۔”
مرتضیٰ نے ان سبھی کو یوں پیچھے ہونے کو کہا جیسے وہ ساری بکریاں ہوں اور وہ خود چرواہا۔اسٹیج پہ موجود سبھی ان کی اس عزت افزائی پر ہنس رہے تھے۔صرف ایک ایمان تھی جس نے سر اٹھا کر دیکھنے کی ہمت نہیں کی تھی جبکہ پرخہ اور سحرش ان کی باقاعدہ سائیڈ لے رہی تھیں۔بلاآخر وہ سبھی ٹیڑھے ٹیڑھے منہ بناتی بڑے سے اسٹیج کے دائیں جانب کھڑی ہو گئیں۔اچھی خاصی پکچرز بنوانے کے بعد وہ سارے نیچے اترے تھے اور وہ ساری انھیں گھورتی پیچھے جا کھڑیں ہوئیں اور جو پکچرز بنوانی شروع ہوئیں تو پھر رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھیں۔فوٹوگرافر بیچارے کی شامت آئی ہوئی تھی۔کبھی اسے دائیں طرف بلاتیں تو کبھی بائیں جانب۔۔۔وہ بیچارہ گِھن چکر ہو کر رہ گیا تھا۔تھک ہار کر اس نے غزنوی کو اشارہ کیا۔تو اس نے انھیں اسٹیج سے اتارا۔اسطرح فوٹوگرافر کی جان بخشی ہوئی۔۔ورنہ وہ تو مرتضیٰ کے مشورے پر عمل کرنے پر تُلی ہوئیں تھیں۔آخر میں ایک فیملی فوٹو بنائی گئی۔اسکے بعد تینوں دولہا صاحبان اسٹیج سے اتر گئے۔
“ایمان۔۔۔تم ٹھیک ہو۔۔؟”
عائشہ نے گود میں سوتے حذیفہ کو تھپکی دیتے ہوئے کہا۔جو بار بار اتنے شور کے باعث اٹھ جاتا تھا۔
“جی آپی۔۔۔ٹھیک ہوں۔”
ایمان نے اس کی کھوجتی آنکھوں سے نظریں چُرائیں۔
“تو پھر اتنی خاموش کیوں ہو۔۔۔غزنوی کا رویہ تمھارے ساتھ ٹھیک تو ہے نا۔۔؟”
عائشہ نے بلاآخر دل میں کلبلاتا سوال اس سے پوچھ لیا۔
“جی سب ٹھیک ہے۔۔۔اور خاموش اس لئے ہوں کہ میں دلہن ہوں اور دلہن زیادہ بولتی نہیں ہے۔”
ایمان نے اس کے کان کے قریب آ کر کہا۔۔اس کا جواب سن کر عائشہ ہنس دی مگر اب بھی اسکی تسلی نہیں ہوئی تھی۔
“دلہن تو پرخہ اور سحرش بھی ہیں۔۔۔وہ تو دیکھو کیسے چہک رہی ہیں۔۔۔اور تمھارے چہرے پہ سنجیدگی طاری ہے۔”
عائشہ نے اس کے چہرے کو بغور دیکھا۔
“ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔۔۔آپکو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔۔۔بس آج مجھے اماں اور بابا کی بہت یاد آ رہی ہے۔”
اس نے آدھا سچ بیان کیا۔۔۔۔اور واقعی صبح سے اپنے والدین کو یاد کر کے بار بار اسکی آنکھیں بھیگنے لگتی تھیں۔
“ٹھیک کہتی ہو۔۔۔یہ وقت ہی ایسا ہوتا ہے۔۔۔جب والدین کا ساتھ بیٹی کے لئے کسی ڈھال سے کم نہیں ہوتا۔آئی ایم سوری۔۔۔میں نے تمھیں دُکھی کر دیا۔”
عائشہ نے اسکے ہاتھوں پہ ہاتھ رکھا۔
“اِٹس او کے آپی۔۔۔”
وہ لبوں پر مسکراہٹ سجاتے ہوئے بولی۔پتہ نہیں عائشہ اس کے جواب سے مطمئن ہوئی تھی یا نہیں مگر ایمان نے چہرے پہ مسکراہٹ سجا لی تھی تاکہ کوئی دوسرا اسکے اندر چھپے بھید کو نہ پا لے۔۔وہ کیوں کسی کے سامنے اپنا آپ آشکار کرے۔۔یہ اسے قبول نہیں تھا۔اس نے سب کے ہنستے مسکراتے چہروں پہ نظر ڈالی۔۔سبھی ہنسی مذاق اور خوش گپیوں میں مگن تھے۔سبھی کی جانب دیکھتے اسکی نگاہ ایک جگہ آ کر ٹھہر گئی۔عائشہ کی نگاہوں نے بھی اسکی نظروں کا پیچھا کیا۔اس کے چہرے پہ مسکراہٹ چھا گئی۔وہاں غزنوی مصطفیٰ کی کسی بات پہ ہنس رہا تھا۔
عائشہ نے ایمان کے مسکراتے چہرے کو ایک دم تاریک پڑتے دیکھا۔
“ایمان۔۔۔۔تمھارے اور غزنوی کے مابین سب ٹھیک ہے۔۔۔؟؟”
عائشہ نے ایک بار پھر اپنا سوال دہرایا۔
“جی۔۔۔”
مختصر جواب آیا۔۔اب اسکی نظریں اپنے ہاتھوں پر تھیں۔
“مجھے ایسا نہیں لگتا۔۔تمھارے اور غزنوی کے درمیان شادی شدہ جوڑوں جیسی کوئی بات نہیں۔”
عائشہ اسے باور کروانا چاہتی تھی کہ وہ غزنوی اور اسکے رشتے کے بارے میں سب جانتی ہے۔وہ اسکی بات پہ یقین کر لیتی مگر اس نے خود غزنوی نے منہ نکلے الفاظ سنے تھے جن سے صاف ظاہر تھا دونوں کے بیچ نارمل ریلیشن نہیں ہے۔
“امی میں تھک گئی ہوں۔۔اپنے روم میں جانا چاہتی ہوں۔”
شمائلہ بیگم جو اسکے پاس ہی کھڑی پرخہ سے کوئی بات کر رہی تھی۔عائشہ اسکا رویہ دیکھ کر پیچھے ہٹ گئی۔
“اچھا بیٹا۔۔۔عائشہ۔۔!! بیٹا بھابھی کو کمرے میں لے جاؤ۔”
وہ جس کے سوالات سے بچنا چاہ رہی تھی شمائلہ بیگم نے اسی کو اسکے ہمراہ کر دیا تھا۔عائشہ نے حذیفہ کو شمائلہ بیگم کی گود میں دیا اور ایمان کی جانب ہاتھ بڑھایا جسے ایمان نے ایک گہری سانس خارج کرتے ہوئے تھام لیا۔عائشہ اسے سہارا دئیے اسٹیج سے اتری۔لان سے کمرے تک کے راستے میں دونوں کے مابین کوئی بات نہیں ہوئی۔
“یہاں بیڈ پہ آ جاؤ۔۔یہاں ریلیکس رہو گی۔”
کمرے میں داخل ہوتے ہی ایمان کو بیڈ کی بجائے صوفے کی جانب بڑھتا دیکھ کر کہا۔
“نہیں میں فلحال یہیں ٹھیک ہوں۔۔۔پہلے چینج کروں گی۔”
ایمان نے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں سے اپنا سر دباتے ہوئے کہا۔اب وہ اسے کیا بتاتی کہ اس بیڈ سے اسکا ناطہ صرف دور سے دیکھنے تک کا ہے۔
“اچھا ٹھیک ہے۔۔۔تمھارے لئے کچھ کھانے کو بھیجوں۔۔تم نے کھانا بھی نہیں کھایا۔”
عائشہ نے اسے صوفے کی پشت سے ٹیک لگاتے دیکھ کر کہا۔
“نہیں مجھے بھوک نہیں ہے۔”
اس نے انکار کیا۔
ایمان۔۔۔!! اِس کمرے میں اپنا مقام سمجھو۔۔۔یہاں کی ہر چیز تمھاری ہے اور یہاں رہنے والا بھی۔”
عائشہ نے اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھا۔۔۔اسکے الفاظ سن کر ایمان نے مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا۔
“خوش رہا کرو۔۔۔تم ہنستی مسکراتی اچھی لگتی ہو۔۔۔غزنوی کو بہت جلد تمھاری قدر ہو گی۔وہ یقینا دل ہی دل میں تم سے محبت کرتا ہے۔۔بس اپنی بےنام ضد کے ہاتھوں یہ سب کر رہا ہے۔۔سب ٹھیک ہو جائے گا۔تمھاری محبت اسے احساس دلا سکتی ہے مگر اس کے لئے تمھیں قدم بڑھانا پڑے گا۔آئی ایم شیور وہ بھی تم سے محبت کرتا ہے۔”
وہ حوصلہ دیتی نظروں سے ایمان کو دیکھتی دروازے کی سمت بڑھ گئی۔
“آپ کی غلط فہمی ہے آپی کہ وہ مجھ سے محبت کرتے ہیں۔”
وہ عائشہ کے جانے کے بعد استہزائیہ ہنستے ہوئے خود سے بولی تھی۔لان سے ابھی بھی ہلکی پھلکی موسیقی کی آواز آ رہی تھی۔چینج کرنے کو اسکا من نہیں کر رہا تھا۔آنکھوں کی تھکن بڑھ رہی تھی۔اسی تھکن کو ذائل کرنے کے لئے اس نے اپنی نرم پوروں سے بند آنکھوں کو ہلکے ہلکے دبایا۔۔آنکھوں کا بند ہونا تھا کہ غزنوی مسکراتے چہرے کے ساتھ بند آنکھوں کے سامنے آ کھڑا ہوا۔۔۔وہ۔۔۔جس کا نام سنتے ہی اسکے دل کی دھڑکنیں بےترتیب ہونے لگتی تھیں۔بلیک تھری پیس سوٹ پہ بلیک ٹائی لگائے وہ بہت ہینڈسم لگ رہا تھا۔گھنی مونچھوں تلے مسکراتے عنابی لب، گہری بھوری آنکھیں۔۔سلیقے سے بنائے بال۔۔مسکراتا تو بہار کی آمد جیسا لگتا۔۔۔غصے میں ہوتا تو گرجتے بادلوں جیسا۔۔اسکا خیال ایمان کو اندر تک سرشار کر گیا۔اسے کہیں پڑھی ہوئی غزل یاد آئی۔۔۔
“عجیب شخص تھا سب کا خیال رکھتا تھا
مگر مزاج میں جاہ و جلال رکھتا تھا۔۔”
ایمان کے لب گنگنائے۔۔۔
“وہ خوش لباس تھا خوشبو سے پیار تھا اسکو
قباء کی دلکشی بھی بے مثال رکھتا تھا۔۔
کرے جو بات تو دن عُود کر نکل آئے
وہ گفتگو میں کچھ ایسا کمال رکھتا تھا۔۔
اداسیاں بھی جگمگا اٹھیں نگاہوں میں
غضب کی شوخیاں وہ خوش جمال رکھتا تھا۔۔
سکوت و سحر بپا کر دے اک نظر میں ہی
کہ چشم آہ یا چشم غزال رکھتا تھا۔۔۔
نکل پڑا تھا خوشی کی تلاش میں انیس۔۔!!
مگر نگاہ میں رنگ و ملال رکھتا تھا۔۔”
غزنوی کا رنگ اسے خود پہ چڑھتا محسوس ہو رہا تھا۔۔کبھی کبھی اسے یہ خیال بھی ڈسنے لگا کہ اگر غزنوی نے اسے چھوڑ دیا تو وہ کیسے رہے گی اس کے بغیر۔۔۔اسکی آنکھوں میں مرچیں سی لگنے لگیں تو اس نے پَٹ سے آنکھیں کھول دیں۔باہر ابھی بھی محفل سجی ہوئی تھی۔وہ خاموشی سے اٹھ کھڑی ہوئی۔کھڑکی کے قریب آ کر اس نے زرا سا پردہ سرکا کر نیچے دیکھا۔۔اسکی نظر کمیل کے ساتھ کھڑے غزنوی پہ پڑی تو وہ ایک گہری سانس خارج کرتی پردہ گرا کر وارڈروب کی طرف بڑھ گئی۔
گھر آئے مہمان بھی رخصت ہو گئے تھے۔بس صرف بلقیس بیگم اور ان کی بیٹی رقیہ ابھی یہیں تھے۔انھوں نے آج شام تک نکلنا تھا۔خیرن بوا انھیں روکنا چاہ رہی تھیں مگر انھوں نے سہولت سے انکار کر دیا۔خیرن بوا چاہتی تھیں کہ رقیہ رک جائے تو وہ یہیں کہیں اسکے رشتے کی بات چلائیں گی۔۔مگر بلقیس بیگم بیٹی کو خود سے اتنی دور بیاہنے کے حق میں نہیں تھیں۔اس وقت وہ خیرن بوا کے کمرے میں بیٹھی اپنا سامان پیک کر رہی تھیں۔
“خیرن۔۔۔تم خفا نہ ہو تو ایک بات کہوں۔۔؟”
بلقیس بیگم نےخیرن سے کہا جو اپنے سامنے کپڑوں کو تہہ لگا کر رکھتی جا رہی تھیں اور پھر رقیہ انھیں ترتیب سے سوٹ کیس میں رکھ رہی تھیں۔
“ہاں ہاں کہو۔۔۔تم بھی کمال کرتی ہو آپا۔۔۔میں کیوں برا مانوں گی تمھاری بات کا۔۔؟
خیرن ان کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے بولیں۔
“ائے مجھے ایسا لگتا ہے کہ غزنوی میاں اور ایمان کی شادی کچھ اچھی نہیں چل رہی ہے۔آج دونوں کا ولیمہ تھا اور دونوں ایک دوسرے سے کھچے کھچے سے لگ رہے تھے۔اس بچی کے چہرے پہ میں نے کوئی خوشی نہیں دیکھی۔۔۔خدا خبر کیا چل رہا تھا اس کے من میں کہ بالکل کھوئی کھوئی سی تھی۔”
بلقیس بیگم کی بات سن کر خیرن کو یقین ہو گیا کہ وہ جو بھی کہہ رہی ہیں، یہ سب تو وہ بھی محسوس کر رہی تھیں۔۔۔مگر وہ اسے اپنا وہم گردان کر خاموش رہی۔۔لیکن اب ان کی بہن نے بھی یہی محسوس کیا تھا۔
“نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں۔۔ایمان تھوڑی خاموش طبع بچی ہے اور ہمارا غزنوی شروع ہی سے خود میں مگن رہنے والا بچہ۔۔کل تو وہ صبح سے ہی اپنے والدین کی کمی محسوس کر رہی تھی۔اسی لئے اداس تھی۔”
خیرن نے بات سنبھالی۔۔ان کی بات سن کر بلقیس بیگم نے بھی اثبات میں سر ہلایا اور اپنے کام میں مشغول ہو گئیں۔
وہ چائے کا کپ ہاتھ میں لئے اعظم احمد کے کمرے کے باہر کھڑی تھی۔ایمان کو ان سے بات کرنی تھی۔وہ وہاں آ تو گئی تھی مگر اب اندر جانے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔۔۔لیکن بات تو کرنی تھی، اس لئے ہمت جُتا کر دروازے پہ دستک دی۔
“کم ان۔۔۔”
اعظم احمد کی بھاری آواز اسکی سماعتوں سے ٹکرائی۔۔۔اسے آج معلوم ہوا تھا کہ غزنوی کی آواز بالکل اعظم احمد جیسی ہے۔وہ دروازہ کھولتی اندر داخل ہوئی۔
“السلام علیکم داجی۔۔۔!!”
اس نے انھیں سلام کیا۔وہ بیڈ پہ نیم دراز کسی کتاب کے مطالعے میں مصروف تھے۔وہ اسے دیکھ کر مسکرا کر بیڈ کراون سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئے۔
“وعلیکم السلام۔۔۔یہاں رکھ دو بیٹا۔”
ایمان کے ہاتھ میں چائے کا کپ دیکھ کر انھوں نے کہا۔وہ آہستہ قدموں سے چلتی قریب آئی اور ٹرے سائیڈ ٹیبل پہ رکھ دی جبکہ وہ پھر سے مطالعے میں مصروف ہو گئے تھے۔ایمان جانے کی بجائے وہیں کھڑی رہی۔
“کچھ کہنا ہے بیٹا۔۔۔؟”
انھوں نے اسے وہیں کھڑے دیکھ کر پوچھا۔
“جی داجی۔۔مجھے آپ سے اجازت درکار تھی۔”
ایمان نے نظریں جھکائے جھکائے کہا۔اعظم احمد نے ایک پل کو اسکی جھکی نظروں کو دیکھا۔انھوں نے کتاب ایک جانب رکھی اور پوری طرح اسکی طرف متوجہ ہو گئے۔
“کیسی اجازت بیٹا۔۔۔؟”
انھوں نے اسکی گھبراہٹ کو محسوس کرتے ہوئے نرم لہجے میں پوچھا۔ایمان اس بات سے انجان تھی کہ دائیں جانب صوفے پہ جناب غزنوی احمد بھی تشریف فرما تھے۔۔ایمان کی بات سن کر وہ سیدھے ہو بیٹھے اور ہاتھ میں پکڑی فائل ٹیبل پہ رکھ دی۔
“ہاں کہو بیٹا۔۔۔کیسی اجازت۔۔۔؟”
کوئی جواب نہ پا کر انہوں نے ایک بار پھر پوچھا۔۔ایمان گھبراہٹ میں انگلیاں چٹخا رہی تھی اور پیچھے بیٹھے غزنوی کا سانس رکا ہوا تھا کہ کہیں وہ اس کے رویے کے بارے میں تو بات کرنے نہیں آئی ہے۔پریشانی اس کے چہرے پہ چھانے لگی تھی۔۔۔اوپر سے اعظم احمد غزنوی کی جانب نہیں دیکھ رہے تھے تا کہ ایمان کھل کر بات کر سکے۔
“داجی میں کچھ دنوں کے لئے گاوں جانا چاہتی ہوں بابا سے ملنے۔۔اگر آپ اجازت دیں تو۔۔”
وہ خاموش ہوئی اور جھکی نظریں اٹھا کر ان کی جانب دیکھا۔اعظم احمد مسکرا دئیے۔
“ضرور جاو بیٹا۔۔تمھارا جب جی چاہے جایا کرو۔اس میں اجازت کی کیا بات۔۔۔ہاں بس تمھارے شوہر کی اجازت ہونی چاہیئے۔۔کیوں برخوردار۔۔!! کیا تم لے جاو گے میری بیٹی کو۔۔؟”
اعظم احمد نے ایمان کے پیچھے سے جھانکا۔ان کے برخوردار کہنے پر وہ فورا پلٹی تھی۔دائیں جانب صوفے پہ غزنوی ٹانگ پہ ٹانگ رکھے بیٹھا اسی کی جانب دیکھ رہا تھا۔چہرے پہ بلا کی سنجیدگی تھی۔ایمان ایک پل کو تو گھبرا گئی۔۔پھر سوچا کہ وہ کیوں کچھ کہے گا جبکہ وہ تو خود چاہتا ہے کہ وہ اسکی نظروں سے کہیں دور چلی جائے۔۔اگر اسے ذرا سا بھی غزنوی کی موجودگی کا علم ہوتا تو ابھی بات کرنے نہ آتی۔
“میں لے جاوں گا داجی۔۔۔مگر۔۔۔”
وہ ایک پل کو خاموش ہوا۔
“مگر کیا۔۔۔؟”
اعظم احمد نے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
“کل میری ایک بہت اہم میٹنگ ہے۔۔اسی لئے کچھ دیر بعد میں اسلام آباد کے لئے روانہ ہوں گا۔وہاں سے واپس آ جاوں تو لے جاوں گا۔”
اب وہ صاف انکار تو نہیں کر سکتا تھا۔اس لئے کام کا بہانا بنا کر منع کر دیا۔ایمان کو اس کے ٹھنڈے لہجے پہ بہت غصہ آیا۔
“مگر داجی میں کل ہی جانا چاہتی ہوں۔۔آپ مجھے کسی اور کے ساتھ بھیج دیں۔ان کا کیا پتہ کب واپسی ہو۔”
ایمان نے اعظم احمد سے لجاجت بھرے لہجے میں کہا۔
“ہاں تقریبا دو ہفتے تک میں فارغ نہیں ہوں۔”
غزنوی نے فورا سے پیشتر کہا۔اسکے یوں صاف منع کرنے پر ایمان کا چہرہ تاریک ہوا جو اعظم احمد سے مخفی نہ رہ سکا۔
“کام تو بیٹا ہوتے رہتے ہیں۔۔ایمان شادی کے بعد پہلی بار اپنے میکے جا رہی ہے اور وہ بھی اتنے وقت بعد۔۔۔تمھارا جانا ساتھ ضروری ہے۔”
اعظم احمد نے ایمان کی طرفداری کی۔
“مگر داجی۔۔۔میں اپنی میٹنگ کینسل نہیں کر سکتا۔۔میرا جانا بہت ضروری ہے۔۔آپ اسے ڈرائیور کے ساتھ بھیج دیں۔”
وہ لاپروائی سے بولا۔
“تمھارا جانا ساتھ ضروری ہے۔۔غزنوی۔۔”
انھوں نے اپنی بات پہ زور دیتے ہوئے کہا۔
“اگر میرا جانا ضروری ہے تو اس منتھ انتظار کر لے۔۔نیکسٹ منتھ لے جاوں گا۔”
اسکا دوٹوک انداز دیکھ کر ایمان کا دل بھر آیا۔
“ٹھیک ہے تو تم۔۔۔۔”
وہ بیڈ سے اتر کر غزنوی کی طرف بڑھے۔
“رہنے دیں داجی۔۔۔مجھے نہیں جانا۔”
وہ انھیں روکتی تیزی سے کمرے سے نکل گئی۔اعظم احمد اسے روکتے ہی رہ گئے۔
“یہ کیا طریقہ ہے غزنوی۔۔۔تمھارا رویہ بہت روڈ تھا۔۔کیا تم خوش نہیں ہو ایمان کے ساتھ۔۔؟”
ان کے کڑے لہجے میں دریافت کرنے پہ غزنوی فائل ٹیبل پہ رکھتا ان کے پاس آیا۔
“ایسی کوئی بات نہیں ہے داجی۔۔مگر آپ کو پتہ ہے نا کہ میرا نیا نیا بزنس ہے۔یہ میٹنگ اگر میں کینسل کر سکتا تو کر لیتا مگر۔۔۔”
“اگر مگر کچھ نہیں۔۔ایمان تمھارے ساتھ اسلام آباد جائے گی اور جس دن تم فارغ ہوئے اسے گاوں لے جانا۔۔ویسے بھی تم اسلام آباد میں اکیلے کیسے رہو گے۔۔تم وہاں اور وہ یہاں۔۔مناسب نہیں لگتا۔”
انھوں نے اسے بیچ میں ہی ٹوک دیا اور بستر تک آئے اور بیڈ پہ لیٹتے ہی کتاب کھول لی۔۔جسکا مطلب تھا کہ وہ مزید اس بارے میں بات نہیں کرنا چاہتے ہیں۔
“کیا مصیبت ہے۔۔”
وہ احتجاجا بولا مگر دھیرے تاکہ ان تک آواز نہ جائے۔۔لیکن اعظم احمد نے اسکے چہرے سے اندازہ لگا لیا تھا۔
“جا کر ایمان سے کہو کہ پیکنگ کر لے۔۔وہ تمھارے ساتھ جا رہی ہے۔”
وہ بےحد سنجیدگی سے بولے جبکہ غزنوی تن فن کرتا کمرے سے نکل گیا۔۔
جاری ہے۔۔۔۔
