Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode17

Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode17

ایمان کا کومل احساس ملتے ہی غزنوی کو لگا اسکا درد کہیں دور جا سویا ہے اور دوسری جانب
ایمان کو لگا اسکی سانسیں وہیں اسکی گود میں کہیں اٹک گئیں ہوں۔اسکے سرد ساکت ہاتھ ابھی بھی غزنوی کے بھاری ہاتھوں کے نیچے دبے تھے۔
“اگر زیادہ درد ہو رہا ہے تو ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں۔”
ایمان کو اسکی پیشانی دہکتی ہوئی محسوس ہوئی تو وہ بولی۔
“نہیں میں ٹھیک ہوں۔”
غزنوی دھیرے سے بولا تو وہ خاموش ہو گئی۔اسکا ہاتھ ابھی بھی غزنوی کے ہاتھ کے نیچے دبا تھا۔اسے لگا جیسے اسکا دل غزنوی کے ہاتھ میں دھڑک رہا ہو۔
“چائے بنا لاؤں؟”
ایمان نے سر دباتے اس سے پوچھا۔
نہیں تم یہیں رہو۔”
وہ اسکی گود میں چہرہ چھپا کر بولا۔
“تم کیا مجھ سے خوفزدہ ہو؟”
غزنوی نے اس سے پوچھا۔
“یہ کیسا سوال ہے؟ ایسا کچھ نہیں ہے۔”
ایمان پہلے تو اسکے سوال پہ حیران رہی پھر بولی۔
“تو پھر تمھارے ہاتھ میں لرزش کیوں ہے۔”
وہ اس کی گود میں سر رکھے رکھے سیدھا ہوا تھا۔ایمان نے سر جھکا کر اسکی جانب دیکھا۔
“نہیں تو۔”
ایمان نے اس پر سے نظر ہٹائی۔غزنوی مسکرایا اور اپنے ماتھے سے اسکا ہاتھ ہٹا کر لبوں سے لگایا۔ایمان نے اپنا ہاتھ کھینچا مگر غزنوی کی گرفت مضبوط تھی۔
“حقیقت سے بھاگنا تمھاری عادت بن چکی ہے یا حقیقت سے نظریں ملانے کی ہمت نہیں ہے۔”
غزنوی نے اسکا ہاتھ اپنے سینے پہ رکھا۔ایمان کو اسکی لفظوں میں ہلکے طنز کی آمیزش مگر آنکھوں میں نرمی محسوس ہوئی۔
“میں حقیقت میں جیتی ہوں۔”
ایمان نے اپنا ہاتھ کھینچا۔
“اچھا ہاتھ کیوں پیچھے کر لیا۔سر دباؤ نا، اسی بہانے تمھارا یہ خوشبو بھرا لمس ہی محسوس کر رہا ہوں۔”
“جی۔۔۔؟؟”
وہ جو اسکی بات سن نہیں پائی تھی اس لئے بولی۔
“کچھ نہیں۔۔میرا سر۔۔۔”
غزنوی نے ااندیکے لئے اپنے ہاتھ اسکی طرف بڑھائے۔ایمان نے اسے گھوری سے نوازا اور ہاتھ اسکی قید میں دینے کی بجائے اسکی پیشانی پر رکھا اور اپنا پورا زور لگا کر اسکا سر دبانے لگی۔ایمان کا انداز غزنوی کے لبوں پہ ایک جاندار مسکراہٹ لے آیا۔
________________________________________________
وہ ناشتہ لے کر کمرے میں آئی تو غزنوی جانے کے لئے بالکل کھڑا تھا۔اس نے خاموشی سے ٹرے ٹیبل پہ رکھی اور واپس جانے کے لئے پلٹنے لگی۔
“مرتضیٰ آیا ہے یا نہیں؟”
وہ کالر ٹھیک کرتا قریب آیا۔
“جی وہ نیچے انتظار کر رہا آپکا۔”
وہ سادہ سے لہجے میں کہتی پلٹ گئی۔
“رُکو۔۔۔”
غزنوی نے اسے پکارا۔ایمان کے قدم رکے اور پلٹ کر اس نے غزنوی کی طرف دیکھا۔
“تم ناشتہ نہیں کرو گی؟”
وہ کف بند کرتا صوفے کی جانب بڑھا اور ٹرے اپنی جانب کھینچتے ہوئے بولا۔
“مجھے بھوک نہیں ہے۔چائے پی لی تھی میں نے شاہ گل کے ساتھ۔”
وہ کہہ کر جانے لگی۔
“یہاں آؤ۔۔۔”
غزنوی بظاہر تو ناشتے میں مگن تھا مگر دھیان کی ہوا ایمان کے گرد ہی منڈلا رہی تھی۔وہ دروازہ واپس بند کرتی اسکے پاس آ کر کھڑی ہو گئی۔
“کیا بات ہے؟”
غزنوی نے ہاتھ میں پکڑا سلائس واپس پلیٹ میں رکھا اور اسکی طرف ہاتھ بڑھایا۔جسے ایمان نے بناء پس و پیش کے تھام لیا۔شاید وہ اسکے ساتھ کی یقین دہانی چاہتی تھی۔غزنوی کو اسکا خودسپردگی کا انداز پل بھر کو حیران کر گیا۔اس نے ایمان کو اپنے پاس بٹھایا اور سلائس اسکے منہ کے قریب لے گیا۔دونوں ایک دوسرے کی طرف دیکھ رہے تھے۔غزنوی کو اسکی آنکھیں نم ہوتی محسوس ہوئیں۔
“کیا ہوا ہے، تمھاری آنکھوں میں نمی کیوں ہے؟”
اس نے سلائس واپس پلیٹ میں رکھا اورا سکی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے پوچھا۔غزنوی کے لہجے کی نرمی پا کر ایمان اسکے چوڑے سینے سے آ لگی۔وہ اسے ایک بار پھر ورطہ حیرت میں ڈال گئی تھی لیکن پھر اپنی حیرت کو ایک سائیڈ پہ رکھتے ہوئے اسکے گرد اپنے مضبوط بازوؤں جا حصار باندھ گیا۔وہ اسکے سینے سے لگی بےطرح روئے جا رہی تھی۔
“ایمان کچھ تو بتاؤ، آخر بات کیا ہے؟
اسکی شرٹ ایمان کے آنسوؤں سے بھیگنے لگی تھی۔اس نے اسے خود سے الگ کر کے اسکا آنسوؤں سے تر چہرہ صاف کیا۔وہ یونہی روتی رہی۔
“اب کچھ بتاؤ گی تو پتہ چلے نا کہ یہ بن موسم برسات کیوں ہو رہی ہے۔”
وہ اسکی بھیگی آنکھوں میں جھانکتا پوچھ رہا تھا جو بار بار نمکین پانیوں سے بھر جاتی تھیں۔
“داجی بتا رہے تھے کہ آج ہو سکتا ہے کیس کی آخری پیشی ہو اور شاید آج فیصلہ ہو جائے گا۔”
وہ آنسوؤں کے بیچ بولی۔
“ہاں میں اور مرتضیٰ کورٹ جا رہے ہیں لیکن اس میں ساون بھادوں کی کیا ضرورت تھی۔یہ تو خوشی کی خبر ہے کہ آج وہ اپنے انجام کو پہنچے گا۔”
غزنوی نے اسکے بہتے آنسوؤں کو اپنی پُوروں سے چُن لیا۔
“بس یونہی بابا یاد آ گئے تو دل بھر آیا تھا۔داجی بتا رہے تھے کہ پچھلی پیشی میں بادشاہ خان اپنے بیان سے پھر گیا تھا اور اس نے کہا کہ پولیس نے اسکے مخالفین کے ساتھ مل کر اس سے اقرار جرم کروایا ہے۔اسے سزا ہو جائے گی نا۔۔کہیں وہ پہلے کی طرح چھوٹ تو نہیں جائے گا۔ہمارا معاشرہ توا یسے مجرموں کے لئے پناہ گاہ بنتا جا رہا ہے۔اگر اس وقت اسے چھوڑا نہ جاتا تو آج بابا میرے پاس ہوتے۔”
آنسو ایک بار پھر اسکی آنکھوں سے بہنے کو بیتاب تھے۔وہ اپنے دل کا ڈر زبان پہ لے آئی تھی۔
“ایسا کچھ نہیں ہو گا۔اب ایسی بھی اندھیر نگری نہیں ہے۔ہمارا کیس مضبوط ہے۔وہ اپنے بیان پھر گیا تو کیا، ہمارے پاس اس کے خلاف ٹھوس ثبوت ہیں۔انشاء اللہ وہ ضرور آج اپنے کیفرِ کردار تک پہنچے گا۔”
غزنوی نے اسے بھروسہ دلایا۔
“ہیم۔۔۔! آپ ناشتہ کریں۔۔چائے ٹھنڈی ہو گئی ہو گی۔میں دوسری بنا لاتی ہوں۔”
دل کا بوجھ کچھ ہلکا ہوا تو اسے اپنے اور غزنوی کے بیچ نا ہونے کے برابر فاصلہ دکھائی دیا۔چائے کا بہانا کر کے اٹھ کھڑی ہوئی۔
“نہیں۔۔۔ٹھیک ہے۔تم بھی ناشتہ کرو اور پریشان مت ہو سب ٹھیک ہو جائے گا۔”
وہ اس کے کپ میں چائے ڈالتے ہوئے بولا اور پھر کپ اسکی طرف بڑھایا۔ایمان نے کپ اسکے ہاتھ سے لے کر لبوں سے لگایا۔
“ویسے کیا ہم میں صلح ہو گئی ہے؟”
غزنوی نے شرارتی نظروں سے اسکی طرف دیکھا۔اس کا اشارہ سمجھ کر ایمان کے لبوں پہ مسکراہٹ دوڑ گئی۔
“ہم میں لڑائی کب تھی؟”
ایمان کی آنکھوں میں بھی شرارت چمک رہی تھی۔اسکے سنہرے چہرے پہ رنگ یوں بکھرے تھے جیسے موسلادھار بارش کے بعد مطلع صاف ہو جائے۔
“اچھا۔۔؟؟ کیا نہیں تھی؟”
غزنوی قریب ہوا۔
“نہیں۔۔۔۔وہ صرف آپکے نخرے تھے۔”
ایمان نے بھی جواب میں وہی انداز اپنایا۔
“آہاں۔۔۔!! تو پھر اسکا کوئی عملی ثبوت بھی دیں نا۔”
وہ گھمبیر لہجے میں کہتا اپنے اور اسکے بیچ معمولی سے فاصلے کو بھی مٹا گیا۔وہ بھی تو اسکی آنکھوں میں اپنا عکس دیکھ رہی تھی۔نہ جھجکی، نہ گھبرائی۔۔۔یہ یقینا اس محبت کی طاقت تھی جو وہ یوں بنا جھجکے اس سے نظریں ملا رہی تھی۔غزنوی سے خود پہ قابو پانا مشکل ہوا۔
“بھائی مرتضی بھائی کب سے ویٹ کر رہے ہیں۔”
اسی دوران ملائکہ نے دروازے پہ دستک دی۔
“ہاں۔۔۔آ رہا ہوں۔”
وہ اسکی پیشانی سے پیشانی ٹکراتا اٹھ کھڑا ہوا۔
“اللہ حافظ۔۔!”
وہ الوداعی کلمات ادا کرتا کمرے سے نکل گیا جبکہ ایمان کی نظریں اپنی شفاف ہتھیلی کی لکیروں میں کھو گئیں۔اسکا رواں رواں اپنے اللہ کے حضور دعا گو تھا۔
______________________________________________________
وہ سب لاونج میں موجود مرتضی اور غزنوی کا انتظار کر رہے تھے۔انہیں کافی دیر ہو گئی تھی۔وہ پریشان تو تھی ہی مگر مقررہ وقت سے جب وقت اوپر ہونے لگا تو اسکی پریشانی میں مزید اضافہ ہونے لگا۔بار بار پلکیں بھیگ جاتیں، عقیلہ بیگم اور شمائلہ بیگم اسکی دلجوئی میں لگے تھے لیکن نجانے کیوں اس جیسے جیسے وقت گزرتا جا رہا تھا اسکی پریشانی بڑھتی جا رہی تھی۔
“انشاءاللہ اچھی خبر آئے گی بیٹا، تم کیوں پریشان ہو رہی ہو۔”
عقیلہ بیگم نے اسکی بےچینی محسوس کرتے ہوئے اسے تسلی دی۔
“شاہ گل کب آئیں گے غزنوی۔۔اب تک تو آ جانا چاہیئے تھا نا۔”
ایمان نے گھڑی کی جانب دیکھا۔
“آ جائیں گے۔۔کوئی ضروری کام پڑ گیا ہو گا۔”
شمائلہ بیگم بھی اسے دلاسا دیا۔
“السلام و علیکم۔۔۔!!”
مرتضی لاونج میں داخل ہوا دھم سے صوفے پر آ بیٹھا۔
“وعلیکم السلام۔۔۔کہاں رہ گئے تھے بیٹا؟ کہہ رہے تھے کہ جلدی آئیں گے اور اتنا ٹائم لگا دیا۔۔۔اور یہ غزنوی کہاں ہے؟”
عقیلہ بیگم نے دروازے کیطرف دیکھکر پوچھا۔
“آ رہا ہے۔۔۔لیجیئے آ گیا۔”
مرتضی نے لاونج میں داخل ہوتے غزنوی کو دیکھکر کہا۔غزنوی با آواز بلند سلام کرتا عقیلہ بیگم کے سامنے آ بیٹھا۔
“بادشاہ خان نے بھاگنے کی کوشش کی تھی لیکن پولیس کے الرٹ ہونے کی وجہ سے وہ جلدی دھر لیا گیا۔کسی کو اندازہ تک نہیں تھا کہ وہ ہتھکڑیوں سمیٹ بھاگنے کی کوشش کرے گا اور تو اور اسکا وہ ساتھی۔۔۔کیا نام تھا اسکا؟؟ وہ جو یہاں بھی آیا تھا اسکے ساتھ۔”
غزنوی نے مرتضی کی جانب دیکھا۔
“جانس خان۔”
مرتضی نے اسے نام بتایا۔
“ہاں۔۔۔وہ عدالت کے باہر گاڑی لئے اس کا ویٹ کر رہا تھا کہ جیسے ہی بادشاہ خان آئے اور وہ دونوں رفو چکر ہوں۔۔فل پروف پلان بنا رکھا تھا دونوں نے۔”
غزنوی نے تفصیل سے آگاہ کیا۔اس دوران اعظم احمد بھی وہاں آ گئے تھے اور اب بغور اسے سن رہے تھے۔
“یہ تو اچھا ہوا کہ وہ پکڑا گیا۔”
اعظم احمد نے کہا۔ایمان نے سکھ کا سانس لیا۔
“لیکن کیس کا فیصلہ اگلی پیشی تک ٹل گیا ہے۔”
مرتضی نے مزید بتایا۔
“اللہ غارت کرے۔۔کیسا شخص ہے۔جرم پہ جرم کرتا جا رہا ہے۔بڑا ہی چلتر آدمی ہے لیکن خیر اچھا ہوا کہ پکڑا گیا، خس کم جہاں پاک۔”
عقیلہ بیگم ہاتھ جھاڑتی اٹھ کھڑی ہوئیں۔
“آپ کہاں چلدیں۔۔میرے ساتھ ذرا معظم کی طرف چلیں۔”
اعظم احمد عقیلہ بیگم کو اٹھتے دیکھکر خود بھی کھڑے ہو گئے اور پھر باہر کی سمت بڑھ گئے۔
“جی۔۔”
وہ بھی سر ہلاتیں ان کے پیچھے چلدیں۔
“چلو یار میں بھی چلتا ہوں۔امی نے بازار جانا تھا، انہیں لے جاوں ورنہ نجانے کب تک یہ سننا پڑے گا۔”
مرتضی نے غزنوی کی طرف مصافحہ کے لئے ہاتھ بڑھایا جو غزنوی نے تھام لیا۔
“ٹھیک ہے۔۔۔لیکن سونے سے پہلے ہادی سے مل لینا۔”
غزنوی نے کہا تو وہ سر ہلاتا باہر نکل گیا۔
“امی بھوک لگی ہے کھانا گرم کروا دیں۔”
غزنوی سامنے بیٹھی شمائلہ بیگم سے بولا تو وہ اچھا کہتیں کچن کیطرف بڑھ گئیں۔
“آہم۔۔۔”
ان کے جاتے ہی غزنوی نے گلا کھنکھار کر ایمان کو متوجہ کیا جو کسی گہری سوچ میں گم تھی۔اس نے چونک کر غزنوی کیطرف دیکھا۔
“کیا خیال ہے ہم نے جہاں پہ ختم کیا تھا وہیں سے شروع کریں؟”
وہ لہجے میں مزاح کا رنگ اور آنکھوں میں شرارت کی چمک لئے اسے دیکھ رہا تھا۔
“کیا مطلب۔۔۔؟”
وہ ناسمجھی سے بولی۔
“میرا مطلب ہے کہ۔۔۔”
وہ اپنی جگہ سے اٹھ کر اسکے پاس آ بیٹھا۔
“بھائی۔۔۔امی آپکو بلا رہی ہیں۔”
اسی دوران ملائکہ لاونج میں داخل ہوئی اور غزنوی کو مخاطب کیا۔وہ جو ایمان کیطرف قدرے جھکا ہوا تھا فورا سیدھا ہوا۔
“تم کیا اچانک سے وارد ہونے کی ڈگری لینے کی کوششوں میں ہو؟”
غزنوی نے پلٹ کر ملائکہ کو دیکھا۔وہ بیچاری ہونقوں کی طرح اسے دیکھ رہی تھی جبکہ ایمان اپنی ہنسی کو بمشکل دبا پائی تھی۔
“جایئے۔۔۔”
ایمان نے غزنوی سے کہا۔
“ایمان آو ہم فائقہ کیطرف چلتے ہیں۔وہ بلا رہی ہے۔”
ملائکہ غزنوی کی بات کو سمجھنے کی کوشش ترک کرتے ہوئے ایمان کے پاس آئی۔ایمان کو تو موقع چاہیئے تھا، فورا چلنے کے لئے تیار ہوئی۔
“ایمان کھانا کمرے میں لے آو، میں تب تک ذرا فریش ہو لوں۔”
غزنوی ایمان سے کہتا سیڑھیوں کی طرف بڑھ گیا۔
“بھائی شگفتہ لے آئے گی بلکہ آپ ایسا کریں کچن میں ہی چلے جائیں۔”
وہ اس سے کہتی ایمان کا ہاتھ پکڑے باہر کی جانب بڑھ گئی۔ایمان غزنوی کو تیوری چڑھائے اپنی طرف دیکھتا پا کر رک گئی۔
“ملائکہ تمھارے بھائی غصہ ہو رہے ہیں۔۔یوں کرو تم جاو۔۔میں انہیں کھانا دے کر آتی ہوں۔”
ایمان نے ملائکہ سے کہا۔
“اففف۔۔۔اب اس میں غصہ ہونے والی کیا بات ہے۔وہ دیکھو۔۔وہ آرام سے اپنے کمرے میں جا رہے۔تم نے نا میرے بھائی کو یونہی جن بنا رکھا ہے۔چلو چلیں۔۔”
وہ اس سے کہتی تیزی سے لاونج کا دروازہ پار کر گئی۔اگر ایک بار پلٹ کر بھائی کے ماتھے کے بل دیکھ لیتی تو وہیں ایمان کا ہاتھ چھوڑ کر خود بھاگ کھڑی ہوتی۔ایمان غزنوی کا غصیلہ انداز یاد کر کے مسکرا دی۔اس نے سوچا کچھ پل وہاں گزار کر واپس آ جائے گی۔اب وہ دل ہی دل میں اسے منانے کے طریقے سوچنے لگی پھر احساس ہونے پر اپنی ہی سوچ پہ مسکرا دی۔
_____________________________________
“پرخہ آپی بتایئے نا کیسا رہے گا یہ ڈرہس؟”
فائقہ نے پرخہ کے سامنے سیاہ کامدار سوٹ پھیلایا۔
“بہت اچھا ہے۔”
پرخہ کے ساتھ ساتھ سبھی نے ڈریس کو توصیفی نظروں سے دیکھا تھا۔
“پر امی کہہ رہی ہیں۔۔کالا سوٹ مت رکھو۔۔اچھا نہیں ہوتا۔”
فائقہ نے اپنا مسئلہ بیان کیا۔
“یہ سب دقیانوسی باتیں ہیں۔یہ سارے رنگ اللہ تعالی نے ہماری زندگی خوبصورت بنانے کے لئے بنائے ہیں نا کہ کسی بھی فضول عقیدے سے جوڑنے کے لئے۔اللہ تعالی ایسی باتوں سے ناراض ہوتے ہیں۔تم ضرور یہ ڈریس رکھو۔”
پرخہ نے اسکے دل میں بندھی گرہ کو کھولا۔
آپی بالکل ٹھیک کہہ رہی ہیں۔ہم لوگوں نے اپنی کم عقلی میں نجانے کون کون سی چیزوں، رنگوں اور باتوں کو مختلف عقائد سے جوڑ کر اپنی زندگیوں کو اجیرن بنا لیا ہے۔اب یہ کوئی بات ہوئی بھلا۔۔سیاہ چوڑیاں مت پہنو، سیاہ کپڑے مت خریدو اور ایسی بہت سے فضولیات، تم ایسے گہن دل میں مت پالو اور اپنے دل و دماغ کو ان سے پاک رکھو۔۔اللہ تعالی ہم سب کو ان سب سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔۔”
سحرش نے مزید کہا۔
باقی سب نے بھی اسکی بات کی تائید کی۔
“لیکن امی۔۔”
فائقہ نے منہ بسورا۔
“تم ان کی فکر مت کرو، میں سمجھا دوں گی انہیں۔”
پرخہ نے اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھا۔
“ٹھیک ہے۔۔ایمان تم کیوں خاموش بیٹھی ہو۔۔میں کیسی لگ رہی ہوں؟”
فائقہ نے کافی دیر سے خاموش بیٹھی ایمان کا کندھا ہلایا اور اسکے سامنے سیاہ کامدار ڈوپٹہ اوڑھا۔
“ماشاءاللہ بہت پیاری لگ رہی ہو۔”
ایمان نے تعریف کی۔فائقہ مسکرا دی۔
“دراصل علی کو بلیک کلر بہت پسند ہے۔یہ میں نے ان کی پسند کو مدنظر رکھتے ہوئے خریدا ہے۔”
فائقہ نے شرمیلی سی مسکان لبوں پہ سجائے کہا۔
“اووووووووو۔۔۔۔”ان” کی پسند سے۔۔واہ واہ۔۔”
لاریب نے اسے چھیڑا۔۔باقی سب بھی اسکی ٹانگ کھینچنے میں لگ گئیں۔ان سب کو شرارتوں میں مشغول دیکھ کر وہ خاموشی سے اٹھ آئی۔
____________________________________
وہ جب گھر واپس آئی تو لاؤنج سے خیرن بوا کے بولنے کی آوازیں آ رہی تھیں۔اونچی آواز میں ٹیکسی ڈرائیور کو صلواتیں سنائی جا رہی تھیں اور ساتھ ساتھ سفر نامہ بھی جاری تھا۔ایمان سر کو دائیں بائیں ہلاتی مسکرا دی۔
“السلام و علیکم بوا۔۔آپ کب آئیں؟”
وہ بڑے پرتپاک انداز میں ان کی طرف بڑھی۔
“ائے دیکھ نہیں رہی۔۔ابھی آئی ہوں۔”
وہ اپنے مخصوص انداز میں بولیں تو وہ سب کے سامنے اس حوصلہ افزائی پر جھنپ گئی۔انہوں نے اسے ساتھ ہی بٹھا لیا۔
“احمد کسی کام سے آ رہا تھا تو میں بھی چلی آئی اسکے ساتھ، بلقیس اور رقیہ تو بہت اسرار کر رہی تھیں کہ رک جاوں لیکن بس گھر کی اور تم لوگوں کی یاد ستانے لگی تھی۔ذرا سا کوئی ذکر چھڑتا تو بس دل ہمکنے لگتا کہ اڑ کر چلی جاوں۔”
وہ پھولی سانسوں کے ساتھ کہہ رہی تھیں۔
“یہ لیں بوا۔۔بہت اچھا کیا جو آپ چلی آئیں۔فائقہ کی شادی کی تاریخ رکھ لی ہے ہم نے۔”
شمائلہ بیگم نے گلاس ان کی طرف بڑھایا۔صندل کا شربت ان کا پسندیدہ مشروب تھا، غٹاغٹ چڑھا گئیں۔
“رقیہ کو بھی لے آتی ساتھ۔”
ایمان نے ان سے کہا۔
“ائے میری بچی کا تو بہت جی تھا لیکن احمد نے منع کر دیا یہ کہہ کر کہ وہ کام کے فورا بعد واپس آئے گا۔دراصل وہ اپنے دفتری کام کے لئے آیا تھا۔یہاں بھی سلام کیا اور یہ جا وہ جا۔”
خیرن بوا نے خالی گلاس ایمان کے ہاتھ میں تھمایا جو اس نے ٹیبل پہ رکھ دیا۔
“تم کہاں تھی؟”
اب سوالنامے کی ابتداء خیرن بوا کی جانب سے ہوئی۔
“میں اور ملائکہ فائقہ کی طرف تھے۔فائقہ اپنی شاپنگ دکھا رہی تھی۔بہت اچھی اور عمدہ شاپنگ کی ہے اس نے۔”
ایمان نے لیپ ٹاپ میں مصروف غزنوی کو کنکھیوں سے دیکھا جو قطعی لاپرواہ دکھائی دے رہا تھا۔
“اچھا کیا۔۔۔میں ذرا ٹانگیں سیدھی کر لوں پھر جاؤں گی ملنے۔”
خیرن بوا گھٹنوں پہ ہاتھ رکھتی اٹھ کھڑی ہوئیں۔
“ارے ٹھہرو خیرن میں بھی چلتی ہوں تمھارے ساتھ۔”
عقیلہ بیگم بھی ان کے پیچھے ہی اٹھ کھڑیں ہوئیں۔شمائلہ بیگم نے ایمان کی طرف دیکھا جس کی نظریں سامنے بیٹھے غزنوی کے گرد منڈلا رہیں تھیں۔انہیں خوشگوار حیرت نے آن گھیرا۔
“تم کچھ کھاؤ گی ایمان۔۔۔؟”
انہوں نے ایمان کو متوجہ کیا۔
“نہیں۔۔فائقہ نے اسنیکس بنائے تھے۔اب بھوک نہیں، بس ڈنر کروں گی۔”
وہ دھیرے سے بولی۔
“اچھا ٹھیک ہے۔”
شمائلہ بیگم اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئیں۔اب لاونج میں صرف وہ اور غزنوی موجود تھے۔وہ اٹھ کر اسکے پاس آ کر بیٹھ گئی۔سنجیدہ چہرہ اور مصروف ہاتھ۔۔۔۔وہ چاہتی تھی کہ وہ اسکی جانب دیکھے مگر وہاں تو یوں ظاہر کیا جا رہا تھا جیسے اسکے سوا وہاں کوئی دوسرا موجود نہ ہو۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *