Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode14

Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Episode14

صبح سے شام ہونے کو آئی تھی۔ایمان کے انتظار میں وہ کمرے میں موجود تھا۔صبح بھی جب وہ کمرے میں آیا تھا تو وہ روم میں نہیں تھی۔شاید وہ اسکی صبح والی بات کو لے کر ناراض تھی۔اسے شدت سے اس بات کا احساس ہوا تھا کہ اسے سب کے سامنے ایمان سے ایسی بات نہیں کرنی چاہیئے تھی۔نجانے کیوں وہ سب ٹھیک کرنے بجائے سب بگاڑتا چلا جا رہا تھا۔اسکی تلاش میں ادھر ادھر نظریں دوڑاتا وہ اپنے کمرے میں آ گیا تھا مگر کافی دیر انتظار کرنے کے بعد بھی جب وہ کمرے میں نہیں آئی تو غزنوی کمرے سے نکل کر لاؤنج میں آیا۔لیکن وہاں بھی ایمان کے سواء سبھی موجود تھیں۔وہ کچن کیطرف آیا۔ایمان شمائلہ بیگم کے ساتھ وہیں موجود تھی۔شمائلہ بیگم کی کسی بات پہ ایمان کے مسکراتے لب غزنوی کو دیکھ کر سکڑے تھے۔اس کے کانوں میں اس کا صبح والا جملہ گونجا تو وہ نگاہیں پھیر گئی۔
“امی ایک کپ چائے بنا دیں۔”
وہ قریب آیا اور ایمان پہ نظریں جمائے شمائلہ بیگم سے بولا۔ان کی پیٹھ تھی اسکی طرف۔اسے ماں کے سامنے اور کوئی بہانا نہ سُوجھا تو چائے کا ہی کہہ دیا۔
“یہ کوئی وقت ہے چائے کا۔۔لنچ کا وقت ہے۔”
شمائلہ بیگم نے پلٹ کر بیٹے کو دیکھا۔
“بھوک نہیں ہے مجھے اور کیا اس وقت چائے پینے پر ممانعت ہے؟”
وہ جلے کٹے انداز میں بولا۔نظریں لاپرواہ بیٹھی ایمان پہ مرکوز تھیں۔
“مجھے چائے پینی ہے۔۔شگفتہ کہاں ہے اس سے کہیں کہ وہ بنا دے گی، آپ لوگوں میں سے کوئی زحمت نہ کرے۔”
غزنوی تٗندہی سے کہتا کچن سے نکل گیا۔
“ارے اسے کیا ہو گیا؟”
شمائلہ بیگم نے غزنوی کے اسطرح کچن سے نکل جانے پر ایمان کی جانب حیرانی سے دیکھا جبکہ وہ جواب میں صرف کندھے اُچکا کر رہ گئی۔
“جاؤ بیٹا۔۔چائے بنا کر لے جاؤ، ورنہ مزید موڈ خراب ہو جائے گا۔عید کے دن بھی یہ لڑکا آگ کا گولا بنا ہوا ہے۔”
شمائلہ بیگم نے اس سے کہا تو وہ ناچاہتے ہوئے بھی اسکے لئے چائے بنانے اٹھ کھڑی ہوئی۔
“میں زرا اس شگفتہ کو دیکھ لوں۔”
وہ اس سے کہتیں کمرے سے نکل گئیں۔چائے بنا کر وہ اوپر کمرے میں آئی تو غزنوی بیڈ پہ نیم دراز، موبائل میں مصروف تھا۔ایمان نے بنا اسے مخاطب کیے چائے کا کپ خاموشی سے سائیڈ ٹیبل پر رکھا اور پلٹ کر جانے لگی۔
“رُکو۔۔۔!”
وہ بیڈ سے اتر کر اسکے سامنے آیا۔ایمان اسکی طرف دیکھتی اسکے بولنے کی منتظر رہی۔
“عیدی نہیں لو گی اپنی؟”
وہ اسکی آنکھوں میں جھانکتا قریب ہوا۔
“مجھے نہیں چاہیئے۔۔صبح جو سب کے سامنے عیدی ملی، وہی کافی ہے میرے لئے۔”
وہ رُوکھے پن سے کہتی رخ پھیر گئی۔
“مگر میں تو چاہتا ہوں کہ تمھیں عیدی دوں۔”
وہ اسے بانہوں کے گھیرے میں لیتا بولا۔ایمان اپنے گرد اسکی مضبوط بانہوں کا حصار بندھے دیکھ کر چونکی تھی مگر پھر بھی جوابی کاروائی کیے بغیر ویسی ہی ساکت کھڑی رہی۔غزنوی کی یہ پیش قدمی اسکے لئے حیرانی کا باعث نہیں تھی اور دوسری جانب غزنوی کو ایمان کی خاموش رضامندی خوشگواریت کا احساس دلا رہی تھی۔
“اچھا۔۔۔یہ کایا پلٹ کیسے۔۔اس دن تو میرے انکار کو آپ نے ایک جانب ڈال دیا تھا۔”
ایمان نے اسے آئسکریم والا واقعہ یاد دلایا۔۔۔انداز نروٹھا تھا۔غزنوی کو اس کے انداز پہ ہنسی تو بہت آئی مگر کنٹرول کر گیا۔
“اور کوئی شکایت؟”
وہ اسکے کان کے قریب گنگنایا۔
“اور ابھی کچھ دیر پہلے کیا کہا تھا آپ نے۔”
ایمان کا انداز ابھی بھی ناراض ناراض سا تھا۔
“کچھ دیر پہلے کیا کہا تھا؟”
غزنوی نے اسکے کندھے پہ ٹھوڑی ٹکائی۔۔ایمان کے ملبوس سے اٹھتی بھینی بھینی خوشبو اسکی کی سانسوں کو معطر کیے دے رہی تھی۔
“یہی کہ میں داجی کی چوائس ہوں اور آپ کو۔”
ایمان نے کہا تو غزنوی نے اسکا رخ اپنی جانب موڑا۔
“یار تمھیں اب بھی لگتا ہے کہ تم صرف داجی کی چوائس بن کر رہ گئی ہو۔ویسے کمال کی بات ہے اگر تم ایسا سمجھتی ہو۔”
وہ اسکی بھوری آنکھوں میں جھانکتا بولا۔ایمان کی ناراض آنکھوں میں دکھتا اپنا عکس اسکے لبوں پہ مسکراہٹ لے آیا۔
“ویسے اتنی بیوقوف لگتی تو نہیں ہو۔”
وہ پھر سے شرارتی موڈ میں آیا۔
“اب آپ مجھے بیوقوف کہہ رہے ہیں۔”
وہ دکھ سے بولی۔غزنوی کی صبح کہی گئی بات نے اسے واقعی تکلیف پہنچائی تھی۔جسکے باعث وہ اسکے سامنے آنے سے گریز برت رہی تھی۔
“تم میرے دل کے کسقدر قریب ہو، کیا تم یہ نہیں جانتی؟”
غزنوی اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتا گھمبیر لہجے میں بولا۔اسکے لفظوں کی سچائی اسکی آنکھوں سے بھی بیاں ہو رہی تھی۔
“اور وہ جو بار بار سب کے سامنے آپ میری انسلٹ کرتے ہیں۔۔وہ کون سی محبت کا اظہار کر رہے ہوتے ہیں۔”
ایمان نے دو ٹوک انداز اپنایا۔
“میں نے کب کہا کہ مجھے تم سے محبت ہے؟”
وہ پھر سے پٹری سے اترا۔ایمان نے اسے ناراضگی بھری نظروں سے دیکھا۔
“ہاہاہاہا۔۔”
ایمان کے اسطرح دیکھنے پہ غزنوی کا قہقہ بلند ہوا۔ایمان کی آنکھوں میں پانی جمع ہونے لگا۔اس نے پلکیں جھپک جھپک کر اس نمکین پانی کو پیچھے دھکیلا۔
“بہت برے ہیں آپ۔۔”
ایمان نے اپنے کندھے سے اسکے ہاتھ جھٹکے سے پرے ہٹائے اور وہاں سے جانے لگی۔
“ارے ارے میری بھولی بیگم۔۔”
غزنوی نے اسے روکا۔
“تم نے بھی تو مجھے آئسکریم نہیں کھلائی تھی۔”
وہ بھی چہرے پہ ناراضگی سجاتا گویا ہوا۔ایمان کو اسکی آنکھوں میں شرارت چمکتی صاف نظر آ رہی تھی۔وہ خاموشی سے اسکی آنکھوں میں دیکھتی رہی۔
“تیری آنکھیں پسند مجھ کو
اکثر میں یہ کہتا ہوں
میرا دل یہی چاہتا ہے
ان آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنی
تجھے میں پابندِ نگاہ کر لوں
نہ تُو کسی اور کو دیکھے
نہ ہی کوئی تجھکو دکھائی دے
جو تیری آنکھ کے آئینے میں
ذرا سا جھانک کر دیکھے
تو عکس میرا دکھائی دے
تُو بس مجھ کو ہی دیکھے
اور
میں بس تُجھ کو دکھائی دوں۔۔۔”
غزنوی اسکی آنکھوں میں دیکھتا گنگنایا۔ایمان نظریں جھکا گئی تھی۔غزنوی نے اسکی پیشانی کو اپنے لبوں سے چُھوا تھا۔ ___________________________________
آج چار دن ہو گئے تھے بادشاہ خان اور جانس خان کو شہر آئے ہوئے۔وہ دونوں شہر کے ایک ہوٹل میں ٹھہرے تھے۔جب سے آئے تھے دونوں زیادہ تر وقت ہوٹل میں ہی گزار رہے تھے، صرف کھانا کھانے کے لئے ہی باہر آتے یا پھر صرف جانس خان کھانا لینے آتا تھا۔
“خان ہم اور کتنے دن یہاں رہیں گے۔جس کام کے لئے آئے تھے وہ ابھی تک نہیں کیا۔”
جانس خان نے ہاتھ میں پکڑی کھانے کی ٹرے بادشاہ خان کے سامنے ٹیبل پہ رکھتے ہوئے کہا۔
“ہاں۔۔میں بھی سوچ رہا ہوں کہ جس کام کے لئے یہاں آئے وہ آج کر لیا جائے، چل کھانا کھا۔۔پھر چلتے ہیں اعظم احمد کے گھر۔۔۔اسے بھی تو پتہ چلے کہ کس چور کو گھر میں پناہ دے رکھی ہے اس نے۔”
بادشاہ خان نے ٹرے اپنے قریب کھینچتے ہوئے کہا اسکے چہرے پہ مکروہ مسکراہٹ کھیلنے لگی تھی۔
جانس خان بھی ساتھ بیٹھ گیا۔دونوں کھانا کھانے کے دوران منصوبہ بندی کرتے رہے کہ وہاں جا کر کیا کیا کہنا ہے۔کھانا کھانے کے کچھ دیر وہ دونوں چائے پینے اسی ہوٹل میں آئے جہاں سے جانس خان کھانا لاتا تھا۔وہاں سے اٹھے تو گھڑی چار بجے کا وقت بتا رہی تھی۔
کچھ دیر بعد وہ اعظم ولا کے سامنے کھڑے تھے۔بادشاہ خان نے ایک نظر گھر پہ ڈالی اور پھر جانس خان کو اشارہ کیا۔وہ گاڑی سے اترا اور ڈور بیل بجائی۔کچھ دیر بعد چوکیدار باہر آیا۔
“کون ہو تم؟”
چوکیدار نے سر تا پیر جانس خان کو جانچتی نظروں سے دیکھا اور پوچھا۔
“جاؤ اپنے صاحب سے کہو کہ بادشاہ خان آیا ہے۔”
جانس خان نے جیپ کی طرف اشارہ کیا۔
“کون بادشاہ خان؟”
چوکیدار نے پوچھا۔اسی دوران بادشاہ خان جیپ سے اتر کر ان کی طرف آیا۔چوکیدار نے بادشاہ خان کو اس سے پہلے نہیں دیکھا تھا۔اسلئے اسکی سوالیہ نظریں اب بادشاہ خان کیطرف اٹھی ہوئی تھیں۔
“اوئے جا کر اعظم احمد سے کہو کہ گاؤں سے بادشاہ خان آیا ہے۔”
بادشاہ خان نے چوکیدار کو ڈھیٹ بنے دیکھ کر تُند لہجے میں کہا۔
“ٹھیک ہے یہاں کھڑے رہو۔”
چوکیدار بادشاہ خان کے انداز سے زرا متاثر نہ ہوا اور دونوں کو کڑی نظروں سے گھورتا اندر چلا گیا۔تھوڑی دیر بعد اسکی واپسی ہوئی۔اس نے انھیں کڑی نظروں کے گھیرے میں اندر آنے کا راستہ دیا۔پھر دونوں کو لئے گھر کے ساتھ ملحق ایک کمرے میں لے آیا۔یہ ایک مہمان خانہ تھا۔اعظم احمد شہر آنے کے باوجود اپنی روایات نہیں بھولے تھے۔کمرہ گھر والوں کی سادہ طبیعت کا منہ بولتا ثبوت تھا۔
“بیٹھو۔۔۔وہ آتے ہیں۔”
چوکیدار نے صوفے کی طرف اشارہ کیا اور دروازہ بند کرتا وہاں سے چلا گیا۔
“گھر تو بڑا شاندار ہے۔”
جانس خان نے تائید طلب نظروں سے بادشاہ خان کی طرف دیکھا جو خود بھی کمرے کا جائزہ لے رہا تھا۔
“او چپ کر کے بیٹھ۔۔یہ تو کچھ بھی نہیں ملک خاور علی کا گھر دیکھ کیا شاندار محل بنایا ہے اس نے۔۔ہر چیز ہی واہ واہ کہنے پہ مجبور کر دیتی ہے۔”
بادشاہ خان کی زبان کچھ اور ، اور آنکھیں کچھ اور ہی کہہ رہی تھیں۔جانس خان بچہ تو تھا نہیں کہ اس کی حالت نہ سمجھ سکتا۔
ابھی انھیں وہاں بیٹھے کچھ وقت ہی گزرا تھا کہ وہی چوکیدار گھر کے اندر سے کھلتے دروازے سے اندر داخل ہوا۔اسکے ہاتھ میں ٹرے تھی جسے وہ خاموشی سے ان کے سامنے رکھ کر واپس چلا گیا تھا۔
چند منٹ بعد اعظم احمد کمرے میں داخل ہوئے غزنوی بھی ان کے پیچھے تھا۔اعظم احمد کو آتے دیکھ کر جانس خان اور بادشاہ خان اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہوئے۔
“کہو بادشاہ خان کیسے آنا ہوا؟”
اعظم احمد صوفے پہ بیٹھتے ہوئے بولے۔ان کی نظریں بادشاہ خان کے چہرے پہ تھیں۔یہ ان کے لئے حیرانی کا باعث تھا۔وہ کبھی یہاں نہیں آیا تھا مگر آج اسکا یہاں موجود ہونا انھیں کسی انہونی کا احساس دلا رہا تھا۔
“داجی۔۔! میں رشید خان سے ملنے آیا ہوں، اس نے کہا تھا کہ وہ عید کے بعد میرے پیسے لوٹا دے گا۔”
بادشاہ خان نے صفائی سے جھوٹ بولا۔
“کون سے پیسے؟”
اعظم احمد نے حیرت سے بادشاہ خان کیطرف دیکھا۔
“وہی جن کے بدلے اس نے مجھ پہ اپنی بیٹی کو بیچا تھا۔”
بادشاہ خان نے ایک اچٹتی نظر اعظم احمد کے ساتھ بیٹھے غزنوی پر ڈالی اور طنزیہ انداز میں بولا۔غزنوی اسکے الفاظ سن کر فورا اسکی جانب لپکا تھا مگر اعظم احمد نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے آگے بڑھنے سے روکا۔برا تو ان کو بھی لگا تھا مگر برداشت کر گئے کیونکہ وہ اسے اچھی طرح جانتے تھے کہ وہ پیسوں کے لئے کسی حد تک بھی جا سکتا ہے۔
“زبان سنبھال کر بات کرو بادشاہ خان۔”
اعظم احمد نے سرد لہجے میں کہا۔
“میں نے وہ پیسے رشید خان کو دے دیئے تھے تاکہ تمھیں لوٹا دے، غزنوی بھی وہاں موجود تھا۔تو اب کون سے پیسے لینے آ گئے؟”
اعظم احمد نے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
“رشید خان نے مجھے کوئی پیسے نہیں دیئے۔وہ تو ہمیشہ ٹالتا رہا۔پچھلی بار بھی جب ملا تھا تو میں نے اپنے پیسے مانگے تھے، اس نے انکار کیا تو غصے میں آ کر مجھ سے وہ سب ہو گیا۔آپ اسے بلا کر پوچھ لیں۔”
بادشاہ خان نے ترچھی نظروں سے غزنوی کے سرخ پڑتے چہرے کو دیکھا۔اسکے لبوں سے ایک پل کے لئے بھی طنزیہ مسکراہٹ الگ نہیں ہوئی تھی۔بادشاہ خان کو غزنوی کا سرخ چہرہ مزا دے رہا تھا۔
“داجی یہ بکواس کر رہا ہے۔آپ مجھے ڈیل کرنے دیں اسے۔ہم نے پیسے دیئے تھے اور مجھے یقین ہے کہ رشید انکل نے بھی پیسے دے دیئے ہوں گے۔”
غزنوی ایک بار پھر اٹھ کھڑا ہوا۔اسکا جی چاہ رہا تھا کہ اسکے مزاج ٹھکانے لگا دے۔
“داجی اپنے پوتے کو سمجھاؤ۔۔میں زیادہ برداشت کرنے کا عادی نہیں ہوں۔”
بادشاہ خان بھی اپنی جگہ سے کھڑا ہو گیا۔
“غزنوی جا کر رشید خان کو بلا لاؤ۔آمنے سامنے بات ہو جائے تو بہتر ہے۔”
اعظم احمد نے غزنوی سے کہا تو وہ ایک غصیلی نظر بادشاہ خان پہ ڈالتا کمرے سے نکل گیا۔بادشاہ خان نے جانس خان کو دیکھا جو اسی کی طرف دیکھ رہا تھا۔کچھ دیر بعد رشید خان غزنوی کے ساتھ اندر داخل ہوا۔
“ارے رشید خان۔۔۔کیسے ہو؟ بڑی صحت بنا لی ہے۔”
بادشاہ خان، رشید خان کی طرف یوں بڑھا جیسے دونوں میں بڑی گہری دوستی ہو لیکن رشید خان اس سے سرد انداز میں ملا۔
“تم یہاں کیسے؟”
رشید خان نے ایک نظر سنجیدہ بیٹھے اعظم احمد کو دیکھا اور پھر بادشاہ خان سے پوچھا۔اسے کمرے کی فضاء کچھ عجیب سی محسوس ہوئی۔
“میں اپنے پیسے لینے کے لئے آیا ہوں، پہلے تمھارے گھر گیا وہاں تالا لگا تھا۔وہیں لوگوں سے پتہ چلا کہ تم شہر گئے ہو تو میں یہاں آ گیا۔”
بادشاہ خان نے اپنی بات کے اختتام پر رشید خان کے چہرے کا رنگ اُڑتے دیکھا۔
“کون سے پیسے؟ میں تمھیں تمھارے سارے پیسے لوٹا چکا ہوں۔”
رشید خان بیٹھتے بیٹھتے اٹھ کھڑا ہوا۔اسکے چہرے پہ حیرانی کی جگہ اب پریشانی نے لے لی تھی۔
“وہی پیسے۔۔جو تم جوے میں ہار گئے تھے۔جس کے بدلے تم نے اپنی۔۔۔۔”
بادشاہ خان نے جان بوجھ کر بات ادھوری چھوڑ دی۔اس نے دیکھا غزنوی کے ماتھے پہ لکیر سی ابھر آئی تھی۔
“تم پاگل ہو گئے ہو کیا۔۔میں تمھیں تمھارے سارے پیسے لوٹا چکا ہوں۔مجھ پہ تمھارا کوئی قرض نہیں۔داجی یہ جھوٹ بول رہا۔میں اسے پیسے دے چکا ہوں۔”
رشید خان نے پلٹ کر اعظم احمد کو دیکھا۔
“تمھارے پاس کیا ثبوت ہے؟”
بادشاہ خان نے ڈھٹائی کی حد کر دی جبکہ رشید خان تو حیران پریشان اسکا منہ تک رہا تھا۔
“بکواس مت کرو بادشاہ خان۔۔۔میرے پاس ثبوت نہیں ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ تم مجھ پہ چڑھ دوڑو۔۔میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ اس میں بھی تمھاری کوئی چال ہے۔مجھ پہ تمھارا کوئی قرض نہیں ہے اور شاید یہ جانس خان بھی وہیں ہو جب میں نے تمھیں رقم واپس کی ہو گی کیونکہ ہر جگہ تمھارا سایہ ہی تو بنا رہتا ہے۔”
رشید خان نے جانس خان کو دیکھا جسکے تیور بھی بادشاہ خان سے کم نہیں تھے۔
“جھوٹ مت بولو رشید خان۔۔بادشاہ خان کی ساری وصولی میں کرتا ہوں اور کئی بار تمھارے پاس بھی آیا تھا پیسے لینے لیکن تم تو یہاں بھاگ آئے۔اس دن بھی اگر میں نہ روکتا بادشاہ خان کو تو تم اس وقت یہاں کھڑے جھوٹ نہ بول رہے ہوتے۔مجھے اس میں مت گھسیٹو، اور سچ بات تو یہ ہے کہ تم نے پیسے دیئے ہی نہیں۔”
جانس خان کہاں کم تھا، اس نے رشید خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا۔بادشاہ خان نے جانس خان کو آنکھوں ہی آنکھوں میں شاباش دی جبکہ غزنوی اور اعظم احمد ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر رہ گئے۔
“رشید خان مجھے بہت افسوس ہوا کہ اتنی ٹھوکریں کھا کر بھی تم میں کوئی سدھار نہ پیدا ہوا۔میں نے تمھیں پیسے دیئے تھے کہ تم اس شخص سے اپنی جان چھڑاؤ۔۔تم نے زمین پہ جانا چھوڑا، بادشاہ خان سے دوبارہ مراسم بڑھائے، مجھے اطلاع ملتی رہی مگر میں خاموش رہا اور تم سے کوئی سوال و جواب نہیں کیا کہ تمھاری زندگی ہے تم اچھے برے میں تمیز کر سکتے ہو، لیکن تم تو وہیں کہ وہیں کھڑے ہو۔۔لوگ صحیح کہتے ہیں کہ جواری کبھی جوا کھیلنے سے باز نہیں آتا۔”
اعظم احمد افسوس بھرے لہجے میں بولے۔
“داجی یہ سب جھوٹ ہے۔۔میں نے اگلے دن ہی اسے پیسے واپس کر دیئے تھے۔”
رشید خان نے اعظم احمد کی آنکھوں میں اداسی کی لکیر دیکھی تو ان کی طرف بڑھا۔
“تو پھر یہ سب کیا ہے؟”
اعظم احمد نے اس سے سوال کیا۔
“داجی میں سچ کہہ رہا ہوں میں نے پیسے دے دیئے تھے۔”
رشید خان نے ایک نفرت بھری نظر بادشاہ خان پہ ڈالتے ہوئے اعظم احمد سے کہا۔
“اچھا میں جھوٹ بول رہا ہوں۔۔داجی اس بے غیرت شخص کی بات کا یقین نہ کریں۔پہلے اس نے اور اس کی بیٹی نے مجھے پھنسایا اور جب میرا پیسہ ہڑپ گئے تو آپ کو پھانس لیا اپنی چالبازی بیٹی کے ساتھ ملکر۔۔اسکی بیٹی تو یہی کام کرتی تھی۔۔۔گاؤں کے مردوں کو رجھانے کا۔۔۔۔”
“بکواس بند کرو اپنی۔۔۔”
اس سے پہلے کہ وہ اپنی زبان سے مزید زہر اُگلتا غزنوی نہایت غضبناک انداز سے اسکی طرف لپکا اور گریبان سے پکڑ کر اسکے چہرے پر پے در پے تھپڑوں کی بوچھاڑ کر دی۔بادشاہ خان کو سنبھلنے تک کا موقع نہ مل سکا۔اعظم احمد اور رشید خان فوراً غزنوی کو روکنے کو آگے بڑھے جبکہ جانس خان تو بادشاہ خان کا تھپڑوں سے سرخ چہرہ دیکھ کر ہی پیچھے ہٹ گیا تھا حالانکہ وہ ابھی بادشاہ خان کی بات پہ مہر لگانے ہی والا تھا مگر بادشاہ خان کی حالت دیکھ کر چپ کر گیا۔اسے اس شہری لڑکے سے ایسی توقع نہیں تھی کہ وہ یوں بپھر جائے گا۔بادشاہ خان نے تو اسے کہا تھا کہ شہری لڑکا ہے اسی وقت تین لفظ ادا کر کے دونوں باپ بیٹی کو گھر سے باہر کر دے گا لیکن یہاں تو حالات کچھ اور ہی رنگ اختیار کر گئے تھے۔
“غلیظ انسان۔۔تیری جرآت کیسے ہوئی۔”
غزنوی نے اسے لات مار کر دور گرایا۔
“غزنوی چھوڑو اسے۔۔”
اعظم احمد نے اسے بازو سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا۔شور سن کر گھر کے باقی مرد بھی وہاں آ گئے تھے۔مصطفی نے آگے بڑھ کر غزنوی کو پکڑا لیکن غزنوی کب قابو میں آ رہا تھا اب وہ لاتوں سے بادشاہ خان کی ہڈی پسلی ایک کرنے پہ تلا ہوا تھا جبکہ وہ اتنی مار کھانے کے باوجود مسلسل منہ سے مغالظات بک رہا تھا۔تبھی تو غزنوی کے ہاتھ نہیں رک رہے تھے۔وہاں موجود سبھی نے اس کے منہ سے نکلتے زہر کو سنا تھا۔اعظم احمد تو اسے روکنے کی کوشش میں ہانپنے لگے تھے۔رشید خان نے ان کی حالت غیر ہوتے دیکھ کر انہیں صوفے پہ بٹھایا۔
“غزنوی چھوڑو اسے پولیس کے حوالے کرتے ہیں۔۔خود ہی سچ بول دے گا۔”
ہادی اور مصطفیٰ نے غزنوی کا اٹھا ہوا ہاتھ پکڑا۔وہ ہاتھ چھڑاتا وہاں سے باہر نکل گیا۔
“ہادی۔۔۔۔!!”
ہادی کو بادشاہ خان کیطرف بڑھتا دیکھ کر اعظم احمد نے بلند آواز میں اسے پکارا۔وہ وہیں رک گیا۔
“بادشاہ خان دفع ہو جاؤ یہاں سے اور دوبارہ اپنی شکل مت دکھانا۔گاوں جا کر ہمارے منشی سے مل لینا۔وہ تمھیں پیسے دے دے گا۔”
اعظم احمد نے زمین پہ بیٹھے بادشاہ خان کو دیکھا۔اسکا ہونٹ پھٹ چکا تھا جس سے اب خون رس رہا تھا۔گریبان کے بٹن ٹوٹ گئے تھے۔
“سنا نہیں تم نے۔۔اب دفع ہو یہاں سے، نہیں تو میں شروع ہو جاؤں گا۔”
مصطفیٰ نے غصے سے کہہ کر ایک قدم اسکی طرف بڑھایا۔بادشاہ خان لڑکھڑاتے قدموں سے اٹھ کھڑا ہوا۔جانس خان اسے سہارا دینے کے لئے آگے ہوا مگر بادشاہ خان نےا سے دھتکار دیا۔
“اعظم خان۔۔!! میں چھوڑوں گا نہیں، اپنی بےعزتی کا بدلہ تو میں لے کر رہوں گا۔”
بادشاہ خان نے دھمکی دی۔
“جا جا۔۔۔بہت دیکھے ہیں تیرے جیسے۔”
مصطفیٰ نے اس کی دھمکی سے ڈرے بغیر کہا۔
“دیکھ لوں گا تم سب کو۔”
وہ لڑکھڑاتا باہر نکل گیا۔جانس خان بھی اسکے پیچھے دوڑا تھا۔رشید خان شرمندہ نظروں سے سبھی کو دیکھ رہا تھا۔
“مصطفیٰ غزنوی کو فون کرو۔۔گاڑی لے کر نکلا ہے کچھ کر نہ بیٹھے غصے میں۔”
اعظم احمد کو غزنوی کی فکر لاحق ہوئی۔
“جی داجی۔”
مصطفیٰ کمرے سے باہر نکل گیا۔دروازے میں عقیلہ بیگم اور شمائلہ بیگم کھڑیں سوالیہ نظروں سے اسے دیکھ رہیں تھیں۔
“کچھ نہیں ہے، سب ٹھیک ہے۔”
مصطفیٰ انہیں تسلی دیتا ان کے پاس سے گزر گیا۔عقیلہ بیگم اعظم احمد کو سر جھکائے بیٹھے دیکھکر اندر آئیں۔
“شمائلہ داجی کے لئے پانی لے کر آؤ، کہیں ان کی طبیعت نہ بگڑ جائے۔”
مکرم احمد نے بیوی سے کہا جو ابھی تک دروازے میں کھڑیں تھیں۔
“داجی۔۔! آپ ریلیکس رہیں۔یہ شخص ایک نمبر کا جھوٹا اور مکار ہے اور منشی سے کچھ بھی کہنے کی ضرورت نہیں۔اسے اب یاد آیا ہے پیسے لینا۔اتنا عرصہ اسے یاد نہیں تھا۔”
مکرم احمد نے ایک نظر رشید خان کے تاریک اور شرمندگی سے چُور چہرے کو دیکھا اور اعظم احمد کے کندھے پہ ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔
“اعظم صاحب۔۔!! مکرم ٹھیک کہہ رہا ہے۔ہمیں اسکی باتوں پہ دھیان نہیں دینا چاہیئے۔رشید خان نے یقیناً پیسے دے دیئے ہونگے۔”
عقیلہ بیگم بھی اعظم احمد کے پاس آ کر بیٹھ گئیں اور انہیں تسلی دی۔
“مجھے دکھ اس بات کا ہے کہ اپنی انا کی تسکین کے لئے اس نے ہماری بیٹی کے لئے کیسے کیسے الفاظ استعمال کیے۔”
اعظم احمد بولے تو کیا کیا نہیں تھا ان کے لہجے میں۔۔دکھ، شرمندگی، تکلیف۔۔
“غزنوی کا فون بند جا رہا ہے۔”
اسی دوران مصطفیٰ واپس کمرے میں داخل ہوا۔اعظم احمد نے مکرم احمد کی طرف دیکھا۔
“وہ ٹھیک ہو گا۔۔اتنا کمزور نہیں ہے آپکا پوتا۔”
مکرم احمد نے انہیں تسلی دی۔
سبھی خاموش تھے۔۔رشید خان بھی خاموشی کی چادر اوڑھے بیٹھا تھا۔ _____________________________________________
“چپ ہو جاؤ ایمان۔۔کیوں اپنا خون جلا رہی ہو۔ہمیں پورا یقین ہے تم پہ اور غزنوی کو بھی تم پر اعتماد ہے۔تم خواہ مخواہ پریشان ہو رہی ہو۔”
پرخہ ایمان کو ساتھ لگائے اسے خاموش کرا رہی تھی۔جب سے اسے پتہ چلا تھا وہ تب سے ہی روئے جا رہی تھی۔اوپر سے غزنوی کا یوں منظر سے غائب ہو جانا بھی اسے رلائے دے رہا تھا۔ابھی تو سب ٹھیک ہو رہا تھا۔اسکی پرسکون زندگی میں بادشاہ خان نے پھر سے کنکر پھینک کر ارتعاش پھیلا دیا تھا۔
“پھر وہ اسطرح کیوں چلے گئے۔”
ایمان جو پرخہ کے سینے سے لگی تھی اس سے الگ ہوئی۔
“ایمان مرتضیٰ بتا رہا تھا نا کہ اس نے بادشاہ خان کو مار مار کر اسکی کیا حالت کر دی تھی۔یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ تمھارے خلاف ایک لفظ نہیں سن سکتا۔”
پرخہ نے اسکے آنسو پونچھے۔
“انہیں اعتبار نہیں آیا ہو گا تبھی تو اسطرح چلے گئے۔اگر انہیں شک تھا تو مجھ سے پوچھتے۔میں انہیں بتاتی۔۔بابا نے مجھے بتایا تھا جب انہوں نے اسے پیسے دیئے تھے۔بابا مجھ سے کیوں اتنا بڑا جھوٹ بولیں گے۔”
وہ آنکھوں میں آنسو لئے پرخہ کی طرف دیکھ رہی تھی۔اسے اس بات نے بہت تکلیف دی تھی کہ وہ اسطرح چلا گیا تھا۔شام ہونے کو آئی تھی اور غزنوی کا کچھ پتہ نہیں تھا۔مصطفی بار بار اسے کال کر رہا تھا مگر اس کا نمبر مسلسل بند جا رہا تھا۔
“تمھیں پتہ تو ہے کہ وہ غصے کا کس قدر تیز ہے۔تھوڑی دیر تک آ جائے گا اور تمھارے یہ سارے شکوے سن کر ہنسے گا تمھارے پاگل پن پر۔”
پرخہ نے اسے سمجھایا۔اسی دوران مصطفیٰ کمرے میں داخل ہوا۔
“مصطفیٰ غزنوی آ گیا ہے کیا؟”
پرخہ نے اسے دیکھتے ہی پوچھا۔
“نہیں۔۔لیکن اس سے بات ہو گئی ہے وہ اسلام آباد میں ہے اور ٹھیک ہے بالکل۔”
مصطفیٰ نے دونوں کیطرف دیکھا۔ایمان نے پرخہ کی طرف ایسی نظروں سے دیکھا کہ پرخہ نظریں پھیر گئی۔
“پرخہ ایک کپ چائے بنا دو۔۔سر میں شدید درد ہو رہا ہے اور ایمان تم بالکل پریشان نہ ہو غزنوی بالکل ٹھیک ہے۔اس نے بتایا کہ اسے کمیل کی کال آ گئی تھی اس لئے اسے آفس کے کام سے ارجنٹ اسلام آباد جانا پڑا۔کہہ رہا تھا کہ دو روز میں آ جائے گا۔”
مصطفیٰ نے قریب آ کر ایمان کے سر پہ ہاتھ رکھتے ہوئے کہا تو اس نے صرف سر ہلانے پہ اکتفاء کیا۔
مصطفیٰ اس کی جانب ایک مسکراہٹ اچھالتا کمرے سے نکل گیا۔
“دیکھ لیا آپ نے۔”
ایمان نے پرخہ کی جانب دیکھا۔اسکی آنکھوں کی سطح ایک بار پھر گیلی ہونے لگی تھی۔
“پریشان نہ ہو۔۔مصطفی نے کہا ہے نا کہ کام سے گیا ہے۔چلو تم اسے کال کرو، میں ذرا مصطفیٰ کے لئے چائے بناتی ہوں۔”
پرخہ نے اسے غزنوی کو کال کرنے کا کہا اور خود وہاں سے چلی گئی۔اس کے جانے کے بعد ایمان اٹھی اور غزنوی کو کال کرنے لگی۔دوسری جانب بیل جا رہی تھی مگر وہ فون نہیں اٹھا رہا تھا۔
“بزی ہونگے۔”
خود کو دلاسہ دیتی وہ موبائل رکھتی واش روم کی طرف بڑھ گئی۔منہ ہاتھ دھونے کے بعد اسے کچھ بہتر محسوس ہوا۔اس نے غزنوی کا نمبر ملایا مگر اس بار بھی کال ریسیو نہیں کی گئی۔وہ اسکی کال ریسیو نہیں کر رہا تھا یہ سوچ کر اسکی آنکھوں کی جلن بڑھنے لگی تھی۔اس نے موبائل ایک طرف ڈال دیا۔اسے یقین ہو گیا تھا کہ غزنوی اس سے ایک بار پھر بدگمان ہو گیا ہے۔
“بات ہوئی غزنوی سے؟”
پرخہ کمرے میں داخل ہوئی۔
“نہیں۔۔وہ فون نہیں اٹھا رہے۔”
وہ ٹھہرے ہوئے لہجے میں بولی۔
“چلو کوئی بات نہیں۔۔یقیناً مصروف ہو گا۔تم دل پر مت لو۔۔”
پرخہ نے اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھا، وہ خاموش رہی۔
“تم ٹھیک ہو؟”
پرخہ نے اس کی خاموشی کو محسوس کیا۔
“میں ٹھیک ہوں۔”
وہ سر جھکا گئی۔۔پرخہ نے اسے بغور دیکھا۔
“کیا غزنوی نے کچھ کہا ہے؟”
وہ سوالیہ نظروں سے اسکی طرف دیکھتی اس کے پاس بیٹھ گئی۔
“وہ فون نہیں اٹھا رہے۔۔تھوڑی دیر بعد پھر کروں گی کال۔شاید مصروف ہوں۔”
ایمان نے گھڑی کی طرف دیکھا جسکی سوئیاں آٹھ کا ہندسہ پار کر رہی تھیں۔اس کے ذہہن میں ایک ہی بات گردش کر رہی تھی کہ اس وقت کون سا آفس اور کیا مصروفیت۔۔وہ یقیناً اس سے بات نہیں کرنا چاہتا۔۔پرخہ نے بھی اسکی نگاہوں کا پیچھا کیا۔اسے غزنوی پہ بہت غصہ آیا۔
“ٹھیک ہے تم آرام کرو۔۔میں اب چلوں گی۔۔”
پرخہ اٹھ کھڑی ہوئی۔
“جی۔۔”
وہ صرف اتنا ہی بول سکی۔پرخہ دکھ سے اسکی طرف دیکھتی باہر آ گئی۔اسکے جانے کے بعد اس نے پھر فون اٹھا لیا۔اس بار کال ریسیو کر لی گئی۔
“کہو۔۔۔”
نہایت ہی سرد مہری سے کہا گیا۔ایمان کے دل سے ایک ٹیس سی اٹھی۔
“وہ۔۔۔میں۔۔۔آپ ٹھیک ہیں؟”
اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ بات کسطرح سے شروع کرے۔
“ہاں ٹھیک ہوں۔۔”
انداز جان چھڑانے والا تھا۔
“غزنوی۔۔۔!! وہ شخص جھوٹ بول رہا ہے، بابا نے اسے پیسے دے دیئے تھے۔وہ ایک جواری ہے اسکا کیا بھروسہ۔۔”
وہ کانپتی آواز میں بولی۔
“یہی میں بھی سوچ رہا ہوں کہ وہ ایک جواری ہے لیکن تمھارا باپ بھی تو ایک جواری ہی ہے اور ابھی تم نے ہی کہا کہ جواری کا کیا بھروسہ۔۔”
غزنوی کے لہجے کی کاٹ اس نےا پنے دل پہ محسوس کی۔اسے لگا جیسے اسکا دماغ سُن ہو گیا ہو۔
“غزنوی۔۔۔”
وہ صرف اتنا ہی کہہ سکی تھی۔
“ٹھیک تو کہہ رہا ہوں۔۔کیا تمھارا باپ ایک جواری نہیں ہے۔داجی کے منع کرنے کے باوجود وہ اس شخص سے دوستانہ مراسم رکھ رہا تھا تو وہ اس سے الگ کیسے ہو گیا۔اپنے باپ سے کہہ دینا کہ اب اسے یہاں سے ایک روپیہ نہیں ملے گا۔”
غزنوی مزید کاٹ دار لہجے میں بولا۔
“یہ جھوٹ ہے بابا ایسا نہیں کر سکتے۔”
ایمان نے اسے یقین دلانا چاہا۔
“تم اچھی طرح واقف ہو اس بات سے کہ تمھارا باپ کیا کیا کر سکتا ہے۔مجھے تو لگتا ہے کہ یہ تمھارے باپ اور اس بادشاہ خان کی چال ہے ہم سے پیسے لینے کی۔لیکن میں سمجھ گیا ہوں اور تم بھی سمجھ لو کہ اب انھیں یہاں سے ایک پھوٹی کوڑی نہیں ملے گی۔”
غزنوی نے نفرت آمیز لہجے میں کہا۔
“یہ جھوٹ ہے۔۔ایسا نہیں ہے۔”
ایمان اب بھی اسکی بات سے انکار کر رہی تھی۔ایک موہوم سی امید تھی اسے شاید وہ اسکی بات کا یقین کر لے مگر وہ تو کچھ بھی سننے کو تیار نہیں تھا۔
“ٹھیک ہے تو پھر تم خود ہی پوچھ لو جا کر اپنے باپ سے کہ کیسا ہے اور اب مجھے بار بار کالز کر کے تنگ مت کرنا۔”
وہ کال کاٹ چکا تھا۔
“بابا ایسا نہیں کر سکتے۔”
وہ خود سے کہتی وہیں ڈھے گئی تھی۔آنسو تواتر سے اسکی آنکھوں سے بہہ رہے تھے۔ ____________________________________________
کمرے میں نائٹ بلب جل رہا تھا اور اس نیم تاریکی میں صرف گھڑی کی ٹک ٹک کی آواز سنائی دی تھی۔اُسے اپنی ہی خاموشی سے وحشت ہو رہی تھی۔وہ آنکھیں بند کیے لیٹا تھا۔جب سے آیا تھا اپنے کمرے میں بند تھا۔ایک ہی بات اسکے دماغ سے چپک گئی تھی۔اس نے آنے کے فوراً بعد ہی مصطفیٰ کو فون کر کے اپنے اسلام آباد آنے کے متعلق بتا دیا تھا۔جب وہ گھر سے نکلا تھا تو اس کا اسلام آباد آنے کا قطعی کوئی پلان نہیں تھا۔اس فیصلے کے پیچھے کی حقیقت کچھ اور ہی تھی اور وہ یہ تھی کہ جب وہ گاڑی لے کر باہر نکلا تھا تو گھر سے کچھ فاصلے پر ہی رک گیا تھا۔گھر سے دور جا ہی نہیں پایا تھا وہیں گھر سے کچھ فاصلے پر موجود تھا۔وہ وہاں خود کو کول ڈاؤن کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ اچانک گاڑی کا دروازہ کھلا اور کوئی گاڑی میں بیٹھا۔وہ آنکھیں بند کیے پرسکون بیٹھا تھا۔
“مصطفیٰ مجھے کچھ وقت چاہیئے۔اس وقت میرا دماغ بہت گھوما ہوا ہے۔”
یہ کہہ کر اس نے آنکھیں کھول کر ساتھ بیٹھے شخص کو دیکھا۔وہ جو خود کو پرسکون کرنے کی کوشش کر رہا تھا، ساتھ بیٹھے بادشاہ خان کو دیکھ کر اس کے اندر غصے کا ایک جوالا مکھی پھٹ پڑا۔
“تم۔۔۔”
غزنوی قہر بھری نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا جبکہ بادشاہ خان نہایت پرسکون انداز میں بیٹھا اپنے دائیں ہاتھ سے بائی بازو دبا رہا تھا۔
“اس سے پہلے کہ میں اپنا آپا کھو دوں، دفع ہو جاؤ یہاں سے۔”
غزنوی نے اس وارننگ دیتے ہوئے کہا۔
“مجھ سے تو جتنا نبٹ لیا اتنا کافی ہے، تم اب اپنے سسر اور بیوی سے نبٹو، جو تمھارے خلاف منصوبہ بندی کیے بیٹھے ہیں۔انہیں کنٹرول کرو تو تمھارے لئے بہتر ہو گا۔”
بادشاہ خان نے اپنا بچاؤ کرتے ہوئے کہا۔اس کا دماغ تیزی سے سازش کے تانا بانا بن رہا تھا۔پہلی ترکیب تو فیل ہو گئی تھی۔اب دوسرا وار کرنا تھا اور کاری وار کرنا تھا تاکہ دشمن اٹھنے کے قابل نہ رہ سکے۔
“بکواس بند کرو اپنی، مجھے تمھاری بکواس میں کوئی دلچسپی نہیں۔”
وہ ایک بار پھر بادشاہ خان پہ جھپٹا۔بادشاہ خان کا گریبان ایک بار پھر غزنوی کے ہاتھ میں تھا۔
“سچ ہمیشہ کڑوا ہی ہوتا ہے غزنوی احمد۔۔۔تمھارے اور تمھارے خاندان کے خلاف کتنی گہری سازش رچی گئی ہے تم سوچ بھی نہیں سکتے۔”
بادشاہ خان نے جھٹکے سے اپنا گریبان چھڑایا۔
“تم نکلتے ہو یا میں پولیس کو فون کروں اور یہاں حوالات سے نکلنا اتنا آسان نہیں ہو گا تمھارے لئے اور نا ہی میں تمھیں نکلنے دوں گا۔”
غزنوی نے اسکی بات پہ کان نہ دھرے اور پولیس کی دھمکی دی۔
“کرو ضرور کرو فون لیکن میری پوری بات سننے کے بعد۔۔میں یہاں تم لوگوں کی آنکھوں سے معصومیت کی پٹی اتارنے آیا تھا، لیکن تم نے مجھے میری بات پوری کرنے ہی نہیں تھی۔میں تو حقیقت بتانے آیا تھا۔”
بادشاہ خان نے نہایت چالاکی سے اپنے مکروہ عزائم کو عملی جامہ پہنایا۔
“کیسی حقیقت؟؟”
غزنوی چونک کر بولا۔
“اب کی ہے نا عقلمندوں والی بات۔۔۔حقیقت یہ ہے کہ رشید خان ایک فراڈ اور نہایت چالباز شخص ہے۔یہ سارا پلان ہی اسکا تھا۔بلکہ میں جھوٹ نہیں بولوں گا میں نے اور رشید خان نے ملکر تم لوگوں سے پیسے لینے کا پلان بنایا تھا۔پھر جب عمل کی باری آئی تو اس نے مجھے دودھ میں سے مکھی کی طرح نکال باہر کیا تبھی تو گرما گرمی میں میرے ہاتھ سے گولی چل گئی۔ایک تو مجھے میرے پیسے بھی نہیں لوٹائے اور اوپر لڑکی بھی ہاتھ سے۔۔۔”
بادشاہ خان اسکے تاثرات دیکھنے کے لیے ایک پل کو خاموش ہوا۔
“خبردار جو اپنی گندی زبان پہ اسکا نام بھی لایا۔”
اسکی بات سن کر غزنوی کا خون کھولنے لگا تھا۔
“ارے تم بیوقوف ہو۔۔وہ شامل ہے اپنے باپ کے ساتھ۔۔ساری عمر تمھیں لوٹنے کا پلان بنا رکھا ہے دونوں نے۔۔”
بادشاہ خان لوہا گرم دیکھکر مزید بولا۔اپنی بےعزتی کا بدلہ وہ کیونکر ہاتھ سے جانے دیتا۔
“میرا یہاں آنا اور پیسوں کی مانگ کرنا یہ سب ہمارے پلان کا حصہ تھا لیکن رشید خان نے مجھے دھوکہ دے دیا۔۔لیکن میں کیوں اسے عیش کرنے دیتا اور یہ جو تم میرے جیل سے چھوٹنے کی بات کر رہے ہو تو تمھاری اطلاع کے لئے بتا دوں کہ رشید خان کے ہی کہنے پر میں جیل سے آزاد ہوا۔”
اپنی بات کے اختتام پر بادشاہ خان نے غزنوی کے چہرے پہ پھیلتی حیرت دیکھ کر دل ہی دل میں خود کو شاباش دی۔
“میں تمھاری بات پہ کیوں یقین کروں؟”
غزنوی کی نگاہوں میں بے یقینی تھی۔
“تم چاہو تو ابھی میرے سامنے تھانے کال کر کے پوچھ سکتے ہو۔رشید خان نے نا صرف مجھے رہا کروایا بلکہ کیس بھی واپس لے لیا ہے یہ کہہ کر کہ وہ کوئی اور شخص تھا جس نے گولی چلائی جس کے ساتھ وہ اس دن جوا کھیل رہا تھا۔چاہو تو معلومات کر لو۔”
بادشاہ خان نے شک کی کنجی غزنوی کے ہاتھ میں تھمائی اور اپنا موبائل اسکی طرف بڑھایا۔
“اسکی ضرورت نہیں۔۔میں جانتا ہوں تم ہی نے اپنے آدمیوں کے ذریعے اس پہ دباؤ ڈالا ہو گا۔”
غزنوی نے اسکی جانب سے رخ پھیرا۔زبان سے تو اس نے کہہ دیا تھا کہ اسے اسکی بات کا یقین نہیں مگر دل و دماغ میں ایک جنگ سی چھڑ گئی تھی۔وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ بادشاہ خان کا اس کیس سے چھوٹ جانا آسان نہیں تھا جبکہ اس کے گرفتار ہونے پہ اس کے خلاف گواہی دینے بہت سے لوگ آگے آئے تھے۔
“تم بھی اچھی طرح جانتے ہو کہ جیل سے نکلنا اتنا آسان نہیں تھا۔”
بادشاہ خان نے نی طرف سے شک کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکی۔
“نکلو یہاں سے۔”
غزنوی کی بھنویں اسکی بات سن کر غصے سے تن گئی تھیں۔وہ بولا تو اس کا انداز دوٹوک تھا۔
“جا رہا ہوں۔۔مگر اب تم مزید ان باپ بیٹی کے مکر و فریب میں مت آنا۔مجھے خود سے الگ کر کے اس نے اپنی بیٹی کو شامل کر لیا ہے کیونکہ بیٹی سے اسے کوئی دلی لگاؤ تو تھا نہیں اگر ہوتا تو وہ یوں اسے چند پیسوں کے عوض۔۔”
“تم نے سنا نہیں۔۔اس سے پہلے کہ میری برداشت ختم ہو اترو گاڑی سے۔”
بادشاہ خان کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی وہ دھاڑا۔
“چلتا ہوں۔”
بادشاہ خان گاڑی سے اتر گیا اور لنگڑاتا ہو اپنی جیپ میں سوار ہو گیا۔
“کیا ہوا خان۔۔؟ بڑی دیر بات ہوئی۔”
جانس خان نے جیپ اسٹارٹ کرتے ہوئے بادشاہ خان سے پوچھا۔
“بجھی ہوئی راکھ میں چنگاری اب بھی ہے۔میں ہوا دے آیا ہوں۔آگ بھڑکنے میں دیر نہیں اور وہ دونوں باپ بیٹی اس آگ میں جل کر راکھ ہو جائیں گے۔اب تماشا دیکھنا ہے کہ یہ غزنوی احمد ان کا کیا حال کرتا ہے۔”
بادشاہ خان کے چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ تھی۔
جیپ وہاں سے جا چکی تھی اور وہ گاڑی میں ہی موجود تھا۔اسے یاد آیا کہ گاؤں کے تھانے کے ایس ایچ او کا نمبر اسکے پاس تھا۔ایک آخری امید پہ اس نے نمبر ڈائل کیا۔جہاں سے بادشاہ خان کی بات پر سچائی کی مہر لگا دی گئی کہ رشید خان نے کیس واپس لے لیا ہے اور یہ جان کر وہ حیرت کے سمندر میں غوطہ زن تھا۔فون بند کرنے کے بعد اس نے گاڑی اسٹارٹ کی اور پھر ہاں اور نہیں کی کشمکش میں وہ ریش ڈرائیونگ کرتا اسلام آباد پہنچ گیا تھا۔اس وقت وہ ان دونوں باپ بیٹی کی شکل تک نہیں دیکھنا چاہتا تھا۔اسلام آباد پہنچنے کے بعد اسے گھر والوں کا خیال آیا تو اس نے مصطفیٰ کو فون کر کے اپنے اسلام آباد میں ہونے کا بتا دیا۔اس نے مصطفیٰ کو ایک ارجنٹ کام کا کہا تھا اور مصطفیٰ نے اس سے زیادہ باز پُرس نہیں کی۔
لیکن اب یہاں آ کر اسے افسوس ہو رہا تھا کہ وہاں رک کر وہ رشید خان سے پوچھ سکتا تھا کہ سچ کیا ہے۔ ______________________________________________
ایمان باجی۔۔!! آپ یہاں ہیں؟ میں آپکے کمرے آپ کو تلاش رہی تھی۔وہ شاہ گل اپنے کمرے میں بلا رہی ہیں۔”
وہ باورچی خانے میں اپنے لئے چائے بنا رہی تھی۔رات سے اسکے سر میں شدید درد ہو رہا تھا۔صبح بھی درد ویسے کا ویسے ہی تھا۔ناشتہ کرنے کے بعد اس نے ٹیبلیٹ بھی لی مگر درد میں کچھ فرق نہ پڑا۔چائے کی طلب نے اسے کچن میں لے آئی۔
“اچھا۔۔”
وہ ابلتے پانی کے نیچے آنچ دھیمی کرتی کچن سے نکل گئی۔سر کو ہلکے ہاتھ سے دباتے ہوئے وہ عقیلہ بیگم کے کمرے میں داخل ہوئی۔
“آپ نے مجھے بلایا شاہ گل؟”
ایمان سست قدموں سے چلتی کمرے کے وسط میں آ کر رک گئی۔
“ہاں بیٹا۔۔یہاں آؤ۔۔”
انہوں نے اسکے لئے اپنے پاس جگہ بنائی۔وہ ان کے پاس آ کر بیٹھ گئی۔
“غزنوی سے بات ہوئی تمھاری؟”
شاہ گل نے اسکی سوجھی ہوئی آنکھوں کو بغور دیکھا۔
“جی بات ہوئی تھی۔”
وہ سر جھکائے بولی۔
“کیا تم روتی رہی ہو؟”
شمائلہ بیگم نے عقیلہ بیگم کے دل میں آئی بات کو زبان سے کہا۔
“نہیں تو۔۔”
اس نے اپنی دلی کیفیت چھپانے کی کوشش کی۔
“آنکھیں تو کچھ اور ہی کہہ رہی ہیں۔”
عقیلہ بیگم اور شمائلہ بیگم نے کسی پولیس افسر کی طرح اس سے سوال و جواب کرنا شروع کر دیا تھا۔
“شاہ گل دراصل کل رات سے میرے سر میں شدید درد ہو رہا ہے۔جسکی وجہ سے میں رات کو ٹھیک سے سو نہیں سکی اسی لئے آنکھوں میں سوزش ہو رہی ہے۔”
اس نے وجہ بتائی۔
“تو بیٹا مجھے بتانا تھا نا۔”
شمائلہ بیگم نے اس کی پیشانی کو چھوا جو تپ رہی تھی۔
“بس صرف سر میں درد ہے۔”
وہ لبوں پہ مسکان سجا کر بولی۔وہ انہیں اس بات کی بھنک بھی نہیں پڑنے دینا چاہتی تھی کہ غزنوی کا رویہ اسکے ساتھ ٹھیک نہیں۔
“اچھا۔۔تمھارے والد جا رہے ہیں کیا؟ میں نے شگفتہ کے ہاتھ چائے بھجوائی تھی تو وہ واپس آنے پر بتا رہی تھی کہ رشید خان تمھارے والد پیکنگ کر رہے تھے۔”
شمائلہ بیگم نے مطمئن ہو کر پوچھا کیوں کہ ان کے غزنوی کا اسطرح اسلام آباد چلے جانا انہیں نارمل نہیں لگ رہا تھا۔
“جی وہ جا رہے ہیں۔”
ایمان نے یہ کہہ کر سر جھکا لیا۔
“ایمان ہمیں ان پہ پورا بھروسہ ہے۔ہمارے لیے وہ قابل بھروسہ ہیں نا کہ بادشاہ خان۔”
عقیلہ بیگم نے اسکے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے۔
“میں جانتی ہوں شاہ گل۔۔لیکن وہ اس وجہ سے نہیں جا رہے، جانا تو تھا واپس انہوں نے۔”
ایمان نے کہا تو عقیلہ بیگم سر ہلا کر رہ گئیں۔
“لیکن وہ تو جیل میں تھا، چھوٹ کیسے گیا؟”
شمائلہ بیگم نے ایمان کیطرف سوالیہ نگاہوں سے دیکھا۔
“تمھارے داجی نے گاؤں فون کیا تھا یہی معلوم کرنے کے لئے کہ اسکی ضمانت کیسے ہوئی جبکہ اسکے خلاف کیس مضبوط تھا۔وہیں سے معلوم ہوا کہ کسی ملک خاور علی نے بادشاہ خان کی ضمانت کروائی ہے۔بادشاہ خان اسکا خاص کارندہ تھا۔تمھارے داجی جانتے ہیں اس ملک خاور علی کو۔۔کہہ رہے تھے سیاسی اثرورسوخ رکھتا ہے اسی بناء پہ چھڑا لیا اسے۔”
عقیلہ بیگم نے انہیں بتایا۔
“جی بابا نے بھی مجھے یہی بتایا تھا جب میں نے ان سے بادشاہ خان کے متعلق پوچھا تھا۔اسی لیے تو میں نے ان کو کچھ دن کے لئے یہاں بلا لیا تھا۔مجھے خوف تھا کہ کہیں بادشاہ خان پھر سے انہیں کوئی نقصان نہ پہنچا دے۔اب دیکھ لیں آپ وہ یہاں بھی آ گیا۔”
ایمان نے ان کی بات کی تصدیق کی۔
“ہاں تم ٹھیک کہہ رہی ہو۔”
شمائلہ بیگم اٹھتے ہوئے بولیں۔
“میں تمھارے لئے چائے اور ٹیبلٹ بھجواتی ہوں۔”
یہ کہہ کر شمائلہ بیگم کمرے سے چلی گئیں۔
“جاؤ بیٹا تم بھی آرام کرو۔”
عقیلہ بیگم نے اس کے سر پہ ہاتھ رکھتے ہوئے کہا تو وہ سر ہلاتی اٹھ کھڑی ہوئی۔اپنے کمرے میں جاتے ہوئے اسکا دماغ مختلف سوچوں کی آماجگاہ بنا ہوا تھا۔غزنوی کی باتیں، اسکا کٹھور لہجہ، بےلچک انداز۔۔۔وہ سہل نہیں کر پا رہی تھی۔اپنے کمرے میں آ کر سب سے پہلے اس نے موبائل اٹھا کر غزنوی کا نمبر ڈائل کیا تھا مگر وہ کال نہیں پک کر رہا تھا۔ایک بار، دو بار، تین بار۔۔۔مگر دوسری طرف وہی کہر میں لپٹی خاموشی تھی۔اس نے ایک گہری سانس خارج کی اور موبائل سائیڈ ٹیبل پہ رکھ دیا تھا۔
“اب میں کال نہیں کروں گی۔”
اسکی انا نے سر اٹھایا۔اسی بیچ شگفتہ اسکے لئے چائے اور دوا لے آئی۔
“وہ جی چھوٹی بیگم صاحبہ کہہ رہی تھیں کہ اگر دوا سے آرام نہ آئے تو پھر وہ ڈاکٹر۔۔۔”
“نہیں میں ٹھیک ہوں جاؤ تم۔”
ایمان نے اسے بات مکمل کرنے نہیں دی۔
“میں آپکا سر دبا دوں؟”
شگفتہ جاتے جاتے پلٹی۔
“نہیں۔۔”
اس نے نفی میں سر ہلایا تو وہ کمرے سے چلی۔اس نے پہلے ٹیبلٹ لی اور پھر چائے پینے کے لئے کپ اٹھا ہی تھا کہ شگفتہ کے ساتھ رشید خان کمرے میں داخل ہوا۔
“اچھا بیٹا میں چلتا ہوں۔”
وہ ایمان کی طرف بڑھے جبکہ شگفتہ دروازے سے ہی پلٹ گئی۔ایمان بیڈ سے اتر کر ان کے پاس آئی۔
“بابا اپنا خیال رکھیئے گا۔”
وہ ان کے سینے سے لگی کہہ رہی تھی۔
“فکر نہیں کرو۔۔مجھے وہاں کوئی خطرہ نہیں۔۔بس تم اپنے باپ کو غلط مت سمجھنا، میں مانتا ہوں کہ میں نے زندگی میں بہت سی غلطیاں کی ہیں۔تمھیں کوئی سکون نہیں دے سکا، یہ میرے اللہ کا کرم ہے کہ اس نے تمھارے نصیب میں اتنے اچھے اور ملنسار لوگوں کا ساتھ لکھا ہے ورنہ تمھارے باپ نے تو تمھیں تباہی کے دہانے تک لانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔کوشش کروں گا کہ خود کو مزید تمھارا گناہگار نہ ہونے دوں۔”
رشید خان کا چہرہ اداسی کی ایک داستان پیش کر رہا تھا۔
“بابا ایسا مت کہیں۔۔میری آپ سے محبت میں کبھی کمی نہیں آئی اور نہ مجھے آپ سے کوئی شکوہ ہے۔آپ ایک طرف اور ساری دنیا ایک طرف۔۔مجھے آپ کا یہ اداس چہرہ تکلیف دے رہا ہے۔آپ اپنا خیال رکھیں۔۔میں آپکو دُکھی نہیں دیکھ سکتی۔”
وہ ان کے سینے سے لگی کہہ رہی تھی اور اسکی آنکھوں سے بہتا سیلِ رواں ان کا گریبان بھگو رہا تھا۔
“بیٹا میں بہت گناہگار شخص ہوں۔تم دعا کرنا کہ اللہ مجھے بخش دے۔میں نے موت کو قریب سے دیکھا ہے اور جب اللہ نے مجھے توبہ کا موقع دیا تو میں نے سچے دل سے توبہ کی۔بادشاہ خان جو بھی کہہ رہا ہے وہ سب جھوٹ ہے۔میرے خلاف یہ اسکی چال ہے۔”
رشید خان اسکے سر پہ ہاتھ رکھتا شرمندگی سے بولا۔
“بابا مجھے آپ پر بھروسہ ہے، میں جانتی ہوں کہ آپ ایسا نہیں کر سکتے۔”
ایمان نے ان پہ اعتماد ظاہر کیا۔
“اللہ تعالیٰ تمھیں ہمیشہ خوش رکھے۔۔میں چلتا ہوں، تم اپنا خیال رکھنا۔۔اللہ حافظ۔۔!”
رشید خان نے اسکی پیشانی چومی اور اسے ساتھ لئے کمرے سے نکل آیا۔رشید خان تو خود جانا چاہتا تھا مگر اعظم احمد نے ڈرائیور کو اسے گاؤں چھوڑ کر آنے کا کہہ دیا تھا۔ڈرائیور باہر گاڑی میں انتظار کر رہا تھا۔ایمان بیرونی دروازے تک اس کے ساتھ آئی تھی۔رشید خان کے جانے بعد وہ واپس اپنے کمرے میں آ گئی۔رشید خان کی باتوں سے اس کے دل پہ ایک بوجھ سا آن ٹھہرا تھا۔وہ کمرے کی خاموشی اس پہ گھبراہٹ طاری کیے دے رہی تھی۔وہ عقیلہ بیگم کے پاس آ گئی جو لاؤنج میں بیٹھیں تھیں۔ان کے ساتھ اعظم احمد بھی موجود تھے۔
“چلے گئے تمھارے والد؟”
عقیلہ بیگم اسکا اترا چہرہ دیکھ کر اسے اپنے پاس بلایا۔
“جی۔۔”
وہ ان کے پاس بیٹھ گئی۔ابھی اسے وہاں بیٹھے کچھ لمحے ہی گزرے ہوں گے کہ اعظم احمد کے موبائل کی رنگ ٹون نے عقیلہ بیگم اور ایمان کو متوجہ کیا۔
“کیا۔۔۔؟؟ کیا کہہ رہے ہو، کیسے ہوا یہ سب؟”
فون کان سے لگائے وہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہوئے۔
“ٹھیک ہے تم فوراً ہاسپٹل لے کر جاؤ، میں اور مکرم آتے ہیں۔”
فون بند کر کے انہوں نے سامنے بیٹھی خواتین کو دیکھا جو ان کا پریشان چہرہ دیکھ کر خود بھی پریشان دکھائی دے رہی تھیں۔
“کیا ہوا ہے اعظم صاحب؟؟ خیر تو ہے نا؟”
عقیلہ بیگم نے دھڑکتے دل کے ساتھ پوچھا۔
“رشید خان پہ دوبارہ حملہ ہوا ہے۔ڈرائیور نے بادشاہ خان اور اس کے ساتھ والے شخص کو پہچان لیا۔”
اعظم احمد نے کہا تو وہ دونوں ہکا بکا انہیں دیکھ رہی تھیں۔ ___________________________________________
“اچھا ہوا تم آ گئے۔”
غزنوی کے کال پہ بتانے پہ وہ اس وقت آفس میں ہے کمیل اس سے ملنے آ گیا تھا۔
“ہاں آنا تو تھا ہی۔کیسا ہے؟”
غزنوی اس سے گرمجوشی سے بغلگیر ہوا۔
“میں ٹھیک ہوں۔۔تم سناؤ۔۔گھر میں سب ٹھیک؟”
کمیل نے پوچھا۔
“الحمداللہ۔۔! سب ٹھیک ہیں۔”
غزنوی اسے بیٹھنے کا اشارا کرتا اپنی چیئر کی طرف بڑھا۔
“ویسے اس بار کافی دن لگا دیئے، تم تو کہہ رہے تھے کہ عید کے تین دن بعد ہی آ جاؤں گا۔”
کمیل نے پیپر ویٹ اٹھاتے ہوا کہا۔
“بس اچانک پروگرام بن گیا۔”
وہ ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کرتا ہوا بولا۔
“بھابھی کیسی ہیں؟”
کمیل نے اس سے ایمان کی بابت دریافت کیا۔
“ٹھیک ہے۔۔تم یہ بتاؤ کہ کام کہاں تک پہنچا؟”
غزنوی نے فائل اسکی طرف بڑھا کر بڑی صفائی سے بات کا رخ بدلا۔
“سب ٹھیک ہے، سہیل صاحب سے بات ہو گئی تھی۔وہ بھی تمھارا انتظار کر رہے تھے۔انہوں نے بات کر تو لی ہو گی تم سے؟”
کمیل نے پوچھا۔
“ہاں میری بات ہو گئی ہے۔بس وکیل صاحب آ رہے ہیں تو پھر ملکر سب فائنل کر لیتے ہیں۔میں چاہتا ہوں کہ ایک ہی بار سب سیٹل ہو جائے کیونکہ میں بار بار نہیں آ پاؤں گا۔”
غزنوی نے سنجیدگی سے کہا۔
“وکیل صاحب کس وقت تک آئیں گے؟”
کمیل نے فائل کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے مصروف انداز میں پوچھا۔
“گیارہ بجے تک آنے کا کہا ہے۔۔کیوں تمھیں کہیں جانا ہے کیا؟”
غزنوی نے فائل سے نظر ہٹا کر اسکی جانب دیکھا۔
“ہاں مجھے کچھ شاپنگ کرنی ہے۔”
کمیل فائل بند کر کے اٹھ کھڑا ہوا۔
“ٹھیک ہے وکیل صاحب سے مشورہ کر کے دونوں چلیں گے۔”
غزنوی نے کہا۔اسی دوران وکیل صاحب کیبن میں داخل ہوئے۔
“السلام و علیکم وکیل صاحب۔۔!”
غزنوی انھیں دیکھ کر اٹھ کھڑا ہوا اور نہایت گرمجوشی سے ان سے مصافحہ کیا۔
“وعلیکم السلام ینگ مین۔۔کیا حال چال ہیں؟”
وکیل صاحب بھی اسی گرمجوشی سے اس سے اور پھر کمیل سے ملے۔
“سب ٹھیک آپ کہیٔے۔”
غزنوی انھیں بائیں جانب رکھے صوفے کی جانب لے آیا۔
“الحمداللہ۔۔!”
وکیل صاحب بیٹھے تو وہ ٹیبل سے فائل اٹھا کر لے آیا۔پھر انہوں نے سہیل صاحب کو بھی بلوا لیا۔پھر ڈیڑھ گھنٹے کی میٹنگ میں تینوں نے وکیل صاحب کے مشورے سے تمام معاملات سیٹل کیے۔
“چلیئے مبارک ہو آپ کو سہیل صاحب۔۔میں انشاللہ کل تک پیپرز ریڈی کروا لوں گا۔”
وکیل صاحب نے ٹیبل سے فائل اٹھاتے ہوئے خود بھی اٹھ کھڑے ہوئے۔
“خیر مبارک وکیل صاحب اور غزنوی بیٹا بہت شکریہ کہ تم نے مجھے یہ موقع دیا۔”
سہیل صاحب نے غزنوی کی طرف دیکھا۔
“اس میں شکریہ کی کیا بات سہیل صاحب۔۔یہ سب آپکی محنت ہے اور مجھے بہت خوشی ہے کہ میں آپکے کسی کام آ سکا۔”
غزنوی نے مسکراتے ہوئے کہا۔
“ٹھیک ہے تو مجھے اب اجازت۔”
وکیل نے غزنوی کی طرف مصافحہ کے لئے ہاتھ بڑھایا۔جو اس نے تھام لیا۔پھر وکیل صاحب، سہیل صاحب کے ساتھ چلے گئے۔ان کے جانے کچھ دیر بعد وہ دونوں بھی آفس سے نکل آئے۔وہاں سے وہ سیدھے مارکیٹ آ گئے تھے۔
“کیا لینا ہے؟”
وہ دونوں مال میں داخل ہوئے تو غزنوی نے پوچھا۔
“کچھ شرٹس لینی ہیں۔”
کمیل ایک دکان میں داخل ہوا۔غزنوی بھی اسکے پیچھے ہی تھا۔پھر دونوں نے اپنے لئے کچھ شرٹس خریدیں۔
“بھابھی کے لئے کچھ لینا ہے؟”
کمیل نے شاپنگ بیگز اُٹھاتے ہوئے غزنوی سے پوچھا جو اپنے لئے گھڑی پسند کر رہا تھا۔
“نہیں۔”
اتنا سیدھا جواب۔۔اسکی لاپروائی پہ کمیل نے اسکی طرف حیرت سے دیکھا۔
“چلیں یا کچھ اور لینا ہے تم نے؟”
غزنوی نے اسکی حیران نگاہوں کو خود پہ جمے دیکھکر پوچھا۔کمیل نے نفی میں سر ہلایا تو وہ شاپرز اٹھاتا دکان سے نکل گیا۔سیڑھیوں سے اترتے ہوئے غزنوی کی نظر ایک جیولری شاپ میں لگے چوڑیوں کے اسٹالز پر پڑی۔اسکے قدم خود بخود دکان کی طرف اٹھے۔
سیاہ چوڑیاں دیکھکر پرسوں صبح والا واقعہ اپنی تمام جزیات کے ساتھ اسے یاد آیا۔ایمان کو چوڑیاں بہت پسند تھیں۔ہر لباس کے ساتھ میچنگ کانچ کی چوڑیاں پہننا اس کا محبوب ترین مشغلہ تھا۔یہ بات شروع ہی سے اسکے نظروں میں آئی یا یہ کہنا بہتر ہو گا کہ انجانے میں ایمان نے اپنی کلائیوں میں کھنکتے کانچ سے اسے اپنی موجودگی کا احساس دلایا تھا۔دن میں تو یہ چوڑیاں اسکی ڈسٹربنس کا باعث تھیں مگر رات میں بھی اسکی چوڑیوں کی کھنک سے بار بار اسکی نیند کھل جاتی تھی۔وہ ویسے بھی بیدار نیند سوتا تھا اور ایمان نیند میں کروٹ بدلتی رہتی تھی جس سے ہاتھوں میں پہنی چوڑیاں کھنک کر خاموشی میں ارتعاش پیدا کرتی تھیں۔پرسوں رات بھی ایمان کی چوڑیوں کی آواز سے اسکی نیند ٹوٹی تھی۔پھر لاکھ کوشش کے باوجود وہ سو نہیں پا رہا تھا۔
اس نے ایمان کیطرف دیکھا جو اس کی طرف پیٹھ کیے سو رہی تھی۔وہ لیٹے لیٹے اسکے قریب کھسک آیا اور اپنے دائیں بازو پہ وزن ڈالتا اس کے کندھے سے جھانک کر اسے دیکھا۔ستواں ناک میں چمکتی لونگ نیم تاریکی میں بھی چمک رہی تھی۔گلابی لب سختی سے جڑے ہوئے تھے۔اسی وقت ایمان نے نیند میں رخ غزنوی کی جانب کیا اور اس حرکت سے ایمان کی کھنکتی چوڑیاں غزنوی کو اپنی جانب متوجہ کر گئیں۔سیاہ چوڑیاں اسکی سپید نازک کلائی پہ سجی ہوئیں تھیں۔ایمان کا معصوم چہرہ اسکے سامنے تھا۔غزنوی اس کے چہرے پہ جھکا اور ایمان کی چمکتی پیشانی کی نرمی کو اپنے لبوں میں سموتا مسکرا دیا۔
ایمان کی پلکوں میں ہلکی سی جُنبش ہوئی تو وہ جلدی سے پیچھے ہٹا۔
اپنے تکیے پہ سر رکھتے ہوئے اسکی گہری نظریں ایمان کے چہرے کو گھیرے میں لئے ہوئیں تھیں اور پھر نیند آنے تک وہ اسی کام میں مصروف رہا تھا۔اگلی صبح وہ آفس کے لئے تیار ہو رہا تھا جب ایمان اسکے لئے ناشتہ لائی۔اندر آنے کے بعد ایمان نے نک سک سے تیار غزنوی پہ ایک نظر ڈالی اور پھر ٹیبل کیطرف بڑھ گئی۔غزنوی نے آئینے میں دکھتے اپنے عکس پہ ایک نظر ڈالی اور پھر ٹیبل کے پاس اسکے انتظار میں کھڑی ایمان کے پاس آیا۔
“ویسے یہ اچھا طریقہ ہے شوہر کو ساری رات جائے رکھنا۔”
غزنوی گھمبیر لہجے میں کہتا اسے گہری نظروں سے دیکھ رہا تھا۔
“کیا مطلب؟”
ایمان نے اسکی طرف ناسمجھی سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔
“مطلب یہ کہ تم مجھے اپنی طرف متوجہ کرنے کے لئے کیا کیا حربے نہیں آزماتی ہو۔”
غزنوی کا انداز سنجیدہ تھا اور اسکے سنجیدہ چہرے سے کوئی اندازہ نہیں لگا پا رہی تھی مگر غزنوی کی آنکھوں کی چمک اسے اسکی شرارت کا پتہ دے رہی تھی۔
“بھول ہے آپکی کہ میں ایسا کرتی ہوں ہاں یہ اور بات ہے کہ آپ میرے پیچھے پیچھے رہتے ہیں۔”
ایمان اسکے سائیڈ سے نکلتی صوفے پہ جا بیٹھی اور ریلیکس انداز میں غزنوی کے لئے کپ میں چائے ڈالنے لگی۔
“میں اتنا بیوقوف نہیں اور تمھاری چالاکی تو اچھی طرح سمجھتا ہوں۔یہ تمھاری چوڑیاں رات بھر مجھے بیدار رکھنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتیں۔”
غزنوی نے اسکی کلائی میں سجی چوڑیوں کو اپنی انگلی سے چھیڑا۔
“آپ ڈسٹرب ہوتے ہیں تو نہیں پہنوں گی۔”
ایمان اسکی طرف دیکھتے دیکھتے چوڑیاں اتارنے لگی۔
“ابھی ناشتہ کرو۔۔یہ کام بعد میں کر لینا۔”
غزنوی نے اسے چوڑیاں اتارتے دیکھ کر کہا۔
“جی۔۔”
وہ خاموشی سے ناشتہ کرنے لگی جبکہ غزنوی اپنا سر پیٹ کر رہ گیا۔اسے اس سیدھی لڑکی پہ غصہ آنے لگا تھا کہ وہ کہتا کچھ تھا اور وہ سمجھتی کچھ اور تھی۔
مگر یہ بھی سچ تھا کہ ایمان کی یہی سادگی اسکے لبوں پہ مسکراہٹ لے آتی تھی۔
اسکے لب ابھی بھی مسکرا رہے تھے۔
“کچھ لینا ہے یہاں سے؟”
کمیل اسکے پیچھے آیا تھا۔وہ چونک گیا۔
“نہیں۔۔کچھ نہیں لینا۔”
وہ پلٹ کر مین ڈور کی طرف بڑھ گیا۔کمیل بھی کندھے اچکاتا اسکے ساتھ قدم اٹھاتا مال سے نکل آیا تھا۔ ________________________________________
“آئی ایم سوری۔۔!! ہم نے اپنی پوری کوشش کی مگر بہت زیادہ خون بہہ جانے کی وجہ سے ہم انہیں بچا نہیں پائے۔”
ڈاکٹر صاحب نے اعظم احمد کے کندھے پہ ہاتھ رکھا۔
اعظم احمد نے سر جھکا لیا اور ان سے کچھ فاصلے پہ کھڑی عقیلہ بیگم نے دل تھام لیا۔انہوں نے اپنے ساتھ کھڑی ایمان کو دیکھا۔اس کی ساکت آنکھوں سے لگ رہا تھا کہ وہ بھی سن چکی ہے۔ان کے دیکھتے ہی دیکھتے وہ دھم سے ہاسپٹل کے فرش پہ بیٹھی تھی۔
“ایمان۔۔!”
عقیلہ بیگم نے اسے بازو سے پکڑ کر سنبھالنے کی کوشش کی تھی۔انہوں نے اسے بینچ پہ بیٹھایا۔
“حوصلہ کرو بیٹا۔”
عقیلہ بیگم نے اسے سینے سے لگایا۔اسکی آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے۔
“اللہ کی یہی مرضی تھی بیٹا۔سنبھالو خود کو۔”
اعظم احمد نے قریب آ کر اس کے سر پہ ہاتھ رکھا تھا۔آپ ایمان کو لے کر گھر چلی جائیں، میں ذرا انسپکٹر صاحب سے مل لوں۔ڈرائیور بھی ان کے پاس ہے۔مرتضی کو کال کر دی ہے میں نے وہ آ رہا ہے۔”
اعظم احمد، عقیلہ بیگم سے کہتے وہاں سے چلے گئے۔
ایمان کی تو ہچکیاں بندھ گئی تھیں۔وہ اسے حوصلہ دیتی گھر لے آئیں۔کچھ وقت بعد اعظم احمد اور ڈرائیور
گھر میں صفِ ماتم بچھ گئی تھی۔غزنوی کو بھی اطلاع کر دی گئی تھی۔سبھی اسے احساس دلا رہے تھے کہ وہ اسکے غم میں برابر کے شریک ہیں۔لیکن سامنے پڑی باپ کی میت اسے یہ احساس دلا رہی تھی کہ وہ بالکل اکیلی ہو گئی ہے۔
اسکا رونا سب کی آنکھوں میں آنسو لے آیا تھا۔سبھی اسے حوصلہ دے رہے تھے۔
“بیٹا بس کرو۔۔ان کے لئے دعا کرو کہ اللہ آگے کی منزل آسان کرے۔”
جنازہ اٹھنے کے بعد بلقیس بیگم جو غزنوی کے ساتھ آئیں تھیں، ایمان کے پاس آ بیٹھیں اور اسکے ہچکیوں کی زد میں آئے وجود کو اپنی بانہوں کے گھیرے میں لیا۔سب ہی باری باری اسے چپ کرانے کی کوشش کر چکے تھے مگر اسکی آنکھوں کی نمی بڑھتی جا رہی تھی۔
“میں اکیلی رہ گئی خالہ۔۔ایک ہی تو رشتہ تھا، جو میرا اپنا تھا اب اس ایک اپنے کی خوشبو کو کہاں تلاشوں گی۔”
وہ بلقیس بیگم کے سینے میں منہ چھپائے ہچکیوں سے روتے ہوئے بولی۔
“اکیلی کب ہو۔۔ہم سب ہیں تمھارے ساتھ۔”
اس کے دُکھ پہ بلقیس بیگم کی آنکھیں بھی نم ہو گئیں۔وہ اسے دلاسا دے رہی تھی۔بہت زیادہ رونے سے اسکی طبیعت بگڑنے لگی تھی۔بلقیس بیگم اسے کمرے میں لے آئیں۔شمائلہ بیگم نے اسکے لئے کھانا اور ٹیبلٹ بھجوائی۔جو بلقیس بیگم نے اسے زبردستی کھلایا۔وہ شدید زہنی دباؤ کا شکار ہو رہی تھی اس لئے انہوں نے اسے دوا کھلائی اور اسے آرام کا کہتیں کمرے سے باہر آ گئیں۔
جاری ہے۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *