Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode08

Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode08

دن نہایت ہی سست روی سے گزر رہے تھے، خاص طور پہ ایمان سےتو وقت کاٹنا مشکل ہو رہا تھا۔وہ سارا دن گھر میں بولائی بولائیپھرتی۔۔جب تک شاہدہ ہوتی تب تک اسکے ساتھ بات کر کے وقت گزرجاتا تھا مگر جب وہ اپنے کوارٹر میں چلی جاتی تو اسکا وقتکچھوے کی رفتار کی طرح گزرتا اور یہ وقت اسکے لئے کاٹنا دوبھرہو جاتا۔۔ابھی تک گھر میں فون بھی نہیں لگا تھا اس لئے اعظم ولابھی بات نہیں ہو پا رہی تھی۔غزنوی صبح کا جاتا شام کو واپس آتا۔۔۔اور گھر آتا تو ساتھ فائلوں کا انبار بھی اٹھا لاتا اور پھر گھر میںبھی اسکا سارا وقت اسٹڈی میں گزرتا۔دونوں کے بیچ روزمرہ گفتگوبھی نہ ہونے کے برابر تھی۔وہ منتظر رہتی کہ وہ اس سے بات کرےمگر اس نے تو جیسے آنکھوں پہ پٹی اور زبان پہ تالے لگا رکھے تھے۔جب وہ اسٹڈی میں ہوتا تو وقفے وقفے سے کام کے بہانے دروازے تکجا کر لوٹ جاتی۔شادی سے پہلے تو وہ اسی خاموشی اور تنہائی کیعادی تھی مگر اعظم ولا کے بےلوث محبت لوٹانے والوں کے بیچ رہ کروہ زندگی کو جینا سیکھ گئی تھی۔لیکن جب سے یہاں آئی تھی وہزندگی کو بھولتی جا رہی تھی۔اوپر سے غزنوی کا رویہ۔۔۔وہ ایک بارپھر سے اپنے خول میں بند ہو گیا تھا۔خود میں مگن اور ایمان سےلاپرواہ۔۔
آج بھی وہ معمول کے مطابق کچن میں رات کے کھانے کی تیاری کر رہی تھی کہ باہر کچھ شور سا سنائی دیا۔وہ پریشر کے نیچے آنچ کو آہستہ کرتی کچن سے باہر آئی۔غزنوی آج معمول سے جلدی گھر آ گیا تھا اور اس وقت اسٹڈی میں تھا۔آوازیں لاونج سے آ رہیں تھیں۔وہ حیران ہوتی لاونج میں آئی اور ان سب کو دیکھکر حیران رہ گئی۔
“یہ میں کیا دیکھ رہی ہوں۔۔۔”
وہ عقیلہ بیگم، خیرن بوا اور باقی سب کو دیکھ کر خوشی کے عالم میں ان کیطرف بڑھی۔وہ سب سے یوں مل رہی جیسے کافی عرصے بعد مل رہی ہو۔۔
“کیسی ہو ایمان۔۔۔اور غزنوی بھائی کہاں ہیں؟”
ملائکہ نے اس کے گلے لگتے ہوئے پوچھا۔
“میں بالکل ٹھیک ہوں اور غزنوی اوپر اسٹڈی میں ہیں۔”
وہ اب خیرن بوا سے مل رہی تھی۔
“اچھا۔۔۔میں بلا کر لاتی ہوں۔۔اتنے دن ہو گئے میں نے اپنے بھائی کو نہیں دیکھا۔”
ملائکہ سیڑھیوں کی طرف بڑھ گئی۔
“شاہ گل میں بتا نہیں سکتی۔۔آپ سب کو یہاں دیکھکر مجھے کتنی خوشی ہوئی ہے۔مجھے آپ سب کی بہت یاد آتی ہے۔”
ایمان عقیلہ بیگم کے سینے سے لگی تھی۔
“لو اور سنو۔۔۔تو بی بی ایک مہینہ ہونے کو آیا اور تم نے ایک چکر تک نہیں لگایا۔”
خیرن بوا اس کی بات سن کر اپنے مخصوص انداز میں بولیں۔
“گھر تو بہت پیارا ہے۔”
فائقہ نے اردگرد نظر دوڑاتے ہوئے کہا۔
“ہاں واقعی۔”
ارفع نے بھی اسکی ہاں میں ہاں ملائی۔
“آپ لوگ سحرش آپی اور پرخہ آپی کو نہیں لائے ساتھ؟”
اس نے عقیلہ بیگم سے پوچھا۔
“کہا تو تھا بیٹا۔۔لیکن وہ دونوں اب تمھاری طرح گھربار والی ہیں۔”
وہ سیڑھیوں سے اترتے غزنوی کو دیکھ کر بولیں۔ایمان جو ان کے ساتھ جڑی بیٹھی تھی جھٹ ان سے الگ ہوئی۔
“السلام علیکم۔۔!!”
غزنوی با آواز بلند سلام کرتا عقیلہ بیگم کی طرف آیا۔وہ بھی اسے سینے سے لگانے کے لئے اٹھ کھڑیں ہوئی۔
“کیسا ہے میرا بچہ؟”
عقیلہ بیگم نے بہت محبت سے اسکی جانب دیکھا اور اسکے کشادہ سینے سے لگیں پوچھنے لگیں۔
“میں بالکل ٹھیک۔۔۔آپ کیسی ہیں، داجی نہیں آئے آپ لوگوں کے ساتھ؟”
“ہم سب ٹھیک ہیں۔۔اور تمھارے داجی تمھیں بہت یاد کرتے ہیں۔اداس ہیں تمھارے لئے۔۔جب سے تم یہاں آئے ہو، میں نے انھیں بہت بےچین دیکھا ہے۔”
عقیلہ بیگم نے اسے اعظم احمد کی ناراضگی کا بتایا۔وہ بھی ان کی ناراضگی کا سن کر اداس ہو گیا۔
“خیرن بوا۔۔۔!! خلاف معمول آپ کیوں اتنی خاموش ہیں؟”
ماحول کی سنجیدگی کا احساس ہوا تو وہ خیرن بوا کی طرف پلٹا۔
“ائے تمھیں اپنی شاہ گل سے فرصت ملے تو ہم کچھ بولیں۔”
خیرن بوا خو خود کا اگنور کیا جانا ایک آنکھ نہ بھایا۔۔اس لئے بغیر لگی لپٹی رکھے بولیں تھیں۔ان کا نروٹھا انداز وہاں بیٹھے سبھی لوگوں کے لبوں پہ مسکراہٹ لے آیا۔
“ارے میری پیاری بوا۔۔آپ کے آنے سے تو رونق لگ گئی ہے میرے گھر میں۔۔”
غزنوی نے فورا ان کے آگے سر خم کیا۔خیرن بوا نے بھی ناراضگی بھلا کر اسکے سر پہ ہاتھ رکھا اور اسے دعا دی۔
“اور چڑیلو۔۔۔۔تم سب مزے میں ہو یا نہیں۔”
اب اسکا رخ سامنے صوفے پہ بیٹھیں فائقہ، ارفع، عنادل، ملائکہ اور لاریب کی جانب تھا۔وہ ساری اچھی خاصی اسکے رعب میں تھیں اسلئے اسکے اسطرح پوچھنے پر صرف مسکرا دیں۔
“ویسے غزنوی بھائی یہاں بیچ میں آپ کی مسز بھی براجمان ہیں۔۔”
فائقہ نے ایمان کی طرف اشارہ کیا۔
“یہ تو تم سب سے زیادہ طاقت ور چڑیل ہے۔۔اسی کی تو قید میں ہے تمھارا شہزادہ بھائی۔”
غزنوی نے بغور ایمان کیطرف دیکھا اور ہلکے پھلکے انداز میں بولا۔وہ سبھی ہنس دیئے لیکن یہ ہنسی ایمان کے لبوں پر نہ کِھل سکی لیکن ماتھے پہ بل ضرور لے آئی۔
“ہونہہ دیو کہیں کا۔۔۔مجھے چڑیل کہہ رہا ہے۔”
وہ صرف سوچ کر رہ گئی۔
“میں آپ سب کے لئے چائے لے کر آتی ہوں۔”
وہ اٹھ کر کچن میں آ گئی جبکہ غزنوی بلند آواز میں عقیلہ بیگم سے ایمان کو چڑانے کے لئے اسکی شکایتیں لگا رہا تھا۔جو اسے کچن میں چائے بناتے ہوئے صاف سنائی دے رہی تھیں۔
“میں مانتی ہی نہیں۔۔۔ایمان ایسا کر ہی نہیں سکتی۔الٹا تم نے ضرور میری بیٹی کو تنگ کیا ہو گا۔”
وہ ٹرے لئے لاونج میں آئی تو عقیلہ بیگم اسکے فیور میں غزنوی سے کہہ رہی تھیں۔ایمان نے مسکراتے ہوئے سب کو چائے سرو کی۔
“اچھا شاہ گل آپ لوگ گپ شپ لگائیں۔۔میں ذرا اسٹڈی میں ہوں۔۔کل ایک بہت اہم میٹنگ ہے۔رات کے کھانے پہ ملتے ہیں۔”
چائے ختم کرتے ہی وہ اٹھ کھڑا ہوا۔عقیلہ بیگم نے سر ہلا کر اسے اجازت دی تو وہ تیزی سے سیڑھیاں چڑھ گیا۔
“ائے میں ذرا اپنی بہن سے مل آؤں۔۔”
خیرن بوا گھٹنوں پہ ہاتھ رکھتی اٹھ کھڑی ہوئیں۔
“ہاں جاو۔۔مل آو۔۔میری طرف سے بھی حال احوال پوچھ لینا۔”
عقیلہ بیگم نے خیرن کو اٹھتے دیکھکر کہا۔
“ضرور۔۔۔”
خیرن بوا دروازے کیطرف بڑھ گئیں۔
“اور ہاں۔۔۔اگر اس نے کھانے کے لئے اسرار کیا تو میرا انتظار نہ کرنا کھانے پر۔۔”
وہ جاتے جاتے پلٹ کر عقیلہ بیگم سے بولیں۔
“اچھا ٹھیک ہے۔۔۔چلو لڑکیو۔۔!! میں ذرا آرام کر لوں۔”
عقیلہ بیگم بھی اٹھ کھڑیں ہوئیں۔
“آئیے شاہ گل میں آپ کو کمرہ دکھا دیتی ہوں۔”
ایمان بھی ان کے ساتھ آگے بڑھ گئی۔عقیلہ بیگم کو کمرے میں چھوڑ کر جب وہ نیچے آئی تو وہ ساری سر جوڑے بیٹھی تھیں۔۔
“کیا تخریب کاری ہو رہی ہے۔”
وہ ان کے بیچ آ کر بیٹھ گئی۔
“ہاں۔۔ہم سوچ رہے تھے کہ تمھیں کیسے چرا کر لے جائیں کہ تمھارے میاں جی کو اسکی خبر بھی نہ ہو سکے۔”
فائقہ کی بات پر وہ صرف مسکرا کر رہ گئی۔
“ایسا لگتا تو نہیں ہے غزنوی بھائی ایمان کو ہمارے ساتھ جانے دیں گے۔۔کیوں ایمان۔۔”
ملائکہ نے ایمان کو ٹہوکا دیا۔
“ارے اگر ہماری ایمان اپنے میاں جی سے کہے گی تو کیا مجال ہے کہ میاں جی اجازت نہ دیں۔”
عنادل نے بھی شرارتی انداز میں ایمان کی طرف دیکھا۔
“تم لوگ یہ قیاس آرائیاں چھوڑو اور بتاو کھانے میں کیا کھاو گے۔۔۔کیا بناؤں تم لوگوں کے لئے؟”
وہ ان کی باتوں سے جان چھڑاتی اٹھ کھڑی ہوئی اور وہ سب بھی اب اپنی اپنی فرمائشیں بتانے لگیں تھیں۔
“حوصلہ حوصلہ لڑکیو۔۔۔!! ابھی بہت سے دن ہیں تم لوگوں کی فرمائش پوری کرنے کے لئے۔۔ابھی کے لئے میری پیاری بہنو۔۔ایک ہی فرمائیش پہ متفق ہو جاو۔”
ایمان نے ان کی فرمائشوں پہ کان بند کر لئے۔
“ارے واہ۔۔!! خود ہی تو پوچھ رہی تھی۔”
ارفع نے اسے کانوں پہ ہاتھ رکھتے دیکھ کر کہا تو وہ ہنس دی۔
“اچھا۔۔۔تم لوگ گپ شپ لگاو۔۔”
وہ اٹھ کر کچن کی طرف بڑھ گئی۔
🌺
“یہ لیجئے آپ کی چائے۔۔۔”
ایمان نے چائے کا کپ عقیلہ بیگم کے ہاتھ میں تھمایا۔وہ فجر پڑھ کر باہر لان میں آ گئیں تھیں۔۔ہلکی ہلکی ہوا طبیعت پہ اچھا اثر ڈال رہی تھی۔
“شکریہ بیٹا۔۔۔وہ سب بھی اٹھیں نماز کے لئے یا نہیں؟”
عقیلہ بیگم نے تازہ ہوا میں گہرا سانس لیا۔
“جی اٹھیں تھیں۔”
وہ مختصرا بولی۔
“خیرن نہیں آئی رات کو؟”
خیرن بوا کا خیال آتے ہی عقیلہ بیگم نے اس سے پوچھا۔
“نہیں۔۔۔وہ رات وہیں رک گئیں تھیں۔۔بلقیس خالہ نے رات کو ہی فون کر کے بتا دیا تھا۔”
وہ بھاپ اڑاتی چائے کا کپ واپس ٹیبل پہ رکھتے ہوئے بولی۔
“بلقیس بیگم آتیں ہیں تمھارے پاس؟”
بلقیس بیگم کا نام یاد آتے ہی انہوں نے پوچھا۔
“جی زیادہ نہیں بس ایک دو بار ہی آئی ہیں۔آجکل وہ اپنی بیٹی کے رشتے کے لئے کافی بھاگ دوڑ کر رہی ہیں۔بتا رہیں تھیں کہ ایک جگہ بات چلتے چلتے رہ گئی۔”
ایمان انہیں تفصیل سے بتانے لگی۔
“اوہ۔۔!! مگر کیسے؟”
عقیلہ بیگم کے چہرے پر فکر و پریشانی کے آثار نمودار ہوئے۔انہیں معلوم تھا کہ بلقیس بیگم بیٹی کے رشتے کو لے کر کسقدر پریشان تھیں۔اب یہ سب سن کر انہیں بہت دکھ ہوا تھا۔
“رشتہ تقریبا طے تھا مگر لڑکے کی بہن، جو رقیہ سے پہلی ملاقاتوں میں ملی نہیں تھی اور جب ملی تو یہ کہہ کر رشتہ ختم کر دیا کہ لڑکی ذرا دبتے ہوئے رنگ کی ہے اور یہ کہ انہیں تو گوری چٹی بھابھی چاہئیے۔”
ایمان نے افسوس سے بتایا۔
“توبہ۔۔!! کیا زمانہ آ گیا ہے۔۔پہلے وقتوں میں لوگ رشتہ کرتے وقت شرافت اور اخلاق کو مدنظر رکھتے تھے اور آجکل لوگ کے شرافت کا پیمانہ ہی بدل گیا ہے۔ایسے ہی لوگ ہوتے ہیں جنھیں بعد میں منہ کی کھانی پڑتی ہے مگر پھر بھی سمجھتے نہیں ہیں۔۔بچیوں کو تو بھیڑ بکری سمجھ رکھا ہے انہوں نے۔”
انہیں بہت تکلیف پہنچی تھی یہ سن کر۔۔۔
“جی آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں۔۔آجکل کسی کو کسی دوسرے کے جذبات کا احساس ہی نہیں۔۔”
ایمان نے ٹھنڈی ہوتی چائے کا کپ لبوں سے لگایا۔۔کچھ پل یونہی خاموشی کی نظر ہو گئے۔
“یہ کون ہے۔۔۔؟”
لان کے دائیں جانب سے شاہدہ کو گھر کی طرف جاتے دیکھ کر عقیلہ بیگم نے ایمان سے پوچھا۔ایمان کی اس جانب پیٹھ تھی اس لئے وہ شاہدہ کو آتے نہیں دیکھ پائی تھی۔اس نے پلٹ کر دیکھا۔۔
“یہ ملازمہ ہے۔۔۔شاہدہ۔۔۔یہیں سرونٹ کوارٹر میں رہتی ہے۔۔۔۔شاہدہ۔۔۔!!”
ایمان نے عقیلہ بیگم کو بتاتے بتاتے شاہدہ کو بھی آواز دے ڈالی۔شاہدہ نے ایمان کے ساتھ کسی خاتون کو بیٹھے دیکھا تو تجسس بھری نظروں سے عقیلہ بیگم کو دیکھتی ان کے پاس آ گئی۔
“السلام وعلیکم۔۔!!”
شاہدہ قریب آئی۔
“وعلیکم السلام۔۔۔”
عقیلہ بیگم اور ایمان نے بیک وقت جواب دیا۔
“شاہدہ یہ شاہ گل ہیں۔۔ہماری دادی۔۔۔”
ایمان نے عقیلہ بیگم کا تعارف کروایا۔
“بی بی ناشتہ ابھی بناوں یا کچھ دیر ٹھہر کر۔۔۔؟”
شاہدہ نے ایمان سے پوچھا۔
“تھوڑی دیر بعد۔۔۔پراٹھوں کے لئے آٹا گوندھ لو۔شاہ گل آپ کیا لیں گی ناشتے میں۔۔؟”
ایمان نے ساتھ ہی عقیلہ بیگم سے پوچھا۔
“کچھ بھی بنا لو بیٹا۔۔۔”
وہ چائے کا کپ ٹیبل پہ رکھتے ہوئے بولیں۔
“ٹھیک ہے تم جاؤ۔۔۔میں آتی ہوں تھوڑی دیر تک۔۔”
ایمان نے شاہدہ کو جانے کا کہا۔شاہدہ سر ہلاتی وہ سے چلی گئی۔
“میں زرا دیکھ آؤں۔۔غزنوی اٹھے ہیں یا نہیں۔”
ایمان نے تسبیح کے دانے گراتی عقیلہ بیگم سے کہا اور اٹھ کھڑی ہوئی۔عقیلہ بیگم بھی سر ہلاتی اپنے کام میں مشغول ہو گئیں اور ایمان اندر کی طرف بڑھ گئی۔
🏵️
“ایمان۔۔۔!!”
کمرے سے غزنوی کے پکارنے کی آواز آ رہی تھی۔وہ کچن میں ان سب کے لئے ناشتہ تیار کر رہی تھی۔آج عقیلہ بیگم اور لڑکیوں کو آئے تیسرا دن تھا۔وہ سب بھی سوائے لاریب کے کچن میں اس کی ہیلپ کر رہی تھیں۔روٹی بیل کر اس نے دائیں سے بائیں ہاتھ پہ ڈال کر مزید ہموار کی اور توے پہ ڈال کر ارفع سے خیال رکھنے کا کہتی کچن سے نکل آئی۔
“ایمان دیکھو بیٹا۔۔غزنوی بلا رہا ہے۔”
وہ لاؤنج میں آئی تو عقیلہ بیگم نے اس سے کہا۔
“جی جا رہی ہوں۔”
وہ کمرے کیطرف بڑھ گئی۔دروازے پہ دستک دیئے بغیر وہ کمرے میں آئی تھی مگر اندر آ کر اپنی اس حرکت پہ لاکھ مرتبہ پچھتائی۔غزنوی بناء شرٹ کے الماری کے پاس کھڑا تھا۔ایمان کو اندر آتے دیکھکر اب اسکا رخ اسکی جانب تھا۔ایمان نظریں جھکا گئی۔چہرے پہ غصے کے آثار تھے۔
“میری ریڈ شرٹ کہاں ہے؟”
غزنوی نے الماری کے پٹ بند کیے۔
“یہیں ہو گی۔۔۔الماری میں۔۔”
وہ بیڈ کیطرف آئی اور کمبل طے کرنے لگی۔
“میں کیا پوچھ رہا ہوں اور تم کیا کام لے بیٹھی ہو۔”
وہ آہستہ آواز میں کہتا قریب آیا۔ایمان نے غزنوی کو قریب آتے دیکھا تو کمبل چھوڑ کر الماری کیطرف بڑھی۔الماری کھول کر دیکھا تو مطلوبہ شرٹ نچلے خانے میں پڑی تھی۔اس نے شرٹ کے مل جانے پر دل ہی دل میں شکر ادا کیا۔
“یہ رہی۔۔۔”
ایمان نے شرٹ غزنوی کو دکھائی۔۔
“یہ آئرن کون کرے گا؟”
غزنوی نے آنکھیں دکھائیں۔ایمان سے تو وہاں کھڑا ہونا دوبھر ہو رہا تھا۔
“میں کر دیتی ہوں۔”
وہ تیزی سے کمرے سے نکلی۔۔جلدی سے شرٹ آئرن کی اور کمرے میں واپس آئی۔۔
“وہاں کہاں رکھ رہی ہو۔۔ادھر لاو۔۔۔”
نظریں جھکائے جھکائے وہ شرٹ بیڈ پہ رکھ ہی رہی تھی کہ غزنوی بول پڑا۔ایمان نے شرٹ اس کے حوالے کی۔
“میرا والٹ نہیں مل رہا۔۔دیکھو کہاں ہے۔”
شرٹ دے کر وہ پلٹی ہی تھی کہ ایک نیا حکم صادر ہوا۔عزنوی کے لبوں کی دبی دبی مسکراہٹ ایمان کی جھکی نظروں سے مخفی تھی۔اس نے بیڈ کے آس پاس نظر دوڑائی مگر اسے والٹ کہیں نظر نہیں آیا۔
“یہاں تو نہیں ہے۔”
اس نے پلٹ کر غزنوی کو دیکھا۔
“تو ڈھونڈو۔۔۔کہاں ہے۔۔”
اس نے شرٹ کا اوپری بٹن بند کیا اور کالر ٹھیک کرتا اسکی طرف پلٹا۔وہ پھر سے سارے کمرے میں ڈھونڈنے لگی جبکہ غزنوی اسے اس کام پہ لگا کر خود آرام سے بیڈ پہ بیٹھ کر اسے والٹ کی تلاش میں کمرے میں ادھر سے ادھر چکراتا دیکھتا رہا۔ہلکے گلابی رنگ کے پرنٹڈ سوٹ میں وہ خود بھی گلابی گلابی لگ رہی تھی۔شیفون کا گلابی آنچل بار بار ڈھلک جاتا۔۔ایمان خود پہ اسکی نظریں محسوس کر رہی تھی۔
“کہاں ہے یہ کمبخت والٹ۔۔۔”
وہ جلد سے جلد اسکی کھوجتی نظروں دور جانا چاہتی تھی مگر والٹ مل کے ہی نہیں دے رہا تھا۔
“کہاں رکھا تھا آپ نے۔۔؟”
ایمان نے بیڈ پہ سکون سے بیٹھے غزنوی کو دیکھا۔
“کہاں۔۔۔۔؟؟ اوہ ہاں یاد آیا۔۔میں اسٹڈ میں ہی چھوڑ آیا تھا۔دیکھو ساتھ میں گاڑی کی چابیاں بھی ہوں گی۔”
وہ سوچنے کی بھرپور ایکٹنگ کرتے ہوئے بولا۔اسکی آنکھوں کی شرارت اور چہرے پر بکھرتی مسکراہٹ ایمان کو اچھا خاصا تپا گئی۔اسکا جی چاہا کہ اسکے سر پہ کچھ دے مارے، لیکن برداشت کرتی اور ایک عدد گھوری سے نوازتی کمرے سے نکل گئی۔اپنے پیچھے اسے غزنوی کا دبا دبا سا قہقہ صاف سنائی دیا۔جس سے صاف ظاہر تھا کہ اس نے یہ سب جان بُوجھ کر کیا تھا۔
اسکے غصے سے لال ہوتے چہرے کو یاد کرتے ہوئے غزنوی کو کہیں پڑھی ہوئی ایک نظم یاد آئی۔
“ابھی تو عشق میں ایسا بھی حال ہونا ہے
کہ اشک روکنا تم سے محال ہونا ہے
ہر ایک لب پہ ہے میری وفا کے افسانے
تیرے ستم کو ابھی لازوال ہونا ہے
بجا کہ خار ہیں لیکن بہار کی رُت میں
یہ طے ہے اب کہ ہمیں بھی نہال ہونا ہے
ہماری روح پہ جب بھی عذاب اتریں گے
تمھاری یاد کو اس دل کی ڈھال ہونا ہے
تمہیں خبر ہی نہیں تم تو لوٹ جاؤ گے
تمہاری یاد کو اس دل کی ڈھال ہونا ہے
کبھی تو روئے گا وہ بھی کسی کی بانہوں میں
کبھی تو اس کی ہنسی کو زوال ہونا ہے
ملے گی ہم کو بھی اپنے نصیب کی خوشیاں
بس انتظار ہے کب یہ کمال ہونا ہے
ہر ایک شخص چلے گا ہماری راہوں پر
محبتوں میں ہمیں وہ مثال ہونا ہے
زمانہ جس کے خم و پیچ میں الجھ جائے
ہماری ذات کو ایسا سوال ہونا ہے
یقین ہے مجھ کو وہ لوٹ آئے گا
اسے بھی اپنے کیے کا ملال ہونا ہے.۔!”
دھیرے دھیرے گنگناتے ہوئے وہ ایمان کے لوٹنے کا انتظار کرنے لگا۔
غصے میں جلتی بُھنتی وہ اسٹڈی میں آئی تھی۔اندر داخل ہوتے ہی اسے ٹیبل پہ پڑی چابیاں اور والٹ دکھائی دے گیا۔ایمان نے دونوں چیزیں اٹھائیں اور باہر آ گئی۔
“ایمان ناشتہ ریڈی ہے۔۔ہم سب انتظار کر رہے ہیں۔۔غزنوی بھائی سے کہو کہ یہ رومینس بعد میں کر لیں۔”
تیزی سے سیڑھیاں اترتی وہ روم کیطرف جا رہی تھی کہ فائقہ نے کچن سے نکل کر دُہائی دی۔۔بعد میں اپنے آخری جملے پر خود ہی کھی کھی کرنے لگی۔
“آ رہے ہیں۔۔”
وہ فائقہ سے کہتی کمرے میں داخل ہوگئی۔
“یہ لیں اور آ جائیں، ناشتہ ریڈی ہے۔”
ایمان نے والٹ ہاتھ میں دینے کی بجائے بیڈ پہ اسکے قریب رکھا اور جھپاک سے کمرے سے نکل گئی۔
“بہت شکریہ۔۔”
وہ والٹ اور کیز اٹھاتا اسکے پیچھے کمرے سے نکلا۔وہ دونوں کچن میں پہنچے تو وہ سب ان کے انتظار میں بیٹھے تھے۔
“غزنوی بھائی۔۔یہ کوئی وقت ہے رو۔۔۔”
اس سے پہلے کہ عنادل اپنا جملہ مکمل کرتی، عقیلہ بیگم کی گھورتی نگاہیں اسے چپ کرا گئیں۔
“میرا مطلب ہے کہ میں آپ کے انتظار میں ناشتہ کیے بغیر ہی مر جاتی تو۔۔۔”
اس نے جلدی سے بات کو بدلا۔
“تو پھر ہم بھی ناشتہ نہ کرتے اور تین دن بعد تمھاری قُل کے چاول کھاتے۔۔۔”
غزنوی نے ہنستے ہوئے اسکی طرف دیکھا جبکہ وہ روہانسی ہو گئی۔
“غزنوی۔۔۔۔!!”
عقیلہ بیگم نے غزنوی کو گھوری سے نوازا۔
“سوری شاہ گل۔۔۔”
وہ کانوں کو ہاتھ لگاتا ناشتے میں مصروف ہو گیا۔
“ایمان کو اسلام آباد دکھایا یا تب سے اب تک اس گھر میں ہی قید ہے؟”
انہوں نے گھونٹ گھونٹ چائے پیتے ہوئے غزنوی کو دیکھا۔
“جی ہاں۔۔۔سارا اسلام آباد دکھایا۔۔۔یہاں تک بیگم صاحبہ تو اپنے میکے کی بھی سیر کر آئی ہیں۔”
وہ آملیٹ سے مکمل انصاف کرتے ہوئے بولا۔اس کے جھوٹ پہ ایمان کا منہ طرف جاتا ہاتھ رک گیا مگر پھر اگلے ہی لمحے وہ اپنے کام میں مشغول ہو گئی۔
“ایمان کیا یہ ٹھیک کہہ رہا ہے؟”
انہوں نے آج دونوں کی کلاس لینے کی ٹھان لی تھی شاید۔۔
“جی شاہ گل۔۔۔جب میں گاؤں سے واپس آئی تھی تو لے کر گئے تھے۔۔”
وہ بناء کسی کی جانب دیکھے بولی تھی۔
“ہیم۔۔۔”
وہ مزید کھنگالنے کا ارادہ ترک کرتیں ناشتہ کرنے لگیں تو ایمان نے سکھ کا سانس لیا۔وہ جب سے آئیں تھیں اس سے کرید کرید یہی جاننے کی کوشش کر رہی تھیں کہ وہ خوش ہے۔۔غزنوی کا رویہ اسکے ساتھ کیسا ہے۔۔وہ انھیں مطمئن کرنے کی ہر کوشش کر رہی تھی مگر وہ روز کسی نئے سوال کے ساتھ اسکے سامنے موجود ہوتی تھیں اور اوپر سے خیرن بوا کی ایکسرے مشین جیسی نگاہیں۔۔۔لگتا تھا دونوں اسی ایک کام سے یہاں آئیں تھیں۔
“ائے تم لوگوں کو تو جیسے سانپ سونگھ گیا لڑکیو۔۔!”
خیرن بوا اسقدر خاموشی سے گھبرا کر بولیں۔
“خیرن بوا۔۔۔آپکی بہن کا گھر یہاں پڑوس میں ہے؟”
لاریب نے خیرن بوا سے پوچھا۔
“ائے ہاں۔۔یہیں پڑوس میں ہی رہتی ہے۔۔اسکے گھر میں تو ہر دم چہل پہل رہتی ٹیپو کی وجہ سے۔۔بہت ہی شرارتی لونڈا ہے۔۔ایک دم آفت کا پرکالہ۔۔۔ماں کو ٹک کے بیٹھنے ہی نہیں دیتا۔”
وہ ہنستے ہوئے انہیں ٹیپو کی شرارتیں بتانے لگیں۔
“بچوں سے تو گھر میں رونق ہوتی ہے۔”
عقیلہ بیگم ہنستے ہوئے بولیں۔
“سہی کہہ رہی ہیں آپ عقیلہ بیگم۔۔۔اللہ ہمیں بھی یہ دن دکھائے۔۔آمین۔۔!!”
خیرن بوا نے ایمان کی جانب دیکھتے ہوئے دعا دی۔
“آمین۔۔۔!”
عقیلہ بیگم نے آمین بولا۔ان کی بات کا مقصد سمجھ کر ایمان کے حلق میں نوالا اٹک گیا۔اس نے جلدی پانی کا گلاس منہ سے لگایا۔
“میں چلتا ہوں۔۔۔۔اللہ حافظ۔۔”
غزنوی ایک گہری نظر ایمان پر ڈالتا اٹھ کھڑا ہوا۔
“اللہ حافظ بیٹا۔۔۔”
عقیلہ بیگم بھی اٹھ گئیں۔۔خیرن بوا بھی ان کے ساتھ ہی باہر آئیں۔باقی سب گپ شپ لگاتی ناشتہ ختم کرنے لگیں۔
❤
“یہ سب کیا ہو رہا ہے۔۔۔؟”
ایمان ان سب کی تلاش میں باہر آئی تو وہ سب سر جوڑے لان میں بیٹھی تھیں۔
“کچھ نہیں۔۔۔آج ہم واپس جا رہے ہیں تو اس لئے دل اداس ہے۔”
لاریب لان کی سبز گھاس پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے اداسی سے بولی۔
“اداس تو میں بھی ہوں تم سب کے جانے سے۔”
ایمان نے ان سب کیطرف دیکھا۔۔
“کتنی رونق ہو گئی تھی تم سب کے آنے سے۔”
وہ ان کے جانے کا سن کر بہت اداس ہو گئی تھی۔عقیلہ بیگم سے اس نے کچھ دن اور رکنے کا کہا تھا مگر انہوں نے سہولت سے منع کر دیا تھا۔
“تم بھی ہمارے ساتھ چلو۔۔۔”
ارفع نے مشورہ دیا۔
“غزنوی بھائی نہیں جانیں دیں گے۔۔وہ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ وہ اور ایمان عید پہ ہی آئیں گے۔”
ملائکہ نے ایمان کو شرارتی نظروں سے دیکھا۔وہ سب بھی ہنس دیں۔
“یار یہ لان کتنا خوبصورت سے نا۔۔۔”
عنادل ایک گہری سانس لیتی اٹھ کھڑی ہوئی۔موسم صبح ہی سے کافی خوشگوار تھا۔
“ہاں واقعی۔۔۔ہمارے لان سے بھی زیادہ خوبصورت یے۔”
لاریب نے عنادل کی ہاں میں ہاں ملائی۔وہ سب باتیں کر رہی تھیں کہ گاڑی کے ہارن کی آواز نے سب کی توجہ اپنی جانب کھینچی۔چوکیدار گل خان نے آگے بڑھ کر آہنی گیٹ کھولا۔۔گیٹ کھلتے ہی غزنوی کی گاڑی اچھی خاصی اسپیڈ سے پورچ میں آ رکی۔وہ سب حیرانی سے اسے دیکھ رہی تھیں۔وہ اتنی ہی تیزی سے گاڑی سے نکلا اور زوردار آواز کے ساتھ دروازہ بند کیا۔
“بھائی غصے میں لگ رہے ہیں۔”
ملائکہ کے ساتھ ساتھ باقی سب کا بھی یہی اندازہ تھا۔چوکیدار گیٹ بند کر کے گیٹ کے قریب بنے ایک چھوٹے سے کمرے میں چلا گیا تھا۔
“اس وقت تو کبھی نہیں آتے۔۔۔آج کیسے۔۔”
ایمان نے غزنوی کو گاڑی سے نکلتے اور مین ڈور کی طرف بڑھتے دیکھ کر کہا۔
“دیکھ نہیں رہی کس قدر غصے میں ہیں۔”
فائقہ نے کہا۔
“کچھ ہوا ہو گا آفس میں۔۔۔”
لاریب بھی کپڑوں سے نادیدہ گرد جھاڑتی اٹھ کھڑی ہوئی۔
“میں تو پودوں کو پانی دینے لگی ہوں۔”
عنادل کیاری میں رکھے پانی کے پائپ کی طرف بڑھی۔
“لیکن یار بھائی کا غصہ کیسے کم کیا جائے۔۔یہ تو سوچو۔۔۔”
ملائکہ اور ارفع ایک آواز میں بولیں تھیں اور پھر ایک دوسرے کو دیکھ کر کھلکھلا کر ہنس دیں۔
“ان کا غصہ تو ایک ہی صورت کو دیکھکر کم ہو سکتا ہے۔”
ملائکہ نے ایمان کو دیکھا جو اس ادھیڑ بن میں تھی کہ غزنوی کیوں اتنے غصے میں ہے۔وہ سب بھی اسکا اشارہ سمجھ گئیں تھیں۔
“ہاں ٹھیک کہہ رہی ہو۔۔”
ارفع کے ذہہن میں جھماکا سا ہوا۔اس نے پودوں کو پانی دیتی عنادل کے کان میں کچھ کہا اور دونوں ایمان کیطرف شرارت سے دیکھتی ہنس دیں اور باقی سب کو بھی اشارے سے بلایا۔ایمان ان سب سے بےخبر وہیں بیٹھی اپنے اور غزنوی کے روم کی کھڑکی کو دیکھ رہی تھی۔
“آہ۔۔۔۔”
ٹھنڈے پانی کی پھوار جیسے ہی اس پر پڑی وہ اچھل کر اٹھ کھڑی ہوئی۔
“یہ کیا کر رہی ہو تم لوگ۔۔۔رُکو عنادل۔۔۔”
وہ دونوں ہاتھوں سے پانی کی بوچھاڑ کو روکنے کی ناکام کوشش کرتی ان کیطرف بڑھ رہی تھی۔وہ سبھی ہنس رہی تھیں۔اس بیچ وہ اچھی خاصی بھیگ چکی تھی۔
“چلو پلان کا ایک مرحلہ تو مکمل ہو گیا۔”
عنادل نے پائپ پھینک کر ہاتھ جھاڑے۔
“یہ کیا کیا ہے تم لوگوں نے بدتمیزو۔۔۔!!”
وہ اپنا بھیگا ڈوپٹہ نچوڑتے ہوئے بولی۔مسکراہٹ اسکے چہرے پر بھی اپنی چھب دکھلا رہی تھی۔وہ سب بھی ہنس رہی تھیں۔
“میں تم لوگوں کو نہیں چھوڑوں گی۔”
ایمان بھی پائپ اٹھانے کے لئے آگے بڑھی تھی مگر انھوں نے اسے پکڑ لیا تھا۔
“چلو لڑکیو۔۔۔!! پلان نمبر ٹو۔۔۔”
لاریب نے نعرہ لگانے کے سے انداز میں ہاتھ بلند کیا۔
“او کے باس۔۔۔”
وہ سب ایک آواز میں بولیں اور ایمان کو پکڑے اندر جانے لگیں۔
“یہ کیا کر رہی تم لوگ۔۔”
وہ مسلسل ہنس رہی تھی۔
“ہم تمھیں ٹھنڈا ٹھار کر کے کسی کا غصہ اتارنے والے ہیں۔۔دیکھنا تمھیں یوں بھیگا بھیگا دیکھ کر سارا غصہ ہوا ہو جائے گا۔”
ارفع نے اسے اطلاع دی۔
“کیا مطلب۔۔۔؟؟”
ایمان نے کچھ سمجھنے اور کچھ ناسمجھنے کے سے انداز میں کہتے ہوئے اپنے ہاتھ جھٹکے سے ان کی گرفت سے چھڑائے تھے۔۔مگر انہوں نے پھر سے اسے قابو کر لیا۔
“نہیں نہیں۔۔۔”
ایمان نے اپنی حالت کے پیش نظر انھیں روکا۔
“ہاں ہاں۔۔۔”
فائقہ نے باقی سب کو آنکھ ماری۔۔ایمان کا دل کسی پتے کی مانند لرزنے لگا۔
“یار پلیز۔۔۔ایسا نہ کرو۔۔۔وہ مزید غصہ ہو جائیں گے۔”
ایمان نے انھیں سمجھانے کی کوشش کی۔
“کچھ نہیں ہوتا۔۔۔دیکھنا ان کے غصے کا پارہ کیسے نیچے آتا ہے۔تمھیں اس بھیگے بھیگے موسم میں بھیگا بھیگا دیکھکر۔”
عنادل نے کہا تو باقی سب کا قہقہ گونج گیا۔وہ سب اسے لئے روم کے دروازے تک پہنچ گئیں تھیں۔وہ اسکی ایک بات نہیں سن رہی تھیں اور اسے لگ رہا تھا جیسے اسکا سانس بند ہو جائے گا۔
“شش۔۔۔!!”
لاریب نے ہونٹوں پہ انگلی رکھ کر انھیں خاموش رہنے کو کہا۔وہ سب خاموش ہو گئیں۔ایمان نفی میں سر ہلانے لگی۔عنادل نے فائقہ کو دستک دینے کا اشارہ کیا۔
فائقہ نے دستک دی مگر دروازہ نہیں کھلا۔ایمان نے شکر کا سانس لیا۔
“یار وہ دروازہ نہیں کھول رہے۔۔لگتا ہے سو گئے ہیں۔”
ارفع نے آہستہ آواز میں کہا۔
“دوبارہ دو دستک۔۔”
لاریب نے فائقہ سے کہا۔فائقہ نے اس بار زور سے دستک دی۔اگلے ہی پل دروازہ کھلنے کی آواز پہ انہوں نے ایک دوسرے کو الرٹ رہنے کا اشارہ کیا۔
“نن۔۔نہ۔۔نہیں۔۔۔”
ایمان نے بولی تھی۔دروازہ جیسے ہی کھلا انہوں نے ایمان کو اندر کی جانب دھکا دیا اور خود وہاں سے بھاگ گئیں۔ایمان اپنا توازن برقرار نہیں رکھ پائی اور دروازے کی دوسری جانب کھڑے غزنوی سے ٹکرا گئی۔غزنوی اس اچانک افتاد پہ حیران اسے دیکھ رہا تھا۔وہ گرنے والی تھی کہ غزنوی نے فوراً اسے سمیٹا بازوؤں میں سمیٹا۔۔اس کے بازو بھی بھیگ گئے تھے۔
اگلے ہی پل شدید غصے سے غزنوی کا چہرہ سرخ ہو چکا تھا۔
“سس۔۔سوری۔۔یہ ان سب۔۔”
اس سے پہلے کہ وہ بات مکمل کر پاتی ایک زناٹے دار تھپڑ ایمان کے نازک گال پہ اپنی چھاپ چھوڑ گیا۔جسکی آواز لاؤنج تک سنائی دی تھی۔وہ قہر بھری سرخ آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔ایمان نیچے کارپٹ پہ گری، دائیں گال پہ رکھے اسے حیران نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
“شرم لحاظ سب بھول بیٹھی ہو کیا۔۔وہ تو بچیاں ہیں تم تو سمجھدار تھیں نا۔۔بےشرمی کا جامہ پہن کر مجھے لبھانے کے ارادے ترک کر دو۔آئیندہ اگر ایسی کوئی حرکت کی تو ایک سیکنڈ نہیں لگاوں گا تمھیں اپنی زندگی سے نکال باہر کرنے میں۔۔بےشرم عورت۔”
وہ اونچی آواز میں چلاتا کمرے سے نکل گیا۔بےپناہ غصے میں لاونج سے گزرتے ہوئے وہ شاہ گل اور خیرن بوا کو نہیں دیکھ پایا تھا۔باقی سب بھی ہکا بکا رہ گئیں تھیں۔جہاں کچھ دیر پہلے کھلکھلاہٹیں تھیں اب وہاں موت کی سی خاموشی چھا گئی تھی۔کسی میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ روم میں جا کر ایمان کو دیکھتا۔عقیلہ بیگم کانپتی ٹانگوں سے چلتی ہوئی صوفے پہ گرنے کے سے انداز میں بیٹھ گئیں۔انھیں اندازہ نہیں تھا کہ غزنوی کے دل میں ایمان کے لئے اتنی نفرت ہے۔وہ سر پکڑ کر بیٹھ گئیں۔
خیرن بوا بھی ان کے پاس آ بیٹھیں اور ان کے کندھے پہ ہاتھ رکھا۔
“سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔میاں بیوی میں ایسا ہوجاتا ہے کبھی کبھی۔”
خیرن بوا نے انھیں تسلی دی۔
“افسوس تو اس بات کا ہے خیرن کہ ہمارے ایک غلط فیصلے نے بچوں کی زندگی خراب کر دی۔لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ اپنی غلطی کو درست کر لیا جائے۔”
وہ بھیگے لہجے میں بولیں۔
“یہ سب ہماری غلطی کی وجہ سے ہوا شاہ گل۔۔ہمیں نہیں معلوم تھا کہ وہ اسطرح ری۔ایکٹ کریں گے۔”
عنادل شرمندہ لہجے میں بولیں۔۔باقی سب کو بھی اپنے فعل پر افسوس ہو رہا تھا۔
“تم لوگوں کا بھی قصور ہے۔۔مگر غزنوی کو تو بہانا چاہئیے تھا، لہذاء اسے وہ موقع آج تم لوگوں نے فراہم کر دیا۔اچھا ہی ہوا کہ اس رشتے کی حقیقت ہمارے سامنے آ گئی۔اب فیصلہ لینے میں آسانی ہو گی۔”
وہ بہت دکھ سے بولیں۔
“ائے کوئی اس بچی کو بھی جا کر دیکھو۔”
خیرن بوا نے ان سب سے کہا۔
“بوا ہم میں تو اتنی ہمت نہیں ہے۔۔”
ارفع بولی تو باقی سب نے بھی اثبات میں سر ہلایا۔
“ٹھیک ہے میں خود دیکھتی ہوں۔”
خیرن بوا گھٹنوں پہ ہاتھ رکھتیں اٹھ کھڑی ہوئیں۔
“مجھے کمرے میں لے جاو لاریب۔۔مجھ میں ہمت نہیں ہے کہ میں اس بچی کا سامنا کر سکوں۔”
عقیلہ بیگم نے لاریب سے کہا تو وہ انھیں سہارا دیئے کمرے میں لے گئی اور باقی سب افسوس سے ایک دوسرے دیکھتے ہوئے سر جھکا گئیں تھیں۔
💕
اسے سمجھ نہیں آیا تھا کہ یہ سب اچانک کیا ہو گیا تھا۔وہ اسی پوزیشن میں کارپٹ پہ بےحس و حرکت پڑی تھی۔اٹھنے کی کوشش تک نہیں کی تھی۔غزنوی کے الفاظ اسکے کانوں کسی سیسے کی طرح پڑے تھے۔جس کی تپش اسکا سارا جسم جھلسائے دے رہی تھی۔کس قدر نفرت میں لپٹے تھے اس کے الفاظ، جنھوں نے اسکی بچی کچی طاقت تک چھین لی تھی۔
آنکھوں سے گرم سیلے رواں جاری تھا۔بایاں ہاتھ ابھی تک بائیں گال پہ ساکت تھا۔بھیگے کپڑوں میں جیسے آگ سی دہک رہی تھی۔آج اسکے بےجان رشتے کا لاشہ سب کی نظروں کے سامنے تھا۔وہ پردہ جو اس نے اپنے دل کو مار کر اس کھوکھلے رشتے پہ ڈال رکھا تھا، غزنوی کے غصے کی تیز ہوائیں اسے اڑا لے گئیں تھیں اور اب یہ رشتہ کسی بےبرگ و بار درخت کی طرح اپنی حالت پہ شرمندہ کھڑا تھا۔اسکا دکھ صرف وہی سمجھ سکتی تھی۔
“ایمان بٹیا۔۔۔”
خیرن بوا کی آواز اسے حال میں کھینچ لائی۔وہ جھٹکے سے اٹھ بیٹھی۔نہایت پُھرتی سے اپنے بھیگے ڈوپٹے سے چہرہ صاف کیا۔
“ایمان۔۔۔”
خیرن بوا کمرے میں داخل ہوئیں تو وہ کارپٹ پہ بیٹھی ہوئی تھی۔
“ارے بوا۔۔۔آپ کب آئیں۔؟”
وہ چہرے پہ ذبردستی کی مسکراہٹ سجائے بولی۔وہ ان کی جانب ڈائریکٹ دیکھنے سے گریز کر رہی تھی۔لیکن اسکے نازک گال پہ غزنوی کے انگلیوں کے نشان، اسکی بکھری حالت، کانپتے ہونٹ اور سوجی آنکھیں۔۔اسکی ظاہری حالت اسکے لہجے کے بالکل برعکس تھی۔
“رو لے بٹیا۔۔دل میں روگ نہ پال۔۔غزنوی ایسا نہیں ہے۔۔کوئی اور وجہ ہو گی جسکا غصہ وہ بیوقوف تم پر نکال بیٹھا۔۔اب یقینا پچھتا رہا ہو گا۔”
وہ اسکے بائیں گال کو پیار سے سہلاتے ہوئے بولیں۔ایمان کی آنکھیں نمکین پانیوں سے بھر گئیں اور چہرہ بھیگ گیا۔۔خیرن بوا نے اسے گلے لگایا اور وہ اتنی محبت پا کر بکھر گئی۔
“بس چپ کر جا۔۔۔میری بچی۔۔تمھارے رونے سے میرا کلیجہ پھٹ رہا ہے۔۔کیا حال ہو گیا ہے۔۔چل شاباش بس اپنے آنسو پونچھو اور کپڑے بدلو۔۔کہیں بخار نے آ لیا تو۔۔۔شاباش میری بچی۔۔”
انہوں نے اسکی پیٹھ سہلاتے ہوئے اسے خود سے الگ کیا۔وہ سسکیاں بھرتی ان سے الگ ہوئی۔
“جا کپڑے بدل۔۔۔گھر لوٹ کر آنے دے اسے۔۔وہ لتے لوں گی کہ ساری زندگی یاد رکھے گا۔”
خیرن بوا نے اسکے آنسو پونچھے۔۔اسکا سارا وجود ہچکولوں کی زد میں تھا۔انہوں نے اسے بیڈ پہ بٹھایا۔اسکے آنسو پونچھے۔۔۔پھر انہوں نے الماری کھول کر ایک ڈریس نکالا اور اسکے ہاتھ میں دیا۔وہ کپڑے لینے کے بعد بھی وہیں بیٹھی رہی۔
“ائے لڑکی اب تم نہیں اٹھی تو میں یہیں شروع ہو جاوں گی۔”
انہوں نے پیار بھری دھمکی دی تو وہ اٹھی۔
“چلو جلدی سے فریش ہو کر نیچے آو۔۔مل کر کھانا کھاتے ہیں۔کمبخت بھوک نے ادھ مرا سے کر دیا ہے۔”
وہ اسکے سر پہ ہاتھ رکھتی کمرے سے نکل گئیں۔اسکی نظر دروازے کے دائیں طرف دیوار پہ لگی غزنوی تصویر پر پڑی۔
“بےشرم عورت۔۔۔”
غزنوی کے الفاظ اسکے کانوں میں گونجے جو اس پہ چابک کیطرح لگے۔آنکھوں میں ڈولتا نمکین پانی گالوں سے ہوتا ہوا اسکے بکھرے بالوں میں جذب ہو گیا۔چہرے کی جلن بڑھ رہی تھی اور آنکھوں کا کاجل پھیلتا جا رہا تھا۔
❣️
گاڑی کی سیٹ سے پشت ٹکائے وہ آنکھیں بند کیے بیٹھا تھا۔اس کے ہاتھ پہ ٹہرا وہ نازک لمس اسکی تکلیف بڑھا رہا تھا۔اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ جو کچھ اس نے کر دیا تھا اس کا سدباب اب وہ کیسے کرے گا۔ایمان کی آنکھوں میں ہلکورے لیتا درد اس کی نگاہوں سے پوشیدہ نہیں تھا۔وہ کیسے سمجھائے گا اسے کہ یہ ایک غیر ارادی فعل تھا۔
اس نے آنکھیں کھول دیں اور اس سچویشن سے نکلنے کے لئے اس نے ریڈیو آن کیا۔مہدی حسن کی پُرسوز آواز گاڑی میں گونجنے لگی۔
میں ہوش میں تھا تو پھر اس پہ مر گیا کیسے
یہ زہر میرے لہو میں اتر گیا کیسے۔۔
کچھ اس کے دل میں لگاوٹ ضرور تھی ورنہ
وہ میرا ہاتھ دبا کر گزر گیا کیسے۔۔
ضرور اس کی توجہ کی رہبری ہو گی
نشے میں تھا تو میں اپنے ہی گھر گیا کیسے۔۔
جسے بھلائے کئی سال ہو گئے کامل
میں آج اس کی گلی سے گزر کیسے۔۔
اندھیرا کافی بڑھ گیا تھا۔۔۔بے خیالی میں ڈرائیو کرتے کرتے وہ گھر سے کافی دور آ گیا تھا۔اس نے گاڑی ریسورس کی اور اسپیڈ بڑھائی۔گھر جانے کی ہمت تو نہیں تھی مگر سامنا تو کرنا ہی تھا۔اسے اپنی غلطی کا احساس تھا مگر یہ احساس بھی اسی سکون نہیں دے رہا تھا۔یہ اس کی زندگی کی دوسری بڑی غلطی تھی جس پر وہ بے حد شرمندہ تھا۔ایمان کا معصوم چہرہ ایک پل کے لئے بھی اس کی آنکھوں سے سے دور نہیں ہٹا تھا۔رہ رہ کر خود پہ غصہ بڑھتا ہی جا رہا تھا تھا کہ اس نے نے کسی اور کا غصہ اس پر اتار دیا۔آفس میں میں آج ایک اہم ڈیل فائنل ہونی تھی مگر ایک بزنس حریف کی وجہ سے یہ ڈیل اس کے ہاتھوں سے نکل گئی۔اس لئے وہ آفس سے جلدی اٹھ آیا تھا اور یہی غصہ اس نے ایمان پر اتار دیا تھا۔اسکا گھبراتا اور بھیگا وجود اسکے لئے آزمائش بن گیا تھا اور اس سے پہلے کہ وہ کمزور پڑتا اس کا بپھرتا غصہ عود کر آیا اور اپنے ساتھ سب کچھ بہا لے گیا۔ریڈیو پہ اب نصرت فتح علی خان کی آواز اپنا جادو چلا رہی تھی۔اس نے ہاتھ بڑھا کر بٹن آف کر دیا۔سناٹے کو چیرتی آواز خاموش ہو چکی تھی۔اس نے اپنی گھڑی پہ نظر ڈالی۔رات کے نو بجنے والے تھے۔اسے وقت کا احساس تک نہیں ہوا تھا۔اس نے گاڑی کی اسپیڈ بڑھائی۔تقریباً آدھے گھنٹے کی ریش ڈرائیونگ کے بعد وہ گھر پہنچ گیا۔
چوکیدار نے گیٹ کھول دیا۔۔گاڑی پورچ میں کھڑی کرتا وہ اندر کیطرف بڑھ گیا۔لاونج میں مکمل خاموشی تھی۔وہ واپس باہر آیا۔
“کاکا۔۔۔۔!!”
اس نے چوکیدار کو پکارا۔گل خان فورا اپنے کمرے سے باہر آیا۔
“جی صاحب۔۔؟”
وہ بھاگ کر قریب آیا تھا۔
“کیا شاہ گل وغیرہ واپس جا چکی ہیں؟”
اس نے گل خان سے ہوچھا۔
“نہیں صاحب۔۔۔گھر پر ہی ہیں سب۔۔۔”
گل خان کے کہنے کے بعد وہ سر ہلاتا واپس پلٹ گیا۔اپنے کمرے کے بند دروازے کو دیکھتا کمرے کی جانب بڑھا۔باقی کمروں کے دروازے بھی بند تھے۔معمول کے مطابق وہ بناء دستک دیئے کمرے میں داخل ہوا۔کمرے میں جلتی نائٹ بلب کی روشنی میں سب واضح نظر آ رہا تھا۔ایمان بیڈ کے دائیں جانب سکڑی سمٹی لیٹی تھی۔یہ دیکھنے کے لئے کہ وہ جاگ رہی ہے یا سو رہی ہے، وہ قریب آیا۔وہ گہری نیند میں تھی۔دائیں کروٹ لیٹنے سے اسکا وہی گال اسکی نظروں کے سامنے تھا جس پہ اسکی انگلیوں کے نشان اب بھی موجود تھے۔غزنوی کو اپنے دل کی دھڑکن رکتی محسوس ہوئی۔آنسووں کے مٹے مٹے نشان اسکے چہرے پہ دکھائی رہے تھے۔غزنوی نے کمبل کھول کر اسے اوڑھایا اور قریب ہو کر بہت نرمی سے اپنے ہاتھ کی پشت سے ایمان کے گال کو چُھوا۔ایک بار، دو بار، بار بار غزنوی کے ہاتھ نے اسکے چہرے کی نرمی کو اپنے اندر سمویا تھا۔وہ حیران ہوا کہ ایمان اسکے چھونے سے اٹھ کیوں نہیں رہی۔اسی لمحے اسکی نظر سائیڈ ٹیبل پہ دھرے دودھ کے خالی گلاس اور اسکے ساتھ پڑی ٹیبلیٹس پر پڑی۔غزنوی نے اٹھا کر چیک کیا۔یہ نیند کی ٹیبلیٹس تھیں۔وہ ٹیبلیٹس رکھتا اسکے پاس بیٹھ گیا۔
بھوک پیاس سے بےنیاز وہ کتنی ہی دیر اسے دیکھتا رہا اور پھر دھیرے سے اسکے گالوں کو لبوں سے چُھوا۔
کچھ پل اور وہ اسکے بےخبر وجود کو دیکھتا رہا پھر وہ اٹھ کر اپنی جگہ پہ آ کر لیٹ گیا۔نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔آنکھوں پہ ہاتھ رکھے وہ ساکت لیٹا رہا مگر تھوڑی تھوڑی دیر بعد سوئی ہوئی ایمان پر ایک نظر ڈالنا نہیں بھولتا۔۔
رات آنکھوں میں کٹ گئی تھی۔وہ ساری رات سو نہیں پایا تھا اور صبح وہ ایمان کے جاگنے سے پہلے آفس کے لئے نکل گیا تھا۔
💓
ﺳُﻨﻮ ﺟﺎﻧﺎﮞ۔۔!!
ﺟﺪﺍﺋﯽ ﻣﻮﺕ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ۔
ﮐﺒﮭﯽ ﻓﺮﺻﺖ ﻣﻠﮯ ﺗﻮ ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ ﭘﺘﻮﮞ ﮐﺎ ﮔِﺮﻧﺎ ﺗﻢ
ﮐﮧ ﺟﺐ ﯾﮧ ﺷﺠﺮ ﺳﮯ ﮔِﺮ ﮐﺮ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﺁﻥ ﭘﮍﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﺗﻮ ﮐﯿﺴﮯ ﺭﻭﻧﺪﮮ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﭨﮭﭩﮭﺮﺗﯽ ﺭﺍﺕ ﮐﮯ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﻟﻤﺤﻮﮞ ﻣﯿﮟ
ﮐﺴﯽ ﺑﮯ ﺑﺲ ﺍﮐﯿﻠﯽ ﺑﺎﻭﻓﺎ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﻟﮍﮐﯽ ﮐﯽ
ﮐﺒﮭﯽ ﺗﻢ ﺳﺴﮑﯿﺎﮞ ﺳُﻨﻨﺎ
ﮐﺒﮭﯽ ﻗﻄﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﺑﭽﮭﮍﯼ ﮨﻮﺋﯽ ﮐﻮﻧﺠﻮﮞ ﮐﮯ ﻧﻮﺣﮯ ﭘﺮ
ﻧﮕﺎﮦ ﮐﺮﻧﺎ
ﮐﮧ ﮐﯿﺴﮯ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺟﮯ ﮐﯽ ﺟُﺪﺍﺋﯽ ﭘﺮ
ﺗﮍﭖ ﮐﺮ ﺑﯿﻦ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﯿﮟ
ﮐﺒﮭﯽ ﺭﺧﺼﺖ ﮐﮯ ﻟﻤﺤﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮫ ﺳﮯ ﻟﮍﮬﮑﺘﮯ ﮨﻮﮰ
ﺁﻧﺴﻮ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﻮ ﮔﮯ
ﺗﻮ ﺷﺎﯾﺪ ﺟﺎﻥ ﭘﺎﺅ ﮔﮯ۔۔!
ﺟُﺪﺍﺋﯽ ﻣﻮﺕ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ۔
ﺍﺑﮭﯽ ﺗﻢ ﻧﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﮯ ﺑﺮﺳﺘﮯ ﺑﮭﯿﮕﺘﮯ ﻣﻮﺳﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﮯ
ﺍﺑﮭﯽ ﺗﻢ ﺗﺘﻠﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﺭﻧﮓ ﻣُﭩﮭﯽ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﭙﺎﺗﮯ ﮨﻭ۔۔
ﺍﺑﮭﯽ ﺗﻢ ﻣُﺴﮑﺮﺍﺗﮯ ﮨﻮ،
ﺳُﻨﻮ ﺟﺎﻧﺎﮞ۔۔!!
ﮐﺒﮭﯽ ﺟﻮ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻧﮯ ﺍﺟﻨﺒﯽ ﻭﯾﺮﺍﻥ ﺭﺍﮨﻮﮞ ﭘﺮ
ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﯾﮧ ﮨﻨﺴﯽ ﭼﮭﯿﻨﯽ
ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﺁﻧﺴﻮ ﺑﮩﺎﺅ ﮔﮯ
ﺗﻢ ﺍﺗﻨﺎ ﺟﺎﻥ ﺟﺎﺅ ﮔﮯ۔
ﺟُﺪﺍﺋﯽ۔
ﻣﻮﺕ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ۔۔
“اپنا سامان پیک کرو۔۔تم ہمارے ساتھ جا رہی ہو۔۔غزنوی کا جب دل چاہے گا آ جائے گا۔ہم کل اسی لئے نہیں گئے کہ آج تمھیں ساتھ لے کر جائیں گے۔”
عقیلہ بیگم خیرن بوا کے ساتھ اپنے کمرے میں تھیں کہ وہ قہوہ لئے کمرے میں داخل ہوئی۔اسے دیکھتے ساتھ ہی انہوں نے حکم صادر کیا تھا۔آواز میں نرمی تھی مگر لہجے سے ظاہر تھا کہ ان کا فیصلہ اٹل ہے۔
“مگر شاہ گل۔۔میں ایسے کیسے جا سکتی ہوں۔غزنوی سے پوچھا نہیں ہے میں نے۔”
وہ اب غزنوی کو غصہ دلانے جیسا کوئی کام نہیں کر سکتی تھی۔
“اس سے پوچھنے یا بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔میں مزید اب تمھیں یہاں نہیں چھوڑ سکتی۔عید کے بعد لوٹ آنا اس کے ساتھ۔۔۔مگر ابھی چلو۔۔”
انہوں نے اسکی سوال کرتی نظروں سے نگاہیں چراتے ہوئے کہا۔
“مگر شاہ گل۔۔۔”
ایمان نے کہا تو انہوں نے ایسی نظروں سے اسکی جانب دیکھا کہ وہ چپ رہ گئی اور قہوہ رکھ کر پلٹ گئی۔باقی سب لاؤنج میں تھیں۔اسی دن تو ان کی ہمت نہیں تھی کہ ایمان کا سامنا کرتیں مگر آج غزنوی کے آفس جاتے ہی سبھی نے اس سے معافی مانگی تھی۔وہ سب بھی بہت شرمندہ تھیں۔اگر وہ اسکی بات مان لیتیں تو وہ سب نہ ہوتا۔ملائکہ تو باقاعدہ اس کے لئے روئی بھی تھی۔
“کہاں جا رہی ہو ایمان۔۔قہوہ ٹھنڈا ہو رہا ہے۔”
لاریب نے اسے کمرے میں جاتے دیکھ کر پوچھا۔
“شاہ گل نے پیکنگ کرنے کا کہا ہے۔۔وہی کرنے جا رہی ہوں۔”
اس نے پلٹ کر کہا۔
“سچ۔۔۔؟؟”
اس کی بات سن کر ملائکہ کے چہرے پہ مسکراہٹ پھیل گئی۔
“ہیم۔۔”
وہ واپس مڑ گئی۔۔پتہ نہیں کیوں اسکا دل اداس تھا۔ایک گھبراہٹ سی تھی جو اس وجود پہ طاری ہو گئی تھی۔کل سے پہلے اگر وہ اسے ساتھ چلنے کا کہتیں تو وہ خوشی خوشی ان کے ساتھ چلی جاتی مگر اب اسکا دل قطعی نہیں مان رہا تھا۔ان کے ساتھ جانے کو دل نہیں چاہ رہا تھا۔شاید سب کے سامنے اسکا بھرم ٹوٹ گیا تھا۔اسے اندازہ ہو رہا تھا کہ شاہ گل اب اس بارے میں داجی سے بات ضرور کریں گی۔جس طرح ان کا انداز پرسکون تھا، لگتا تھا وہ اندر ہی اندر کوئی فیصلہ کیے ہوئے تھیں اور یہ اسکی چھٹی حس تھی جو اسے خبردار کر رہی تھی۔اسے سمجھا رہی تھی کہ کچھ ہونے والا ہے۔۔کچھ ایسا جسکے لئے اسکا دل راضی نہیں ہے۔۔لیکن شاہ گل کا فیصلہ رد کرنے کی ہمت اس میں نہیں تھی۔اس لئے خاموشی سے ساری پیکنگ کی۔
تھوڑی دیر بعد شاہدہ نے اسے اطلاع دی کہ شاہ گل اسے بلا رہی ہیں۔وہ کمرے پہ ایک بھرپور نظر ڈالتی باہر آ گئی۔اس کے پیچھے شاہدہ اس کا سامان لے آئی۔وہ سب لاونج میں اسکا ویٹ کر رہی تھیں۔اسکے آتے ہی سب اٹھ گئیں۔
“بی بی آپ پھر کب آئیں گی۔۔؟”
شاہدہ آنکھوں میں آنسو لئے اسے دیکھ رہی تھیں۔
“جلد آؤں گی۔۔”
وہ مختصرا کہتی عقیلہ بیگم کے پاس آئی تھی۔انہوں نے مسکرا کر اسے ساتھ لگایا اور شاہدہ کو خیال رکھنے کا کہتیں مین ڈور کی جانب بڑھ گئیں۔
اگلے دس منٹ وہ روانہ ہو گئے۔شاہدہ کو عقیلہ بیگم نے سمجھا دیا تھا کہ غزنوی ایمان کے متعلق پوچھے تو اسے بتا دے کہ وہ اسے اپنے ساتھ لے گئی ہیں۔وہ غزنوی کو بتائے بناء ان کے ساتھ آ تو گئی تھی مگر دل وہیں اٹک گیا تھا۔وہ جانتی تھی کہ غزنوی کو جب اسکے جانے کا علم ہو گا تو اسے یہ بات پسند نہیں آئے گی۔
سارا راستہ وہ اسی بارے میں سوچتی رہی تھی۔حالانکہ اسکی پریشان صورت دیکھ کر عقیلہ بیگم اسے اعتماد دلا رہیں تھیں کہ وہ سب سنبھال لیں گی اور یہ کہ وہ بالکل پریشان نہ ہو۔۔انہوں نے اس مسئلہ کا حل ڈھونڈ لیا ہے۔
اب انہوں نے کیا حل ڈھونڈا ہے یہ تو وقت ہی بتانے والا تھا۔
🎀
رات بھر سوچتے ہوئے وہ ایک فیصلے پہ پہنچا تھا کہ اسے اب کیا کرنا ہے۔اس نے فیصلہ کیا کہ وہ ایمان کے ساتھ اپنی زندگی کی شروعات کرے گا۔زندگی کی ہر خوبصورتی جس پر اسکا حق ہے، اسکے قدموں میں لا کر ڈھیر کر دے گا۔اسے اتنی محبت دے گا کہ وہ اپنی ساری تکلیفیں بھول جائے گی۔وہ ان تمام پلوں کو دوبارہ جینا چاہتا تھا جو اس نے اپنی بیوقوفی کی نظر کر دیئے تھے۔وہ اپنے اس فیصلے پہ بہت خوش اور مطمئن تھا۔آج آفس میں ایمان کے متعلق سوچتے ہوئے اس نے سارا دن گزارا تھا۔اسکی ایک ایک ادا، ایک ایک انداز کو یاد کرتے ہوئے مسکراہٹ ایک پل کو بھی اس کے لبوں سے الگ نہیں ہوئی تھی۔دل ہی دل میں وہ اس حیرانی کو سوچ کر ایکسائیٹڈ ہو رہا تھا جو ایمان کے چہرے پہ اسکا بدلہ ہوا رویہ دیکھ کر آنی تھی۔وہ جلدی جلدی کام نبٹا رہا تھا تاکہ وقت پر گھر پہنچ سکے۔اس نے فیصلہ کیا بدلہ دل کے دھڑکنے کا انداز ہی بدل گیا تھا۔آفس سے نکلتے نکلتے بھی ساڑھے چھ بج چکے تھے۔آفس سے سیدھا وہ مارکیٹ آیا تھا۔اس نے ایمان کے لئے دو تین ڈریسز، جوتے اور میچنگ جیولری خریدی۔۔اپنے لیے بھی کچھ شاپنگ کی۔۔رات کے تقریباً آٹھ بجے وہ گھر میں داخل ہوا۔تھکے تھکے قدموں سے چلتا لاونج میں رکھے ٹرپل سیٹر صوفے پہ گرنے کے سے انداز میں بیٹھ گیا۔ہاتھ میں پکڑے شاپرز ٹیبل پر رکھ دیئے اور دونوں ہاتھوں کی انگلیوں سے اپنی کنپٹی کو ہلکے سے دبایا۔کچھ دیر یونہی بیٹھے رہنے کے بعد غیر معمولی خاموشی نے اسے متوجہ کیا تھا۔اس نے ادھر ادھر دیکھا، کہیں سے بھی کوئی آواز نہیں آ رہی تھی۔
“لگتا ہے شاہ گل وغیرہ چلی گئیں ہیں۔”
وہ خود سے کہتا اٹھا اور کمرے کی جانب بڑھ گیا۔
“ایمان۔۔۔!! یار ایک گلاس پانی تو پلاؤ۔۔”
کمرے میں داخل ہوتے ہی اس نے لائٹ آن کرتے ہوئے کہا۔۔اگلے ہی لمحے پورا کمرہ روشنی میں نہا گیا تھا۔ایمان کمرے میں نہیں تھی۔اس نے لیپ ٹاپ صوفے پہ رکھا اور واش روم کے ادھ کھلے دروازے سے جھانکا۔ایمان وہاں بھی نہیں تھی۔وہ ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کرتا کمرے سے نکل آیا۔ایمان کو کمرے میں نہ پا کر اسکے ذہہن میں اچانک ایک خیال وارد ہوا۔جسے اسکا دل جُھٹلانا چاہ رہا تھا۔نیچے لاؤنج میں بھی خاموشی کا راج تھا۔وہ کچن میں آیا تو وہاں کی لائٹس بھی آف تھیں۔باری باری اس نے سارے رومز چیک کیے مگر ایمان کہیں بھی نہیں تھی۔اب اسکا رخ سرونٹ کوارٹر کی طرف تھا۔کچھ لمحوں بعد وہ شاہدہ کے کوارٹر کا دروازہ کھٹکھٹا رہا تھا۔اندر سے بچوں کی آوازیں آ رہی تھیں۔کچھ پل یونہی گزر گئے کسی نے دروازہ نہیں کھولا۔گھر کے اندر بچوں کے شور کی وجہ سے کسی نے دستک کی آواز نہیں سنی تھی۔اب کی بار اس نے ذرا زور سے دستک دی۔اس بار دروازہ کھول دیا گیا۔
“ارے صاحب۔۔۔آپ اس وقت۔۔خیر تو ہے نا۔۔؟”
شاہدہ کا شوہر اشرف جو اس گھر میں مالی تھا۔۔غزنوی کو اس وقت وہاں دیکھ کر حیران ہوا۔
“ہاں خیریت ہی ہے۔۔۔زرا شاہدہ کو بلاؤ۔۔بات کرنی ہے۔”
اسے اشرف سے پوچھنا مناسب نہ لگا اس لئے شاہدہ کو بلوایا۔اشرف واپس پلٹ گیا تھا۔تھوڑی دیر بعد وہ شاہدہ کے ساتھ واپس آیا۔
“جی صاحب۔”
شاہدہ نے اس کی جانب دیکھا۔۔جو کافی پریشان دکھ رہا تھا۔
“شاہدہ شاہ گل وغیرہ کس وقت گئے؟”
اس نے پوچھا۔
“صاحب وہ تو سارے صبح گیارہ بجے ہی روانہ ہو گئے تھے۔”
شاہدہ نے بتایا۔
“اور ایمان؟”
غزنوی کو اپنا اندازہ ٹھیک لگا مگر پھر بھی پوچھ لیا۔
“ایمان بی بی بھی ساتھ گئی ہیں ان کے۔۔کیا آپکو بتا کر نہیں گئیں؟”
شاہدہ کے بتانے پہ کچھ کہتے کہتے رک گیا اور پھر اگلے ہی پل بولا۔
“وہ مجھے کال کر رہی تھی لیکن بہت مصروفیت کے باعث میں کال اٹینڈ نہیں کر پایا۔”
غزنوی کو فوری طور پر یہی بہانا سوجھا اور اسکا جواب سُنے بغیر واپس پلٹ آیا۔ایمان کا اسطرح عقیلہ بیگم کے ساتھ جانا اسے مزید تھکا گیا۔وہ سست قدموں سے چلتا اپنے کمرے میں آیا۔اس وقت وہ کچھ نہیں سوچنا چاہتا تھا مگر ایمان کا خیال اور اسکا احساس اسے بےچین کر رہا تھا۔اس نے وراڈروب سے کپڑے لئے اور واش روم میں گھس گیا۔ٹھنڈا پانی بھی اسکی تھکن کو اتار نہیں پایا تھا۔وہ لائٹ آف کرتا، سست روی سے چلتا بستر پہ آ گیا۔کمرے میں نائٹ بلب کی ہلکی سی روشنی میں بھی اسے بیڈ کی دوسری جانب کا سُونا پن صاف دکھائی دے رہا تھا۔اسے اپنے فعل پہ مزید افسوس اور پچھتاوا ہونے لگا۔
وہ ایک گہری سانس خارج کرتا آنکھیں موند گیا مگر نیند آنکھوں سے کوسوں دُور تھی۔دائیں سے بائیں کروٹ لیتا وہ بےچینی سے اٹھ بیٹھا۔وہ بیڈ سے اترا اور سائیڈ ٹیبل کی دراز سے سیگریٹ کا پیکٹ اور لائٹر اٹھاتا ٹیریس پہ آ گیا۔چیئر پہ بیٹھ کر اس نے سیگریٹ سلگائی۔ہوا میں رچی رات کی رانی کی خُوشبو میں اب سیگریٹ کی بُو شامل ہونے لگی تھی۔سیگریٹ کے دھوئیں سے اسکی آنکھیں جلنے لگیں تھیں۔وہ کوئی چین سموکر نہیں تھا۔بس کبھی کبھار پیتا تھا اور آج وہ دل کی بےچینی کو کم کرنے کے لئے پی رہا تھا لیکن بےچینی کم ہونے کی بجائے بڑھتی ہی جا رہی تھی۔وہ کتنی ہی دیر یونہی بیٹھا رہا۔رات کا نجانے کون سا پہر تھا جب وہ اٹھ کر کمرے میں آیا تھا۔واش روم میں آ کر اس نے جلتی آنکھوں پہ پانی کے چھینٹے مارے اور ٹاول سے چہرہ پونچھتا بیڈ پہ آ گیا۔
اس نے ٹیبل سے موبائل فون اٹھایا۔گھڑی پہ نظر ڈالی تو اسے کال کرنے کے لئے یہ وقت مناسب نہیں لگا۔وہ کال کرنے ارادہ ملتوی کرتا گیلری اوپن کر گیا۔شادی کی مختلف فوٹوز ابھی تک اس کے فون میں سیو تھیں۔اس نے صرف اپنی اور ایمان کی پکچرز کو چھوڑ کر باقی تمام تصویریں ڈیلیٹ کر دیں۔
سنو تم لوٹ آؤ نا۔۔۔
وہ دیکھو چاند نکلا ہے۔
ھماری منتظر آنکھیں
دعائیں مانگتی آنکھیں
تمہیں ہی سوچتی آنکھیں
تمہیں ہی ڈھونڈتی آنکھیں
تمہیں واپس بلاتی ہیں۔۔۔
یہ دل جب بھی دھڑکتا ہے
تمھارا نام لیتا ہے
یہ آنسو جب بھی بہتے ہیں
تمھارے دکھ میں بہتے ہیں
یہ بارش جب بھی ہوتی ہے
تمہیں ہی یاد کرتے ہیں
خوشی کوئی جو آتی ہے
تمھارے بن ادھوری ہے
سنو تم لوٹ آؤ نا
سنو تم لوٹ آؤ نا۔۔۔
وہ اس کی تصویر پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے وہ اسکے ایک ایک نقش کو آنکھوں کے راستے دل میں اتار رہا تھا۔
جاری ہے۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *