Weran Zindagi by Jameela Nawab 50361

Weran Zindagi by Jameela Nawab 50361 Weran Zindagi Episode 9

423.6K
17

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Weran Zindagi Episode 9

“میڈم ، مسز قیصر آئی ہیں”

صبیحہ بيگم بے تابی سے جس ہستی کی منتظر تھیں آخر وہ آ گئیں تھیں

“جی فوراً بھیج دیں ان کو”

صبیحہ بيگم نے جلدی سے ساڑھی کا پلو ٹھیک کرتے ہوۓ کہا تھا

رسمی سلام دعا کے بعد وہ دونوں مدعے کی بات پر آئیں تھیں

“کوئی ایسا رشتہ ڈھونڈ کر دیں جو حیثیت میں ہم سے تھوڑے کم ہو کھاتے پیتے گھر سے ہو لڑکی،کم عمر،خوبصورت ہو اور تعلیم کم از کم گریجویشن ہو”

“آپ بہت امیر ہیں ميم پھر اتنی عام سے ڈیمانڈ کیوں وہ بھی اپنے اکلوتے بیٹے کے لئے ؟؟؟”

مسز قیصر نے ٹھیک ٹھاک حیران ہو کر پوچھا تھا

“امیر ہوں تبھی بہو مناسب گھر سے چاہتی ہوں،آپ میرے اپنے سرکل کی لڑکیوں کو نہیں جانتیں دولت نے ان کے دماغ ساتویں آسمان پر پہنچا رکھے ہیں،وہ میرے بیوقوف بیٹے کو فوراً اپنے ساتھ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے سات سمندر پار لے اڑے گی اور میں ہاتھ ملتی رہ جاؤں گی،جو مجھ سے کم ہوگی وہ اس جائیداد کی لالچ میں میرے بیٹے اور میرے ساتھ بنا کر رکھیں گی”

صبیحہ بيگم نے اپنے اندر کے ڈر کی کھل کے وضاحت کی تھی

“اچھا ۔۔۔۔۔اور کب تک شادی کرنا چاہتی ہیں آپ ؟؟؟”

مسز قیصر نے اپنی ڈائری میں کچھ لکھتے ہوۓ پوچھا تھا

“جتنی جلدی ممکن ہو”

صبیحہ بيگم ہتھیلی میں گویا سرسوں جمانا چاہ رہیں تھیں جو ہر پیسے والا آسانی سے جما سکتا ہے

“چلیں ٹھیک ہے میں آپ کو اپنے آفس آنے کی جلد ہی زحمت دوں گی ميم”

وہ اٹھتے ہوۓ بولی تھیں

“نہیں ۔۔۔مسز قیصر آپ گھر پر ہی تشریف لائیے گا ہادی کو کانوں کان اس بات کی خبر نہیں ہونی چاہیے”

صبیحہ بيگم نے نوٹوں کی ایک گڈی کھڑے ہو کر مسز قیصر کو تهماتے ہوۓ راز داری سے کہا تھا

جس کا جواب مسز قیصر نے گہری مسكراہٹ سے دیا تھا

وہ جا چکی تھیں جبکہ صبیحہ بيگم اب ہادی کو فون ملا رہی تھیں جو میٹنگ کے لئے نئی سیکرٹری کے ساتھ اسلام آباد گیا تھا

۔*************

رابی ماں کے ساتھ دوپہر کے کھانے کے برتن سمیٹ کر وقار کے کمرے میں آئی تھی جہاں زوہیب اپنی فائلز کا ڈھیر لیئے کافی مصروف لگ رہا تھا

وقار اور شفیق صاحب فیکٹری میں تھے جبکہ پروین بيگم ظہر پڑھ کر اب سونے لیٹی تھیں

“کیا ہو رہا ہے؟؟کھانا کیسا بنا تھا ؟؟؟”

رابی بے تكلف سی زوہیب کے پاس آ کر بیٹھ گئی تھی اپنی موٹی بھوری آنکھوں میں وہ آج کل ہر وقت مسكارہ لگا کر رکھتی جس سے اس سے نظر ہٹانا ویسے ہی نا ممکن سا تھا

زوہیب فوراً کھڑا ہوا تھا

“گڑیا چلو باہر میں بہت اہم کام کر رہا ہوں میرا سارا کاروبار میری آج کی محنت پر منحصر ہے،اپنی کل جمع پونجی پاکستان میں لگا چکا ہوں اب مجھے نئے سرے سے یہاں محنت کرنی پڑے گی،پلیز میں فوکس کیئے بغیر کچھ بھی ٹھیک سے نہیں کر سکتا”

“آپ دبئی سے صرف میری وجہ سے یہاں واپس آئے ہیں نہ زوہیب؟؟؟مان کیوں نہیں لیتے آپ بھی مجھ سے دور نہیں رہنا چاھتے ؟؟؟؟”

وہ زوہیب کا ہاتھ پکڑ کر بے بس سی بولی تھی

“نہیں ۔۔۔۔۔۔ایسا نہیں ہے ۔۔۔خدا کے لئے مجھے پریشان کرنا بند کرو ورنہ میں یہ گھر چھوڑ کر کسی اور جگہ اپنا مستقل بندوبست کرلوں گا اور چاچو اور چاچی مجھ سے ناراض ہو کر مجھ سے دور ہو جایئں گے کیا تم یہی چاہتی ہو ؟؟؟؟”

وہ صوفے پر گرنے کے انداز میں بیٹھتے ہوۓ سخت تنگ ہو کر بولا تھا

“تو ابو سے کریں نا بات ہماری شادی کی مجھے اپنا کر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ان کے ساتھ رہیں”

رابی زوہیب کے ساتھ ہی بیٹھ گئی تھی اس سے پہلے کے رابی پھر سے اس کا ہاتھ پکڑتی زوہیب اٹھ کر اس سے دور ہوا تھا

“رابی خدا کا خوف کرو،اگر تم مجھ سے واقعی محبت کرتی بھی ہو تو یہ چھونا کس محبت میں جائز ہے ؟؟؟؟؟؟؟؟”

“تمہارے والدین کے مجھ پر بہت احسانات ہیں میرے اتنے قریب آ کر مجھے اپنی ہی نظروں میں رسوا مت کرو،میں تمہارے آگے ہاتھ جوڑتا ہوں”

وہ اب باقاعدہ ہاتھ جوڑ رہا تھا

“میں مرد ہوں اور کسی بھی مرد کے اتنے قریب آ کر اس سے پارسائی کی امید رکھنا کسی بھی عورت کی بہت بڑی بیوقوفی ہے”

“چلی جاؤ یہاں سے اور دوبارہ اس طرح میرے قریب آئی تو میں چچا کو سب بتا دونگا آگے کی ذمہ دار تم خود ہوگی”

رابی کو اپنے احساسات سے زیادہ زوہیب کا اس کا ہاتھ پکڑنے پر دھیان دینا اپنی ذات کی تذليل لگا تھا وہ روہانسی ہوئی تھی

وہ نم آنکھوں سے اس کی طرف دیکھتی ہوئی باہر کی طرف بڑھ گئی تھی

“اور جو تمہیں مجھ سے ہے وہ محبت نہیں ہے گڑیا وہ بس میرا ساتھ ہے جو تمہاری عمر کا تقاضہ ہے،تمہیں شادی کر لینی چاہیے جلد از جلد”

یہ الفاظ نہیں تھے وہ سیسہ تھا جو زوہیب کی آواز کی صورت رابی کے کانوں کے راستے دل پر پگھلا تھا

ان الفاظ نے اس کے پیروں سے زمین سرکا دی تھی وہ روتی ہوئی بھاگ کر اپنے کمرے میں گئی تھی اب وہ حسب عادت شاور کے نیچے بیٹھی پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی

دوسری طرف زوہیب ساری فائلز بند کر کے اب گھٹنوں میں سر دے کر بیٹھ گیا تھا وہ جانتا تھا

رابی کی محبت خالص اور معصوم تھی اور اس کا بار بار پاس آنا کم از کم ہوس نہیں تھا بلکہ اس کی امیچورٹی اور زوہیب پر اندھا بھروسہ تھا ۔۔۔

“اس کی امید توڑتے توڑتے میں اس کا دل توڑ دوں گا اس کی کردار کی دھجیاں بکھیر دوں گا کبھی میں نے سوچا بھی نہیں تھا،اے میرے رب ۔۔۔۔۔توں تو میری نیت جانتا ہے میں تو بس اس معصوم لڑکی کے ساتھ نا انصافی نہیں کرنا چاہتا تھا ۔۔۔۔۔وہ اپنے جیسا خوبصورت اور کم عمر ہم سفر ڈیزرو کرتی ہے”

زوہیب کی آنکھیں کرب سے لال ہوگئی تھیں

کافی وقت ایسے ہی گزر گیا تھا مگر زوہیب کا ضمیر کسی طرح بھی اپنے الفاظ کا بوجھ اٹھانے کی حامی نہیں بھر رہا تھا

وہ تنگ آ کر سونے لیٹ گیا تھا اس کی آنکھ دروازے پر دستک سے کھلی تھی پروین بيگم اسے رات کے کھانے کے لئے بلانے آئی تھیں زوہیب منہ ہاتھ دھو کر دسترخوان پر بیٹھ گیا تھا جہاں رابی کے علاوہ سب موجود تھے

آج پہلی بار زوہیب کو رابی کی کمی دل میں محسوس ہوئی تھی مگر وہ خاموشی سے کھانا کھا کر شفیق صاحب کے ساتھ کچھ دیر کل شوروم میں بک کی گئی گاڑی کے متعلق گپ شپ لگا کر وقار کی بائیک لے کر باہر آ گیا تھا

کافی دیر وہ بے مقصد بائیک گھماتا رہا بار بار رابی کا پیلا پڑتا چہرہ اور نم خوبصورت آنکھیں اس کے ذہن پر حاوی ہورہی تھیں وہ کسی طرح بھی اسے بھول نہیں پا رہا تھا

“تم نے ایک معصوم لڑکی پر الزام لگا کر اس کی ذات کی تذليل کر کے اچھا نہیں کیا”

ضمیر بار بار اس کا آئینہ بن کر اس کا راستہ روک رہا تھا

“معافی مانگ کر اس کی محبت کو عزت سے قبول کرلو”

ایک راہ چلتا شخص اس کے ضمیر کی آواز بن کر اس کا گمان بن کر اس سے مخاطب ہوا تھا

جمع تفریق کافی دیر ایسے ہی چلتی رہی آخر اسی میں رابی کی بہتری ہے وہ زبردستی خود کو قائل کر کے گھر کی طرف روانہ ہوا تھا

رات کے دو بج رہے تھے سب گہری نیند سو رہے تھے وہ آرام سے وقار کے کمرے میں آ کر لیٹ گیا تھا

دل رابی کو دیکھنے کو بے چین ہو رہا تھا انہی سوچوں میں وہ سو گیا تھا صبح آنکھ کھلی تو دن کے دس بج رہے تھے جو زوہیب کے لئے بہت نئی بات تھی کیوں کہ وہ کبھی اتنی دیر سے اپنے دن کا آغاز نہیں کیا کرتا تھا

وہ شاور لے کر باہر آیا تھا جہاں پروین بيگم بیٹھی سودے سلف کی لسٹ بنا رہی تھیں زوہیب کو دیکھتے ہی وہ پیار سے اس کا ماتھا چیک کر کے اس کی طبیعت کا اندازہ لگا رہی تھیں

“ارے ٹھیک ہوں چاچی بس رات دیر سے سویا تھا تو ابھی آنکھ نہیں کھلی میری”

وہ مسکرا کر بیٹھ گیا تھا

“چلو ٹھیک ہے بیٹا میں ناشتہ لگاتی ہوں بس آدھا گھنٹہ”

پروین بيگم کچن میں جا چکی تھیں جبکہ رابی اب بھی کہیں نظر نہیں آئی تھی

پروین بيگم بتائے ہوۓ وقت سے پہلے ہی ناشتہ لے آئیں تھیں مگر وہ اب بھی خود سے رابی کے متعلق کچھ بھی نہیں بول رہی تھیں آخر تنگ آ کر زوہیب نے خود سے پوچھ لیا تھا

“وہ اپنی دوست کی طرف گئی ہے کہہ رہی تھی کوئی ضروری کام ہے”

پروین بيگم نے لسٹ پر سے نظر اٹھا کر جواب دیا تھا

“کیسا کام ؟؟؟”

“اس کی دوست کی شادی ہے اس نے رابی کے ساتھ مل کر خریدداری کرنی تھی”

نظر ایک بار پھر لسٹ پر تھی

“میں چھوڑ آتا یا وقار کے ساتھ چلی جاتی،اکیلی کیسے گئی ہے ؟؟”

زوہیب کی بے چینی میں اضافہ ہوا تھا

“بیٹا کہہ رہی تھی میں اپنے کام خود کر سکتی ہوں”

“موڈ بگڑا ہوا تھا نہیں چھیڑا میں نے پھر،ضرور وقار نے کچھ کہہ دیا ہوگا مجال ہے جو کوئی دن ان کا صلح صفائی سے بھی گزرے”

پروین بيگم ان کی محبت پر نہال ہوئی تھیں

زوہیب زبردستی مسکرایا تھا

“اچھا چچی کام سے جا رہا ہوں شام تک آؤں گا”

زوہیب بتا کر بائیک پر نکل گیا تھا آج اسے کافی کام نپٹانے تھے کچھ لوگوں سے ملنا تھا مگر وہ بنا گاڑی کے کوئی بھی میٹنگ نہیں کرنا چاہتا تھا یہی وجہ تھی کہ وہ کچھ کام مکمل کر کے اب ایک پارک میں بیٹھ گیا تھا جہاں لوگ اپنے بیوی بچوں کے ساتھ آئے ہوۓ تھے

“یار تھوڑی سی عزت کر لیا کرو میری دس سال بڑا ہوں تم سے”

کسی کی آواز زوہیب کے کانوں سے ٹکڑائی تھی اس نے بے اختیار اس طرف دیکھا تھا جہاں ایک کم عمر لڑکی جو چند ماہ کا بچہ اٹھائے ہوۓ تھے غصے سے اس عمر میں بڑے اپنے شوہر کو دیکھ رہی تھی

“نوید اپنی اولاد کو پکڑ لیں بہت تنگ ہوں کب سے میں نے ہی اٹھایا ہوا ہے،محبت میں بس محبت کا قانون لاگو ہوتا ہے جو برابری کا ہے عمر میں چھوٹا بڑا ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا،اب پکڑیں اس کو”

وہ زبردستی اس بچے کو اپنے شوہر کو تهما کر اب موبائل میں سیلفیاں بنا رہی تھی

زوہیب کے لب ان کو دیکھ کر مسکرا اٹھے تھے اسے اس مرد میں اپنا آپ اور اس لاپروہ مگر مخلص لڑکی میں رابی نظر آئی تھی

زوہیب کا دل کل کے اپنے الفاظ پر ایک بار پھر بے چین ہوا تھا وہ جلدی سے وہاں سے اٹھ کر اب دوپہر کا کھانا کھانے فوڈ ایریا میں آیا تھا

اس نے کھانا منگوا کر وقت دیکھا تھا جو دن کے تین بتا رہا تھا

“ارے اتنی مزے کی چاٹ ۔۔”

“اسسسسس ۔۔۔۔۔۔۔آج یہ چاٹ نا کھاتی تو پکا فوت ہو جاتی”

خوبصورت نسوانی آواز زوہیب کے کانوں سے ٹکڑائی تھی “

زوہیب نے اس سمت دیکھا تو اسے اس لڑکی میں پہلے والی ہنستی کھیلتی رابی نظر آئی تھی جس کی خوشی کا قتل اس نے اپنے ہاتھوں سے کیا تھا وہ بنا کچھ کھاۓ وہاں سے اٹھ کر ایک بار پھر بائیک کو بهگا رہا تھا

“آخر میں اتنا بے سکون کیوں ہوں ؟؟؟میں یہ نا کرتا تو وہ کسی صورت پیچھے نا ہٹتی پھر مجھے چین کیوں نہیں مل رہا ؟؟؟؟؟”

“کیا میں مجھے اپنی نیک نیتی کی گڑیا کو صفائی دینی چاہیے ؟؟؟؟”

“اپنے سخت الفاظ کے پیچھے چھپی اس کی بھلائی کا اس کو اچھے الفاظ میں مفہوم سمجھانا ہوگا”

“شاید تبھی یہ بے سکونی ختم ہوگی”

وہ دل ہی دل میں فیصلہ کر کے گھر کی طرف بڑھ گیا تھا

۔**************

“جی ماں آپ نے اتنی جلدی میں بلايا آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے ؟؟؟؟؟”

ہادی اکھڑی سانسوں کے ساتھ گاڑی دوڑاتا ہوا اب پارکنگ سے بھاگ کر صبیحہ بيگم کے کمرے میں آیا تھا

“میں ٹھیک ہوں ہادی،بس ایک سوال کا جواب چاہتی تھی تم سے،فوری جواب”

وہ فوری پر زور دے کر اٹھ کر بیٹھ گئی تھیں

“جی ماں؟؟؟”

ہادی ماں کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں پکڑ کر محبت سے بولا تھا

“مجھ سے محبت کرتے ہو ؟؟؟”

سوال میں ذرا بھی لچک نہیں تھی

ہادی اس شک پر ٹوٹ کر بکھرا تھا وہ فقط دکھ سے ماں کو دیکھ رہا تھا

“جواب دو،ہاں یا ناں”

صبیحہ بيگم نے ہادی کی برداشت کی گویا آج حد دیکھنی تھی

“ثبوت چاہتی ہیں آپ ماں ؟؟؟”

ہادی نے بهرائی ہوئی آواز میں شاید بس کچھ کہنے کی کوشش کی تھی

“یہی سمجھ لیں آپ ہادی”

“کیا کروں ماں ؟؟؟”

وہ بلند آواز سے کرب سے چیخا تھا

“اس دو ٹکے کی سیکرٹری کو بھول جاؤ اور میری مرضی سے شادی کر لو،میں مان لو گی کہ تم مجھ سے محبت کرتے ہو”

صبیحہ بيگم ارب پتی ہو کر بھی وہ ہی روایتی ماں ثابت ہوئی تھیں جوان بیٹے سے اس کی زندگی کا مقصد چھین کر ان کو اپنی محبت کا تاج محل تعمیر کروانا مقصود تھا ۔۔۔۔

“یہ سچ ہے ماں میں ہانی سے بہت محبت کرتا ہوں،یہ بھی سچ ہے کہ جو جگہ دل اسے دے چکا ہے وہ میں چاہ کر بھی کسی اور لڑکی کو نہیں دے سکتا ۔۔۔۔مگر یہ بھی سچ ہے میری ماں پر ایسی محبت سو بار قربان،آپ شادی کی تیاریاں کریں جدھر کہیں گی شیر وانی پہن کر ساتھ چلا جاؤں گا،مگر اتنا یاد رکھیے گا مجھ سے پوری زندگی خوش ہونے کا مطالبہ نہیں کریں گی آپ ؟؟؟؟؟؟”

ہادی کا چہرہ آنسوؤں سے بھیگ گیا تھا

“میں آپ کی خوشی کے لئے اپنا گھر پوری عمر آباد رکھوں گا مگر اس دل کی بربادی سے آپ کو کوئی سروکار نہیں ہوگا وعدہ کریں ؟؟؟؟”

ہادی صبیحہ بيگم کا ہاتھ پکڑ کر جنونی انداز میں بولا تھا

“ایسا ہوگا ہی نہیں میں ایسی لڑکی لاؤں گی جو تمہاری زندگی خوشیوں سے بھر دے،نکاح میں بہت طاقت ہوتی ہے بیٹا سب بھول جاؤ گے دل دماغ سب آباد رہے گا”

صبیحہ بيگم اپنی اس آسان فتح پر پھولے نہیں سما رہیں تھیں

اس جیت کے خمار میں ان کو اپنی کل کائنات بیٹے کی آنکھوں کی ویرانی نہیں نظر آرہی تھی

“آئی لو یو ماں”

ہادی صبیحہ بيگم کے ہاتھ اور ماتھا چوم کر بازو سے آنسو صاف کرتا باہر آ گیا تھا

آج پھر ایک ساس کی جیت ہوئی تھی مگر ایک ماں کی ہار ہوئی تهی جو اپنا بیٹا کھو چکی تھی ۔۔۔۔۔دنیا کی روشنیوں میں ۔۔۔۔۔اس کا بیٹا ایک اندھی کھائی میں اپنی ماں کے ہاتھوں گرنے کو تھا ۔۔۔۔جہاں سب تھا بس سانس لینے کے لئے آکسیجن نہیں تھی