Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode15

Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode15

اعظم احمد ابھی کچھ لمحے پہلے مہمانوں کو رخصت کر کے کمرے میں داخل ہوئے تھے۔عقیلہ بیگم بیڈ پہ لیٹی تھیں۔انہیں آتے دیکھ کر وہ اٹھ بیٹھیں۔اعظم احمد سست روی سے چلتے صوفے پہ آ کر بیٹھ گئے۔چہرے سے تھکن واضح تھی۔وہ جیسے ہی آ کر بیٹھے تھے ان کا موبائل فون بجنے لگا۔
“جی انسپیکٹر صاحب؟”
وہ فون کان سے لگاتے ہوئے بولے۔عقیلہ بیگم بیڈ سے اتر کر ان کے پاس آ بیٹھیں۔
“یہ تو بہت اچھا ہوا۔انسپیکٹر صاحب تگڑی چارج شیٹ فائل کیجیئے گا۔اب کی بار اسے وہ چھوٹنے نہ پائے۔ملک خاور علی کو بھی شاملِ تفتیش کیجیئے گا۔اس جیسے لوگ ہی ہمارے ملک کا ناسور ہیں۔اُس کی ہی وجہ سے یہ جیل سے چھوٹنے میں کامیاب ہوا اور اب دیکھیئے ہم نے کتنا بڑا نقصان اٹھایا۔میں اسے کڑی سے کڑی سزا دلوانا چاہتا ہوں۔”
اعظم احمد بولے۔
“ٹھیک ہے میں کل پہلی فرصت میں آپ کے پاس ہونگا۔۔اللہ حافظ۔۔!”
کچھ دیر انسپیکٹر صاحب کی بات سننے کے بعد وہ بولے اور الوادعی کلمات ادا کر کے فون رکھ دیا۔
“تھانے سے فون تھا؟”
انہوں نے جیسے ہی فون رکھا عقیلہ بیگم نے پوچھا۔اعظم احمد نے اثبات میں سر ہلایا۔
“کیا کہہ رہے تھے؟”
عقیلہ بیگم مزید جاننا چاہتی تھیں۔
“بادشاہ خان اور اسکے ساتھی کو گاؤں کے قریب ہی گرفتار کر لیا گیا ہے۔۔یہی بتا رہے تھے۔”
اعظم احمد پاؤں پسار کر بیٹھ گئے۔
“یہ تو بہت اچھی خبر ہے۔لیکن کہیں پہلے کی طرح چھوٹ نہ جائے۔”
وہ پریشانی سے بولیں۔
“نہیں اس بار ایسا نہیں ہو گا۔یہ شہر ہے اور پھر چند راہ گیروں نے سب اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔گواہ ہیں وہ اس قتل کے۔”
اعظم احمد نے انہیں تسلی دی۔
“پہلے بھی تو گواہ تھے، لیکن کیا ہوا۔”
عقیلہ بیگم کے لہجے میں بےیقینی تھی۔
“ملک خاور علی نے اپنا سیاسی اثر و رسوخ چلایا ورنہ وہ باہر نہ آ پاتا۔پھر گاؤں کے لوگ ڈرتے بھی تھے اس سے اس لئے اس نے دھمکیاں دے کر گواہوں کو یہ کہنے پہ مجبور کیا کہ رشید خان نے اس پہ حملہ کیا تھا اور اس نے اپنے بچاؤ میں فائر کر دیا۔اس بار ملک خاور علی ایسا کچھ نہیں کرے گا۔وہ اپنی جان بچائے گا نا کہ بادشاہ خان کو بچانے کا جوکھم اٹھائے گا۔”
اعظم احمد نے تفصیل بتا کر انہیں مطمئن کیا اور مطمئن ہو بھی گئیں۔
“چلو اچھا ہوا۔۔اعظم صاحب آپ تھکے ہوئے لگ رہے ہیں آرام کر لیجیئے۔”
وہ اعظم احمد کے چہرے پہ تھکاوٹ کے آثار دیکھ کر بولیں۔وہ سر ہلا کر اٹھ کھڑے ہوئے۔
“ایمان کی طبیعت کچھ سنبھلی؟”
اعظم احمد نے بیڈ کی جانب بڑھتے بڑھتے پلٹ کر ان سے پوچھا۔
“کیسے سنبھلے گی، باپ کو کھویا ہے اس نے۔۔ابھی تو دکھ تازہ ہے، وقت تو لگے گا نا۔”
عقیلہ بیگم ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے بولیں۔
“خیال رکھو اسکا۔”
وہ عقیلہ بیگم کو ہدایت دیتے بیڈ پہ لیٹ گئے جبکہ عقیلہ بیگم ایمان کے متعلق سوچنے لگیں پھر اٹھ کر کمرے سے باہر آ گئیں۔ _______________________________________
“ویسے مجھے بہت افسوس ہوا،میں تو تمھیں بہت سمجھدار سمجھتا تھا لیکن تم نے مجھے بہت نا امید کیا۔”
وہ اس وقت لان میں بیٹھا سیگریٹ پھونک رہا تھا جب مصطفیٰ کرسی اسکے قریب کرتا بیٹھ گیا اور اسکے ہاتھ سے سیگریٹ لے کر ایش ٹرے میں مسل دی۔
“میں نے ایسا کیا کر دیا؟”
غزنوی نے اسکی طرف دیکھا۔وہ سمجھ گیا تھا کہ وہ کس بارے میں بات کر رہا ہے لیکن پھر چہرے پہ ایسے تاثرات سجائے جیسے وہ اسکی الفاظ کو معانی نہیں پہنا پایا ہو۔
“جسطرح تم یہاں سے اڑنچھو ہو گئے تھے اس بارے میں بات کر رہا ہوں۔”
مصطفیٰ نے اسے گُھورا۔
“یار بتایا تو تھا کہ کمیل کا فون آ گیا تھا، مجھے جانا پڑا تھا۔تم یونہی بال کی کھال اتارنے میں اپنی توانائی ضائع کر رہے ہو۔”
غزنوی نے اسکی بات کے جواب میں کہا۔
“مجھ سے جھوٹ مت بولو، کمیل سے بات ہوئی ہے میری، اس نے مجھے بتایا کہ تم یوں اچانک ہی وہاں پہنچ گئے جبکہ تمھاری پلاننگ دو دن بعد کی تھی۔”
غزنوی کے ایک بار پھر جھوٹ بولنے پہ مصطفیٰ کا لہجہ سخت ہوا۔
“جب پتہ چل گیا ہے تو دوبارہ پوچھنے کی کیا ضرورت ہے۔غصے میں تھا، یہاں رہتا تو مزید دماغ خراب ہوتا میرا، اس لئے میں نے منظر سے غائب ہونے کا فیصلہ کیا۔”
غزنوی نے اب چھپانے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔مصطفی نے بات چھیڑی تو وہ صاف صاف بتانے لگا۔
