Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode13

Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode13

“آؤ آؤ بادشاہ خان۔۔ملک صاحب تمھاری ضمانت کے کاغذات لائے ہیں۔”
ایس ایچ او کرم داد نے جیسے ہی بادشاہ خان کو آتے دیکھا تو مونچھوں کو تاؤ دیتا بولا۔اسکے سامنے ہی کرسی پہ ملک خاور علی بیٹھا سیگریٹ کے کش لگا رہا تھا۔
“شکریہ ملک صاحب مجھے پتہ تھا کہ آپ مجھے اکیلا نہیں چھوڑیں گے۔اتنے دن میں نے اس قید خانے میں کیسے گزارے یہ میں ہی جانتا ہوں۔”
بادشاہ خان داڑھی کھجاتا آیا اور ہاتھ باندھے ملک خاور علی کے سامنے آ کھڑا ہوا۔ملک خاور علی فوراً اٹھا اور کچھ دیر اسکی طرف غصیلی نظروں سے دیکھتا رہا۔
“یہ آخری بار ہے بادشاہ خان۔۔اس کے بعد میں تیری کوئی مدد نہیں کرنے والا۔۔مجھے اور بھی مسئلے مسائل سے نبٹنا ہوتا ہے۔۔تیری طرح فارغ نہیں ہوں کہ زنانیوں کے پیچھے بھاگتا رہوں۔۔تجھ جیسے نمک حرام پالنے کا ٹھیکہ نہیں اٹھا رکھا ہے میں نے۔”
ملک خاور علی تمسخر اڑاتے لہجے میں بولا۔ایس ایچ او کرم داد کی نگاہیں بھی کچھ ایسا ہی نظارہ پیش کر رہی تھیں۔
“ملک صاحب غلطی ہو گئی۔”
وہ ملک خاور علی کی بےتحاشا سرخ آنکھیں خود پہ جمے دیکھکر بغلیں جھانکنے لگا۔
“او بس کر غلطی پہ غلطی کیے جا رہا ہے۔۔لڑکی نہ ہو گئی۔۔۔اور مر گئیں ہیں کیا جو تُو ایک ہی پیچھے دیوانہ ہو رہا ہے؟”
ملک خاور علی بادشاہ خان کو منمناتے دیکھ کر تیش میں آ گیا۔
“میری طرف سے فارغ سمجھ خود کو۔۔تیری وجہ سے میں اپنی کرسی نہیں چھوڑ سکتا۔۔جی تو چاہتا ہے کہ رکھ کے لگاؤں تیرے اس تھوبڑے پہ۔۔کتے سے بدتر ہو گیا ہے تُو۔۔”
ملک خاور علی اس پہ دھاڑتا باہر نکل گیا۔
“ملک صاحب۔۔ملک صاحب۔۔معاف کر دیں اس بار۔۔آئیندہ ایسا نہیں ہو گا۔”
بادشاہ خان گھگھیاتا ملک خاور علی کے پیچھے دوڑا تھا لیکن ملک خاور علی نے ایک بار بھی پیچھے دیکھنا تک گوارا نہیں کیا تھا۔فوراً سے پیشتر اپنی جیپ میں سوار ہوا اور ڈرائیور سے چلنے کے لئے کہا۔اس کا گن مین بھی سرخ آنکھوں سے بادشاہ خان کو دیکھ رہا تھا۔
گاڑی دُھول اڑاتی جا چکی تھی اور بادشاہ خان وہیں کھڑا رہ گیا تھا۔
وہ وہاں سے سیدھا اپنے مردان خانے آیا تھا۔دل و دماغ غصے کی شدت سے تپ رہے تھے۔اسے اپنی توہین بھلائے نہیں بھول رہی تھی۔دل تو چاہ رہا تھا کہ وہیں سب کے سامنے اسکی بےعزتی کر کے اسکی اکڑ کو اسکے منہ دے مارتا مگر ملک خاور علی سیاسی اثرورسوخ رکھتا تھا وہ منٹوں میں اسے واپس حوالات میں ڈال سکتا تھا، جب چاہتا اسے چیونٹی کی طرح مسل سکتا تھا۔اس سے بیر پالنا اسے مہنگا پڑ سکتا تھا اس لئے غصہ پی گیا۔گھر آ کر بھی اسے ملک خاور علی کے چہرے کے تاثرات اور اسکی اکڑی گردن اسکے غصے پہ جلتی پہ تیل کا کام کر رہی تھی۔۔اوپر سے اس کے گن مین کی تمسخر اڑاتی نظریں بادشاہ خان کے تلوں پہ لگ کر سر پہ بجھ رہی تھیں۔جیل سے وہ خود باہر آ سکتا تھا مگر اس بار اسکے خلاف گواہی دینے والے پیدا ہو گئے تھی اور یہ سب اعظم احمد اور غزنوی احمد کی وجہ سے ہوا تھا ورنہ ایس ایچ او کرم داد کے لئے اسے آزاد کرنا آسان تھا۔وہ اس کا دوست تھا اور اسکے ہر گناہ پہ جلد سے جلد مٹی ڈالنے کا اہم کام کرتا تھا۔اس بار بھی اس نے بہت کوشش کی تھی مگر اعظم احمد کے بیچ میں پڑ جانے سے وہ کچھ بھی نہیں کر پا رہا تھا اور اعظم احمد کی وجہ سے لوگ بھی اسکے خلاف گواہی دینے کو تیار کھڑے تھے۔ایس ایچ او کرم داد نے شروعات میں ہی اس معاملے سے ہاتھ اٹھا لیے تھے۔اس نے کئی بار بادشاہ خان کو سمجھانے کی کوشش کی تھی کہ رشید خان کو خود سے الگ کر لے کیونکہ اب وہ اکیلا نہیں ہے مگر بادشاہ خان نے اسکی ایک نہیں سنی۔
اب وہ چارپائی پہ چت لیٹا آئندہ کا لائحہ عمل ترتیب دے رہا تھا۔ایک فیصلہ تو وہ تھانے سے گھر تک کے راستے میں کر چکا تھا کہ کچھ بھی ہو جائے اب وہ ملک خاور علی کے پاس نہیں جائے گا۔جو بھی کرے گا خود کرے گا۔
“خان۔۔۔!! خان شکر ہے کہ تم واپس آ گئے ہو۔۔سارا گاؤں تمھارے خلاف ہو گیا ہے اور ہر کوئی گواہی دینے کو بھی تیار کھڑا ہے۔اِن سب کو اعظم احمد کی پشت پناہی حاصل ہے۔میں تو سب کے منہ بند کر کر کے تھک گیا ہوں۔”
جانس خان جیسے ہی مردان خانے میں داخل ہوا، بادشاہ خان کو چارپائی پہ لیٹا دیکھ کر اسکے پاس بھاگا آیا تھا اور ساتھ ہی اسے گاؤں کی خبریں بھی دینے لگا تھا۔جانس خان، بادشاہ خان کا خاص بندہ تھا۔چوبیسوں گھنٹے اسکے ساتھ ہی رہتا تھا۔اسکے ہر برے کام میں اسکے ساتھ شامل رہتا تھا۔بادشاہ خان سود پہ قرض دیتا تھا اور جب وصولی کا وقت آتا تو جانس خان ہی جاتا تھا۔بادشاہ خان اس پہ اندھا اعتماد کرتا تھا۔ابھی بھی بادشاہ خان کے کہنے پر وہی ملک خاور علی کے پاس گیا تھا۔
“او کرنے دے باتیں۔۔۔بادشاہ خان کسی سے خائف نہیں ہے اور نہ کبھی ہو گا۔۔”
بادشاہ خان کے گرد آگ کی لپٹیں اس کی بات سن کر شعلوں کا روپ دھار گئی تھیں۔وہ اٹھ کر بیٹھ گیا۔اس کے چہرے کے کرخت تاثرات دیکھ کر جانس خان فوراً چارپائی سے اترا، کیونکہ غصے میں اکثر بادشاہ خان اسے لات مار کر دور گرا دیا کرتا تھا۔اس لئے اب جانس خان اس سے دوری بنائے رکھتا تھا۔ابھی بھی اس نے یہی کیا تھا اس سے دور جا کھڑا ہوا تھا۔
“یہ ہوئی نا بات خان۔۔۔خان آپکا جگر تو شیر کا جگر ہے شیر کا۔۔میں نے وہ کھری کھری سنائی کہ اب کچھ بھی کہنے سے پہلے دس بار سوچیں گے۔۔لیکن خان ایک بات سمجھ نہیں آئی۔۔رشید خان سے تو اچھی خاصی بنتی تھی آپکی۔۔۔پھر یہ سب کیونکر۔۔۔؟”
وہ بادشاہ خان کے چہرے کے تاثرات کا بغور مطالعہ کرتا قریب آیا مگر تھوڑا بہت فاصلہ اب بھی برقرار رکھا تھا۔
“میرے ساتھ چالاکی کر رہا تھا۔۔اپنی رشتے داری کی تڑی لگا رہا تھا مجھے۔۔میری منگیتر کو کسی اور کے سپرد کر دیا۔۔کہا تھا میں نے اسے کہ چھڑا کر لائے بیٹی کو اور میری امانت میرے حوالے کرے۔۔ورنہ میں تو اسکے منہ سے نوالہ چھین لوں یہ تو اسکی بیٹی ہے۔”
بادشاہ خان بےشرمی سے ہنستا جانس خان کو دیکھ رہا تھا۔جو بےشرمی میں اس سے دس ہاتھ آگے تھا۔گاوں کی عورتیں ہوں یا لڑکیاں۔۔کوئی بھی اسکی غلیظ نگاہوں سے بچ نہیں پاتی تھی۔
“خان ایسا کیا ہے اس لڑکی میں جو تم اسکا خیال جھٹک نہیں پاتے۔”
جانس خان نے ڈرتے ڈرتے پوچھا۔
“اوئے تُو نہیں سمجھے گا۔۔”
بادشاہ خان چارپائی سے اتر کر مردان خانے سے نکل کر گھر میں داخل ہو گیا۔
“خان۔۔۔! رشید خان نے تو تمھارے سارے پیسے لوٹا دیئے تھے تو پھر تم کونسے پیسوں کی بات کر رہے ہو؟”
جانس خان کے دل میں کھلبلی سے مچ گئی تھی اسکا انداز دیکھ کر۔۔وہ اسکے پیچھے آیا تھا۔
“تُو نے دیکھا رشید خان کو مجھے پیسے دیتے ہوئے۔۔۔یا پھر گاؤں کے کسی شخص کے سامنے اس نے مجھے پیسے لوٹائے۔۔نہیں نا۔۔؟ تو پھر اس نے کب دیئے اور میں نے کب لئے۔۔”
وہ جانس خان کو دیکھتا، مکروہ ہنسی ہنستا آگے بڑھ گیا۔
جبکہ جانس خان ہنستا ہوا اپنے خان کے چَلتر دماغ کو دل ہی دل میں داد دیتا اسکے پیچھے ہو لی۔ _________________________________
غزنوی نے ایمان سے بالکل بات چیت بند کر رکھی تھی۔وہ پہلے بھی کب اس سے بات کرتا تھا مگر اسلام آباد میں گزرا وقت اس یہ یقین دلانے پہ مجبور کر گیا تھا کہ غزنوی بدل گیا ہے۔۔اسکے آگے پیچھے پھرنا، اسے فون کالز کر کر کے تنگ کرنا، اسکے لئے شاپنگ کرنا، اسے چھیڑنا۔۔غزنوی کا کہا گیا ہر ایک جملہ ایمان کو محبت کا احساس دلانے لگا تھا۔ابھی تو وہ ٹھیک سے اس احساس کو جی بھی نہیں پائی تھی کہ وہ پھر سے ویسا ہی کٹھور ہو گیا تھا۔
پہلے کی بات اور تھی۔۔وہ اپنے دل میں پنپتے اس جذبے کو خود پہ حاوی ہونے نہیں دیتی تھی مگر اب غزنوی کی بےاعتنائی اور لاپروائی کو شدت سے محسوس کر رہی تھی۔
اس نے غزنوی کو کئی بار منانے کی کوشش کی، ڈھکے چھپے الفاظ میں اسے اپنی محبت کا احساس دلانا چاہا مگر وہ تو جیسے آنکھیں کان دونوں بند کیے ہوئے تھا۔ایمان کو لگتا تھا جیسے غزنوی کو سوائے اسکے سبھی دکھائی دیتے ہیں۔
اوپر سے گھر والوں کے سامنے وہ اسکے ساتھ بالکل مختلف رویہ اختیار کیے ہوئے تھا۔۔اسکی پرواہ کرتا۔۔کسی نہ کسی بہانے سے اسے پکارتا۔۔اس لئے سب اسکا نارمل بی ہیور دیکھ کر قدرے مطمئن ہو چکے تھے۔ایمان بھی اپنے رویے سے ان پہ کچھ بھی ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی۔
ابھی بھی وہ بالکل گم سم سی بیٹھی تھی۔تھوڑی دیر پہلے رشید خان نے اسے فون کیا تھا۔انہوں نے اس سے ملنے کا عندیہ ظاہر کیا تو ایمان نے انہیں عید پہ اعظم ولاء آنے کی دعوت دی تھی اور رشید خان نے ایک دو دن تک آنے کا وعدہ کیا تھا۔فون ابھی بھی اسکے ہاتھ میں تھا اسی دوران غزنوی کمرے میں داخل ہوا۔ایمان پہ نظر پڑی تو وہ اسے کسی گہری سوچ میں گم دکھائی دی۔غزنوی نے دروازہ تیز آواز سے بند کیا تو ایمان نے چونک کر اسکی طرف دیکھا۔غزنوی نے بنا کچھ کہے الماری سے اپنے کپڑے لئے اور واش روم میں گھس گیا۔اتنے میں غزنوی کا فون بجنے لگا جو اس نے ایک سیکنڈ پہلے ٹیبل پہ رکھا تھا۔ایمان نے کبھی اس کے فون کو ہاتھ تک نہیں لگایا تھا اس لئے ابھی بھی اگنور کیے اٹھ کھڑی ہوئی۔فون بجتے بجتے خاموش ہو گیا تھا۔اپنا فون اس نے سائیڈ ٹیبل کی دراز میں رکھا اسی دوران غزنوی کے فون کی رنگ ٹون دوبارہ سے بجنے لگی۔ایمان نے واش روم کے دروازے کی طرف دیکھا اور پھر ٹیبل کیطرف آ کر موبائل اٹھایا۔بلنک ہوتے کمیل کے نام پہ نظر پڑی تو کال ریسیو کی۔
“ہیلو۔۔!! السلام علیکم۔۔!!”
اس سے پہلے کہ کمیل کچھ بولتا ایمان نے سلام کیا۔۔کمیل ایمان کی آواز سن کر سنبھل گیا۔
“وعلیکم السلام بھابھی۔۔۔کیسی ہیں آپ۔۔؟”
کمیل جو ابھی غزنوی کی اچھے سے خبر لینے والا تھا سنبھل کر بولا۔دراصل وہ صبح سے اسے کالز کر رہا تھا لیکن غزنوی کال ریسیو نہیں کر رہا تھا۔
“میں بالکل ٹھیک ہوں۔۔آپ کیسے ہیں اور آنٹی کیسی ہیں۔۔میں نے سوچا تھا ان سے دوبارہ بات کرنے کا مگر مصروفیت کے باعث ذہن سے نکل گیا۔”
ایمان نے اسکی اور اسکی والدہ غزالہ بیگم کی خیریت دریافت کی۔
“الحمداللہ۔۔!! یہاں سب خیریت ہے۔۔امی بھی آپکو فون کرنے کا کہہ رہی تھیں مگر گھر میں مہمان آئے تھے اس لئے نہیں کر پائیں۔۔”
کمیل نے اسے بتایا۔
“اور بتائیے۔۔آپ تو چھپے رستم نکلے۔۔یہ ہمارے گھر بار بار اسی مقصد سے آیا جا رہا تھا۔۔”
ایمان نے شرارتی انداز اپنایا۔۔اسے یاد تھا کہ جب تک بلقیس بیگم وہاں اس کے پاس تھیں کمیل ہر دوسرے دن چکر لگایا کرتا تھا، حالانکہ پہلے کبھی اسطرح نہیں آتا تھا۔اب جب رشتے کی بات چلی تو اسے کمیل کی رقیہ کے اردگرد چکر لگاتی نظروں کا مفہوم سمجھ میں آ گیا تھا۔
“ارے بھابھی۔۔۔آپ بھی۔۔۔آپ کے شوہر محترم کیا کم تھے اس کام کے لئے جو آپ بھی شروع ہو گئیں۔ویسے یہ آپکے محترم ہیں کہاں؟ صبح سے کوئی بیسیوں بار کال کر چکا ہوں مگر محترم کال ریسیو ہی نہیں کر رہے۔”
کمیل نے اس کی شرارت پہ مسکرا کر بات کا رخ بڑی عمدگی سے غزنوی کی جانب موڑ دیا۔
“وہ۔۔۔۔یہ لیں بات کریں۔۔۔کمیل کا فون ہے۔”
وہ بتا ہی رہی تھی کہ غزنوی واش روم سے باہر آیا۔۔ایمان نے قریب آ کر فون اسکی طرف بڑھایا۔غزنوی نے فون اسکے ہاتھ سے لے لیا۔
“ہاں یار بابا کے ساتھ ایک بہت اہم میٹنگ اٹینڈ کر رہا تھا اس لئے کال پک نہیں کر پایا۔”
غزنوی نے کمیل کو کال پک نہ کرنے وجہ بتائی۔
“ویسے میں ابھی تمھیں کال کرنے ہی والا تھا۔۔خیریت تھی۔۔؟؟”
اس نے ایک نظر پاس ہی کھڑی ایمان کو دیکھتے ہوئے کمیل سے پوچھا۔ایمان نے بھی اسے رشید خان کی آمد کے متعلق بتانا تھا اس لئے وہیں کھڑی رہی۔
“اچھا ٹھیک ہے میں صبح خود وہاں لیٹر بھیج دوں گا۔۔تم بس صبح آفس جا کر سہیل صاحب سے بات کر لینا اور فائل ان کے حوالے کر دینا۔۔باقی میں خود دیکھ لوں گا۔”
غزنوی بیڈ پہ بیٹھتے ہوئے بولا۔
“ہاں ٹھیک ہے میں کر لوں گا۔۔اگر کال ریسیو کر لیتا تمھاری تو آفس میں ہی یہ کام کر لیتا۔۔خیر ابھی دو دن ہیں ڈیل فائنل کرنے کے لئے۔۔انشاءاللہ کور اپ ہو جائیگا۔۔”
غزنوی نے بائیں ہاتھ سے گیلے بال سنوارتے ہوئے کہا اور الوداعی کلمات کہہ کر فون ٹیبل پہ رکھ دیا۔اب وہ ایمان کی طرف متوجہ تھا جو اس کی بات ختم ہونے کی منتظر تھی۔
“کچھ کہنا تھا؟”
غزنوی بیڈ کراؤن سے پشت ٹکا کر بیٹھ گیا۔
“جی۔۔۔وہ بابا سے بات ہوئی تھی ابھی۔۔وہ بتا رہے تھے کہ بادشاہ خان جیل سے چھوٹ گیا ہے۔”
ایمان قریب آتے ہوئے بولی۔۔اسکے چہرے پہ پریشانی تھی۔
“یہ تو ہونا ہی تھا۔۔ہمارے آنے کے بعد گاؤں کے لوگ پیچھے ہٹ گئے ہونگے تو آسانی سے ضمانت ہو گئی ہوگی۔۔تم پریشان مت ہو میں بات کرتا ہوں۔”
وہ اسے پریشان دیکھ کر بولا۔
“میں نے یہاں بلایا ہے۔۔عید بھی ہے اور پھر بادشاہ خان۔۔وہ دوبارہ بھی ایسی حرکت کر سکتا ہے۔میں ٹھیک کیا نا۔۔؟”
وہ ٹھہر ٹھہر کر بولی۔
“ہاں اچھا کیا۔۔ویسے بھی وہاں ان کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔۔پھر کب آنے کا کہا ہے انہوں نے؟”
غزنوی نے ٹیبل سے موبائل اٹھاتے ہوئے پوچھا۔
“کہہ رہے تھے کہ ایک دو دن میں آ جائیں گے۔۔مان کب رہے تھے بڑی مشکل سے مانے ہیں۔”
وہ مزید بولی۔
“دو دن تو بہت زیادہ ہیں۔۔گل خان وہیں گاؤں میں ہے صبح میں اسے کہہ دوں گا کہ وہ کل آ جائے اور جاتے جاتے انہیں یہیں ڈراپ کر جائے۔۔بلکہ میں ابھی کہہ دیتا ہوں۔”
موبائل اسکے ہاتھ میں تھا، وہ گل خان کو کال کرنے لگا۔۔پھر جتنی دیر وہ بات کرتا رہا ایمان وہیں کھڑی رہی۔
“آپکے لئے چائے۔۔۔”
غزنوی نے بات ختم کرنے کے بعد موبائل ٹیبل پہ رکھا تو ایمان نے اس سے چائے کا پوچھا۔
“چائے نہیں۔۔۔قہوہ پیوں گا۔۔اگر تم فارغ ہو تو۔۔”
غزنوی نے نیم دراز ہوتے ہوئے کہا۔۔ایمان کو اسکے لہجے میں اجنبیت صاف محسوس ہوئی۔وہ اس بارے میں بات کرنے کا ارادہ ترک کرتی کمرے سے نکل آئی۔ ________________________________________
رشید خان بھی آج افطاری تک پہنچنے والا تھا۔ایمان نے اعظم احمد کو بھی بتا دیا تھا کہ بادشاہ خان جیل سے چھوٹ گیا ہے۔انہوں نے بھی یہی کہا تھا کہ رشید خان کا وہاں رہنا مناسب نہیں۔شگفتہ کے ساتھ مل کر اس نے ان کے کمرہ صاف کروا دیا تھا۔کام ختم ہونے کے بعد شگفتہ تو اپنے کوارٹر میں چلی گئی تھی اور وہ بھی کچھ دیر آرام کی غرض سے اپنے کمرے میں آ گئی تھی۔نجانے کب اس کی آنکھ لگ گئی۔جب آنکھ کھلی تو ظہر کا وقت قریب تھا۔فریش ہو کر وہ عقیلہ بیگم کے کمرے میں آ گئی۔شمائلہ بیگم اور خیرن بوا بھی وہیں موجود تھیں۔
“لو بہو بھی آ گئی۔۔”
خیرن بوا نے اسے دیکھ کر کہا۔۔ان دونوں نے بھی اسکی طرف مسکرا کر دیکھا تھا۔ایمان چہرے پہ دھیمی مسکان سجائے ان کے پاس آ کر بیٹھ گئی۔
“یہ دیکھو یہ بنارسی ساڑھی کیسی ہے؟”
خیرن بوا نے سرخ بنارسی ساڑھی اس کے سامنے پھیلائی۔
“بہت پیاری ہے بوا۔۔۔کیا یہ آپ رقیہ کی شادی پہ پہنیں گی؟”
ایمان نے ساڑھی پہ نرمی سے ہاتھ پھیرتے ہوئے پوچھا۔۔
“اے بہو۔۔۔کچھ ہوش کے ناخن لو۔۔اب میں چٹے چاٹے پہ یہ پہنتی ہوئی اچھی لگوں گی کیا۔”
خیرن بوا نے ٹھوڑی پہ شہادت کی انگلی جما کر حیران نظروں سے ایمان کی طرف دیکھا۔شمائلہ بیگم اور عقیلہ بیگم کے لب بھی مسکرانے لگے۔
“اے تم لوگ بھی ٹھٹھول کرنے لگیں۔”
وہ اب شمائلہ بیگم کی طرف دیکھ رہیں تھیں۔
“ویسے خیرن۔۔تمھارے جہیز کی ہے۔۔پہننے میں کیا حرج ہے۔۔آخر کو ساس ہو۔۔”
عقیلہ بیگم نے ہنسی روک کر خیرن بوا سے کہا۔
“اے دفع۔۔۔بڈھی گھوڑی لال لگام۔۔۔عقیلہ بیگم تم تو کچھ عقل کی بات کرو۔”
خیرن بوا ناراضگی سے ساڑھی سمیٹنے لگیں۔
“بوا۔۔مذاق کر رہے ہیں۔۔ایمان یہ ساڑھی بوا کے جہیز کی ہے۔۔انہوں نے اپنی بیٹی کے لئے سنبھال رکھی تھی۔”
شمائلہ بیگم نے اسے بتایا۔
“سوچا تھا کہ اپنی بیٹی کو دوں گی۔۔بیٹی تو اللہ نے دی نہیں تو رقیہ کے لئے رکھ لی۔۔زرا بتانا تو کیسی لگے کی رقیہ پہ؟”
خیرن بوا نے ساڑھی دوبارہ سے اسکے سامنے پھیلائی۔
“بہت خوبصورت ہے بوا اور رقیہ پہ تو بہت اچھی لگے گی۔”
ایمان نے کہا تو ان کے چہرے پہ مسکراہٹ سج گئی۔۔ساڑھی ابھی بھی نئی کی نئی تھی۔۔جیسے کسی نے ہاتھ تک نہ لگایا ہو۔۔
“اماں نے میرے اور بلقیس کے لئے بڑی محبت سے خریدی تھی۔۔بس رنگ مختلف تھا۔۔اسکے لئے سبز رنگ میں خریدی تھی۔۔مجھے یقین ہے، بلقیس نے بھی سنبھال رکھی ہو گی۔”
خیرن بوا ساڑھی کو تہہ لگاتے ہوئی بولیں۔۔ایمان نے ان کے چہرے پہ کھلتے رنگوں کو بہت محبت سے دیکھا۔
“بہت عمدہ ہے۔۔لیکن بوا یہ ڈیزائن پرانا نہیں ہے۔”
ایمان نے جھجھکتے ہوئے کہا کہ کہیں بُوا پھر سے غصہ نہ ہو جائیں۔
“ائے ہاں یہ تو ٹھیک کہہ رہی ہو تم۔۔بس میں تو دے آؤں گی پھر چاہے جو بھی کرے اسکا۔”
وہ اسکی سوچ کے برعکس دھیرے سے بولیں۔
“ہاں یہ سہی ہے۔۔بچی خود ہی اپنی پسند سے تراش خراش کروا لے گی۔”
عقیلہ بیگم نے بھی تائید کی۔
“بس تو پھر سہی ہے۔۔گل خان کے ہاتھ بھجوا دوں گی۔”
خیرن بوا نے ساڑھی ایک جانب رکھی اور ایمان کو دوسرے کپڑے دکھانے لگیں جو انہوں نے رقیہ کے لئے خرید رکھے تھے۔ ___________________________________
“تمھاری شاپنگ مکمل ہوگئی؟”
ایمان شمائلہ بیگم کے ساتھ افطاری کی تیاری کروا رہی تھی۔تقریبا کام نبٹ گیا تھا۔
“جی مکمل ہے۔۔وہاں اسلام آباد میں کچھ ڈریسز خریدے تھے، ابھی تک پہنے نہیں۔۔وہی پہن لوں گی اور رہ گئے جوتے تو اس دن پرخہ آپی اور سحرش آپی کے ساتھ گئی تھی تو لے لئے تھے آپکو دکھائے بھی تو تھے۔”
ایمان نے مصروف انداز میں انہیں بتایا۔
“ارے وہ اتنے سمپل سے تھے۔۔شادی کے بعد تمھاری پہلی عید ہے۔ایک دو فینسی ڈریسز تو ہونے چاہیئے اور وہ جوتا بھی بہت سمپل سا تھا۔ایسا کرو آج غزنوی کے ساتھ چلی جاو۔”
شمائلہ بیگم نے اس پہ نظریں فوکس کرتے ہوئے کہا۔صاف لگ رہا تھا کہ وہ جان چھڑا رہی ہے۔
“ارے امی۔۔وہ ٹھیک ہیں اور فینسی بھی ہیں۔مزید کی ضرورت نہیں ہے۔”
وہ انہیں مطمئن کرنےکی کوشش کر رہی تھی۔
“تم اسے کہہ دو گی یا میں جا کر کہہ دوں۔”
شمائلہ بیگم دو ٹوک انداز میں بولیں۔
“میں کہہ دوں گی۔”
تو وہ گہری سانس خارج کرتی انہیں یقین دلاتی بولی۔
“یہ شگفتہ کہاں رہ گئی۔۔کتنی دیر ہو گئی ہے، دس منٹ کا کہہ کر گئی تھی اور بیس منٹ سے اوپر ہو گئے۔۔میں دیکھتی ہوں۔۔بیٹا زرا یہ فریج میں رکھ دو۔”
شمائلہ بیگم اسے رائتہ فریج میں رکھنے کا کہتیں کچن سے نکل گئیں اور وہ سوچنے لگی کہ اب یہ بات وہ اُس اُکھڑ کو کیسے کہے گی۔وہ تو آج کل پَروں پر پانی تک نہیں پڑنے دیتا تھا۔وہ غزنوی کے پل میں تولہ اور پل ماشہ جیسے مزاج سے تنگ پڑ گئی تھی۔کمرے میں ہوتا تو اس قدر سخت تاثرات چہرے پر سجائے رکھتا کہ وہ بات تک نہیں کر پاتی تھی۔وہ جانتی تھی کہ وہ اس سے ناراض ہے۔وہ یہ بھی مانتی تھی کہ غلطی اسکی تھی اور کئی بار اس نے غزنوی کو منانے کی بھی کوشش کی مگر سامنے سے اسکا رویہ ایسا ہوتا کہ وہ ہمت نہیں کر پاتی تھی۔
اب وہ بھی اس سے کم ہی مخاطب ہوتی لیکن اندر ہی اندر وہ غزنوی کے اپنی طرف اٹھنے والے قدموں کی تہہ دل سے منتظر تھی۔۔
لیکن آج شمائلہ بیگم نے اسے پھر سے اسکے سامنے جا کھڑے ہونے کا کہہ دیا تھا اور یہ سوچتے ہی کچن کی گرمی اسے کچھ زیادہ ہی چھبنے لگی تھی۔اس نے ہاتھ دھوئے اور کچھ سے باہر آ گئی۔غزنوی ابھی کچھ دیر پہلے ہی آفس سے آیا تھا۔وہ کمرے میں آئی تو وہ جوتوں سمیت بیڈ پہ لیٹا ہوا تھا۔آنکھوں پہ بازو رکھے شاید سو رہا تھا۔ایمان نے سوچا آگے بڑھ کر اسکے شوز اتار دے مگر دونوں کے بیچ اتنی فرینکنیس تو تھی نہیں۔۔اس لئے وہ ارادہ ملتوی کرتی صوفے کی طرف بڑھ گئی۔اسکی آہہٹ سے بھی غزنوی کے ساکت وجود میں کوئی جنبش نہیں ہوئی تھی۔وہ کچھ دیر یونہی خاموشی سے صوفے پہ بیٹھی اسے دیکھتی رہی۔بظاہر تو وہ سویا ہوا لگ رہا تھا مگر نجانے کیوں ایمان کو محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے وہ اسے نظروں کے زاویے پہ رکھے ہوئے ہے۔۔اسے دیکھ رہا ہے اس خیال کے آتے ہی وہ اسکی جانب سے رخ پھیر گئی۔اسے مسلسل لگ رہا تھا کہ وہ غزنوی کی نظروں کے حصار میں ہے۔اگلے ہی لمحے وہ جھٹکے سے اٹھی اور اسکے سرہانے جا کھڑی ہوئی۔
“مجھے آج مارکیٹ جانا ہے۔۔عید کی شاپنگ کرنی ہے۔”
وہ اسکے سر پہ کھڑی یوں بول رہی تھی جیسے سامنے والا بہرہ ہو۔۔مگر اسکا اتنا اونچا اونچا بولنا بھی بیکار گیا۔وہ جوں کا توں لیٹا رہا۔ایمان کو سمجھ نہ آئی کہ کیا کرے۔
“آپ سن رہے ہیں یا نہیں؟”
ایمان نے اسکی طرف بڑھایا ہاتھ واپس کھینچ لیا اور تھوڑے دھیمی آواز میں بولی۔
“کیا مسئلہ ہے جو سر پہ کھڑی چلا رہی ہو۔دیکھ بھی رہی ہو کہ شوہر تھکا ہارا آفس سے آیا ہے۔۔یہ نہیں ہوتا کہ۔۔۔”
وہ جھٹکے سے اٹھ بیٹھا اور دبے دبے غصے سے ایمان کی طرف دیکھ کر بولا۔
“مجھے شاپنگ کے لئے جانا ہے۔”
ایمان نے سینے پہ ہاتھ باندھتے ہوئے نروٹھے انداز میں کہا۔غزنوی نے اسکا نروٹھا انداز ملاحظہ کیا اور پھر اگلے ہی پل اس نے ہاتھ بڑھا کر اسے بازو سے پکڑ کر اپنے سامنے بیٹھایا۔
“کچھ زیادہ فری نہیں ہو رہی تم۔۔”
غزنوی کی سنجیدہ نگاہیں اسکے سلونے چہرے پہ جمی تھیں۔
“میں کب فری ہو رہی ہوں۔۔ایک سیدھی سی بات کر رہی ہوں اور آپ کے مزاج ہی نہیں مل رہے۔نجانے خود کو کیا سمجھتے ہیں۔۔مجھے کوئی شوق نہیں آپ سے فری ہونے کا۔۔یہ اور بات کہ آپ نے فری ہونے کی کافی کوشش کی جو میں نے کامیاب نہیں ہونے دی۔”
وہ ایک ادا سے آنکھیں گھماتی بولی۔۔انداز ایسا تھا کہ تم سیر ہو تو میں سوا سیر۔۔
“یہ منہ اور مسور کی دال۔۔”
غزنوی مسکراہٹ دباتے ہوئے بولا۔
“کیا مطلب۔۔۔؟”
ایمان کو امید نہیں تھی کہ ایسا جواب دے گا۔وہ تو اسکے اپنی طرف قدم بڑھانے کی منتظر تھی مگر اس نے تو نہایت دھڑلے سے اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسکی ذات کی نفی کر دی تھی۔
“مطلب یہ کہ تم اتنی اہم نہیں ہو کہ تم پہ میں اپنا قیمتی وقت ضائع کروں۔”
غزنوی اپنی بات کے اختتام پر اسکی رونے والی شکل پہ اپنی ہنسی نہیں روک پا رہا تھا اس لئے فورا بیڈ سے اترا۔
“افطاری کے بعد لے جاوں گا۔”
وہ اسکی جانب سے کسی جواب کا منتظر بولا تھا۔
“نہیں جانا مجھے آپ کے ساتھ۔۔”
ایمان جھٹکے سے اٹھی اور تیزی سے باہر نکل گئی۔اسکے یوں باہر جانے پر وہ مسکرا دیا۔
“کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کہی کا بھید کھل جائے
اسی خدشے سے میں تم سے۔۔۔
مگر یہ کیا اذیت ہے
عجب انداز وحشت ہے
مجھے تم سے محبت ہے۔۔”
غزنوی دھیرے سے گنگنایا۔ _____________________________________
“کہاں جا رہی ہو تم دونوں؟”
ایمان اور ملائکہ، لاریب کے بلانے پر ان کے پورشن میں جا رہی تھیں کہ پیچھے سے آتی غزنوی کی آواز نے ان کے قدم روک دیئے۔دونوں نے پلٹ کر دیکھا۔وہ ٹراؤزر کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے کھڑا ان کی جانب سوالیہ نظروں سے دیکھ رہا تھا اور اب تیوری چڑھائے ان کے قریب آیا۔
“بھائی۔۔۔ہم لاریب کیطرف جا رہے ہیں، اس نے بلایا تھا۔”
ملائکہ نے غزنوی کی سوال کرتی نگاہوں کے جواب میں کہا۔
“آپ نے تو شاپنگ پہ جانا تھا نا۔”
اب وہ سوالیہ نظریں ایمان پہ مرکوز کیے پوچھ رہا تھا۔ملائکہ تو فورا غزنوی کے سنجیدہ تیور دیکھ کر وہاں سے کھسک لی اور بناء پیچھے دیکھے سیدھی لاریب کے پورشن کی طرف بڑھ گئی۔
“میرا ارادہ بدل گیا ہے۔”
ایمان نے بھی جان چھڑا کر کھسکنا چاہا۔
“مگر مجھے تو جانا ہے۔”
غزنوی نے اسے بازو سے پکڑا اور اسے کمرے میں لے آیا۔
“چلو چینج کرو۔۔۔میں باہر گاڑی میں ویٹ کر رہا ہوں۔”
اسے کپڑے تبدیل کرنے کا کہہ کر وہ خود کمرے سے نکل گیا۔ایمان نے ایک نظر اپنے ملگجے لباس پہ نظر ڈالی اور الماری کی طرف بڑھ گئی۔کچھ دیر میں لباس تبدیل کرنے کے بعد وہ کمرے سے نکل کر لاؤنج میں آئی۔کچھ دیر پہلے تو لاؤنج خالی تھا مگر اب وہاں خیرن بوا اور شمائلہ بیگم بیٹھی نجانے کیا راز و نیاز کر رہی تھیں۔ایمان پر نظر پڑی تو خیرن بوا نے گھڑی کی جانب دیکھا۔
“اے بہو۔۔۔یہ اس وقت کہاں کا قصد کیے بیٹھی ہو۔”
خیرن بوا نے ایمان کو سر سے پیر تک بغور دیکھا۔حالانکہ وہ بہت سادہ لباس زیب تن کیے ہوئے تھی۔اس نے کچھ کہنے کے لئے منہ کھولا ہی تھا کہ اسی دوران گاڑی کے ہارن کی آواز پہ تینوں نے بیک وقت لاؤنج کے دروازے کی سمت دیکھا۔
“جاؤ بیٹا۔۔غزنوی انتظار کر رہا ہے۔”
شمائلہ بیگم نے ایمان سے کہا تو وہ سر ہلاتی باہر کی جانب بڑھ گئی۔
وہ باہر آئی تو غزنوی گاڑی گیٹ کے قریب روکے اسکا انتظار کر رہا تھا۔وہ گاڑی کی طرف آئی۔اس کے قریب پہنچتے تھے فرنٹ ڈور کھولا گیا۔
“چلیئے نا محترمہ۔۔۔ایک تو آپ کو انتظار کروانے کا نجانے کیوں اتنا شوق ہے۔”
وہ گاڑی میں بیٹھی تو غزنوی نے اگنیشن میں چابی گھماتے ہوئے کہا۔
“میں نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا۔”
ایمان نے اسکی طرف دیکھے بناء کہا۔
“ہاں ہاں بیگم صاحبہ۔۔۔آپ نے تو کبھی کچھ نہیں کیا۔”
غزنوی ڈرائیونگ کی طرف متوجہ ہوا۔۔۔جواب میں وہ خاموش رہی۔
“وہ تمھارا گونگا فون کہاں ہے؟”
غزنوی نے ساتھ بیٹھی ایمان کو دیکھا جو اس سے لاپرواہ بھاگتے دوڑتے منظر میں گم تھی۔وہ اس سے بات کرتے رہنا چاہتا تھا۔۔شاید وہ اسے سنتے رہنا چاہتا تھا مگر وہ اب بھی خاموش رہی۔
“جب بھی کال کرو کچھ بولتا ہی نہیں۔”
غزنوی نے بات کو مذاق کا رنگ دیا۔
“ظاہر ہے گونگا ہے تو کیسے بولے گا۔”
ایمان چڑ کر بولی۔
“بالکل تمھاری طرح۔”
وہ ہنسی روکتے ہوئے بولا۔ایمان نے اسکی طرف یوں دیکھا جیسے اسکی دماغی حالت پہ شبہ ہو۔
“لگتا ہے کہ آج افطاری میں آپ نے کچھ زیادہ ہی کھا لیا ہے، تبھی الٹا سیدھا بول رہے ہیں۔۔گاڑی زرا تیز چلایئے۔۔ہمیں واپس بھی آنا ہے۔”
ایمان کے لہجے کا تیکھا پن غزنوی کو واضح محسوس ہوا مگر وہ اگنور کر گیا اور خاموشی سے ڈرائیو کرنے لگا۔اسکے بعد دونوں میں مزید کوئی بات نہیں ہوئی۔شاپنگ کے دوران بھی ایمان کی عدم دلچسپی عروج پر تھی۔ہر ڈریس پہ لاپروائی سے ناک چڑھانا۔۔۔وہ ساری شاپنگ کے دوران یہی ایک کام بہت اچھے سے کر رہی تھی۔غزنوی نے اپنی پسند سے اسے تین ڈریسز اور میچنگ جوتے، جیولری دلائی۔اپنے لئے بھی اس نے کچھ شرٹس خریدیں۔
“بس کافی ہے۔”
غزنوی کو کاسمیٹکس کی شاپ کیطرف بڑھتے دیکھ کر ایمان جلدی سے بولی۔۔وہ وہیں رک گیا۔
“اچھا آؤ۔۔۔”
وہ پلٹ کر چوڑیوں کے اسٹالز کیطرف بڑھ گیا۔۔وہاں رش دیکھ کر ایمان نے کچھ کہنے کے لئے منہ کھولا ہی تھا کہ غزنوی کی غصہ چھلکاتی نظریں خود پہ جمے دیکھکر چپ کر گئی مبادہ وہ وہیں نہ شروع ہو جائے۔۔پہلے ہی وہ اپنے جان بُوجھ کر کیے جانے والے نخروں سے اسے اچھا خاصا تپا چکی تھی جو غزنوی کے چہرے پہ صاف دکھ رہا تھا۔اسے آنکھوں ہی آنکھوں میں اپنے غصے کی جھلک دکھلاتا آگے بڑھ گیا۔
“نَک چڑا۔۔۔”
وہ بڑبڑائی اور اسکے پیچھے ہو لی۔
اب چوڑیوں کے اسٹالز پہ لڑکیوں کا ہجوم تھا۔۔وہ ان کے ہٹنے کے انتظار میں کوفت کا شکار ہونے لگا جبکہ ایمان اسکے تاثرات کا کچھ دیر مزا لیتی خود آگے بڑھی اور اپنے لئے میچنگ چوڑیاں خریدیں۔غزنوی نے شکر کا کلمہ پڑھ کر پیمنٹ کی اور تیز تیز قدم اٹھاتا مال کے بیرونی دروازے کی جانب بڑھ گیا۔ایمان بھی اسکے پیچھے تھی۔۔پارکنگ میں پہنچ کر غزنوی نے گاڑی کا پچھلا دروازہ کھول کر ہاتھ میں پکڑے شاپرز رکھے اور ڈرائیونگ سیٹ سنبھال کر اسکے لئے فرنٹ ڈور کھولا۔۔ایمان بھی فوراً بیٹھی اور ہاتھ میں پکڑا چوڑیوں کا شاپر پچھلی سیٹ پہ رکھ دیا۔
“پہلے یہ دروازہ بند کریں محترمہ، پھر اسکے بعد باقی کاروائیاں کر لیجئیے گا۔”
غزنوی نے دروازہ کھول کر شاپر پیچھے رکھتی ایمان سے طنزیہ لہجے میں کہا۔اس نے فوراً گاڑی کا دروازہ بند کیا۔عید میں تین دن تھے اس لئے رش بڑھنے لگا تھا۔غزنوی نے پارکنگ سے گاڑی نکالی۔
“آئس کریم کھاؤ گی؟”
آئس کریم پارلر پہ نظر پڑی تو اس نے ایمان سے پوچھا۔
“نہیں۔۔”
جی تو چاہ رہا تھا مگر ناک چڑھا کر انکار کر گئی۔۔غزنوی نے گاڑی آئس کریم پارلر کے پاس روکی۔
“شکر ہے تھوڑی عقل سلامت ہے موصوف کی۔”
ایمان نے دل ہی دل میں سوچا مگر اسکے چہرے کے سنجیدہ تاثرات میں کوئی فرق نہیں آیا۔گاڑی رکتے دیکھ کر آئس کریم پارلر سے ایک لڑکا بھاگتا ہوا ان کی طرف آیا۔
“ایک چاکلیٹ۔۔۔”
غزنوی گاڑی کا شیشہ نیچے کرتے ہوئے بولا۔۔وہ اتنا دھیرے بولا کہ ایمان صرف چاکلیٹ ہی سن پائی۔
“ہائے۔۔چاکلیٹ۔۔۔مجھے تو اسٹابری فلیور پسند ہے۔۔چلو خیر چاکلیٹ ہی کھا لوں گی۔”
ایمان نے چاکلیٹ فلیور کا سن کر غزنوی کی جانب سے چہرہ موڑے برے برے منہ بنائے۔۔کچھ لمحوں بعد ایمان نے اس لڑکے کو واپس آتے دیکھا پھر اگلے ہی لمحے اس نے لڑکے کی جانب سے نظر گھمائی۔
“سر۔۔!! میڈم کے لئے کونسا فلیور؟”
لڑکے نے ٹرے سے آئسکریم کپ اٹھا کر غزنوی کی طرف بڑھاتے ہوئے پوچھا۔
“نہیں میڈم کو آئسکریم نہیں پسند۔”
ایمان نے غزنوی کو کہتے سنا۔
“ظالم انسان۔۔۔کیا تھا جو میرے لئے بھی منگوا لیتا۔”
ایمان کو اپنی اس بے قدری پہ رونا آنے لگا۔۔غزنوی نے ساتھ بیٹھی ایمان کو دیکھا جو باہر عمارتوں کو یوں دیکھ رہی تھی جیسے اس سے زیادہ ضروری کوئی دوسرا کام نہ ہو۔اس نے کندھے اُچکا کر گاڑی اسٹارٹ کی۔
سارا راستہ وہ کڑتی رہی جبکہ وہ مزے سے آئسکریم کھاتا رہا۔
“ندیدہ کہیں کا۔۔یوں آئسکریم کھا رہا ہے جیسے پہلے بار کھا رہا ہو۔”
ایمان نے کنکھیوں سے غزنوی کی جانب دیکھا۔
“ٹیسٹ تو کرو۔۔۔بہت مزے کی ہے۔”
غزنوی نے اسکی چور نظروں کو خود پہ مرکوز دیکھ کر کپ اسکی طرف بڑھاتا بولا۔
“اب آفر کر رہا ہے تو ایک۔۔۔”
ایمان نے سوچا۔
“چلو اچھا مت کھاؤ۔”
اس سے پہلے کہ وہ ہاتھ بڑھاتی غزنوی نے ہاتھ واپس کھینچ لیا۔۔وہ دل مسوس کر رہ گئی۔
“اففف ۔۔۔کسقدر ٹریفک ہے۔۔سنو۔۔۔!!”
تھوڑی دیر بعد غزنوی کی آواز گاڑی میں گونجی۔۔وہ جو ابھی آئسکریم پہ فاتحہ پڑھ کر فارغ ہوئی ہی تھی کہ غزنوی کے پکارنے پر اسے سوالیہ نگاہوں سے دیکھنے لگی۔
“یار یہاں سے گاڑی فوراً نکالنی ہے۔۔اب میں آئسکریم کھاؤں یا ٹریفک سے گاڑی نکالوں۔۔تمھارے ہاتھ فری ہیں آئسکریم ہی کھلا دو۔”
غزنوی نے کپ اسکی طرف بڑھایا جبکہ ایمان اسے حیران نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔
“پکڑو نا یار۔۔۔تم مت کھانا، مجھے کھلاؤ۔”
غزنوی نے اسے ساکت بیٹھے دیکھ کر کہا۔۔ایمان نے کپ اسکے ہاتھ سے لے لیا۔۔اس نے کپ میں جھانکا۔۔
“ساری تو چٹ کر گیا ہے۔”
ایمان نے تھوڑی سی بچی ہوئی آئسکریم کو دیکھکر سوچا۔غزنوی نے گاڑی کی رفتار بڑھائی۔۔
“خود ہی کھائے۔۔۔اب میں اسکے یہ نخرے بھی اٹھاؤں۔”
وہ جو پہلے ہی جلی بھنی بیٹھی تھی کپ ڈیش بورڈ پہ رکھ کر بڑبڑائی۔
“ارے۔۔۔کھلاو بھی پگھل جائے گی۔”
وہ اسے کپ ڈیش بورڈ پہ رکھتے دیکھ کر بولا۔۔ایمان غصے سے اسکی طرف دیکھکر رخ پھیر گئی۔وہ ڈرائیونگ کی طرف متوجہ تھا مگر اسکے لبوں کی مسکراہٹ گہری ہوگئی تھی۔ایمان کو ڈھیٹ بنے بیٹھے دیکھ کر وہ دل میں ابھری خواہش کو دباتا۔۔۔گاڑی کی رفتار دھیمی کرتا کپ اٹھا کر بقیا آئسکریم کھانے لگا۔
_________________________________
“کمبخت کہاں مر گیا؟”
بادشاہ خان نے بند دروازے پہ اپنے جوتے کی چھاپ چھوڑی۔
“خان میں تو کہتا ہوں۔۔دفع کرو اس کمینے کو۔۔ڈرپوک تھا۔۔جیسے ہی اسے پتہ چلا کہ شیر پنجرے سے باہر آ گیا ہے تو سب چھوڑ چھاڑ کر بھاگ گیا۔۔جگر والا ہوتا تو یوں دُم دبا کر نہ بھاگتا۔۔مجھے تو لگتا ہے شہر بھاگ گیا ہے۔”
جانس خان بات کرتے کرتے اسے مکھن لگانا نہ بھولا تھا۔
“او جانس خاناں۔۔۔!! تُو صحیح کہہ رہا ہے، جب گیدڑ کی موت آتی ہے تو وہ شہر کی طرف بھاگتا ہے۔۔لیکن شہر کیوں جائے گا اور کب گیا۔۔دو دن پہلے تک تو یہیں گاؤں میں ہی تھا۔”
بادشاہ خان اب غصے میں یہاں سے وہاں ٹہل رہا تھا۔اسکا بس نہیں چل رہا تھا کہ کہیں سے بھی رشید خان کو پکڑ کر اپنے سامنے لا کھڑا کرے اور اس کے ہوش ٹھکانے لگا دے۔
دو دن سے لگاتار وہ دونوں رشید خان کے گھر کے چکر پہ چکر لگا رہے تھے، کبھی رات گئے اور کبھی دن چڑھے۔۔مگر رشید خان ان کے ہاتھ نہ آیا۔جیل سے چھوٹتے ہی وہ رشید خان کو سبق سکھانا چاہتا تھا، جس کی وجہ سے وہ دو دن جیل کی ہوا کھا کر آیا تھا، مگر ایس ایچ او کرم داد نے اسے منع کر دیا تھا کہ ابھی کچھ دن گاؤں والوں کی نظروں سے اوجھل رہے اور نا ہی اپنا جُوے کا اڈا کھولے۔۔ایک دو دن جیسے تیسے صبر کے گھونٹ پی کر اس نے جانس خان کو رشید خان کے بلانے بھیجا مگر رشید خان کے گھر پہ تالا لگے دیکھ کر جانس خان واپس آ گیا۔۔
“کسی سے پوچھ تو سہی۔۔۔آخر کہاں غائب ہو گیا ہے، زمین کھا گئی یا آسمان نگل گیا ہے۔۔پورے گاؤں میں نہیں ہے اور شہر جا نہیں سکتا۔”
بادشاہ خان اب غصے سے لال پیلا ہو رہا تھا۔
“خان میں نے پوچھا ہے گاؤں والوں سے۔۔کسی کو بھی اسکے بارے میں کچھ معلوم نہیں اور اگر کسی کو معلوم بھی ہے تو منہ سے نہیں پھوٹ رہا۔اگر شہر گیا بھی ہے تو کسی کو تو پتہ ہو گا مگر کوئی بھی زبان نہیں کھول رہا۔”
جانس خان، بادشاہ خان کے قریب آیا۔
“تو پھر کہاں دفعان ہو گیا ہے۔”
بادشاہ خان بجلی کی طرح جانس خان پر جھپٹنے کو آگے ہوا مگر جانس خان نے فوراً پیچھے ہٹ کر اپنا بچاؤ کیا۔
“خان ایک خیال آیا ذہن میں۔۔۔کہیں وہ حویلی میں تو چھپا نہیں بیٹھا۔”
جانس خان کے دماغ میں حویلی کا خیال آیا۔
“ہو سکتا ہے۔۔جا معلومات کر جا کے۔۔۔اور ہاں پکی خبر نہ لایا تو وہیں مردان خانے میں زندہ گاڑ دوں گا۔”
بادشاہ خان نے جانس خان کو گریبان سے پکڑ کر جھٹکے سے چھوڑا۔وہ اپنا توازن برقرار نہ رکھ پایا اور کچھ فاصلے پہ جا گرا۔۔بادشاہ خان نے کندھے پہ پڑا سفید صافہ جھاڑ کر دوبارہ کندھے پہ جمایا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہاں سے چلا گیا۔اسکے جانے کے بعد جانس خان کپڑے جھاڑتا اٹھ کھڑا ہوا۔اردگرد نظر دوڑائی۔۔دور تک گلی سنسان تھی۔۔اس نے شکر کیا کہ اس وقت وہاں کوئی اور نہیں تھا ورنہ لوگوں کی تمسخرانہ نظریں کیسے برداشت کرتا۔۔
ایک نظر بند دروازے کو دیکھا اور پھر وہاں سے حویلی کا رخ کیا۔ __________________________________________
آج آخری روزہ تھا۔افطاری میں اچھا خاصا اہتمام کیا گیا تھا۔سبھی ایک بار پھر مکرم احمد کے پورشن میں جمع تھے اس لئے آج کافی چہل پہل تھی۔ایمان، ملائکہ اور شمائلہ بیگم افطاری کی تیاری کر رہی تھیں۔خیرن بوا بھی وہیں موجود دھنیا صاف کر رہی تھیں۔وہ بڑی توجہ سے دھنیے کی ایک ایک ٹہنی سے ایک ایک پتی الگ کر کے پاس رکھی چھوٹی سی نیلی ٹوکری میں ڈالتی جا رہی تھیں۔ساتھ ہی ساتھ زبان پہ کسی کلمے کا ورد بھی جاری تھا۔
“ہائے بوا آج آخری روزہ ہے۔”
لاریب دھم سے آ کر خیرن بوا کے ساتھ والی کرسی پہ بیٹھ گئی۔
“ائے ہائے۔۔۔لونڈیاء۔۔۔کیا ہر وقت اچھل کود کرتی رہتی ہو۔۔”
خیرن بوا نے لاریب کو ناگواری سے دیکھا۔
“اُفففف بوا۔۔میں نے کتنی بار کہا ہے کہ مجھے لونڈیا مت کہا کریں۔”
لاریب نے ٹوکری سے دھنیے کی ٹہنی اٹھائی۔
“اے ہے۔۔لونڈیا نہ کہوں تو کیا لونڈا کہوں؟”
خیرن بوا نے اسکے ہاتھ سے ٹہنی لے کر ٹوکری میں رکھی۔
“اسے آپ لونڈی کہا کریں بُوا۔۔”
لاریب نے منہ کھولا ہی تھا کہ کچن میں داخل ہوتی فائقہ نے کہا اور بوا کے کرسی کے پیچھے کھڑی ہو گئی۔
“اے بی بی تم تو رہنے ہی دو۔۔۔اور ہاتھ بٹاؤ آ کر۔۔ڈھیسلا کی ڈھیسلا کبھی وہاں گری تو کبھی یہاں۔۔پرائے گھر جا کر ہماری ناک ہی کٹواو گی۔”
خیرن بوا نے فائقہ کو گھورا۔۔لاریب ہنسنے لگی جبکہ فائقہ اس عزت افزائی پہ منہ ٹیڑھا کرتی کرسی کھینچ کر بیٹھ گئی۔
“بُوا مجھے سارے کام کرتی ہوں۔”
فائقہ نروٹھے انداز میں خیرن بوا کی جانب دیکھتے ہوئے بولی۔
“ائے ہم نے تو کبھی نہیں دیکھا تمھیں کام کرتے۔جب بھی ہم گئے موئی کتاب ہی منہ کو لگا رکھی ہوتی ہے تم نے۔”
بوا مصروف انداز میں بولیں۔۔شمائلہ بیگم اور ایمان نے فائقہ کے یوں پکڑے جانے پر مسکرا کر اسے دیکھا۔
“آپکو کیا پتہ بوا۔۔آپ تو یہاں ہوتی ہیں۔”
فائقہ روٹھی روٹھی بولی جبکہ اس کے سامنے بیٹھی لاریب نے اپنی جان چھوٹنے پر شکر کا کلمہ پڑھا۔
“ایمان تم جا کر تھوڑا آرام کر لو۔۔باقی کا کام فائقہ دیکھ لے گی۔”
بوا نے فائقہ کا امتحان لینا ضروری سمجھا۔۔جبکہ فائقہ منہ کھولے بوا کو دیکھنے لگی۔
“بوا میں کر لوں گی۔”
ایمان آنچ دھیمی کرتے ہوئے بولی۔
“ائے میں آرام کرنے کا کہہ رہی ہوں۔۔جاؤ شاباش اپنے کمرے میں جاؤ۔۔یہ دونوں ہیں شگفتہ کی مدد کرنے کے لئے۔۔کیوں بہو میں ٹھیک کہہ رہی ہوں نا؟”
خیرن بوا نے ساتھ بیٹھتی شمائلہ بیگم سے پوچھا۔
“جی بوا۔۔۔ایمان بوا ٹھیک کہہ رہی ہیں کچھ دیر ریسٹ کر لو۔۔”
شمائلہ بیگم نے خیرن بوا کی تائید کی۔
“جی۔۔۔”
ایمان مختصراً کہتی کچن سے نکل گئی۔
“میں بھی تھوڑا آرام کر لوں۔”
لاریب بھی اٹھ کھڑی ہوئی۔
“تم اور فائقہ، شگفتہ کی مدد کرو۔۔چلو بہو باہر چلتے ہیں، اس موئی کرسی پہ بیٹھے بیٹھے میری کمر اکڑ گئی ہے۔”
خیرن بوا شمائلہ بیگم سے کہتی اٹھ کھڑی ہوئیں اور پھر دونوں کچن سے نکل گئیں۔
“بہت اچھے بھئی بہت اچھے۔۔”
لاریب نے فائقہ کی طرف دیکھ کر آنکھیں گھماتے ہوئے کہا تو فائقہ نے اسکے کندھے پہ مکا جڑ دیا۔شگفتہ بھی دونوں کی شامت آنے پر ہنس رہی تھی۔
“شگفتہ بیگم۔۔۔تمھارے دانت کیوں اتنے نکل رہے ہیں۔”
لاریب اور فائقہ اب شگفتہ کے سر پہ کھڑی تھیں۔
“باجی۔۔۔آپ دونوں بوا جی سے پنگا نہ لیا کرو۔۔۔پتہ بھی ہے آپ کو ان سے پنگا چنگا نہیں ہوتا۔”
شگفتہ نے دونوں کو باری باری دیکھا۔
“تم اپنے کام سے کام رکھو۔۔۔ہم سے پنگا نہ لو ورنہ چنگا نہیں ہو گا اور زرا یہ اپنے پیلے دانتوں کی نمائش بند کرو، جلدی جلدی ہاتھ چلاؤ۔”
فائقہ نے اسکے ہاتھ سے چمچہ لیا۔
“ہا ہائے باجی۔۔”
شگفتہ نے منہ بنایا تو وہ دونوں ہنس دیں۔ _______________________________
“گل شیر۔۔۔!!”
جانس خان کب سے حویلی سے کچھ فاصلے پر بیٹھا انتظار میں تھا کہ کوئی باہر آئے تو وہ اس سے رشید خان کے متعلق پوچھے۔چوکیدار سے پوچھا تھا اس نے مگر اسکے یہ بتانے کے باوجود کہ رشید خان حویلی میں نہیں ہے، اسے یقین نہیں آیا تھا۔۔پھر وہ وہیں کچھ فاصلے پر بیٹھ گیا تھا اور دو گھنٹوں کے مسلسل انتظار کے بعد گل شیر حویلی سے باہر آتا دکھائی دیا تو وہ فوراً اٹھ کر اسکے پیچھے آیا تھا۔
“جانس خان تم یہاں کیا کر رہے ہو؟”
گل شیر نے اسے وہاں دیکھ کر پوچھا۔
“کچھ نہیں۔۔کسی کام سے یہاں سے گزر رہا تھا، تمھیں دیکھا تھا تو سوچا باقی کا سفر تمھارے ساتھ طے کیا جائے۔”
جانس خان نے صفائی سے جھوٹ بولا۔
“اچھا۔۔”
گل شیر قدم آگے بڑھائے۔۔جانس خان بھی اسکے ساتھ ساتھ چلنے لگا۔
“کہاں جا رہے ہو؟”
جانس خان نے بات شروع کی۔
“اماں کی دوائی ختم ہو گئی ہے۔۔وہی لینے ہسپتال تک جا رہا تھا۔”
گل شیر نے چلتے چلتے جواب دیا۔
“اچھا اچھا۔۔۔میں بھی وہیں جا رہا تھا۔۔حویلی والے تو چلے گئے ہونگے نا۔”
جانس خان مدعے پہ آیا۔
“ہاں۔۔۔کب کے۔۔”
گل شیر نے جواب دیا۔
“رشید خان کیسا ہے اب۔۔۔تم یقین نہیں کرو گے میں نے ہی آگے بڑھ کر بادشاہ خان کو قابو کیا تھا ورنہ تو گولی رشید خان کا سینہ چیر گئی ہوتی۔”
جانس خان کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد دوبارہ شروع ہوا۔
“ہاں سنا تھا میں نے کہ لوگوں کے روکنے سے بادشاہ خان کا نشانہ چُوک گیا تھا لیکن کسی نے تمھارا نام نہیں لیا۔”
گل شیر سادہ سے لہجے بولا۔
“یار تم جانتے نہیں ہو گاؤں کے لوگوں کو۔۔۔جلتے ہیں مجھ سے۔۔”
جانس خان اپنے لہجے پہ قابو پاتے ہوئے بولا۔
“خیر چھوڑو۔۔۔میں چلتا ہوں مجھے دیر ہو رہی ہے۔”
گل شیر نے کچھ ہی دور نظر آتی ہسپتال کی عمارت کو دیکھکر کہا اور تیز تیز قدموں سے آگے بڑھ گیا۔
“ارے یار۔۔۔ٹھہرو نا۔۔میں بھی آ رہا ہوں۔”
جانس خان اسکے پیچھے دوڑا۔
“ویسے میں رشید خان سے ملنے آیا تھا حویلی۔۔اسکے گھر پہ تو تالا لگا تھا، سوچا حویلی جا کر دیکھ لوں مگر چوکیدار نے کہا کہ رشید خان وہاں نہیں ہے۔۔وہاں اپنے گھر بھی نہیں ہے اور حویلی میں بھی نہیں۔۔تو کہاں ہے رشید خان۔”
جانس خان نے بالآخر پوچھ ہی لیا۔
“رشید خان تو شہر چلا گیا ہے۔۔گل خان آیا تھا اسے لینے۔۔۔اور اب وہیں شہر میں ہی رہے گا۔”
گل شیر یہ کہہ کر آگے بڑھ گیا۔۔وہ کم عمر لڑکا تھا، جانس خان کی چالاکی نہیں سمجھ پایا اور اپنی بیوقوفی میں اسے رشید خان کے متعلق بتا دیا۔
جانس خان کچھ دیر وہیں کھڑا گل شیر کو جاتے دیکھتا رہا۔۔پھر اسکے نظروں سے اوجھل ہوتے ہی یہ خبر لے کر بادشاہ خان کے پاس پہنچا۔۔بادشاہ خان اس وقت اپنے گھر کے مردان خانے میں لیٹا ہوا تھا۔
“خان خان۔۔۔!”
جانس خان دوڑتا ہوا چارپائی کے پاس پہنچا، جس پہ بادشاہ خان لیٹا ہوا تھا۔اسکی سانس پھولی ہوئی تھی۔
“کیا آفت آ گئی ہے۔”
بادشاہ خان ناگواری سے اسکی جانب دیکھتا اٹھ بیٹھا۔
“خان گیدڑ شہر میں ہی چھپا بیٹھا ہے۔۔اعظم احمد کے گھر میں اور اب کبھی واپس نہیں آئے گا۔وہیں رہے گا۔”
جانس خان نے کچھ دیر اپنی پھولی سانسوں پہ قابو پایا اور پھر گل شیر کی بتائی ساری بات بادشاہ خان کو بتا دی۔
“پکی خبر ہے؟ یہ نہ ہو کہ وہ حویلی میں چھپا بیٹھا ہو۔”
بادشاہ خان نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔
“خان ایک دم پکی خبر ہے۔گل شیر نے بتایا کہ رشید خان گل خان کے ساتھ گیا ہے۔اب حویلی کے اندر کی خبر ہے، جھوٹ کیسے ہو سکتی ہے۔”
جانس خان نے بادشاہ خان کے چہرے پہ سوچ کی گہری ہوتی لکیروں کو دیکھکر کہا۔
“کہہ تو تُو ٹھیک رہا ہے۔جب وہ وہاں ہے تو ہم بھی وہیں چلتے ہیں۔”
بادشاہ خان اٹھ کھڑا ہوا۔
“خان ابھی؟”
جانس خان نے حیرانی سے اسکی طرف دیکھا۔
“نہیں۔۔۔صبح آ جانا۔”
یہ کہہ کر بادشاہ خان اندرونی دروازے کی طرف بڑھ گیا۔اسکے جانے کے بعد جانس خان وہیں چارپائی پر ڈھیر ہو گیا۔ ______________________________________________
افطاری کے بعد وہ ساری ٹولی چھت پہ چاند تلاش کرنے پہنچ چکی تھی، لیکن چاند کی تلاش کم اور ایک دوسرے پہ فقرے زیادہ کَسے جا رہے تھے۔
“یار لگتا ہے کل بھی روزہ ہے۔”
مرتضیٰ نے فیروز کے کندھے پہ ہاتھ رکھا۔
“مجھے بھی یہی لگ رہا ہے۔”
فیروز بھی شکل پہ بیچارگی سجاتے ہوئے بولا۔
“بس حد ہوگئی۔۔میں تو چاند کے پاس جا رہا ہوں۔”
مرتضیٰ نے فیروز کو آنکھ ماری اور کچھ فاصلے پہ کھڑی فائقہ اور لاریب کی طرف بڑھ گیا۔
“او تُو اتنا خبیث ہو گا، مجھے اندازہ نہیں تھا۔”
فیروز نے با آواز بلند کہا تو لاریب اور فائقہ نے، جو نجانے کیا کھسر پھسر کر رہی تھیں اسکی طرف دیکھا۔
“فیروز تم تھوڑا آہستہ نہیں بول سکتے ہو، جب دیکھو حلق پھاڑتے رہتے ہو۔”
وہیں کچھ فاصلے پہ غزنوی، مصطفی اور ہادی بیٹھے ہوئے تھے۔۔غزنوی نے اپنا بزنس یہیں سیٹل کرنے کا سوچ لیا تھا اور وہ ہادی سے ساتھ چلنے کے لئے کہہ رہا تھا۔فیروز کے اونچا بولنے پہ مصطفیٰ جو بغور غزنوی کی بات سن کر اسے مشورہ دے رہا تھا، اسکی طرف دیکھ کر بولا۔
“بھائی میں تو آہستہ ہی بول رہا تھا۔”
وہ اپنے اونچا بولنے پر پچھتایا۔۔مصطفی واپس سے ہادی اور غزنوی کی طرف متوجہ ہو گیا۔فیروز ان کے مصروف ہونے پر مرتضیٰ کے پیچھے آیا۔
“ویسے کیا گفتگو ہو رہی ہے؟”
مرتضیٰ نے لاریب سے پوچھا۔
“آپ کے بارے میں کوئی گفتگو نہیں ہو رہی تھی۔”
لاریب کو مرتضیٰ کی مداخلت پسند نہیں آئی۔
“وہ دن کب آئے گا جب تم میرے بارے میں گفتگو کرو گی۔”
مرتضیٰ نے ٹھرکی انداز اپنایا تو فائقہ ہنس دی جبکہ لاریب نے اسے صرف گھورنے پہ اکتفاء کیا۔
“کبھی نہیں۔۔”
وہ رخ پھیر گئی۔
“اوئے اعلان ہو گیا ہے کل عید ہے۔”
اسی لمحے ملائکہ اعلان کرتی چھت پہ آئی۔اسکے پیچھے ایمان، سحرش اور پرخہ بھی تھیں۔وہ سب ایک دوسرے کو مبارکباد دینے لگے۔۔
“چاند مبارک ہو محترمہ۔۔”
غزنوی سب کو باتوں میں مصروف دیکھ کر کرسی پہ بیٹھی ایمان کیطرف آیا۔
“آپکو بھی مبارک ہو۔”
ایمان نے اسے بھی مبارکباد دی۔۔غزنوی کرسی اسکے قریب گھسیٹ کر بیٹھ گیا۔
“انکل کہاں ہیں؟”
غزنوی کو سمجھ نہیں آیا کہ کیا بات کرے تو اس نے رشید خان کے متعلق پوچھا۔
“وہ داجی کی کمرے میں ہیں۔”
وہ اپنے ہاتھوں پہ نظریں جمائے بولی۔
“غزنوی میں نے سنا ہے کہ تم بزنس یہیں سیٹل کرنے سوچ رہے ہو؟”
وہ کچھ کہنے کے لئے دل ہی دل میں الفاظ ترتیب دے رہا تھا کہ پرخہ ان کے قریب آ کر بیٹھ گئی۔وہ جو ایمان کیطرف تھوڑا جھک کر بیٹھا تھا سیدھا ہوا۔
“جی آپی۔۔۔لیکن ابھی کچھ وقت لگے گا۔”
غزنوی نے ایمان کو اٹھ کر نیچے جاتے دیکھا۔
“سب ٹھیک ہے نا غزنوی؟”
پرخہ نے اسکی نظروں کا پیچھا کیا۔
“جی آپی سب ٹھیک۔۔”
وہ مسکرایا۔۔
“بہت اچھا فیصلہ ہے۔۔۔مجھے بہت خوشی ہوئی۔۔پتہ نہیں یہ شگفتہ ابھی تک چائے کیوں نہیں لے کر آئی۔۔میں دیکھتی ہوں۔”
پرخہ نے اسکی بےچینی محسوس کرتے ہوئے اٹھی اور سیڑھیاں اتر گئی۔۔غزنوی نے ایک نظر ان سب پہ ڈالی جو سر جوڑے کسی پلاننگ میں مصروف تھے۔۔ہادی اور مصطفیٰ وہاں موجود نہیں تھے۔وہ بھی اٹھ کھڑا ہوا اور تیزی سے سیڑھیاں اتر کر اپنے کمرے میں آ گیا۔
مگر جسے ڈھونڈتا آیا تھا وہ وہاں نہیں تھی۔۔اس نے موبائل پاکٹ سے نکال کر ایمان کا نمبر ڈائل کیا۔اسکے موبائل کی رنگ ٹون بجنے لگی۔۔سائیڈ ٹیبل کی طرف آیا جسکی اُوپری دراز تھوڑی سے کھلی ہوئی تھی۔موبائل وہی پڑا تھا۔اس نے ہاتھ بڑھا کر موبائل اٹھا لیا۔
یہ دیکھ کر اسکی حیرت کی انتہا نہ رہی کہ موبائل کی اسکرین پہ اسکی تصویر جگمگا رہی تھی۔اگلے ہی پل ایک جاندار مسکراہٹ نے اسکے لبوں کا گھیراؤ کیا۔
“آپ یہاں ہیں۔۔۔میں اوپر چھت پہ گئی تھی۔”
ایمان کمرے میں آئی۔۔اپنا موبائل اسکے ہاتھ میں دیکھ کر اسکے دل کی دھڑکن بڑھی۔غزنوی کے چہرے کی دھیمی مسکان ایمان کو بہت کچھ سمجھا رہی تھی۔
“خیریت تھی۔۔۔؟؟ آپ مجھے ڈھونڈ رہی تھیں۔”
غزنوی معنی خیزی سے کہتا قریب آیا۔۔”آپ” کا صیغہ ایمان سے ہضم نہ ہوا۔
“وہ داجی آپ کو بلا رہے ہیں۔”
وہ پلٹ کر جانے لگی جو تیزی سے آگے آ کر اسکا راستہ روک گیا اور اسکا موبائل اسکے آنکھوں کے سامنے کیا۔موبائل وال پہ لگی غزنوی کی پکچر ایمان کی آنکھوں کے سامنے تھی۔
“لو اپنا فون۔”
غزنوی نے فون اسکی بڑھایا۔ایمان نے فون اسکے ہاتھ سے لے لیا اور اسکے سائیڈ سے ہو کر بجلی کی سی تیزی سے وہاں سے نکلی۔غزنوی اسکی گھبراہٹ سے محظوظ ہوتا اسکے پیچھے کمرے سے نکلا۔اسکا رخ اعظم احمد کے کمرے کی طرف تھا۔ ________________________________________
عید کا دن تھا اور غزنوی نے اسے گھن چکر بنانے میں کوئی نہیں چھوڑی تھی۔ہر چیز میں کیڑے نکالتا وہ اسکے ہاتھ پاؤں پُھلائے دے رہا تھا۔
“آپ تو ایسے ری۔ایکٹ کر رہے ہیں جیسے پہلی بار عید کی نماز پڑھنے کا رہے ہیں۔”
ایمان رومال اسکی جانب بڑھاتی بولی۔
“تم سے تو میں آ کر نبٹوں گا۔”
غزنوی رومال اسکے ہاتھ سے لیتا کمرے سے نکل گیا۔ایمان نے جلدی جلدی ادھر ادھر بکھری چیزیں سمیٹنے لگی۔
“ایمان۔۔۔!”
اسی دوران شمائلہ بیگم اسے پکارتیں کمرے میں داخل ہوئیں۔
“جی؟”
وہ جو بیڈ شیٹ ٹھیک کر رہی تھی، سیدھی ہوئی۔
“بیٹا یہ سب چھوڑ دو۔۔شگفتہ دیکھ لے گی، تم تیار ہو جاؤ۔۔میں بھیجتی ہوں اسے۔”
وہ اسے ہدایت دیتی کمرے سے چلی گئیں۔ایمان نے جلدی سے بیڈ کی چادر درست کی پھر الماری سے کپڑے لیتی واش روم میں گھس گئی۔
وہ تیار ہو کر باہر آئی تو گھر کے مرد نماز پڑھ کر آ چکے تھے۔سبھی لاؤنج میں موجود تھے۔اس نے سب کو سلام کیا اور عقیلہ بیگم کے پاس آ کر بیٹھ گئی۔کچھ دیر بعد اعظم احمد اور رشید خان کو لئے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئے۔شمائلہ بیگم شیر خورمہ لانے کچن میں چلی گئیں۔باقی خواتین بھی ان کی مدد کرنے کے لئے اٹھ گئیں تھیں۔ان کے جاتے ہی ساری ینگ پارٹی زبردستی اپنی عیدی وصول کرنے میں لگ گئی۔ہادی اور مصطفیٰ نے کچھ پس و پیش کے بعد عیدی دے دی لیکن غزنوی ان سب کو ناکوں چنے چبوانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہا تھا۔
“ایمان تمھارا شوہر تو ایک نمبر کا کنجوس ہے۔”
فائقہ تھک ہار کر ایمان کو با آواز بلند مخاطب کیا۔
“تمھیں آج پتہ لگا یے؟ یہاں تو کنجوسی کی کوئی حد نہیں ہے۔”
ایمان طنز کرنے سے خود کو روک نہ پائی۔اسے آئسکریم والا واقعہ یاد آیا۔
“اووووووووو۔۔۔یہ کون بولا؟”
سحرش نے ایمان کی طرف دیکھا۔ایمان کو سحرش کی آنکھوں میں حیرانی دکھائی دی تو وہ جھینپ گئی۔
“یہ جو انہوں نے اتنا خوبصورت ڈریس، میچنگ جیولری اور جوتے پہن رکھے ہیں یہ میرے کنجوس ہونے کی بھرپور گواہی دے رہے ہیں۔”
غزنوی کہاں باز آنے والا تھا، اس نے اپنا بدلہ چکانے میں دیر نہیں کی۔
“ہاں بھئی ایمان۔۔تمھارا ڈریس تو بہت خوبصورت ہے۔”
پرخہ نے اسکے تیز گلابی اور سیاہ رنگ کے خوبصورت لباس کو دیکھتے ہوئے کہا۔
“تھینک یو پرخہ آپی۔۔یہ میری چوائس ہے لیکن اعظم احمد کی چوائس کو نجانے کیا ہو گیا تھا۔”
غزنوی نے کنکھیوں سے ایمان کو دیکھا جسکے چہرے کا رنگ اس کی بات سن کر پھیکا پڑا تھا۔جبکہ باقی سبھی اسکی بات کو مذاق کے اینگل سے دیکھکر ہنسنے لگیں تھیں۔
ایمان نے غزنوی کو دیکھا، وہ اب ان سب کو عیدی دے رہا تھا۔ان سب کو مصروف دیکھ کر ایمان خاموشی سے اٹھ گئی۔
جاری ہے۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *