Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj NovelR50730 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode11
No Download Link
634K
18
Rate this Novel
Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode01 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode02 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode03 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode04 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode05 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode06 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode07 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode08 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode09 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode10 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode11 (Watching)Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode12 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode13 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode14 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode15 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode16 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode17 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Last Episode
Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode11
Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode11
“ارے بی بی۔۔۔آپ۔۔۔یااللہ میں کوئی خواب تو نہیں دیکھ رہی۔۔”
شاہدہ نے ایمان کو کچن میں دیکھ کر اپنی آنکھیں زور زور سے رگڑ ڈالیں اور جب یقین ہو گیا تو خوشی سے اسکی طرف بڑھی۔ایمان چائے بنا رہی تھی۔اس نے مسکراتے ہوئے اسکی طرف دیکھا۔
“آپ کب آئیں۔۔۔کیا رات کو آئیں تھیں۔۔کیونکہ شام تک تو میں یہیں تھی۔”
شاہدہ نے اس سے پوچھا۔۔۔اسکے چہرے پر حیرت تھی۔
“رات کو۔۔۔کافی دیر سے۔۔۔تم اپنے کوارٹر میں تھی۔۔صرف میں ہی نہیں باقی گھر والے بھی آئے ہیں۔”
چائے تیار تھی۔۔اس نے اپنے لئے چائے کپ میں ڈالتے ہوئے کہا۔
“اوہ جی۔۔۔بہت اچھا کیا کہ آپ آ گئیں۔۔قسم سے آپ کے جانے سے یہ گھر تو بالکل سُونا سُونا ہو گیا تھا۔صاحب بھی صبح آفس جاتے تو پھر رات گئے لوٹتے ہیں۔گھر میں بالکل خاموشی رہتی ہے۔میں بھی کام ختم کرنے کے بعد اپنے کوارٹر میں چلی جاتی ہوں۔۔اب آپ آ گئیں ہیں تو اس گھر کی رونقیں پھر سے بحال ہو جائیں گی۔۔”
شاہدہ کی آنکھوں میں اسے دیکھ کر جو خوشی کی چمک دِکھی تھی وہ دیکھ کر اسکے مسکراتے لبوں پہ سنجیدگی چھا گئی۔وہ یہ چمک کسی اور کی آنکھوں میں دیکھنے کی خواہش دل میں پال رہی تھی مگر اسے سوائے سرد مہری کے کچھ نہیں ملا تھا۔
“بی بی۔۔اور کون کون آیا ہے ہے۔۔کیا شاہ گل بھی آئیں ہیں آپ کے ساتھ؟”
شاہدہ نے پوچھا۔
“نہیں شاہ گل تو نہیں آئیں۔۔بچیوں نے سب نے مری جانے کا پلان بنایا تھا۔ہم سب مری گئے تھے دو دن کے لئے۔۔کل واپسی تھی مگر راستے میں فائقہ کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی۔اسی لئے ہم اسے یہاں لے آئے۔۔”
ایمان وہیں ٹیبل کے قریب کرسی نکال کر بیٹھ گئی۔
“اچھا۔۔اب کیسی ہیں فائقہ بی بی۔۔۔؟؟”
شاہدہ نے ناشتے کی تیاری شروع کرتے ہوئے پوچھا۔
“ہاں۔۔۔اب بہتر ہے۔”
وہ مختصراً جواب دیتی چائے پینے لگی۔
“تمھارے بچے ٹھیک ہیں؟”
ایمان نے اس سے پوچھا۔
“ہاں جی۔۔۔شکر ہے اللہ کا۔۔بالکل ٹھیک ہیں۔ناشتے میں کیا بناؤں؟”
شاہدہ نے فریج سے آٹا نکالتے ہوئے اس سے پوچھا۔
“پراٹھے اور آملیٹ۔۔۔میں مدد کر دوں گی۔۔آٹا کم ہو گا اور گوندھ لو۔”
وہ بولی تو شاہدہ نے سر اثبات میں ہلا اور کام میں مشغول ہو گئی۔۔ساتھ ہی ساتھ زبان کے جوہر بھی دکھا رہی تھی۔
ایمان گھونٹ گھونٹ چائے پیتی اسکی باتوں پہ مسکرا رہی تھی جب غزنوی تیزی سے کچن میں داخل ہوا۔ایمان کو وہاں موجود دیکھکر ایک پل کو اسکی آنکھوں کے آگے رات والا منظر گھوم گیا۔وہ ابھی بھی اسی گلابی لباس میں تھی۔
ایمان فوراً رخ پھیر گئی تھی۔۔
“شاہدہ بی بی۔۔۔میں نے تم سے رات کو کچھ کہا تھا اگر تمھیں یاد ہو تو۔۔۔؟؟”
وہ ایمان کو رخ پھیرتے دیکھ کر شاہدہ کی جانب مڑا۔۔جسکے چہرے پہ اب ہوائیاں اُڑ رہی تھیں۔وہ بھی اپنے صاحب کے غصے سے اچھی طرح واقف تھی۔
“جی بس ابھی کر دیتی ہوں۔۔”
وہ اپنے آٹے سے سَنے ہوئے ہاتھوں کو دیکھتے ہوئے بولی۔
“میں خود کر لوں گا۔”
وہ غصیلی نظروں سے ایمان کی پشت کو گھورتا باہر نکل گیا۔ایمان نے اسکے جاتے ہی سکھ کا سانس لیا تھا۔
“بی بی۔۔۔آپ جا کر شرٹ استری کر دیں نا۔۔اب وہ خود کیسے کریں گے۔۔پہلے بھی دو شرٹس جلا چکے ہیں اور پھر سارا غصہ مجھ پر نکالا تھا بلکہ کام سے فارغ ہی کر دیا تھا۔وہ تو اللہ بھلا کرے کمیل صاحب کا۔۔وہ عین موقع پر آ گئے اور ہماری جان بخشی ہوئی۔ان دنوں صاحب بڑے غصے میں رہتے تھے۔اب کہیں پھر سے نہ جلا دیں شرٹ ورنہ پھر میری شامت آ جائے گی۔”
شاہدہ نے اسے پچھلے ہفتے کا واقعہ بتایا۔
“اچھا ٹھیک ہے۔۔تم ناشتے کی تیاری کرو۔۔۔میں کر دیتی ہوں۔”
وہ چائے ختم کرتے ہوئے بولی۔۔وہ بھی اب سب کے سامنے کوئی دوسرا ہنگامہ کھڑا کرنا نہیں چاہتی تھی۔اس لئے چائے ختم کرتی اٹھ کھڑی ہوئی اور اسے ناشتے کے متعلق چند ہدایات دیتی کچن سے نکل آئی۔
اس کا رخ غزنوی کے روم کی جانب تھا۔۔دوسری جانب وہ اسی انتظار میں تھا کہ کب روم میں داخل ہوتی ہے۔۔لہذا بڑے آرام سے بیڈ پہ بیٹھا اسکا انتظار کر رہا تھا۔تھوڑی دیر بعد اسے دستک کی آواز آئی۔اس نے خود کو لاپرواہ ظاہر کرنے کے لئے بیڈ سے اپنی شرٹ اٹھائی اور الماری کھول کر کھڑا ہو گیا۔
ایمان اجازت ملتے ہی کمرے میں داخل ہوئی۔۔اس نے غزنوی کو الماری میں کچھ تلاش کرتے ہوئے پایا۔
“لائیں دیں۔۔میں کر دیتی ہوں۔۔۔شاہدہ مصروف ہے۔”
وہ قریب آئی اور شرٹ لینے کے لیے ہاتھ بڑھائے۔۔غزنوی مسکراہٹ دباتے ہوئے سیدھا ہوا اور شرٹ اسکی سمت بڑھائی۔۔ایمان کی نگاہیں جھکی ہوئیں تھیں۔۔اس لمحے وہ اسکی سوال کرتی نگاہوں کا سامنا کرنا نہیں چاہتی تھی۔
ایمان شرٹ لے کر آئرن اسٹینڈ کی جانب آ گئی۔شرٹ ٹیبل پہ رکھ کر سوئچ آن کیا اور کچھ لمحے استری گرم ہونے کا انتظار کرنے لگی۔اسی دوران غزنوی بھی اس کے قریب آ کھڑا ہوا تھا۔وہ خود کو لاپرواہ ظاہر کرتی شرٹ آئرن کرنے لگی مگر کب تک وہ اسکی نظروں کی قید کو سہتی۔۔وہ مسلسل اس پہ نظریں جمائے اسے کنفیوز کر رہا تھا۔۔آخر ایمان کی برداشت جواب دے گئی۔
“آپ مجھے ایسے کیوں دیکھ رہے ہیں؟”
ایمان نے شرٹ اسکی طرف بڑھائی جو غزنوی اس سے لینے کی بجائے اسکے مزید قریب آیا۔۔نظریں اب بھی ایمان کے چہرے کو فوکس کیے ہوئے تھیں۔
“کیوں۔۔۔؟؟ آپ کو ایسے دیکھنا منع ہے کیا؟”
وہ سیدھے اسکی آنکھوں میں جھانک رہا تھا۔
“یہ سب کر کے آپ کیا ظاہر کرنا چاہتے ہیں؟”
ایمان نے شرٹ ایک بار پھر اسکی جانب بڑھائی۔
“میں نے کیا کیا ہے؟”
معصومیت کی انتہا تھی۔وہ اسے یوں دیکھ رہا تھا جیسے کوئی نامکمل شخص اپنے کھوئے ہوئے حصے کو دیکھتا ہے۔ایمان گہری سانس خارج کرتی بیڈ کی جانب آئی اور شرٹ بیڈ پہ رکھی اور دروازے کی جانب بڑھی۔
لیکن اسے پہلے کہ وہ دروازہ کھول کر باہر قدم رکھتی۔۔۔غزنوی اسکے آگے آ کر اسکا راستہ روک گیا۔
“تم نے چوڑیاں کیوں نہیں پہنیں۔۔؟؟”
غزنوی نے اسکی کلائی اپنی نرم گرفت میں لیتے ہوئے پوچھا۔۔۔غزنوی سے اتنے غیر متوقع سوال کی اسے قطعی امید نہیں تھی۔وہ آنکھوں میں حیرتوں کا سمندر لئے اسے دیکھ رہی تھی جو اسکی حالت سے پوری طرح حَظ اُٹھاتا اسے دیکھ رہا تھا۔اسی دوران ایک کمزور لمحے نے غزنوی کو اپنی گرفت میں لیا اور اس نے ایمان کے ہاتھ پہ لب رکھ دیئے۔۔ایمان کو لگا جیسے اسکا دل دھڑکنا بھول گیا ہو۔۔اسکا وجود کسی مجسمے کی صورت وہیں تھم گیا تھا۔وہ چاہ کر بھی اپنا ہاتھ کھینچ نہیں پائی تھی۔
“تمھاری کلائیاں چوڑیوں سے سجی اچھی لگتی ہیں۔”
وہ دوبارہ اسکی کلائی پہ جھکا تھا مگر اس سے پہلے کہ غزنوی کے لب اس کے ہاتھ کو چھو پاتے، ایمان نے جھٹکے سے اپنا ہاتھ کھینچا۔
“راستہ دیں۔۔”
وہ سرد لہجے میں بولی۔
“ایک شرط پہ۔۔۔۔”
غزنوی نے اسکی آنکھوں میں جھانکا۔
“شرط۔۔۔۔؟؟ کیسی شرط۔۔؟؟”
ایمان نے پوچھا۔
“اس شرط پہ کہ تم یہاں سے نہیں جاؤ گی۔۔۔یہیں رہو گی میرے پاس۔۔”
غزنوی اپنی شرط بیان کرتا۔۔۔اسکی آنکھوں میں جھانکتا، چہرہ اسکے چہرے کے قریب لایا تھا۔ایمان بے دھیانی میں لگاتار اسی کی طرف دیکھے جا رہی تھی مگر درپردہ وہ اسکی شرط کے پیچھے چھپے معنی تلاش رہی تھی۔
غزنوی مسکرا دیا اور اسکی کھلی آنکھوں میں پُھونک مارتا واش روم کی جانب بڑھ گیا جبکہ وہ پلکیں جھپکاتی وہیں کھڑی رہ گئی۔ ________________________________________
“چلو گرلز۔۔تیاری پکڑو۔۔داجی کا حکم ہے کہ آج کی تشریف لے کر آؤ۔”
وہ سب ناشتے کے بعد گپ شپ میں مگن تھیں جب فروز وہاں آیا۔
“فروز بھائی ابھی کچھ دن اور رک جاتے ہیں نا۔۔”
ملائکہ کا جانے کا بالکل موڈ نہیں تھا۔صرف اسی کا نہیں باقی سب کا بھی فلحال جانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔فروز ڈریسنگ کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے بال برش کرنے لگا۔
“کوئی نہیں۔۔۔تم لوگوں کو تو کوئی کام نہیں۔۔لیکن بابا مجھے بار بار فون کر رہے ہیں کہ کب آ رہے ہو۔میں تو نہیں رک سکتا۔
وہ اب ہاتھوں سے بال سنوار رہا تھا۔
“اچھا ایک دن اور۔۔”
ملائکہ نے کہا۔
“نہیں ملائکہ ہم مزید نہیں رک سکتے۔۔”
سحرش نے اسکے بال سنوارے۔
“مگر آپی۔۔۔”
اب کی بار عنادل نے کہا تھا۔
“شاہ گل نے صبح فون کر کے کہا تھا کہ آج واپس آو۔۔چلو اٹھو۔۔۔تیاری پکڑو۔۔میں زرا مصطفی کو قہوہ دے کر آتی ہوں۔”
پرخہ اٹھتے ہوئے بولی اور کمرے سے نکل گئی۔ایمان بالکل خاموش ان کی باتیں سن رہی تھی۔وہ ابھی تک ان لمحوں کے اثر سے نکل نہیں پائی تھی۔
“ایمان۔۔۔!! کہاں گم ہو۔۔صبح سے دیکھ رہی ہوں۔۔کچھ زیادہ ہی چپ ہو۔۔کوئی پرابلم ہے کیا؟”
سحرش نے خاموش بیٹھی ایمان کو متوجہ کیا۔
“آں۔۔۔ہاں۔۔۔کچھ نہیں۔۔”
وہ کھوئی کھوئی سی بولی تھی۔
“لگتا ہے ایمان کا واپس جانے کو دل نہیں چاہ رہا۔”
فائقہ جو اپنے فون میں بزی تھی، ہنستے ہوئے بولی۔
اس کی بات سن کر باقی سب بھی ہنس دیں۔۔صرف سحرش ہی تھی جو اسکے چہرے کو سنجیدگی سے بغور دیکھ رہی تھی جبکہ ایمان ان سب کے اسطرح ہنسنے پر جھنپ گئی تھی۔
“ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔۔تم لوگ اپنے فضول اور بیکار کے اندازے لگانا بند کرو۔”
وہ یہ کہہ کر وہاں رکی نہیں تھی۔
“لگتا ہے تیر نشانے پر بیٹھا ہے۔”
ارفع نے شرارتی نگاہوں سے سحرش کی طرف دیکھا جو کسی گہری سوچ میں گم تھی مگر اس کی شرارت بھانپ گئی تھی۔
“تمھارا مطلب ہے۔۔۔جلدی جلدی ایک اور پلان بنانا پڑے گا۔”
عنادل نے ہنسی روکتے ہوئے کہا۔
“تو پھر کیا کریں ایسا۔۔۔؟؟”
ارفع کھسک کے ان کے قریب ہوئی۔
“آرام سے بیٹھو تم سب۔۔۔کوئی الٹی سیدھی حرکت نہیں کرنی۔۔میں غزنوی سے بات کرتی ہوں۔۔”
سحرش نے اُن سب کو سر جوڑتے دیکھکر کہا اور فون اٹھا کر کمرے سے باہر نکل گئی۔
“وہ ٹھیک کہہ رہی ہیں۔”
عنادل نے سحرش کے باہر نکلتے ہی کہا۔
“ایمان کا رویہ دیکھا ہے نا۔۔یہ نہ ہو کہ وہ ہم سے بھی ناراض ہو جائے۔سحرش آپی ٹھیک کہہ رہی ہیں۔اگر غزنوی بھائی چاہیں تو ایمان کو روک سکتے ہیں۔وہ بیوی ہے ان کی۔”
فائقہ نے اپنی فلاسفی جھاڑی تو وہ سب بھی اسکی بات سے متفق نظر آئیں۔
“چلو چلنے کی تیار کرو۔۔تم سب نے تو بیگز بھی ایسے کھول کر رکھ دیئے ہیں جیسے کئی دن رہنے کے لئے آئے ہو۔”
لاریب کھڑے ہوتے ہوئے بولی۔۔
اب وہ سب اپنا سامان اپنے سفری بیگز میں رکھ رہی تھیں۔
“تم لوگوں نے تیاری کر لی ہے تو لنچ کے لئے نیچے آ جاؤ۔۔”
وہ سب ابھی ابھی پیکنگ کر کے فارغ ہوئی ہی تھیں کہ ایمان کمرے میں آئی۔۔وہ انہیں لنچ پہ بلانے آئی تھی۔
“آ رہے ہیں۔۔”
عنادل کے کہنے پر وہ پلٹ کر جانے لگی۔
“ایمان۔۔۔!!”
فائقہ کے پکارنے پر وہ رکی اور مڑ کر فائقہ کیطرف دیکھا مگر کہا کچھ نہیں۔
“تم ہم سے ناراض ہو۔۔۔۔آئی ایم سوری اگر تمھیں میری کوئی بات بری لگی ہے تو۔۔”
فائقہ نے قریب آ کر اسکے ہاتھ تھام لئے تھے۔
“نہیں تو۔۔۔بھلا میں کیوں ناراض ہوں گی تم سب سے۔۔”
وہ مسکرائی۔
“ابھی جو تھوڑی دیر پہلے۔۔۔۔ہم نے۔۔۔”
فائقہ خاموش ہوئی۔
“ایسا کچھ بھی نہیں۔۔۔میں بالکل ناراض نہیں ہوں۔۔۔یہ بتاؤ کہ سحرش آپی کہاں ہیں۔۔نیچے لاؤنج میں بھی نہیں تھیں۔”
ایمان نے کمرے میں نظر دوڑائی۔
“وہ ابھی تھوڑی دیر پہلے اپنا فون لے کر نکلی تھیں۔۔شاید گھر بات کرنی تھی انہوں نے۔”
عنادل نے کہا تو وہ واپس پلٹ گئی۔۔
“اچھا ہوا تم نے یہ نہیں بتایا کہ وہ غزنوی بھائی سے بات کرنے گئی ہیں۔”
ملائکہ اس کے پاس آئی۔
“اب میں اتنی بھی پاگل نہیں ہوں۔”
عنادل نے ناک چڑھائی۔
“چلو شکر ہے۔۔تم نے مانا تو سہی کہ تم تھوڑی پاگل ہو۔”
لاریب نے عنادل کے گلے میں بانہیں ڈال کر کہا تو سوائے عنادل کے سبھی ہنس دیں۔
“ہاں شکر ہے تم پر نہیں گئی۔۔ورنہ تو پوری پاگل ہوتی۔”
عنادل نے اپنا بدلہ چُکایا۔
اب ان کی تُو تُو میں میں پھر سے شروع ہو گئی تھی۔ ____________________________________________
“غزنوی تم نے کیا سوچا ہے اس بارے میں؟”
سحرش نے کمرے کا دروازہ اچھے سے لاک کرتے ہوئے پوچھا۔
“کس بارے میں آپی؟”
وہ سحرش کے اس وقت کال کرنے کا مقصد نہیں سمجھ پایا تھا۔وہ بزی تھا مگر اس وقت سحرش کی کال مصروف ہونے کے باوجود اسے لینی پڑی تھی۔کچھ دیر میں اس کی ایک بہت اہم میٹنگ شروع ہونے والی تھی اور ابھی اسے کچھ اہم پوائنٹس دیکھنے تھے۔
“ایمان کے بارے میں۔۔۔اور کس کے بارے میں۔۔تم بھی نا غزنوی۔۔”
وہ اسکی غیر دماغی پہ کھولتے ہوئے بولی۔
“آپی۔۔۔اس وقت مجھے ایک بہت ضروری میٹنگ اٹینڈ کرنی ہے۔۔میں اس بارے میں گھر آ کر بات کروں گا۔”
وہ مصروف انداز میں بولا تو سحرش ایک گہری سانس خارج کرتی رہ گئی۔اسکی یہ لاپرواہی ہی معاملات کو اس نہج پر لے آئی تھی۔
“غزنوی۔۔میں چاہتی ہوں کہ ایمان تمھارے پاس ہی رہ جائے۔۔تم دونوں مل کر ہی اس رشتے کو ٹوٹنے سے بچا سکتے ہو ورنہ تو۔۔۔میں نے یہی بات ڈسکس کرنی تھی۔۔لیکن تم مصروف ہو تو۔۔۔خیر گھر آؤ تو پھر بات کرتے ہیں۔”
وہ فون رکھنے لگی تھی کہ غزنوی کی آواز آئی۔
“کیا سچ آپ چاہتی ہیں کہ وہ رک جائے؟”
غزنوی نے فائل بند کر کے ایک طرف رکھی۔۔۔سحرش مسکرا دی۔
“ہاں بالکل۔۔۔بلکہ ہم نے آؤٹنگ کا پلان بھی تم دونوں کے لئے بنایا تھا۔۔وہاں جانا اور واپسی پر تمھاری طرف آنا۔۔سب پلاننگ تھی۔”
وہ مزے سے اسے بتا رہی تھی اور وہ حیرانگی سے سن رہا تھا۔
“ہم اسے تمھارے پاس لے آئے اب جلدی آ کر سنبھالو، کیونکہ ہم شام سے پہلے روانہ ہوں گے۔۔بس یہی کہنا تھا تم سے۔۔۔اب کرو کام۔۔۔مگر یاد رہے گھر جلدی آنا اگر ایمان کو روکنا چاہتے ہو تو۔۔۔”
سحرش نے اسے ڈھکے چھپے الفاظ میں سمجھا دیا تھا کہ وہ ایمان کو مزید فورس نہیں کر سکتی۔کیونکہ اس نے ایمان کو منانے کی بہت کوشش کی تھی مگر وہ نہیں مان رہی تھی۔
“ویسے آپی۔۔۔کیا ایمان بھی اس پلاننگ میں شامل تھی؟”
غزنوی نے کچھ سوچتے ہوئے پوچھا۔
“ارے نہیں۔۔۔کیا تمھیں لگتا ہے کہ ایسا ہوا ہو گا۔۔وہ تو قطعی تیار نہیں تھی۔۔ہم زبردستی لے کر گئے تھے اور یہاں تو وہ فائقہ کی وجہ سے آ گئی تھی۔۔اور ہاں لڑکوں میں سے بھی کسی کو نہیں پتہ۔۔”
سحرش نے اسے بتانا ضروری سمجھا۔
“جی ٹھیک ہے۔۔۔میں میٹنگ ختم ہوتے ہی آ جاؤں گا۔۔اللہ حافظ۔۔!!”
غزنوی فون رکھ چکا تھا۔۔
سحرش بھی فون اپنے ہینڈ بیگ میں رکھتی کمرے سے باہر آ گئی۔اسکا رخ ڈائننگ روم کی طرف تھا۔دوسری جانب غزنوی یہ سوچ رہا تھا کہ ایمان کو کسطرح واپس جانے سے روکے۔۔وہ چاہتا تو اسے زبردستی روک سکتا تھا مگر اب وہ ایمان کے ساتھ سخت رویہ اپنانے کے حق میں نہیں تھا۔وہ چاہتا تھا کہ وہ رکے مگر اپنی مرضی سے۔۔۔لیکن ایسا ہوتا اسے مشکل ہی لگ رہا تھا۔
_________________________________________
ایمان کچن میں تھی۔شاہدہ بھی وہیں کھڑی برتن دھو رہی تھی۔باقی سب لاؤنج میں بیٹھیں گپ شپ لگا رہی تھیں۔۔اسی دوران ایمان کو لاؤنج سے آتے غیر معمولی شور نے متوجہ کیا۔وہ چولھا بند کرتی لاؤنج میں آئی۔
لاؤنج میں دائیں طرف رکھے ڈبل سیٹر صوفے پر بلقیس بیگم بیٹھی رو رہی تھیں۔انکے ساتھ ہی ان کی بیٹی رقیہ بھی پریشان چہرہ لیے ماں کے ساتھ لگی بیٹھی تھی۔سحرش اور پرخہ انہیں خاموش کرا رہی تھیں۔وہ پریشانی سے ان کی طرف بڑھی۔
“کیا ہو گیا بلقیس خالہ۔۔۔؟؟ خیریت تو ہے نا۔۔؟”
ایمان ان کے قریب آئی اور ایک لمحے کو ان کے ساتھ بیٹھی رقیہ کو دیکھا جس کا چہرہ سپاٹ تھا۔
“ارے میرا بیٹا یہاں نہیں تھا ورنہ اسکی مجال تھی جو وہ مجھے گھر سے نکالتی۔۔ہائے میرے اللہ۔۔!! اب میں اس جوان جہان بچی کو لے کر کہاں جاؤں گی۔”
بلقیس بیگم روتے ہوئے بولیں۔۔
سحرش نے عنادل کو اشارہ کیا کہ وہ رقیہ کو وہاں سے لے جائے۔۔عنادل اور باقی سب رقیہ کو لے کر اوپر کمرے میں چلی گئیں جبکہ لاریب کچن کی جانب بڑھ گئی۔
“کیا مطلب۔۔۔کس نے گھر سے نکال دیا ہے آپکو۔۔؟”
ایمان نے حیرانی سے پوچھا۔
“بہو نے۔۔۔ہائے میرا ٹیپو کیسے رو رہا تھا۔”
وہ اپنا سفید ڈوپٹہ چہرے پہ رکھے مزید تیزی سے رو دیں۔
“خالہ۔۔!! آپ یہ لیں پانی پیئں۔۔اور پرسکون ہو کر مجھے ساری بات بتائیں۔”
ایمان نے لاریب کے ہاتھ سے گلاس لے کر ان کے ہاتھ میں دیا۔بلقیس بیگم نے گلاس منہ کو لگایا اور دھیرے دھیرے پانی پینے لگیں۔۔سحرش اور پرخہ سامنے صوفے پر بیٹھ گئیں جبکہ ایمان ان کے پاس ہی بیٹھی تھی۔پانی پی کر گلاس انہوں نے ایمان کو دیا اور ڈوپٹے سے اپنے آنسو پونچھتے ہوئے ایمان کیطرف دیکھا۔
“بیٹا تمھیں برا تو نہیں لگا کہ میں اپنی بیٹی کو لے کر تمھارے در پر آ گئی ہوں۔۔معاف کرنا بیٹا کچھ سمجھ ہی نہیں آئی۔۔غزنوی اور تمھارا خیال آیا تو یہاں چلی آئی۔۔تمھیں برا تو۔۔۔”
“کیسی باتیں کر رہی ہیں آپ خالہ۔۔۔اسے بھی اپنا گھر سمجھیئے۔”
ایمان نے ان کے آنسو پونچھے جو پھر سے ٹوٹی ہوئی لڑی کی صورت ان کی آنکھوں سے بہہ رہے تھے۔
“شکریہ بیٹا۔۔اللہ تمھیں سدا خوش اور آباد رکھے۔”
انہوں نے تشکر بھری نظروں سے ایمان کو دیکھا۔۔
“آپ بتائیں تو سہی۔۔آخر ایسی کیا بات ہو گئی؟”
ایمان نے پوچھا۔
“بس بیٹا۔۔۔جب مصیبت آتی ہے تو ہر طرف سے گھیرے میں لے لیتی ہے کہ انسان کو کچھ سُجھائی نہیں دیتا۔۔آج رقیہ کو دیکھنے کچھ لوگ آ رہے تھے۔۔اللہ اللہ کر کے تو اتنا اچھا رشتہ ملا تھا۔رقیہ پسند بھی آ گئی تھی۔۔لڑکا سرکاری اسکول میں استاد ہے۔چھوٹا سا خاندان ہے۔۔مگر میری بہو۔۔۔بے شمار برائیاں نکال کر بیٹھ گئی۔اسکی ایک ہی ضد کہ رقیہ کا رشتہ اسکے بھائی سے کر دیا جائے۔۔ہائے۔۔میں کیسے اپنی بیٹی اس آوارہ کے نکاح میں دے دوں۔۔مگر نہیں۔۔۔۔ہر بار کیطرح چپکے سے لڑکے والوں کے گھر فون کر دیا کہ ہمیں رشتہ منظور نہیں۔”
وہ تفصیل بتاتے ہوئے ایک بار پھر رو دیں۔۔ایمان، سحرش اور پرخہ نے نہایت تاسف سے انکی طرف دیکھا۔
“میں نے کچھ دیر پہلے ان کے آنے کے متعلق پوچھا تو انہوں نے جھٹ انکار کر دیا اور کہہ دیا کہ ایسی لڑکی کو ہم کیونکر بیاہ کر لے جائیں جس کا پہلے ہی اپنی بھابھی کے بھائی سے چکر چل رہا ہو۔۔میری معصوم بچی پر اتنا بڑا الزام لگا دیا۔۔بہت منایا۔۔ترلے کیے۔۔مگر۔۔۔۔۔”
ایمان کو انہیں اسطرح روتے دیکھ کر بہت دکھ ہو رہا تھا۔
“مت روئیں خالہ۔۔۔اللہ نے ہماری رقیہ کے لئے اس سے بھی بہتر منتخب کر رکھا ہو گا۔آپ یوں رو رو کر خود کو ہلکان مت کریں۔”
ایمان نے انہیں ساتھ لگایا۔
“لیکن خالہ آپکی بہو نے گھر سے کیوں نکالا آپ کو۔۔۔ایک تو رشتہ ختم کروا دیا اوپر سے گھر سے بھی آپکو نکال دیا۔”
پرخہ نے پوچھا۔
“بس بیٹا کہا تو ہے۔۔جب مصیبت آتی ہے تو ہر طرف سے آتی ہے۔۔۔بس یہ پوچھنا میری جان کو آ گیا کہ کیوں ان سے غلط بیانی کی اور کیوں میری بیٹی کے پیچھے پڑی ہے۔۔۔۔بس پھر کیا، وہ ہنگامہ کیا۔۔وہ ہنگامہ کیا کہ اللہ کی پناہ۔۔۔میری بیٹی پر وہ گھٹیا الزامات لگائے اور ہمیں دھکے مار کر گھر سے نکال دیا۔وہ میرا چھوٹا سا ٹیپو رو رو کر کہتا رہا کہ مما دادو کو مت نکالو گھر سے۔۔۔مگر وہ زہرہ ہی کیا جس پہ کسی کے آنسوؤں کا اثر ہو۔۔۔میرا بچہ کتنا رو رہا تھا۔۔”
وہ پھر سے پوتے کو یاد کر کے رو دیں۔
“خالہ۔۔۔آپکا بیٹا۔۔۔۔؟؟”
ایمان نے پوچھا۔
“وہ بیچارہ کام کے سلسلے میں کچھ دن کے لئے شہر سے باہر گیا ہے۔۔بس یہی موقع مل گیا اسکو اور اپنے دل کی مراد پوری کر لی۔”
بلقیس بیگم نے ایمان کیطرف دیکھا۔
“خالہ آپ پریشان نہ ہوں۔۔اللہ سب بہتر کرے گا۔۔آپ آرام سے بیٹھیں، میں آپکے لئے کچھ کھانے کو منگواتی ہوں۔”
ایمان نے انکے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
“ارے نہیں بیٹا۔۔۔۔بھوک نہیں ہے۔۔مجھے تو اپنی بچی کا غم ہے۔۔میرا کیا ہے آج زندگی ہے کل نہیں۔۔۔کیا بنے گا میری معصوم بچی کا۔۔”
پریشانی ان کے چہرے کا احاطہ کیے ہوئے تھی۔
“خالہ آپ کیوں پریشان ہوتی ہیں۔۔۔آپ یہاں رہیں اور دیکھئیے گا رقیہ کے لئے اس سے بھی اچھا رشتہ مل جائے گا۔۔اپ کیوں فکر کرتی ہیں۔۔اللہ اپنا کرم کرے گا۔۔انشاءاللہ۔۔!!”
ایمان نے انہیں حوصلہ دیا تھا۔
“آمین۔۔۔!! اللہ تمھیں خوش رکھے بیٹا۔۔۔لیکن ہم تم پر بوجھ نہیں بننا چاہتے۔”
بلقیس بیگم شرمندگی سے بولیں۔
“کیسی باتیں کر رہی ہیں آپ خالہ۔۔اب آپ نے دوبارہ ایسا کہا تو میں ناراض ہو جاؤں گی۔”
وہ نروٹھے انداز میں بولی تو انہوں نے محبت سے اسے ساتھ لگایا۔
“آپ بیٹھیں میں کچھ کھانے کو منگواتی ہوں۔”
ایمان نے کہا۔
“ایمان تم بیٹھو خالہ کے پاس۔۔۔میں کہہ دیتی ہوں شاہدہ سے۔۔سحرش تم رقیہ کو بلا لاؤ۔۔وہ بھی کچھ کھا لے۔”
پرخہ فوراً اٹھی اور جاتے جاتے سحرش سے رقیہ کو بلا کر لانے کا کہا۔سحرش اٹھ کر سیڑھیوں کیطرف بڑھ گئی۔
ایمان نے ان کے نہ نہ کرنے کے باوجود اپنی نگرانی میں انہیں کھانا کھلایا اور پھر انہیں آرام کرنے کی غرض سے اوپر والے کمرے میں لے گئی۔
__________________________________
“ایمان تم نے تو انہیں یہاں رکنے کا کہہ دیا ہے مگر وہ یہاں کسطرح رہ سکتی ہیں جبکہ تم بھی یہاں موجود نہیں ہو۔”
وہ بلقیس بیگم کو روم میں چھوڑ کر آئی تو پرخہ نے اس سے کہا۔
“کیا مطلب ہے آپی۔۔۔؟؟”
وہ پرخہ کے اتنے سخت رویے پر حیرانی سے اسے دیکھ رہی تھی۔
“مطلب یہ کہ ان کا اسطرح یہاں غزنوی کے ساتھ رہنا مناسب نہیں۔۔اگر تم یہاں رہتی تو تب بات کچھ اور ہوتی۔۔لیکن تمھاری غیر موجودگی ان کی بیٹی کے لئے مزید مسائل کھڑے کر سکتی ہے۔۔جو عورت رقیہ کو اپنے آوارہ بھائی کے ساتھ جوڑ سکتی ہے وہ کیا کیا نہیں کر سکتی۔۔کل کو اگر اسے پتہ چلے گا کہ وہ یہاں رہتی ہیں وہ بھی تمھاری غیر موجودگی میں تو کیا کیا نہیں کہے گی۔”
پرخہ نے اسے سمجھایا۔
“پرخہ ٹھیک کہہ رہی ہے ایمان۔۔اور اگر بلقیس خالہ کو یہ معلوم ہوا کہ تم یہاں نہیں رہ رہی ہو تو وہ یہاں نہیں رکیں گی۔۔اگر وہ اکیلی ہوتیں تب بات کچھ اور تھی۔۔۔مگر اب جبکہ انکی جوان بیٹی بھی ان کے ساتھ ہے تو۔۔۔یہاں رہنا قطعی مناسب نہیں لگے گا انہیں۔”
سحرش کی باتیں اسے صحیح لگ رہی تھیں۔۔
“ہم انہیں اپنے ساتھ لے جاتے ہیں نا۔۔”
ایمان نے ایک اور حل بتایا۔۔
“مشکل ہے کہ وہ ہمارے ساتھ جائیں۔۔کیونکہ کچھ دن میں ان کا بیٹا واپس آ جائے گا۔۔اور غزنوی کا بھی پتہ نہیں کہ وہ کیا کہتا ہے اس معاملے میں۔۔”
پرخہ نے اسکی طرف دیکھ کر نفی میں سر ہلایا۔
“تو پھر۔۔۔۔۔؟؟”
اس نے پریشانی سے دونوں کی طرف دیکھا۔
“تو پھر یہ کہ تمھیں ان کے پاس رکنا پڑے گا یہاں۔۔۔پھر جب ان کا بیٹا آ کر انہیں لے جائے گا تو تم واپس آ جانا۔”
سحرش نے اپنی طرف سے حل بتایا۔۔جسے سن کر ایمان کے چہرے کا رنگ اڑ گیا جبکہ پرخہ کے لبوں پہ دبی دبی مسکراہٹ کھیل گئی۔
“تم پریشان کیوں ہوتی ہو۔۔۔غزنوی کو آ لینے دو۔۔وہ دیکھ لے گا سب۔۔”
سحرش نے کہا تو ایمان اٹھ کر کچن کیطرف بڑھ گئی۔
“ویسے سحرش۔۔۔لڑکی تو اچھی ہے۔۔ویسے بھی ایمان اور غزنوی کی علیحدگی ہونے والی ہے تو غزنوی کے لئے رقیہ کیسی رہے گی؟”
پرخہ نے جان بوجھ کر بلند آواز میں کہا تاکہ ایمان سن لے۔۔ایمان کے قدم وہیں تھم گئے۔اس نے پلٹ کر دیکھا وہ دونوں اب دھیمی آواز میں ایک دوسرے سے کچھ کہہ رہی تھیں۔ایمان سے ایک قدم بھی مزید نہیں لیا گیا۔۔
اس کے کانوں میں ایک ہی تکرار ہو رہی تھی۔۔
غزنوی اور رقیہ۔۔
اس سے آگے وہ مزید کچھ نہیں سوچنا چاہتی تھی۔پرخہ اور سحرش نے پلٹ کر ایمان کی طرف دیکھا جو تیزی سے سیڑھیاں چڑھتی غزنوی کے روم میں غائب ہو گئی تھی۔
پرخہ نے ہنستے ہوئے سحرش کے سامنے اپنی ہتھیلی پھیلائی جس پہ سحرش نے مسکراتے ہوئے ہاتھ مارا تھا۔۔
اللہ نے انہیں موقع دیا تھا تو وہ اسے کیوں ہاتھ سے جانے دیتیں۔
اب غزنوی کے آنے کی دیر تھی۔۔
___________________________________
غزنوی گھر آیا تو بلقیس بیگم اور رقیہ لاؤنج میں ہی بیٹھی تھیں۔ایمان انہیں آرام کی غرض سے اوپر کمرے میں چھوڑ کر آئی تھی مگر وہ بیس منٹ بعد ہی واپس نیچے آ گئیں تھیں۔ایمان بھی وہیں موجود تھی۔
“السلام علیکم۔۔!!”
غزنوی کی آواز پہ سبھی اسکی طرف متوجہ ہوئے تھے۔۔اس وقت وہاں ایمان، پرخہ اور سحرش ہی موجود تھے۔
“خیریت۔۔۔؟؟”
غزنوی نے بلقیس بیگم کا سرخ چہرہ اور سوجھی ہوئی آنکھیں دیکھیں تو وہ ان کے پاس آیا۔۔مگر اس نے پرخہ سے پوچھا۔۔غزنوی کا پوچھنا تھا کہ بلقیس بیگم کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔
پرخہ نے ساری تفصیل بتائی تو پہلے تو اسے بہت غصہ آیا مگر پھر بلقیس بیگم کا خیال کر کے وہ ان کے پاس آیا اور انہیں تسلی دی۔
“بیٹا۔۔۔اور کچھ سجھائی نہیں دیا تو میں رقیہ کو لے کر یہاں آ گئی۔۔”
بلقیس بیگم نے بہتی آنکھوں سے غزنوی کی جانب دیکھا۔
“خالہ بیٹا بھی کہتی ہیں اور پرایا بھی کر رہی ہیں۔آپکے بیٹے کا گھر ہے اور رقیہ میری بہن ہے۔۔آپ یہیں رہیں میرے پاس۔۔اور پریشان بالکل نہ ہوں۔”
غزنوی نے بلقیس بیگم کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیا۔
“میں ویسے بھی اکیلا ہوتا ہوں۔۔آپ لوگ میرے ساتھ رہیں گے تو یہاں بھی کچھ زندگی کے آثار دکھائی دیں گے۔”
اس نے کنکھیوں سے ایمان کی طرف دیکھا جس نے اس کی بات پر پہلو بدلا تھا۔
“ائے یہ کیسی بات کی۔۔اکیلے کب ہو۔۔ماشاءاللہ اتنی پیاری بیوی ہے تمھاری۔۔”
بلقیس بیگم نے چہرہ صاف کرتے ہوئے ایمان کی جانب دیکھا۔
“کہاں خالہ۔۔۔ان کی ضد ہے کہ رمضان المبارک اعظم ولا میں گزاریں گی اور میں اپنے کام کی وجہ سے نہیں جا سکت۔۔یہ جا رہی ہیں۔۔تو میں اکیلا ہی ہوا نا۔”
وہ مسکراہٹ دباتے ہوئے بولا۔۔سحرش اور پرخہ بھی مسکراہٹ دبائے ہوئے تھیں۔
“ایمان۔۔!! کیا غزنوی ٹھیک کہہ رہا ہے؟”
بلقیس بیگم اب ایمان کی طرف دیکھ رہی تھیں۔وہ کچھ نہ کہہ سکی۔۔بس خاموش رہی۔۔
“ائے لڑکی۔۔یہ کیا بات ہوئی بھلا۔۔شوہر کو یہاں ملازموں کے سہارے چھوڑ کر جا رہی ہو۔”
وہ ایک دم سے بولیں تو ایمان ان کی بات پر پہلو بدل کر رہ گئی۔
“خالہ۔۔وہ شاہ گل چاہتی تھیں کہ ہم رمضان ان کے پاس گزاریں۔۔اس لئے۔۔۔”
اس نے بات کرتے ہوئے غزنوی کی جانب غصیلی نظروں سے دیکھا۔جو مسکراتے ہوئے اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔
“ائے اگر ایسی بات ہے تو پھر بھی شوہر کو یوں اکیلے چھوڑ کر جانا مناسب نہیں۔۔”
بلقیس بیگم نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا۔
“جی وہ شاہ گل نے۔۔۔”
ایمان منمنائی۔
“دیکھو بیٹا۔۔اب تم جا رہی ہو تو ہمارا یہاں رکنا مناسب نہیں لگتا۔۔بھئی اب مالکن ہی گھر میں نہیں ہو گی تو ہم یہاں کیسے رہیں گے۔۔تم خود ہی سوچو کیا یہ مناسب ہے۔۔؟”
بلقیس بیگم کے چہرے پہ پریشانی ایک بار پھر جگہ بنا چکی تھی۔
“خالہ آپ یہاں رہیں۔۔غزنوی نے کہا تو ہے آپ سے۔”
ایمان ان کی پریشانی سمجھ رہی تھی۔
“لیکن تمھاری بات اور ہے بیٹا۔۔۔تم گھر کی مالکن ہو۔۔وہ تو سارا دن باہر ہو گا۔۔سچی بات ہے بیٹا۔۔!! میں تو تمھاری غیر موجودگی میں یہاں نہیں رہ سکتی۔”
وہ اٹھ کھڑی ہوئیں۔
“خالہ آپ سمجھ کیوں نہیں رہیں۔۔میں اور غزنوی اب۔۔۔”
“خالہ آپ یہاں رہیں۔۔ایمان نہیں جائے گی۔۔کچھ وقت بعد غزنوی کے ساتھ ہی آ جائے گی۔”
اس سے پہلے کہ ایمان اپنی بیوقوفی میں اپنے اور غزنوی کے رشتے کی پول کھولتی۔۔پرخہ جلدی سے بولی۔ایمان نے اسکی طرف دیکھا تو پرخہ نے آنکھوں کے اشارے سے اسے منع کیا۔وہ خاموش رہ گئی۔
“ہاں یہ بات ٹھیک ہے نا۔۔۔”
بلقیس بیگم نے یہ کہہ کر اپنے ساتھ بیٹھی رقیہ کو دیکھا۔جو اس وقت سے ایک لفظ بھی نہیں بولی تھی۔
“رقیہ بیٹا۔۔۔”
انہوں نے اسے اپنے سینے سے لگایا تو وہ اپنے آنسووں پہ قابو نہ رکھ سکی اور ان کے سینے سے لگ کر رو دی۔
سحرش اور پرخہ اسے ان سے الگ کیا اور اسے حوصلہ دینے لگیں جبکہ ایمان انہیں غیر دماغی سے دیکھ رہی تھی۔اس کا ذہن کچھ اور ہی تانے بانے بُننے میں لگا ہوا تھا۔اب جب کہ سب ختم ہونے جا رہا تھا تو اسے یہاں رہنا بالکل مناسب نہیں لگ رہا تھا۔اوپر سے غزنوی کا رویہ۔۔۔۔اس کی سوچ سے بالاتر تھا۔وہ اسے بالکل سمجھ نہیں پا رہی تھی۔وہ یہاں آ کر بری طرح پھنس گئی تھی۔اس نے اس سلسلے میں عقیلہ بیگم سے بات کرنا مناسب سمجھا۔اب وہی اسے بہتر مشورہ دے سکتی ہیں۔
اس لئے اس نے لاونج خالی ہوتے ہی اعظم ولا کال کی۔۔فون شمائلہ بیگم نے اٹھایا تھا۔ان سے حال احوال دریافت کرنے کے بعد اس نے ان سے عقیلہ بیگم سے بات کروانے کا کہا۔
عقیلہ بیگم کی آواز جیسے ہی اسکے کانوں میں پڑی تو اپنی بےبسی پہ اسے رونا آ گیا۔وہ اسے یوں روتے دیکھ کر پریشان ہو گئیں۔ان کے پوچھنے پر اس نے روتے روتے انہیں ساری بات بتائی۔
“یہ تو واقعی بہت دکھ کی بات ہے۔۔کسقدر بدتمیز عورت ہے ان کی بہو کہ اپنے شوہر کی بوڑھی ماں اور جوان جہان بہن کا بھی خیال نہیں کیا۔۔”
وہ بہت افسوس سے بولیں۔
“جی۔۔۔”
وہ اتنا ہی کہہ سکی۔۔۔
“تم نے بہت اچھا کیا جو انہیں وہیں روک لیا۔۔ورنہ وہ بیچاری کہاں کہاں دھکے کھاتی پھرتیں۔”
“جی شاہ گل۔۔۔لیکن آپ میرا مسئلہ بھی تو دیکھیں نا۔۔۔”
ایمان نے اپنی پریشانی کی جانب ان کی توجہ دلائی۔
“بیٹا یہ بات تو بالکل ٹھیک ہے کہ تمھاری غیر موجودگی میں ان کا وہاں رہنا مناسب نہیں۔۔آجکل لوگ خون کے رشتوں کی پرواہ نہیں کرتے تو پھر منہ بولے رشتے تو کسی کھاتے میں نہیں ہیں۔۔تم وہاں رہو جب تک بلقیس بہن وہاں ہیں۔۔جب وہ چلی جائیں تو فون کر دینا۔۔یہاں سے کوئی بھی آ جائے گا تمھیں لینے۔”
عقیلہ بیگم اسے سمجھانے کی غرض سے بولیں۔
“مگر شاہ گل۔۔میں یہاں نہیں رک سکتی۔۔یہ مناسب نہیں ہے۔”
ایمان نے اپنی بات پہ زور دیتے ہوئے کہا۔
“تم ٹھیک کہہ رہی ہو۔۔۔لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ رشتہ ابھی بھی قائم ہے اور سب سے بڑی بات غزنوی ایسا نہیں چاہتا۔۔وہ ایک اور موقع دینا چاہتا ہے اس رشتے کو اور تمھیں اسکا ساتھ دینا چاہئیے۔ٹھیک ہے ہم نے اپنی جلد بازی میں یہ فیصلہ کیا لیکن وہ بھی اس وقت کے حساب سے تھا۔۔تب ہمیں یہ نہیں معلوم تھا کہ غزنوی کیا چاہتا ہے۔”
وہ بہت نرمی سے بولیں۔۔اپنے لہجے سے انہوں نے اس پہ یہ ظاہر کر دیا تھا کہ وہ بھی ان دونوں کو ساتھ دیکھنا چاہتی ہیں۔
“مگر۔۔۔”
ایمان شش و پنج میں مبتلا تھی۔
“اگر مگر کچھ نہیں۔۔اور ویسے بھی ایک ہفتے کی تو بات ہے۔۔بلقیس بہن اپنے گھر چلی جائیں گی۔۔تمھیں اگر تب بھی لگے کہ اب آگے مزید ساتھ نہیں چل سکتا تو آ جانا واپس۔۔چلو اب میں چلتی ہوں عصر کا وقت ہو رہا ہے اور تم پریشان مت ہو۔۔اللہ حافظ۔۔”
انہوں نے اپنی بات کہہ کر فون بند کر دیا۔
“کیا کہا پھر شاہ گل نے۔۔؟”
وہ فون ہاتھ میں پکڑے سوچ میں گم تھی کہ پیچھے سے پرخہ کی آواز پہ پلٹ کر دیکھا۔
“وہ چاہتی ہیں کہ جب تک بلقیس خالہ یہیں ہیں میں یہیں رہوں۔۔”
ایمان نے ریسیور کریڈل پہ رکھ کر اسکی طرف دیکھا۔
“وہ ٹھیک کہہ رہی ہیں ایمان۔۔جب وہ چلی جائیں تو فون کر دینا۔۔میں مصطفیٰ کو بھیج دوں گی تمھیں لینے۔۔اور پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔۔نا ہی غزنوی سے ڈرنے کی وہ کچھ نہیں کرے گا جب تک بلقیس خالہ یہاں موجود ہیں اور پھر ان کے جانے کے بعد تو ویسے بھی تم نے یہاں رہنا نہیں ہے۔۔اس لئے ریلیکس رہو اور سب اللہ پر چھوڑ دو۔۔وہ بہتر فیصلہ کرے گا تمھارے لئے۔۔اور پھر ہم سب تو ہیں ہی تمھارے ساتھ۔۔”
پرخہ نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا تو اس نے اثبات میں سر ہلایا۔
“چلو اب تم پریشانی کو ایک طرف رکھو اور میرے لئے ایک کپ اسٹرانگ سی چائے بناؤ۔۔میں زرا ان سب کو دیکھوں۔۔مصطفی کہہ رہے تھے کہ تھوڑی دیر میں نکلنا ہے۔”
پرخہ نے اس کے گال تھپتھپاتے ہوئے کہا۔
“اپی۔۔۔آپ لوگ ایک دو دن اور رک جائیں نا۔۔”
ایمان نے ان سے مزید رک جانے کو کہا۔
“مصطفیٰ کے آفس کا مسئلہ نہ ہوتا تو میں ضرور رک جاتی۔۔۔”
پرخہ نے سہولت سے انکار کر دیا اور تیزی سے سیڑھیاں چڑھ گئی.
ناچاہتے ہوئے اب اسے رکنا تھا۔۔
عصر کے بعد ان کی روانگی تھی۔غزنوی کو جب معلوم پڑا کہ ایمان نہیں جا رہی ہے تو وہ بہت خوش تھا مگر اس نے یہ خوشی کسی پہ ظاہر نہیں ہونے دی۔ایمان سے اس نے کوئی بات نہیں کی تھی۔
وہ سب اس وقت لاونج میں بیٹھے تھے کہ فروز نے انہیں چلنے کے لئے کہا۔سامان وغیرہ گاڑی میں رکھا جا چکا تھا۔
سب اس سے باری باری مل رہی تھیں۔۔
“اپنا خیال رکھنا۔”
پرخہ اس کے گلے لگتے ہوئے بولی۔
“جی۔۔”
وہ بہت سنجیدہ دکھائی دے رہی تھی۔پرخہ نے ایک گہری سانس خارج کی اور گاڑی میں آ بیٹھی۔بلقیس بیگم اور رقیہ بھی وہیں موجود تھیں۔
“چلو یار۔۔پہنچتے ہی فون کر دینا۔”
غزنوی مصطفی سے گلے ملتے ہوئے بولا۔
“ہاں ضرور۔۔۔چلو اللہ حافظ۔۔!!”
باقی سب تو گاڑی میں بیٹھ چکے تھے۔اس کے بیٹھتے ہی ڈرائیور نے گاڑی اسٹارٹ کی۔اسی دوران گل خان گیٹ کھول چکا تھا۔گاڑی دھیمی رفتار سے گیٹ پار کر گئی۔
گل خان نے ان کے نکلتے ہی گیٹ بند کیا۔بلقیس بیگم نے ایمان اور رقیہ کے ساتھ اندر کی جانب قدم بڑھا دیئے۔
غزنوی اسٹڈی میں چلا گیا تھا اور ایمان وہیں لاونج میں رقیہ سے اسکی ہابیز کے متعلق پوچھنے لگی۔کچھ دیر میں مغرب کا وقت ہو گیا تو وہ نماز کے لئے اٹھ گئیں۔
رات کو جب وہ کمرے میں داخل ہوئی تو بارہ بج رہے تھے۔۔نائٹ بلب کی مدھم روشنی میں اسے کچھ بھی واضح دکھائی نہیں دے رہا تھا۔کچھ لمحے وہیں کھڑی رہی پھر جب آنکھیں نیم تاریکی سے مانوس ہوئیں تو اس نے بیڈ کی جانب قدم بڑھائے۔۔غزنوی بےخبر سو رہا تھا۔وہ بھی دھیرے دھیرے چلتی قریب آئی۔۔اس نے جھک کر غزنوی کی بند آنکھوں کے آگے ہاتھ لہرا کر اسکے گہری نیند میں ہونے کا یقین کیا اور پھر بیڈ کے دوسری جانب آ کر خاموشی سے لیٹ گئی۔
کچھ دیر بعد تھکاوٹ کے باعث اسکی آنکھیں بند ہونے لگیں مگر وہ سونا نہیں چاہتی تھی۔۔لیکن خود کو زبردستی جگائے رکھنے کی اسکی کوشش ناکامیاب رہی اور اگلے چند لمحوں میں نیند اسکا گھیراؤ کر چکی تھی۔
_______________________________________
رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ شروع ہو چکا تھا۔غزنوی نے بلقیس بیگم کے بیٹے سے ان کی بات کروا دی تھی۔ان کا بیٹا بھی حقیقت جان کر بہت غصے میں تھا۔اس نے غزنوی کا بہت شکریہ ادا کیا جس نے اسکی ماں اور بہن کو اپنے گھر میں پناہ دی ورنہ یہ سوچ کر ہی اسکا دل کانپ گیا کہ اسکی ماں اور بہن کہاں جاتیں۔۔اس نے انہیں بتایا کہ وہ اگلے ہفتے آ جائے گا۔۔
بلقیس بیگم واپس گھر نہیں گئیں تھیں ورنہ اپنے پوتے کو ایک نظر دیکھنے کے لئے ان کی آنکھیں ترس گئی تھیں۔ایک پل کو تو پوتے کی محبت ہر شے پر حاوی ہو گئی تھی اور وہ اس سے ملنے اٹھ کھڑی ہوئیں لیکن رقیہ نے انہیں روک دیا۔
ایمان نے بھی انہیں کچھ دن اور صبر کرنے کو کہا۔
ایمان ان دونوں کا بہت خیال رکھتی تھی لیکن اپنی سچویشن پہ کُڑھنے لگی تھی۔غزنوی سے اس نے بالکل بات چیت بند کر رکھی تھی مگر وہ بھی اپنے نام کا ایک تھا،وہ جہاں ہوتی وہاں آن موجود ہوتا۔اس سے بات کرنے کی کوشش کرتا تھا مگر وہ موقع نہ دیتی۔جب وہ آفس میں ہوتا تو آرام سے رہتی لیکن جیسے ہی وہ گھر آتا بلقیس بیگم یا پھر رقیہ کے ساتھ ساتھ رہتی تھی۔اسے خود سے دور رکھنے کے اسی طریقے پر وہ سختی سے کاربند تھی۔
بلقیس بیگم جہاندیدہ خاتون تھی۔اس کا رویہ ان کی نظر سے پوشیدہ نہ رہ سکا تھا۔یہ شک انہیں ایک بار پہلے بھی ہوا تھا مگر تب خیرن نے ان کا وہم ہے کہہ کر ٹال دیا تھا۔مگر اب تو وہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی تھیں کہ غزنوی جب گھر پہ ہوتا ہے تو کسطرح ایمان کے پیچھے پیچھے رہتا ہے۔اس سے بات کرنے کی کوشش کرتا ہے مگر وہ اس کی زرا پرواہ نہیں کرتی۔یہ سب دیکھتے ہوئے انہوں نے ایمان سے بات کرنے تہیہ کیا اور اگلے دن جب وہ ان کے ساتھ بیٹھی دھنیا صاف کر رہی تھی تو انہوں نے اس سے پوچھ لیا۔
“تمھارے اور غزنوی کے بیچ کیا کوئی ناراضگی چل رہی؟”
ان کے پوچھنے پر ایمان نے ایک دم سے ان کی طرف دیکھا۔موٹے موٹے عدسوں والی عینک کے پیچھے سے دو آنکھیں اسے اپنا بھرپور جائزہ لیتی محسوس ہوئیں۔
“نن۔۔نن۔۔۔نہیں تو خالہ۔۔۔ایسی تو کوئی بات نہیں۔”
وہ نظریں جھکا کر بولیں کہ کہیں وہ اسکی آنکھوں میں ٹوٹے خوابوں کی چُبھن کو نہ پا لیں۔
“اے بہو۔۔!! یہ بال ہم نے دھوپ میں سفید نہیں کیے۔۔وہ جسطرح تیرے آگے پیچھے پھرتا ہے۔۔تجھ سے بات کرنے کے مواقع ڈھونڈتا ہے۔۔یہ تو کسی اندھے کو بھی دِکھ جائے، میں تو پھر آنکھیں رکھتی ہوں۔”
بلقیس بیگم اسکے نگاہیں چرانے پر ہنس کر بولیں۔
اسے سمجھ نہ آئی کہ کیا کہے۔۔۔اس لئے خاموش رہی۔
“ایک بہو میری بھی ہے۔۔تم سے قطعی مختلف۔۔اسے ہر وقت یہ غم لگا رہتا ہے کہ اسکا شوہر اسے توجہ نہیں دیتا۔۔۔پر تمھارے ہاں تو معاملہ ہی الٹ ہے۔۔شوہر بیچارہ بات کرنے کو آگے پیچھے پھرتا ہے اور بیوی کے مزاج ہی نہیں ملتے۔۔ہا۔۔۔ہا۔۔۔ایک ہمارا زمانہ تھا۔بیوی شوہر کی خدمت گزاری میں کوئی کسر نہیں چھوڑتی تھی۔اس کی ہاں میں ہاں ملاتی تھیں۔۔وہ کہتا تھا کہ دن ہے تو دن کہتیں۔اب تو آوے کا آوا ہی بگڑا ہے۔”
وہ دھنیے کی نازک ٹہنی ہاتھ میں لیے آنکھوں کو کسی غیر مرئی نقطے پر مرکوز کیے بولیں۔
“ایسی بات نہیں ہے خالہ۔۔”
وہ ان کے صحیح اندازوں پہ اپنی حیرت چھپاتے ہوئے بولی۔
“بیٹا شوہر کا وجود بیوی کے ہاتھ میں برف کی طرح ہوتا ہے، جو رویوں کی گرمائش سے پگھلنے لگتا ہے۔محبت و اعتبار کی ٹھنڈک ہی اسے قائم رکھتی ہے۔۔قیمتی رشتے وقت کی بھیڑ میں کھو جائیں تو انسان اکیلا ہو جاتا ہے۔۔اپنی جگہ پہچانو۔۔۔”
بلقیس بیگم کی بات پہ اس نے پل بھر کو نظر اٹھا کر اسے دیکھا تو وہ سر ہلا کر مسکرا دیں جبکہ وہ ٹوکری اٹھا کر کچن میں چلی گئی۔
بلقیس بیگم اسے جاتا دیکھتی رہیں۔
___________________________________
“آپ انسانوں کی طرح کب بی ہیو کریں گے؟”
ایمان جو بلقیس بیگم کی باتوں کے باعث کب سے جلی بھنی بیٹھی تھی، غزنوی کو یوں اپنے پیچھے آتا دیکھ کر بولی۔
“کیا مطلب۔۔؟؟ میں نے ایسی کون سی حرکت کر دی جس سے تمھیں میرے انسان نہ ہونے پر گماں ہونے لگا ہے۔”
غزنوی نے فریج میں سے پانی کی بوتل نکال کر منہ سے لگائی۔
“اب اس وقت تو میرا پیچھا چھوڑ دیں۔”
ایمان نے اپنی آواز ممکن حد تک کم رکھنے کی کوشش کی۔
“تمھارے پیچھے نہ آوں تو پھر کس کے پیچھے آوں؟”
غزنوی نے پانی پیتے ہوئے شرارتی انداز میں اسے دیکھا۔ایمان نے اسے ایک گُھوری سے نوازا۔
“ویسے ایک حل ہے میرے پاس۔۔۔اگر تم چاہتی ہو کہ میں تمھارے پیچھے پیچھے نہ پھروں تو۔۔۔”
غزنوی گلاس ٹیبل پہ رکھتا اس کے پاس آیا۔
“کیا۔۔؟؟”
وہ جل کر بولی۔
“وہ یہ کہ تم میرے پیچھے بھاگنا شروع کر دو۔”
اس نے غیر سنجیدگی سے کہا۔
“شرم تو نہیں آتی ایسی بات کرتے ہوئے۔”
وہ گلاس ٹیبل سے اٹھا کر اپنی جگہ پہ رکھتی وہاں سے جانے لگی۔
“شرم تو لڑکیوں کو آنی چاہیئے۔۔۔مجھ سے کیا کام شرم کا۔”
وہ ہنس کر بولا تو وہ پیر پٹختی وہاں سے چلی گئی۔
“ارے بیگم۔۔۔رکو تو سہی۔۔۔رمضان میں کوئی نیکی کا کام ہی کر لو۔۔”
وہ پیچھے آیا تھا۔
“آہستہ بولیں۔۔”
ایمان نے غصے سے کہا مگر آواز دھیمی رکھی۔اب وہ بلقیس بیگم کو مزید کوئی موقع نہیں دینا چاہتی تھی اسے لیکچر دینے کا۔
“کیوں۔۔۔۔؟؟”
وہ دھیمے سے بولا۔
ایمان صرف اسے دیکھ کر رہ گئی۔۔آنکھوں میں غصہ بھرا تھا۔غزنوی اس کی جانب جھکا اور اسکی آنکھوں پہ پھونک مارتا تیزی سے سیڑھیاں چڑھ گیا۔
“آو نا۔۔۔یا میں لینے آوں۔۔؟”
اسے وہیں کھڑا دیکھ کر وہ مسکراہٹ دباتے ہوئے واپس آیا جبکہ وہ اسے دیکھتی رہی۔
“کیا اب آنکھوں سے سالم نگلو گی مجھے؟”
وہ شرارت سے باز نہ آیا۔آج کل اس نے ایمان کے ساتھ یہی رویہ اپنا رکھا تھا۔گھر میں ہوتا تو اسکی ناک میں دم کیے رہتا۔یہی وجہ تھی کہ ایمان اب اس سے کھل کر بات کر لیتی۔۔چاہے اس کی حرکتوں پہ چڑ کر ہی کرتی۔۔مگر کرتی ضرور تھی۔چپ چاپ وہاں سے نکلتی نہیں تھی۔
“ہونہہ۔۔۔!! مجھے کوئی شوق نہیں ہے۔”
وہ آگے بڑھ گئی۔۔
“تو کون یہ کام صرف شوق سے کرتا ہے۔۔کچھ لوگ مجبوراً بھی کرتے ہیں۔۔جیسے تم مجبوراً کرتی ہو اور۔۔۔۔”
وہ پل بھر کو رکا اور اس کے آگے آ کر اسکا راستہ روک دیا۔
“اور میں بہت شوق سے۔۔”
اس نے ایمان کی بھوری آنکھوں میں جھانکا۔غزنوی کی آنکھوں میں نجانے ایسا کیا تھا۔وہ جھنپ گئی اور اس کے سائیڈ سے ہوتی آگے بڑھ گئی۔۔
غزنوی کے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
____________________________________
وہ کچن میں افطاری کی تیاری میں مصروف تھی۔شاہدہ اپنے کوارٹر چلی گئی تھی۔رقیہ اس کے ساتھ ہی موجود اسکی مدد کروا رہی تھی۔غزنوی ابھی تک آفس سے نہیں لوٹا تھا۔اس نے فون کر کے بتا دیا تھا کہ آج اسے دیر ہو جائے گی۔اس لئے وہ پرسکون ہو کر کام کر رہی تھی ورنہ اس وقت تو اس کے سر پہ سوار اپنی اوٹ پٹانگ باتوں سے اسکا دماغ کھا رہا ہوتا تھا۔افطاری میں کچھ ہی ٹائم تھا۔اس لئے وہ جلدی جلدی کام نبٹا رہی تھی۔
“بھابھی آج غزنوی بھائی نہیں ہیں تو کتنی خاموشی ہے گھر میں۔۔”
رقیہ پکوڑوں کی پلیٹ اٹھا کر ٹیبل پہ رکھتے ہوئے بولی۔
“شکر ہے۔۔آج سکون ہے تھوڑا۔”
وہ مسکراتے ہوئے ٹشو سے ہاتھ پونچتی بولی۔۔اسی دوران لاونج سے غزنوی کی آواز آئی۔
“لو۔۔۔!! شیطان کا نام لیا اور شیطان حاضر۔۔”
ایمان نے کہا تو رقیہ ہنس دیں۔
“ہائے بھابھی کیسی باتیں کر رہی ہیں۔۔شیطان کہاں۔۔اتنے اچھے تو ہیں غزنوی بھائی۔۔آپ تو بہت خوش نصیب ہیں کہ آپ کو غزنوی بھائی جیسا خیال رکھنے والا ساتھی ملا ہے۔۔”
رقیہ نے اسکی طرف دیکھا۔
“ہاں۔۔۔بہت خوش نصیب ہوں۔۔چلو اب یہ برتن بھی رکھ دو۔۔ٹائم ہونے ہی والا ہے۔”
ایمان نے نل کھول کر ہاتھ دھوتے ہوئے کہا۔
“جی۔۔۔”
رقیہ برتن اٹھا کر ٹیبل پہ لے گئی جبکہ ایمان کچن سے نکل آئی۔وہ لاونج میں آئی تو غزنوی کے ساتھ کمیل بھی موجود تھا۔ایمان کو آتا دیکھ کر وہ کھڑا ہوا۔
“السلام علیکم بھابھی۔۔۔! کیسی ہیں آپ۔۔؟”
کمیل نے سلام کیا۔۔غزنوی جو بلقیس بیگم کے ساتھ باتوں مین مگن تھا اب اسکی طرف دیکھ رہا تھا۔
سبز رنگ کے پرنٹڈ سوٹ میں ملبوس، سرخ چہرہ لئے وہ کمیل کو سلام کا جواب دینے کے بعد اب اس سے حال احوال پوچھ رہی تھی۔
“ایمان۔۔!! آج کمیل ہمارے ساتھ افطاری کرے گا۔”
غزنوی نے اسے اپنی طرف متوجہ کرنے کے لئے کہا۔
“جی۔۔”
وہ اسکی طرف دیکھے بغیر کہتی پلٹ گئی۔تھوڑی دیر بعد وہ سبھی افطاری کی ٹیبل پہ موجود تھے۔
“ارے خالہ میں تو آپکو بتانا بھول گیا۔۔احمد نے فون کیا تھا۔وہ آپ سے بات کرنا چاہ رہا تھا۔میں نے اس سے کہا کہ وہ گھر جا کر بات کروا دوں گا۔آپ فارغ ہو جائیں تو پھر میں بات کروا دوں گا آپکی۔”
غزنوی نے بلقیس بیگم کو ان کے بیٹے کی فون کال کے بارے میں بتایا۔
“اچھا بیٹا۔۔۔”
بلقیس بیگم مختصراً کہتی دعا میں مشغول ہو گئیں۔وہ سب بھی دعا کرنے لگے۔
_______________________________________
“آپ یہاں اکیلی کیوں بیٹھی ہیں۔”
وہ اپنی گاڑی کیطرف بڑھ رہا تھا کہ لان میں بیٹھی رقیہ کو دیکھکر وہ اس کے پاس آیا۔وہ جو ریلیکس انداز میں بیٹھی تھی فورا سیدھی ہوئی۔رقیہ کی آنکھیں ناپسندیدگی کا واضح اظہار کر رہی تھیں۔وہ شرمندہ سا ہو گیا۔
“معاف کیجیئے گا۔۔آپ کو شاید میرا یوں آپ کی تنہائی میں مُخل ہونا پسند نہیں آیا۔”
کمیل شرمندگی سے گویا ہوا۔
“شاید نہیں یقینا۔۔”
رقیہ نے بناء اسکی طرف دیکھے کہا۔کمیل نے بغور اسکی طرف دیکھا۔۔تیکھی ناک پہ دھرا غصہ، آنکھوں میں ناپسندیدگی اور سختی سے بھینچے ہوئے لب۔۔۔کمیل کو کچھ تو اس لڑکی میں غیر معمولی سا لگا۔
وہ چونکہ اسکی طرف دیکھنے سے گریز برت رہی تھی اس لئے وہ بھرپور فائدہ اٹھا رہا تھا۔چائے سرو کرتی وہ گہری سیاہ آنکھوں والی لڑکی اسکی توجہ کا مرکز تھی۔۔
اسے لگا جیسے اس نے اسے پہلے بھی کہیں دیکھا ہے۔۔لیکن اسے یاد نہیں آ رہا تھا۔
“اب آپ کیا یونہی میرا مطالعہ کرنے میں مصروف رہیں گے کیا؟”
اس کی طنز بھری آواز کمیل کو ہوش میں لے آئی۔مطلب وہ اسکی خود پہ مرکوز نظروں سے باخبر تھی۔وہ مسکرا دیا۔
“آپ مجھے بہت دلچسپ لگیں۔”
وہ بالکل اسکے سامنے بیٹھ گیا۔اس کے بیٹھتے ہی وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔
“اللہ حافظ۔۔!!”
وہ اسے بیٹھتا دیکھ کر تیزی سے اٹھی اور ایک پل بھی رکے بغیر تیز تیز قدم اٹھاتی وہاں سے چلی گئی۔
“ہییم۔۔۔۔لڑکی دلچسپ معلوم ہوتی ہے۔”
وہ خود سے کہتا اٹھ کھڑا ہوا اور پھر اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گیا۔اسکے لبوں پہ ٹھہری مسکراہٹ گہری ہوتی جا رہی تھی۔
______________________________________
دن سست روی سے گزر رہے تھے۔عقیلہ بیگم سے اسکی دو تین بار بات ہوئی تھی۔اسی دوران غزنوی نے اسے موبائل فون بھی لے دیا تھا۔اب وہ جس وقت فارغ ہوتا اسے کال کر لیتا یا پھر میسجز کر کر کے اسکی ناک میں دم کیے رکھتا۔تنگ آ کر وہ موبائل کمرے میں ہی چھوڑ دیتی اور جب چیک کرتی تو موبائل میسجز اور مسڈ کالز سے بھرا ملتا۔۔مگر وہ ایک کا بھی جواب نہ دیتی۔کبھی کبھی اسکے اُوٹ پٹانگ میسجز اسکے لبوں پہ ہنسی لے آتے تھے۔وہ حیران تھی کہ وہ اتنا کیسے بدل سکتا ہے یا پھر وہ تھا ہی ایسا۔۔وہ سمجھ نہ پائی تھی۔۔
وہ غصہ ہوتی رہتی مگر وہ چھیڑنے سے باز نہ آتا۔۔
ابھی بھی وہ اسکے بار بار کال کرنے پر اکتائی بیٹھی تھی۔آج اس نے نیا طریقہ ڈھونڈ لیا تھا اسے تنگ کرنے کا۔۔وہ کال کرتا، وہ اٹھاتی تو ہیلو کہہ کر فون بند کر دیتا۔تنگ آ کر وہ موبائل سائلینٹ موڈ پر کرنے ہی والی تھی کہ اسی دوران پھر سے کال آ گئی۔اس نے کال ریسیو کی۔
“آپ کو کیا تکلیف ہے۔۔۔؟؟ آفس میں کوئی کام نہیں ہے آج۔۔کیوں میری جان کھا رہے ہیں؟”
وہ غضبناک انداز میں بولی۔۔۔دوسری جانب غزنوی اپنی ہنسی نہیں روک پا رہا تھا۔
“یار میرا روزہ ہے۔۔کیوں مجھ روزے دار پہ الزام لگا رہی ہو۔”
سنجیدگی سے کہا گیا۔
“افف۔۔۔!! غزنوی اگر آپ مجھے تنگ کرنے سے باز نہ آئے تو میں واپس چلی جاؤں گی۔”
وہ دھمکی دیتے ہوئے بولی۔
“تم جا کر تو دکھاؤ۔۔۔۔میں تو باز نہیں آنے والا۔”
ڈھٹائی کی حد تھی۔
“بھاڑ میں جائیں آپ۔۔”
وہ غصے سے کہتی کال کاٹ گئی۔۔اگلے ہی پل میسج کی ٹُون بجی۔اس نے میسج کھول کر دیکھا۔
“اچھا۔۔ابھی آتا ہوں۔”
اس کا میسج پڑھ کر وہ مسکرا دی اور موبائل سائیڈ ٹیبل پہ رکھ دیا۔۔۔اسکے بعد خاموشی چھا گئی تھی۔۔۔پھر کچھ سوچ کر اس نے موبائل اٹھا کر اپنا پہلا میسج ٹائپ کیا۔
“وہیں رہیئے۔۔”
ایک نرم سی مسکراہٹ نے اسکے گلابی کو چھوا تھا۔۔اس نے موبائل واپس ٹیبل پہ رکھ دیا۔کچھ لمحے یونہی خاموشی کی نظر ہو گئے۔
ایمان نے موبائل کی جانب دیکھا۔۔وہ انجانے میں اسکے میسج کی منتظر تھی مگر خاموشی کا دورانیہ طویل ہوتا گیا۔
وہ موبائل وہیں چھوڑ کر باہر آ گئی۔۔اس نے ساتھ والے کمرے میں جھانکا۔بلقیس بیگم تلاوت کر رہی تھیں۔وہ آہستگی سے دروازہ بند کرتی نیچے آ گئی۔رقیہ کو ڈھونڈتی وہ کچن میں چلی آئی۔شاہدہ سبزی کاٹنے کے ساتھ ساتھ نجانے کون کون سے قصے رقیہ کی سماعت میں انڈیل رہی تھی اور وہ ایک ہاتھ کان پہ رکھے اسے یوں سن رہی تھی جیسے اس سے ضروری اور کوئی کام نہ ہو۔
“کیا ہو رہا ہے بھئی؟”
اسکی آواز پہ رقیہ نے پلٹ کر اسکی جانب دیکھا اور مسکرا دی جبکہ شاہدہ کی زبان کو تالا لگا اور ہاتھوں میں تیزی آ گئی۔
“بھابھی۔۔!! یہ شاہدہ کتنا بولتی ہے اور وہ بھی نان اسٹاپ۔۔۔”
رقیہ ہنستے ہوئے بولی۔
“ہا باجی۔۔۔۔خود ہی تو کہہ رہی تھیں۔۔۔اور اور۔۔۔۔”
شاہدہ نروٹھے انداز میں بولی تو دونوں ہنس دیں۔
“کوئی بات نہیں شاہدہ۔۔۔یہ بھی تمھیں ایسے سن رہی تھی جیسے یہ ریڈیو پہ خبریں سن رہی ہو۔”
ایمان نے ہنسی روکتے ہوئے کہا۔
“بی بی۔۔۔۔آپ کو پتہ ہے میرا شوہر کیا کہتا ہے۔۔”
شاہدہ نے چھری ایک طرف رکھتے ہوئے کہا۔
“کیا کہتا ہے؟”
ایمان بھی کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گئی۔
“وہ کہتا ہے شاہدہ جب تُو بولتی ہے تو لگتا ہے جیسے ڈھول بج رہا ہو۔”
وہ شرماتے ہوئے بولی۔۔جبکہ وہ دونوں اپنی ہنسی پہ کنٹرول نہ رکھ پائیں۔
“ہا باجی۔۔۔”
شاہدہ بیچاری نروٹھے انداز میں کہتی دونوں کے ہنسنے کی وجہ سوچنے لگی۔
__________________________________
“خالہ دیکھیئے تو کون ملنے آیا ہے آپ سے۔۔؟”
وہ ابھی اپنے کمرے سے لاؤنج میں آ کر بیٹھی ہی تھیں کہ غزنوی کی آواز پہ انہوں نے لاونج کے دروازے کی سمت دیکھا۔وہاں غزنوی کے ساتھ اپنے بیٹے احمد کو کھڑے دیکھ کر وہ فورا اسکی طرف بڑھیں۔
“میرا لال۔۔۔میرا بچہ۔۔۔”
وہ روتے ہوئے احمد سے لپٹ گئیں۔
“ارے اماں۔۔۔۔روتے نہیں ہیں۔۔میں آ گیا ہوں نا۔۔اب سب ٹھیک ہو جائے گا۔”
احمد انہیں ساتھ لپٹائے لپٹائے صوفے تک لے آیا۔رقیہ اور ایمان بھی آواز سن کر باہر آ گئیں تھیں۔رقیہ تو بھائی کو دیکھ کر خوشی سے اسکی طرف بڑھی۔بلقیس بیگم بیٹے کے سینے سے لگیں روئے جا رہی تھیں۔انہیں اسطرح روتے دیکھ کر ایمان کی آنکھیں بھی آبدیدہ ہوگئیں۔احمد نے بلقیس بیگم کے آنسو پونچھے اور انہیں صوفے پہ بٹھایا۔
“السلام و علیکم بھائی۔۔!!”
رقیہ آنکھوں میں آنسو لئے احمد کے قریب آئی۔اس نے اسے ساتھ لگایا۔
“ارے اماں بس بھی کر دیں۔۔۔آپ اسطرح روئیں گی تو میں واپس چلا جاؤں گا۔”
احمد صوفے پہ ان کے قریب بیٹھ گیا۔رقیہ نے اپنے آنسو پونچھے۔
“تجھے نہیں پتہ احمد۔۔۔”
بلقیس بیگم ایک بار پھر بیٹے کے سینے سے لگ گئیں۔
“بس اماں۔۔۔چلیں آپ میرے ساتھ چلیں گھر۔۔”
وہ انہیں خود سے الگ کرتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔بلقیس بیگم اور رقیہ بھی اٹھ گئیں۔
“یار اتنی جلدی بھی کیا ہے۔۔ابھی تو آئے ہو۔”
غزنوی نے قریب آتے ہوئے کہا۔
“نہیں یار۔۔۔تمھارا اور بھابھی کا بہت شکریہ کہ تم لوگوں نے اماں کا اتنا خیال رکھا۔”
احمد نے تشکر بھری نظروں سے ایمان اور غزنوی کو دیکھا۔
“کیس باتیں کرتے ہو یار۔۔خالہ میری ماں کی جگہ پر ہیں اور رقیہ بہن ہے۔۔”
غزنوی نے بلقیس بیگم کیطرف دیکھا تو وہ اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھتیں مسکرا دیں۔
“بہت شکریہ یار۔۔۔میں ہمیشہ تمھارا احسان مند رہوں گا۔”
احمد اس سے بغلگیر ہوا۔
“تم مجھے شرمندہ کر رہے ہو۔”
غزنوی نے اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھا تو وہ مسکرا دیا۔
“چلیں اماں۔۔۔۔”
احمد نے بلقیس بیگم سے کہا تو وہ سر ہلا کر ایمان کے پاس آئیں۔
“اپنا اور غزنوی کا خیال رکھنا۔۔میں آتی رہوں گی تمھارے پاس۔۔۔”
وہ اس سے ملتے ہوئے بولیں۔اس نے سر اثبات میں ہلایا۔۔
“اچھا بچو۔۔۔اللہ حافظ۔۔۔”
بلقیس بیگم نے الوادعی کلمات ادا کرتے ہوئے احمد کی سنگت میں قدم بڑھایا۔غزنوی اور رقیہ دونوں ان کے ساتھ گیٹ تک آئے تھے۔غزنوی ان کے ساتھ باہر چلا گیا جبکہ وہ وہیں سے پلٹ آئی۔
جاری ہے۔۔۔
