Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj NovelR50730 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode02
No Download Link
634K
18
Rate this Novel
Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode01 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode02 (Watching)Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode03 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode04 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode05 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode06 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode07 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode08 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode09 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode10 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode11 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode12 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode13 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode14 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode15 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode16 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode17 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Last Episode
Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode02
Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode02
دو دنوں میں وہ اچھی طرح گھر کے لوگوں سے واقفیت حاصل کر چکی تھی۔لڑکیاں تو سبھی اس سے اچھی خاصی دوستی گانٹھ چکی تھیں اور لڑکوں میں سے ابھی صرف وہ مصطفی سے ہی مل پائی تھی کیونکہ باقی سب لڑکے آؤٹنگ کے لئے مری گئے ہوئے تھے۔اتنی محبتوں کے باوجود وہ یہاں ایڈجسٹ نہیں ہو پائی تھی۔سب اُوپرا اُوپرا سا لگ رہا تھا۔وہ خود کو اجنبی محسوس کرتی تھی۔جس کے لئے ذمہ دار غزنوی کا اُکھڑا رویہ تھا۔اس دن کے بعد سے وہ غزنوی کے روم میں رہنے لگی تھی۔اس نے اپنا چند پرانے کپڑوں پہ مشتمل سامان الماری میں ترتیب سے رکھ دیا تھا۔سارا دن تو باہر خود کو کسی نہ کسی کام میں مگن رکھتی تھی۔رات کو سونے کے لئے کمرے میں آتی تھی۔دوسری جانب غزنوی کا رویہ پہلے دن کی طرح ہی تھا۔وہ اس سے بات کرنا تو درکنار اسے مخاطب بھی نہیں ہوتا تھا۔کمرے میں ہوتا تو یوں ظاہر کرتا جیسے وہ کمرے میں موجود ہی نہ ہو۔وہ اسکے وجود سے قطعی لاپروائی برت رہا تھا۔اسکی کیا ضروریات ہیں۔۔یہاں کیسے رہتی ہے، غزنوی کو رتی برابر بھی پرواہ نہیں تھی۔صبح اٹھتا، ناشتہ کر کے آفس چلا جاتا۔ایک وہی تھی جو خاموشی سے اس کے سارے کام کیے جاتی۔سب کے الگ الگ پورشنز تھے اس لئے دن میں خاموشی کا راج ہوتا۔شام کی چائے سب مل کر پیتے تھے۔ملائکہ سے اس کی گاڑھی چھنتی تھی۔ایک تو وہ اس کے ہم عمر تھی دوسرا غزنوی کی بہن بھی تھی۔عائشہ تو بیاہی ہوئی تھی۔اس کی شادی شمائلہ بیگم کی بہن کے بیٹے محمد ولی سے ہو چکی تھی۔دونوں کا ایک پیارا سا بیٹا بھی تھا۔ایمان اب تک اس سے مل نہیں پائی تھی کیونکہ وہ بھی اپنی فیملی کے ساتھ نادرن ایریاز گئی ہوئی تھی۔ملائکہ تقریباً سارا دن اسکے ساتھ گزارتی تھی۔شاہ گل، شمائلہ بیگم اور مکرم احمد سبھی اس کا بہت خیال رکھتے تھے مگر پھر بھی ناپسندیدگی کا دکھ اندر ہی اندر اسکی مسکراہٹوں کی جڑیں کاٹ رہا تھا اور خاموشی دھیرے دھیرے اسکی ذات کا حصہ بنتی جا رہی تھی۔اس وقت بھی غزنوی اور مکرم احمد کے جانے کے بعد وہ اپنے کمرے میں آ گئی تھی۔ناشتے کی ٹیبل پہ مکرم صاحب نے انھیں داجی کی آمد کے متعلق بتایا تھا۔شاہ گل اور شمائلہ بیگم سر جوڑے بیٹھی تھیں۔ملائکہ بھی کالج جا چکی تھی۔کمرے کی بےترتیبی نے اسکا استقبال کیا۔ایسا تقریباً روز ہی ہوتا تھا۔شمائلہ بیگم نے اسے غزنوی کی ڈسپلنڈ پرسنیلٹی کے بارے میں بتایا تھا۔انہوں نے اسے بتایا تھا کہ جب وہ صبح صفائی کی غرض سے شگفتہ کے ساتھ کمرے میں آتی تھیں تو ہر چیز ترتیب سے اپنی جگہ پہ پڑی ہوتی تھی یوں جیسے اپنی جگہ سے ہلائی تک نہ گئی ہو مگر اسے تو وہ ان کی باتوں کے بالکل برعکس لگتا تھا۔جو چیز وہ اٹھاتا وہ اپنی جگہ کی بجائے کہیں اور ہی پڑی ملتی تھی۔پتہ نہیں وہ ایسا تھا یا جان بُوجھ کر ایسا کرتا تھا یہ سوچے بغیر وہ ایک ایک چیز اٹھا کر اپنی اپنی جگہ پہ رکھتی رہتی تھی۔
“شاید میری زندگی اب ایسے ہی گزرے گی۔”
وہ بیڈ سے تولیہ اٹھا کر باتھ روم کی طرف جاتے ہوئے خود سے بولی تھی۔شاید وہ خود کو یہ باور کروانا چاہتی تھی کہ اب اسکی زندگی ایسے ہی گزرے گی۔واپس آ کر بیڈ سے غزنوی کی شرٹ اٹھائی۔۔۔اسکے پرفیوم کی ہلکی سی مہک اس کے نتھنوں سے ٹکرائی تو اس نے شرٹ کو ناک کے قریب لے جا کر گہری سانس لی اور اسکی مخصوص مہک کو اپنے اندر اتارا۔اسے لگا وہ اس کے آس پاس ہی کہیں موجود ہو۔ایک بےجان سی مسکراہٹ نے اسکے لبوں کو چُھوا تھا۔
“ایمان۔۔۔!”
شاہ گل کی آواز پہ اس نے جھٹ شرٹ بیڈ پہ پھینکی۔یوں جیسے چوری پکڑی گئی ہو۔شاہ گل کمرے میں داخل ہوئیں۔
“ایمان تمھاری ساس بازار جا رہی ہے۔تم بھی ان کے ساتھ جا کر کچھ خریداری کر لو۔۔کب سے دیکھ رہی ہوں کہ یہ کچھ ہی کپڑے ہیں تمھارے پاس جنھیں استعمال کر رہی ہو۔میں نے کتنی مرتبہ غزنوی سے بھی کہا ہے مگر وہ کام کا بہانا کر کے آج کل پہ ٹال جاتا ہے۔”
وہ اس کے قریب آئیں۔
“شاہ گل میرے پاس ہیں۔۔ضرورت نہیں ہے مجھے اور میں نے کہاں جانا ہوتا ہے گھر پہ ہی تو ہوتی ہوں۔”
اس نے انکار کیا۔
“ضروری نہیں ہے بیٹا۔۔چلو شاباش جلدی سے تیار ہو کر آ جاو نیچے۔۔شمائلہ انتظار کر رہی ہے۔میں نیچے جا رہی ہوں جلدی سے آ جاو۔”
عقیلہ بیگم پلٹ کر جانے لگیں۔
“جی۔۔۔”
وہ اتنا کہہ کر بیڈ کی چادر درست کرنے لگی۔
“اور ہاں۔۔”
وہ پلٹیں۔۔
“شرمانا مت۔۔ضرورت کی ہر چیز لینا۔۔ویسے تو شمائلہ ہے مگر پھر بھی تم انھیں بتاتی رہنا۔۔ٹھیک ہے؟”
عقیلہ بیگم نے اسے سمجھایا۔
“جی شاہ گل۔۔۔”
اس نے بیڈ سے شرٹ اٹھائی۔
“چھوڑ دو بیٹا۔۔۔یہ کام شگفتہ کر لے گی۔میں بھیجتی ہوں اسے۔”
یہ کہہ کر وہ کمرے سے نکل گئیں۔ان کے جاتے ہی ایمان نے شرٹ کو واش روم میں رکھا اور الماری کھول کر کپڑے نکالنے لگی۔وہ ٹھیک ہی تو کہہ رہی تھیں اسکے پاس گنتی کے چند ہی جوڑے تھے۔اس نے گہری سانس خارج کر کے الماری بند کی اور واش روم میں گھس گئی۔ _____________________________________________
اعظم احمد گاؤں سے واپس آ گئے تھے۔وہ نماز سے فارغ ہوئی تو لاؤنج میں کچھ شور سا محسوس ہوا۔جائے نماز طے کرتی وہ لاؤنج میں آئی۔سبھی وہاں موجود تھے۔اعظم احمد صوفے پہ براجمان عقیلہ بیگم سے کچھ بات کر رہے تھے۔
“السلام و علیکم۔۔!”
ایمان نے بلند آواز میں سلام کیا اسکے سلام کرنے پہ سبھی اسکی طرف متوجہ ہوئے۔دُھلا دُھلا معصوم چہرہ۔۔۔معصومیت اسکے چہرے کا خاصہ تھی۔ڈارک ریڈ کلر کے دیدہ زیب لباس میں ملبوس، نازک کلائیاں سرخ چوڑیوں سے سجی تھیں۔۔گلابی پنکھڑی نما لب۔۔بھوری آنکھوں میں کاجل کی گہری لکیر غزنوی کو اپنا دل کھینچتی محسوس ہوئی تھی۔یہ سب ایک لمحے کے لئے تھا، اگلے ہی پل وہ اپنی نظروں کا زاویہ بدل چکا تھا اور چہرے سے مسکراہٹ غائب ہوئی تھی۔اس کا خیال تھا کہ وہ جان بوجھ کر اپنے چہرے پہ معصومیت طاری کیے رکھتی ہے۔مگر آج اسے اپنا ہی اندازہ کہیں دور کھائی میں لڑکھتا دکھائی دیا۔
سبھی نے اسکے سلام کا جواب دیا سوائے غزنوی کے۔۔وہ اپنے ہاتھ کی لکیروں میں مگن تھا۔
“ادھر آئے میری بیٹی۔۔میرے پاس۔۔۔”
اعظم احمد نے اپنے قریب اسکے لئے جگہ بنائی۔وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی ان کے پاس آ کر بیٹھ گئی۔عقیلہ بیگم بھی مسکراتی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھیں۔
“کیسی ہے میری بیٹی۔۔؟؟”
انھوں نے بڑے پیار سے اسکے سر پہ ہاتھ رکھا۔
“ٹھیک ہوں داجی۔۔آپ کیسے ہیں۔۔بابا سے ملے تھے آپ۔۔کیسے ہیں بابا۔۔؟”
ایمان نے ایک ہی سانس میں سارے سوال پوچھ ڈالے۔
“ہاہاہا۔۔۔میں بھی ٹھیک ہوں۔۔بابا سے بھی ملا ہوں۔۔وہ بھی بالکل ٹھیک ہیں۔۔وعدہ کر کے آیا ہوں اس سے کہ اگلی بار تمھیں ساتھ لے کر آوں گا۔”
انھوں نے ہنستے ہوئے اسکے سارے سوالوں کے جواب دئیے۔
“سچ۔۔۔؟؟”
وہ بچوں جیسی معصوم مسکراہٹ لئے انھیں دیکھ رہی تھی۔سبھی نے بڑی محبت سے یہ منظر دیکھا تھا۔وہ محسن تھے اسکے۔۔۔۔انھوں نے اسے بےحرمتی کی دلدل میں گرنے سے بچایا تھا۔۔اسے عزت دی تھی، اپنے خاندان کا نام دیا تھا۔۔وہ مر کر بھی ان کا احسان نہیں اتار سکتی تھی۔
“میری بیٹی خاموش کیوں ہو گئی؟”
اعظم احمد نے اسکے پُرسوچ چہرے کو بغور دیکھتے ہوئے پوچھا۔وہ خاموشی سے انھیں دیکھتی رہی۔
“کیا ان سب نے میری بیٹی کا خیال نہیں رکھا۔”
انھوں نے اس سے پوچھتے پوچھتے عقیلہ بیگم کی جانب دیکھا۔اعظم احمد کے چہرے پہ کئی سوال تھے۔
“ارے نہیں داجی۔۔۔سب بہت اچھے ہیں۔۔میرا بہت خیال رکھتے ہیں۔۔مجھے اتنا مان دیا۔۔میں کہاں اس قابل تھی۔۔۔مگر۔۔۔۔”
اسکی آنکھوں میں آنسو جھلملانے لگے تھے۔
“ارے ارے۔۔۔کیا ہوا بیٹا۔۔جب سب اچھے ہیں تو پھر یہ رونا کیوں؟”
انھوں نے اسکے آنسو پُونچھے۔
“کیا غزنوی تمھارا خیال نہیں رکھتا؟”
غزنوی کا گلاس کی طرف بڑھتا ہاتھ رک گیا۔اس نے ایمان کی طرف دیکھا جو اسی کی جانب دیکھ رہی تھی۔
“نہیں داجی۔۔۔سبھی میرا خیال رکھتے ہیں۔”
وہ جلدی نظروں کا رخ پھیر کر اعظم احمد سے بولی۔ایک طرح سے تو وہ بھی اسکا محسن ہی تھا چاہے کھڑوس اور اکڑو ہی سہی۔۔۔
“داجی غزنوی کا پوچھ رہے ہیں کہ وہ تمھارا خیال رکھتا ہے کہ نہیں۔”
صائمہ بیگم نے غزنوی کی طرف شرارتی انداز میں دیکھتے ہوئے کہا۔سب کے ہونٹوں پہ دبی دبی مسکراہٹ رینگ گئی۔غزنوی گلاس منہ سے لگائے گھونٹ گھونٹ پانی پی رہا تھا۔اسے ڈر تھا کہ اگر ایمان نے صاف صاف بتا دیا تو داجی اس سے سوال جواب کا ایک نیا سلسلہ شروع کر دیں گے۔
“ہاں غزنوی۔۔!! تم میری بیٹی کا خیال رکھتے ہو نا۔۔؟
اعظم احمد نے ہنستے ہوئے پوچھا۔
“جی وہ بھی خیال رکھتے ہیں۔”
وہ جبراً مسکرائی تھی۔
“یہ تو بہت اچھی بات ہے۔”
وہ پرسکون ہوئے تھے۔۔گاوں میں بھی انھیں اسی بات کا دھڑکا لگا رہتا تھا کہ نجانے ایمان کے ساتھ ان سب کا رویہ کیسا ہوا۔خاص طور پر غزنوی کی ماں شمائلہ کا۔۔۔اس نے ایمان کو غزنوی کی دلہن کے روپ میں قبول کیا ہو گا یا نہیں۔حالانکہ شاہ گل انھیں مطمئن کرتی رہتی تھیں مگر پھر بھی ایمان کا خیال ان کے اردگرد گھومتا رہتا تھا۔۔۔کبھی پچھتاوے انھیں گھیر لیتے کیونکہ اپنے لاڈلے پوتے کی ضدی طبیعت سے وہ اچھی طرح واقف تھے۔لیکن اب واپس آ کر جو رویہ ان سب کا ایمان کے ساتھ انھوں نے دیکھا وہ انھیں مطمئن کرنے کے لئے کافی تھا اور ایمان نے خود کہہ کر انھیں اس پریشانی سے بھی آزاد کر دیا تھا۔
ایمان کے الفاظ سے غزنوی کا اٹکا ہوا سانس بحال ہوا۔اب اعظم احمد ایمان کو اسکے والد کے بارے میں بتا رہے تھے۔شمائلہ بیگم اور باقی خواتین دوپہر کے کھانے کا انتظام دیکھنے کے لئے اٹھ گئیں تھیں۔ایمان نے ایک چور نظر غزنوی پہ ڈالی تھی جو مصطفی کی کسی بات پر ہنس رہا تھا۔کشادہ پیشانی،کھڑی ناک، سیاہ پراعتماد آنکھیں، عنابی لب اور شہزادوں جیسی آن بان رکھنے والا۔۔۔غزنوی احمد اس کے دل کے بند کواڑوں پہ بنا دستک دئیے ہی اسکے دل کی دہلیز پار کر چکا تھا۔۔چوری چوری اسے دیکھنا آج کل ایمان کا پسندیدہ مشغلہ تھا۔ایسا کام جسے کر کے وہ اپنے اندر پھول کھلتے محسوس کرتی تھی۔۔محبت کا جھرنا پھوٹ پڑا تھا جس کا شور ایمان کے دل و دماغ میں برپا تھا اور اب اس شور سے بھاگنا اس کے لئے ناممکن تھا۔ _________________________________________
یہ کیا ہو رہا ہے بھئی۔۔؟
وہ قہوہ لئے داجی کے کمرے کی طرف آئی۔ساری لڑکیاں بند دروازے سے چپکی کھڑی تھیں۔ان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ کس طرح اپنے کان کمرے کے اندر لے جائیں۔گھر کے سبھی بڑے اندر کمرے میں موجود تھے۔ایمان کی آواز سن کر ساری پیچھے ہوئیں اور اسے چپ رہنے کا اشارہ کیا۔
“ایمان ذرا اندر جا کر دیکھو۔۔کیا میٹنگ چل رہی ہے۔داجی نے سب کو بلایا ہے تو یقینا کوئی خاص بات ہو گی۔”
پرخہ نے اس کے ہاتھ سے ٹرے لے لی۔باقی سب پھر سے کان لگائے مصروف ہو گئی تھیں۔
“تو آپ کو اتنا تجسس کیوں ہو رہا ہے؟
ایمان نے ٹرے اس سے واپس لی۔
“میری پیاری ایمان ذرا اندر سے پکی پکی خبریں تو باہر لاؤ۔”
فائقہ نے ایمان کے گالوں پہ چٹکی کاٹی۔ایمان مسکرا دی تھی۔
“تم ساری چاغی کا پہاڑ بنی کھڑی رہو گی تو کیسے اندر کی خبر باہر لاؤں گی۔۔چلو ہٹو آگے سے قہوہ ٹھنڈا ہو رہا ہے۔”
ایمان نے ان سب کو دروازے سے ہٹانا چاہا۔
“ہائے ایمان۔۔میری جان جلدی جاؤ نا۔”
پرخہ نے اسے کندھوں سے پکڑ کر دروازے کے قریب کیا۔
“ٹھیک ہے آپ سب لاونج میں جا کر بیٹھو۔۔شگفتہ آپ سب کے لئے بھی قہوہ لا رہی ہے، میں آتی ہوں۔”
وہ ان سے کہتی کمرے میں داخل ہو گئی۔ان سبھی نے اثبات میں سر ہلایا تو وہ اندر داخل ہوئی تھی۔کمرے میں سبھی خوش گپیوں میں مگن تھے۔
“لگتا ہے تاریخ طے ہو گئی ہے۔”
وہ سبھی کو قہوہ سرو کر کے شاہ گل کے پاس آ بیٹھی۔
“جی بیٹا۔۔اگلے مہینے کی چوبیس تاریخ رکھ دی ہے۔اب تائی امی کی مدد کرنی ہے تم نے کیونکہ وقت بہت کم ہے۔”
عقیلہ بیگم نے مسکراتے ہوئے کہا۔
“مبارک ہو آپ سب کو۔۔۔اور شاہ گل میں ضرور تائی امی کی مدد کروں گی۔میں ذرا یہ خوشخبری باقی سب کو بھی سنا دُوں۔”
وہ عقیلہ بیگم سے کہتی دروازے کی طرف بڑھی۔اسے یقین تھا کہ وہ اس کہنے کے باوجود دروازے سے ہی چپکی ہوں گی اور اسکا اندازہ صحیح تھا۔وہ جیسے ہی باہر آئی۔سب نے اسے گھیر لیا اور دبی دبی آوازوں میں اس سے پوچھنے لگیں۔
“بتاو نا ایمان۔۔”
ارفع نے ایمان سے پوچھا۔
“پتہ نہیں اندر کیا بات ہوئی۔۔جب میں اندر گئی تو وہ ادھر ادھر کی باتیں کر رہے تھے۔۔اس لئے میں جان ہی نہیں پائی کہ وہ کیوں اکٹھے ہوئے اور کیا بات ہوئی۔”
ایمان چہرے پہ سنجیدگی طاری کیے کندھے اُچکا کر لاؤنج میں آ گئی۔اس کے ہاتھ میں بھاپ اڑاتا کپ تھا جس سے وقفے وقفے سے وہ سِپ لے رہی تھی۔وہ سب بھی اسکے پیچھے آئیں۔
“یہ کیا بات ہوئی ایمان۔۔۔بتاؤ نا اندر کیا چل رہا تھا؟
عنادل اسکے پاس بیٹھ گئی۔وہ چہرے پہ سنجیدہ تاثرات سجائے ان کا صبر آزما رہی تھی اور دل ہی دل میں ان کی بےصبری پہ مسکرا بھی رہی تھی۔
“اب بتا بھی دو ایمان۔۔”
پرخہ نے اسکا کندھا ہلایا۔
“لو۔۔۔پہلے بزرگ صاحبان کھچڑی پکاتے رہے اور اب ان کی بہو بھی کھچڑی کو مزید پکانے کے چکر میں ہے۔”
سحرش نے باقی سب کو دیکھا جن کی نظریں اس پہ جمی تھیں۔
“ارے میری پیاری سحرش آپی۔۔۔آپ کو اتنی بے چینی کیوں لگی ہوئی ہے۔میں ایسا کرتی ہوں کہ داجی سے ہی جا کر پوچھتی ہوں اور ان سے کہتی ہوں کہ آپ کی لاڈلیاں آپ کا فیصلہ جاننا چاہتی ہیں۔”
وہ ایک دم سے اٹھ کر جانے لگی کہ سحرش نے اسکا ڈوپٹہ پکڑا، فائقہ نے دامن اور پرخہ اس کے سامنے آ کھڑی ہوئی۔ایمان کھلکھلا کر ہنس دی مگر وہ سب سنجیدہ چہرہ لیے اسے دیکھ رہی تھیں۔
“حملہ۔۔۔۔”فائقہ کے آواز لگاتے ہی وہ سب ایمان پر چڑھ دوڑنے کو آگے بڑھیں۔
“ارے ارے رکو رکو۔۔۔۔بتاتی ہوں۔”
ایمان نے ان سب کو آستینیں چڑھا کر خود پہ جھپٹتے دیکھا تو فوراً بولی۔ایک مرتبہ پہلے بھی وہ سب مل کر اسکا حلیہ بگاڑ چکی تھیں۔
“جلدی بولو۔۔۔”
عائشہ نے اپنی لمبی لمبی انگلیاں پستول کی ناب کیطرح اسکی کنپٹی پر رکھیں۔
“وہ اندر یہ فیصلہ ہوا ہے کہ جلد سے جلد۔۔۔۔”
وہ پھر خاموش ہوئی جبکہ وہ ساری منہ کھولے اس کے آگے بولنے کی منتظر تھیں۔
“اُففف۔۔۔!! ایمان بتا بھی چُکو۔۔۔۔”
لاریب نے اسکا گھٹنا ہلایا۔
“اندر پرخہ آپی اور مصطفی بھائی اور اور۔۔۔۔۔”
ایمان نے ایک بار پھر تجسس پھیلانا چاہا۔
“اور۔۔۔۔۔؟؟”
ارفع نے آنکھیں پھیلائیں۔
“اور یہ کہ ہادی بھائی اور سحرش آپی کی شادی کی تاریخ رکھ دی گئی ہے۔۔۔۔اگلے ماہ کی چوبیس تاریخ۔۔۔”
ایمان نے آخر تھیلے میں سے بلی نکال ہی لی۔
“ہُرّے۔۔۔!! ساڈا چڑیاں دا چمبا وے بابلا وے
ساڈا چڑیاں دا چمبا وے بابلا۔۔۔اساں اُڈ جانڑاں۔۔اساں اُڈ جانڑاں۔۔۔”
عنادل کا راگ شروع ہو چکا تھا۔
“ائے ہائے۔۔۔ظالم۔۔!! دل کے تار چھیڑ دیئے۔”
لاریب دل پہ ہاتھ رکھے ہائے ہائے کر رہی تھی۔
“ہماری پیاری بانسری بی بی۔۔۔۔زرا اپنی یہ پیں پیں بند کرو۔”
سحرش نے مسکراتے ہوئے عنادل کے منہ پہ ہاتھ رکھا۔
“دولہے کا سہرا سہانا لگتا ہے۔۔
دولہن کا تو دل دیوانہ لگتا۔۔
پل بھر میں کیسے بدلتے ہیں رشتے
اب تو ہر اپنا بیگانہ لگتا ہے۔۔”
ملائکہ بھی لہک لہک کر اچھے بھلے گانے کی ٹانگیں توڑنے لگی۔ان سب نے کانوں میں انگلیاں ٹُھونس لیں۔
“میں تو خُوب گانے گاؤنگی چاہے کسی کو آگ لگے۔”
ملائکہ نے ان سب کو کانوں میں انگلیاں ٹھونستے دیکھکر اِٹھلاتے ہوئے کہا۔ایمان بھی ان کی نوک جھونک سے محظوظ ہو رہی تھی۔
“ہونہہ۔۔! تمھاری بھونڈی آواز کو برداشت کرنے کی ہمیں قطعی کوئی ضرورت نہیں۔۔ہم اپنے کانوں میں ہینڈ فری لگا کر کسی سُریلے کو سُن لیں گے۔”
ارفع نے سب کو ایک آسان علاج بتایا۔
“او ہو۔۔۔آپ خود تو بڑی سُریلی ہو نا۔”
ملائکہ نے ارفع کے بے پرواہ انداز کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے کہا۔
“او ہو۔۔۔ایک تو تم لوگوں کو ایک دوسرے سے بِھڑنے کا موقع چاہئیے۔۔یہ بتاؤ شاپنگ کہاں سے اسٹارٹ کرنی ہے۔۔یااللہ کتنے کم دن ہیں ہمارے پاس۔۔”
لاریب نے سب کو متوجہ کیا۔
“ہاں بھئی لاریب بالکل ٹھیک کہہ رہی ہے۔۔کیا لیں۔۔کیا پہنیں۔۔ڈیسائڈ کرتے ہیں۔”
فائقہ کے کہنے پہ وہ سب سر جوڑ کر بیٹھ گئیں۔۔حیا اور پرخہ انھیں مشوروں سے نوازنے لگیں۔ایمان اُن کے ایک دوسرے کو دیتے اُوٹ پٹانگ مشوروں پہ اپنی ہنسی روک نہیں پا رہی تھی۔
“ارے بھئی کیا ہو رہا ہے؟”
عقیلہ بیگم کی آواز سن کر سبھی نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔
“شاہ گل۔۔۔!! مبارک ہو آپ کو۔۔۔”
وہ سب یک زبان ہو کر بولیں جبکہ پرخہ اور سحرش دل میں پھوٹتے لڈو چھپا کر شرافت کے ریکارڈ توڑنے لگی تھیں۔
“خیر مبارک میرے بچو۔۔! تم سب کو بھی مبارک ہو۔”
عقیلہ بیگم ہنستے ہوئے ان کے بیچ آ کر بیٹھ گئیں۔انھوں نے باری باری سحرش اور پرخہ کا ماتھا چُوم کر دونوں کو دعائیں دیں۔
“میرا تو دل تھا کہ غزنوی اور ایمان کا ولیمہ بھی کر دیتے ہیں مگر غزنوی۔۔۔۔خیر چھوڑو۔”
ان کی نظر ایمان پر ٹھہر گئی جو غزنوی کے ذکر پہ نظریں جھکا گئی تھی۔
“ارے شاہ گل آپ خفا مت ہوں۔۔انھوں نے یقیناً چپکے چپکے کچھ پلان بنا رکھا ہو گا۔”
ارفع نے شاہ گل کے گلے میں بازو ڈالے۔
“پتہ نہیں اس نے کیا سوچ رکھا ہے۔۔خیر تم لوگ بتاؤ تیاری کب سے شروع کرنی ہے؟”
انھوں نے سر جھٹک کر پوچھا۔انھیں ایمان کے چہرے پہ اداسی چھاتی محسوس ہوئی تھی۔
“شاہ گل ہم آج سے ڈھولکی رکھیں گے۔”
فائقہ جلدی سے بولی۔
“نہیں بیٹا ابھی نہیں۔۔اگلے مہینے ڈھولکی رکھنا۔”
عقیلہ بیگم گھٹنوں پہ ہاتھ رکھ کر کھڑی ہوگئیں۔ان کے جانے کے بعد وہ سب ایک بار پھر سر جوڑ کر بیٹھ گئیں۔ایمان خاموشی سے اٹھ کر اپنے کمرے کیطرف بڑھ گئی۔
________________________________________
جیسے ہی شادی کی تاریخ رکھی گئی سبھی تیاری میں لگ گئیں۔ایمان کو بھی شمائلہ بیگم شاپنگ کے لئے ساتھ لے کر جاتیں تھیں۔غزنوی کو تو اسکی پرواہ ہی نہیں تھی۔بظاہر تو غزنوی کا رویہ نارمل تھا مگر وہ اس کی ہر ضرورت سے وہ لاپرواہ تھا اور شمائلہ بیگم اس بات سے واقف تھیں اس لئے وہ ایمان سے غزنوی کے رویے کے متعلق پوچھتی رہتی تھیں اور ایمان انھیں مطمئن کرنے کی کوشش کرتی، لیکن وہ ماں تھیں غزنوی کی۔۔اپنے بیٹے کی مزاج آشنا تھیں۔غزنوی کے رشتے سے ایمان انھیں بہت عزیز ہو گئی تھی۔وہ اسکا ایک ماں کی طرح ہی اس کی ہر ضرورت کا خیال رکھتی تھیں اور ایمان کو بھی ان کی عادت ہوتی جا رہی تھی۔آج بھی انھوں نے ایمان کو بازار لے کر جانا تھا ولیمے کے لئے ڈریس خریدنا تھا۔دس بجنے والے تھے لیکن ایمان اب تک کمرے سے باہر نہیں آئی تھی حالانکہ روز تو ناشتہ بنانےمیں وہ ان کی مدد کیا کرتی تھی۔غزنوی تو کب کا ناشتہ کر کے مکرم احمد کے ساتھ آفس کے لیے نکل چکا تھا۔مرتضیٰ بھی یونیورسٹی جا چکا تھا۔ملائکہ کی آج چھٹی تھی۔
“امی ناشتہ۔۔۔”
ملائکہ کچن میں داخل ہوئی۔
“بنا رہی ہوں میں۔۔تم زرا جا کر ایمان کو بلا لاؤ۔۔ابھی تک نہیں آئی نیچے۔”
اس سے پہلے کہ وہ چیئر سنبھالتی شمائلہ بیگم نے اس سے کہا۔وہ سر ہلاتی کچن سے نکل گئی۔وہ کمرے کے کھلے دروازے سے اندر داخل ہوئی۔اسے یہ دیکھ کر حیرانی ہوئی کہ ایمان بیڈ کی بجائے صوفے پہ سو رہی تھی۔میرون بلینکٹ سے جھانکتا چہرہ سرخی لئے ہوئے تھا۔
“ایمان۔۔! کیا ہوا ہے تمھیں۔۔؟”
ملائکہ نے اسے پکارا۔اس نے ذرا سی آنکھ کھول کر دیکھا ملائکہ اسکے پاس بیٹھ گئی۔
“ملائکہ تم۔۔۔کوئی کام تھا کیا؟”
ایمان صوفے کا سہارا لئے اٹھ بیٹھی۔۔اسے اچھا نہیں لگا کہ ملائکہ نےاسے ایسے صوفے پہ لیٹے دیکھ لیا ہے اس لئے اپنی خِفت مٹانے کو بولی۔آواز میں نقاہہت صاف محسوس کی جا سکتی تھی۔ملائکہ نےاسکا ماتھا چُھوا۔
“تمھیں تو بہت تیز بخار ہے اور یہاں کیوں لیٹی ہو۔۔کیا غزنوی بھائی سے کوئی جھگڑا ہوا ہے؟”
ملائکہ نے اسکے سرخ چہرے کو بغور دیکھتے ہوئے پوچھا۔
“نہیں۔۔بس دھیان نہیں رہا۔۔طبیعت میں بےچینی سی تھی۔نماز پڑھ کر یہیں سو گئی تھی۔”
وہ کمبل کو درست کرتے ہوئے بولی۔
“مگر یہاں تو تم مزید بےآرام ہو جاو گی میری پیاری بھابھی۔۔چلو اٹھو بیڈ پہ لیٹو اور یہ غزنوی بھائی کو دیکھو نا بتایا بھی نہیں کہ تمھاری طبیعت درست نہیں ہے۔امی پریشان ہو رہی تھیں کہ تم اب تک نیچے کیوں نہیں آئی۔اس لئے مجھے تمھیں اٹھانے بھیجا۔اٹھو تم بیڈ پہ لیٹو، میں امی کو بتاتی ہوں تمھاری طبیعت کا۔”
ملائکہ اسے سہارا دینے کے لیے کھڑی ہوئی۔
“میں یہیں ٹھیک ہوں۔”
ایمان سُستی سے لیٹی رہی۔
“کیسے ٹھیک ہو۔۔۔چلو شاباش فورا اٹھو۔”
ملائکہ نے اسے ذبردستی اٹھایا اور اسے بیڈ پہ لے آئی۔
“میں امی کو بتا کر آتی ہوں۔”
ملائکہ اسے لیٹنے کا اشارہ کرتی کمرے سے چلی گئی۔اسے بہت عجیب سا لگا۔غزنوی کی غیر موجودگی میں بھی وہ کبھی بیڈ پہ بیٹھی تک نہیں تھی۔چار و ناچار اسے لیٹنا پڑا۔تھوڑی دیر بعد ملائکہ، شمائلہ بیگم اور عقیلہ بیگم کے ساتھ کمرے میں داخل ہوئی۔دونوں کے چہرے پہ پریشانی دکھ رہی تھی۔
“کیا ہوا بیٹا۔۔؟ طبیعت ٹھیک نہیں تھی تو بتایا کیوں نہیں۔”
شمائلہ بیگم نے آگے بڑھ کر اسکی پیشانی پہ ہاتھ رکھا جو بخار سے تپ رہی تھی۔
“اسے تو بہت تیز بخار ہے۔”
شمائلہ بیگم نے شاہ گل کی جانب دیکھا۔عقیلہ بیگم ایمان کے قریب بیٹھ گئیں۔
“بہو۔۔ڈاکٹر صاحب کو فون کرو۔”
شمائلہ بیگم سر ہلاتی کمرے سے نکل گئیں۔
“ملائکہ بیٹا۔۔جاو تم ایمان کے لئے دودھ گرم کر کے لاؤ اور ہلکا پھلکا سا ناشتہ بھی بنواؤ شگفتہ سے کہہ کر۔۔پتہ نہیں بچی کب سے بخار میں پُھنک رہی ہے اور اس لڑکے کو دیکھو نا بتایا تک نہیں ہمیں۔”
انھوں نے پریشانی سے ایمان کی طرف دیکھا جو اس وقت آنکھیں موندے ہوئے تھی۔ملائکہ بھی کمرے سے جا چکی تھی۔
“ایمان۔۔۔بچے آنکھیں کھولو۔”
عقیلہ بیگم نے اسکی دہکتی پیشانی کو چوما۔ایمان نے بمشکل آنکھیں کھولیں۔
“شاہ گل میں ٹھیک ہوں۔۔آپ یونہی پریشان ہو رہی ہیں۔”
وہ نقاہہت بھری مہین سی آواز میں بولی۔
“میرے بچے۔۔۔تم ٹھیک ہوتی تو کیا ایسے پڑی رہتی۔۔آ جائے یہ لڑکا۔۔۔ٹھیک کرتی ہوں اسے۔غضب خدا کا بچی بخار میں پڑی ہے اور ہمیں بتایا تک نہیں۔”
عقیلہ بیگم کی آواز سے غصہ چھلک رہا تھا۔
“انھیں نہیں پتہ تھا شاہ گل۔۔۔میں خود بھی سو رہی تھی۔وہ بھی سمجھے ہوں گے کہ میں سو رہی ہوں اور سچ میں مجھے معلوم ہی نہیں پڑا کہ وہ کس وقت کمرے سے گئے ورنہ میں ان سے خود کہہ دیتی۔”
وہ بمشکل آنکھیں کھولتی آہستہ آہستہ کہہ رہی تھی۔
“تم اسکی سائیڈ مت لو۔۔ہم جیسے اندھے ہیں۔پتہ ہے مجھے کہ اسے بالکل تمھاری پرواہ نہیں ہے۔”
وہ بولیں تو ایمان خاموش ہو رہی۔
“یہ لیجیئے دودھ اور ناشتہ۔۔”
ملائکہ ناشتے کی ٹرے لئے کمرے میں داخل ہوئی۔
“یہ ٹرے یہاں رکھو بیٹا اور یہ دودھ کا گلاس مجھے پکڑاو۔”
عقیلہ بیگم نے ملائکہ سے کہا۔اس نے ٹرے ان کے قریب رکھی اور دودھ کا گلاس انھیں تھمایا۔
“اٹھو بیٹا۔۔ملائکہ بھابھی کی اٹھنے میں مدد کرو۔”
انھوں نے ملائکہ سے کہا۔اس نے ایمان کو سہارا دے کر بٹھایا اور پھر اسکے نہ نہ کرنے کے باوجود عقیلہ بیگم نے گلاس اس کے لبوں سے لگایا۔ایک گھونٹ پی کر ایمان نے منہ پیچھے کر لیا تھا۔
“بس شاہ گل۔۔”
ایمان نے مزید پینے سے انکار کیا۔
“پی لو بیٹا تاکہ تھوڑی طبیعت سنبھلے۔”
انھوں نے ایک بار پھر گلاس اس کے لبوں سے لگایا۔ان کے اسرار پر وہ آہستہ آہستہ دودھ پینے لگی۔دودھ ختم کرنے کے بعد وہ ایک بار پھر لیٹ گئی۔تھوڑی دیر میں شمائلہ بیگم ڈاکٹر عارف احمد کے ساتھ روم میں انٹر ہوئیں۔
“السلام علیکم۔۔!”
ڈاکٹر عارف احمد نے با آواز بلند سلام کیا تھا اور پھر عقیلہ بیگم سے خیر خیریت دریافت کرنے کے بعد انھوں نے ایمان کا چیک اپ کیا۔
“پریشانی کی کوئی بات نہیں۔میں یہ میڈیسن لکھ کے دے رہا ہوں آپ منگوا لیجیئے۔انشاء اللہ شام تک بہتر ہوں گی۔اگر پھر بھی بخار نہ اترا تو کلینک لے آئیے گا۔”
ڈاکٹر عارف احمد نے ایمان کو انجیکشن لگایا اور ایک نسخہ لکھ کر عقیلہ بیگم کی جانب بڑھایا۔
“شکریہ بیٹا۔”
عقیلہ بیگم دوا کا نسخہ لیتے ہوئے بولیں۔
“اب مجھے اجازت۔۔میں چلتا ہوں۔”
ڈاکٹر عارف احمد اٹھ کھڑے ہوئے۔
“بیٹھو بیٹا چائے پی کر جانا۔۔ملائکہ جاؤ بیٹا ڈاکٹر صاحب کے۔۔۔۔”
“ارے نہیں شاہ گل مجھے دیر ہو رہی ہے ہاسپٹل جانا ہے۔انشاء اللہ پھر کبھی سہی۔۔اللہ حافظ۔۔”
ڈاکٹر عارف احمد الوداعی کلمات ادا کرتے دروازے کی طرف بڑھ گئے۔ان کے جانے کے بعد وہ تینوں ایمان کی تیمارداری میں لگ گئیں۔ملائکہ اور عقیلہ بیگم نے تو ایک پل کے لیے بھی اسے اکیلا نہیں چھوڑا۔ایمان انھیں پریشان دیکھ کر شرمندہ ہوتی رہی کہ اسکی وجہ سے ان کےآرام میں خلل آیا تھا۔کچھ گھنٹوں تک اسکی طبیعت تھوڑی سنبھلی تو وہ عقیلہ بیگم کے سینے سے لگ گئی۔انھوں نے بھی اسے بانہوں میں سمیٹے رکھا۔ان کی مامتا بھری نرم آغوش میں اسے سکون مل رہا تھا۔وہ دل ہی دل میں اللہ کا شکر ادا کر رہی تھی کہ اس نے اسے اتنا پیار کرنے والے لوگوں کے بیچ لاکھڑا کیا تھا۔
دوسری جانب عقیلہ بیگم کو ان دونوں کی ازدواجی زندگی کسی سہی رخ پہ جاتی نہیں دکھائی دے رہی تھی۔انہوں نے سوچ لیا تھا کہ آج وہ ہر صورت غزنوی سے بات کریں گی۔اس سے پہلے کہ یہ بات اعظم احمد تک پہنچے وہ خود غزنوی سے بات کر لیں گی ورنہ اعظم احمد پہلے ہی اس رشتے کو لے کر دل میں ہلکا سا پچھتاوا رکھتے تھے۔اگر انھیں معلوم ہو گیا تو وہ کوئی بھی فیصلہ کر لیں گے اور وہ نہیں چاہتی تھیں کہ وہ ایسا کوئی بھی فیصلہ کریں جس کے نتائج سنگین ہوں۔
_________________________________________
“شگفتہ غزنوی آ گیا ہے آفس سے؟”
عقیلہ بیگم اور شمائلہ بیگم غزنوی اور ایمان کے بارے ہی بات کر رہی تھیں کہ شگفتہ کو کمرے میں داخل ہوتے دیکھ کر عقیلہ بیگم نے پوچھا۔
“جی شاہ گل ابھی آئے ہیں۔۔مصطفی بھائی بھی ساتھ ہیں ان کے۔۔وہ دونوں غزنوی صاحب کے کمرے میں ہیں۔”
شگفتہ نے جواب دیا۔
“اچھا۔۔غزنوی سے کہو کہ شاہ گل بلا رہی ہیں۔”
انھوں نے اس سے غزنوی کو بلانے کو کہا۔
“جی۔۔۔اور شاہ گل میں اپنے کواٹر میں چلی جاؤں۔کرن کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے اسے ڈاکٹر کے پاس لے کر جانا ہے۔شام تک واپس آ جاؤں گی۔”
شگفتہ جاتے جاتے پلٹی۔
“اچھا ٹھیک ہے چلی جاو۔”
عقیلہ بیگم کی بجائے شمائلہ بیگم نے کہا۔
“شکریہ بیگم صاحبہ۔۔کلثوم کو میں نے باقی کے کام بتا دئیے ہیں وہ کر لے گی۔خیرن بُوا بھی وہیں موجود ہیں۔”
وہ شکریہ ادا کر کے پلٹ کر جانے لگی تھی کہ عقیلہ بیگم نے اسے آواز دی۔
“یہاں آؤ۔۔۔” عقیلہ بیگم نے اسے قریب بلایا۔وہ ان کے پاس آئی۔انھوں نے سائیڈ ٹیبل کی دراز سے اپنا چھوٹا سا گلابی پرانے اسٹائل کا پرس نکالا۔پرس کھول کر انھوں نے دو نیلے نوٹ نکال کر شگفتہ کی جانب بڑھائے۔
“بچی کو کسی صحیح ڈاکٹر کو دکھانا اور اسکے لئے کچھ پھل بھی لے لینا۔”
شگفتہ نے پیسے تھام لئے اور انھیں دعائیں دیتی کمرے سے نکل گئی۔تھوڑی دیر بعد ہی غزنوی سلام کرتا کمرے میں داخل ہوا۔
“واعلیکم السلام۔۔!”
وہ دھیرے دھیرے قدم اٹھاتا ان کے پاس آ کر جھکا۔عقیلہ بیگم نےاسکے سر پہ ہاتھ پھیرا۔
“شاہ گل آپ نے مجھے بلایا تھا۔۔”
اس نے شمائلہ بیگم سے آنکھوں کے اشارے سے پوچھتے ہوئے عقیلہ بیگم کی جانب دیکھا۔
“ہاں بیٹا۔۔تم سے کچھ ضروری بات کرنی تھی۔”
عقیلہ بیگم نے کہا۔
“جی شاہ گل کہئیے۔”
عقیلہ بیگم کے چہرے کی سنجیدگی دیکھکر اس کا ماتھا ٹَھنکا تھا۔
“غزنوی۔۔۔بیٹا تمھارے داجی نے تم پر اعتماد ظاہر کر کے تمھیں ایمان کی ذمہ داری سونپی تھی۔اللہ جانتا ہے یا تم، کہ تم نے کس دل سے اور کیا سوچ کر ان کے فیصلے کا مان رکھا۔مگر بیٹا تمھارا رویہ، تمھارا انداز صاف ظاہر کرتا ہے کہ تم اس رشتے سے خوش نہیں ہو۔”
وہ ایک لمحے کو خاموش ہوئیں۔۔غزنوی کے چہرے پر بھی سنجیدگی کا خول چڑھ گیا تھا۔
“نہیں شاہ گل۔۔۔ایسا کچھ نہیں ہے۔آپ کو یقیناً کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔”
اس نے دادی اور ماں کے سامنے اپنا دفاع کرنا چاہا۔
“اگر ایسی بات نہیں ہے تو ہمیں ایسا کیوں لگ رہا ہے کہ تم ایمان کی جانب سے لاپرواہ ہو یا پھر ہمیں یہ جتانا چاہتے ہو کہ وہ تمھارے لئے اہمیت نہیں رکھتی۔وہ خوش نہیں ہے اور نہ ہی تم دونوں کے درمیان نوبیاہتا جوڑے جیسی کوئی بات ہے۔”
عقیلہ بیگم اس کے چہرے کے پل پل بدلتے تاثرات دیکھ کر خاموش ہوئیں۔
“کیا ایسا آپ سے ایمان نے کہا ہے؟”
اسکی آواز دھیمی مگر لہجہ سخت تھا۔
“نہیں وہ ہمیں کیا کہے گی الٹا وہ تو تمھارے رویے پر پردہ ڈالتی ہے۔مگر بیٹا ہم نے یہ بال دھوپ میں سفید نہیں کیے۔ہمیں سب دِکھتا بھی ہے اور ہم سب سمجھتے بھی ہیں۔”
شمائلہ بیگم نے بیٹے کو کڑی نظروں سے دیکھا۔
“مگر امی۔۔ایسی کوئی بات نہیں ہے۔”
غزنوی نے اپنے اندر اٹھتے غصے کو دبوچا۔
“تمھاری بیوی رات سے بخار کی شدت سے تکلیف میں تھی اور تم نے ہمیں بتایا تک نہیں یا پھر تم نے جان بُوجھ کر اگنور کیا۔”
“مجھے پتہ تھا کہ اسکی طبیعت ناساز تھی۔میں نے باہر نکلتے ہوئے سوچا تھا کہ آپ کو کہوں گا کہ ڈاکٹر عارف کو بلوا لیں۔مگر میں نیچے آیا تو دماغ سے نکل گیا۔”
غزنوی نے جلدی سے جھوٹ کا سہارا لیا۔
“واہ بیٹا کمال ہے۔۔۔یہ تربیت کی ہے میں نے تمھاری۔”
شمائلہ بیگم نے اسے آڑے ہاتھوں لیا۔
“امی میں سچ کہہ رہا ہوں۔۔میں نے ایمان سے بھی کہا تھا کہ اگر اسکی طبیعت زیادہ خراب ہے تو میں ڈاکٹر کو بُلا لاتا ہوں مگر اس نے یہ کہہ کر مجھے روک دیا کہ وہ کچھ دیر آرام کرے گی تو ٹھیک ہو جائے گی۔آپ پوچھ لیں اُس سے۔۔”
وہ دونوں اسے دیکھ رہی تھیں کہ اتنے میں ایمان کمرے میں داخل ہوئی۔
“لیں آ گئی ہے آپکی بہو بیگم۔۔۔پوچھ لیں اِس سے۔”
وہ نظریں ایمان کے چہرے پہ جمائے اس کے قریب آیا۔
“ارے بیٹا تم کیوں آ گئیں۔۔آرام کرتی۔۔”
عقیلہ بیگم نے ایمان کی جانب فکرمندی سے دیکھا۔غزنوی اس کا راستہ روکے کھڑا تھا۔وہ بغور ایمان کو دیکھ رہا تھا۔ملاحت بھرا چہرہ ابھی بھی بخار کی سُرخی لئے ہوئے تھا۔گلابی لب بھی سرخی مائل ہو رہے تھے۔
“ہیم۔۔۔تو میڈم کی طبیعت واقعی خراب ہے۔”
وہ بڑبڑایا۔
“میں ٹھیک ہوں شاہ گل۔۔۔بس ملائکہ پڑھ رہی تھی تو میں آپکے پاس آ گئی۔”
وہ غزنوی کی چبھتی نظریں خود پہ محسوس کر رہی تھی۔اسی لئے وہ اسکی طرف دیکھنے سے گریز برتتی تیزی سے شاہ گل کیطرف بڑھی۔
“اچھا کیا۔۔۔آ جاؤ۔۔۔”
وہ ان کے پاس بیڈ پہ بیٹھ گئی۔غزنوی بھی ایمان پہ نظریں جمائے ہوئے تھا اور اس انتظار میں تھا کہ کب وہ اسکی طرف دیکھے اور وہ اسے خبردار کرے مگر ایمان شاہ گل سے بات کرنے کے بہانے خود کو لاپرواہ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔وہ بڑبڑاتا پلٹ کر جانے لگا۔
“غزنوی خیرن سے کہو کہ ایمان کے لئے جو یخنی بنوائی تھی وہ لے کرلائے۔”
عقیلہ بیگم کی بات سن کر وہ پلٹا اور پھر بِنا کچھ کہے تن فن کرتا کمرے سے نکل گیا۔اُس کے جاتے ہی شمائلہ بیگم کی ہنسی چُھوٹ گئی۔وہ ایمان کے کمرے میں داخل ہونے سے لے کر اب تک کے اسکے چہرے کے سارے انداز ملاحظہ کر رہی تھیں۔
“کیا ہوا بہو۔۔۔؟”
عقیلہ بیگم ایمان سے بات کرتے کرتے اُنکی طرف چونک کر دیکھنے لگی تھیں۔ایمان کو اندازہ تھا کہ وہ کیوں ہنس رہی ہیں۔اس لئے سر جھکا گئی۔
“صاحب زادے کا موڈ خراب ہو گیا ہے۔۔جاتے ہوئے غصے میں لگ رہا تھا۔۔اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ ایمان کو اٹھا کر باہر لے جائے اور اپنا سارا غصہ اِس پہ اتار دے۔”
شمائلہ بیگم ہنسی روکتے ہوئے بولیں۔ان کی بات پہ ایمان نے فوراً شاہ گل کیطرف دیکھا۔
“لیکن ہم اسے یہ موقع نہیں دیں گے۔کتنے دنوں سے سحرش ایمان کو رات ان کی طرف رہنے کے لئے کہہ رہی تھی۔میں اور ایمان آج رات مظفر کی طرف رہیں گے۔۔کیوں ایمان۔۔۔؟؟”
شمائلہ بیگم سے کہتے کہتے انھوں نے ایمان سے پوچھا۔اس نے جھٹ اثبات میں سر ہلایا۔اس کے فوراً سے پیشتر سر ہلانے پر وہ دونوں مسکرا دیں۔
“چلو پھر دیر کس بات کی ہے۔”
شاہ گل اسے اشارہ کرتی بیڈ سے اُتر گئیں۔ایمان بھی بیڈ سے اُتر آئی تھی۔شمائلہ بیگم دونوں کی افراتفری دیکھ کر مسکرا دیں۔
_________________________________________
وہ کمرے میں غصے سے یہاں وہاں چکر لگا رہا تھا اور انتظار کر رہا تھا کہ شکار کب پکڑ میں آتا ہے۔آج رات کا ڈنر اس نے دوستوں کے ساتھ پلان کر رکھا تھا مگر اسکا موڈ سخت خراب ہو چکا تھا۔اس نے انھیں کال کر کے پروگرام کینسل کروا دیا تھا۔یہ بات اس کے لئے انسلٹنگ تھی کہ ماں اور دادی اس بات سے واقف تھیں کی وہ ایمان کے ساتھ اپنے اس رشتے کو قبول نہیں کر پایا تھا۔وہ تو ناچاہتے ہوئے بھی ایمان کو برداشت کر رہا تھا تاکہ گھر والوں کو ان کے بیچ کی اس تلخی کی بِھنک بھی نہ پڑے۔اس کے نزدیک سارا قصور ایمان کا تھا۔وہی ہر وقت مظلوم شکل بنائے رکھتی تھی۔اسکی ظاہری صورت حال باہر کی سچویشن سے الگ نہیں تھی۔اب اسکا غصہ تبھی اترے گا جب وہ غصے سے بھرا کٹورا ایمان پہ خالی نہ کر دے۔وہ کمرے میں ٹہل ٹہل کر اسی کا انتظار کر رہا تھا۔مگر وہ کمرے میں نہیں آئی۔پھر ڈنر کے دوران بھی ایمان اسے دکھائی نہیں دی تھی۔ڈنر کے بعد واپس کمرے میں آنے تک اسکا غصہ سوانیزے پر پہنچ چکا تھا۔ڈنر کے بعد ایمان اسکے لئے دودھ کا گلاس لایا کرتی تھی۔کمرے میں واپس آنے کے بعد وہ اسی انتظار میں تھا مگر دروازے سے شگفتہ کو اندر آتے دیکھ کر غصے سے سرخ ہوتی آنکھوں سے اب خون چھلکنے لگا تھا۔شگفتہ نے جھٹ پٹ ٹرے ٹیبل پہ رکھا اور تیزی سے کمرے سے چلی گئی۔وہ اسے روک کر ایمان کے بارے میں پوچھنا چاہتا تھا مگر الفاظ منہ میں ہی رہ گئے۔اس نے دودھ کا گلاس خالی کیا اور کمرے سے نکل آیا۔اسکا رخ کچن کی جانب تھا۔لاؤنج میں مکمل خاموشی تھی۔کچن سے کھٹ پٹ کی آوازیں آ رہی تھیں۔
“اچھا تو بلی یہاں چھپی بیٹھی ہے۔”
وہ مسکرایا۔۔مگر کچن میں قدم رکھتے ہی مسکراتے لب سکڑ گئے۔کچن میں ایمان کی بجائے شگفتہ برتن دھو رہی تھی۔
“جی صاحب۔۔کچھ چاہئیے آپکو؟”
شگفتہ بھی اسے دیکھ چکی تھی۔اس لئے ہاتھ دھو کر دوپٹے سے پونچتی ہوئے بولی۔
“نہیں۔۔۔وہ کمرے سے بھی برتن لے جاؤ۔”
مزید کچھ کہے بنا وہ پلٹ کر جانے لگا۔
“جی۔۔۔”
وہ دُھلے ہوئے برتن سائیڈ پہ کرتے ہوئے بولی۔
“ایمان کہاں ہے؟”
اس سے پہلے کہ وہ کچن سے نکلتی غزنوی نے پوچھا۔
“چھوٹے صاحب وہ تو شاہ گل کے ساتھ مظفر صاحب کیطرف گئی ہیں۔سحرش بی بی آ کر لے گئی تھیں انھیں۔”
یہ کہہ کر شگفتہ سیڑھیوں کی طرف بڑھ گئی۔غزنوی جو پہلے ہی غصے میں تپا ہوا تھا یہ سُن کر تو آگ بگولا ہو گیا اور اسی غصے میں بناء سوچے سمجھے بیرونی دروازے کیطرف بڑھ گیا۔اسکا رخ مظفر احمد کے پورشن کیطرف تھا۔ان کے پورشن میں داخل ہونے سے پہلے اس نے خود کو ریلیکس کیا اور پھر اندر داخل ہوا۔لاؤنج میں مظفر صاحب بیٹھے کسی کتاب کا مطالعہ کر رہے تھے۔انھوں نے غزنوی کو لاؤنج میں داخل ہوتے دیکھ لیا تھا۔انہوں نے مسکراتے ہوئے ہاتھ میں پکڑا دُھواں اڑاتا کپ ٹیبل پہ رکھا۔
“السلام و علیکم چاچو۔۔”
غزنوی ان کے قریب آیا۔
“واعلیکم السلام برخوردار آج یہاں کا راستہ کیسے بُھلا دیا۔”
وہ دونوں بغلگیر ہوئے۔
“کچھ خاص نہیں چاچو بس ذرا ایمان سے کام تھا۔”
انھوں نے اپنی جگہ سنبھالی تو وہ بھی ان کے ساتھ بیٹھ گیا۔
“خیریت تو ہے نا بیٹا۔۔۔اس وقت۔۔؟”
انہوں نے پوچھا۔
“جی چاچو۔۔۔سب ٹھیک ہے۔۔بس ایک ضروری فائل اسے دی تھی۔وہ مجھے مل نہیں رہی۔”
غزنوی نے جلدی سے بہانا بنایا۔
“اچھا ٹھیک ہے۔۔وہ تو شاید سحرش کے کمرے میں ہوگی اور اماں جی تو دوا لے کر ابھی سوئی ہیں۔”
مظفر صاحب نے ٹیبل پہ رکھا کپ اٹھا لیا تھا اور گھونٹ گھونٹ پینے لگے تھے۔
“نہیں چاچو آپ اسے یہیں بُلا دیں۔میں باہر انتظار کر رہا ہوں۔”
وہ یہ کہہ کر رکا نہیں اور تیز تیز قدم اٹھاتا لاؤنج سے نکل گیا۔مظفر صاحب نے ملازمہ سے کہہ کر ایمان کو بلوایا۔
“کہاں ہیں ظفر چاچو۔۔؟”
وہ لاؤنج میں آئی تو وہاں سوائے شریفاں کے کوئی نہیں تھا جو ٹیبل پہ دھرا خالی کپ اٹھا رہی تھی۔
“وہ جی۔۔باہر چھوٹے صاحب آئے ہیں۔آپ کو بلا رہے ہیں۔۔۔باہر لان میں ہیں۔”
شریفاں کچن کیطرف بڑھی۔
“کون چھوٹے صاحب؟”
ایمان نے حیرانی سے پوچھا۔شریفاں نے پلٹ کر اسکی جانب دیکھا۔اسکے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا غزنوی آیا ہوگا۔
“غزنوی صاحب۔۔۔باہر ہیں۔”
شریفاں تو پلٹ گئی مگر اسکے چہرے کا رنگ اڑنے میں ایک پل سے بھی کم وقت لگا۔ٹانگوں نے چلنے سے انکار کر دیا۔
“کیا ہوا ایمان۔۔بابا کیا کہہ رہے تھے؟”
سحرش اسکے پیچھے آئی تھی۔
“وہ۔۔۔باہر۔۔۔۔؟”
ایمان نے بیرونی دروازے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔سحرش اسے یوں گھبراتا دیکھ کر پریشان ہو گئی تھی۔
“تم اتنی گھبرائی ہوئی کیوں ہو۔”
سحرش نے اسے بٹھایا۔اسکی اڑی رنگت اسے پریشان کیے دے رہی تھی۔
“سحرش آپی۔۔۔وہ باہر غزنوی آئے ہیں اور مجھے بلا رہے ہیں۔آپ پلیز ان سے جا کر کہہ دیں کہ میں سو چکی ہوں۔پلیز آپی۔۔”
اس نے سحرش کے ہاتھ تھام لئے اور لجاجت آمیز انداز میں بولی۔
“مگر کیوں۔۔جاؤ جا کر دیکھ لو کیا کہہ رہا ہے بلکہ ٹھہرو میں تمھارے ساتھ چلتی ہوں۔”
سحرش اسکا ہاتھ تھامے باہر کی طرف بڑھنے لگی۔
“نہیں نا آپی۔۔وہ بہت غصے میں ہونگے۔مجھے ڈانٹے گے۔ان کی ڈانٹ سے بچانے کے لئے ہی تو شاہ گل مجھے یہاں لائی ہیں۔آپ خود جا کر کہہ دیں نا پلیز۔۔میری پیاری آپی۔۔”
ایمان باہر جانے کو تیار نہیں تھی۔وہ چاہتی تھی کہ سحرش جا کر غزنوی سے کہہ دے۔
“اچھا ٹھیک ہے۔۔تم۔یہاں رکو۔۔۔میں کہتی ہوں اس سے۔۔اتنی گھبرا کیوں ہو رہی ہو پاگل۔۔بیٹھو تم۔”
سحرش اسے لاؤنج میں رکنے کا کہہ کر باہر آ گئی۔
“کیا بات ہے غزنوی۔۔اس وقت۔۔؟”
وہ لاؤنج میں ان کی جانب پشت کیے کھڑا تھا۔موسم کافی حد تک تبدیل ہو گیا تھا۔ہلکی ہلکی ٹھنڈی ہوا موسم کی خنکی کو بڑھا رہی تھی۔وہ اسکی طرف پلٹا۔
“آپی وہ ایمان سے بات کرنی تھی۔”
ایمان کی بجائے سحرش کو اپنے سامنے موجود پا کر ایک بار پھر سے اسکے اندر ابال اٹھنے لگا۔
“وہ تو سو رہی ہے۔۔تم صبح بات کر لینا۔”
سحرش نے اسکے چہرے پہ غصہ ٹٹولتے ہوئے کہا۔سحرش کو وہ قطعی غصے میں نہیں لگ رہا تھا۔
“اچھا میں خود اس سے مل لیتا ہوں۔”
اس سے پہلے کہ وہ اسے روکتی وہ تیزی سے اندر کیطرف بڑھا۔سحرش باہر ہی رک گئی اسے غزنوی کے پیچھے اندر جانا مناسب نہیں لگا تو وہ لان میں کین کی کرسیوں کی طرف بڑھ گئی۔
“مجھے آج پتہ چلا کہ تم ٹہل ٹہل کر سوتی ہو۔”
وہ سیڑھیوں کی جانب بڑھ رہی تھی کہ غزنوی کی آواز پہ پلٹ کر دیکھا تو وہ لاؤنج کے بیچوں بیچ کھڑا اسے گھور رہا تھا۔آواز میں دبا دبا غصہ صاف جھلک رہا تھا۔ایمان سے تو ایک قدم بھی نہ لیا گیا۔۔ایک تو وہ اس پہ غصہ تھا اور اب اسکا جھوٹ بھی پکڑا گیا تھا۔
“نیچے آؤ۔۔۔”
غزنوی نے وہیں کھڑے کھڑے اسے بلایا مگر وہ وہیں کھڑی رہی۔اسکی ہمت ہی نہیں پڑ رہی تھی قدم اٹھانے کی۔
“سنا نہیں تم نے۔۔۔”
وہ آواز بلند نہیں کر سکتا تھا ورنہ اسکا غصہ تو اپنی حد پار کر چکا تھا۔اس سے پہلے کہ وہ اسکے سر پہ پہنچتا وہ اسکی طرف بڑھی۔ایمان کے دل کی دھڑکن اسکے اٹھتے قدموں کے ساتھ ساتھ بڑھتی جا رہی تھی۔
“اگر اگلے دس منٹ میں تم کمرے میں نہ پہنچی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا۔”
ابھی وہ اس سے کچھ فاصلے پر تھی کہ غزنوی نے اسے بازو سے پکڑ جھٹکے سے قریب کیا۔وہ توازن برقرار نہیں رکھ سکی اور اسکے سینے سے آ لگی۔ایمان کو اسکی انگلیاں اپنے بازو میں پیوست ہوتی ہوئی محسوس ہوئی تھیں۔۔وہ اسکی پھٹی پھٹی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہہ رہا تھا۔
“سنا تم نے۔۔۔؟”
غزنوی نے اسے ایک اور جھٹکا دیا مگر اپنی گرفت سے نکلنے نہیں دیا تھا۔
“جی۔۔۔”
وہ صرف اتنا ہی کہہ سکی۔
“صرف دس منٹ۔۔”
غزنوی نے اسے جھٹکا دے کر چھوڑا تھا۔وہ صوفے سے ٹکرائی تھی جبکہ غزنوی واپس پلٹ گیا۔وہ بھی اسکے پیچھے لپکی تھی۔
“ارے ارے ایمان۔۔کہاں جا رہی ہو۔۔غزنوی تو چلا گیا ہے۔”
سحرش نے ایمان کو غزنوی کے پیچھے جاتے دیکھ کر روکا تھا۔
“وہ کہہ رہے تھے گھر آؤ۔”
ایمان نے بیرونی دروازے کی طرف دیکھا جہاں سے وہ نکل کر گیا تھا۔
“مگر اس وقت۔۔۔۔صبح چلی جانا۔”
سحرش نے اسے روکنے کی کوشش کی۔
“نہیں سحرش آپی۔۔کچھ کام ہے۔۔نہیں کیا تو غصہ ہو جائیں گے۔۔میں چلتی ہوں آپ شاہ گل کو بتا دینا۔”
اسے یہی بہانا بہتر لگا۔
“اچھا ٹھیک ہے۔”
سحرش ہونٹوں پہ دبی دبی مسکراہٹ لئے واپس مڑ گئی۔ایمان اپنی پریشانی میں سحرش کی نگاہوں کی معنی خیزی نہ بھانپ سکی۔وہ تیز تیز قدم اٹھاتی بیرونی گیٹ پار کر گئی۔
گھر میں داخل ہوتے ہی وہ سیدھی اپنے کمرے کی طرف بڑھی۔دروازے پہ دستک دینے کے بعد جب کوئی جواب موصول نہیں ہوا تو وہ اندر داخل ہو گئی۔گہری خاموشی نے اسکا استقبال کیا تھا۔غزنوی سامنے سامنے بیڈ پہ نیم دراز اسی کی جانب دیکھ رہا تھا۔اسے اپنی طرف دیکھتا پا کر اس نے پلٹ کر دروازہ بند کیا اور بناء اسکی طرف دیکھے صوفے کی طرف قدم بڑھائے۔غزنوی بیڈ سے اترا اور اگلے ہی لمحے وہ اسکے سامنے کھڑا تھا۔
“بہت شوق ہے نا تمھیں دوسروں کی ہمدردیاں حاصل کرنے کا۔۔”
اس نے ایک بار پھر اسے بازو سے پکڑ کر اپنے اور اس کے بیچ کے فاصلے کو گم کیا۔
“مم۔۔میں نے ایسا کچھ نہیں چاہا۔”
وہ نظریں جھکائے بولی اور اس کی گرفت سے نکلنے کی سعی کرنے لگی۔
“میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ تم کیا کرتی ہو اور کیا نہیں۔”
اسکے دونوں بازوں پہ غزنوی کی گرفت مضبوط ہوتی جا رہی تھی۔
“مجھے درد ہو رہا ہے۔۔۔پلیز چھوڑیں۔”
ایمان کی آنکھوں میں نمی ڈولنے لگی تھی۔
“اپنی اوقات میں رہو۔۔میری فیملی کو میرے خلاف کرنے کا خیال دل سے نکال دو اور نہ ہی ایسی کوئی کوشش کرنا ورنہ میں کوئی بھی فیصلہ کرنے میں ذرا دیر نہیں لگاؤں گا۔”
غزنوی نے جھٹکا دے کر اسے چھوڑا۔
“سی۔۔۔”
آہ۔۔۔!”
وہ سنبھل نہ سکی اور اسکا ماتھا ٹیبل کے کونے سے ٹکرایا۔ایک لمحے کو تو اسکی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا۔سر میں اٹھتی درد کی شدید لہر نے اسے اٹھنے نہ دیا۔بھوری خمار آلود آنکھیں نمکین پانیوں سے بھر گئی تھیں۔ایک پل کو تو غزنوی کا دل بھی بھورے نینوں میں ڈوب گیا تھا مگر اگلے ہی پل دماغ کی سختی نے دل کی نرمی کو نگل لیا۔اس نے بغیر اسکی پرواہ کیے لائٹ آف کی اور بستر پہ دراز ہو گیا۔کمرے میں گُھپ اندھیرا تھا۔تیزی سے بہتے آنسوؤں نے چہرہ تر کر دیا تھا۔اسے کچھ بھی دکھائی نہیں دے رہا تھا۔تھوڑی دیر بعد آنکھیں اندھیرے سے کچھ مانوس ہوئیں تو وہ ٹیبل کے سہارے اٹھی اور صوفے پہ کشن سیدھا کر کے خاموشی سے لیٹ گئی۔کمرہ اس کی ہلکی ہلکی سسکیوں سے گونج رہا تھا مگر غزنوی اسکی مدھم سسکیاں سننے کے باوجود کان بند کیے لیٹا رہا۔رات دھیرے دھیرے بیتی جا رہی تھی۔اس کی خوبصورت آنکھوں میں نیند کا شائبہ تک نہ تھا جبکہ غزنوی کب کا سو چکا تھا۔سر تلے دھرا کشن اسکے آنسوؤں سے بھیگتا جا رہا تھا۔پھر رات کا نجانے کون سے پہر تھا جب نیند نے اسے اپنی آغوش میں لے لیا تھا۔ ______________________________________________
وہ صبح اٹھا تو کمرے میں دبیز پردوں کے باعث تاریکی کا راج تھا۔آج اتوار کا دن تھا۔گھڑی پہ نگاہ گئی تو دس بج رہے تھے۔اس نے بیڈ سے اتر کر ٹیوب لائٹ آن کی اور الماری سے کپڑے لے کر واش روم کیطرف بڑھ گیا۔فریش ہو کر باہر آیا تو صوفے پہ لیٹی ایمان پہ اسکی نظر گئی۔سینے تک چادر اوڑھے وہ خود سے بےخبر تھی۔رات کا واقعہ کسی فلم کیطرح اسکی آنکھوں کے آگے گھوم گیا تھا۔اسے اپنے سخت رویے پہ افسوس ہوا لیکن پھر اگلے ہی لمحے سر جھٹک کر وہ ڈریسنگ ٹیبل سے برش اٹھا کر بال برش کرنے لگا۔بھوک محسوس ہوئی تو ایک بار پھر سوئی ہوئی ایمان پہ نظر گئی۔
“یہ کیوں اب تک سو رہی ہے؟؟”
وہ ایک بار پھر گھڑی پہ نظر ڈالتے ہوئے خود سے بولا اور ایمان کیطرف بڑھا۔
“اوئے اٹھو۔۔”
اس نے قدرے بلند آواز میں ایمان کو پکارا۔۔اسے اپنا لہجہ عجیب سا لگا۔ایمان کے وجود میں ذرا سی بھی جُنبش نہیں ہوئی۔گلابی چوڑیوں سے سجی کلائی اسکی توجہ اپنی طرف مبذول کر گئی۔اسے یاد آیا کہ وہ جس رنگ کا لباس زیب تن کرتی تھی اسی رنگ کی چوڑیاں بھی اسکی کلائیوں میں سجی رہتی تھیں۔وہ چوڑیوں پہ نظر جمائے سوچ رہا تھا کہ کل ایمان نے جامنی رنگ کی چوڑیاں پہنی تھیں۔اس سے پہلے سرخ، اس سے پہلے بلیک اور اس سے پہلے آسمانی رنگ کی۔۔
“لاحول ولاقوة۔۔”
اس نے فوراً سر جھٹکا۔اسے خود پہ حیرانی ہوئی تھی کہ وہ بےخبری میں اسے نوٹ کر رہا تھا۔اب اسکی نظریں ایمان کے چہرے کا طواف کر رہی تھیں۔سوجی آنکھیں رات بھر خود پہ گزری تکلیف کی کہانی بیان کر رہی تھیں۔گلابی ہونٹ سرخی مائل تھے۔غزنوی نے کچھ سوچ کر اسکے ماتھے کو ہلکے سے چُھوا جو تپ رہا تھا۔
“ایمان۔۔!”
غزنوی نے ایک بار پھر اسے پکارا تھا مگر اسکے سوئے وجود میں کوئی حرکت نہیں ہوئی۔لمبی خم دار پلکیں بےحرکت تھیں اور بخار کی حدت سے رخسار بھی سرخ ہو رہے تھے۔
“ایمان۔۔۔”
غزنوی اس پہ جھکا اسکا بازو ہلا رہا تھا۔ایمان کو بازو پہ ہلکا سا دباؤ محسوس ہوا تو اس نے فورا آنکھیں کھول دیں۔اس نے دیکھا غزنوی اس پہ جھکا اسے بغور دیکھ رہا تھا۔پہلے تو ایمان اسے یوں دیکھ کر حیران ہوئی اور پھر اگلے ہی لمحے پریشان۔۔وہ فورا اٹھ کر پیچھے ہوئی۔۔پھرتی سے نیچے گرا ڈوپٹہ اٹھا کر اوڑھا۔مگر دوسری جانب تو کوئی اور ہی معاملہ تھا۔غزنوی کی نظریں اسکی خم دار پلکوں میں اڑ گئی تھیں اور واپسی بھول بیٹھی تھیں۔وہ بھول گیا تھا کہ اس وقت وہ کہاں موجود تھا اور کیا کر رہا تھا۔ایمان نے اسے یوں محو انداز میں خود پہ نظریں گاڑھے دیکھا تو نظروں کا رخ پھیر لیا۔غزنوی کا دل چاہا کہ وہ اسکی اٹھتی گرتی پلکوں کو چھو کر محسوس کرے مگر ایمان کے نگاہیں پھیر لینے سے جیسے وہ ہوش میں آ کر فورا سیدھا ہوا۔اس دوران کمرے میں صرف چوڑیوں کی کھنک کی آواز تھی۔
“تمھیں بخار ہے۔۔تم۔وہاں بیڈ پہ لیٹ جاؤ۔۔میں تمھارے لئے میڈیسن لے کر آتا ہوں۔”
وہ دھیرے سے کہتا کمرے سے نکل گیا۔ایمان نے اسکے جانے کے بعد اسکی ہدایت پر فورا عمل کیا۔وہ نہیں چاہتی تھی کہ شمائلہ بیگم یا عقیلہ بیگم میں سے کوئی بھی اسے اس طرح صوفے پہ لیٹا دیکھے۔پچھلی بار تو وہ بےچینی کا بہانا بنا کر خود کو ملائکہ کے سوالات سے بچا گئی تھی مگر اس بار وہ ان سے کوئی بہانا نہیں بنا پائے گی اور اوپر سے غزنوی کا غصہ۔۔اس لئے وہ خاموشی سے اسکی ہدایت پہ عمل کرتی سر تک کمبل اوڑھے ہوئی تھی۔تھوڑی دیر بعد اسے دروازہ کھلنے اور پھر بند ہونے کی آواز آئی۔
“ایمان بی بی۔۔۔”
شگفتہ کی آواز سن کر اس نے کمبل سرکایا۔شگفتہ ہاتھ میں ٹرے لئے اس کے قریب کھڑی تھی۔وہ اٹھ کر بیٹھی۔
“ہائے بی بی جی آپکی آنکھیں تو بڑی سوجی ہوئی ہیں۔۔کیا ساری رات روتی رہی ہیں جی۔۔؟”
شگفتہ نے ٹرے سائیڈ ٹیبل پہ رکھی اور اسکا معائنہ کرتے ہوئے بولی۔
“طبیعت خراب رہی ساری رات۔۔بخار کی وجہ سے ٹھیک سے سو نہیں سکی۔”
وہ سُوجے پپوٹوں کو انگلیوں سے دباتے ہوئے بولی تھی۔
“پر آپ تو شاہ گل کے ساتھ مظفر صاحب کی طرف گئی تھیں۔۔یہاں کب آئیں؟؟ کیا صبح صبح آئی ہیں؟”
وہ اسکا سُتا سُتا چہرہ بغور دیکھ رہی تھی۔ایمان سے کوئی جواب نہیں بن پڑا۔
“تمھیں میں نے یہاں دوا دینے بھیجا تھا یا انٹرویو لینے۔”
غزنوی کی آواز پہ دونوں نے دروازے کی جانب دیکھا۔وہ کھا جانے والی نظروں سے شگفتہ کو دیکھ رہا تھا۔اسے شگفتہ کی ٹوہ لینے والی عادت کا علم تھا۔
“وہ جی۔۔میں تو بس یونہی۔۔”
اس نے پلٹ کر ٹرے ایمان کے قریب رکھا۔
“چلو نکلو یہاں سے اور ناشتہ لاؤ میرے لئے۔۔”
وہ صوفے کی طرف بڑھا۔شگفتہ فورا کمرے سے نکلی۔اس کے جانے کے بعد وہ صوفے سے اٹھ کر اسکے پاس آیا جبکہ وہ نظریں جھکائے سلائس ہاتھ میں پکڑے کھا رہی تھی۔اُس میں غزنوی کی طرف دیکھنے کی ہمت نہیں تھی۔
“جلدی سے ناشتہ کرو اور پھر یہ میڈیسن لے لینا۔”
وہ پلٹ تو گیا تھا مگر ایمان مسلسل اسکی نگاہیں خود پہ محسوس کر رہی تھی۔جب تک اسکا ناشتہ نہیں آیا وہ اسکا مطالعہ کرنے میں مصروف رہا۔تھوڑی دیر بعد شگفتہ اسکا ناشتہ لے آئی تو وہ ناشتہ کرنے میں مصروف ہو گیا۔وہ دوا کھا کر لیٹ گئی تھی اور ایک بار پھر سے کمبل سر تک تان گئی۔
جاری ہے۔۔
