Weran Zindagi by Jameela Nawab 50361

Weran Zindagi by Jameela Nawab 50361 Weran Zindagi Episode 2

423.6K
17

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Weran Zindagi Episode 2

ہادی اپنے آفس میں اس لڑکی کو اپنے ساتھ اندر لے کر آیا تھا اس نے آتے ہی اپنا لیپ ٹاپ بیگ ٹیبل پر رکھا اپنا کورٹ اتار کر سائیڈ پر ہینگ کیا اور بیٹھ گیا

“آپ بھی بیٹھ جائیں”

وہ لڑکی کو اشارہ کر کے بولا تھا وہ پُر سکون سی فوراً بیٹھ گئی تھی

“اپنے بارے میں بتائیے، یہ آپ کا جاب انٹرو ہے”

اس نے ہاتھ میں پکڑی فائل ہادی کی طرف بڑھائی تھی جسے اس نے لے کر رکھ دیا تھا

“میرا نام ام ہانی ہے ۔۔۔ماسٹرز کیا ہوا ہے ۔۔۔۔اماں اباں خالہ کی طرف گئے تھے ۔۔۔۔۔مگر ۔۔۔۔اب تک واپس نہیں آۓ……..روڈ ایکسیڈنٹ ۔۔۔۔”

ایک آنسو گال پر آیا تھا اس کی آواز میں بلا کا اعتماد تھا ہادی اسے دیکھ نا رہا ہوتا تو وہ کبھی یہ جان نا پاتا کہ وہ رو رہی تھی

“دو سال ہونے والے ہیں ۔۔۔۔ماموں کی طرف ہوں ۔۔۔۔وہ مزدور ہیں ۔۔۔گھر نہیں چلتا ان کی کمائی سے میں بچوں کو گھر میں پڑھا کر ان كی مدد کرتی ہوں مگر زیادہ تر بچے اچھے گهروں سے نہیں ۔۔۔۔میں پھر ان سے فیس نہیں لیتی ۔۔۔۔کافی عرصہ تک یہ بات مامی نہیں جانتی تھیں ۔۔۔۔۔ایک بچے کی ماں مجھے میری اس نيكی پر دعا دے رہی تھیں مامی نے سن لیا ۔۔۔وہ تب سے میرے پیچھے پڑگئی ہیں سارے بچے ہٹا دیے ہیں ۔۔۔۔کہتی ہیں زیادہ پیسے کما کر لاؤ اگر اس گھر میں رہنا ہے تو ۔۔۔۔۔”

“جہاں بھی جاتی ہوں ۔۔۔۔۔عزت غیر محفوظ لگتی ہے ۔۔۔۔۔ضمیر اجازت نہیں دیتا ۔۔۔۔ایک ماہ سے ٹال رہی تھی ۔۔۔۔کل ماموں سے کہلوا دیا ۔۔۔ہانی گھر نا آئے جب تک جاب نہیں ملتی ۔۔۔۔کل ۔۔۔۔کھانا بھی نہیں دیا ۔۔۔۔۔۔کچن کو تالا لگا دیا تھا ۔۔۔۔بات ۔۔۔۔بھوک کی نہیں تھی سر ۔۔۔۔بات ۔۔۔۔۔۔بے بسی کی تھی ۔۔۔۔آج بھی ہم ایک اسلامی ملک میں رہ کر بھی آزاد نہیں ہیں ۔۔۔ہماری عزت آج بھی اتنی ہی غیر محفوظ ہے جتنی پاکستان بننے سے پہلے تھی ۔۔۔”

“اگر ہاں بولو تو عورت مر جاتی ہے اور انکار کرنے کی صورت اسے قتل کر کے کسی کوڑے کے ڈھیر پر کر پھینک دیا جاتا ہے،عورت ٹیچنگ کے علاوہ مانو اور کوئی کام کر ہی نہیں سکتی ۔۔۔۔اور یہ بات سب تعلیمی ادارے جانتے ہیں تبھی لاکھ لاکھ کی ڈگری ہولڈر لڑکیوں کو چند ہزار دے کر ان کی قابلیت کا مذاق بنایا جاتا ہے”

“یہ کوئی نہیں سوچتا استاد کے ساتھ بھی پیٹ لگا ہوتا ہے اور اس کی بھی وہ ہی بنیادی ضروریات ہیں جو کسی بھی شعبہ زندگی سے منسلک شخص کی ہوا کرتی ہیں”

ہانی نے آنسو صاف کر کے صاف گوئی سے کہا تھا

“بس آج میں نے فیصلہ کر لیا کسی کے ہاتھوں جیتے جی ماری جاؤں اس سے بہتر ہے اپنی ہاتھ سے حادثہ بن کر ختم ہوجاؤں”

وہ صاف رنگت والی،موٹی موٹی آنکھوں میں نمی لیئے سامنے بیٹھی لڑکی ہادی کو بہت خاص لگی تھی

“میری پرسنل سیکرٹری کی جاب ہے فلحال آپ کرنا چاہے گی ؟؟”

ہانی اس کی اس آفر پر سوچ میں ڈوبی تھی ہادی اس کا وسوسہ فورا سمجھ گیا تھا

“دیکھیں ۔۔۔۔جیسے یہ پانچ انگلیاں برابر نہیں ہیں اسی طرح ہر مرد اور پرسنل سیکرٹری کا باس برا انسان نہیں ہوتا ۔۔۔۔پرسنل سیکرٹری ہونا بہت ذمہ داری کی جاب ہے بس کچھ نام نہاد مردوں اور عورتوں نے اس کو اپنی فطری غلاظت کی ملاوٹ کر کے بد نام کر رکھا ہے ۔۔۔۔۔مگر فلحال میں آپ کو یہی جاب دے سکتا ہوں ۔۔۔اس کی دو وجوہات ہیں”

وہ اٹھ کر کھڑا ہوا تھا

پہلی بات آپ میرے ساتھ رہیں گی میری ہر میٹنگ میں اور ہر جگہ جہاں میرا آفیشل وزٹ ہوگا تو آپ محفوظ ہیں میرا ضمیر خوش ہوگا کہ میں کسی کے سکون کی وجہ ہوں ۔۔۔۔تنخواہ بھی زیادہ ہوگی ٹیچنگ سے ۔۔۔۔۔۔اور آپ کی حفاظت بھی ۔۔۔۔

دوسری بات ۔۔۔۔۔میں اس جاب کے لئے کوئی سمجھ دار اور با کردار لڑکی چاہتا ہوں کیوں کہ اکثر لڑکیاں فری ہو جاتی ہیں اور میرا امیج بھی خطرے میں ڈال دیتی ہیں ۔۔۔۔میں ایک ٹو دا پوانٹ پرسنل سیکرٹری چاہتا ہوں جیسے کہ آپ ہیں ۔۔۔ “

“مگر ایک مسئلہ ہے ؟؟”

وہ چلتا چلتا ایک دم رکا تھا

ہانی نے چہرے پر آتے بالوں کو سلیقے سے پیچھے کر کے چادر سے سر کو ڈھانپتے ہوۓ ہادی کی طرف دیکھا تھا

“ہماری آفس كی گاڑی آپ کو پک اینڈ ڈراپ دے گی اور کبھی کبھی آپ کو میرے ساتھ اوٹ اوف دا سٹی اور شاید کبھی کنٹری بھی جانا پڑ جائے اور گھر جانے میں دیر سویر بھی تو کیا آپ کے ماموں مامی اس بات کی اجازت ؟؟؟؟؟؟”

وہ دونوں ہاتھ ٹیبل پر رکھ کر پوچھ رہا تھا

“وہ بہت لالچی ہیں سر ۔۔۔۔۔۔ان کو بس میری بولی کی زیادہ قیمت سے مطلب ہے”

“پے کتنی ہوگی سر ؟؟”

ایک بار پھر وہ نم آنکھوں سے پوچھ رہی تھی

“سٹارٹ ہم چالیس سے لیتے ہیں مگر آپ کے ساتھ جانے کیوں همدردی ہے تو آپ کو فلحال پینتالیس دے گے ۔۔۔آپ فلحال گھر جایئں اور صبح سات بجے میرا ڈرائیور آپ کو لینے آ جایا کرے گا ۔۔۔یہ میرا کارڈ ۔۔۔آپ رکھیں ۔۔”

اب اس نے کال ملائی تھی

“عابد ۔۔۔اندر آییے”

تھوڑی ہی دیر میں ایک آدمی اندر آیا تھا

“عابد یہ مس ام ہانی ہیں میری پرسنل سیکرٹری ان کو آفس کا موبائل دیں

“اور ابھی ان کے ساتھ ڈرائیور کو بھیج کر گھر چھوڑ آئیے،اس طرح ڈرائیور گھر بھی دیکھ آۓ گا پھر صبح لانے میں آسانی ہوگی،آپ جائیں میں ان کو بھیجتا ہوں”

عابد جا چکا تھا ام ہانی اٹھ کر جانے کو تھیں جب ہادی نے ان کو مخاطب کیا تھا

“مس ہانی؟؟”

ہانی نے فقط سوالیہ نظروں سے دیکھا تھا

“یہ کچھ پیسے رکھ لیں”

ہادی نے پانچ ہزار کے تین نوٹ والٹ سے نکال کر اس کی طرف بڑھاۓ تھے

“شکریہ سر ۔۔۔۔میں مجبور ضرور ہوں مگر میرا ضمیر ابھی بھی آزاد ہے”

حضرت علی رضہ کا قول تو آپ نے سن رکھا ہوگا

“کبھی بھی مجبوری میں کسی کا احسان مت لو،مشکل وقت گزر جائے گا مگر وہ احسان پوری عمر کے لئے آپ کو مقروض کردےگا”

“جزاک الله۔۔۔۔۔۔۔صبح ملتے ہیں ۔۔۔۔الله حافظ”

وہ کہہ کر ایک لمحے کے لئے بھی رکی نہیں تھی اور سامنے کھڑا ارب پتی شخص ایک دم خود کو دو ٹکے کا سمجھنے لگا تھا ۔۔۔۔

وہ پیسے ہاتھ میں پکڑے محض ان کو دیکھتا رہا اور پھر گلاس وال سے نظر آتی اس ضرورت مند خوددار لڑکی کو .۔۔۔۔

کچھ تو تھا جو وہ ساتھ لے گئی تھی ۔۔۔شاید اس کو “چین” کہتے ہیں ۔۔۔

ہادی بے چین سا پیسے ٹیبل پر رکھ کر سوچ رہا تھا کہ آج کے دور میں کوئی اتنی رقم لینے سے انکار کیسے کر سکتا ہے ؟؟؟وہ بھی جو زمانے کا ستایا ہوا ہو ۔۔۔۔۔۔

“She is a real girl”

(یہ ایک اصلی لڑکی ہے مطلب لڑکی کو ایسا ہی ہونا چاہیئے)

“She is a real human being”

(یہ ایک اصلی انسان ہے مطلب جو صحیع معنوں میں انسان کہلوانے کے قابل ہوتا ہے وہ کبھی اپنی خودداری پر سمجھوتہ نہیں کرتا)

وہ ذیرِلب بڑبڑایا تھا

۔****************

رابی نے سعدیہ کی ساری شاپنگ اپنی پسند سے کی تھی اب وہ سامان سے لدے پدھے گاڑی کی طرف جا رہے تھے

زوہیب نے سامان کار کی ڈگی میں رکھ دیا تھا سب گاڑی میں بیٹھ چکے تھے رابی کے علاوہ ۔۔۔۔۔۔وہ منہ بنا کر گاڑی کے بونٹ سے ٹیک لگا کر کھڑی تھی

“رابی اندر آ کر بیٹھو ادھر کیوں کھڑی ہو گئی ہو ؟؟”

پروین بيگم بٹوے میں پیسے گنتے بولی تھیں

وہ ایک نظر ماں پر ڈال کر ان سنی کر گئی تھی وقار جلدی سے باہر نکلا تھا

“آپی کیوں اموں کو جلال دلا رہی ہو اس وقت ؟؟؟اندر آ کر کیوں نہیں بیٹھ رہی ؟؟؟”

وقار آہستہ آہستہ کان کے پاس ہو کر پوچھ رہا تھا زوہیب سٹیرنگ پر دونوں ہاتھ جماۓ مسکراکر دونوں کی کاروائی سے لطف اندوز ہو رہا تھا

“زیادہ بچے نا بنو وقار پتہ تو ہے تمہیں جب تک میں وہ چاچا پھجے کی چاٹ نہیں کھا لیتی میں کبھی پہلے گھر گئی ہوں جوآج جاؤں گی ؟؟؟؟؟”

وہ دبی دبی آواز میں ماں کو دیکھتے ہوۓ بول رہی تھی

“وہ گندی چاٹ جو اموں کہتی ہے کینسر اسی چاٹ کی وجہ سے تیزی سے بڑھ رہا ہے وہ والی ؟؟؟”

وقار نے رازداری سے پوچھا تھا وہ سنتے ہی خوش ہوئی تھی

“ہاں وہ ہی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔چٹااااا ۔۔۔۔۔ خ خ “

وہ چٹخارہ لیتی بولی تھی

“آخ خ خ خ خخخخ ۔۔۔۔۔۔گندی ۔۔۔۔۔”

وقار نے ابقائی کی ایکٹنگ کی تھی

“زیادہ بکواس نا کرو میں زوہیب بھائی کو ساتھ لے کر جاتی ہوں تم بیٹھو ادھر ڈاکٹر اموں کے ساتھ بڑی آئی کینسر کی ماہر ڈاکٹر ہنہہ ۔۔۔۔۔”

رابی نے ناک سے مکھی اڑائی تھی پروین بيگم جو باہر نکل آئی تھیں اس کی ساری بات سن چکی تھیں اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتیں زوہیب تیزی سے باہر آیا تھا

“چاچی مجھے بھوک لگی ہے کچھ کھاتے ہیں چلیں ۔۔۔۔چلو آجاؤ میں گاڑی لاک کرتا ہوں”

زوہیب نے بات کا رخ بدلا تھا

“ارے نہیں بیٹا میں نہیں کھاتی یہ بازار کا جراثیمی کھانا اس ندیدی کو کھلا لاؤ یہ نا ہو مر جائے اور میں لوگوں کو وجہ بھی نا بتا پاؤں کہ جراثیم نا کھانے پر موت واقعہ ہو گئی ہے بیچاری کی”

پروین بيگم نے اپنا سارا غصہ اس جملے میں نکالا تھا وہ خونخوار نظر رابی پر ڈال کر اندر بیٹھ گئی تھیں جبکہ رابی نے اللّه اور زوہیب کا دل ہی دل میں شکر ادا کیا تھا

“اموں میں بھی جا رہا ہوں کوئی جوس شوس پی لوں گا”

وقار نے سعادت مندی سے کہا تھا

“کوئی ضرورت نہیں اب ۔۔۔ اپنی بات پر قائم رہو جوس میں لیتی آؤں گی”

رابی نے وقار کو کار میں زبردستی بیٹھاتے ہوۓ طنزیہ کہا تھا

“میرا پُتر تم بیٹھو ماں کے پاس میں جا کر گھر کا تازہ اور خالص جوس بنا کر دوں گی اپنے بیٹے کو،کوئی ضرورت نہیں آلوده جوس لانے کی”

وقار کا منہ لٹک گیا تھا

پروین بيگم نے رابی کو گھورا تھا زوہیب اور رابی فوڈ ایریا میں جا کر بیٹھ گئے تھے چاٹ کا آرڈر دے دیا گیا تھا

“بہت بہت شکریہ زوہیب بھائی ۔۔۔پتہ ہے میں بڑی ہی تنگ ہوں اموں سے کوئی بھی کام مجھے اپنی مرضی سے نہیں کرنے دیتیں ۔۔۔۔بات بات پر ٹوکتی ہیں ۔۔۔”

وہ چادر ٹھیک کرتی ہوئی بچوں کی طرح بولی تھی

“گڑیا ماں سے بڑھ کر کوئی بھی آپ کا اپنا،سگا اور همدرد نہیں ہو سکتا ۔۔۔۔وہ بس چاہتی ہے کہ ہماری اولاد نا بیمار ہو اور نہ ہی پریشان ۔۔۔۔بس اسی لئے اولاد کی نظر میں بُری بن جاتی ہے مگر فکر میں روک ٹوک سے باز نہیں آ سکتیں ۔۔۔۔”

زوہیب نے لڑکے سے چاٹ لے کر ٹیبل پر رکھتے رکھتے کہا تھا

“ارے یہ کیا آپ نہیں کھائیں گے؟؟”بس ایک پلیٹ ؟؟”

رابی نے چمی۔چ بھر کر ایک آنکھ بند کرتے ہوۓ کہا تھا

“ہاۓ…..آج لگا زندہ ہوگئی ہوں،اتنی مزے كی چاٹ”

“یا اللّه تیرا شکر”

ایک اور چمچ بھر کر رابی نے کہا تھا

زوہیب اسے دیکھ کر مسکرا کر رہ گیا تھا

“آپ بھی منگوالیتے کچھ انکل”

چمچ بھرتے ہوۓ اس نے مفید مشورہ دیا تھا

“زوہیب نے چاۓ کا کپ ہاتھ میں اٹھا کر اس کو دیکھایا تھا کہ وہ منگوا چکا ہے

“ایک سیون اپ بھی منگوا دیں انکل”

وہ سی سی کرتی اپنا ہاتھ منہ کے آگے پیچھے کرتے ہوئی بولی تھی

زوہیب نے منگوا دی تھی وہ سب کھا پی کر گھر واپس آۓ تھے ۔۔۔

۔********

“رابی جلدی کرو رکھ دیا سارا سامان گاڑی میں ؟؟؟”

“جی امی رکھ دیا خود تیار بھی ہو گئی ہوں کیسی لگ رہی ہوں اموں ؟؟؟”

“رابی چلو یہ لپ سٹک ہلکی کرو بیٹا ۔۔۔۔عورت پر سنگھار شادی کے بعد صرف اپنے شوہر، اپنے محرم کے لئے ہی جچتا ہے”

پروین بيگم نے اپنے دوپٹے سے اس کی لپ سٹک آرام سے کم کرتے ہوۓ کہا تھا

“اور آپی پیاری لڑکیوں کو جن چمڑ جاتے ہیں”

وقار نے شکل بگاڑ کر رابی کو ڈرایا تھا

“اموں میں جا ہی نہیں رہی”

رابی ناراض ہو کر اپنے کمرے میں جا چکی تھی

“وقار جن کا کہنے كی کیا ضرورت تھی ؟؟؟”

اس سے پہلے کے وقار کوئی جواب دیتا شفیق صاحب نے سب کو گاڑی میں بیٹھ جانے کا کہا تھا

زوہیب ڈرائیونگ سیٹ پر اور شفیق صاحب ان کے ساتھ فرنٹ پر بیٹھ گئے تھے

“یہ رابعہ کیوں نہیں آئی اب تک ؟؟”

“ابو ۔۔۔۔وہ اموں نے موڈ خراب کیا ہے آپی کا ۔۔۔”

وقار منمنایا تھا

“جس پر پروین بيگم نے اس کو گھورتھا

“چاچو میں لے کر آتا ہوں گڑیا کو”

زوہیب باہر نکلا تھا

رابی دوپٹہ بيڈ پر رکھ کر کوسنے دینے بیٹھی ہوئی تھی ایک ہاتھ میں پانی کا گلاس پکڑے ہوۓ تھا

“گڑیا چلو اٹھو دیر ہو رہی ہے”

زوہیب نے پاس رکھا دوپٹہ اس کی طرف بڑھايا تھا

“میں ہرگز نہیں جا رہی زوہیب بھائی،امی نے میرے سارے موڈ کا ستیاناس مار دیا ہے “

وہ ناراض ہوتی بولی تھی

“گڑیا فلحال میں کوئی بات نہیں سنوں گا چلو اٹھو”

زوہیب نے ہم رنگ جوڑے کا دوپٹہ اس کے سر پر دے کر جلدی سے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے کھڑا کیا تھا وہ سینڈل پہلے ہی پہنے ہوۓ تھی

زوہیب کا یہ عمل بہت عام سا تھا مگر رابی کو اپنے ہاتھ پر اس کا لمس اندر تک سرشار کر گیا تھا

وہ کھوئی کھوئی سی محض اس کو دیکھ کر رہ گئی تھی ہوش اسے تب آئی جب اس نے گاڑی کا دروازہ کھول کر اس کو اندر بیٹھنے کا اشارہ کر کے اس کا ہاتھ چھوڑا تھا

گاڑی چل پڑی تھی رابی کبھی اپنی کلائی کو دیکھتی جس پر زوہیب کے ہاتھ کی گرفت کی وجہ سے چوڑیوں کا پارہ پوری کلائی پر پھیل چکا تھا ۔۔۔اور کبھی گاڑی چلاتے شفیق صاحب کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف بیٹھے زوہیب کو دیکھتی ۔۔۔

کچھ تو تھا جو بلکل بھی معمولی نہیں تھا ۔۔۔

اس کا لمس ہاتھ سے زیادہ دل پر محسوس ہو رہا تھا ۔۔