Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj NovelR50730 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode03
No Download Link
634K
18
Rate this Novel
Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode01 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode02 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode03 (Watching)Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode04 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode05 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode06 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode07 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode08 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode09 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode10 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode11 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode12 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode13 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode14 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode15 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode16 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode17 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Last Episode
Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode03
Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode03
شادی کی تیاریاں زور شور سے جاری تھیں۔شمائلہ بیگم نے ایمان کو کچھ پیسے دیئے تاکہ وہ باقی لڑکیوں کے ساتھ جاکر اپنی پسند سے شاپنگ کر لے۔تمام لڑکے بھی مری سے واپس آچکے تھے اور ایمان سے مل کر بیک وقت حیران اور خوش ہوئے تھے چونکہ وہ سب یہاں نہیں تھے اس لئے ایمان کے بارے میں انہیں معلوم نہیں تھا اور اب جب انھیں معلوم ہوا تو انھوں نے غزنوی کا خوب ریکارڈ لگایا تھا۔غزنوی بھی جہاں کہیں انہیں اکٹھے دیکھتا وہیں سے واپس ہو لیتا تھا۔خاص طور پر طٰہٰ اور احد تو غزنوی کی جان ہی نہیں چھوڑتے تھے
جہاں کہیں وہ نظر آجاتا اس کے سر پر پہنچ جاتے اور پھر اتنا تنگ کرتے کہ غزنوی کو وہاں سے بھاگنا پڑتا۔غزنوی کی ڈانٹ کا بھی ان پر کوئی اثرنہ ہوتا تھا۔مصطفی اور ہادی کی شادی میں اعظم احمد نے بڑوں کے صلاح مشورے سے غزنوی اور ایمان کے ولیمے کا فنکشن بھی رکھا تھا۔غزنوی نے سنا تو بہت اچھل کود کی مگر یہ سب بڑوں کا متفقہ فیصلہ تھا اس لئے اس کی کسی نے نہیں سنی۔ایمان بھی یہ سن کر گھبراہٹ کا شکار ہو گئی تھی۔ساری لڑکیاں ہر دم اسے گھیرے رکھتی تھیں خاص طور پرخہ اور ملائکہ۔۔انھیں معلوم تھا کہ وہ تھوڑی گھبراہٹ کاشکار ہو رہی ہے۔اسی لئے وہ اسے چھیڑنے سے باز نہیں آتی تھیں۔شمائلہ بیگم نے اسے الگ سے ولیمے کے فنکشن کی شاپنگ کروائی تھی۔غزنوی نے اس دن کے بعد سے اس کے پاس بھی پھٹکنا چھوڑ دیا تھا۔وہ جہاں موجود ہوتی وہ وہاں سے اٹھ کر چلا جاتا۔شمائلہ بیگم اورشاہ گل نے بھی یہ سوچ کر اسے اسکے حال پہ چھوڑ دیا تھا کہ وقت کے ساتھ ساتھ سب ٹھیک ہو جائے گا۔
ان کے لئے یہی بہت تھا کہ غزنوی نے ایمان کو چھوڑنے کی بات نہیں کی تھی۔شادی کے دن قریب آتے جا رہے تھے اور ایمان کی بےچینی میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔عقیلہ بیگم نے ڈھولکی اپنے پورشن میں ہی رکھوائی تھی۔شام کے بعد وہ ساری وہیں اکٹھی ہو کر ایک ہنگامہ برپا کیے رکھتی تھیں۔جہاں کہیں لڑکیاں ہوتی وہیں شرارتی لڑکے بھی آ دھمکتے تھے اور جو بھی گانا وہ گاتی تھیں اس میں اپنی ٹانگ اڑا کر گانے کا تیاپانچہ کر دیتے تھے۔اس وقت بھی ان سب نے عقیلہ بیگم کےکمرے کو گانوں کا اکھاڑا بنا رکھا تھا۔
“اسٹاپ اسٹاپ۔۔۔یار کوئی اور گانا گاتے ہیں۔”
عنادل نے دونوں ہاتھوں اٹھا کر انھیں روکا۔
“کون سا گانا۔۔؟”
لاریب اور عائشہ نے عنادل کو گُھوری سے نوازا جو اپنے پسندیدہ گانے کو تو یوں گاتی جیسے گانے کی اصل گلوکارہ وہی ہو۔۔۔لیکن اگر کوئی دوسرا اپنی پسند کے سُر لگانے کی کوشش کرے تو اسٹاپ اسٹاپ کہہ کر انھیں روک دیتی۔وہ ساری عنادل کی اس حرکت پہ اسے صرف گُھورنے پہ اکتفاء کرتیں۔
“کوئی بہت اچھا سا۔۔۔میری پسند کا۔۔جیسے۔۔”
وہ ایک لمحے کو سوچ میں پڑ گئی اور باقی سب اسکی گانوں کی پوٹلی کھلنے کی منتظر تھیں۔ایمان بھی ان کے بیچ موجود یہ سب بہت انجوائے کر رہی تھی۔
“جیسے۔۔۔۔؟”
ملائکہ نے پوچھا۔
“جیسے۔۔۔دل دیاں گلاں کراں گے نال نال۔۔”
عنادل آنکھیں بند کر کے شروع ہو چکی تھی۔
“اوئے۔۔اوئے۔۔۔خدا کو مانو عنادل۔۔اُس وقت سے کوئی دس مرتبہ تم یہ گانا گا چکی ہو۔۔لگتا ہے آج تمھارا دل دیاں گلاں ڈے ہے۔”
ارفع چڑ گئی اور بہن کے آسمان کو چھوتے سُروں کو نیچے اتارا۔
“تو۔۔۔”
عنادل نے اپنے مخصوص انداز میں ہونٹوں کو گول کیا۔
“بارہ منٹ بھی لگتا ہے اب نہ تیرے بن رہ پاؤں گا میں۔۔
ڈِھنکا چِھکا، ڈِھنکا چھکا۔۔۔۔۔۔”
ملائکہ نے ان سب کے خاموش ہونے کا فائدہ اٹھایا اور پھر اگلے ہی پل سبھی اسکے ساتھ ہم آواز ہو کر گا رہی تھیں۔۔ساتھ ہی ساتھ ہنسنے کا سلسلہ بھی جاری تھا۔
سحرش جو ان سے تھوڑا پرے بیٹھی اپنے ڈوپٹے میں گوٹہ لگانے میں مصروف تھی۔۔۔ملائکہ کو دیکھ کر ہنس دی۔پرخہ بھی اس کا ساتھ دے رہی تھی۔عقیلہ بیگم بھی وہیں موجود مسکرا کر اُن سب کو دیکھ رہی تھیں اور خیرن بوا تھوڑی تھوڑی دیر بعد سحرش کو ٹوک کر گوٹہ لگوا رہی تھیں۔شمائلہ بیگم ابھی ابھی چائے لے کر کمرے میں داخل ہوئیں تھیں۔
“اے لڑکیو۔۔! یہ کیا ڈھنکا چھکا، ڈھنکا چھکا لگا رکھا ہے۔توبہ توبہ یہ آج کل کے گانے۔۔”
خیرن بوا نے گوٹہ کناری چھوڑ کر کانوں کو ہاتھ لگائے۔ان کے انداز پہ سبھی کھلکھلا کر ہنس دیں۔
“ایک ہمارا زمانہ تھا۔۔ہائے۔۔۔ایسے میٹھے سُریلے گانے کہ اگر کوئی سُریلانہ بھی ہوتا تو گانے کا مزا کرکرا نہیں ہوتا تھا اور اب دیکھو یہ موا ڈھنکا چھکا۔۔بَلا پڑے اس ڈھنکے چھکے پہ۔”
خیرن بوا کی بات سن کر سبھی کا قہقہہ گونج گیا۔
“ائے لو۔۔۔ان کی ہنسی ٹھٹول دیکھو۔۔ہمارے وقتوں میں ہر شادی کے گانے میں دلہن کے لئے نصیحت ہوتی تھی۔ائے وہ کیا تھا۔۔ہاں۔۔جا کے سسرال گوری میکے کی لاج رکھنا۔۔”
خیرن بوا نے ایک لمحہ سوچا اور پھر گنگنانے لگیں۔ان کی ہلکی سی کپکپاہٹ لئے آواز حاضرین محفل کے چہروں پہ مسکراہٹ لے آئی۔
“صحیح کہتی ہو خیرن۔۔بڑا ہی خوبصورت دور تھا اور شادیوں میں تو خوب مزا ہوتا تھا۔”
عقیلہ بیگم نے بھی پرانے دور کو یاد کر کے گہری سانس خارج کی۔
“بوا آج کل ماڈرن زمانہ ہے۔۔پرانے وقتوں کے میٹھے گانے آج کل کے تیز دور میں کہیں کھو سے گئے ہیں۔”
شمائلہ بیگم سبھی کو چائے سرو کرتی ہوئی بولی تھیں۔
“سولہ آنے کھری بات کہی تم نے دلہن۔”
خیرن بوا نے کپ ان کے ہاتھ سے لے لیا۔
“آج کل لوگ ایسے ہی گانے گاتے بھی ہیں اور سنتے بھی ہیں۔”
شمائلہ بیگم مزید بولیں جبکہ باقی سب ایک بار پھر سے ڈھنکا چھکا کی ٹوٹی ٹانگوں کا مزید کچومر بنانے میں لگ گئیں اور ساتھ ساتھ ہنستی بھی جا رہی تھیں۔
“لو پھر شروع ہو گئیں۔”
خیرن بوا نے اپنی ٹھوڑی پہ انگشت شہادت جمائی۔
“ارے بوا آپ کو پتہ نہیں ہے ملائکہ تو شادی میں اس گانے پہ ڈانس بھی کرے گی۔”
لاریب نے ہنستے ہوئے ملائکہ تو ٹہوکا دیا۔
“اے ہے ملائکہ۔۔۔توبہ کر۔۔تجھے کچھ اور نہیں ملا کیا۔”
خیرن بوا نے ملائکہ کو دیکھا۔
“بوا یہ لاریب جھوٹ بول رہی ہے۔”
ملائکہ نے لاریب کو چٹکی کاٹی۔
“کون جھوٹ بول رہا ہے؟”
مرتضی ہاتھ میں شاپنگ بیگز پکڑے کمرے میں داخل ہوا اور شاپرز ملائکہ کے پاس رکھتے ہوئے قریب ہی بیٹھ گیا۔
“مرتضی بھائی آپکو بڑا شوق ہے ہر کام میں ٹانگ اڑانے کا۔۔خیر تو ہے نا۔۔؟”
ملائکہ نے مرتضی کو ٹٹولتی نظروں سے دیکھا۔
“چھپکلی میں تو صرف پوچھ رہا ہوں کہ کون جھوٹ بول رہا ہے۔۔۔دراصل میں آجکل جھوٹ بولنے والے لوگوں پر رسرچ کر رہا ہوں اور میرا ارادہ ہے تمھیں اپنی اسسٹینٹ بنا لوں۔”
مرتضی نے لاریب کی جانب کنکھیوں سے دیکھتے ہوئے ملائکہ کو اشارہ کیا۔
“آ۔۔۔۔۔اچھا۔۔۔یہ رہا آپ کا پہلا ٹارگٹ۔”
ملائکہ نے لاریب کو بازو سے پکڑا جو فائقہ سے ڈھولکی چھیننے کیلئے پورا ذور لگا رہی تھی جبکہ فائقہ ڈھولکی دینے کے لئے قطعی تیار نہیں تھی۔
“ہائے یہ تو جتنا جھوٹ بول لیں ان کی چنی چنی آنکھوں میں ہمیں سچ دِکھ ہی جاتا ہے۔”
مرتضی نے دل پہ ہاتھ رکھتے ہوئے ملائکہ سے کہا۔
“او۔۔ہو۔۔۔۔۔”
ملائکہ ہنسنے لگی اور لاریب مرتضی کی بات سن کر اسکی جانب مڑی تھی۔
“کس کی آنکھیں چُنی چُنی ہیں۔”
لاریب آستین اونچی کرتے ہوئے مرتضی کی طرف بڑھی۔
“آئینہ نہیں دیکھا کیا۔”
مرتضی نے ہنسی ضبط کرتے ہوئے کہا۔
“مرتضی بھائی۔۔۔۔۔۔”
لاریب نے اسے آنکھیں دکھائیں۔
“خدا کو مانو لڑکی۔۔۔میں کسی کا بھائی نہیں ہوں اور تمھارا تو بالکل نہیں ہوں۔”
آخری جملہ اس نے دھیمی آواز میں لاریب کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا تھا۔اسکی بولتی آنکھیں لاریب کو رخ پھیرنے پر مجبور کر گئیں۔وہ اٹھ کھڑا ہوا۔
“میرے دل کا تم سے ہے کہنا
بس میرے ہی رہنا
نہیں تو
سمجھے۔۔۔۔۔۔”
لاریب ارفع کی طرف متوجہ ہوئی جو گلے پہ چھری پھیرنے کے سےانداز میں گا رہی تھی۔اگلے لمحے اسکی آواز بھی ان سب کی آوازوں میں شامل ہو گئی تھی۔
_______________________________________
“کیا میں اندر آ سکتا ہوں؟”
اعظم احمد نے دروازے سے جھانکا اور وہ جو کسی فائل میں گم تھا ان کی جانب دیکھ کر مسکرا دیا۔
“آپ کو اجازت کی کیا ضرورت ہے؟”
فائل چھوڑ کر وہ ان کے خیر مقدم کے لئے اٹھ کھڑا ہوا۔
“کہہ تو ٹھیک رہے ہو برخوردار۔۔”
انھوں نے اس کے لئے اپنے بازو وا کیے۔وہ ہنستے ہوئے ان سے بغلگیر ہوا۔
“کہو میاں کیسا چل رہا ہے سب کچھ؟”
وہ اسکے کندھے پہ بازو دھرتے اسے ساتھ لئے صوفے کی جانب بڑھے۔
“سب ٹھیک ہے داجی۔۔۔”
اس نے مختصراً جواب دیا۔
“ایسا لگ تو نہیں رہا۔۔”
انھوں نے اسکی آنکھوں میں جھانکا۔
“کیا مطلب داجی میں سمجھا نہیں۔۔سب ٹھیک چل رہا ہے۔”
اسے ان کے چہرے پہ دِکھتے سوال سمجھ نہیں آ رہے تھے۔
“اگر سب ٹھیک ہے تو تم اسلام آباد میں اپنا کاروبار شروع کرنے کا کیوں سوچ رہے ہو۔”
وہ جس بات کے لئے آئے تھے وہ انھوں نے شروع کی۔ان کی بات سن کر اس کے مسکراتے لب ساکت ہو گئے۔
“داجی اس میں حرج کیا ہے؟”
اس نے ان کی جانب سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
“میں کب کہہ رہا ہوں بیٹا جی کہ کوئی حرج ہے۔۔حرج تو صرف اس بات کے دوسرے اینگل میں ہے اور وہ یہ کہ اسلام آباد میں کیوں۔۔۔یہاں کیوں نہیں۔۔کیا تم پرائیوسی چاہتے ہو۔۔؟”
اعظم احمد نے اپنے لہجے کو نرم رکھا ورنہ انھیں یہ بات قطعی پسند نہیں آئی تھی۔
“نہیں داجی۔۔۔پرائیوسی کیوں چاہوں گا میں۔۔میرے ساتھ ایک فرینڈ بھی ہے۔وہ اسلام آباد میں رہتا ہے۔ہم دونوں مل کر اپنا بزنس شروع کرنا چاہتے ہیں اور ویسے بھی کچھ وقت کی بات ہے، میں آتا جاتا رہوں گا۔”
اس نے ان کی جانب دیکھنے سے گریز کیا۔کیونکہ ان کی آنکھوں میں دیکھکر جھوٹ بولنے کی ہمت اس میں نہیں تھی۔ان سب سے دور جا کر رہنا اس کے لئے بھی مشکل تھا مگر وہ بھاگنا چاہتا تھا۔تین چار دن سے اس کے اندر ایک شور سا برپا تھا اور وہ اس شور سے دور جانا چاہتا تھا۔جہاں اسے اس محبت کی پکار سنائی نہ دے جو ہر پل اسے سنائی دیتی تھی۔وہ اس چلتے پھرتے وجود سے بھاگنا چاہتا تھا جو اسکی ضد کے سامنے کھڑا تھا۔
“تو تم نے فیصلہ کر لیا ہے؟”
اعظم احمد کا سنجیدہ لہجہ اسے سوچ کی گہری کھائی سے باہر کھینچ لایا۔اس نے ان کی جانب دیکھا۔
“جی۔۔۔کُمیل نے آفس کے لئے بلڈنگ بھی دیکھ لی ہے۔مجھے ایک دو دن میں نکلنا ہے۔”
وہ دو ٹوک انداز میں بولا۔
“مگر یہاں کیا حرج ہے۔۔ہم سے دور جانا مقصود ہے کیا۔۔یہیں شروع کر لو بزنس۔۔شراکت میں بعد میں بڑے مسائل جنم لیتے ہیں۔یہاں ہم سبھی ہیں، تمھارے بابا، تایا اور چچا۔۔سبھی ہیلپ فل رہیں گے۔”
انھوں نے اسے قائل کرنے کی کوشش کی۔
“آپ سہی کہہ رہے ہیں داجی۔۔مگر میں اب کُمیل کے ساتھ معاہدہ کر چکا ہوں۔۔اب توڑ نہیں سکتا۔”
اس نے ایک بار پھر نظروں کا ذاویہ بدلا۔
“ٹھیک ہے بیٹا۔۔تم فیصلہ کر چکے ہو تو میں تمھیں روکوں گا نہیں کیونکہ میں اپنے بچوں کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننا چاہتا اور نہ ہی چاہتا ہوں کہ تمھارا عہد ٹوٹے۔۔تمھاری زبان ہماری زبان ہے۔۔”
انھوں نے اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھا اور پھر اٹھ کھڑے ہوئے۔
“شکریہ داجی۔۔”
وہ بھی اٹھ کھڑا ہوا۔انھوں نے ایک دوستانہ مسکراہٹ اس کی جانب اچھالی اور دروازے کیطرف بڑھ گئے۔
“لیکن شادی کے بعد چلے جانا۔۔ابھی فلحال روک دو اس کام کو۔۔”
اعظم احمد سست روی سے قدم اٹھاتے پلٹے تھے۔
“جی داجی۔۔ابھی صرف دو دن کے لئے جا رہا ہوں۔۔بس آپ ذرا بابا کو سنبھال لیں۔”
وہ اپنی کرسی کی طرف بڑھتے ہوئے بولا۔
“بےفکر رہو میں سمجھا دوں گا۔”
یہ کہہ کر وہ رکے نہیں اور اسکے کیبن سے نکل کر مکرم احمد کے کیبن کی طرف بڑھے۔وہ بنا اجازت اندر داخل ہوئےتھے۔مکرم احمد انہی کا انتظار کر رہے تھے۔
“آپ کو دیکھ کے لگ رہا ہے کہ وہ نہیں مانا۔”
مکرم احمد نے اعظم احمد کے سست قدموں سے اندازہ لگایا۔
“تمھارا اندازہ بالکل درست ہے۔۔وہ ٹھان چکا ہے کہ اسلام آباد ہی جائے گا۔میں چاہتا تو میں اس پہ دباو ڈال سکتا تھا مگر پھر رہنے دیا۔”
اعظم احمد نے ٹیبل پہ پڑا پیپر ویٹ اٹھا کر ہتھیلی پہ رکھا اور بغور اسے دیکھنے لگے۔
“مگر کیوں۔۔۔۔؟”
“میں ایک بار پہلے بھی اس پر اپنی مرضی تھوپ چکا ہوں اب مزید نہیں۔۔شوق پورا کر لینے دو اسے اپنا۔۔”
انھوں نے پیپر ویٹ واپس ٹیبل پہ رکھا۔
“مگر بابا۔۔۔آپ نے کوئی غلط فیصلہ تو نہیں کیا تھا اسکے لئے۔۔ایمان بہت صابر بچی ہے۔اسے تو خوش ہونا چاہیئے کہ آپ نے اس کے لئے۔۔۔”
مکرم احمد کچھ کہنا چاہتے تھے مگر انھوں نے ہاتھ اٹھا کر انھیں روک دیا۔
“گرم خون ہے۔۔کرنے دو ابھی اسے۔۔روکا تو ناراض ہو کر جائے گا۔میں نے بات کر لی ہے۔ابھی فلحال تو دو دن کے لئے جا رہا ہے پھر شادی کے بعد جائے گا۔بعد میں ہم بھی چکر لگاتے رہیں گے اور میرے ذہہن میں ایک اور بات بھی آئی تھی۔”
اعظم احمد نے کہا۔
“وہ کیا۔۔۔۔؟”
مکرم احمد نے پوچھا۔
“وہ یہ کہ اس طرح غزنوی اور ایمان کو ایک دوسرے کو سمجھنے کا موقع بھی ملے گا۔”
اعظم احمد نے جواب دیا۔
“شاید آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں۔دونوں ایک دوسرے سے کھچے کھچے سے رہتے ہیں۔”
مکرم صاحب نے پرسوچ انداز سے انھیں دیکھا۔
“ہاں میں بھی چاہتا ہوں کہ وہ دونوں ایک نارمل زندگی گزاریں۔میں نے انھیں اب تک ایک دوسرے سے نارمل انداز میں بات تک کرتے نہیں دیکھا۔حالانکہ دونوں حتی الامکان کوشش کرتے ہیں کہ ان کے رشتے کا کھوکھلا پن ہمیں دکھائی نہ پڑے مگر۔۔۔۔خیر چھوڑو۔۔اللہ اپنا کرم کرے گا انشاءاللہ۔۔میں چلتا ہوں اب۔۔تم مزید اس سے اس بارے میں بات نہ کرنا۔”
وہ اٹھ کھڑے ہوئے اور مکرم صاحب کے سر ہلاتے ہی ان کے آفس سے نکل آئے۔ان کا رخ آفس کی پارکنگ کی جانب تھا۔
__________________________________________
شادی کی شاپنگ تقریباً سبھی کی مکمل ہو چکی تھی۔اگلے ہفتے سے شادی کا باقاعدہ آغاز ہو جانا تھا۔کچھ کپڑے تیار ہوچکے تھے اور کچھ ابھی ٹیلر کے پاس تھے۔اس وقت وہ الماری میں استری شدہ کپڑے لٹکا رہی تھی کہ کوئی دروازہ کھول کر تیزی سے اندر آیا اور اسکے پیچھے آ کھڑا ہوا۔غزنوی کے لباس سے اٹھتی اسکی مخصوص خوشبو نے اسے اپنے گھیرے میں لیا جبکہ وہ بناء کچھ کہے خاموشی سے اسکے پیچھے کھڑا تھا۔
ایمان اسکے یوں اپنے پیچھے کھڑے ہونے پہ بھول گئی تھی کہ وہ کیا کام کر رہی تھی۔کرنا کچھ چاہتی تھی اور ہو کچھ اور رہا تھا۔پلٹ کر دیکھنے کی ہمت اس میں نہیں تھی۔پھر جب وہ یونہی اسکے پیچھے کھڑا رہا تو اس نے ہمت کر کے بغیر مڑے پوچھ ہی لیا۔
“کوئی کام تھا؟”
“تم سے مجھے کیا کام ہو سکتا ہے۔”
وہ نہایت ہی سنجیدگی سے بولا۔
وہ سر ہلا کر واپس سے اپنے کام میں مصروف ہو گئی۔غزنوی اسکی گھبراہٹ صاف محسوس کر رہا تھا۔وہ اس کے اس قدر قریب کھڑا تھا کہ اگر وہ پلٹتی تو اس سے ٹکرا جاتی اور اوپر سے الماری کے دونوں پٹ کھلے ہونے کی وجہ سے وہ سائیڈ سے نکل بھی نہیں سکتی تھی۔شہد رنگ سلکی بالوں کی اونچی سی پونی ٹیل بنائے، جو جھکنے کی وجہ سے آگے کی جانب آ گئے تھے۔۔صراحی دار سفید گردن سے لپٹے بال۔۔۔قرمزی رنگ کے کپڑوں میں ملبوس اور لباس کے ہم رنگ کھنکتی چوڑیاں، سارے کیل کانٹوں سے لیس وہ اسکے لئے کڑا امتحان ثابت ہو رہی تھی۔غزنوی کے دل کی دھڑکن اسکی ضد کو مات دینے کے درپے تھی۔اسی امتحان سے تو وہ بھاگ رہا تھا جو وہ ہر بار لینے کے لئے اسکے سامنے آ کھڑی ہوتی تھی مگر ہر بار وہ ان جذبوں کے چُنگل سے بھاگ نکلتا تھا۔ابھی بھی وہ دامن بچانے میں کامیاب رہا تھا۔
“تمھارا یہ سرچ آپریشن ختم ہو گیا ہو تو مجھے کچھ کام ہے۔”
وہ پیچھے ہوا۔ایمان کا دراز کی طرف بڑھتا ہاتھ وہیں رک گیا۔وہ واپس پلٹی۔ایک لمحے کو دونوں کی نظریں ملی تھیں اور پھر اگلے ہی لمحے وہ وہاں سے ہٹ گئی تھی۔غزنوی کی نگاہوں نے اسکا پیچھا کیا تھا۔ایمان صوفے پہ رکھے کپڑوں کی طرف بڑھی جو ابھی اسے عقیلہ بیگم کے کمرے میں دینے تھے۔اسے لگا جیسے وہ غزنوی کی نگاہوں کے گھیرے میں ہے۔اس نے پلٹ کر دیکھا تو غزنوی نگاہیں پھیر گیا۔غزنوی کو اسطرح ٹکٹکی باندھے اپنی طرف دیکھتا پا کر اسکی دھڑکنیں بڑھ گئی تھیں۔اس نے کپڑے اٹھائے اور دروازے کی طرف بڑھی۔
“سنو۔۔۔۔”
وہ وہیں دروازے کے قریب رکی تھی لیکن مڑ کر نہیں دیکھا تھا۔
“میں کل صبح سویرے اسلام آباد کے لئے روانہ ہوں گا۔میرے کچھ کپڑے اس بیگ میں رکھ دو۔”
غزنوی نے الماری کے نچلے خانے سے ایک سفری بیگ نکال کر بیڈ پہ رکھا۔
“ڈنر بھی باہر دستوں کے ساتھ کروں گا۔امی چاچو کی طرف گئی ہوئی ہیں۔رات دیر ہو جائے گی۔وہ آئیں تو انھیں بتا دینا۔”
“جی۔۔”
وہ اتنا ہی کہہ سکی جبکہ غزنوی اس پہ ایک گہری نظر ڈالتا واش روم میں گھس گیا۔
___________________________
رات کے تقریبا ایک بجے وہ گھر میں داخل ہوا۔گاڑی پورچ میں کھڑی کرنے کے بعد وہ چوکیدار کے پاس آیا۔
اسے صبح اپنے اسلام آباد روانہ ہونے کے مطلق بتایا اور اسے ہدایت دیکہ صبح آٹھ بجے تک گاڑی کی صفائی بھی کر دے۔چوکیدار کے سرہلانے کے بعد وہ راہداری سے ہوتا ہوا اندرونی مین ڈور سے اندر داخل ہوا۔لاؤنج میں مکمل خاموشی تھی۔صرف ایک بلب کی مدھم سی روشنی لاؤنج میں پھیلی ہوئی تھی۔وہ کچن کی طرف آیا۔یہاں بھی تاریکی نے اسکا استقبال کیا تھا۔فریج سے اپنے لئے پانی کی بوتل نکال کر گلاس بھرا۔پانی پی کر لائٹ آف کرتا اپنے روم کیطرف بڑھ گیا۔
“غزنوی۔۔۔”
ابھی وہ سیڑھیوں تک پہنچا ہی تھا کہ شمائلہ بیگم کی نیند بھری آواز اسکے کانوں سے ٹکرائی تو اس نے پلٹ کر دیکھا۔
“السلام علیکم امی۔۔۔!!”
وہ انہی قدموں سے واپس پلٹ کر ان کے پاس آیا تھا۔
“واعلیکم السلام بیٹا۔۔لیٹ ہو گئے۔۔میں کافی دیر تمھارا انتظار کرتی رہی۔”
انھوں نے سلام کا جواب دے کر پوچھا۔
“جی امی بس فرینڈز کے ساتھ وقت گزرنے کا احساس ہی نہیں ہوا۔۔آپ کیوں انتظار کرتی رہیں۔۔آرام کرتیں۔”
اس نے شرمندگی سے کہا۔
“میں نے سوچا کہ کہیں تمھیں چائے کی طلب نہ ہو اس لئے جاگ رہی تھی لیکن کچھ دیر پہلے ہی آنکھ لگ گئی۔تمھارے لئے چائے بنا دوں؟”
شمائلہ بیگم نے اس سے پوچھا۔
“نہیں بس میں آرام کروں گا۔۔آپ بھی آرام کیجیئے۔”
طلب تو ہو رہی تھی چائے کی مگر اس نے ماں کی تھکاوٹ کے پیش نظر رہنے دیا اور انھیں شب بخیر کہتا اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔
کمرے میں داخل ہوا تو مکمل اندھیرے میں اسے کچھ بھی دکھائی نہ دیا۔اس نے سوئچ بورڈ ٹٹول کر لائٹ آن کی اور واش روم میں گھس گیا۔کچھ دیر بعد واش روم سے نکلتے ہوئے اسکی نظر صوفے کی جانب اٹھی۔وہ وہاں نہیں تھی۔پہلے تو وہ حیران ہوا پھر یہ سوچ کر کہ چاچو کیطرف گئی ہو گی۔۔۔وہ بیڈ کیطرف آیا۔
یہ دیکھ کر اسے حیرت کا شدید جھٹکا لگا کہ ایمان صوفے کی بجائےبیڈ پہ سو رہی تھی۔
“افف۔۔۔جتنا اس سے بھاگ رہا ہوں اتنا میرے حواسوں پہ سوار ہوتی جا رہی ہے۔”
ایک پل کو تو اس کا جی چاہا کہ اسے جگا دے مگر وقت کا احساس کر کے اسے سونے دیا اور خود لائٹ آف کی اور نائٹ بلب روشن کر کے بیڈ کی دوسری جانب خاموشی سے لیٹ گیا۔روم میں آنے سے پہلے نینداس پہ حاوی ہو رہی تھی مگر اب جیسے کہیں اُڑنچھو ہو گئی تھی۔قریب سے اٹھتی سانسوں کا مدھر گیت اسکی نیند اڑائے دے رہا تھا۔دل کی ایک ہی تکرار تھی کہ دیدار کے سوکھے کو سیراب کر لینے میں کیا قباحت ہے مگر برا ہو اس ضدی طبیعت کا جو اپنے سامنے کسی کو نہیں ٹکنے دیتی تھی۔آنکھیں ذبردستی بند کیے وہ سونے کی تگ و دو میں تھا لیکن نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور کھڑی اسکا مذاق اڑا رہی تھی۔پھر رات کے نجانے کونسے پہر نیند اسکی آنکھوں میں آن بسی تھی اور دل اور دماغ کے درمیان چھڑی جنگ اپنے اختتام کو پہنچی۔
صبح غزنوی کی آنکھ وقت پر کھلی تھی۔اس نے گھڑی کی طرف دیکھا۔ابھی نکلنے میں ایک گھنٹے تک کا وقت تھا۔وہ بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔نظر ساتھ سوئے وجود پہ پڑی اور وہیں جم گئی۔سفید چہرے میں گلابیاں گھلی ہوئی تھیں۔یاقوتی لب اپنے اندر تمام تر نرمیاں سمیٹے ہوئے تھے۔ایک بازو سینے پہ دھرا تھا جبکہ دوسرا تکیےپر تھا۔سفید کلائیاں اس وقت بھی سیاہ چوڑیوں سے سجی تھیں۔وہ بلاشبہ بہت خوبصورت تھی۔غزنوی کا دل ایک بار پھر سے شہد رنگ کھلی زُلفوں میں الجھنے لگا۔وہ اس کے چہرے پہ بکھری لٹوں کو پرے ہٹانے کو آگے ہوا تھا مگر اس سے پہلے کہ وہ اپنی بےخودی میں اسکے قریب ہوتا ایمان کے سوئے ہوئے وجود میں حرکت ہوئی۔وہ فورا سیدھا ہوا۔
“میں کیوں اتنا کمزور ہو رہا ہوں کہ ایک نازک سی لڑکی میرے حواس سلب کیے دے رہی ہے۔”
وہ خود سے سوال کرتا بیڈ سے نیچے اتر آیا۔الماری سے کپڑے لیے اورفریش ہونے کی غرض سے واش روم کیطرف بڑھ گیا۔آدھے گھنٹے کے شاور نے اس کی طبیعت کو ہلکا پھلکا کر دیا تھا۔ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑے بال برش کرتے کرتے اسکی نظر ایک مرتبہ پھر آئینے میں دکھتے وجود پر پڑی۔وہ اسی انداز میں سوئی ہوئی تھی۔
“میں ہار نہیں سکتا۔”
غزنوی نے سر جھٹک کر بال سلیقے سے جمائے اور پھر ایمان پہ ایک نظر بھی ڈالے بغیر ٹیبل سے اپنا سفری بیگ اٹھا کر کمرے سے نکل گیا۔ _____________________________________________
غزنوی اسلام آباد جا چکا تھا اور اسکا سکون بھی اپنے ساتھ ہی لے گیا تھا۔صبح جب اس نے خود کو بیڈ پہ پایا تو اس وقت سے اب تک شرمندگی کے سمندر میں غوطہ زن تھی۔اپنی جانب سے ہوئی یہ لاپروائی اسے خون کے آنسو رلا رہی تھی۔جہاں کہیں بھی اکیلی ہوتی تو اس خیال سے آنکھوں میں نمی ہلکورے لینے لگتی۔یہ خیال ہی اسے چین لینے نہیں دے رہا تھا کہ ساری رات وہ اس بیڈ پہ سوئی رہی جس کا مالک اسے اپنے سامنے دیکھ کر فوراً ہی منہ پھیر لیتا تھا۔ایک لفظ بات کرنا تو دور وہ اس کی جانب دیکھتا بھی نہیں تھا۔ایک لمحے کو تو یہ خوش فہمی بھی اسے ہوئی کہ شاید وہ رات کو واپس آیا ہی نہ ہو مگر صبح جب وہ ناشتے کے لئے نیچے اتری تو شمائلہ بیگم نے اسے غزنوی کی رات دیر سے آمد کے بارے میں بتایا۔اس کے بعد تو وہ بالکل ہی ڈھے گئی۔وہ اس خیال کو جھٹک رہی تھی کہ وہ اس کے متعلق کیا سوچتا ہو گا۔اگر وہ یہاں ہوتا تو اس کے رویے سے وہ جان لیتی کہ اس کی اس بیوقوفی کو وہ کیا نام دیتا۔پریشان چہرہ لیے اس نے ادھر اُدھر کے کاموں میں خود کو مصروف رکھا۔شادی والا گھر تھا۔سب اپنے اپنے کاموں میں مگن تھے، کسی کا دھیان اسکی طرف نہیں گیا اور اگر کسی نے اسکے چہرے پہ اداسی دیکھی بھی تو اسکی اداسی کو غزنوی کے جانے کا سبب گردان لیا تھا۔اس وقت بھی وہ کسی گہری سوچ میں گم تھی کہ لاریب نے متوجہ کیا۔
“ایمان۔۔۔یار کہاں گم ہو۔۔؟میں تم سے پوچھ رہی ہوں کہ مایوں کے لئے یہ ڈریس کیسا رہے گا اور تم ہو کہ غزنوی بھائی کے خیالوں میں یوں گم اور دکھی بیٹھی ہو جیسے وہ اسلام آباد نہیں بلکہ ملک سے باہر چلے گئے ہیں۔”
لاریب نے گہری سوچ میں گم ایمان کی آنکھوں کے سامنے ہاتھ لہرایا۔
“آں۔۔۔کہا تو ہے کہ بہت خوبصورت ڈریس ہے۔”
ایمان نے اپنے سامنے پھیلے پیلے رنگ کے سوٹ پہ ہاتھ پھیرا۔
“کب کہا۔۔۔؟”
لاریب نے اسے گھورا۔
“ابھی کہا نا۔۔۔”
ایمان مسکرائی۔۔لاریب اسے ابھی بھی گھور رہی تھی۔
“ارے یار ایمان اپنے سیاں جی کے پیچھے اداس ہے۔۔کیوں ایمان۔۔؟؟”
عائشہ نے ایمان کو ٹہوکا دیا۔
“ایسی کوئی بات نہیں۔۔بس مجھے بابا یاد آ رہے ہیں۔”
یہ کہتے ہوئے اس کے چہرے پہ اداسی چھا گئی اور آنکھوں میں نمی سی چھلکنے لگی۔
“آئی۔ایم سوری ایمان۔۔میرا مقصد تمھیں ہرٹ کرنا نہیں تھا۔میں تو بس یونہی۔۔۔”
عائشہ نے اسے اپنے ساتھ لگایا۔۔پھر وہ سبھی اسکی دلجوئی میں لگ گئیں۔وہ اتنی محبتیں دیکھ کر شرمندہ ہو گئی۔
“چلو چلو۔۔۔مل کر ایمان کا پسندیدہ گانا گاتے ہیں۔”
یہ مشورہ عنادل کی جانب سے آیا تھا۔وہ سب حیران ہو رہی تھیں کہ ایمان کا پسندیدہ گانا صرف عنادل کو پتہ ہے اور انھیں اندازہ بھی نہیں۔ایمان خود بھی حیرت کے سمندر میں غرق تھی۔
“ارے بھئی۔۔تمھارا پسندیدہ گانا۔۔”
عنادل نے اسکی آنکھوں میں جھانکا۔
“سیاں دل میں آنا رے
آ کر پھر نہ جانا رے
ہو آ کر پھر نہ جانا رے۔۔۔
چھم چھما چھم چھم۔۔”
عنادل کھڑی ہو ٹھمکے لگانے لگی اور باقی سب پہلے تو ہنس دیں پھر اس کے ساتھ مل کر گانے لگیں۔۔ساتھ ہی ساتھ ایمان کو اشارے بھی کرتی جا رہی تھیں۔وہ بھی لبوں پہ شرمیلی مسکان لئے انھیں دیکھ رہی تھی۔
“ویسے یار میں سوچ رہی ہوں کہ ایمان نے یہ گانا غزنوی بھائی کو کتنی بار سنایا ہوگا۔”
فائقہ نے پُرسوچ انداز میں سب کی طرف دیکھا جو لبوں پر دبی دبی مسکراہٹ لیے فائقہ کی جانب دیکھنے لگی تھیں۔
“مجھے لگتا ہے کہ کم از کم دن میں چار پانچ مرتبہ تو سناتی ہی ہو گی۔”
ارفع نے سنجیدگی سے کہا۔باقی سب بھی ایمان کے دھواں دھواں ہوتے چہرے کی پرواہ کیے بغیر اپنے اپنے اندازے بتانے لگیں۔پتہ نہیں کیوں آج ان کا مذاق اسے نہیں بھا رہا تھا۔ان کے ہنستے ہوئے چہرے ایک دم سے سنجیدہ تب ہوئے جب ایمان جھٹکے سے اٹھ کر وہاں سے چلی گئی۔اور وہ سب ایک دوسرے کو سوالیہ نظروں سے دیکھ کر رہ گئیں۔ایمان کا یہ انداز انھوں نے پہلی دفعہ دیکھا تھا ورنہ تو اس طرح کا مذاق وہ اس سے شروع سے ہی کرتی آئی تھیں لیکن کبھی بھی ایمان نے برا نہیں مانا تھا۔بس شرمیلی مسکان لبوں پہ سجائے نظریں جھکا لیتی تھی۔جب وہ اس کے نام کے ساتھ غزنوی کا نام لیتی تھیں تو اسے یہ خیال نہایت ہی خوش کن لگتا تھا اس کا نام اس کے نام کے ساتھ جڑا ہے جو اس کی زندگی میں ایک سایہ دار درخت کی طرح شامل ہوا تھا جس کے سائے میں اس نے پناہ لی تھی جس کی وجہ سے وہ آج روشنیوں میں اور اتنی محبتوں کے بیچ کھڑی تھی۔
“کبھی تو سیریس ہو جایا کرو تم لوگ۔۔جب دیکھو مذاق سُوجھتا رہتا ہے۔اب دیکھو نا اسے ناراض کر دیا تم لوگوں نے۔۔”
پرخہ نے ان سب کو ڈانٹا۔
“ہم تو مذاق کر رہے تھے۔۔وہ صبح سے ہی دکھی لگ رہی تھی اس لئے میں نے سوچا کہ تھوڑا سا۔۔”
فائقہ نے منہ بسور کر کہا۔
“ہاں اب دیکھو اپنا کارنامہ۔۔۔اسے اور بھی دکھی کر دیا ہے تم نے۔۔”
پرخہ نے اسے ڈانٹا اور وہاں سے چلی گئی۔اسکا رخ ایمان کے کمرے کی جانب تھا۔باقی سب بھی اسکے پیچھے آئیں تھیں۔
______________________________________
“سب کچھ بہت اچھے سے ہوگیا۔میں تو بہت گھبرا رہا تھا کہ کیسے اتنی جلدی مینیج کروں گا۔۔تھیکنس یار اگر تم ہیلپ نہ کرتے تو میں یہ اکیلے نہیں کر سکتا تھا اور سب سے بڑھ کر یہ گھر۔۔۔۔بہت شاندار ہے اور قریب بھی ہے آفس سے۔۔۔میری پسند کے عین مطابق۔۔”
غزنوی اسکی طرف چائے کا کپ بڑھاتے ہوئے فلور کشن پہ بیٹھ گیا۔۔وہ تشکّر بھری نظروں سے کمیل کو دیکھ رہا تھا۔
“ارے یار۔۔۔یہ تو کچھ بھی نہیں۔۔میں چاہتا تھا سب تیری پسند کے مطابق ہو۔۔لیکن یار مجھے ایک بات سمجھ نہیں آ رہی۔۔۔اتنا اسٹیبلشڈ بزنس چھوڑ کر یہاں سب سے الگ نئے سِرے سے شروعات کرنا۔۔۔میری سمجھ سے باہر ہے۔”
چند دنوں سے ذہہن میں کلبلاتا سوال کمیل کی زبان پہ آ ہی گیا تھا۔
“بس یار پھر کبھی بتاؤں گا۔بہت لمبی کہانی ہے۔”
غزنوی اسکا سوال ہنسی میں اڑاتے ہوئے چائے پینے لگا۔کمیل نے بھی اسکا انداز دیکھ کر دوبارہ نہیں پوچھا۔
“اچھا ٹھیک ہے میں چلتا ہوں۔۔۔کل آفس میں ملتے ہیں۔”
کمیل خالی کپ ٹیبل پہ رکھتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا اور غزنوی کی طرف معانقہ کے لئے ہاتھ بڑھایا۔
“نہیں یار۔۔۔بیٹھ کھانا کھا کر جا۔۔مجھے اکیلے مزا نہیں آئے گا۔۔کیا یاد کرے گا آج اپنے ہاتھ سے بنا کر تجھے کھانا کھلاؤں گا۔”
غزنوی نے اسکا ہاتھ نہیں چھوڑا۔
“تو اس مزے کے لئے تُو بھابھی کو لے آ۔۔”
کمیل ہنسنے لگا جبکہ اسکی بات سن کر غزنوی نے جھٹکے سے اسکا ہاتھ چھوڑا۔
“ویسے اچھا ہوتا کہ تُو بھابھی کو لے آتا۔۔کم از کم گھر کا پُرلطف کھانا تو نصیب ہوتا نا۔۔ویسے بھی تیرے ہاتھ کی کڑوی کسیلی چائے میں نے ابھی بھی بڑی مشکل سے حلق میں انڈیلی ہے۔”
کُمیل ٹیڑھے ٹیڑھے منہ بناتا یوں بولا جیسے چائے کی جگہ کریلے کاجوس پی لیا ہو۔
“تُو اپنے یہ قیمتی مشورے اپنے پاس رکھ اور بیٹھ کھانا باہر سے آرڈر کر لیتا ہوں۔”
اس نے کمیل کو کشن کھینچ مارا۔
“یار بھابھی کو کیوں نہیں لایا۔”
کمیل نے کشن کیچ کر کے اپنے پیچھے رکھا اور پیر پسار لئے۔
“اسی جادوگرنی سے تو بھاگ کر آیا ہوں۔”
غزنوی بڑبڑایا۔
“کیا کہہ رہا ہے؟”
کمیل اسکے بڑبڑانے پہ سیدھا ہوا۔
“کچھ نہیں یار شادی ہے نا گھر میں۔۔اسی لئے نہیں لایا اور پھر میں نے واپس جانا ہے۔۔صرف دو دن کے لئے آیا ہوں۔”
وہ چائے کے کپ اٹھا کر کچن میں چلا گیا۔جبکہ کمیل نے اٹھ کر ٹی وی آن کیا اور واپس آ کر اسی پوزیشن میں بیٹھ گیا۔وہ یونہی چینل سرچنگ کر رہا تھا کہ ڈور بیل کی آواز پہ ٹی وی آف کردیا۔
“تم ٹھہرو۔۔۔میں دیکھتا ہوں۔”
اسی وقت غزنوی بھی کچن سے نکلا۔۔کمیل اسے روکتا خود لاؤنج سے باہر نکل گیا۔غزنوی واپس کچن کی جانب مڑ گیا۔
“آئیے آئیے خالہ۔”
کمیل کسی بزرگ خاتون کو ساتھ لئے لاؤنج میں داخل ہوا۔وہ خاتون کمیل کی جانب یوں مسکرا کر دیکھ رہی تھیں جیسے کافی ٹائم سے ان کی سلام دعا ہو۔غزنوی جو کچن کے دروازے میں موبائل لئے کھڑا تھا لاؤنج میں آ گیا۔اب وہ خاتون غزنوی کی جانب دیکھ رہی تھیں۔
“کیسی ہیں آپ۔۔۔؟”
وہ خاتون غزنوی کی جانب بغور دیکھ رہی تھیں کہ کمیل نے انھیں اپنی طرف متوجہ کیا۔
“کیسی ہیں خالہ۔۔؟”
کمیل نے ان سے پوچھا۔
میں ٹھیک ہوں بیٹا۔۔بس ذرا جوڑوں کے درد کی وجہ سے کہیں آ جا نہیں سکتی اسی لئے تو تم سے دوبارہ ملنے بھی نہیں آ سکی تھی۔”
وہ کمیل کے ساتھ ساتھ چلتیں صوفے تک آئیں۔
“کمبخت یہ جوڑوں کا درد۔۔بیٹھ جاو تو پھر کھڑا ہوا نہیں جاتا۔”
“یہاں بیٹھ جائیں خالہ۔۔میں آپکے لئے پانی لاتا ہوں۔”
کمیل انھیں صوفے پہ بٹھا کر پانی لانے کے لئے مڑا۔
“ارے نہیں بیٹا۔۔۔میں ٹھیک ہوں۔۔۔یہ لڑکا کون ہے؟ تمھارا دوست ہے۔۔ائے لگتا تو بڑے اچھے گھر کا ہے۔”
بلقیس بیگم نے اپنی عینک ناک پہ ٹکائی اور غزنوی کی جانب بغور دیکھتے ہوئے کہا۔کمیل مسکرا دیا۔
“خالہ یہ اسی کا گھر ہے۔بتایا تھا نا آپکو کہ دوست کا گھر ہے۔آپ بھول گئیں شاید۔”
کمیل نے مسکراتے ہوئے غزنوی کا تعارف کروایا تو غزنوی نے آگے بڑھ کر انھیں سلام کیا۔
“جیتے رہو۔۔۔ماشااللہ۔۔!! اللہ تمھاری ماں کا کلیجہ ٹھنڈا رکھے۔”
بلقیس بیگم نے غزنوی کے شانے پہ ہاتھ رکھتے ہوئے دعا دی۔انھیں غزنوی بہت بھایا تھا۔
“اور سنائیں خالہ کیسی ہیں۔۔مجھے تو پہلے سے کافی کمزور لگ رہی ہیں۔”
کمیل نے انھیں لگاتار غزنوی کی جانب دیکھتا پا کر اپنی جانب متوجہ کیا۔
“ہاں بیٹا بس کیا کروں۔۔بوڑھی ہو گئی ہوں اور پھر اتنے دن بھی تو ہو گئے ہیں یاد نہیں رہا۔”
وہ پھولی سانسوں کے درمیان بولیں۔
“ارے خالہ بوڑھی کہاں۔۔ابھی تو جوان ہیں آپ۔”
کمیل ہنستے ہوئے ان کے ساتھ بیٹھ گیا۔
“ائے اب اتنی بھی مبالغہ آرائی سے کام نہ لو لڑکے۔۔” وہ دوپٹہ منہ پر رکھ کر کھلکھلائیں۔
کمیل بلقیس بیگم کو شرماتے دیکھ کر مسکرا دیا۔
“یہ بلقیس خالہ ہیں۔یہیں پڑوس میں رہتی ہیں۔جب میں یہاں کام سے آتا تھا تو دو تین بار ان سے ملاقات ہوئی تھی۔اِنھوں نے میرا بڑا خیال رکھا تھا۔”
کمیل نے غزنوی کی سوال کرتی نگاہوں کو دیکھ کر کہا۔
اسی دوران ڈور بیل کی چنگھاڑتی آواز ان کے کانوں سے ٹکرائی۔
“ائے بیٹا دیکھو تو ذرا ٹیپو آ گیا ہو گا۔”
بلقیس خالہ نے کمیل سے کہا۔وہ سر ہلا کر لاؤنج سے نکل گیا۔اس دوران بلقیس بیگم کبھی غزنوی تو کبھی گھر کا جائزہ لینے میں مصروف رہیں۔
“اکیلے رہتے ہو۔۔؟”
بلقیس خالہ نے غزنوی سے پوچھا۔جس پہ اس نے صرف سر ہلانے پر اکتفاء کیا۔
“ائے لو بھلا اکیلے کیسے رہو گے۔۔؟ کھانا پینا، صاف ستھرائی۔۔یہ سب کون کرے گا؟”
انہوں نے ٹھوڑی پہ انگلی رکھی اور حیرانی سے اسکی طرف دیکھا۔ان کا انداز دیکھ کر اسے خیرن بوا یاد آ گئیں۔وہ بھی اسی انداز میں گفتگو کیا کرتی تھیں اور ان کا انداز تخاطب بھی بالکل ایسا ہی تھا۔
“کوئی کام والی رکھ لوں گا۔”
وہ بولا۔
“ائے کیا چھڑے چھانٹ ہو؟”
بلقیس بیگم نے اپنی موٹے موٹے عدسوں والی عینک کے پیچھے سے غزنوی کو گھورا۔اسی دوران کمیل کسی آٹھ سالہ صحت مند سے بچے کے ساتھ لاونج میں داخل ہوا تو ان کی جانب سے اسکا دھیان ہٹ گیا۔کمیل کے ہاتھ ٹرے تھی جس سے اٹھتی لوازمات کی خوشبو اسکے نتھنوں سے ٹکرائی تھی۔
“جی۔۔۔۔؟؟ میں سمجھا نہیں۔”
وہ دھیان ہٹنے کے باعث انھیں ٹھیک سے سن نہیں پایا تھا۔
“اے میاں۔۔اب ایسی مشکل اردو بھی نہیں بولی جو تم سمجھ نہیں سکے۔”
وہ ہنستے ہوئے بولیں تو غزنوی جھنپ گیا۔
“نہیں خالہ میرا یہ مطلب نہیں تھا۔”
وہ مسکرا دیا۔
“اچھا چھوڑو۔۔۔ٹیپو میرے بچے۔۔ادھر آ۔”
بلقیس بیگم نے کمیل کے ساتھ کھڑے بچے کو اپنے پاس بلایا۔وہ ہنستے ہوئے انکے پاس آ کر بیٹھ گیا۔کمیل نے ٹرے ٹیبل پہ رکھی اور غزنوی سے کھانے کے آرڈر کے متعلق پوچھنے لگا۔
“بابا آ گئے تمھارے؟”
وہ ٹیپو سے پوچھنے لگیں جبکہ کمیل اور غزنوی کی بھوک ٹرے میں رکھی بریانی کی پلیٹ اور قورمے کے باول کے ساتھ روٹیاں دیکھ کر چمک اٹھی تھی مگر پھر بھی وہ دونوں ان دادی پوتے کی طرف متوجہ رہے۔
“نہیں دادو بابا ابھی تک نہیں آئے لیکن فون کر کے بتایا ہے کہ لیٹ آئیں گے۔اس لئے مما کہہ رہی تھیں کہ آ کر کھانا کھا لیں اور پڑوسیوں کو زیادہ سر نہ چڑھائیں۔”
بچے نے دادی کے سامنے من و عن اپنی ماں کے الفاظ دہرا دیئے۔کمیل اور غزنوی دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر رہ گئے جبکہ بلقیس بیگم ان کے سامنے شرمندہ ہو گئیں۔
“ائے ہائے۔۔تمھاری ماں کے منہ کے آگے تو خندق ہے۔۔چل جا گھر میں آ رہی ہوں۔”
وہ اپنی خجالت مٹانے کو بولیں اور ٹیپو کو جانے کو کہا۔ٹیپو بھی دادی کی بات پہ سر ہلاتا باہر بھاگ گیا۔
“بچو۔۔تم لوگ برا مت ماننا۔۔۔اسکی ماں ذرا اتھرے مزاج کی ہے۔تم لوگ نئے ہو نا اس لئے ایسا کہہ رہی ہے اور پھر روز روز کون کسی کی خدمت کرتا ہے۔۔یہ آجکل کی نسل کیا سمجھے۔۔پڑوسیوں کا بڑا حق ہوتا ہے۔ویسے میری بہو کی بھی غلطی نہیں آجکل زمانہ بھی خراب ہے نا۔۔کوئی بات بری لگی ہو تو معاف کر دینا۔”
وہ گھٹنوں پہ ہاتھ رکھے اٹھ کھڑی ہوئیں۔
“ارے نہیں خالہ۔۔۔آپ ہمیں شرمندہ کر رہی ہیں۔”
غزنوی نے فورا کہا۔
“اللہ خوش رکھے۔۔۔اچھا تم لوگ کھانا کھاؤ۔۔میں چلتی ہوں۔۔برتنوں کے لئے ٹیپو کو بھیج دوں گی۔”
وہ دھیرے دھیرے قدم اٹھاتی بولیں۔
“بہت شکریہ خالہ۔۔”
غزنوی کو انھیں شرمندہ دیکھ کر اچھا نہیں لگا۔
“ائے جیتے رہو بیٹا۔۔۔کچھ چاہئیے ہو تو بتانا، شرمانا نہیں۔۔یہ ساتھ ہی نسواری دروازے والا میرا گھر ہے۔۔تم آؤ گے تو مجھے خوشی ہو گی۔”
وہ یہ کہتی پلٹ گئیں۔
“جی ضرور۔۔۔آئیے میں آپکو چھوڑ آؤں۔”
کمیل ان کے پیچھے آیا تھا۔
“ارے نہیں نہیں بیٹا۔۔۔تم کھانا کھاؤ۔۔میں چلی جاوں گی۔”
بلقیس بیگم نے کمیل کو ساتھ آتے دیکھ کر کہا۔
“کوئی بات نہیں خالہ۔۔”
اس نے انھیں شانے سے تھاما۔۔اس کے اتنے اسرار کرنے پہ بلقیس بیگم خاموش ہو گئیں اور کمیل کے سہارے باہر کی جانب چلدیں۔
“ائے دیکھو مجھ بھلکڑ کو۔۔میں پھر بھول گئی۔۔ائے میاں تم شادی شدہ ہو؟”
ابھی وہ لاونج کے دروازے تک پہنچے ہی تھے کہ بلقیس بیگم ماتھے پہ ہاتھ مارتیں غزنوی کی جانب پلٹی تھیں۔غزنوی کا ٹرے کی طرف بڑھتا ہاتھ وہیں تھم گیا۔
“جی جی خالہ۔۔یہ میاں شادی شدہ ہے بلکہ ایک بچے کا باپ بھی ہے۔”
غزنوی کی بجائے کمیل نے جواب دیا تھا جبکہ غزنوی بچے کے بارے میں سن کر کمیل کو سخت نظروں سے دیکھ رہا تھا۔کمیل کو یقین تھا کہ بلقیس بیگم کے چلے جانے کے بعد اسکی خیر نہیں۔وہ ہنسی ضبط کیے غزنوی کو ہی دیکھ رہا تھا۔دونوں ایک دوسرے کو آنکھیں دکھانے میں اس قدر مگن تھے کہ بلقیس بیگم کا تاریک ہوتا چہرہ نہ دیکھ سکے مگر پھر وہ خود کو سنبھال کر بولیں۔
“ماشاءاللہ۔۔! تو بیٹا اکیلے یہاں نہ رہنا، بیگم کو لے آنا جا کر۔۔۔اس بہانے میرا بھی دل لگا رہے گا۔”
غزنوی مسکرا دیا۔
“جی خالہ۔۔بھابھی جلد ہی آئیں گی۔”
کمیل جلدی سے بولا۔
“انشاءاللہ۔۔۔انشاءاللہ۔۔۔اچھا اللہ کے حوالے۔”
بلقیس بیگم دعائیں دیتیں پلٹ گئیں۔کچھ دیر بعد کمیل گنگناتا ہوا واپس آیا۔
“کیا ضرورت تھی اتنی بکواس کرنے کی۔۔منہ کو ذرا لگام نہیں لگا سکتے تھے۔جب دیکھو تمھارا یہ کاہل دماغ کا پرندہ جھوٹ کے انڈے دینے لگتا ہے۔”
غزنوی اس پہ چڑھ دوڑا۔
“ارے یار جھوٹ کہاں بولا۔۔۔تُو شادی شدہ ہے کہ نہیں۔۔ہے نا۔۔؟؟”
کمیل اسکی حالت سے حظ اٹھاتا بولا۔
“بکواس نہ کرو۔”
غزنوی نے اسے گھورا۔
“اور مجھے یقین ہے کہ جو تیرا ارادہ ہے۔۔بھابھی کو تو جب تک یہاں لانے پہ راضی ہوگا تیرے ایک تو کیا تین چار بچے تو ہو ہی جانے ہیں۔”
کمیل شرارتی انداز میں ہنستے ہوئے بولا جبکہ وہ اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔
“چل یار پیٹ میں چوہے دوڑ رہے ہیں۔”
کمیل نے صوفے پہ بیٹھ کر ٹرے اپنی جانب کھسکائی۔غزنوی نے بھی فلور کشن ٹیبل سے قریب کیا۔کمیل نے بریانی پہ ہاتھ صاف کرنا شروع کر دیئے تھے اور خاموشی سے کھانا کھاتے ہوئے کسی کی یاد غزنوی کے دل کے دروازے پہ دستک دیتے ہوئے اپنے ہونے کا احساس دلا رہی تھی۔جس سے پیچھا چھڑانے کی کوشش کارگر ثابت نہیں ہو رہی تھی۔
___________________________________________
آج مایوں کی رسم تھی۔گھر میں مہمانوں کی آمد شروع ہو چکی تھی۔گھر میں کافی چہل پہل تھی۔غزنوی دو دن کا کہہ کر گیا تھا مگر اب تک واپس نہیں آیا تھا۔مایوں کی رسم کے لئے گھر کے لان میں ہی ڈیکوریشن کی گئی تھی۔پورے گھر کو برقی قمقموں سے سجایا گیا تھا۔یہ سجاوٹ مکرم احمد کے پورشن میں کی گئی تھی۔پورا گھر کسی خوبصورت محل کا سا منظر پیش کر رہا تھا۔پیلے، گلابی اور نارنجی رنگوں سے پورے لان کو سجایا گیا تھا۔
ایک جانب گلابی رنگ کے صوفے کو دلہنوں کے لئے نشست کے طور پر سجایا گیا تھا۔صوفے کے سامنے کے حصے کے کو چھوڑ کر پیچھے اور اطراف میں پیلے، گلابی اور نارنجی رنگ کے پھولوں کی لڑیاں لٹک رہی تھیں جو صوفے کے اوپر بنی آرٹیفیشل گلابی اور نارنجی رنگ کی چھوٹی سی چھت کے وسط میں لگے پھولوں کے گلدستے سے جوڑیں گئیں تھیں جو ایک پھولوں کے تخت کا سا منظر پیش کر رہا تھا۔اردگرد مہمانوں کے بیٹھنے کے لئے بھی کرسیاں لگائی گئیں تھیں۔وقفے وقفے سے مہمانوں کی آمد نے اِس رونق میں اضافہ کیا تھا۔لڑکے اپنی تیاری مکمل کر کے لان میں ہی موجود تھے۔گھر کی خواتین اور مرد بھی، مہمانوں کے استقبال کے لئے موجود تھے۔جو مہمان موجود تھے سبھی عقیلہ بیگم کو مبارکباد دینے کے بعد خوش گپیوں میں مشغول تھے۔ساری لڑکیاں ادھر سے ادھر چہکتی پھر رہی تھیں۔ان کے لئے شمائلہ بیگم نے بیوٹیشن کو گھر پر ہی بلوایا تھا۔
ساتھ والے پورشن میں مہمانوں کے لئے کھانے کا انتظام کیا گیا تھا۔سحرش اور پرخہ تیار ہونے پالر جا چکی تھیں۔۔دونوں کی مایوں کی رسم اکٹھی ہی ہونی تھی جبکہ دونوں دولہے ہادی اور مصطفی بھی اپنی اپنی تیاری میں مگن تھے۔کچھ لڑکیوں کی تیاری مکمل تھی اور کچھ تیار ہو رہیں تھیں۔ایمان ابھی تک تیار نہیں ہوئی تھی۔اس وقت وہ کچن میں تھی۔
“ایمان۔۔بیٹا اب تک تیار نہیں ہوئی تم۔۔؟”
شمائلہ بیگم کچن میں آئیں تو وہ کچن میں مٹھائی کے ٹوکرے رکھوا رہی تھی۔
“جی امی بس جا ہی رہی تھی۔”
ایمان ڈوپٹہ درست کرتے ہوئے بولی۔
“جلدی جاو بیٹا۔۔تیار ہو جاؤ میں بیوٹیشن کو بھیجتی ہوں تمھارے روم میں۔۔”
شمائلہ بیگم اسے کہتی پلٹ کر جانے لگیں۔
“جی۔۔”
وہ ایک آخری نظر کچن پر ڈالتی ان کے پیچھے ہی نکلی۔
“اور ہاں۔۔یہ غزنوی ابھی تک نہیں پہنچا۔۔۔ذرا فون کر کے معلوم کرو۔۔”
وہ اسے ہدایت دیتی واپس مڑ گئیں۔وہ سست قدموں سے چلتی اپنے کمرے میں آ گئی۔شمائلہ بیگم نے آج کے لئے اسکا ڈریس بیڈ پہ رکھا تھا۔یہ پیلے رنگ کا جدید تراش خراش کا بہت خوبصورت ڈریس تھا۔وہ بجھے دل سے کپڑے اٹھا کر واش روم میں گھس گئی۔فریش ہو کر باہر آئی تو بیوٹیشن باہر اس کے انتظار میں بیٹھی تھی۔اسے باہر آتا دیکھ کر وہ اٹھ کھڑی ہوئی اور مسکراتے ہوئے اسکی جانب بڑھی۔پیلے جوڑے میں وہ اِس سادگی میں بھی غضب ڈھا رہی تھی۔پیلے رنگ میں اسکی سپید رنگت دمک رہی تھی۔
“آپ تو بنا میک اپ کے بھی بہت پیاری لگ رہی ہیں۔”
بیوٹیشن نے ایمان کی موہنی صورت کو توصیفی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔ایمان نے مسکراتے ہوئے اسے شکریہ کہا اور پھر ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے بیٹھ گئی۔بیوٹیشن اسکے بیٹھتے ہی اپنا بیوٹی بکس کھول چکی تھی اور پھر ماہرانہ انداز سے اسکے چہرے کے ملکوتی نقوش کی نوک پلک سنوارنے میں لگ گئی۔ساتھ ہی ساتھ اس سے باتیں بھی کرتی جا رہی تھی۔
“امی میرے کپڑے نکال دیجیئے آ کر۔۔۔میں ابھی ریڈی۔۔۔”
غزنوی بجلی کی سی تیزی سے کمرے میں داخل ہوا تھا۔اسے یوں اچانک کمرے میں داخل ہوتے دیکھ کر ایمان کھڑی ہو گئی اور بیوٹیشن جو اسکا ڈوپٹہ پن اپ کرنے کی سعی کر رہی تھی اس کے ہاتھ سے ڈوپٹہ چُھوٹ کر ایمان کے شانے سے ہوتا چیئر پہ ٹھہر گیا۔بیوٹیشن ایمان کی کنڈیشن دیکھ کر جان گئی تھی کہ آنے والا کون ہو سکتا ہے۔دوسری جانب غزنوی کی حالت بھی ایمان سے کسی صورت کم نہیں لگ رہی تھی۔وہ دروازے پہ ہاتھ رکھے وہیں مجسمے کیطرح کھڑا رہ گیا تھا اور ٹکٹکی باندھے ایمان کو دیکھ رہا تھا۔
“آ۔۔۔۔اسے یونہی رہنے دیں۔”
ایمان فورا رخ پھیر کر بیوٹیشن کو ڈوپٹے سے الجھتے دیکھ کر بولی تھی۔
“ٹھیک ہے۔۔۔بس آپ ریڈی ہیں۔”
وہ اپنے بیوٹی بکس میں جلدی جلدی چیزیں ڈالتے ہوئے بولی اور بکس بند کر کے کھلے دروازے سے باہر نکل گئی۔غزنوی تو وہیں قدم جمائے کھڑا ایمان کی جانب دیکھ رہا تھا۔بیوٹیشن کمرے سے نکلتے ہوئے اپنے پیچھے دروازہ بند کر دیا تھا۔دروازہ بند ہونے کی آواز غزنوی کو ہوش میں لے آئی۔ایمان بھی اس سے نظریں چرائے ڈریسنگ ٹیبل پہ رکھی چیزوں کو خواہ مخواہ ہی ادھر ادھر کر رہی تھی۔
“السلام و علیکم۔۔”
ایمان نے بار بار شانے سے ڈھلک جانے والے ڈوپٹے کو سنبھالتے ہوئے دروازے کے پاس قدم جمائے کھڑے غزنوی کو دیکھ کر سلام کیا۔
“وعلیکم السلام۔۔”
غزنوی نے سلام کا جواب دیا اور جیب سے گاڑی کی چابی اور موبائل نکال کر بیڈ کی طرف بڑھا۔ایمان نے پلٹ کر اسے دیکھا۔بڑھی ہوئی شیو۔۔۔ملگجا لباس اور چہرے پہ چھائی سنجیدگی۔۔۔وہ اسے بہت تھکا ہوا سا لگا۔
“میرے کپڑے نکال دو۔”
کمرے کی خاموشی کو غزنوی کی سنجیدہ آواز نے توڑا۔ایمان الماری کی طرف بڑھی تھی۔غزنوی کی طرف اسکی پیٹھ تھی۔وہ الماری کے پٹ کھولے کپڑے نکال رہی تھی۔پیلے جوڑے میں ہلکا ہلکا میک اپ کیے وہ نظر لگ جانے کی حد تک خوبصورت لگتی بڑے سے ڈوپٹے کو سنبھالنے میں وہ ہلکان ہو رہی تھی۔غزنوی شرٹ کے اوپری بٹن کھولتا، بےخود انداز میں دھیرے دھیرے چلتا اسکے پیچھے آ کھڑا ہوا۔وہ الماری سے سفید شلوار سوٹ نکال کر مڑی۔یوں اپنے پیچھے اسے کھڑے دیکھ کر ایک پل کو تو وہ گھبرا گئی۔
“یہ لیں۔۔”
ایمان نے ڈریس اسکی طرف بڑھایا۔غزنوی نے کپڑے اس کی ہاتھ سے لیے اور ایک بھرپور نظر اس پہ ڈالتا واش روم کی طرف بڑھ گیا۔غزنوی کے سامنے سے ہٹ جانے سے اسکا کب کا رکا ہوا سانس بحال ہوا۔وہ جیسے اسے دیکھ رہا تھا ایمان کا دم اٹکا ہوا تھا۔ایمان کو وہ پہلے سے بہت بدلہ بدلہ سا لگا۔پہلے وہ اسکی جانب دیکھتا تک نہ تھا مگر اب اسکی آنکھیں کچھ اور کہہ رہی تھیں اور انداز کچھ اور۔۔۔اسکی بولتی آنکھیں ایمان کو اپنے آر پار ہوتی محسوس ہوتی تھیں۔غزنوی کے نظروں سے اوجھل ہوتے ہی وہ کمرے سے باہر نکلی۔سبھی لڑکیاں نک سک سے تیار لاؤنج میں کھڑی ایک دوسرے کی تیاری پہ کمنٹس پاس کر رہی تھیں۔
“ارے واہ۔۔۔ہماری بھابھی نے تو آج میدان لوٹ لینا ہے۔”
ملائکہ نے ایمان کو سیڑھیوں سے اترتے دیکھ کر ان سب سے کہا۔سبھی نے ایمان کو دیکھ کر اوئے ہوئے کے نعرے لگائے۔ایمان لبوں پہ شرمیلی مسکان لئے ان کے قریب آئی۔کتنے دنوں سے اس پہ چھائی یاسیت نجانے کہاں چھپ گئی تھی۔سبھی نے رسم کی مناسبت سے پیلے رنگ کے ڈریسز بنوائے تھے مگر تمام لباس تراش خراش میں ایک دوسرےسے مختلف تھے۔وہ سبھی ایمان کو ساتھ لئے ہنستی کھلکھلاتی لان میں آئیں۔
“لیجیئے شاہ گل سبھی چڑیلیں نازل ہو چکی ہیں۔”
احد کی نظر ان پہ پڑی تو اس نے عقیلہ بیگم کو متوجہ کیا تھا۔انھوں آنکھوں ہی آنکھوں میں ان سب کی نظر اتاری۔۔سارے لڑکے بھی عقیلہ بیگم کے اردگرد کرسیاں ڈالے بیٹھے تھے۔
“ماشاءاللہ ۔۔۔۔میری بیٹیاں کتنی پیاری لگ رہی ہیں۔”
عقیلہ بیگم نے ان کے قریب آنے پہ کہا۔
“تھینک یو شاہ گل۔۔۔”
عنادل نے اپنے کھلے سلکی بالوں کو اٹھلا کر پیچھے کیا تھا۔
“توبہ توبہ کیا زمانہ آ گیا ہے۔۔کیسے کیسے لوگ ہیں دنیا میں۔۔صبح تک تو ساری چڑیلیں تھیں اور اب ایک دم سے پریاں۔۔۔یہ کون سی جادو کی چھڑی ہے بوا۔۔۔آپ کو معلوم ہو تو مجھے بھی بتائیے گا۔”
احد نے ساتھ بیٹھی بوا کو بھی بیچ میں گھسیٹ لیا۔
“ہاں ہاں بوا۔۔۔میں بھی جاننا چاہوں گا۔”
مرتضی نے بھی اپنی ٹانگ اڑانی چاہی۔طہ اور فروز بھی ہنس دئیے تھے۔
جیسے وہ کسی بڑے سنجیدہ موضوع پہ بات کر رہا ہو۔خیرن بوا اسکا اشارہ سمجھ کر منہ پہ ڈوپٹہ رکھ کر ہنسنے لگی تھیں۔
“احد۔۔۔۔”
عقیلہ بیگم نے اسے تنبیہی انداز میں گھورا۔
“شاہ گل۔۔۔اس لمبو کو سمجھا دیں کہ ہم سے نہ ٹکرائے ورنہ پاش پاش ہو جائے گا۔”
ارفع نے احد کی محبت کا نغمہ سناتی آنکھوں میں جھانکا۔
“ہونہہ۔۔۔چلو گرلز وہاں چلتے ہیں۔”
ارفع نے ناک منہ چڑھاتے ہوئے احد کی طرف دیکھا اور صوفے کے دائیں طرف تھوڑے سے فاصلے پہ رکھے تخت کی جانب اشارہ کیا جسے بھی پھولوں سے سجایا گیا تھا اور وہیں ڈھولک بھی موجود تھی۔اگلے ہی لمحے وہ سبھی وہاں تخت پہ بیٹھی ڈھولک پیٹ رہی تھی۔
“جاو بیٹا بہنوں کو لے آو تاکہ رسم شروع کی جائے۔”
عقیلہ بیگم نے احد سے کہا۔وہ مرتضی، طٰہٰ اور فروز بھی اٹھ کھڑے ہوئے۔
“خیرن ذرا ان کے ساتھ جاؤ یہ نہ ہو کہ بچیوں کو یونہی ہاتھ سے پکڑ کر لے آئیں۔”
عقیلہ بیگم نے ہنستے ہوئے خیرن بوا سے کہا تو وہ اپنا سفید غرارہ سنبھالے اٹھ کھڑی ہوئیں۔چاروں لڑکے آگے آگے اور خیرن بوا ان کے پیچھے پیچھے اندر کی جانب بڑھ گئیں تھیں۔
جاری ہے۔۔۔
