Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj NovelR50730 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode04
No Download Link
634K
18
Rate this Novel
Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode01 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode02 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode03 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode04 (Watching)Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode05 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode06 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode07 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode08 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode09 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode10 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode11 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode12 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode13 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode14 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode15 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode16 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode17 Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Last Episode
Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode04
Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode04
وہ باہر آیا تو اسکی نظریں ایمان ہی کو تلاش کر رہی تھیں مگر وہ کمرے میں نہیں تھی۔اس نے اپنے دل کی کارستانیوں پہ اسے جھڑکتے ہوئے باقی کی تیاری مکمل کی۔سفید شلوار سوٹ پہ اسکے لئے پیلے رنگ کا صافہ بھی رکھا گیا تھا مگر وہ اس نے بیڈ پہ چھوڑ دیا۔الماری سے اپنی بلیک واسکٹ نکال کر پہنی اور کمرے سے باہر آ گیا۔گھر کے اندر مکمل خاموشی تھی۔وہ تیزی سے سیڑھیاں اتر کر لاؤنج سے ہوتا لان کی طرف بڑھنے والا تھا کہ شمائلہ بیگم کے پکارنے پر پلٹا۔وہ اپنے کمرے سے نکل رہی تھیں۔ان کے ہاتھ میں پیلے اور سفید رنگ کے پھولوں کے دو گجرے تھے۔
“جی امی۔۔”
وہ ان کے پاس آیا۔
“ماشاءاللہ۔۔!! میرا بیٹا کتنا پیارا لگ رہا ہے۔”
شمائلہ بیگم نے اس کے چہرے پہ ملائمت سے ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔سفید شلوار سوٹ پہ بلیک واسکٹ اور بلیک پشاوری چپل پہنے وہ واقعی کسی شہزادے سے کم نہیں لگ رہا تھا۔چہرے پہ بلا کی سنجیدگی تھی۔ہلکی بڑھی ہوئی داڑھی سے بھی اسکی آن بان میں کوئی کمی نہیں آئی تھی بلکہ یہ سنجیدہ انداز اسے سب میں مختلف اور مزید خوبرو بنا رہا تھا۔انھوں نے آنکھوں آنکھوں میں اسکی نظر اتاری۔غزنوی ان کے اس انداز میں تعریف کرنے پہ مسکرا دیا۔
“اے دلہن جلدی آؤ نا۔”
خیرن بوا کی آواز پہ وہ دونوں پلٹے تھے۔وہ لاؤنج ہی کے دروازے میں کھڑی شمائلہ بیگم کی جانب دیکھ رہی تھیں۔
“بس آ ہی رہی تھی بوا۔”
شمائلہ بیگم نے گجرے غزنوی کی طرف بڑھائے مگر اس نے ہاتھ نہیں بڑھایا۔
“اۓ ماشاءاللہ غزنوی میاں۔۔!! دلہا تو تم لگ رہے ہو۔”
خیرن بوا اپنا سفید غرارا، جو رنگ برنگ قمقموں کی روشنی میں دمکنے لگتا تھا، سنبھالتے ہوئے ان کی طرف آئیں۔قریب آ کر انہوں نےغزنوی کے کندھے پہ ہاتھ رکھا۔
“السلام و علیکم بوا۔۔۔”
غزنوی نے سر کو تھوڑا سا خم دیا تھا۔انھیں دیکھ کر اسے بلقیس خالہ یاد آ گئیں تھیں۔ان چار دنوں میں بلقیس بیگم نے اسکا بہت خیال رکھاتھا۔دن میں تو وہ آفس میں ہی لنچ کر لیتا تھا لیکن وہ رات میں اسکے لئے کھانا ضرور بھجواتی تھیں۔
“وعلیکم السلام۔۔۔جیتے رہو۔۔کب آئے تم۔۔صبح سے تمھاری ماں تو باؤلی ہوئی جا رہی تھی۔”
خیرن بوا نے ڈوپٹہ سر پہ ٹھیک سے جماتے ہوئے شمائلہ بیگم کی جانب دیکھا۔شمائلہ بیگم مسکرا دیں تھیں۔
“بس ابھی کچھ دیر پہلے ہی پہنچا ہوں بُوا۔۔ایک کام میں پھنس گیا تھا کہ وقت پر نکلنا نہ ہو سکا۔آپ کو تو پتہ ہے کسی بھی کام کی شروعات اتنی آسان نہیں ہوتی۔۔بس اسی وجہ سے دیر ہو گئی۔امی کو تو فون پر کہا بھی تھا کہ دیر ہو سکتی۔۔امی تو یونہی پریشان ہوتی رہتی ہیں۔”
وہ ماں کے کندھے پر بازو پھیلاتے ہوئے انھیں خود سے قریب کرتے ہوئے بولا۔
“اے لو یہ بھی خُوب کہی تم نے میاں۔۔ماں ہے تمھاری۔۔۔اور پھر یہ پریشان بھی کیوں نہ ہو۔۔۔تم اب چھڑے چھانٹ نہیں ہو کہ بس شتر بےمہار پھرتے رہو گے۔۔اب تمھاری دلہن ہے اور دلہن بھی ایسی کہ جسکے منہ میں زبان تو ہے مگر زنگ کی ماری ہوئی۔”
خیرن بوا ماتھے پہ ہاتھ مار کر بولیں تو غزنوی ہنس دیا۔
“بوا کیسی باتیں کر رہی ہیں آپ۔۔ایمان ذرا خاموش طبیعت کی ہے۔”
شمائلہ بیگم نے بہو کی سائیڈ لی۔
“ائے دلہن۔۔۔میں کیا جھوٹ بول رہی ہوں۔۔اب ایسی بھی کیا خاموشی کہ زبان کو زنگ لگ جائے۔۔ائے پہلے کون سا بولتی تھی مگر میاں کے جانے کے بعد تو ایسی چپ ہوئی کہ جیسے بی بی کی زبان بھی ساتھ ہی لے گئے ہوں۔”
خیرن بوا شروع ہو چکی تھیں جب کہ وہ دونوں ماں بیٹا مسکرا دیئے۔بُوا بھی ہنس دیں۔انھیں ایمان کی اس قدر خاموشی سے بہت کوفت ہوتی تھی اور پھر ایمان کو بھی غزنوی کے جانے کے بعد مزید چپ لگ گئی تھی۔
“ایسا نہیں ہے بُوا۔۔”
شمائلہ بیگم بہو کی طرف داری کرنے سے پیچھے نہ رہیں۔
“ائے بس تم تو خاموش ہی رہو دلہن۔۔۔اوپر سے تم نے اسے بےجا لاڈ پیار سے سر پر چڑھا رکھا ہے۔ائے یہ بھی کوئی لڑکی ہے۔۔بس ہاں۔۔ہوں۔۔نہیں۔۔ہی سکھا رکھا ہے اماں باوے نے۔۔جہاں بٹھاؤ وہیں بیٹھی رہتی ہے۔”
خیرن بوا جس کام کے لیے آئیں تھیں وہ بھول چکیں تھیں۔غزنوی کے چہرے سے مسکراہٹ ایک دم سے غائب ہوئی تھی۔وہ خیرن بُوا کی بات سن کر حیران ہوا تھا کہ انہوں نے ایمان کی خاموشی کو اسکے یہاں سے چلے جانے سے مشروط کیا تھا۔
“چلیں چھوڑیں بُوا۔۔۔یہ بتائیں آج آپ کی بہن نے بھی تو آنا تھا نا۔۔کیاوہ آ گئیں ہیں؟”
شمائلہ بیگم نے انکی توجہ ایمان کی جانب سے ہٹانی چاہی اور اسمیں کامیاب بھی رہی تھیں۔
“ارے ہاں۔۔دیکھو میں تو بھول ہی گئی۔۔میں تمھارے پیچھے آئی تھی کہ وہ آ گئی ہے آ کر مل لو۔۔”
خیرن بوا نے ماتھے پہ ہاتھ مارا۔
“جی جی۔۔چلیں۔۔غزنوی۔۔بیٹا یہ گجرے ایمان کو دے دو۔”
شمائلہ بیگم نے گجرے غزنوی کے ہاتھ میں دیئے اور خیرن بوا کے ساتھآگے بڑھیں۔غزنوی ہاتھ میں پکڑے پھولوں کے گجرے کو دیکھ رہا تھا۔
“ایک تو نگوڑ مارا یہ گانے بجانے والا جو لے کر آئے ہیں یہ لونڈے۔۔کمبخت۔۔!! ایسا شور مچا رکھا ہے کہ کان پڑی آواز سنائی نہ دے۔ایسا شور۔۔اللہ کی پناہ۔۔۔باہر سے اندر آو تو بُھولا ہوتا ہے کہ بھیا کس کام کے لئے آئے تھے۔شکر ہے کہ تم نے یاد دلا دیا۔لو دیکھو۔۔!! ہم تو سمجھے تھے کہ یہ ہماری لڑکیاں ہیں جو اوٹ پٹانگ گانے گاتی ہیں، جن کا نہ سر ہے نہ پیر۔۔یہاں تو آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔”
خیرن بوا نان اسٹاپ بولتی شمائلہ بیگم کے ساتھ لاؤنج سے نکل گئیں۔
“اب پھر اس جادوگرنی کی شکل دیکھنی پڑے گی۔”
وہ دل ہی دل میں کڑتا لان کی جانب بڑھ گیا۔
️
“یہ سب کے سامنے میں نے اسے دیئے تو سب کو موقع مل جانا ہے۔”
ہاتھ میں گجرے لئے وہ لاؤنج کے دروازے پر کھڑا سوچ رہا تھا۔
“اف۔۔۔امی کو بھی یہ کام مجھ سے ہی کروانا تھا۔خود دے دیتیں یا کسی اور کسی اور سے کہہ دیتیں۔اب یہ کام بھی میں کروں گا۔”
وہ کوفت کا شکار ہونے لگا۔کچھ دیر وہیں کھڑا رہا پھر کچھ سوچ کر واپس اپنے کمرے میں آ گیا مگر آنے سے پہلے وہ گجرے ٹیبل پہ رکھ کر لان میں آیا۔نظریں ادھر ادھر گھمائیں تو ایمان اسے ملائکہ اور باقی سب کے ساتھ تخت پر بیٹھی دکھائی دی۔اس نے کچھ قریب آ کر ملائکہ کو آواز دی۔ملائکہ کے دیکھنے پر اس نے اسے اشارے سے پاس بلایا۔
“جی بھائی۔۔۔”
ملائکہ نے پاس آ کر پوچھا۔
“ذرا اپنی بھابی کو بھیجو۔۔۔میں روم میں ہوں۔۔ایک شرٹ آئرن کر دے۔”
غزنوی نے ملائکہ سے کہا اور فورا واپس مڑ گیا۔ملائکہ واپس آئی اور ایمان کو غزنوی کا پیغام دے دیا۔شرٹ استری کرنے کا سن کر وہ ریلیکس انداز میں لاؤنج سے گزر کر اپنے کمرے میں آئی تھی مگر وہاں تو بپھرا ہوا شیر بیٹھا تھا۔جیسے ہی وہ کمرے میں داخل ہوئی وہ بیڈ سے اٹھ کر تیر کی سی تیزی سے اس کے پاس آیا۔کچھ لمحے تو وہ اسے گھورتا رہا۔ایمان کے دل میں غزنوی کو لے کر کوئی خوش فہمی تو تھی نہیں مگر ایسا بھی نہیں لگ رہا تھا کہ وہ اتنے غصے میں ہوگا۔اب تو وہ اسکے مزاج کے سارے رنگوں سے آشنا ہو چکی تھی۔۔آسانی سے اسکی آنکھیں پڑھ لیتی تھی۔
“یہ لو۔۔۔”
ابھی تو وہ اپنی غلطی ڈھونڈ ہی رہی تھی کہ غزنوی نے گجرے اسکی طرف اچھالے، جو اس سے ٹکرا کر اسکے پیروں میں گر گئے۔
“اگر تمھیں یہ چونچلے کرنے کا بہت شوق ہے تو اپنے یہ شوق کسی اور سے پورے کرواؤ۔۔۔مجھ سے ایسی کوئی امید نہ رکھنا۔”
غزنوی نے گجروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حقت آمیز لہجے میں کہا۔ایمان اس کے لہجے اور الفاظ پہ غور کرتی جھکی اور پیروں کے قریب پڑے گجرے اٹھا لیے۔
“اور ہاں۔۔۔اپنی یہ خواہشیں میری ماں کے ذریعے پوری کرنا چھوڑ دو۔۔۔جاؤ اب یہاں سے۔۔”
نخوت سے کہتا وہ رخ پھیر گیا۔ایمان کو پہلے کبھی اتنی تحقیر محسوس نہیں ہوئی تھی۔
“آ۔۔۔آپ کو کوئی غلط۔۔۔۔۔”
گلگوں لہجے میں وہ کہہ رہی تھی مگر اس سے پہلے کہ وہ بات مکمل کرتی وہ تیزی سے اس کے پاس سے گزر کر کمرے سے نکل آ گیا۔غزنوی کی اس بے اعتنائی کو دیکھکر آنکھوں میں ڈولتی نمی گالوں پہ چھلک آئی تھی۔
“ایمان۔۔۔!!”
ملائکہ کی آواز پر اس نے جلدی سے آنسو پونچھے اور گجرے پہن کر دروازے کی طرف آئی۔
“آ رہی ہوں۔۔۔”
وہ دروازہ کھول کر باہر آئی تو ملائکہ دروازے کے پاس ہی کھڑی تھی۔
“چلو۔۔۔”
وہ دونوں ساتھ ساتھ چلتی لاؤنج میں آئیں تو غزنوی وہیں لاؤنج میں بیٹھا تھا۔
“بھائی آپ یہاں کیوں بیٹھے ہیں؟”
ملائکہ غزنوی کے پاس آئی تھی۔جو ان کو پاس آتے دیکھکر اب موبائل کان سے لگائے کسی سے بات کر رہا تھا۔
“کچھ نہیں۔۔ایک ایمپورٹنٹ کال کر رہا تھا۔”
اس نے ملائکہ کے ساتھ کھڑی ایمان کو دیکھا۔جو اس کی جانب دیکھ بھی نہیں رہی تھی۔اس نے ایک سرسری سی نظر ایمان پر ڈالی اور موبائل پاکٹ میں ڈالتا اٹھ کھڑا ہوا اور پھر لاؤنج سے نکل گیا۔وہ دونوں بھی اس کے پیچھے ہی باہر آئیں تھیں۔
____________________________________
“فائقہ جاو ذرا اس ڈی جے بھائی کو تو بند کرواؤ۔۔۔منحوس جان بوجھ کر ہمارے گانوں میں اپنے گانے اڑا رہا ہے۔”
لاریب نے فائقہ کے ہاتھ سے ڈھولک کھینچی۔
“خودی جاؤ۔۔میں نہیں لگتی اس کالے کے منہ۔۔۔منحوس کے سرخ ڈیلے تو ملاحظہ کرو۔۔ساری لڑکیوں پہ ایسے گھما رہا ہے جیسے اس کی رشتےدار ہوں۔میں نہیں جا رہی۔۔۔اسکے ڈیلوں کو برداشت کرنا میرے بس سے باہر ہے۔”
فائقہ نے ڈھولکی لاریب سے لےکر وہاں جانے سے انکار کیا۔
“ارے آپ مجھ سے کہیے۔۔۔کیا کام ہے۔۔۔میں ابھی فٹافٹ کر دوں گا۔”
مرتضیٰ اسی وقت وہاں آیا اور کرسی کھینچ کر ان کے قریب ہی بیٹھ گیا۔اس کے چہرے پر شرارت ناچ رہی تھی۔
اس کے چہرے پر شرارت ناچ رہی تھی۔
“مرتضی بھائی جائیں ذرا اس ڈی جے بھائی کا گلا تو دبا کر آئیں۔
“لاریب نے فورا مرتضی سے کہا۔لاریب کے بھائی کہنے پر اسکے چہرے کا ذاویہ بگڑا تھا۔
“یار تمھیں کتنی بار کہا ہے کہ میں کسی کا بھائی وائی نہیں ہوں۔۔تمھیں بڑی خواہش ہے میری بہن بننے کی۔اگر تم یہ بھائی کا صیغہ ہٹا کر ذرا پیار سے کہو تو گلا تو کیا ڈائریکٹ اوپر پہنچا نہ دوں تو کہنا۔ہمیشہ کانٹے ہی بھیجتی ہو مجھے زخمی کرنے کے لئے۔”
مرتضی نے آنکھوں ہی آنکھوں میں لاریب کو محبت کے تار بھیجے۔
“اچھا مرتضی بھائی ذرا میوزک بند کروائیں۔”
اس بار عنادل نے کہا تو وہ ایک نظر لاریب پر ڈالی اور سر ہلاتا ڈی جے کی طرف چلا گیا۔اس کے جانے کے بعد وہ سبھی لبوں پہ مسکراہٹ لئے لاریب کو گھور رہی تھیں۔لاریب نے ان سب کی مسکراتی نظروں کے جواب میں لاعلمی ظاہر کرتے ہوئے کندھے اچکا کر رہ گئی۔
“یہ کیا چل رہا ہے۔۔؟”
عنادل نے لاریب کو ٹہوکا دیا۔
“قسم سے عنادل مجھے نہیں پتہ۔۔”
لاریب نے چہرے پر دنیا جہان کی معصومیت سجاتے ہوئے کہا۔
“واہ واہ۔۔۔۔کیا معصومیت ہے۔”
ملائکہ نے بھی لاریب کی خبر لی۔فائقہ اور ارفع بھی اسے دیکھ کر اشارے کر رہی تھیں جبکہ ایمان مرتضی کے دل کی کیفیت سے واقف تھی
“تم لوگوں کا تو دماغ خراب ہو گیا ہے۔”
لاریب نے ڈھولکی فائقہ کی طرف دھکیلی۔۔فائقہ نے کے پہلے آئیے پہلے پائیے کے مصداق جلدی ڈھولکی پر اپنا تسلط جمایا کیا۔میوزک بند ہو چکا تھا۔اسی دوران غزنوی، طہ، مرتضی اور احد خیرن بوا کے ہمراہی میں پرخہ اور سحرش کو سرخ چمکیلے دوشالے کے سائے میں لان میں لائے۔سارے مہمانوں کی نظریں ان پر جمی تھیں۔وہ سب بھی محبت بھری نگاہوں سے پرخہ اور سحرش کو دیکھ رہی تھیں۔وہ لگ بھی تو بہت پیاری تھیں۔ہادی اور مصطفی پہلے ہی سے ان کے لئے سجائی گئی نشست پہ براجمان تھے اور اب انھیں اپنی طرف بڑھتا دیکھ کر اپنی جگہ سے کھڑے ہو گئے تھے۔ان کے آگے آگے خیرن بوا تھیں جو وقفے وقفے سے لڑکوں کو ہدایات دیتی جا رہی تھیں۔احد تو اپنی شرارتوں سے باز نہیں آ رہا تھا۔خیرن بوا کہتیں کچھ اور وہ کرتا کچھ۔۔۔جس پر خیرن بوا غصے سے لال پیلی ہوئی جا رہی تھیں۔
___________________________________
جیسے ہی پرخہ اور سحرش نے نشست سنبھالی۔۔ان کے ہاتھوں میں جان آ گئی۔فائقہ ڈھولک بجا کم اور پیٹ زیادہ رہی تھی اور باقی سب گانا سوچنے میں لگی تھیں۔سارے مہمانوں کا دھیان پہلے تو مایوں کی دولہنوں پر تھا مگر جیسے وہ شروع ہوئیں، سبھی کا دھیان ان کی جانب ہو گیا۔
“یار تم لوگ تو سوچتے رہو۔۔۔میں تو گا رہی ہوں۔۔۔”
فائقہ نے ڈھولک بجانے سے سرخ ہوتی اپنی ہتھیلیوں کو آپس میں رگڑا اور پھر ان سبھی کو کھسر پھسر کرتے دیکھ کر کہا۔وہ سب اسے دیکھنے لگیں۔وہ اسے روکنا چاہتی تھیں کیونکہ وہ جانتی تھیں کہ وہ ایک گانا گائے گی اور مجبوراً انھیں بھی اسکا ساتھ دینا پڑے گا۔۔۔اس سے پہلے وہ گانا سوچتی فائقہ شروع ہو چکی تھی۔
“ٹپیاں دی اے واری۔۔
میں کُڑی پِشور شہر دی_ٹپیاں توں نہ ہاری۔۔”
جیسے ہی فائقہ شروع ہوئی وہ سب بھی اسکا ساتھ دینے لگیں۔
سارے مہمان مسکراتے لبوں کے ساتھ تالیاں بجا کر انھیں داد دے رہے تھے۔مرتضی، فروز اور احد اپنی اپنی کرسیاں کھینچ کر ان کے قریب آ چکے تھے۔
فائقہ نے ارفع کو اشارہ کیا تو ارفع ہنستے ہوئے گانے لگی۔
“میری ہوں وچ توں دسدا۔۔
جتھے تجھے چلے ماہی، جی کرے اُتھے اُتھے بِچھ جاں۔۔”
ارفع نے اپنی میٹھی آواز کا جادو چلایا۔اب وہ سب ہنستے ہوئے ارفع کا ساتھ دے رہی تھیں۔
اب وہ سب لاریب کو دیکھ رہی تھیں۔
“اتھے پیار دی پچھ کوئی نہ۔۔
تیرے نال نیٌو بولنا۔۔تیرے منہ تے مُچھ کوئی نہ۔۔”
لاریب جیسے ہی خاموش ہوئی۔۔سب نے ہنستے ہوئے اسے داد دی۔خیرن بوا بھی ہنستی مسکراتی اپنا غرارہ سنبھالتے ان کے پس آ کر بیٹھ گئیں اور باقاعدہ ان کا ساتھ دینے لگیں۔اب سب کی نظریں عنادل کی طرف اٹھی ہوئی تھیں۔اس نے گلا کھنکھار کر تیاری پکڑی۔
“مزا پیار دا چکھ لاں گا۔۔۔
جے تیرا حکم ہوئے۔۔میں تاں داڑھی وی رکھ لاں گا۔۔”
ابھی عنادل نے منہ کھولا ہی تھا کہ مرتضی کی بلند آواز نے سب کو حیران کر دیا۔ساتھ ہی ساتھ وہ اپنی نادیدہ داڑھی پہ ہاتھ پھیرتے لاریب کو دیکھ یوں دیکھ رہا تھا جیسے اسے کہہ رہا ہو کہ “کیسا رہا”۔
لاریب ایک دم سے اسکے جواب دینے پر کنفیوز ہو گئی جبکہ احد، طہ اور فروز مرتضی کے ساتھ بیٹھے واہ واہ کی گردان لگا رہے تھے۔مہمانوں کے تالیاں بجا کر داد دینے پر مرتضی نے کھڑے ہو کر ان سے داد وصول کی۔
“ہم لڑکے والے ہیں مقابلہ کریں گے۔”
احد نے اپنی دھاک بٹھانی چاہی۔
“اچھا تو یہ بات ہے۔۔۔چلو لڑکیو تیار ہو جاؤ۔”
عنادل نے آستین اونچی کرتے ہوئے کہا تو مرتضی بھی چند اور بدمعاشوں کی ٹولیاں لے آیا۔خاندان کے سارے لڑکے ان سے دو اور دو چار کرنے پہنچ گئے تھے۔۔لیکن وہ سب مرتضی اور احد کے کان میں نجانے کیا کہہ رہے تھے کہ وہ انھیں تسلیاں دے رہے تھے کہ وہ تیاری کر کے آئے ہیں۔
“کوٹھے تے آ ماہیا۔۔۔
ملڑاں تے مل آ کے، نئی تے خسماں نو کھا ماہیا۔۔”
ان سب نے بھی عنادل کا ساتھ دے لڑکوں کو میدان میں آنے کا اشارہ کیا۔
“اب میری باری۔۔۔۔”
ملائکہ جلدی سے بولی۔
ٹھہرو ٹھہرو ملائکہ بی بی۔۔۔پہلے میرا جواب تو سن لو۔۔ارے ہم نے اتنی تیاری کی ہے اور تم لوگ ہماری تیاری ملیا میٹ کرنے پر تلی ہوئی ہو۔۔عنادل کو جواب دینا تو بنتا ہے نا۔۔”
طٰہٰ بول پڑا۔
“گائیے گائیے۔۔آپ بھی اپنا دل ٹھنڈا کر لیجئیے۔”
ملائکہ نے طٰہٰ کو شاہانہ انداز میں اجازت دی۔۔اگلے ہی لمحے وہ اپنا راگ شروع کر چکا تھا۔
“کی لیڑاں اے متراں توں۔۔
ملنے تے آ جاواں ڈر لگدا اے چھتراں توں۔۔”
احد اور طہ نے مل کر انھیں جواب دیا۔بعد میں مرتضی بھی ان کا ساتھ دینے لگا۔جس پر سب ہنس ہنس کر بے حال ہو گئے۔اسی دوران خیرن بوا نے ہاتھ اٹھا کر انھیں خاموش کیا۔جسکا مطلب تھا کہ اب وہ اپنی پٹاری میں سے کچھ نکالنے والی ہیں۔سبھی پرشوق نگاہوں سے خیرن بوا کو دیکھ رہے تھے۔
“تُسی یاد مینوں آندے او۔۔۔
جی میرا نیو لگدا، ہائے بڑا ای ستاندے او۔۔”
خیرن بوا کی معمولی سی کپکپاہٹ لئے آواز نے سب کو پرانے دور کی سیر کروا دی تو سبھی عش عش کر اٹھے۔اب وہ سب بھی خیرن بوا کے ساتھ مل کر گا رہی تھیں۔
“نِت جم جا وڑ دے او۔۔
اُتھے کُج کر دے وی او یا بس سیلفیاں کَڈ دے او۔۔”
عنادل نے نہایت ہی نخریلے انداز میں طٰہٰ کو دیکھا۔
“روز تُسی وی تے مال جاندے او۔۔
ہزاراں وچ لے کے سیلفی بس خالی ہتھ مُڑ آندے او۔۔”
مرتضیٰ نے فرضی کالر کھڑے کیے۔
“بس چپ چپ۔۔۔اب میری باری۔۔آمد ہوئی ہے۔”
لاریب نے سب کو خاموش ہونے کو کہا۔سب فوراً چپ ہو گئے۔
“سارے شہر وچ چرچے میرے۔۔
تیرے جئے ویلے توں چک ہونے نیّو خرچے میرے۔۔”
لاریب نے مرتضیٰ کو اشارہ کیا۔
“یہ مجھے ویلا کہہ رہی ہے۔۔ابھی ٹھیک کرتا ہوں۔۔بتاؤ وہ کیا تھا۔۔؟؟”
مرتضیٰ نے احد سے پوچھا۔۔۔احد نے اس کے کان میں کچھ کہا تو اس نے گلا کھنکھارا۔
“ایویں ویلا ویلا کہہ کے ساڑ دی۔۔۔
اسی چلو ویلے منیاں دس تُو کیڑے چَن چاڑھ دی۔۔”
مرتضیٰ نے اپنا بدلہ لیا۔
“چلو بھئی بہت ہو گیا۔۔۔میرا خیال ہے اب رسم کر دی جائے۔”
شمائلہ بیگم ہنستے ہوئے ان کی جانب آئیں۔اچھی خاصی رونق لگا رکھی تھی انہوں نے۔۔سارے مہمان بہت انجوائے کر رہے تھے۔
“بس تائی امی۔۔۔۔۔میری باری۔۔۔”
فائقہ نے جلدی سے کہا۔
“مینہ وس دا اے ہوٹل تے۔۔
تیرا میرا پیار ہو گیا، کوکا کولا دی بوتل تے۔۔”
فائقہ نے جیسے ہی مصرعہ مکمل کیا مہمانوں کا قہقہ گونج گیا۔
“چلو ایمان۔۔۔”
اب وہ سب ایمان کے پیچھے پڑ گئیں جبکہ وہ سر نفی میں ہلانے لگی۔۔ملائکہ کے بلند آواز میں کہنے سے سب ایمان کو دیکھ رہے تھے۔عقیلہ بیگم بھی مسکرا رہی تھیں۔اتنے دنوں میں جب جب وہ ڈھولک لے کر بیٹھتی تھیں ایمان بھی ان کا ساتھ دیتی تھی۔
“چل اب گا لے۔۔اب تو تیرا میاں بھی آ گیا ہے۔”
خیرن بوا نے ہنستے ہوئے دھیرے سے کہا تو وہ جھنپ گئی۔باقی سب بھی ہنس دیں۔
“چلو نہ ایمان۔۔اب تمھاری باری ہے۔”
ان سب نے اسرار کیا۔غزنوی بھی عقیلہ بیگم کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ایمان اسے وہاں موجود دیکھ کر ہچکچاہٹ کا شکار تھی۔
“چلو نا بیٹا۔۔۔دیر ہو رہی ہے۔رسم بھی شروع کرنی ہے۔”
شمائلہ بیگم نے ایمان سے کہا۔
“تُسی جِتّو تے میں ہاری جاواں۔۔۔
عشق دے کھیڈ دے وچ، میں لکھ لکھ واری جاواں۔۔”
ایمان کی میٹھی آواز سبھی کے ساتھ غزنوی کے کانوں سے بھی ٹکرائی۔وہ حیران ہوا مگر چہرے پر کسی بھی قسم کے پہلےجذبے کو جگہ نہیں دی۔
“واہ واہ۔۔۔۔”
خیرن بوا سمیت سب نے اسکی تعریف کی۔غزنوی ایمان کے الفاظ میں اٹکا تھا جبکہ وہ اس جانب دیکھنے سے گریز کر رہی تھی جہاں وہ بیٹھا تھا۔
“ایک اور۔۔۔ہم سب مل کر گائیں گے۔”
ملائکہ نے ایمان کی جانب دیکھ کر کہا۔
“اس رشتے نوں پیار کہیئے۔۔۔
اساں تے دیوانے ہاں، جد کہو جان وار دئی ایں۔۔”
وہ سب اس کے ساتھ مل کر گانے لگی تھیں۔ایمان نظریں جھکائے خاموشی سے کلائیوں پہ بندھے گجروں پر تھیں۔گلاب کی نم پتیاں اپنی ٹھنڈک اس کے اندر سموتی جا رہی تھیں۔اسکی آنکھوں میں نمی ہلکورے لینے لگی تھیں۔وہ اس لمحے سے کیسے نکل سکتی تھی جب اسکے دل کے نہاں خانوں میں چھپے اس شخص نے اسکے ملیح جذبوں کو اپنے سخت لہجے کی آگ سے جھلسا دیا تھا۔وہ سب اسکے دل کی حالت سے بےخبر اب خیرن بوا کے ساتھ مل کر گانا گا رہی تھیں۔وہ نظر بچا کر وہاں سے اٹھ کر اندر کی جانب بڑھ گئی۔
تھوڑی دیر بعد عقیلہ بیگم نے باقاعدہ رسم کا آغاز کیا۔دونوں جوڑیاں تمام مہمانوں کی نگاہوں کا مرکز بنی ہوئی تھیں۔سبھی ہادی اور مصطفی کو چھیڑنے میں بھرپور کردار ادا کر رہے تھے۔مصطفی تو غزنوی کیطرح سنجیدہ مزاج کا تھا اس لئے ان کی چھیڑ خانی پہ صرف مسکرانے پہ اکتفا کر رہا تھا مگر ہادی بھرپور جواب دے رہا تھا۔سحرش اور پرخہ دونوں ہی لبوں پر شرمیلی مسکان سجائے، نظریں جھکائے بیٹھی تھیں۔مایوں کے ساتھ مہندی کی رسم بھی ادا کر دی گئی تھی کیونکہ اعظم احمد صرف گھر کی لڑکیوں کے کہنے کی وجہ سے ان رسموں کے لئے راضی ہوئے تھے ورنہ وہ زیادہ رسموں کے قائل نہیں تھے۔رسم ہو جانے کے بعد طعام کا سلسلہ شروع ہوا۔ان سبھی نے مل کر کھانا کیا۔
“ارے یار۔۔۔ایمان کہاں ہے، دکھائی نہیں دے رہی۔”
ارفع نے آس پاس نظر دوڑاتے ہوئے کہا۔۔
“اندر ہو گی۔۔۔”
عنادل نے ٹیبل سے نیپکن اٹھاتے ہوئے کہا۔
“وہ کچھ خاموش سی نہیں لگ رہی تھی آج۔۔؟”
فائقہ نے ٹیبل کے قریب ہوتے ہوئے تھوڑا رازداری سے کہا۔
“نہیں تو۔۔۔مجھے تو ایسا کچھ نہیں لگا۔۔”
لاریب نے اسکے اندازے کی تردید کی تو سبھی سر ہلا کر کھانے کی طرف متوجہ ہو گئیں۔
“وہ دیکھو۔۔۔آ رہی ہے ملائکہ کے ساتھ۔۔۔”
عنادل کے سامنے دیکھتے ہوئے کہا۔ملائکہ اور ایمان انہی کی جانب آ رہی تھیں۔سحرش اور پرخہ کے لئے وہیں کھانا سرو کر دیا گیا تھا۔عقیلہ بیگم ان کے ساتھ ہی بیٹھی تھیں۔
“یار بڑی بھوک لگی ہے۔۔۔”
ملائکہ ان کے قریب پہنچتے ہی کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گئی۔۔اسکے ساتھ والی چیئر ایمان نے سنبھال لی۔اس کے چہرے پر سنجیدگی تھی مگر ساتھ ہی ساتھ ان کی کسی نہ کسی بات پر مسکرادیتی تاکہ انہیں اس کے رویے کی تبدیلی کا اندازہ نہ ہو سکے۔اس نے ان کے سامنے مسکراہٹ کا لبادہ اوڑھ رکھا تھا مگر اندر اندر وہ اس تکلیف کو نہیں بُھلا پا رہی تھی جس سے اس کا کچھ دیر پہلے سامنا ہوا تھا۔
“ایمان۔۔۔تم ٹھیک سے کھانا کیوں نہیں کھا رہی۔”
وہ اپنے دھیان میں تھی کہ عنادل نے اس سے پوچھا۔
“ہاں میں ٹھیک ہوں، بس تھکاوٹ سی محسوس ہو رہی ہے اور سر میں بھی درد ہو رہا ہے۔”
ایمان نے اسے مطمئن کرنا چاہا۔
“لگتا ہے نظر لگ گئی ہے تمھیں۔۔آج لگ بھی تو بہت پیاری رہی ہو اور تو اور غزنوی بھائی کی بھی نظریں تم پر ہی اٹکی ہوئی تھیں۔مجھے تو لگتا ہے انہی کی نظر لگی ہے تمہیں۔۔جب بھی میری ان پر نظر پڑتی، وہ تمہیں ہی دیکھ رہے ہوتے ہیں۔”
عائشہ نے اپنے پیروں سے لپٹے معاذ کو اٹھا کر گود میں بٹھایا اور ایمان کو شرارتی انداز میں دیکھا۔باقی سب عائشہ کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے ہنس رہی تھیں جبکہ ایمان کے دل میں ایک ٹیس سی اٹھی اور اس کے رگ و پے میں سرایت کر گئی۔۔
“دیکھو تو شرما گئی ہے۔۔ابھی بھی یہ غزنوی بھائی سے شرماتی ہے۔”
لاریب ہنستے ہوئے کہنے لگی۔۔پھر ان سب نے اسی ہنسی مذاق میں کھانا کھایا۔کھانے کے بعد آہستہ آہستہ قریبی مہمان اپنے اپنے گھروں کو لوٹنا شروع ہوئے۔وہ سب بھی کھانے کے بعد اب سحرش اور پرخہ کے ساتھ آ کر بیٹھ گئی تھیں۔
“یار ایمان۔۔۔میں تو وہ بہت تھک گئی ہوں، چلو اندر چلتے ہیں۔”
جب تقریبا مہمان جا چکے تو سحرش نے ایمان سے کہا۔ایمان سحرش کی طرف آئی اور اسے لئے اندر کی جانب بڑھ گئی۔پرخہ بھی ان کے ساتھ ہی اٹھ گئی تھی۔آج سب کے رہنے کا انتظام عقیلہ بیگم کے پورشن میں ہی کیا گیا تھا کیونکہ اعظم احمد چاہتے تھے کہ دونوں بچوں کی رخصتی ان کے پورشن سے ہو اور ایسا ہی ہو رہا تھا۔
______________________________
وہ گیٹ پہ کھڑا انتظار کر رہا تھا کہ کمیل اسے آتا دکھائی دیا۔
“کب سے انتظار کر رہا تھا۔۔۔کہا بھی تھا کہ میرے ساتھ چلو۔۔مگر تمھیں تو اپنی کرنی ہوتی ہے۔”
غزنوی اس پر برس پڑا۔
“ارے۔۔ارے۔۔۔کیا ہو گیا۔۔اتنا غصہ کیوں کر رہا ہے؟”
کمیل نے اسے پہلی مرتبہ اتنے غصے میں دیکھا تھا۔
“کچھ نہیں یار۔۔بس یونہی انتظار کی کوفت سے گزر رہا تھا۔”
غزنوی اسے لئے آگے بڑھا۔
“تم تو ایسے بی ہیو کر رہے ہو جیسے میں تمھاری روٹھی ہوئی محبوبہ ہوں۔”
کمیل ہنستے ہوئے بولا تو وہ بھی ہنسنے لگا تھا۔
“اچھا بتا بھابھی کیسی ہے؟میں تو خاص طور پر ایمان بھابی سے ملنے آیا ہوں۔”
کمیل لان میں بیٹھے مہمانوں کے چہرے کھوجتا بولا۔
“ہاں ہاں مل لینا۔۔”
وہ لاپروائی سے کہتا اسے عقیلہ بیگم سے ملوانے ان کے پاس لے آیا۔عقیلہ بیگم کمیل سے مل کر بہت خوش ہوئیں۔پہلے کبھی اس سے ملی نہیں تھیں۔۔صرف اس کا نام ہی سنا تھا یا پھر غزنوی سے تھوڑا بہت ذکر سنا تھا۔غزنوی کے لئے وہ پریشان رہتی تھیں مگر اب کمیل سے مل کر وہ مطمئن ہو گئیں تھیں۔ابھی وہ کمیل سے اس کے خاندان والوں کا حال احوال پوچھا ہی رہی تھیں کہ خیرن بوا اونچا اونچا بولتی وہاں آئیں۔
“عقیلہ بیگم۔۔۔یہ میری بہن۔۔۔بلقیس۔۔اوران کی بیٹی رقیہ۔۔”
خیرن بوا نے اپنے یچھے کھڑی کسی بزرگ خاتون کا تعارف عقیلہ بیگم سے کروایا۔۔۔ساتھ ہی ساتھ اپنے پاس کھڑی سانولی سی مگر ملائم نقوش والی لڑکی سے بھی تعارف کرایا۔۔
“اسلام علیکم۔۔۔!! کیسی ہیں آپ۔۔۔؟”
بلقیس بیگم عقیلہ بیگم سے معانقہ کرنے کے لئے آگے ہوئیں۔عقیلہ بیگم بھی ان سے گلے ملیں۔
“اللہ کا شکر ہے۔۔۔سب ٹھیک۔۔”
کمیل اور غزنوی عقیلہ بیگم سے ملنے والی خاتون کو دیکھ کر حیران رہ گئے۔
“ارے بلقیس خالہ آپ یہاں۔۔۔واٹ آ سرپرائز۔۔۔”
کمیل نے بلقیس بیگم کو دیکھ کر خوشی کا اظہار کیا تھا۔بلقیس بیگم بھی ان دونوں کو دیکھ کر بہت خوش ہوئی تھیں۔
“ائے لونڈو(لڑکو)۔۔۔تم دونوں کیسے جانتے ہو میری بہن کو۔۔۔؟”
خیرن بوا نے حیرانی سے پوچھا جبکہ عقیلہ بیگم بھی حیران نظروں سے غزنوی اور کمیل کو دیکھ رہی تھیں۔
“شاہ گل میں اسلام آباد میں جہاں رہتا ہوں وہیں پڑوس میں بلقیس خالہ بھی رہتی ہیں۔۔وہیں پہ اِن سے میری اور کمیل کی ملاقات ہوئی تھی۔”
غزنوی نے عقیلہ بیگم سے کہا۔
“کیسے ہو بیٹا۔۔؟”
بلقیس بیگم نے دونوں کے سر پہ ہاتھ پھیرا اور عقیلہ بیگم کے ساتھ بیٹھ گئیں۔
“جی بالکل ٹھیک۔۔آپ کیسی ہیں؟”
غزنوی نے جواب دیا۔
“خالہ آپ میوزک انجوائے کریں۔۔۔میں زرا داجی سے مل لوں۔”
کمیل نے بلقیس بیگم کی طرف دیکھ کر کہا جس پہ وہ مسکرا دیں۔وہ دونوں بائیں جانب بیٹھے داجی کی طرف بڑھ گئے جبکہ خیرن بوا کمیل کے الفاظ پر غور کرنے لگیں۔
“ائے بیٹا یہ کمال کیا کہہ کر گیا ہے؟”
خیرن بوا کی عقل جب تھک ہار گئی تو عقیلہ بیگم کے ساتھ بیٹھی بلقیس بیگم کی بیٹی رقیہ سے پوچھا۔
“خالہ وہ اس موسیقی کی بات کر رہا تھا۔”
رقیہ نے ڈی۔جے کی طرف اشارہ کیا۔۔جو اب اپنے لگائے گانے پہ وہیں کھڑے کھڑے ڈانس بھی کر رہا تھا۔
“لو توبہ میری۔۔۔یہ آج کل کے لونڈے بھی نا۔۔۔ائے ہمیں کہہ رہا ہے کہ اس مُوے۔۔۔ائے کیا نام لے رہا تھا۔۔۔ہاں مایوزک(میوزک) کو سنیں۔۔یہ کمال بھی کمال ہی ہے۔۔ہمیں کیا ضرورت اس کمبخت کے نقشِ قدم پر چلنے کی۔”
خیرن بوا نے وہیں سے ڈی۔جے کو لتاڑا۔عقیلہ بیگم اور بلقیس بیگم انکی بات سن کر ہنس دیں تھیں۔
“خالہ کمال نہیں کمیل نام ہے۔”
رقیہ تصحیح کرنا نہ بُھولی۔
“ائے ہاں ہاں وہی کمیل۔۔۔اماں باوے نے کیسا مشکل نام رکھ دیا بچے کا۔۔زبان پہ چڑھنے کا نام ہی نہیں لیتا۔”
خیرن بوا ٹھوڑی پہ انگلی رکھ کر ہنستے ہوئے کہنے لگیں۔باقی سب بھی ہنس دئیے تھے۔
________________________________
آج بارات تھی۔۔سبھی صبح سے تیاری میں لگے ہوئے تھے۔بلقیس بیگم اور کی بیٹی رقیہ اس وقت عقیلہ بیگم کے کمرے میں بیٹھی ان سے بات کر رہی تھیں۔رقیہ ان کے قریب اپنے کپڑوں کا بیگ کھولے آج کے لئے کپڑے نکال رہی تھی۔
“آپ پریشان نہ ہوں۔۔انشاءاللہ۔۔اللہ تعالیٰ بہت بڑا مسبب الاسباب ہے۔اُس نے ہماری رقیہ بیٹی کے لئے کچھ بہت بہترین چنا ہو گا، بس معین وقت کا انتظار۔۔۔پھر وہ آپ نے تو سنا ہی ہو گا اور آپ کو یقین بھی ہو گا کہ جب وہ دیتا ہے تو چھپر پھاڑ کر دیتا ہے۔”
عقیلہ بیگم نے تسبیح آنکھوں سے لگا کر سائیڈ ٹیبل پہ رکھی اور رقیہ کی جانب ملائم بھری نگاہوں سے دیکھا۔رقیہ اپنے کپڑے نکال کر کمرے سے باہر چلی گئی۔بلقیس بیگم نے اسے بڑے دکھ سے جاتے دیکھا۔ان کے چہرے پر چھایا دکھ عقیلہ بیگم کو مزید دُکھی کر گیا۔
“آپ بالکل ٹھیک کہہ رہی ہیں مگر بہن میں اپنی بیٹی کو لوگوں کی طنزیہ باتوں سے بچانا چاہتی ہوں۔اپنی زندگی میں ہی اسے اسکے گھر اور شوہر کے ساتھ بسا ہوا دیکھنا چاہتی ہوں۔اسے خوش دیکھنا چاہتی ہوں۔میری بچی کی مسکراہٹ چھن گئی ہے۔کل اتنے دنوں بعد میں نے اس کے چہرے پر سکون و اطمینان دیکھنا چاہتی ہوں۔”
بلقیس بیگم نے آنکھوں میں ڈولتی نمی کو اپنے ڈوپٹے سے پونچھا۔
“اللہ آپ کی عمر دراز کرے۔۔اُس پر توکل رکھیئے۔۔۔وہ سب بہتر کرے گا۔”
عقیلہ بیگم نے بلقیس بیگم کی ہمت بندھائی۔
“اسی کا تو آسرا ہے عقیلہ بہن۔۔۔”
بلقیس بیگم ایک گہری سانس خارج کی اور مسکرا دیں۔۔یوں جیسے دعا کی قبولیت کا احساس روح میں اتر گیا ہو۔
چلو نا ایمان۔۔اور کتنا ٹائم لگے گا تمھیں تیار ہونے میں۔۔۔تمہارا ولیمہ کل ہے آج نہیں۔۔”
فائقہ تیزی سے کمرے میں داخل ہوئی۔۔
“ماشاءاللہ۔۔۔!!”
ایمان کی سج دھج دیکھ کر فائقہ کے منہ سے بے ساختہ ماشاءاللہ نکلا۔وہ اس وقت بالکل تیار بیڈ پہ بیٹھی ہوئی تھی۔اس کے چہرے چھائے تاثرات کو فائقہ کوئی نام نہیں دے پائی۔فائقہ کو وہ تھوڑی سی کنفیوز لگی۔
“اس طرح منہ بنائے کیوں بیٹھی ہو۔۔کیا ابھی کسی اور کیل کانٹے سے لیس ہونا باقی ہے؟”
فائقہ اس کے پاس آ کر بیٹھ گئی۔۔ایمان نے کوئی جواب نہیں دیا مگر گھبرائے ہوئے چہرے پہ زبردستی کی مسکان سجا کر نفی میں سر ہلایا۔
“اچھا تو لگتا ہے کہ ہماری پیاری بھابھی صاحبہ ہمارے بھائی کا انتظار کر رہی ہیں۔۔ہممم۔۔۔بولو نا۔۔”
فائقہ نے اس کے کندھے سے کندھا ٹکرایا۔
“ایسا کچھ نہیں ہے۔۔بس یہ ڈریس۔۔۔مجھے بہت الجھن ہو رہی ہے۔”
ایمان اٹھ کھڑی ہوئی۔اس وقت وہ ڈل گولڈن اور ڈارک گرین کلر کے فراک اور ڈارک گرین چوڑی دار پاجامے میں ملبوس تھی۔کپڑوں کے رنگوں سے میچ کرتی جیولری پہنے وہ چہرے الجھن سجائے بیٹھی تھی۔بیوٹیشن کے نفاست سے کیے گئے میک اپ نے اسکے تیکھے نقوش کو مزید ابھارا تھا۔بالوں کی ڈھیلی سی چوٹی جس کے ہر بل میں چنا ایک ایک موتی یوں لگ رہے تھے جیسے ستارے چمک رہے ہوں۔
“کوئی نہیں۔۔۔یوں ہی تمہیں لگ رہا ہے اچھا بھلا تو ہے بلکہ تم اس ڈریس میں بہت پیاری لگ رہی ہو۔بس میں بھی بھائی دیکھیں گے نہ تو بے ہوش ہو جائے اور تین دن تک بے ہوشی میں ایمان ایمان پکارتے رہیں گے۔۔پکا۔۔۔”
فائقہ نے ساتھ ہی بے ہوش ہونے کی ایکٹنگ بھی کر ڈالی۔غزنوی کا نام سن کر ایمان کا دل زور سے دھڑکا تھا۔حالانکہ کل کے واقعے سے تو اس کی رہی سہی امید بھی ٹوٹ گئی تھی۔کبھی کبھار غزنوی کی آنکھوں میں اسے اپنے لئے جذبے تیرتے دکھائی دیتے تھے۔اب وہ بھی کہیں گم ہو گئے تھے۔
“بہت بھاری ہے۔۔خاص طور پر یہ ڈوپٹہ۔۔۔”
ایمان نے الجھن بھرے انداز میں ڈوپٹہ سنبھالا۔
“یار تم نے کون سی کیٹ واک کرنی ہے۔۔نیچے جا کر ایک چیئر پہ فکس ہو جانا اور وہیں جمی رہنا جب تک مہمان چلے نہیں جاتے۔۔۔”
فائقہ کے شرارتی انداز پہ ایمان نے اسے گھورا۔
“اور پھر جب لان خالی ہو جائے گا تو میں غزنوی بھائی کو بھیج دوں گی وہ تمھیں اپنی بانہوں میں اٹھا کر منزلِ مقصود تک لے جائیں گے۔”
فائقہ اسکی گھورتی آنکھوں کی پرواہ کیے بغیر ہنستے ہوئے کہنے لگی۔
“جاؤ۔۔۔میں نہیں جاتی تمھارے ساتھ۔۔۔”
ایمان ناراضگی سے واپس بیڈ پہ جا بیٹھی۔
“اچھا بابا۔۔۔ناراض نہ ہو۔۔۔میں نے آپکی شان میں جو گستاخی کی ہے۔۔ملکہ عالیہ اسکے لئے میں معافی چاہتی ہوں۔چلیئے شاہی سواری نیچے لے چلیئے۔۔۔ہو سکتا ہے آپکے بادشاہ سلامت بھی آپکی راہ دیکھ رہے ہوں۔”
فائقہ نے اسے بازو سے پکڑ کر کھڑا کیا اور اسی طرح اسے پکڑے پکڑے دروازے کیطرف بڑھی۔تیز تیز قدموں سے چلتی فائقہ تقریباً کھینچتے ہوئے اسے لان میں لائی تھی۔۔جو آج بھی موقع کی مناسبت سے جگمگ جگمگ کر رہا تھا۔آج کی سجاوٹ میں سرخ رنگ اور گلاب کے پھول کا استعمال کیا گیا تھا۔چونکہ بارات نے ایک پورشن سے دوسرے پورشن جانا تھا اسی وجہ سے سبھی ریلکیس تھے۔پرخہ اور سحرش عروسی جوڑے میں ملبوس دلہن بنیں سب کی نگاہوں کا مرکز بنی ہوئیں تھیں۔
فائقہ اسے لئے سامنے والی نشست کی جانب آئی، جہاں وہ سبھی بیٹھی تھیں۔
“ماشاءاللہ۔۔۔!! ہماری پیاری بھابھی صاحبہ کس پہ چُھریاں چلانے کا قصد کیے ہوئے ہیں۔”
ملائکہ نے ایمان اور فائقہ کو اپنی جانب آتے دیکھ کر کہا۔رقیہ، عنادل، ارفع، عائشہ اور لاریب نے بھی اسکی نظروں کا پیچھا کیا۔
“واؤ۔۔!! کتنا پیارا ڈریس ہے اور تم لگ بھی بہت پیاری ہو۔”
لاریب نے توصیفی نظروں سے ایمان کو دیکھا۔
“ہاں بالکل۔۔۔”
رقیہ نے بھی اس کی ہاں میں ہاں ملائی۔
“میں ذرا شاہ گل سے مل کر آتی ہوں۔”
ایمان ان سے کہتی پلٹ گئی۔ان سب سے کچھ ہی فاصلے پر عقیلہ بیگم اور بلقیس بیگم بیٹھیں ہوئی تھیں۔
“اسلام علیکم۔۔!”
اس نے قریب پہنچ کر سلام کیا۔دونوں سلام کا جواب دیا۔وہ عقیلہ بیگم کے ساتھ ہی بیٹھ گئی۔وہ اس سے غزنوی کے متعلق پوچھنے لگیں۔
“ماشاءاللہ۔۔۔ائے یہ غزنوی کی دلہن ہے؟”
بلقیس بیگم نے خیرن بوا کے کان کے قریب ہو کر پوچھا۔
“ہاں۔۔۔بڑی خاموش طبع بچی ہے۔۔اپنے کام سے کام رکھنے والی۔۔بس یوں سمجھو اللہ میاں کی گائے ہے۔”
خیرن بوا اسکی تعریف میں رطب اللسان تھیں۔
“لگتی بھی ہے۔۔۔ویسے چاند سورج کی جوڑی ہے۔اللہ بری نظر سے بچائے۔”
بلقیس بیگم اب قدرے بلند آواز میں بولیں۔
“خیر چھوڑو۔۔۔یہ بتاؤ اپنی رقیہ کی کہیں بات چلائی یا نہیں۔۔ائے اب تو بچی کی شادی کی عمر نکلتی جا رہی ہے۔اصغر میاں سے کہو کہ کسی سے کہے۔۔ائے گھر بیٹھے تو رشتے آنے سے رہے۔۔نصیب ہمارے اِنہوں نے بھی گھر میں ہی رشتے دیکھے ورنہ مصطفی بہت اچھا بچہ ہے۔۔میں یہیں بات کرتی تو مجال ہے کہ اعظم احمد انکار کرتے اور نا ہی عقیلہ بیگم انکار کرتیں۔”
خیرن بوا نے ایک سرد آہ بھرتے ہوئے کہا
بس آپا یہ تو قسمت کے کھیل ہیں۔میری رقیہ کے بھی اللہ نصیب اچھے کرے اور اسے سارے جہان کی خوشیاں دے۔آمین۔۔!!”
بلقیس بیگم نے عقیلہ بیگم کے ساتھ بیٹھی ایمان کو دیکھا۔
“آمین آمین۔۔!!”
خیرن نے بھی آمین بولا۔اس دوران ایمان وہاں سے اٹھ گئی تھی۔
___________________________________
“کہاں ہے بھابھی۔۔؟”
کمیل نے ادھر ادھر نظریں گھماتے ہوئے پوچھا۔
“یہیں کہیں ہو گی۔۔۔۔وہ رہی۔”
غزنوی نے بھی اردگرد نظر دوڑائی تو ایمان اسے شمائلہ بیگم کے ساتھ کھڑی دکھائی دی۔اس نے جیسے ہی پوائنٹ آوٹ کیا کمیل تیز تیز قدم اٹھاتا ایمان کے پاس پہنچ چکا تھا۔
“اسلام علیکم بھابھی۔۔۔!”
کمیل نے سلام کے ساتھ ساتھ بتیس کے بتیس دانتوں کی نمائش کرنا ضروری سمجھا تھا۔شمائلہ بیگم جو ایمان سے بات کر رہی تھی اس اچانک افتاد پر ہنس دیں جبکہ ایمان نے اشارے سے سلام کا جواب دے کر سوالیہ نظروں سے شمائلہ بیگم کی جانب دیکھا۔
“یہ غزنوی کا بیسٹ فرینڈ ہے۔۔کمیل موسیٰ۔۔۔اسلام آباد میں غزنوی کا بزنس پارٹنر بھی ہے۔”
شمائلہ بیگم نے کمیل کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔
“جی بھابھی۔۔۔۔کیسی ہیں آپ؟”
کمیل اب پوری طرح ایمان کی طرف متوجہ تھا۔
“الحمداللہ میں بالکل ٹھیک ہوں۔آپ کیسے ہیں؟”
ایمان نے پوچھا۔
“میں بھی بالکل ٹھیک ہوں بھابھی۔۔میں نے آپ کو تنگ تو نہیں کیا۔۔شاید آپ کسی کام سے جا رہی تھیں۔”
کمیل نے غزنوی کی طرف دیکھا۔۔جو ابھی اس کے پاس آ کھڑا ہوا تھا۔
“نہیں نہیں بالکل بھی نہیں۔۔”
ایمان مسکرائی۔۔
“تو پھر بھابھی۔۔۔کب آ رہی ہیں آپ اسلام آباد۔۔؟”
کمیل نے غزنوی کی آنکھوں میں دکھتے غصے کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ایمان سے کہا۔
“شادی کے بعد۔۔۔۔”
ایمان نے دھیرے سے کہتے ہوئے غزنوی کو دیکھا۔جس نے اس کی جانب دیکھا تک نہ تھا۔
“اس کا وہاں کیا کام۔۔۔۔یہ یہیں رہے گی۔”
کمیل کے سامنے غزنوی کا اسقدر سرد اور ہتک آمیز انداز ایمان کو شرمندگی کے احساس سے دوچار کر گیا۔ اُسے لگا جیسے غزنوی نے اسے ساری دنیا کے بیچ لا کھڑا کر دیا ہو اور سب اسے مذاق اڑاتی نظروں سے دیکھ رہے ہوں۔اس کے اندر چھناکے سے کچھ ٹوٹ گیا۔اُس کے لئے مزید وہاں کھڑے رہنا ممکن نہیں رہا تھا اور اس سے پہلے کہ غزنوی کمیل کی موجودگی کا لحاظ بالاءطاق رکھ کر اسکی مزید بےعزتی کرتا وہ وہاں سے ہٹ گئی۔
“یہ کیا طریقہ تھا۔۔۔؟؟”
کمیل کو اسکا انداز قطعی پسند نہیں آیا تھا۔
“میں نے ایسا کیا کہہ دیا۔”
وہ لاپروائی سے بولا۔کمیل نے اسکے لاپرواہ انداز کو ناپسندیدگی سے دیکھا۔وہ کچھ کہنے ہی والا تھا کہ غزنوی نے ہاتھ اٹھا کر اسے روک دیا۔
“مجھے کوئی شوق نہیں ہے اپنی شادی کا سرٹیفیکیٹ ساتھ ساتھ گھمانے کا۔۔جنھوں نے کروائی ہے انہی کے پاس رہے۔آئی ڈونٹ نِیڈ ہر۔۔۔”
یہ کہہ کر وہ وہاں رکا نہیں۔۔جبکہ کمیل افسوس سے اسے جاتا دیکھتا رہا۔غزنوی تو چلا گیا تھا مگر اسکے رشتے کی حقیقت قریب سے گزرتی عائشہ کے کانوں تک بھی پہنچ گئی تھی۔وہ اب سمجھی تھی ان سب کو کبھی ایمان کے چہرے کے پھیکے رنگ دکھائی ہی نہیں دیئے اور اگر کبھی دکھے بھی تو انھوں نے اِسے ایمان کی سنجیدگی سے مشروط کیا تھا۔کھانے کے دوران عائشہ خاموشی سے ایمان کا جائزہ لیتی رہی۔آج وہ عائشہ کو معمول سے زیادہ خاموش لگی تھی۔
تھوڑی دیر بعد رخصتی کا شور ہوا تو پرخہ اور سحرش کو رخصت کر دیا گیا۔مہمان رخصت ہوئے تو سب تھکے ماندے اپنے اپنے پورشنز میں آرام کی غرض چلے گئے۔لیکن لڑکیاں ابھی تک وہیں گپ شپ لگا رہی تھیں۔ایمان عقیلہ بیگم کے کمرے میں تھی۔
“عائشہ آپی آپ اتنی خاموش کیوں ہیں؟”
عنادل نے عائشہ کو کسی گہری سوچ میں گم دیکھ کر پوچھا۔
“نہیں تو۔۔۔بس تھوڑی تھکاوٹ ہو گئی ہے۔۔میں سونے جا رہی ہوں، تم لوگ بھی سو جاؤ۔”
عائشہ یہ کہہ کر اٹھ گئی۔اس کے لئے وہاں مزید بیٹھنا دوبھر ہو رہا تھا۔وہ سب اسے حیرانی سے جاتے دیکھ رہی تھیں اور عائشہ اندر جاتے ہوئے یہ سوچ رہی تھی کہ وہ اس بارے میں ایمان سے بات کرے گی۔عائشہ کے جانے کے بعد وہ سب وہاں کچھ دیر بیٹھی گپ شپ لگاتی رہیں پھر سب سونے چلی گئیں۔
جاری ہے۔۔۔