“کیوں؟”
مصطفی نے کڑی نظریں اس پہ جما رکھی تھیں۔
“یار۔۔تم کیا اس وقت کچہری لگا کر بیٹھ گئے ہو۔میں تھک گیا ہوں، سونے جا رہا ہوں۔”
غزنوی نے لاپرواہی سے کہا اور جانے کے کئے اٹھ کھڑا ہوا۔
“یہ لاپروائی تم کسی اور کے سامنے ظاہر کرنا۔یہاں بیٹھو اور مجھے بتاو۔۔علیم صاحب کے چوکیدار نے مجھے بتایا کہ تمھاری گاڑی کافی دیر ان کے گھر کے سامنے کھڑی تھی۔اب مجھے سچ سننا ہے۔”
مصطفی نے کہا تو وہ گہری سانس خارج کرتا بیٹھ گیا۔اسے یاد آیا کہ جب وہ گاڑی میں بیٹھا تھا تو چوکیدار باہر ہی کھڑا تھا۔
“اس نے یہ بھی بتایا کچھ دیر بعد ہمارے گھر کوئی شخص کڑے تیور لئے نکلا تھا اور اپنی جیپ جو ہمارے گھر کے گیٹ کے پاس کھڑی تھی، کی طرف جاتے جاتے تمھاری گاڑی میں بیٹھ گیا تھا اور کافی دیر تمھارے ساتھ گاڑی میں بیٹھا رہا۔پھر اس کے جانے کے بعد تم ریش ڈرائیونگ کرتے ہوئے وہاں سے نکل گئے۔”
مصطفی نے اسکے چہرے کے اتار چڑھاؤ کی پرواہ نہ کرتے ہوئے تفصیل سے بتایا۔
“اور یہ ساری کہانی اس نے تمھیں کب سنائی۔”
غزنوی ساری بات سن کر حسب معمول طیش میں آیا۔
“جنازے سے کچھ دیر پہلے جب داجی نے مجھ سے تمھیں انفارم کرنے کے بارے میں پوچھا تھا۔اس وقت وہ مجھ سے افسوس کرنے کے لئے میرے پاس ہی کھڑا تھا۔وہ شخص بادشاہ خان ہی تھا نا؟”
وہ مصطفی کی سوالیہ نظروں کے جواب میں گہری سانس خارج کر کے رہ گیا۔
“ہاں وہی تھا۔”
غزنوی نے اسکی بات کی تردید نہیں کی۔وہ چاہتا تو انکار کر سکتا تھا مگر انکار کرنے سے اسکی کی گئی اتنی سنگین غلطی درست تو ہو نہیں سکتی تھی۔
“تو اس نے تم سے ایسا کیا کہا کہ تم سیدھے اسلام آباد چلے گئے جبکہ تمھارا اسلام آباد جانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔”
مصطفی کے پوچھنے پہ اس نے اپنے اور بادشاہ خان کے درمیان ہونے والی تمام گفتگو کہہ سنائی۔مصطفی کو اسکے چہرے پہ شرمندگی صاف دکھائی دے رہی تھی۔
“مجھے تم سے اتنی بیوقوفی کی توقع نہیں تھی ویسے، تم اچھی طرح جانتے تھے کہ وہ کس قماش کا آدمی ہے اور اپنے مفاد کے لئے کس حد تک جا سکتا ہے۔شروعات سے ہی تم اسکے ناپاک عزائم سے واقف تھے، پھر بھی؟”
مصطفی اسکے چہرے پہ چھائی شرمندگی دیکھ کر افسوس ہوا۔اسے اندازہ نہیں تھا کہ وہ کانوں کا اتنا کچا نکلے گا۔
“اسی بات کا تو دکھ ہے۔اگر میں یوں نہ جاتا تو رشید انکل اسطرح دلبرداشتہ ہو کر یہاں سے نہ جاتے اور نا ہی یہ سب ہوتا۔”
غزنوی نے بے چینی سے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔
“تم خود کو اس بات کے لئے موردِ الزام کیوں ٹھہرا رہے ہو؟ انہوں نے تو جلد یا بدیر یہاں سے جانا ہی تھا۔”
مصطفی نے اسکی بے چینی محسوس کرتے ہوئے کہا۔
“نہیں۔۔۔میں نے انہیں یہاں رہنے کے لیے راضی کر لیا تھا۔ بادشاہ خان کی وجہ سے سے ان کی جان کو خطرہ تھا۔یہ بات میں نے ایمان کے سامنے نے ہی کی تھی۔جب عید کے دوسرے دن ہی انہوں نے واپس گاؤں جانے کی بات تھی۔ایمان بھی چاہتی تھی کہ وہ یہیں شہر میں رہیں، اس کے پاس، مگر سب الٹا ہوگیا اور میرے رویے کی وجہ سے انہوں نے جانے کا فیصلہ کیا۔شاہ گل کہہ رہی تھیں کہ ایمان نے اور داجی نے روکنے کی بہت کوشش کی مگر وہ رکنے کو تیار نہیں تھے۔”
یہ کہتے ہوئے غزنوی کی آنکھوں کی سرخی بڑھ گئی تھی۔
“میں نے تمھیں ہمیشہ کہا ہے کہ اپنے غصے پہ کنٹرول کرنا سیکھو۔کیا تم نے اس سے ان سارے الزامات کا ثبوت نہیں مانگا تھا؟”
مصطفی نے اس سے پوچھا۔
“اس نے کہا کہ رشید خان نے ہی کیس واپس لیا جسکی وجہ سے اسے جیل سے رہائی ملی اور میں چاہوں تو تھانے فون کر کے معلومات کر سکتا ہوں۔اس کے سامنے تو میں نے یہی ظاہر کیا کہ مجھے اسکی باتوں کا رتی برابر بھی یقین نہیں لیکن اسکے جانے کے بعد میں نے تھانے کال کر کے پوچھا تھا۔ایس ایچ او نے بھی بادشاہ خان کی بات پہ سچ کی مہر لگا دی، بس پھر کیا تھا میرے اندر جیسے بھانبھڑ سے جلنے لگے، کچھ سمجھ میں نہ آیا اور اسلام آباد چلا آیا۔”
غزنوی نے ساری بات بتانے کے بعد مصطفی کی طرف دیکھا۔وہ بھی اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
“ایمان کی شکوہ کرتی نگاہوں کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں ہے مجھ میں، میری نادانی کے باعث وہ اپنا ایک عزیز رشتہ کھو بیٹھی ہے۔”
غزنوی نے پریشانی سے اپنی پیشانی مسلی۔
“تم خود کو الزام نہ دو۔ان کی اتنی ہی زندگی لکھی تھی اور پھر اللہ کی مرضی کے سامنے انسان بےبس ہے۔تم ایسا تھوڑی چاہتے تھے۔بادشاہ خان کس مقصد کے تحت یہاں آیا تھا، یہ ہم سب میں سے کسی کو معلوم نہیں تھا اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس نے یہ سب رشید انکل کو باہر لانے کے لئے ہی کہا ہو تاکہ وہ اپنے ناپاک عزائم کو عملی جامہ پہنا سکے۔”
مصطفی نے اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھ کر اسے نارمل کرنے کی کوشش کی۔
“لیکن یار میں یہاں رہ کر ان سے پوچھ سکتا تھا۔وہ گھر چھوڑ کر نہ جاتے تو بادشاہ خان کو موقع نہ ملتا۔”
غزنوی کے چہرے سے بےسکونی چھلک رہی تھی۔مصطفی نے تسلی دینے کے انداز میں اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھا تو وہ سر جھکا کر رہ گیا۔اب سب سے مشکل کام ایمان کا سامنا کرنا تھا۔کمرے میں جاتے ہوئے اپنے کہے ہوئے الفاظ اسکے کانوں میں گونج رہے تھے۔ _________________________________________
وہ کمرے میں آیا تو ایمان سو رہی تھی۔اس نے بہت آہستگی سے دروازہ بند کیا اور وال کلاک کی جانب دیکھا۔وہ نارملی اس وقت جاگ رہی ہوتی تھی۔حقیقت تو یہ تھی کہ ایمان جاگ رہی تھی لیکن دروازے پہ ہوتی آہٹ سن کر اس نے آنکھیں بند کر لیں تھیں۔غزنوی الماری سے کپڑے لیتا واش روم کی جانب بڑھ گیا۔ٹھنڈے پانی سے شاور لینے کے بعد طبیعت میں کچھ ہلکا پن محسوس ہوا تھا مگر دل پہ جو بوجھ تھا وہ کیسے ہلکا ہو گا۔اب اسے یہ سوچنا تھا۔رہ رہ کر اے ایمان کی اپنی جانب اٹھی شکوہ کناں نگاہیں یاد آ رہی تھیں اور پھر جب اسے تسلی دینے کے لئے وہ اسکے قریب جانے لگا تو وہ رخ پھیر گئی تھی۔
گیلے بالوں میں ہاتھ پھیرتا وہ بیڈ کی جانب آیا اور ایمان کے معصوم چہرے کو نگاہوں کے فوکس کرتا نیم دراز ہو گیا۔اب بھی سانس کے ساتھ ساتھ اسکی دبی دبی سسکیاں بھی سنائی دے رہی تھیں۔
“ایمان۔۔!”
غزنوی نے دھیرے سے اسے پکارا اور قریب ہوا۔ایمان کی لرزتی بھیگی پلکیں اسے ایمان کے بیدار ہونے کا پتہ دے رہی تھی۔
“ایمان۔۔!”
غزنوی نے دوبارہ پکارا مگر وہ بےحس و حرکت لیٹی رہی۔
“میں جانتا ہوں کہ تم جاگ رہی ہو۔”
اس نے ایمان کے چہرے پہ بکھرے بالوں کو سنوارتے ہوئے کہا۔آیمان نے جھٹکے سے اسکا ہاتھ پرے کیا اور رُخ پھیر کر لیٹ گئی۔
“میں جانتا ہوں کہ میری باتوں نے تمھارے دل کو بہت ٹھیس پہنچائی ہے۔کیا مجھے معافی نہیں مل سکتی؟”
وہ کمر تک آتی چٹیا پہ انگلی پھیرتے ہوئے اسکے کان کے قریب آ کر بولا۔
“بالکل نہیں۔”
اس نے بھیگے لہجے میں کہتے ہوئے اپنے ہاتھ کی پشت سے آنکھیں رگڑ ڈالیں۔
“پلیز۔۔۔!”
غزنوی کو سمجھ نہیں آیا کہ کسطرح اس سے بات کرے۔
“مجھے آپ سے کوئی بات نہیں کرنی، پلیز مجھ سے پرے ہٹئے۔آپ کی وجہ سے میں نے اپنے بابا کو کھو دیا ہے۔آپ نے کیسے ان پہ مورد الزام ٹھہرایا تھا۔آپ کے کہے گئے زہریلے الفاظ، جن سے میں پل پل مری ہوں۔وہ بہت دکھی ہو کر گئے تھے یہاں سے، انہیں لگتا تھا کہ آپ کو ان پہ اعتبار نہیں تو وہ کس حیثیت سے یہاں رہیں۔اس لئے وہ چلے گئے، یہ دنیا ہی چھوڑ کر چلے گئے۔وہ جانا نہیں چاہتے تھے، میرے ساتھ رہنا چاہتے تھے۔انہوں نے مجھ سے کہا تھا کہ وہ گاوں والا گھر بیچ کر وہ یہاں اپنے لئے ایک گھر خریدیں گے، مگر آپ کی تنگ نظری اور رویے نے انہیں بہت دکھی کر دیا اور وہ واپس جانے پہ مجبور ہو گئے۔وہ جان گئے تھے کہ آپ کو ان پہ اعتبار نہیں۔۔آپکی بےاعتباری نے میرے بابا کی جان لے لی، آپ قاتل ہیں میرے بابا کے اور میں آپ کو کبھی معاف نہیں کروں گی۔”
کمرے میں ایمان کی سسکیاں گونج رہی تھیں۔
“مجھے ان پہ شک نہیں تھا، میں صرف غصے میں تھا۔”
غزنوی نے اسکے ہاتھ تھامنے چاہے۔
“تھا آپ کو شک۔۔۔وہ بہت اداس تھے یہاں سے جاتے ہوئے۔اگر آپ اسطرح نہ جاتے، ان کی بات سنتے، ان کا اعتبار کرتے تو وہ آج میرے پاس ہوتے، میرے بابا میرا واحد رشتہ تھے، میری آنکھوں کی ٹھنڈک تھے۔آپ نے وہ بھی چھین لی۔”
وہ پھولی سانسوں کے ساتھ کہتی جا رہی تھی۔دھیرے دھیرے اسکی آواز بلند ہوتی جا رہی تھی لیکن غزنوی نے اسے روکا نہیں، جو وہ کہنا چاہتی تھی اسے کہنے دیا اور جب وہ ریلیکس ہو جائے اس پھر وہ اس سے بات کرے تاکہ وہ پرسکون ہو کر اسکی بات سنے۔ایمان چہرہ ہاتھوں میں چھپائے رو رہی تھی۔
“مجھے تمھارا ہر الزام قبول ہے لیکن پلیز تم پرسکون ہو جاؤ۔مجھے احساس تھا کہ مجھے ان سے بات کرنی چاہیئے تھی۔بادشاہ خان کی باتوں سے اگر میرے دل میں شک کی کوئی ذرا سی پھانس بھی تھی تو اسے بیٹھ کر سلجھا دینا چاہیئے تھا۔میں شرمندہ ہوں، اپنے رویے پہ، ان الفاظ پہ جو میں نے ان کے لئے استعمال کیے۔میں انہیں واپس تو نہیں لا سکتا مگر تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ بادشاہ خان کو کڑی سے کڑی سزا دلاوں گا۔میرا یقین کرو۔”
غزنوی نے اسکے چہرے سے ہاتھ ہٹانے چاہے جو ایمان نے ایک بار پھر جھٹک دیئے۔
“آپ کا یقین کروں۔۔۔آپ کا؟ جو جب چاہے تپتے صحرا میں گھسیٹ لے اور جب چاہے ٹھنڈی چھاوں بن جائے۔آپ کے اس دھوپ چھاوں جیسے رویے جھیلنے کی سکت اب مجھ میں نہیں ہے۔میں آپ کے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں، مجھے میرے حال پر چھوڑ دیں۔۔۔نہیں۔۔۔بلکہ آپ ایسا کریں اس جواری کی بیٹی کو ہی چھوڑ دیں، بخش دیں مجھے۔”
وہ اسکے سامنے ہاتھ جوڑتے ہوئے رو دی۔غزنوی نے اسکی حالت کے پیش نظر مزید بات کرنا مناسب نہ سمجھا اور پیچھے ہٹ گیا جبکہ ایمان کتنی ہی دیر دبی دبی سسکیوں سے روتی رہی۔ ______________________________________
بادشاہ خان اور اسکے ساتھی جانس خان کے خلاف مضبوط کیس بنایا گیا۔بادشاہ خان کے وکیل نے بہت کوشش کی کہ بادشاہ خان کو بیل مل جائے لیکن عدالت نے ضمانت کی درخواست منسوخ کر دی اس وقت وہ جیل میں تھا۔فلحال وہ مسلسل وکیل کے کہنے پر اس جرم سے انکار کیے جا رہا تھا۔لیکن پھر جسمانی ریمانڈ نے بادشاہ خان اور جانس خان کو قبول کرنے پہ مجبور کر دیا۔غزنوی اور اعظم احمد کی کوششوں سے گاوں کے تھانے کا ایس ایچ او پہلے سسپینڈ ہوا اور پھر اسے گرفتار کیا گیا۔ساتھ ہی ساتھ اعظم احمد کے بتانے پہ ملک خاور علی کو بھی انٹیروگیٹ بھی کیا گیا۔اس نے تمام حالات بتانے میں بالکل پس و پیش سے کام نہ لیا اور خود کو صاف بچاتا سارا الزام بادشاہ خان پہ لگا دیا۔عدالت میں کیس چل رہا تھا اور غزنوی کو امید تھی کہ عدالت کا فیصلہ بھی ایک دو اور پیشیوں کے بعد ان کے حق میں ہو جائے گا۔آج بھی پیشی تھی۔اس لئے وہ اور مصطفی عدالت سے کچھ لیٹ گھر آئے تھے۔اعظم احمد اور عقیلہ بیگم لاؤنج میں ہی ان کا انتظار کر رہے تھے جب وہ دونوں لاؤنج میں داخل ہوئے۔دونوں نے بیک وقت بلند آواز میں سلام کیا۔مصطفی تو معذرت کرتا اپنے پورشن کی طرف بڑھ گیا جبکہ غزنوی وہیں اعظم احمد کے ساتھ بیٹھ گیا۔
“کیا بنا؟ اور کب تک فیصلہ آنے کی امید ہے؟”
اعظم احمد نے اس سے پوچھا۔
“انشاءاللہ۔۔! ایک دو پیشیوں میں فیصلہ آ جائے گا اور ہمارے حق میں ہو گا۔بادشاہ خان کا چیپٹر تو آپ کلوز ہی سمجھیں۔”
غزنوی انہیں آج کی پیشی کے متعلق بتایا۔
“یہ تو بہت اچھی خبر ہے۔”
اعظم احمد نے پرسکون ہو کر صوفے سے پشت ٹکائی۔
“جی۔۔۔امی کہاں ہیں اور بابا بھی دکھائی نہیں دے رہے۔”
غزنوی کی نظریں اردگرد کا چکر لگاتی ان تک پلٹ آئیں۔
“تمھاری ماں تو کچن میں ہو گی اور ایمان کو صائمہ ساتھ لے گئی ہے۔وہ بچی بالکل بجھ کے رہ گئی ہے۔باپ کی اندوہناک موت نے اسے بیمار کر ڈالا ہے۔صائمہ آئی تھی میں نے ہی زبردستی بھیجا ہے کہ کچھ وقت گزار لے گی تو ہو سکتا ہے طبیعت کچھ بہل جائے۔شام تک تم جا کر لے آنا۔وہ کہہ کر گئی ہے کہ اسے وہاں رات نہیں رکنا اس لئے وقت پہ اسکے پیچھے ڈرائیور کو بھجوا دیں۔”
عقیلہ بیگم نے اسکی بے چین نظروں کو تاک لیا تھا اس لئے تفصیل سے بتایا۔
“جی۔”
وہ سر اثبات میں ہلاتا اٹھ کھڑا ہوا۔
“میں ذرا فریش ہو لوں۔”
وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔اسی دوران شمائلہ بیگم چائے لئے لاونج میں آئیں۔
“شاہ گل غزنوی کہاں گیا؟”
شمائلہ بیگم نے کپ عقیلہ بیگم کی طرف بڑھاتے ہوئے پوچھا۔
“اپنے کمرے میں گیا ہے، شگفتہ کے ہاتھ چائے وہیں بھیج دو۔تھکا تھکا سا لگ رہا تھا۔”
انہوں نے چائے کا کپ تھامتے ہوئے کہا۔ان کی بات سن کر شمائلہ بیگم نے شگفتہ کو آواز دی۔عقیلہ بیگم انہیں بھی کیس کے متعلق بتانے لگی تھیں جبکہ اعظم احمد خاموشی سے اپنی چائے کی طرف متوجہ ہو گئے۔ ___________________________________
کمرے میں داخل ہوتے ہی گھپ اندھیرے اور خاموشی نے اسکا استقبال کیا۔آج کل یہی دو چیزیں اسے کمرے میں اپنا استقبال کرنے کو ملتی تھیں۔اس دن کے بعد سے دونوں کے بیچ کوئی بات چیت نہیں ہوئی تھی بلکہ اب وہ جہاں موجود ہوتا، ایمان وہاں سے ہٹ جاتی۔اس سے بات کرنا تو دُور اسکی کسی بات کا جواب تک نہیں دیتی تھی۔سب گھر والوں کو مطمئن رکھنے کے لئے بس خاموشی سے اسکے کام کیے جاتی۔غزنوی بھی بڑی خاموشی سے اسکی ناراضگی برداشت کر رہا تھا۔
اس نے بےدلی سے لائٹ آن کی اور الماری سے کپڑے لے کر واش روم میں گھس گیا۔اس نے یہ سوچا تھا کہ یہ خبر جب وہ ایمان کو سنائے گا کہ ایک دو پیشیوں میں بادشاہ خان کو سزا ہو جائے گی تو وہ ساری ناراضگی بھول جائے گی اور پھر شاید اسکے رویے میں بھی کچھ تبدیلی آ جائے، مگر وہ یہاں تھی ہی نہیں۔
فریش ہو کر باہر آیا تو شگفتہ ٹرے لئے کھڑی تھی۔
“یہاں رکھ دو۔”
وہ تولیے سے بال رگڑتا ہوا قدرے سخت لہجے میں بولا۔شگفتہ اس کا خراب موڈ دیکھ کر ٹرے رکھتی فورا کمرے سے نکل گئی۔
“غزنوی کھانے کے لئے کچھ بھیجوں؟”
وہ بال برش کر رہا تھا جب شمائلہ بیگم کمرے میں داخل ہوئیں۔
“نہیں امی بھوک نہیں ہے۔آفس میں لنچ کر لیا تھا۔”
اس نے پلٹ کر ان کی طرف دیکھا۔
“اچھا۔۔شام کو یاد سے ایمان کو لینے چلے جانا۔وہ جانا نہیں چاہتی تھی لیکن شاہ گل نے زبردستی بھجوا دیا کہ تھوڑی آب و ہوا تبدیل ہو گی تو وہ اِس اداسی سے باہر نکلے گی۔”
وہ آ کر اس کے پاس بیٹھ گئیں۔
“جی ٹھیک ہے۔”
غزنوی نے چائے پی کر کپ ٹرے میں رکھا۔
“کچھ دیر آرام کروں گا۔مرتضی اگر آئے تو اسے یہاں بھیج دیجیئے گا۔”
وہ بیڈ کی جانب بڑھا۔شمائلہ بیگم بھی ٹرے اٹھا کر کمرے سے نکل آئیں۔وہ انہیں کچھ خاموش سا لگا تھا۔
“السلام و علیکم چچی!”
وہ اسی سوچ میں گم چلی جا رہی تھیں کہ مرتضیٰ تیزی سے سیڑھیاں پھلانگتا ان کے سامنے آ گیا۔
“وعلیکم السلام بیٹا۔۔کیسے ہو؟”
انہوں نے اسکے شانے پہ ہاتھ پھیرا۔
“بالکل ٹھیک۔۔آپ یہ بتائیے کہ آپ وہ کھڑوس برخوردار کہاں ہیں؟”
مرتضیٰ نے ان کے پیچھے جھانکتے ہوئے کہا۔
“شریر۔۔۔غزنوی اپنے کمرے میں ہے۔وہ بھی ابھی پوچھ رہا تھا تمھارے بارے میں۔”
شمائلہ بیگم نے اسکے غزنوی کو کھڑوس کہنے پہ ہنستے ہوئے کہا۔
“مزاج بخیر ہیں ان کے یا گرم ہیں؟”
مرتضیٰ کی شرارتی رگ مزید پھڑکی۔
“مزاج تو گرم ہی لگ رہے ہیں، اب تم آ گئے ہو تو شاید ٹھنڈے ہو جائیں۔”
وہ اسکے گال تھپتھپاتے ہوئے بولیں۔
“ابھی لیجیئے۔۔ایک دم کول کول کر دوں گا جا کر۔بس آپ کچھ کھانے کو بھیج دیں، بہت بھوک لگ رہی ہے۔”
وہ ہنستے ہوئے آگے بڑھ گیا جبکہ وہ سر ہلاتیں سیڑھیاں اتر گئیں۔ ______________________________________
عصر کی نماز پڑھ کر وہ ارفع کے ساتھ باہر لان میں آ گئی تھی۔عنادل کچن میں گھسی کوئی کارستانی کر رہی تھی۔موسم کافی خوشگوار ہو رہا تھا۔وہ دونوں باتوں میں مگن تھیں کہ گاڑی کا ہارن سنائی دیا۔چوکیدار نے گیٹ کھولا تو غزنوی کی گاڑی دھیمی رفتار سے چلتی پورچ میں آ رکی۔اس دوران عنادل بھی وہیں آ گئی تھی۔
“ایسے ہونقوں کی طرح کیوں دیکھ رہی ہو مجھے، جیسے کسی ایلین کو دیکھ لیا ہو۔”
غزنوی نے کچھ فاصلے پہ کھڑی عنادل کے نیم وا منہ کو ٹھوڑی پہ ہاتھ رکھتے ہوئے بند کیا۔ایمان نظریں اپنے پیروں پہ مرکوز کیے ہوئے تھی۔ایمان کو دیکھکر وہ ایک دم ہشاش بشاش ہو گیا تھا۔لبوں پہ ایک جاندار مسکراہٹ آن ٹھہری تھی۔اسے لگا جیسے اسکے دل پہ چھائی بےچینی کہیں اڑنچھو ہو گئی ہو۔
“اللہ غزنوی بھائی آپ کتنے ٹائم بعد ہمارے گھر آئے ہیں۔”
ارفع اسے دیکھ کر بہت خوش ہوئی تھی۔
“ہاں یہ تو ہے، کافی وقت بعد آیا ہوں۔”
وہ چیئر ٹیبل کے قریب گھسیٹتے ہوئے بیٹھ گیا۔
“ویسے آپ آج بھی نہ آتے اگر آپ کی بیگم یہاں نہ ہوتی۔”
عنادل نے ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے غزنوی کی جانب دیکھا۔
“ہاں یہ تو ہے۔”
غزنوی کے منہ سے اتنا صاف اقرار سن کر وہ ہکا بکا رہ گئیں۔
“یعنی ہماری کوئی ویلیو ہی نہیں۔”
عنادل نے نروٹھے انداز میں کہا۔
“اب جب بیگم بیٹھی ہو تو اتنا تو خیال رکھنا ہی پڑتا ہے نا۔”
غزنوی نے دائیں آنکھ کا کونہ دباتے ہوئے عنادل کو دیکھا۔وہ دونوں اسکا اشارہ سمجھ کر ہنس دیں۔اس دوران ایمان بالکل خاموش رہی۔
“پھپھو کہاں ہیں؟”
غزنوی اٹھ کھڑا ہوا اور بسکٹ اٹھا کر ایمان کی چائے میں ڈبوتے ہوئے پوچھا۔ایمان نے اسکی طرف بہت غصیلی نظروں سے دیکھا جبکہ وہ اسے شرارتی نگاہوں سے دیکھتا اندر کی جانب بڑھ گیا۔
“چلو تیاری پکڑ لو۔۔۔تمھارا مسٹر تمھیں لینے آیا ہے۔”
ارفع نے بسکٹ ایمان کی چائے میں ڈبونا چاہا لیکن وہ ہاتھ پیچھے کر گئی۔
“ارفع۔۔۔!”
اب کی بار غصیلی نظروں سے ارفع کو نوازا گیا جبکہ وہ ہنسنے لگی۔
“بالکل اپنے بھائی پہ گئی ہو۔”
ایمان نے نروٹھے انداز میں کہا۔
“تو اور کس پہ جاوں؟”
ارفع نے معصومیت سے آنکھیں پٹپٹائیں۔ایمان کو ہنسی آ گئی۔
“ویسے تم دونوں چلو نا میرے ساتھ۔”
ایمان کو غزنوی کے ساتھ جانے میں ہچکچاہٹ ہو رہی تھی۔اتنے دنوں سے وہ اسے مکمل اگنور کیے جا رہی تھی۔وہ بات کرنے کی کوشش کرتا تو اسے جھڑک دیتی یا وہاں سے اٹھ جاتی لیکن غزنوی نے ہار نہیں مانی تھی، بس وہ اسے موقع نہیں دیتی تھی اور یہی موقع آج اسے مل رہا تھا جو وہ نہیں چاہتی تھی۔
“ہم کل آئیں گے۔ویسے بھی کل بابا اور فیروز بھائی کسی کام سے ایک دو دن کے لئے شہر سے باہر جا رہے ہیں۔”
عنادل نے بتایا تو وہ ٹھیک ہے کہتی اٹھ کھڑی ہوئی۔
“کہاں؟”
اسے اندر کی طرف بڑھتا دیکھ کر ارفع نے پوچھا۔
“میں پھپھو سے مل لوں۔”
وہ دھیرے سے بولی اور پلٹی لیکن پھر وہیں رک گئی کیونکہ صائمہ بیگم اور غزنوی اسی جانب آ رہے تھے۔
“غزنوی تم اسے ہی اس کے پیچھے آ گئے، رہتی ایک دو دن ہمارے پاس۔”
صائمہ بیگم کین کی کرسیوں میں سے ایک پہ بیٹھ گئیں۔
“مجھے تو کوئی اعتراض نہیں اگر ایمان رکنا چاہتی ہے تو رک سکتی ہے۔”
اس نے ایمان کی طرف دیکھا۔
“ٹھیک ہے پھپھو میں رک جاوں گی، ویسے بھی ابھی عنادل اور ارفع بہت اسرار کر رہی تھیں اور پھر کل آپ لوگ بھی تو جائیں گے نا۔”
وہ صائمہ بیگم کے ساتھ والی کرسی پہ بیٹھ گئی۔عنادل اور ارفع خوش ہو گئی تھیں۔
“چلو اچھا ہے۔۔تم بھی رک جاتے غزنوی۔”
اب وہ غزنوی کی طرف دیکھ رہی تھیں۔
“نہیں پھپھو۔۔پھر کبھی سہی۔۔اللہ حافظ۔۔!”
وہ سسنجیدگی سے کہتا پورچ میں کھڑی گاڑی کیطرف بڑھ گیا۔ایمان کی نظریں اسکی پشت پہ ٹکی تھیں۔اب وہ گاڑی کا دروازہ کھولے چوکیدار کو گیٹ کھولنے کا اشارہ کر رہا تھا۔شاید اسی دوران اسکا موبائل بجا تھا۔موبائل پاکٹ سے نکالتے ہوئے وہ پلٹا تو ایمان اسی کی جانب دیکھ رہی تھی۔دونوں کی نگاہیں چار ہوئیں۔اسی لمحے ایمان نے نظروں کا زاویہ بدلا تو وہ بھی رخ پھیر گیا۔
“رات کے کھانے میں کیا بنائیں ایمان؟”
صائمہ بیگم نے اس سے پوچھا۔
“مما بریانی بنا لیں اور ساتھ میں کباب۔”
ایمان کی بجائے عنادل نے جواب دیا۔
“تم سے کس نے پوچھا ہے؟”
ارفع نے عنادل سے کہا تو وہ اسکی طرف دیکھ کر منہ بگاڑ کر بولی۔
“تمھیں کیا تکلیف ہے۔”
ایمان نے دیکھا کہ غزنوی اب فون پہ کسی سے بات کر رہا تھا۔ان کے بیچ کافی فاصلہ تھا جسکے باعث وہ اسے سن نہیں پا رہی تھی۔
“ارے بھئی۔۔اتنی بڑی ہو گئی ہو تم دونوں لیکن بچپنا نہیں گیا۔”
صائمہ بیگم نے بےزاری سے عنادل اور ارفع کی طرف دیکھا۔ایمان بھی مسکراتے ہوئے ان کی طرف متوجہ ہو گئی۔
“لگتا ہے غزنوی بھائی نے بھی جانے کا ارادہ کینسل کر دیا ہے۔”
ارفع نے غزنوی کو ان کی جانب آتے دیکھ کر کہا۔صائمہ بیگم اور ایمان نے بھی اسے آتے دیکھ لیا تھا۔
“خیر ہے بیٹا؟”
صائمہ بیگم نے قریب آتے غزنوی سے پوچھا۔
“جی پھپھو۔۔وہ شاہ گل کا فون تھا۔گاؤں سے کوئی فیملی آئی ہے ایمان سے تعزیت کے لئے، وہ کہہ رہی تھیں کہ ایمان کو لے کر جلد آؤ کیونکہ انہوں نے واپس بھی جانا ہے۔”
غزنوی نے پہلے صائمہ بیگم اور پھر ایمان کی طرف دیکھا جس کے چہرے پہ حیرانی تھی۔
“اوہ۔۔۔! تو وہ کل تک نہیں رک سکتے؟”
عنادل کا ایمان کے جانے کا سن کر موڈ خراب ہوا۔
“نہیں بیٹا بری بات ہے۔وہ ایمان سے ملنے آئے ہیں تو اسکا جانا ضروری ہے۔”
غزنوی کی بجائے صائمہ بیگم نے جواب دیا۔
“چلیں؟”
غزنوی نے ایمان سے کہا تو ایمان بھی حیران پریشان ہوتی اٹھ کھڑی ہوئی۔
“اچھا پھپھو اللہ حافظ۔۔!”
وہ پلٹ گیا۔ایمان بھی ان سے ملتی اسکے پیچھے آئی تھی۔
“کون آیا ہے؟”
ایمان نے بیٹھتے ساتھ ہی پوچھا۔
“ایک سیکنڈ۔”
غزنوی نے مصروف انداز میں کہتے ہوئے اگنیشن میں چابی گھمائی۔کھلے گیٹ سے گاڑی نکال کر اس نے اسپیڈ بڑھائی۔اس بیچ ایمان بالکل خاموش رہی۔ _______________________________________
“بوا آپ کہاں جا رہی ہیں؟”
لاریب نے انہیں ہانپتے ہوئے سیڑھیاں چڑھتے دیکھ کر پوچھا اور پھر تیزی سے سیڑھیاں چڑھ کر ان کے پاس آئی۔
“ائے ایمان کے پاس جا رہی تھی۔صبح سے کچھ طبیعت ٹھیک نہیں تھی اس لئے اپنے کمرے میں ہی تھی۔وہ دکھائی نہیں دی تو سوچا وہ اپنے کمرے میں ہو گی، اسی کے پاس جا رہی ہوں۔پر یہ موئی سیڑھیاں۔۔اب میری بوڑھی ہڈیوں میں کہاں اتنا دم ہے کہ انہیں پھلانگ سکوں، جیسے تم ابھی کسی بندریا کی طرح دوڑی چلی آئی ہو۔”
خیرن بوا اسکا ہاتھ تھامے نیچے اترنے لگیں۔
“اففف بوا۔۔۔ایک تو آپ بولتی بہت ہیں۔اب یہ تو میری خوبی تھی جسکی وجہ سے آپ نے آج مجھے بندریا کا خطاب دے دیا۔”
لاریب نے ایک ہاتھ سے انہیں تھام رکھا تھا اور دوسرا کانوں کو لگایا۔
“ہائے نوج۔۔۔!! کیسے قینچی کیطرح چر چر چلتی ہے تمھاری زبان۔۔اب بندریا کی طرح قلانچیں بھرو گی تو بندریا نہیں کہوں گی تو اور کیا کہوں گی۔”
بُوا نے بھی اپنے دوسرے ہاتھ کا استعمال کر کے اسکے کندھے پہ ایک دھپ رسید کی۔
“اوئی۔۔بوا۔۔۔۔قسم سے سوئیاں چبھنے لگی ہیں۔اب بھی کتنا زور ہے آپ کے اس مرد مجاہد ہاتھ میں۔”
لاریب اپنا کندھا ملنے کے بھرپور ایکٹنگ کر رہی تھی۔
“ائے دفع۔۔۔چھالے پڑیں گے تیری زبان پہ جو مجھے مجاہد کہہ رہی ہے۔چل چھوڑ۔۔۔”
آخری سیڑھی پہ پہنچتے ہی خیرن بُوا نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا۔
“آہ۔۔۔بھلائی کا تو زمانہ ہی نہیں رہا۔”
لاریب نے دونوں ہتھیلیوں کو افسوس کرنے کے انداز میں آپس میں رگڑا۔
“ائے ہائے لڑکی۔۔!! تیرا بیڑا تر جائے۔۔مجھے نیچے کیوں لے آئی، اوپر جانا تھا مجھے۔۔بمشکل چھ سیڑھیاں چڑھ پائی تھی۔”
خیرن بوا کو اچانک یاد آیا تو ماتھا پیٹتی بولیں۔
“لو۔۔۔!! بوا جی میں نے تو آپ کو بچایا ہے کیونکہ ایمان اوپر کمرے میں نہیں ہے۔وہ صائمہ پھپھو کی طرف گئی ہے۔غزنوی بھائی لینے گئے ہیں انہیں، ابھی آ جائیں گی۔آپ یونہی اوپر جا کر پچھتاتیں کہ بے کار میں اپنی ٹانگوں کو اتنی زحمت دی۔آپ یہاں تشریف رکھیں۔”
لاریب نے صوفے کی طرف اشارہ کیا۔
“ہائے کتنی بھلی مانس ہے تُو کہ تجھے میرا اتنا خیال تھا۔۔چل جا یہاں سے۔۔دماغ چاٹ گئی ہے میرا۔۔یہاں تک بھر گئی میں تیری باتوں سے۔”
خیرن بوا نے اپنی ناک کے کونے پہ انگلی رکھی تو لاریب نے بھی وہاں سے جانا مناسب سمجھا ورنہ بوا نے تو اگلے پچھلے سارے ریکارڈ آج ہی توڑ دینے تھے۔
“لو جی۔۔بی مینڈکی کو بھی زکام ہو گیا۔”
لاریب کو ناک چڑھائے جاتا دیکھ کر خیرن بوا نے کہا اور خود ہی ہنسنے لگیں۔ _______________________________________
“آپ بتا کیوں نہیں رہے۔۔۔کون آیا ہے گاؤں سے۔”
غزنوی کے ایک سیکنڈ کو جب دس منٹ ہو گئے تو وہ غصے میں بولی۔
“کوئی نہیں۔”
غزنوی کا لہجہ سادہ تھا۔
“مطلب۔۔۔آپ پھپھو سے جھوٹ بول کر مجھے وہاں سے لائے ہیں؟”
ایمان نے اسکے ٹھنڈے ٹھار لہجے پہ کھولتے ہوئے پوچھا۔
“جھوٹ۔۔۔نہیں تو۔۔سیانے کہتے ہیں کہ مصلحتاً جو جھوٹ بولا جائے اسے جھوٹ نہیں کہتے، اسے مصلحت کہتے ہیں۔”
غزنوی نے اسکی طرف دیکھا۔
“اور یہ کس سیانے نے کہا ہے؟”
ایمان کا اسے کڑی نظروں میں تولا۔
“میں۔۔مجھ سے بڑھ کر بھی سیانا ہو گا؟”
غزنوی نے اسکے گال کو چھوتے ہوئے شرارت سے کہا۔ایمان نے اسکا ہاتھ جھٹکا جبکہ وہ ہنسنے لگا تھا۔
“اب ڈرامہ مت کرو۔۔تم بھی تو چاہتی تھی کہ میں تمھیں وہاں نہ رکنے دوں۔اب جب لے آیا ہوں تو نخرے آسمان کو چھو رہے ہیں۔”
غزنوی نے ایک بار پھر اسکی طرف ہاتھ بڑھایا۔
“ان فضولیات سے پرہیز کریں۔”
وہ پھر سے اسکا ہاتھ جھٹک گئی۔
“کون سی فضولیات؟ یہ۔۔۔۔؟؟”
غزنوی نے پھر سے کوشش کی۔
“غزنوی!!”
وہ غصے سے لال پیلی ہونے لگی۔
“جی۔۔”
وہ اسے مزید چڑانے سے باز نہیں آیا۔
“ایک تو تم جو چاہتی ہو وہ کر رہا ہوں پھر بھی۔۔۔اچھا چھوڑو، آئسکریم کھاؤ گی؟”
غزنوی نے آئسکریم پارلر کے پاس گاڑی روکی۔
“زہر کھاؤں گی۔۔وہ لا دیں کہیں سے۔”
ایمان نے اسکی طرف سے رخ پھیرا۔
“کہیں سے کیوں۔۔یہیں سے منگوا دیتا ہوں۔۔یار ایک زہر بھری آئسکریم تو لانا۔”
اس کے اسطرح کہنے پہ ایمان نے فورا پلٹ کر اسکی طرف دیکھا۔وہاں کوئی نہیں تھا۔وہ ہنسنے لگا جبکہ وہ اسے قہر بھری نظروں سے گھور رہی تھی۔
“اب کیا سالم نگلو گی۔”
غزنوی نے گھبرانے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے گاڑی اسٹارٹ کی۔گاڑی مین روڈ تک لاتے لاتے غزنوی اسے آج کی سماعت کے مطلق بتانے لگا۔غزنوی نے اسکے چہرے پہ اطمینان و سکون کی ایک لہر دیکھی تو وہ بھی پرسکون ہو گیا۔ _________________________________________
“ہاں اس سنڈے کو آ جاؤں گا، تم کل مل لینا وکیل صاحب سے۔”
وہ فون پہ بات کر رہا تھا جب وہ کمرے میں داخل ہوئی۔اسکے ہاتھ میں اپنے اور غزنوی کے استری شدہ کپڑے تھے۔
“ٹھیک ہے ان شاء اللہ سنڈے کو ملیں گے۔”
غزنوی نے ایک گہری نظر ایمان پہ ڈالتے ہوئے کہا۔
ایمان خاموشی سے الماری کی طرف بڑھی اور اپنے کام میں مگن ہو گئی۔غزنوی بیڈ سے اتر کر اسکے پیچھے آ کھڑا ہوا۔
“میں سنڈے کو اسلام آباد جا رہا ہوں، تم چلو گی ساتھ؟ دو تین دن کا کام ہے پھر واپس آ جائیں گے۔”
اس کی بات سن کر ایک پل کو ایمان کے ہاتھ تھمے تھے۔
“مجھے نہیں جانا۔۔ویسے بھی دو دن کے لئے جا رہے ہیں تو میں کیا کروں گی وہاں۔”
ایمان نے بناء پلٹے جواب دیا۔
“جو میں کروں تم بھی وہی کر لینا۔”
وہ بولا تو اسکے لہجے کی گھمبیرتا ایمان کو چونکا گئی مگر اس نے پلٹ کر نہیں دیکھا اور اپنا کام ختم کرنے کے بعد الماری بند کر دی۔
“مطلب؟”
اس نے پلٹ کر دیکھا۔
“مطلب یہ کہ میں اپنے ایفل ٹاور کو دیکھوں گا اور تم اپنے ایفل ٹاور کا دیدار کرنا۔”
غزنوی نے اسکے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لئے اور اسکی آنکھوں میں جھانکا۔ایمان نے اپنے ہاتھ چھڑانا چاہے لیکن غزنوی کی گرفت مضبوط تھی۔
“اسلام آباد میں کون سا ایفل ٹاور ہے؟”
ایمان کو معلوم پڑ گیا تھا کہ اسکی رگِ ضرافت پھڑک رہی ہے۔
“یہ تو جب تم میرے ساتھ وہاں جاؤ گی تب ہی دکھا پاؤں گا نا تمھیں۔”
غزنوی نے اسکے ٹھنڈے ہاتھ اپنے چہرے پہ رکھے جنھیں چھڑانے کی کوشش میں وہ ناکام ہوئی جا رہی تھی۔غزنوی کی آنکھوں سے لپٹی محبت کی شعاعیں اسکے وجود کا احاطہ کرنے لگیں تو وہ گھبرا کر ایک قدم پیچھے ہٹی۔
“اب آگے بڑھنے کا وقت ہے نہ کہ پیچھے قدم لینے کا۔”
غزنوی نے ایک جھٹکے سے اسے قریب کیا۔غزنوی کی محبت کا پیغام دیتی آنکھیں اسے کسی الارم سے کم نہیں لگ رہی تھیں۔
“چھوڑیں۔”
اس سے پہلے کہ وہ اسکے ہاتھ اپنے لبوں تک لے جاتا ایمان نے اپنے ہاتھ چھڑائے اور تیزی سے کمرے سے نکل گئی لیکن اپنے پیچھے اس نے غزنوی کا جاندار قہقہ ضرور سنا تھا۔دھڑکتے دل کے ساتھ سیڑھیاں اترتی وہ کسی سے ٹکرائی تھی۔
“ائے ہائے کہاں بھاگی جا رہی بہو؟”
خیرن بوا کو سامنے دیکھ کر وہ مزید ہواس باختہ ہو گئی۔
“اففف۔۔۔اسے کہتے ہیں آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا۔”
وہ ماتھے پہ ہاتھ مارتی بڑبڑائی۔
“ائے کیا بول رہی ہو؟”
خیرن بوا کان پہ ہاتھ رکھتی اسکے قریب ہوئیں۔
“کچھ نہیں بوا۔۔۔”
ایمان نے اپنی ہڑبڑاہٹ پہ قابو پایا۔
“آپ اوپر کہاں جا رہی تھیں؟”
ایمان نے پوچھا۔
“غزنوی کو بلا کر لاؤ، مجھے کچھ بات کرنی ہے اس سے۔”
وہ جہاں سے بھاگ کر آئی تھی وہ اسے وہیں بھجوا رہی تھیں۔
“وہ بوا۔۔۔وہ سو رہے ہیں۔تھوڑی دیر بعد بات کر لیجیئے گا۔”
ایمان نے بہانا بنایا۔
“کون سو رہا ہے؟”
وہ سیڑھیوں سے اترتا ان کے قریب آ کھڑا ہوا۔
جاری ہے۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *