Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode07

Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode07

لیکن ایمان نے اپنی کوششیں ترک نہیں کیں۔۔غزنوی کی آنکھوں میں جو دِکھ رہا تھا وہ اسے سمجھ نہیں پا رہی تھی۔
“چھوڑیں پلیز۔۔۔۔”
ایمان کپکپاتی آواز میں اسکے بازوں کی گرفت سے نکلنے کی کوشش کرنے لگی جبکہ غزنوی اسے بانہوں میں جکڑے یوں دیکھ رہا تھا جیسے اس کے بعد وہ اسے کبھی دیکھ نہیں پائے گا۔۔ایمان کے چہرے کے وحشت ذدہ تاثرات اسکا سکون غارت کر رہے تھے۔وہ اسکی آنکھوں میں آنکھیں گاڑھے بالکل ساکت تھا۔ایمان کی آنکھوں میں اسے حیرانی اور خوف واضح دکھائی دے رہا۔اسکی بھوری آنکھوں میں ڈولتی نمی جب گالوں پہ بکھری تو وہ ہوش میں آیا اور کچھ دیر پہلے تک مردانگی کا جو ذعم اس کے اندر کسی جوار بھاٹے کیطرح ابل رہا تھا، اڑنچھو ہو گیا۔
وہ یہ کیا کرنے جا رہا تھا۔۔کیا وہ اتنا کمزور شخص تھا جو اسے، جس کے لئے اپنے دل میں پنپتی محبت کی کونپلوں سے وہ خوب واقف تھا۔جس کا ساتھ ہونا اسے خوشی دینے لگا تھا۔اس کونپل کو اپنی نام نہاد انا کو تسکین پہنچانے کے لئے مسلنے پہ تل گیا تھا۔وہ دھیرے سے ایمان سے الگ ہوا اور اس کی جانب سے رخ پھیر گیا۔
ایمان اس کایا پلٹ پہ حیران رہ گئی۔چہرے کے نقوش سے ٹپکتا خوف کم ہونے لگا۔غزنوی نے جو رخ پلٹا پھر اسکے وجود میں کوئی جنبش نہ ہوئی۔دوسری جانب ایمان اٹھ بیٹھی اور بے ترتیب دھڑکنوں کو اعتدال پہ لانے کی سعی کرنے لگی۔نظر اب تک غزنوی پہ ٹھہری ہوئی تھی۔کچھ دیر وہ یونہی خود کو اس کے سو جانے کا یقین دلاتی رہی۔غزنوی بھی یوں لیٹا تھا جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
ایمان نے تکیے پہ سر رکھ دیا مگر نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔جی تو چاہ رہا تھا کہ کمرے سے چلی جائے مگر خود میں ہمت نہیں پا رہی تھی۔
آنسو ایک بار پھر آنکھوں سے بہہ نکلے تھے۔دل ہی دل میں قرآنی آیات کا ورد کرتی وہ سختی سے آنکھیں میچ گئی۔یہ خیال رہ رہ کر اسے تکلیف دے رہا تھا کہ غزنوی اس پہ اپنی برتری ظاہر کرنے کے لئے کچھ بھی کر سکتا ہے اور کس حد تک جا سکتا ہے۔
نجانے اسکے ذہہن میں کیا آیا کہ وہ اگلے ہی لمحے اسکی جانب سے رخ پھیر گیا تھا۔
آنکھیں بند کر لینے کے بعد ذہہن پہ چھپے کچھ دیر پہلے کے مناظر۔۔۔غزنوی کا بپھرتا انداز اور اپنا پتے کی طرح لرزتا دل۔۔۔وہ کچھ بھی تو بھول نہیں پا رہی رہی۔ابھی تک غزنوی کے ورزشی بازوؤں کی گرفت محسوس کر کے اسکا کلیجہ منہ کو آ رہا تھا۔دل ہی دل میں اس نے پختہ ارادہ کیا کہ اسے صبح گاؤں جانا ہے اور اگر غزنوی نے اسے روکنے کی کوشش کی تو وہ اعظم احمد کو فون کر کے کہے گی۔یہی سوچتے سوچتے نجانے رات کے کس پہر نیند نے اسے اپنے گھیرے میں لے لیا۔۔۔
💚
روز کیطرح اسکی آنکھ فجر کے وقت کھل گئی تھی۔تکیے کے پاس رکھا ڈوپٹہ اٹھا کر اوڑھا اور سائیڈ پہ لیٹے غزنوی پر ایک بھی نظر ڈالے بغیر وہ بیڈ سے اتری۔۔۔نماز کا وقت تھا اس نے وضو کیا اور نماز ادا کی۔کتنی ہی دیر وہ جائے نماز پہ ہی بیٹھی رہی۔اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ خدا سے اپنے لئے کیا مانگے۔۔۔دونوں ہاتھ دعا کے لئے اٹھائے وہ خالی خالی نظروں سے اپنے ہاتھوں کی لکیروں کو دیکھ رہی تھی۔اپنی ذات کے استحصال نے اسکی آنکھوں میں ڈولتی محبت کو تکلیف کے گہرے پانیوں میں ڈبو دیا تھا۔وہ تو اپنی زندگی میں موجود اس شخص سے صرف اور صرف محبت کی خواستگار تھی۔یہ کب چاہا تھا کہ وہ اپنا آپ یوں اس پہ مسلط کر دے کہ وہ گھٹن محسوس کرنے لگے۔۔اسکا دم گھٹنے لگا۔۔تکلیف سی تکلیف تھی جو اسکے رگ و پے میں سرایت کر گئی تھی۔اسے بےچین و بےکل کیے دے رہی تھی۔یہ صحیح تھا کہ وہ غزنوی سے بےطرح محبت کرتی تھی۔وہ اسکے دل میں دھڑکن کیطرح دھڑکنے لگا تھا اور یہ اس کے اندر پھولوں کی طرح مہکتی محبت ہی تھی جو غزنوی کے دل میں بھی اپنے لئے محبت کی مہک چاہتی تھی۔۔اپنا احساس چاہتی تھی۔۔اسکی آنکھوں میں وہ چمک دیکھنا چاہتی تھی جو اسے دیکھنے سے اسکی آنکھوں میں اپنا احساس اجاگر کرے مگر اسکی چاہت کے بالکل الٹ ہو گیا تھا۔غزنوی نے اسکی ذات کی نفی کر کے اپنی خواہشات کی خاردار بیلوں کو اسکے تاریکیوں میں جکڑے وجود سے لپیٹنے کی کوشش کی تھی۔جو اسے گھٹن کے سوا کچھ نہیں دے رہی تھی۔اپنی محبت کے اس طرح پیروں تلے روندے جانے پر اسکے دل کا درد بڑھ گیا تھا۔چہرہ آنسوؤں سے تر ہونے لگا تھا۔
“یا اللہ۔۔تُو تو دلوں کے بھید جانتا ہے۔میرے دل کو سکون عطا کر۔۔مجھے اس تکلیف سے نجات دے۔۔”
دونوں ہاتھوں سے چہرہ چھپائے وہ بے آواز رو دی تھی۔۔۔رونے سے دل کا بوجھ تھوڑا ہلکا ہوا تو وہ جائے نماز لپیٹتی اٹھ کھڑی ہوئی۔اس نے جائے نماز صوفے پہ رکھی اور کمرے سے باہر نکل آئی۔
ابھی شاہدہ کے آنے میں وقت تھا۔اس لئے وہ کچن میں آ گئی۔اپنے لئے ایک کپ چائے بنائی اور لاونج میں آ گئی۔صوفے پہ بیٹھ کر دھیرے دھیرے چائے پینے لگی۔یہاں موجود خاموشی سے اسے الجھن ہونے لگی۔وہ جس گھر سے آئی تھی وہاں تو ہر وقت چہل پہل رہتی تھی اور یہاں دن رات گہری خاموشی کا سامنا۔۔۔اسے یوں محسوس ہونے لگا جیسے وہ کسی کھائی میں رہ رہی ہو۔جہاں صرف اپنی ہی آواز کی گونج سنائی دیتی ہو۔گھڑی پہ نظر پڑی تو وہ باہر لان میں آ گئی۔لاونج کی بہ نسبت یہاں زندگی محسوس ہو رہی تھی۔پھولوں سے لدے لان میں خوشبوؤں کا بسیرا تھا۔درختوں پہ جُھولے لیتے پرندوں کی چہچہاہٹ کانوں کو بھلی لگ رہی تھی۔ہاتھ میں چائے کا کپ لئے وہ کیاری میں لگے ایک ایک پھول کو چُھو کر محسوس کر رہی تھی۔
اعظم ولا کا لان بھی بہت ہرا بھرا تھا۔مالی بابا بہت خیال رکھتے تھے۔شام کی چائے اعظم احمد اور عقیلہ بیگم لان میں ہی پیتے تھے۔اس کا وقت بھی ان کے ساتھ گزرتا تھا۔شاہدہ نے اسے بتایا تھا کہ اس کا شوہر یہاں مالی کا کام کرتا ہے اور وہ اس بنگلے کے سرونٹ کوارٹر میں رہتی ہے۔سرونٹ کوارٹر کی تلاش میں اس نے نظریں گھمائیں۔لان کے پچھلی جانب اسے لکڑی کا ایک چھوٹا سا دروازہ دکھائی دیا۔یہ دروازہ بنگلے کے بائیں جانب دیوار سے ملحق تھا۔ساری دیوار بوگن ویلیاء سے ڈھکی ہوئی تھی۔اس کی چائے بھی ختم ہو گئی تھی۔اس نے کپ سفید کین کی ٹیبل پر رکھا اور لان کے بائیں جانب آ گئی۔سورج کی کرنیں درختوں سے چھن چھن کر دیوار پہ پڑ رہی تھیں۔وہ دروازے کے قریب آ گئی۔دروازے کا رنگ ہلکا نیلا تھا۔ایمان نے دروازے پہ ہاتھ رکھا۔۔۔دروازہ اندر سے بند تھا۔وہ وہیں سے واپس مڑ گئی۔واپس لان میں آ کر اپنا کپ اٹھایا اور اندر کی جانب بڑھ گئی۔
“السلام علیکم بی بی صاحب۔۔”
ابھی وہ لاؤنج میں داخل ہوئی ہی تھی کہ پیچھے سے شاہدہ کی آواز آئی۔
“وعلیکم السلام۔۔”
ایمان نے پلٹ کر سلام کا جواب دیا۔
“آپ اتنی جلدی اٹھ گئیں آج۔۔؟”
شاہدہ نے اسکے ساتھ چلتے چلتے پوچھا۔
“میں روز ہی جلدی اٹھتی ہوں۔۔تم آج جلدی آ گئیں۔”
ایمان نے اسکی جانب دیکھا۔
“جی بس بچوں کی آج چھٹی تھی سکول سے تو وہ اس خوشی میں جلدی اٹھ گئے تھے۔ورنہ روز تو اسکول جانے کے لئے اٹھتے ہوئے اتنا تنگ کرتے ہیں کہ بس۔۔ابھی انہیں ناشتہ بنا کر دیا تو سوچا وقت پہ کام بھی ختم کر لوں۔یہ کپ مجھے دے دیں۔”
شاہدہ نے کپ لینے کے لئے ہاتھ اسکی طرف بڑھایا۔
“کتنے بچے ہیں تمھارے؟”
ایمان نے کپ اسکے ہاتھ میں دیتے ہوئے پوچھا۔
“تین۔۔۔ایک لڑکی اور دو لڑکے ہیں۔لڑکے دونوں اسکول جاتے ہیں اور لڑکی ابھی دو سال کی ہے۔جب تک میں یہاں کام کرتی ہوں اسے باپ سنبھالتا ہے۔”
وہ بڑے شوق سے بتانے لگی۔ایمان کو اسکے چہرے پہ تمانیت بھری مسکراہٹ دکھائی دے رہی تھی۔
“تمھارا شوہر خیال رکھتا ہے تمھارا؟”
ایمان نے نجانے کیوں یہ سوال پوچھ لیا۔
“بس بی بی جی۔۔۔سکون سے زندگی گزر رہی ہے اور کیا چاہیئے۔۔”
وہ دونوں کچن میں داخل ہو گئیں۔
“ہاں سکون۔۔۔زندگی میں سکون ہے تو اور کیا چاہیئے۔”
وہ دھیرے سے بولتی ناشتہ بنانے کا کہتی باہر آ گئی۔
کمرے کا دروازہ تو لاکڈ تھا اس لئے وہ لاونج میں آ گئی۔اس دوران گل خان کاکا ہاتھ میں اخبار لئے لاونج میں داخل ہوا اور سلام کے بعد اخبار ٹیبل پہ رکھ کر وہاں سے چلا گیا۔ایمان اخبار اٹھا کر دیکھنے لگی۔
“بی بی صاحب۔۔!!”
اس نے اخبار سے سر اٹھا کر سامنے کھڑے گل خان کو دیکھا۔اسکے ہاتھ میں ٹرے تھا جس پہ سفید جالی کا کپڑا پڑا ہوا تھا۔
“جی کاکا۔۔۔۔؟”
ایمان نے اخبار سائیڈ پہ رکھتے ہوئے پوچھا۔
“بی بی صاحب۔۔یہ ٹیپو دے کر گیا ہے۔۔۔کہہ رہا تھا کہ دادو نے دیا ہے۔”
گل خان کاکا کے ٹیپو کا نام لینے کے باوجود ایمان اسے سوالیہ نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
“لاؤ کاکا مجھے دے دو۔۔”
گل خان اسے مزید بتانے ہی لگا تھا کہ اتنے میں شاہدہ کچن سے باہر آ گئی اور آگے بڑھ کر گل خان سے ٹرے لے لی۔گل خان واپس چلا گیا۔شاہدہ نے ایمان کو بتایا کہ ٹیپو ان کا پڑوسی ہے اور بلقیس بیگم کا پوتا ہے اور یہ کہ وہ اکثر غزنوی کے لئے ناشتہ بھجواتی رہتی ہیں۔ایمان بلقیس بیگم کا نام سن کر مطمئن ہو گئی۔شاہدہ بھی ٹرے لے کر کچن میں جا چکی تھی۔ایمان نے وال کلاک کی جانب دیکھا۔سوئیاں آٹھ کا ہندسہ پار کر چکی تھیں۔اگلی نظر اس نے غزنوی کے روم کے بند دروازے پر ڈالی۔
“آپ کے لئے ناشتہ بنا دوں یا صاحب کے ساتھ ناشتہ کریں گی؟”
شاہدہ اس سے پوچھنے کچن سے باہر آئی۔
“بنا دو۔۔”
ایمان نے نظریں بند دروازے سے ہٹا کر اسے دیکھا۔شاہدہ سر ہلا کر واپس کچن میں چلی گئی جبکہ ایمان صوفے کی پشت سے سر ٹکا کر آنکھیں موند گئی۔
❤️
صبح ساڑھے آٹھ بجے کے قریب اسکی آنکھ کھلی تھی۔آنکھیں جیسے ہی کمرے میں کھڑکی آتی روشنی سے مانوس ہوئیں تھیں اس نے رخ پلٹ کر اپنی دائیں جانب دیکھا۔ایمان وہاں نہیں تھی۔وہ اٹھ بیٹھا اور کچھ دیر یونہی بیڈ پہ بیٹھا رہا۔رات کا واقعہ اپنی پوری جزئیات سمیت اسکی آنکھوں کے پردے پر چلنے لگا۔اپنی کی گئی حرکت اسے بھلائے نہیں بھول رہی تھی۔انسان اپنی خواہشات کے آگے کس قدر کمزور ہے یہ اسے آئینے میں دکھتے اسکے عکس نے بتایا تھا۔اس کی ایمان سے کوئی ذاتی پرخاش نہیں تھی بیوی تھی اس کی صرف ایک ضد نے اسے اس حال تک پہنچا دیا تھا کہ وہ ہر کام جسے وہ یقیناً تکلیف محسوس کرتی، وہ کرنے سے گریز نہیں کرتا تھا۔اپنی نام نہاد مردانگی نے اسے ایمان کے سامنے آنکھ اٹھا کر دیکھنے کے قابل بھی نہیں چھوڑا تھا۔ایمان کا معصوم چہرہ اسکی نگاہوں کے سامنے گھوم رہا تھا۔پچھتاوے کے ناگ اپنا پھن پھیلائے اسے ڈسنے کو تیار تھے۔وہ کہیں غائب ہو جانا چاہتا تھا۔گھر پہ رہ کر وہ اسکی سوال کرتی نظروں کا سامنا نہیں کرنا چاہتا۔اوپر سے آج سنڈے بھی تھا۔اس لئے اس نے کمیل کو فون کیا کہ اسے کچھ ڈسکشن کرنی ہے۔گھر پہ رکتا تو ایمان اسکی نظروں کے سامنے رہتی اور وہ اس وقت اسکا سامنا کرنے کی ہمت خود میں نہیں پاتا تھا۔یہ تو وہی جانتا تھا کہ وہ محبت میں ہارا تھا۔یہ پسپائی محبت نے اس کے مقدر میں لکھی تھی ورنہ وہ منہ زور خواہشات کا تابع نہیں تھا مگر اس وقت یہ بات ایمان کو سمجھانا اسکے بس میں نہیں تھا۔ایمان کے معصوم چہرے پہ دکھتے سوالوں کے اسکے پاس کوئی جواب نہیں تھے۔صرف اور صرف پچھتاوے تھے۔ایسا نہیں تھا کہ وہ اسے بے چینیاں سونپ کر خود سکون کی ندی میں غوطہ زن تھا۔۔۔وہ بھی بے چین تھا۔اس معاملے میں وہ ایک نتیجے پر پہنچا تھا کہ اسے ایمان سے معافی مانگنی ہے پھر وہ اسے گاؤں بھیج دے گا کیونکہ اسکے خیال میں وقت ہی اب اس معاملے پہ گرد ڈال سکتا تھا۔
یہی سوچ کر وہ کمرے سے باہر آیا۔۔اردگرد نظر دوڑائی تو ایمان اسے لاؤنج میں ہی نظر آ گئی۔ایمان کا دھیان اسکی جانب نہیں تھا اس نے دھیرے سے دوسرے بیڈ روم کا دروازہ ان لاکڈ کیا اور چابی پاکٹ میں رکھتا سست روی سے چلتا اسکے پاس ایا۔وہ صوفے کی پشت سے ٹیک لگائے آنکھیں موندے ہوئے تھی۔وہ نیند میں تھی یا کسی گہری سوچ میں وہ جان نہیں سکا اور نا ہی اسکی آہٹ ایمان کو متوجہ کر پائی تھی۔غزنوی نے بغور اسکی جانب دیکھا۔وہ لیمن کلر کی پرنٹڈ شرٹ اور سفید ٹراؤزر پہ سفید ڈوپٹہ سلیقے سے لیے ہوئے تھی۔پیلے رنگ میں اسکی رنگت سنہری ہوئی جا رہی تھی۔وہ اپنی نگاہوں میں اسکا سنہری روپ سموتا دھیرے سے اسکے پاس بیٹھ گیا۔ایمان نے چونک کر آنکھیں کھولیں اور اپنے دائیں جانب دیکھا۔غزنوی اپنے دونوں ہاتھوں کو آپس میں پھنسائے، نظریں جھکائے بیٹھا تھا۔چہرے کے نقوش سے سنجیدگی ٹپک رہی تھی۔ایمان جو پہلے ریلکیس انداز میں بیٹھی ہوئی تھی۔۔سیدھی ہو بیٹھی۔دونوں کے مابین فاصلہ کم تھا۔ایمان کو اسکے چہرے پہ سنجیدگی کے ساتھ ساتھ شرمندگی بھی دکھائی دے رہی تھی۔وہ اسکے بولنے کا انتظار کر رہی تھی مگر وہ بالکل خاموش تھا یوں جیسے دل ہی دل میں الفاظ ترتیب دے رہا ہو۔بالاآخر کچھ دیر بعد چپ کا کفل ٹوٹا۔
“میں بہت۔۔۔آئی ایم سوری۔۔اس کے علاؤہ میرے پاس الفاظ نہیں ہیں جو میں تم سے کہوں۔۔امید ہے کہ تم میری پہلی اور آخری خطا کو معاف کر دو گی۔”
وہ بےچینی سے بالوں میں ہاتھ پھیرتا کہتا رہا اور وہ بناء اسکی جانب دیکھے سنتی رہی مگر کہا کچھ نہیں۔۔غزنوی نے اپنی بات کا ردعمل جاننے کے لیے اسکی جانب دیکھا۔
“ایمان۔۔۔!!”
اس نے اسے اپنی جانب متوجہ کرنے کے لئے پکارا۔
“میں گاوں جانا چاہتی ہوں۔۔آپ یا مجھے خود چھوڑ آئیں یا پھر گل خان کاکا کے ساتھ بھیج دیں۔”
وہ اتنا کہہ کر اٹھ کر جانے لگی مگر اس سے پہلے کہ وہ اپنے اور غزنوی کے درمیان فاصلہ بنا پاتی غزنوی نے اسکی کلائی اپنی گرفت میں لے لی۔
“نیکسٹ ویک میں خود لے جاؤں گا۔”
وہ نرم لہجے میں بولا۔۔ایمان کی نازک کلائی پہ اسکی گرفت مضبوط تھی۔
“آپکو یونہی تکلیف ہو گی۔۔۔میں ان کے ساتھ چلی جاوں گی پھر آپ کو جب مناسب لگے مجھے لینے آ جائیے گا۔”
وہ دھیمے لہجے میں بولی تھی۔غزنوی کو اس کے الفاظ سن کر کچھ سکون ہوا ورنہ وہ تو یہ سوچ رہا تھا کہ اگر وہ گل خان کے ساتھ چلی گئی تو کہیں واپس آنے سے انکار نہ کر دے اور اگر وہ واپس نہ آئی تو وہ گھر والوں سے کیا کہے گا۔۔خاص طور پر داجی کا سامنا کیسے کرے گا۔۔۔مگر اب اسکے الفاظ نے اسے اس الجھن سے نکال لیا تھا۔
“بی بی صاحب۔۔! ناشتہ یہیں لے آوں؟”
اسی لمحے شاہدہ کچن سے باہر آئی۔ایمان نے پلٹ کر اسکی طرف دیکھا۔غزنوی نے فورا اسکا ہاتھ چھوڑا تھا۔
“نہیں میں وہیں آتی ہوں۔”
ایمان کچن کیطرف بڑھ گئی جبکہ غزنوی وہیں بیٹھا رہا۔اسکی نظر اپنے ہاتھ پہ تھی جہاں ایمان کا نازک اور مہکتا لمس رہ گیا تھا۔کچھ پل یونہی گزر جانے کے بعد وہ اٹھا اور مین ڈور کیطرف بڑھ گیا۔
“آپ کا ناشتہ۔۔۔۔”
ایمان کچن سے باہر آئی تھی مگر وہ وہاں موجود نہیں تھا۔اس نے غزنوی کے کمرے کی جانب دیکھا۔۔دروازہ بند تھا لیکن ساتھ والے کمرے کا دروازہ کھلا ہوا تھا۔وہ ایک گہری سانس لیتی واپس پلٹ گئی۔
💕
“کیا بات ہے۔۔؟ کچھ پریشان اور الجھے ہوئے دکھ رہے ہو۔”
کمیل نے اسکے ستے ستے چہرے کو بغور دیکھتے ہوئے پوچھا۔وہ اس وقت کمیل کے گھر پہ تھا۔آفس سے آف ہونے کے باعث کچھ دیر سڑکوں پہ آوارہ گردی کے بعد وہ کمیل کیطرف آ گیا تھا۔کمیل کی چھوٹی سی فیملی تھی۔وہ دو بھائی اور ایک بہن تھے۔والد حیات نہیں تھے۔۔بہن کی شادی ہو چکی تھی۔دونوں بھائی فُضیل اور کمیل اپنے والد کا بزنس سنبھال رہے تھے۔غزنوی اور اسکی دوستی ایک بزنس پارٹی میں ہوئی تھی اور شہروں کے فاصلے ہونے کے باوجود دن بدن مضبوط ہوتی جا رہی تھی۔
“کچھ نہیں۔۔۔”
وہ موبائل میں گم بولا۔
“کیسے کچھ نہیں تمہیں کبھی ایسی حالت میں نہیں دیکھا یوں اداس تو تم اپنی زبردستی ہونے والی شادی پر بھی نہیں تھے کمیل اس کے ساتھ صوفے پر آکر بیٹھ گیا اور موبائل اس کے ہاتھ سے جھپٹ لیا۔
“نیند پوری نہیں ہوئی اس لیے۔۔”
وہ موبائل لینے کے لیے آگے ہوا مگر کمیل نے ہاتھ پیچھے کرلیا اور موبائل سکرین کی جانب دیکھا جہاں غزنوی اور ایمان کے ولیمے کی ایک تصویر جس میں دونوں بےحد ساتھ ساتھ کھڑے تھے،ابھری ہوئی تھی۔
“آہاں۔۔۔!! تو محترم اس حالت پہ پہنچ گئے ہیں کہ بیوی گھر میں ہیں اور وہ خود باہر مجنوں بنے پھر رہے ہیں۔”
کمیل اس کی جانب دیکھ کر ہنسا تھا۔
“بکواس مت کرو۔۔۔ہر وقت فضول گوئی۔”
غزنوی نے اس کے ہاتھ سے موبائل لینا چاہا مگر کمیل ہاتھ کمر کے پیچھے لے گیا۔
“اچھا یہ تو ذرا یہ بتاؤ کہ یہ مجنوں کی کونسی قسم ہے؟”
کمیل نے موبائل اس کی آنکھوں کے سامنے کر کے موبائل کی گیلری میں موجود ایک پکچر کی طرف اشارہ کیا۔غزنوی نے دیکھا اس تصویر میں وہ ایمان کی جانب مکمل توجہ اور محبت سے دیکھ رہا تھا۔تصویر بہت خوبصورت تھی۔اسے یاد آیا کہ ولیمے میں ایمان لگ ہی اتنی خوبصورت رہی تھی کہ نظر بھٹک کر وہیں چلی جاتی جہاں وہ موجود ہوتی تھی۔نجانے کس وقت کیمرہ مین نے یہ پکچر لی تھی اسے پتہ نہیں چلا تھا۔بعد میں جب غزنوی نے اس سے تمام فوٹوز لیے تو اس میں ان دونوں کی پکچرز بھی تھیں جو ان کی بےخبری میں لی گئیں تھیں۔لیکن اپنے زعم میں وہ اس قدر گم رہتا تھا کہ کبھی ان تصویروں کو دیکھا ہی نہیں تھا۔کبھی کبھی جو دل میں اک نرم گوشہ بیدار ہوتا تھا اسی کے باعث اس نے اپنی اور ایمان کی تصویریں اس سے لے لی تھی۔ابھی بھی اس نے کسی خیال میں گم گیلری کھول لی تھی۔
“یار یہ چائے کب آئے گی۔۔؟”
غزنوی نے اس کی جانب دیکھے بغیر اس کے ہاتھ سے موبائل لے لیا۔اپنی چوری پکڑے جانے کی وجہ سے وہ اس سے نظریں نہیں ملا پایا تھا۔
“کہہ دیا ہے۔۔۔ویسے میں سیریسلی پوچھ رہا ہوں اگر کوئی بات ہے تو شئیر کر سکتے ہو۔”
کمیل نے سنجیدہ لہجے میں استفسار کیا۔
“ایسا کچھ نہیں ہے تمھیں یونہی لگ رہا ہے۔”
غزنوی اسے سنجیدہ دیکھ کر مسکرا دیا۔
“تم کہتے ہو تو مان لیتا ہوں۔۔ورنہ تمھاری شکل کی ٹیڑھی میڑھی سوئیاں تو بڑا سنجیدہ وقت دکھا رہی ہیں۔”
کمیل نے آخر میں غیر سنجیدہ رویہ اپنایا۔
“اچھا۔۔۔اور یہ چائے ہے کہ موٹا گوشت۔۔۔جو ابھی تک تیار نہیں ہوا۔”
غزنوی نے بھی اسکا دھیان اپنی طرف سے ہٹانے کے لئے غیر سنجیدہ اندر اپنایا۔کمیل اسکا بہترین دوست تھا اور وہ نہیں چاہتا تھا کہ وہ مزید سوال کرے اور وہ اس سے کچھ بھی شئیر نہ کر پائے۔اسی دوران ملازمہ چائے اور لوازمات کی ٹرے اٹھائے کمرے میں داخل ہوئی۔
“یہ لو آ گئی چائے۔۔۔”
کمیل نے ہنستے ہوئے کہا اور ٹرے اپنی جانب کھسکائی۔غزنوی نے بھی چائے کا کپ اٹھا لیا تھا۔بھوک تو نہیں تھی مگر چائے کی طلب ہو رہی تھی۔کمیل اسے بغور دیکھتے ہوئے گرم چائے کی چسکیاں لینے لگا۔وہ چاہتا تو کُرید کُرید کر اس سے پوچھ سکتا تھا مگر وہ چاہتا تھا کہ غزنوی خود اس سے شئیر کرے۔
❇️
گھر سے جاتے ہوئے غزنوی گل خان سے کہہ آیا تھا کہ وہ ایمان کو گاؤں لے جائے۔اب واپسی میں آتے ہوئے وہ یہی سوچ رہا تھا کہ ایمان جا چکی ہو گی۔اس لئے اسکا گھر جانے کو جی نہیں چاہ رہا تھا۔وہ تقریبا شام سات بجے وہاں سے روانہ ہوا تھا۔راستے میں اچانک ایک خیال آیا تو اس نے ایمان کو کال کرنے کا سوچا مگر یہ سوچ کر کہ ایمان کے پاس موبائل فون نہیں ہے، اپنی لاپروائی پہ بےحد افسوس ہوا۔گاڑی سڑک کے ایک جانب روک کر اس نے گل خان کو کال کی۔
“جی صاحب۔۔۔۔!”
گل خان نے فون ریسیو کرتے ہی پوچھا۔
“کاکا زرا ایمان کو فون دیجیئے گا۔”
اس نے کہا۔۔۔گل خان نے اسکے کہنے پر فون ایمان کی جانب بڑھایا جو گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بیٹھی سفر کی تھکان کے باعث اونگھ رہی تھی۔گل خان کے پکارنے پر وہ چونک کر اٹھی تھی۔
“صاحب بات کرنا چاہتے ہیں۔”
اس نے فون ایمان کو دیتے ہوئے کہا۔ایمان نے فون اس کے ہاتھ سے لے کر کان سے لگایا۔
“السلام علیکم۔۔۔!”
اس نے سلام کیا۔
“وعلیکم السلام۔۔۔ایمان آپ ایک دو دن اپنے والد کی طرف گزار کر حویلی چلی جانا۔”
غزنوی نے سلام کا جواب دینے کے بعد کہا۔
“مگر کیوں۔۔۔؟”
ایمان نے ناپسندیدگی سے پوچھا۔
“میں نے سوال کرنے کو نہیں کہا۔۔۔جب جی چاہے چلی جایا کرنا مگر رہنا حویلی میں ہی۔۔۔”
غزنوی نے یہ کہہ کر فون بند کر دیا۔
“یہ لیں کاکا۔۔”
ایمان نے بےدلی سے فون گل خان کیطرف بڑھایا۔گل خان نے فون ڈیش بورڈ پہ رکھا اور گاڑی کی سپیڈ بڑھائی۔ابھی گاوں پہنچنے کے لئے ایک گھنٹہ مزید لگنا تھا۔اس لئے ایمان ریلکیس ہو کر آنکھیں موند گئی۔اگلے ایک گھنٹے میں وہ گاوں پہنچ گئے تھے۔دھول اڑاتی گاڑی حویلی کے گیٹ کے قریب جھٹکے سے آ کر رکی۔گاڑی کے جھٹکے سے رکنے سے ایمان کی آنکھ کھل گئی۔حویلی کا چوکیدار گیٹ کھول رہا تھا۔
“کاکا آپ حویلی کیوں آئے ہیں۔۔مجھے اپنے گھر جانا ہے بابا سے ملنے۔۔”
ایمان نے حویلی میں گاڑی داخل ہوتے دیکھی تو بولی۔
“بی بی۔۔۔صاحب نے کہا تھا کہ آپکو پہلے حویلی لے جاؤں۔۔آپ تھوڑا ریسٹ کر لیں پھر میں آپکو لے جاؤں گا۔”
گل خان نے ریویو مرر میں دکھتے اسکے عکس کو دیکھتے ہوئے کہا۔اتنے لمبے سفر نے واقعی اسے تھکا دیا تھا۔اس لئے وہ خاموش ہو گئی۔گاڑی طویل راہداری سے گزرتی ہوئی پورچ میں آ کر رکی۔گاڑی جیسے ہی رہی ایمان اندر کیطرف بڑھ گئی۔حویلی کی پرانی ملازمہ شفیقہ اس کے استقبال کے لئے لاونج میں ہی موجود تھی۔شفیقہ نے بہت گرم جوشی سے اسکا استقبال کیا۔
“شفیقہ بی بی۔۔۔بی بی کا سامان کون سے کمرے میں رکھنا ہے؟
وہ شفیقہ سے حال چال پوچھنے لگی تھی کہ گل خان لاؤنج میں داخل ہوا۔اس نے ایمان کا سوٹ کیس اٹھا رکھا تھا۔
“کاکا یہ سامان غزنوی صاحب کے کمرے میں رکھ دو۔۔بی بی۔۔۔آپ بھی سفر کی تھکان اتار لیں۔۔میں آپ کے چائے بنواتی ہوں۔
شفیقہ نے گل خان سے کہتے ہوئے آخر میں ایمان کی جانب دیکھا۔ایمان بھی سر ہلاتی گل خان کے پیچھے چل دی۔وہ گل خان کے پیچھے ہی کمرے میں داخل ہوئی تھی۔ گل خان نے اسکا سوٹ کیس ایک سائیڈ پہ رکھ دیا۔
“بی بی آپ جس وقت بھی اپنے گھر جانا چاہیں میں لے جاؤں گا آپکو۔”
یہ کہہ کر وہ پلٹ گیا جبکہ ایمان دروازہ بند کرتی بیڈ پہ آ گئی۔بیڈ پہ لیٹتے ہی اسکی نظر سامنے دیوار پہ گئی۔دیوار پہ غزنوی کی تصویریں چھوٹے بڑے خوبصورت فریمز میں سجی ہوئیں تھیں۔وہ بیڈ سے اتر کر دیوار کے پاس آئی تھی۔ایک ایک تصویر کو بغور دیکھتے ہوئے وہ ایک تصویر کے سامنے آ کر رک گئی۔اس تصویر میں غزنوی کے ساتھ کمیل بھی کھڑا تھا۔کمیل کو دیکھ کر اسکے کانوں میں غزنوی کے الفاظ گونج گئے۔دل سے ایک ٹیس سی اٹھی تھی جو اسکے مسکراتے لبوں کو سنجیدگی کے پیراہن پہ لپیٹ گئی۔وہ واپس بیڈ کی طرف آ گئی۔اسی دوران شفیقہ چائے لئے کمرے میں داخل ہوئی۔
“بی بی۔۔۔چائے۔”
شفیقہ نے چائے کا کپ سائیڈ ٹیبل پہ رکھا۔وہ جو لیٹ رہی تھی سیدھی ہو بیٹھی۔
“بی بی۔۔گھر والے سب کیسے ہیں۔۔عقیلہ بیگم نے تو جیسے یہاں کا راستہ ہی بھولا دیا ہے ورنہ ہر مہینے داجی کے ساتھ ایک چکر ضرور لگاتی تھیں۔داجی بھی آپکے جانے کے بعد دوبارہ نہیں آئے۔”
شفیقہ نیچے کارپٹ پہ بیٹھتے ہوئے اس سے پوچھا۔
“سب ٹھیک ہیں۔۔بس گھر میں شادی تھی اس لئے سبھی مصروف تھے۔”
ایمان نے کپ اٹھاتے ہوئے مسکرا کر اس کی جانب دیکھا۔
“لو دیکھو۔۔۔مجھ بھلکڑ کو۔۔۔کیسی گزری شادی۔۔آپکا بھی تو ولیمہ ہو گا نا۔۔؟”
شفیقہ نے پر تجسس انداز میں پوچھا۔
“ہاں۔۔۔”
وہ مختصراً بولی۔
“اچھا بی بی آپ تھکی ہوئی ہیں آرام کریں۔۔کھانے میں کیا بنواؤں آپ کے لئے۔۔؟
وہ اسکا مختصر جواب سن کر اٹھ کھڑی ہوئی۔
“کچھ بھی بنا لو۔”
ایمان کے کہنے پہ وہ سر ہلاتی کمرے سے نکل گئی۔ایمان نے چائے ختم کی اور کپ ٹیبل پہ رکھ کر لیٹ گئی۔آنکھیں موندیں تو تھکاوٹ سے چور جلتی آنکھوں کو جیسے سکون سا ملا تھا۔
❣️
“شمائلہ زرا غزنوی کو فون کرو۔۔۔پہچنے کے بعد صرف ایک ہی بار ہی فون کیا تھا اور ایمان سے تو بات ہی نہیں ہو پائی۔”
شمائلہ بیگم کمرے میں داخل ہوئیں تو عقیلہ بیگم نے جو قرآن مجید کو جزدان میں رکھ رہی تھیں ان سے کہا۔
“جی شاہ گل کرتی ہوں۔۔۔۔ابھی کچھ دیر پہلے بھی میں نے کال کی تھی مگر وہ فون نہیں اٹھا رہا اور لینڈ لائن نمبر ہے نہیں میرے پاس۔”
وہ ان کے پاس آئیں اور کال ملا کر موبائل کان سے لگایا۔دوسری جانب بیل جا رہی تھی مگر غزنوی فون نہیں اٹھا رہا تھا۔انہوں نے وال کلاک کیطرف دیکھا۔رات کے آٹھ بج رہے تھے۔انہوں نے موبائل سائیڈ پہ رکھ دیا اور عقیلہ بیگم کی طرف دیکھا۔اسی دوران موبائل فون کی رنگ ٹون بجی۔شمائلہ بیگم نے اسکرین پہ نظر ڈالی تو غزنوی کا نمبر دیکھ کر جھٹ فون اٹھایا۔
“السلام علیکم امی۔۔۔کیسی ہیں آپ۔۔؟”
غزنوی ک آواز سن کر ان کے دل کو کچھ ڈھارس بندھی تھی۔
“وعلیکم السلام۔۔۔غزنوی بیٹا یہ کیا طریقہ ہے۔فون کیوں نہیں اٹھا رہے تھے۔۔تمھیں معلوم بھی ہے کہ میں اور تمھاری شاہ گل یہاں کتنے پریشان رہتے ہیں۔کم از کم ایک فون تو کر دیتے۔”
شمائلہ بیگم نے اسکی آواز سنتے ہی اسے ڈانٹا تھا۔
“ارے امی۔۔فون کیا تو تھا میں نے کہ ہم خیریت سے پہنچ گئے ہیں اور ابھی دو دن ہی ہوئے ہیں ہمیں آئے ہوئے۔۔آپ اور شاہ گل تو خواہ مخواہ پریشان ہوتیں ہیں۔ہم ٹھیک ٹھاک ہیں۔”
غزنوی نے انھیں تسلی دی۔”
تو پھر میرا فون کیوں نہیں اٹھا رہے تھے تم۔۔۔کتنی بار کال کر چکی ہوں۔”
وہ ابھی بھی غصے میں تھیں۔
“میں روم سے باہر تھا اسلئے پتہ نہیں چل سکا۔”
اس نے فون نہ اٹھانے کی وجہ پیش کی۔
“اچھا ایمان سے میری بات کرواؤ۔۔”
اب جب کہ غزنوی سے بات ہو گئی تھی تو انہوں نے مطمئن انداز میں کہا۔
“ایمان۔۔۔۔۔امی ایمان تو یہاں نہیں ہے۔”
غزنوی نے دھیرے سے کہا۔
“وہاں نہیں ہے سے کیا مراد۔۔۔۔وہ تمھارے ساتھ نہیں ہے کیا۔۔؟”
وہ ایک بار پھر پریشانی سے بولیں۔ان کے چہرے پہ ہوائیاں اڑتے دیکھ کر عقیلہ بیگم نے بھی اپنا دل تھام لیا۔
“ارے امی۔۔۔وہ گاؤں گئی ہے۔۔داجی سے کہا تھا اس نے کہ وہ گاؤں جانا چاہتی ہے۔میں خود ابھی آفس کے کام سے فارغ نہیں تھا اس لئے گل خان کاکا لے گئے ہیں اسے۔۔۔اگلے ہفتے میں جاؤں گا اسے لینے۔”
اس سے پہلے کہ وہ دونوں خواتین پریشان ہوتیں۔۔اس نے جلدی سے بتایا۔
“کیا۔۔۔۔؟؟ تم اس سے اتنے تنگ تھے غزنوی کہ تم نے اسے اگلے ہی دن گاؤں بھیج دیا۔۔۔شاباش بیٹا شاباش۔۔۔”
شمائلہ بیگم کا غصہ ایک بار پھر عود کر آیا۔
“یار امی۔۔۔آپ پہلے میری پوری بات تو سن لیں۔۔کیا آپ مجھے ایسا سمجھتی ہیں۔۔آپ کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ میں اتنا ظالم نہیں ہوں۔۔آپ کی بہو رانی کو ہی صبر نہیں تھا۔۔کہا بھی کہ کچھ دن انتظار کر لو، لے جاوں گا مگر نہیں۔۔بیگم صاحبہ کو کل ہی جانا تھا۔اب میں اسے ذبردستی روک تو نہیں سکتا تھا نا۔۔۔اسے جانا تھا سو چلی گئی۔باقی کی ڈیٹیل آپ اپنی بہو کو فون کر کے اس سے لے لیں۔”
غزنوی اپنے متعلق اپنی ماں کی قیاس آرائیاں سن کر غصے سے بولا۔
“تو تم ایک دن کے لئے اپنی مصروفیات کو ایک طرف نہیں رکھ سکتے تھے کیا۔۔۔معصوم بچی کو تمھارے حوالے کیا کیا تم نے تو آنکھیں ماتھے پہ ہی رکھ لیں۔”
انہوں نے اسکے غصے کی ذرا پرواہ نہ کی۔
“لاؤ دو مجھے۔۔میں خود بات کرتی ہوں۔”
عقیلہ بیگم کو ساری بات کا اندازہ ہو گیا تھا۔اس لئے انہوں نے شمائلہ بیگم کے ہاتھ سے فون لے لیا۔
“غزنوی بیٹا۔۔۔۔تم جلدی چلے جانا اسے لینے۔۔وہاں حالات نجانے کیسے ہوں۔۔تمھارے داجی بتا رہے تھے کہ ایمان کے والد کے وہی حالات ہیں۔۔جُوا کھیلنا اسکی زندگی ایک بار پھر اوڑھنا بچھونا بن گیا ہے۔۔بیٹا میں نہیں چاہتی، بلکہ تم بھی یقینا ایسا نہیں چاہو گے کہ وہ کسی مصیبت میں پھنسے۔”
عقیلہ بیگم نے دھیرے سے اپنی پریشانی، جو یہ سن کر کہ ایمان گاوں میں اکیلی ہے، اسکے کان میں انڈیلی۔۔جسے سن کر وہ بھی پریشان ہو گیا۔
“السلام علیکم شاہ گل۔۔۔!! آپ فکر نہ کریں۔۔گل خان کاکا وہیں ہیں۔ایمان انہی کے ساتھ گئی ہے۔میں بھی پرسوں تک چلا جاؤں گا۔وہ بہت ضد کر رہی تھی ورنہ میں ان کے ساتھ اسے نہ بھیجتا۔۔۔”
اس نے سلام کے بعد انھیں تسلی دی۔حالانکہ ان کی بات نے اسے پریشانی میں مبتلاء کر دیا تھا۔
“ٹھیک ہے بیٹا۔۔۔یاد سے چلے جانا۔۔میں بھی بات کرتی ہوں ایمان سے۔۔اللہ حافظ۔۔”
عقیلہ بیگم نے کال کاٹ کر شمائلہ بیگم کو حویلی فون ملانے کے لئے کہا۔شمائلہ بیگم نے فورا ان کی بات پر عمل کیا اور حویلی کال ملائی۔اگلی بیل پہ فون اٹھا لیا گیا۔دوسری جانب آواز شفیقہ کی تھی۔
“کیسی ہیں بڑی بی بی آپ۔۔۔؟”
شفیقہ نے سلام دعا کے بعد پوچھا۔
“ٹھیک ہوں شفیقہ۔۔تم سناؤ۔۔حویلی میں سب ٹھیک ہے؟”
شمائلہ بیگم جلد مدعے پہ آئیں۔
“اللہ کا کرم ہے بی بی۔۔۔سب ٹھیک ہے اور آج تو ایمان بی بی کے آنے سے رونق بھی ہو گئی ورنہ تو بھائیں بھائیں کرتی حویلی میں، میں بالکل اکیلی تھی۔”
شمائلہ بیگم کے دل کی بات شفیقہ کی زبان پہ تھی۔
“کہاں ہے ایمان۔۔۔ذرا میری بات کروانا۔”
انہوں نے آنکھوں کے اشارے سے عقیلہ بیگم کو ایمان کے حویلی میں موجود ہونے کے متعلق بتایا۔
“جی اچھا۔۔۔میں ابھی بات کرواتی ہوں آپ کی۔”
“شفیقہ ایک گلاس پانی تو پلانا۔”
شفیقہ ایمان کی آواز سن کر پلٹی۔
“لیجیئے ایمان بی بی خود ہی آ گئیں ہیں۔۔آپ بات کریں۔”
شفیقہ نے مسکراتے ہوئے فون اپنے پاس آتی ایمان کی طرف بڑھایا۔ایمان نے سوالیہ نظروں سے شفیقہ کو دیکھا اور فون کی طرف ہاتھ بڑھایا۔
“وہ جی شہر سے بڑی بی بی کا فون ہے۔آپ سے بات کرنا چاہتی ہیں۔”
شفیقہ نے اسکی سوالیہ نظروں کے جواب میں کہا۔ایمان شمائلہ بیگم کا سن کر فون کان سے لگایا۔
“السلام علیکم امی۔۔۔!!کیسی ہیں آپ؟ شاہ گل، داجی کیسے ہیں اور باقی گھر والے سب۔۔؟”
ایمان نے بیتابی سے پوچھا۔۔اسے یوں لگ رہا تھا جیسے وہ مدتوں بعد ان کی آواز سن رہی ہو۔
“سب ٹھیک ہیں۔۔تم کیسی ہو۔۔؟ اپنے بابا سے ملنے تو نہیں گئیں؟”
شمائلہ بیگم نے اس سے پوچھا۔
“میں بالکل ٹھیک ہوں۔۔ابھی بابا سے ملنے نہیں گئی۔”
اس کی آواز سے بےانتہا خوشی چھلک رہی تھی۔
“ایمان بیٹا۔۔۔!! کیا غزنوی نے تمھیں زبردستی بھیجا ہے۔۔سچ بتانا۔۔”
شمائلہ بیگم نے اس سے پوچھا۔ان کی بات سن کر ایمان ایک پل کو خاموش رہ گئی۔
“نہیں امی۔۔۔ایسا نہیں ہے۔۔میں خود ہی ضد کر کے آئی ہوں۔ایک دو دن میں غزنوی بھی آئیں گے مجھے لینے۔”
ایمان دھیرے سے بولی۔
“اچھا ٹھیک ہے بیٹا۔۔۔یہ لو شاہ گل سے بات کرو۔”
شمائلہ بیگم نے فون عقیلہ بیگم کی طرف بڑھایا۔۔عقیلہ بیگم نے فون کان سے لگایا۔سلام دعا کے بعد وہ بھی اپنی تسلی کے لیے اس سے غزنوی کے رویے کے بارے میں پوچھ رہی تھیں۔ایمان نے انہیں بھی اپنی طرف سے مطمئن کرنے کی پوری کوشش کی اور وہ بھی مطمئن ہو گئیں تھیں۔
“ایمان اپنے بابا سے ملنے جاؤ گی تو شفیقہ کو ساتھ لے کر جانا۔۔”
عقیلہ بیگم نے ایمان سے کہا۔وہ حیران تھی کہ وہ ایسا کیوں کہہ رہی ہیں۔
پہلے غزنوی نے اسے حویلی میں رہنے کا کہا تھا اور اب عقیلہ بیگم بھی اس سے یہی بات کر رہی ہیں کہ ایک تو وہ وہاں قیام نہ کرے اور دوسرا شفیقہ کو ساتھ لے کر جائے۔وہ سمجھنے سے قاصر تھی کہ وہ دونوں ایسا کیوں کہہ رہے ہیں جبکہ اب تو سب ٹھیک ہو گیا ہے۔
“ٹھیک ہے شاہ گل۔۔اور آپ سنائیں باقی سب ٹھیک ہیں۔آپ سب کو لے کر آئیں نا میرے پاس اسلام آباد۔۔میں نے آپ سب کو بہت مس کیا۔”
ایمان نے ذہہن میں آتے خیالات کو جھٹکا اور ان سے سب کے متعلق پوچھنے لگی۔
“تو ایک فون کر لیتی۔۔ہمیں تھوڑی تسلی مل جاتی۔۔میں اور تمھاری ساس پریشان ہو رہے تھے۔”
عقیلہ بیگم نے تکیے سے ٹیک لگائی۔
“کیسے کر لیتی۔۔ایک تو میرے پاس موبائل فون نہیں ہے اور دوسرا گھر میں لینڈ لائن فون بھی نہیں لگا ہوا۔”
ایمان نے انھیں اپنی مجبوری بتائی۔
“ہاں غزنوی بتا رہا تھا کہ اس نے درخواست دے رکھی ہے جلد ہی لگ جائے۔ہم آئیں گے تم سے ملنے اسلام آباد۔۔بچیاں بھی کہہ رہی تھیں۔ویسے بھی اگلے ماہ سے رمضان بھی شروع ہونے والا ہے تو تم دونوں رمضان یہیں گزارو ہمارے ساتھ، پھر عید کر کے لوٹ جانا۔”
عقیلہ بیگم نے اسکی بےچینی محسوس کرتے ہوئے کہا۔
“کیا۔۔۔آپ سچ کہہ رہی ہیں؟”
وہ ان کی بات سن کر خوشی سے بولی۔
“ہاں بالکل۔۔”
وہ اسکے بچوں کے سے انداز میں پوچھنے پر مسکرا دیں۔
“سچ شاہ گل۔۔آپ نے تو میرے دل کی بات کہہ دی۔”
وہ بہت خوش تھی۔
“اچھا ٹھیک ہے۔۔اپنا خیال رکھنا۔۔اللہ حافظ۔”
عقیلہ بیگم نے خدا حافظ کہا تو اس نے بھی انھیں اپنا خیال رکھنے کی تاکید کرتی فون رکھ دیا۔
“یہ لیں پانی۔۔”
وہ فون رکھ کر شفیقہ کیطرف پلٹی تو اس نے پانی کا گلاس اس کی طرف بڑھایا۔
“وہ جی گل خان پوچھ رہا تھا کہ آپ آج جائیں گی اپنے والد سے ملنے یا وہ آپ کو کل لے چلے۔۔؟”
شفیقہ نے اسے گل خان کا پیغام دیا۔ایمان نے پانی کر گلاس اس کے حوالے کیا۔اس کے ذہہن میں عقیلہ بیگم کے الفاظ گونج رہے تھے۔وہ اس وجہ کو سوچ رہی تھی جس کی وجہ سے وہ اسے حویلی میں رہنے کا کہہ رہی تھیں۔
“بی بی۔۔۔آپ نے بتایا نہیں۔۔گل خان سے کیا کہوں؟”
شفیقہ نے اسے سوچوں میں گم دیکھ کر دوبارہ پوچھا۔
“آں ہاں۔۔۔آج نہیں کل جاؤں گی۔”
وہ اس سے کہتی اپنے کمرے کیطرف پلٹ گئی۔اس کے دل میں بھی اب خدشے سر اٹھانے لگے تھے۔اپنے کمرے کیطرف جاتے ہوئے اس کے ذہہن میں کئی سوال تھے۔اسے یہ بات ہضم نہیں ہو رہی تھی کہ وہ سب کیوں اسے باپ سے ملنے۔۔خاص طور پر اکیلے ملنے سے روک رہے تھے مگر بیڈ پہ لیٹتے ہی وہ تمام خدشات کو کل پہ اٹھا کر آنکھیں موند گئی۔
💚
اگلے دن وہ گل خان اور شفیقہ کے ساتھ گھر آئی تھی۔رشید خان گھر پہ موجود نہیں تھا۔۔گھر کا دروازہ کھلا تھا اور حالت بہت خراب تھی۔گل خان گھر سے کچھ فاصلے پر موجود درختوں کے سائے میں گاڑی کھڑی کیے خود بھی وہیں موجود تھا۔ایمان نے شفیقہ کے ساتھ مل کر گھر کی بکھری حالت کو سمیٹا اور رشید خان کا انتظار کرنے لگی۔تقریبا دو گھنٹے کے انتظار کے بعد رشید خان گھر میں داخل ہوا۔وہ دونوں برآمدے میں چارپائی پہ بیٹھیں تھیں۔ایمان کو والد کی یاد تو آ ہی رہی تھی مگر گھر آ کر اور گھر کی حالت دیکھ کر ماں کی یاد بھی شدت سے آنے لگی۔کام کے دوران بار بار اسکی آنکھیں بھیگ جاتیں، جنھیں وہ اپنے سفید پلو سے پونچھ ڈالتی۔
رشید خان نے جیسے ہی دروازے سے اندر قدم رکھا، وہ تیز قدموں سے اسکی طرف آئی۔رشید خان بھی اسے یوں اچانک دیکھ کر بیک وقت حیران اور خوش تھا۔ایمان کتنی ہی دیر اس کے سینے سے لگی روتی رہی۔
“بس بیٹا۔۔۔بس کرو۔۔”
رشید خان نے سینے سے لگی ایمان کو خود سے الگ کیا۔
“بابا کیا میں آپکو یاد نہیں آتی تھی۔۔ایک بار بھی مجھ سے ملنے نہیں آئے؟”
ایمان نے باپ کے سینے سے لگتے ہوئے شکایت کی۔
“یاد تو آتی تھی۔۔۔لیکن بس کام کی وجہ سے ملنے نہیں آ سکا۔۔تم سناؤ خوش ہو نا۔۔؟”
رشید خان اسکے ساتھ قدم اٹھاتے ہوئے برآمدے میں بچھی اکلوتی چارپائی کی جانب آ گیا۔شفیقہ وہاں سے اٹھ کر اندر کمرے میں چلی گئی تھی۔دونوں باپ بیٹی کافی دیر تک راز ونیاز کرتے رہے۔ایمان کو ان کی حالت میں کوئی سدھار نہیں لگ رہا تھا۔
“بابا۔۔۔میں نے سنا ہے کہ آپ پھر سے بادشاہ خان کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے لگے ہیں اور اس کے جوے کے اڈے پر بھی جاتے ہیں۔”
ایمان نے عقیلہ بیگم کی بات کے پیش نظر ہوا میں تیر چھوڑا۔
“نہیں ایسا نہیں ہے۔۔کس نے کہا ایسا۔۔؟”
پہلے تو ایمان کے اس طرح پوچھنے پر وہ گھبرا گیا لیکن پھر اپنی گھبراہٹ پر قابو پاتے ہوئے بولا۔
“بابا۔۔۔سچ کب چھپتا ہے۔۔آپ کی اور گھر کی حالت تو کچھ اور ہی کہہ رہی ہے۔”
وہ رشید خان کیطرف بغور دیکھ رہی تھی۔
“ارے دیکھو میں تو بھول ہی گیا۔۔شادی کے بعد پہلی بار تم اپنے باپ کے گھر آئی ہو اور میں نے تمھاری کوئی خاطر مدارت بھی نہیں کی۔”
رشید خان فورا اٹھ کھڑا ہوا۔۔صاف ظاہر تھا کہ وہ اس کے سوالوں اور ٹٹولتی نظروں سے بچنا چاہ رہا تھا۔
“نہیں بابا۔۔۔میں ابھی ناشتہ کر کے آئی ہوں۔۔آپ بس میرے پاس بیٹھیں۔۔”
اس نے انھیں روکنا چاہا۔
“اچھا لیکن کھانا میرے ساتھ کھاؤ گی۔”
وہ ہاتھ چھڑاتا بیرونی دروازے کی طرف بڑھ گیا۔ایمان افسوس سے سر ہلاتی رہ گئی۔رشید خان کے جانے کے بعد شفیقہ کمرے سے باہر آ گئی۔
“بی بی صاحب۔۔۔گھر کب جانا ہے؟”
شفیقہ نے اپنی کالی چادر سے پسینہ پونچھتے ہوئے پوچھا۔
“شفیقہ تم ایسا کرو کہ گل خان کاکا کے ساتھ گھر چلی جاؤ۔۔ظہر کے بعد ان کو بھیج دینا۔۔میں دوپہر کا کھانا بابا کے ساتھ کھاؤں گی۔”
“جی ٹھیک ہے۔۔جیسا آپ کہو۔۔لیکن جب تک وہ واپس نہیں آتے میں رکتی ہوں آپ کے پاس۔”
شفیقہ چارپائی پہ بیٹھ گئی۔
“اچھا ٹھیک ہے۔۔”
ایمان نے نیلے آسمان پہ نظر ڈالی جہاں کبوتروں کا غول گول چکر لگا رہا تھا۔گول گول چکر لگاتے کچھ دیر کے لئے وہ نظروں سے اوجھل ہو جاتے تھے۔
“بی بی صاحب آپ بالکل اپنی والدہ جیسی ہوں گی۔۔رشید خان سے تو آپکی زرا شکل نہیں ملتی۔۔”
شفیقہ اسے لگاتار آسمان کیطرف دیکھتا پا کر بغور اسکا جائزہ لیتے ہوئے بولی تاکہ ایمان اسکی طرف متوجہ ہو جائے۔
“ہاں۔۔لیکن میری آنکھوں کا رنگ بالکل بابا کی آنکھوں کے جیسا ہے۔”
ایمان نے اسکی طرف دیکھا۔شفیقہ نے اسکی بھوری کانچ جیسی آنکھوں میں جھانکا تھا۔
“کیسی تھیں آپکی والدہ۔۔۔۔؟”
شفیقہ بہت باتونی تھی۔۔خاموش رہنا نہیں سیکھا تھا اس نے۔۔ایک دن میں اسے کافی اندازہ ہو گیا تھا۔
“بہت اچھی۔۔بہت محبت کرنے والی تھیں میری اماں۔۔۔”
وہ کھوئے کھوئے انداز میں بولیں۔۔ماں کے ذکر پر اسکی آنکھیں نم ہو گئیں تھیں لیکن لبوں پہ مسکان لئے وہ اسے ان کے بارے میں بتانے لگی۔۔انہی باتوں میں کافی وقت بیت گیا۔رشید خان ابھی تک واپس نہیں آیا تھا۔
“بابا نے کنتا وقت لگا دیا ہے۔۔نجانے کہاں چلے گئے ہیں۔تم چلی جاؤ حویلی۔۔”
اس نے ہاتھ پہ بندھی گھڑی پہ نظر ڈالی۔۔گھڑی کی سوئیاں ساڑھے بارہ کا ہندسہ پار کر گئیں تھیں۔
“ہاں جی۔۔۔کافی ٹائم ہو گیا اور ہمیں وقت گزرنے کا پتہ ہی نہیں چلا۔”
شفیقہ نے بند دروازے کو دیکھا۔اسی دوران رشید خان دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا۔
“آ گئے ہیں۔۔”
شفیقہ نے دروازے سے اندر آتے رشید خان کو دیکھ کر کہا۔
اس نے بیرونی دروازے سے اندر آتے رشید خان کی طرف دیکھ کر شفیقہ کو جانے کا اشارہ کیا۔۔
“لیکن بی بی۔۔شاہ گل نے کہا تھا کہ جب تک آپ یہاں رہیں میں آپکے ساتھ رہوں۔”
شفیقہ نے اسے یاد دہانی کرائی۔
“معلوم ہے مجھے۔۔۔۔وہ میرے بابا ہیں۔مجھے ان سے کیا خطرہ ہو سکتا ہے۔۔۔تم جاؤ۔۔۔”
یہ کہہ کر وہ اٹھی اور رشید خان کیطرف بڑھ گئی۔
“کیا لائے ہیں بابا۔۔۔؟”
اس نے مسکراتے ہوئے رشید خان کے ہاتھ سے شاپر لیا۔
“مچھلی لایا ہوں۔۔۔تمھیں پسند ہے نا۔۔”
رشید خان نے اسکے سر پر ہاتھ رکھا۔اسی دوران شفیقہ خدا حافظ کہتی بیرونی دروازے سے باہر نکل گئی۔ایمان شاپر اٹھائے کچن میں آ گئی۔شفیقہ کے جانے کے بعد رشید خان نے دروزاہ بند کیا اور ایمان کے پیچھے کچن میں آ گیا۔
“بابا۔۔۔ایک بات کہوں؟”
ایمان نے تلی ہوئی مچھلی کے ٹکڑوں کو پلیٹ میں نکالتے ہوئے پوچھا۔
“ہاں کہو۔۔”
وہ اسے بغور دیکھتے ہوئے بولا۔
“بابا۔۔۔جب تک میں یہاں ہوں۔آپ میرے پاس حویلی آ کر رہیں۔۔میں اکیلی ہوں وہاں۔آپ میرے ساتھ آ کر رہیں گے تو مجھے اچھا لگے گا۔”
اس نے مچھلی کا ایک ٹکڑا اٹھا بڑی محبت سے باپ کے منہ میں ڈالا۔
“رہنے تو نہیں مگر تم سے ملنے آؤں گا۔۔کتنے دن تک یہاں ہو اور تمھارا شوہر آیا ہے تمھارے ساتھ یا نہیں؟”
رشید خان غزنوی کا پوچھا۔
“انہیں بہت ضروری کام تھا اس لئے میں گل خان کاکا کے ساتھ آئی ہوں۔ایک دو دن تک وہ آئیں گے مجھے لینے۔”
غزنوی کے ذکر سے دل میں اٹھتی ٹیسوں نے اسے بےکل کر دیا۔لیکن جلد ہی خود پہ قابو پا کر بولی۔
“تم خوش ہو نا۔۔؟”
رشید خان نے اپنے منہ کیطرف بڑھتا اسکا ہاتھ بیچ میں ہی روک لیا۔
“جی بابا۔۔۔بہت خوش ہوں۔سب میرا بہت خیال رکھتے ہیں۔”
وہ دھیرے سے بولی۔
“اللہ تمھیں ہمیشہ خوش رکھے۔۔آمین۔۔!! چلو آؤ کھانا کھاتے ہیں۔تمھیں بھی بھوک لگ رہی ہوگی۔میں نے بھی صبح صرف ایک پیالی چائے کی پی ہے۔”
رشید خان نے اسے پلیٹ میں چٹنی نکالتے دیکھکر کہا۔ایمان نے ٹرے میں چٹنی، مچھلی اور روٹیاں رکھیں اور دونوں باپ بیٹی کچن سے باہر آ گئے۔
“بابا یہ تو بہت مزے کی ہے۔۔”
ایمان نے پہلا لقمہ منہ میں ڈالتے ساتھ ہی کہا۔مچھلی واقعی بہت ذائقے دار تھی۔کانٹے بھی کم تھے۔اسے شروع سے ہی مچھلی بہت پسند تھی۔اماں اس کے لئے کبھی کبھار گھر میں بنایا کرتی تھیں۔
“ہاں۔۔۔وہ گل شیر ہوٹل والا تھا نا۔۔۔وہی بناتا ہے اپنے ہوٹل میں۔۔سارے گاؤں کو بہت پسند ہے۔اس لئے دن بدن ترقی کر رہا ہے۔”
رشید خان نے اسے یاد دلایا۔
“جی جی۔۔۔مجھے یاد ہے۔۔”
ایمان یاد آنے پر بولی۔پھر یونہی ادھر ادھر کی باتوں میں دونوں نے کھانا کھایا۔اس کے بعد ایمان نے قہوہ بنایا۔جب تک وہ قہوہ بناتی رہی رشید خان اسکے پاس ہی کھڑا رہا۔
“یہ لیں بابا۔۔۔”
اس نے کپ رشید خان کیطرف بڑھایا۔رشید خان نے اس کے ہاتھ سے کپ لیا اور کچن سے باہر آ گیا۔ایمان بھی اپنا کپ ہاتھ میں لئے اس کے پیچھے آئی تھی۔دونوں نے خاموشی سے قہوہ پیا، یوں جیسے باتیں ختم ہو گئی ہوں۔کچھ دیر بعد ایمان ظہر پڑھنے کے لئے اٹھ گئی اور رشید خان چارپائی پہ لیٹ گیا۔تھوڑی دیر بعد ہی برآمدے میں اسکے خراٹے گونجنے لگے تھے۔وہ برآمدے میں ہی ایک جانب کھڑی نماز ادا کر رہی تھی۔نماز پڑھنے کے بعد وہ بھی اندر کمرے میں آ گئی اور چارپائی پر لیٹ کر اس گھر میں گزرے لمحوں کو یاد کرنے لگی۔۔
🏵️
گاوں آئے آج اسے چوتھا دن تھا۔اس دن کے بعد وہ دوبارہ اپنے گھر نہیں گئی تھی لیکن اگلے دن رشید خان اس سے ملنے حویلی آیا تھا۔پھر اسی رات ایمان کے بہت اسرار پر وہ رات وہیں حویلی میں رہا۔وہ تو اگلے دن بھی اسے روکنا چاہتی تھی مگر رشید خان کام کا بہانا کر کے چلا گیا تھا۔کرنے کو کچھ خاص کام نہیں تھے بس کچن میں شفیقہ کی تھوڑی مدد کر دیتی تھی۔حالانکہ ایک بندے کا کام ہی کتنا ہونا تھا۔پھر بھی شفیقہ کے لاکھ منع کرنے کے باوجود وہ اس کے ساتھ حویلی کے دیگر کاموں میں بھی لگی رہتی۔شفیقہ وہاں اکلوتی ملازمہ نہیں تھی۔دوسری دو ملازمائیں چھٹی پر تھیں۔
“تم رہنے دو۔۔۔چائے میں خود بنا لوں گی۔”
شفیقہ اسے کچن میں آتا دیکھ کر اس کے لئے چائے بنانے لگی تھی کہ اس نے منع کر دیا۔
“بی بی میں بنا دیتی ہوں۔”
شفیقہ نے ساس پین میں نل سے پانی لیتے ہوئے اسکی طرف دیکھا۔
“تم باقی کام دیکھ لو۔۔۔لاؤ۔۔”
ایمان نے اسکے ہاتھ سے ساس پین لے لیا۔
“جی ٹھیک ہے۔۔”
شفیقہ کچن سے نکل گئی۔اس نے اپنے لئے چائے بنائی اور کپ لئے حویلی کی پچھلی جانب بنے لان میں آ گئی۔شام کا وقت قریب تھا۔ہلکی ہلکی ہوا نے موسم کو کافی حد تک خوشگوار کر دیا تھا۔وہ دھیرے دھیرے چلتی پھولوں کی باڑ کے پاس بنے سنگی بینچ پر آ بیٹھی۔۔لان کے دائیں جانب بیرونی دیوار کے ساتھ بڑے بڑے پتھروں کو جوڑ کر آبشار کی طرز کا فوارہ بنایا گیا تھا۔جس سے پانی ایک تسلسل سے بہہ رہا تھا۔پانی بہنے کی آواز نے خاموشی میں ایک ہلکا سا شور پیدا کر رکھا تھا۔
یہاں کا سکون اسے اپنے اندر تک اترتا محسوس ہوا۔جو بے قراری اور بےچینی وہ اپنے ساتھ لائی تھی۔اب اسکی جگہ سکون نے لے لی تھی۔چائے ختم ہوئی تو کپ وہیں بینچ پہ رکھتی وہ فوارے کے پاس آ گئی اور وہیں بیٹھ گئی۔اب اسکا ہاتھ پانی میں دائیں سے بائیں لہریں بنا رہا تھا۔
“کیا ہو رہا ہے۔۔۔؟”
ایک مانوس سی آواز اسکے کانوں سے ٹکرائی تھی۔وہ فورا پلٹی اور سامنے والے کو دیکھ کر وہیں ساکت رہ گئی۔
غزنوی سنجیدہ تاثرات لئے اسے دیکھ رہا تھا۔
“آ۔۔۔آپ۔۔۔آپ کب آئے؟”
وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔
“ابھی کچھ دیر پہلے۔۔تم ٹھیک ہو۔۔؟”
وہ پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے اسے بغور دیکھتے ہوئے بولا۔سبز رنگ کے پرنٹڈ سوٹ میں وہ ہمیشہ کیطرح اسے بہت منفرد لگی۔
“میں ٹھیک ہوں۔”
وہ نظریں جھکا گئی۔غزنوی کی نظروں سے لڑنا اس کے بس میں نہیں تھا۔
“چلیں۔۔۔۔”
غزنوی نے اسے ساتھ آنے کا کہتے ہوئے قدم بڑھائے۔
“شاہ گل نے فون کیا تھا۔انہوں نے کہا ہے کہ ہم رمضان ان کے ساتھ گزاریں۔تمھارا کیا خیال ہے اس بارے میں۔۔؟”
وہ اسے شاہ گل کے فون اور ان کی خواہش کے بارے میں بتانے لگا۔
“میری بات بھی ہوئی تھی ان سے تو مجھ سے بھی یہی کہا تھا۔”
ایمان اس کے چہرے کے تاثرات سے اندازہ لگانے لگی کہ وہ کیا چاہتا ہے مگر وہاں سوائے سنجیدگی کے کچھ نہیں ملا۔
“ابھی تو بزنس سیٹ اپ ہوا ہے۔۔فلحال تو میں نے انھیں منع کر دیا ہے۔۔لیکن یہ کہا ہے کہ ہم عید ان کے ساتھ گزاریں گے۔۔۔ٹھیک ہے نا۔۔۔؟”
وہ رک کر اسکی جانب مڑا۔
“لیکن میں۔۔۔۔۔۔۔”
وہ رکی۔
“تم کیا۔۔۔۔؟”
غزنوی نے اسقدر سنجیدگی سے پوچھا کہ وہ آگے کچھ بول ہی نہ سکی۔
“میں جہاں رہوں گا۔۔۔تم بھی وہیں رہو گی۔۔ہم نے ایک گھنٹے میں اسلام آباد کے لئے نکلنا ہے۔۔تم اپنا سامان رکھ لو۔”
وہ دبے دبے رعب سے کہتا تیز تیز قدم اٹھاتا اندر کیطرف بڑھ گیا جبکہ ایمان دل مسوس کر رہ گئی۔کتنی خوش تھی وہ شاہ گل کی بات سن کر۔۔لیکن اب اسے اپنی بیچارگی پہ رونا آنے لگا۔وہ خود تو حکم سنا کر اندر چلا گیا تھا جبکہ وہ وہیں برآمدے کی سیڑھیوں پہ بیٹھ گئی۔
پھر اگلے ایک گھنٹے میں وہ حویلی سے نکل آئے تھے۔۔لیکن سفر پہ روانہ ہونے سے پہلے وہ ایمان کو رشید خان سے ملوانے لے گیا۔رشید خان غزنوی کو دیکھکر بہت خوش ہوا تھا۔کچھ دیر وہاں گزار کر وہ نکل آئے تھے۔غزنوی نہایت سنجیدگی سے ڈرائیو کر رہا تھا۔ساتھ ہی بیٹھی ایمان بھی خاموشی کے سارے ریکارڈ توڑے بیٹھی تھی مگر دل ہی دل وہ غزنوی کو خوب صلواتیں سنا رہی تھی۔
پھر اگلے ایک گھنٹے میں وہ حویلی سے نکل آئے تھے۔۔لیکن سفر پہ روانہ ہونے سے پہلے وہ ایمان کو رشید خان سے ملوانے لے گیا۔رشید خان غزنوی کو دیکھکر بہت خوش ہوا تھا۔کچھ دیر وہاں گزار کر وہ نکل آئے تھے۔غزنوی نہایت سنجیدگی سے ڈرائیو کر رہا تھا۔ساتھ ہی بیٹھی ایمان بھی خاموشی کے سارے ریکارڈ توڑے بیٹھی تھی مگر دل ہی دل میں وہ غزنوی کو صلواتیں سنانا نہیں بھولی تھی۔
سارا راستہ اسی خاموشی کی نظر ہو گیا تھا۔وہ تقریبا گیارہ بجے اسلام آباد پہنچے تھے۔
غزنوی کے ہارن دینے پر شاہدہ نے دروازہ کھولا۔گل خان ایک دن مزید رک گیا تھا گاوں میں۔۔آہنی گیٹ کھلتے ہی گاڑی سیدھی پورچ میں جا رکی۔ایمان گاڑی سے نکل کر اندر کیطرف بڑھ گئی۔وہ سیدھی اپنے روم میں آئی تھی، لائٹ آن کی۔
“السلام علیکم بی بی۔۔!!”
وہ الماری سے اپنے کپڑے نکال رہی تھی کہ شاہدہ کمرے میں داخل ہوئی۔
“وعلیکم السلام۔۔!! کیسی ہو شاہدہ۔۔؟”
اس نے کپڑے نکال کر الماری بند کی۔
“میں ٹھیک ہوں بی بی۔۔۔آپ کیسی ہیں؟”
شاہدہ نے اس سے پوچھا۔
“میں بھی ٹھیک ہوں۔”
ایمان کپڑے لئے واش روم کیطرف بڑھ گئی۔
“وہ جی میں صاحب کے لئے چائے بنا رہی ہوں۔۔آپ لیں گی؟”
شاہدہ نے اپنے آنے کا مقصد بیان کیا۔
“ہاں لے آؤ۔۔۔”
یہ کہہ کر وہ واش روم میں گھس گئی۔تھوڑی دیر بعد وہ فریش ہو کر باہر آئی تو شاہدہ اسکے لئے چائے رکھ کر جا چکی تھی۔گیلے بالوں کا جوڑا بناتی وہ ٹیبل سے کپ اٹھاتی بیڈ پہ آ گئی۔ابھی چائے ختم کر کے کپ سائیڈ ٹیبل پہ رکھا ہی تھا کہ غزنوی کمرے میں داخل ہوا۔وہ جو تکیے سے ٹیک لگائے نیم دراز تھی غزنوی کے یوں اچانک وارد ہونے پر سیدھی ہوئی۔
“تم کس کی اجازت سے یہاں سو رہی ہو؟”
وہ لڑنے کے انداز میں کمر پہ ہاتھ رکھے اس سے مخاطب تھا۔
“کیا مطلب؟”
وہ پیشانی پہ بل ڈالے بیڈ سے اتری۔
“مطلب یہ کہ میرا اور اپنا تماشا مت بنواؤ۔۔۔تم وہیں رہو گی میرے ساتھ، میرے روم میں۔”
غزنوی نے اسے بازو سے پکڑ کر قریب کیا۔
“مم۔۔میں یہیں ٹھیک ہوں۔۔۔”
اس نے اپنا بازو چھڑانا چاہا۔۔وہ اسکی آنکھوں میں دیکھنے سے گریز کر رہی تھی۔
“اس کا فیصلہ میں کروں گا۔”
غزنوی نے اسکے بازو کو جھٹکا دیا لیکن چھوڑا نہیں۔۔۔پھر زبردستی اپنے کمرے میں لا کر اسے اپنی گرفت سے آزاد کیا۔
“لائٹ آف کرو۔۔”
وہ بارعب لہجے میں کہتا بیڈ کی طرف بڑھا۔۔ایک تو غزنوی کا خوف اوپر سے کمرے میں اے۔سی کی ٹھنڈک۔۔۔ایمان پہ کپکپی طاری ہو گئی تھی۔جی چاہ رہا تھا کہ ابھی یہاں سے بھاگ جائے لیکن پھر مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق وہ لائٹ آف کرتی بیڈ پہ آ گئی۔کچھ دیر تو یونہی لیٹی اے۔سی کی ٹھنڈک برادشت کرتی رہی مگر پھر ہاتھ بڑھا کر کمبل سر تک تان کر رخ پھیر گئی۔
جاری ہے۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *